30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 30:1–7

الٓمّٓۚ Open ayah 30:1 in the Quran reader

الۗمّۗ۔ حرف مقطعات میں سے ہے۔

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

اہل روم مغلوب ہوگئے۔

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

نزدیک کے ملک میں۔ اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی اللہ کا ہی حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

یعنی اللہ کی مدد سے، وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب و مہربان ہے۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں “

دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور وعدہ کیا کہ یہ عارضی فتح ہے۔ یہ کیوں ہوئی اور کیسے ہوئی ؟ یہ راز کسی کو معلوم نہیں یہ تو بس اللہ زبردست حکمت والے اور رحم و کرم کرنے والے کے کام ہیں اور اس نے خوشخبری دی کہ بہت جلد مسلمانوں اور رومیوں کو زبردست فتح نصیب ہوگی تو پھر ایسے ہی ہوا۔ کہ تقریباً ہجرت کے سات سال بعد مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح ملی اور اسی زمانے میں رومی ایرانیوں (فارس) پر غالب آگئے۔ اور یوں اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ اس سارے واقعہ سے متعلقہ ایک دلچسپ واقعہ سنیں۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر ؓ نے مکہ کے بازار میں اس کا اعلان کیا جس پر ابی بن خلف نے آپ سے شرط لگائی کہ اگر یہ سچ نہ ہوا تو آپ سو اونٹنیاں اس کو دیں گے ورنہ وہ سو اونٹنیاں آپ کو دے گا۔ اس وقت شرط حرام نہ تھی مگر جب وقت آیا تو ابوبکر ؓ شرط جیت گئے ان کو سو اونٹنیاں مل گئیں تب تک شرط کے بارے میں حرام کا حکم ہوچکا تھا لہٰذا آپ کے حکم سے ان کو صدقہ کردیا گیا۔ یہاں ایک بڑا قیمتی اور ضروری نکتہ نکلتا ہے جو کہ ہر زمانے میں بحث بنا رہا۔ شاہ صاحب حجۃ البالغہ میں فرماتے ہیں۔ ” جب سٹہ، جوا اور لاٹری جیسی بدعات پیدا ہوجاتی ہیں تو ملک کی دولت کے نظام میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور طویل جھگڑوں کے سلسلے کی بنیاد پڑجاتی ہے۔ حصول معاش کے جو صحیح ذرائع ہیں ان کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ لوگ اس باہمی امداد و اعانت سے لاپرواہی برتنے لگتے ہیں جس پر تمدن کی بنیاد قائم ہے۔ “ یہ کام کیونکہ ملک و قوم کے مفاد کے خلاف ہے اس لیے اس کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ کیونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے یعنی انسان کی فطرت اور عادات کے مطابق ہے۔ اور اسلام کا ہر اصول انسان کی بھلائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب ہم پھر آیت 4 کی طرف آتے ہـیں ’‘ اس دن خوش ہوں گے مسلمان “۔ مسلمانوں کے خوش ہونے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو اہل کتاب کی فتح کیونکہ عیسائی کفار کی نسبت مسلمانوں کے قریب تر تھے۔ اور دوسری خوشی خود ان کی اپنی فتح جو ان کو معرکہ بدر میں کفار کے خلاف حاصل ہوئی۔ جو مسلمانوں کی کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ پھر لوگوں کے فہم اور دور اندیشی کا ذکر کیا۔ کہ لوگ صرف ظاہری اور دنیاوی کامیابیوں کو ہی سب کچھ سمجھ کر غفلت کی زندگی گزارتے ہیں اور یہ خیال ان کے دل میں ہرگز نہیں آتا کہ یہ دنیا کی زندگی تو صرف امتحان گاہ ہے، مختصر اور عارضی قیام گاہ ہے۔ اکثر لوگ دنیا کی زیب زینت اور ظاہری منافع دیکھ کر اس سے غافل رہتے ہیں۔
Ayahs 30:8–10

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لیے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ؟ (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور و قوت میں کہیں زیادہ تھے۔ انہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آتے رہے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔ اس لیے کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے “

گزرے ہوئے لوگ باعث عبرت تشریح : یہ آیات نظام قدرت واضح کر رہی ہیں دنیا کے تغیر و تبدل قوموں کے عروج وزوال اور کائنات کے بنانے کا مقصد کیا ہے ؟۔ سلطان بشیر محمود صاحب نے بہت اچھی وضاحت کی ہے لکھتے ہیں ” کائنات میں قیامت کے واقعات اس کی تقدیر ہے۔ اور اپنے اپنے وقت پر یہ واقعات ضرور ہی ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ قیامت ی عوامل (قیامت کی قسمیں) مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 کسی فرد کی موت ( اس کی قیامت کا آغاز ہے) 2 زمین کے کسی حصہ میں کوئی آفت ناگہانی۔ (کسی قبیلہ یا قوم کی قیامت) 3 کرہ ارض یا شمسی نظام کی مکمل تباہی۔ (یہ تمام نوع انسانی کی قیامت ہوگی) 4 کسی کہکشاں کی تباہی۔ (یہ ہمارے قریبی عالم کی تباہی ہوگی) 5 ہمہ گیر بڑی تباہی (یہ ہماری پوری کائنات کی تباہی ہوگی) 6 حشر نشر (یہ عظیم قیامت کے بعد دوبارہ تخلیق کے عمل سے گزر کر نتائج کا پانا ہے۔ ) آیت 8 میں یہی بتایا گیا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز کا پہلے سے فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اور اس کی تخلیق محدود مدت کے لیے کی جاتی ہے۔ جس کے بعد اس کی قیامت آجاتی ہے۔ “ (از قیامت اور حیات بعد الموت) قوموں کا عروج وزوال اکثر ان کی اخلاقی گراوٹ اور باہمی اختلافات اور گناہوں، غفلت اور بےراہ روی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتصادی اور اخلاقی نظام کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جو لوگ غور و فکر اور انبیاء کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نیک زندگیاں گزارتے ہیں وہ مرتے تو ضرور ہیں لیکن ان کی موت ان کے لیے رحمت الٰہی کا پیغام ہوتا ہے جبکہ عذاب سے مرنے والوں کے لیے ان کی موت مسلسل عذاب کا پیغام ہوتی ہے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے کیونکہ ہم تو رحیم و کریم ہیں اسی لیے تو دنیا میں خبردار کرنے کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجتے رہے ہیں اور پھر انسان خود اپنی حرص و ہوس، بےرحمی اور آپس کی دشمنی کیو جہ سے بھی اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔ جیسا کہ 1945؁ء میں ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر دونوں شہر پلک جھپکنے میں نیست و نابود کردیے گئے۔ اسی طرح فضائی آلودگی دنیا کی تباہی کا موجب ہو رہی ہے۔ بہر حال رد و بدل تو زندگی کا نشان ہے۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں انسان کے بنانے کا مقصد کیا ہے ؟ ہمیں قرآن کے ذریعے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ اللہ کو انسان کی عبادت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ عبادت کا فائدہ اور نیک زندگی گزارنے کا فائدہ خود انسان کو پہنچتا ہے۔ کیونکہ عبادت سے انسان ایک مکمل مطمئن اور بہترین انسان بن جاتا ہے اور اس طرح وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوتا ہے اور آخرت میں بھی بہترین انعام حاصل کرے گا۔ جب کہ برے انسان کا انجام دنیا میں بھی برا اور آخرت میں بھی برا ہوگا۔ اصل برتری علم و معرفت سے ہوتی ہے۔ محض تسبیح و تقدیس سے نہیں ہوتی۔ اپنے کردار کو اتنا بلند کرو کہ چھوٹی چھوٹی باتیں تمہیں متاثر نہ کریں۔
Ayahs 30:11–18

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی انسان کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی مجرم ناامید ہوجائیں گے۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغ میں خوش حال ہوں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا، ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلا دیا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

تو جس وقت شام ہو اور جس وقت صبح ہو اللہ کی تسبیح کرو (نماز قائم کرو)

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو اس وقت بھی نماز قائم کیا کرو۔

قیامت اور اس کے احوال اور اوقات نماز تشریح : یہی مضمون پچھلی آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بننا اور مٹنا ہی زندگی کا راز ہے۔ عالم ارواح سے اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر یہاں سے موت واقع ہوتی ہے تو عالم برزخ میں چلے جاتے ہیں یعنی دوبارہ اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے حشر نشر یعنی اللہ کے حضور حاضری۔ برے لوگوں کو دوزخ اور نیک لوگوں کو جنت بس یہی مقصد ہے انسانوں کی تخلیق کا۔ کہ آخرت کا دن آنے سے قبل انسان اعمال صالح کرے کہ آخرت میں نہ شرمندہ ہو نہ تکلیف میں پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہوتی ہے۔ اسی طرح بڑی اور عالمگیر قیامت آئے گی۔ قیامت کبرٰی۔ بڑی قیامت۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرنا برحق ہے۔ قیامت برحق ہے حساب کا دن برحق ہے تو پھر انسان کو اپنے انجام کو بہترین کس طرح بنانا چاہیے۔ ابراہیم عمادی لکھتے ہیں ” عظیم اخلاق کے ماہرین متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ اس کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ یہ عظیم مقصد کیا ہے، فضائل و اخلاق کا وہ سرچشمہ ہو اور سعادت اس کی منزل ہو۔ عظیم مقصد کے حصول کا راستہ بہت کٹھن ہے لیکن عزم صادق (سچا ارادہ) اور خلوص نیت کے سبب وہ غالب آجاتا ہے اور اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا طریقہ یہ ہے۔ انسان میں جو قوتیں اور صلاحتیں ہیں ان کو قابو میں رکھنا۔ صحیح طور پر ان سے کام لینا نہایت ضروری ہے۔ شیطان اس کو صحیح راستے سے ہٹا دیتا ہے اور وہ غلط کام کر بیٹھتا ہے۔ اس لیے اسے پورے عزم کے ساتھ خلوص نیت سے کام کرنا چاہیے۔ (از مسلمان سائنس دان اور ان کی خدمات) شیطان اور انسان کی جنگ بڑی سخت جنگ ہے۔ جس کو یہ پکا یقین ہے کہ اس کو اچھے اعمال کے بدلے جنت ملے گی وہ ہر صورت شیطان کو شکست دے کر جنت کا وارث بن سکتا ہے ورنہ تو پھر کفرو شیطان کا راستہ عذاب کی طرف ہی جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو برائی، بےحیائی اور کفر سے بچانے کے لیے حکم دیا ہے کہ پانچ وقت نماز قائم کرو۔ اس حکم کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے یوں کی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہـ” میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اس کا میں نے اپنے لیے عہد کرلیا ہے کہ جو شخص ان پانچ نمازوں کا ان کے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے اس کو میں اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل کراؤں گا اور جو اس کا اہتمام نہ کرے مجھ پر اس کی ذمہ داری نہیں “۔ ان کے نام یوں درج کئے گئے ہیں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء۔ (از مطالعہ قرآن) نماز کے فوائد بیشمار ہیں شاعر کچھ یوں بیان کرتا ہے۔ توڑ دیتی ہے دلوں سے نفرتوں کے سلسلے احترام، ایثار، اخوت سب سکھاتی ہے نماز دور کردیتی ہے روح و جان سے ہر آلودگی فکر کی دنیا کو ایسے جگمگاتی ہے نماز
Ayahs 30:19–27

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی زندے سے مردے کو نکالتا ہے اور وہی مردے کو زندے سے نکالتا ہے۔ اور وہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اور اسی طرح تم دوبارہ زمین سے نکالے جاؤ گے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو کر جا بجا پھیل رہے ہو۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف (مائل ہو کر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا، تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ عقلمندوں کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہـیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور انہی نشانیوں میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اس کے فضل کا تلاش کرنا، جو لوگ سنتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو خوف اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینہ برساتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ اور ( ہرا بھرا) کردیتا ہے، عقل والوں کے لیے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے نکلنے کے لیے آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی (فرشتے اور انسان وغیرہ) ہیں اسی کے مملوک ہیں اور سب اس کے فرمانبردار ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے ‘

اللہ کی توحید و ربوبیت کی نشانیاں اور دلائل تشریح : ان آیات میں توحید، آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے کو دلائل سے واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے یہ کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی کا پیدا ہونا عام سی بات ہے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب نے ایک بڑی عجیب تحقیق کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ” بام مچھلی دریاؤں کے ڈیلٹا میں پائی جاتی ہے۔ ایک قسم کی بام مچھلی، خلیج میکسیکو میں طویل سفر کے بعد انڈے دینے کی جگہ پر پہنچتی ہے اور بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی مرجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ بچے مردہ سے نکلے ہیں، چکرا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے بحرا اوقیانوس میں اس ڈیلٹا تک پہنچتے ہیں۔ جہاں سے ان کی ماں آئی تھی یہ اسی جگہ رہنے لگتے ہیں اور یہ فاصلہ دس ہزار کلو میٹر پڑتا ہے۔ قدرت کے اس عظیم راز کی کہانی ابھی حال ہی میں دریافت ہوئی ہے۔ جو کھلے ذہن کے ماہرین حیاتیات کو ایمان لانے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح مکڑیوں اور تتلیوں کی کچھ اقسام انڈے دینے سے چند سکینڈ قبل ہی مرجاتی ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات انسانوں میں بھی ماں کے مرنے کے چوبیس گھنٹے بعد بھی بچہ پیدا ہوا ہے۔ ماں کی موت کے چند گھنٹے بعد تو اکثر بچے پیدا ہوئے ہیں “۔ (از قرآنی آیات اور سائنسی حقائق ) یہ تمام آیات انسانی وجود کی تاریخ بیان کر رہی ہیں۔ یہ اللہ کی بڑائی اور عظمت و وحدانیت کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پیدا کیا جو کہ مٹی سے پیدا شدہ خوراک سے بنتا ہے یہ ایک قطرہ انسان کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے۔ پھر اس کی قدرت کی یہ بھی نشانی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) و حضرت حوا (علیہا السلام) کی اولاد دنیا کے کونے کونے تک پھیل گئی کیونکہ دنیا کا ہر خطہ آب و ہوا اور جغرافیائی حدود اور طبیعیاتی لحاظ سے مختلف ہے تو اسی کی مناسبت سے وہاں کے لوگوں کی زبان رہن سہن اور بود و باش بن جاتے ہیں۔ یوں انسان پہچان کے لیے مختلف قبیلوں، گھروں، گاؤں، قصبوں، شہروں اور ملکوں میں بٹ گیا۔ اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 3564 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس قدر قومیں دنیا کے مختلف علاقوں میں بستی ہیں۔ ہمارے سامنے ہر روز ہر وقت دنیا کا کاروبار بننے اور مٹنے میں چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جو بنا اس نے ختم ضرور ہونا ہے۔ ختم ہو کر زمین کا ہی حصہ بن جانا ہے۔ مٹی کی قدر و قیمت محمد موسیٰ روحانی بازی کی زبانی سنئے۔ بڑے دلچسپ انداز میں انہوں نے مٹی اور زمین کی تعریف کی ہے۔ لکھتے ہیں۔ ’‘ مٹی کی حقارت و ذلت، بالفاظ دیگر مٹی کی تواضع و انکساری معروف و مُسَلّم ہے۔ ہر شخص مٹی پر چلتا ہے اور اس میں حسب مرضی تصرف کرتا ہے۔ اس پر گندگی ڈالی جاتی ہے۔ اس کی تحقیر کی جاتی ہے، اور مٹی عاجزی او انکساری کرتے ہوئے یہ سب کچھ برداشت کرتی ہے اس عاجزی و انکساری کے طفیل اللہ تعالیٰ نے زمین کی شان بلند کر کے اسے ظاہری و باطنی ترقیوں کا مرکز قرار دیا۔ خوشبو دار و رنگین پھولوں، حسین درختوں اور خوشنما پودوں کا منبع بنا دیا۔ زمین سے پھولوں اور درختوں کے ارتباط و وابستگی کو پھولوں اور درختوں کی خوشنمائی، شادابی، رعنائی اور حیات کا وسیلہ بنایا، زمین سے جدائی اور علیحدگی کو ان کی موت اور تباہی کی علامت قرار دیا۔ “ (از گلستان قناعت 507) اور سب سے بڑی عزت و اہمیت زمین اور مٹی کو یہ ملی کہ اشرف المخلوقات انسان کی پیدائش بھی اسی سے ہوئی اور ہو رہی ہے۔ انسان کی نشونما کا ذریعہ بھی زمین ہی ہے۔ اس کا ٹھکانا بھی زمین ہی ہے اور مرنے کے بعد بھی زمین ہی اس کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے اور پھر دوبارہ زندہ بھی زمین میں سے ہی انسان کو کیا جائے گا۔ غرض جدھر بھی نظر دوڑائیں اللہ کی قدرتیں اور اس کی وحدانیت کی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ مثلاً مرد عورت کا محبت بھرا رشتہ جو زندگی کو آسان، خوش گوار، رحمتوں اور برکتوں کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔ پھر آسمان، زمین، دن رات، بارش، پانی، ہوا، بادلوں کی چمک اور زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو پانی سے تر وتازہ اور سر سبز و شاداب کردینا۔ یہ سب کس کی قدرت اور طاقت سے ہو رہا ہے۔ صرف اس الہ العٰلمین کی قدرت سے ہو رہا ہے جو رحمن ہے رحیم ہے تمام آسمانوں زمین اور اس کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے اور حکمت و دانائی میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔ تو ایسے عظیم و کبیر طاقت والے کے لیے کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ انسان کو پیدا کرے اور اس کو اس کے کیے گئے اعمال کی سزا یا جزا دے ؟ یہ کام اس کے لیے بالکل ایسے ہی آسان ہے جیسا کہ پہلی بار پیدا کرنا آسان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا انسان زندگی کو کھیل سمجھ کر گزارتا ہے یا کہ زندگی کی حقیقت کو سمجھ کر اس کو ترتیب سے گزارتا ہے جے پال پر یمی کہتا ہے۔ زندگی خوشی ہے اس کا لطف لو۔ زندـگی جدوجہد ہے اس میں حصہ لو۔ زندگی شہد ہے اس کو چکھو زندگی پریشانیوں کا مجموعہ ہے اس پر قابو پاؤ۔ زندگی مختصر ہے اسے کام میں لاؤ۔ زندگی موت ہے اسے قبول کرو۔ زندگی الجھی ہوئی ہے، اسے آسان بناؤ۔ زندگی حقیقت ہے اور حقیقت تلخ ہوتی ہے۔ “ اور اس تلخی کو دین ِ اسلام کی زندگی کے بارے میں بتائے گئے بہترین اصولوں کے تحت گزارو۔ کیونکہ دین اسلام مکمل، آسان اور دین ِ فطرت ہے۔ اس پر عمل کرنا بالکل آسان، جسم اور روح کے لیے باعث راحت اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ آخر میں تشریح کو سمیٹتے ہوئے ایک بار پھر میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات، خاندان اور گھر کی تعریف ضرور کرونگی کیونکہ یہیں سے ملک و قوم کی اینٹیں تیار ہو کر نکلتی ہیں۔ یہ اینٹیں جس قدر مضبوط پاک اور صاف ہوں گی معاشرہ، قوم اور ملک اسی قدر کامیاب، مضبوط اور پر سکون ہوگا۔ والدین کا فرض شناس ہونا، دیانت دار ہونا، محبت قربانی اور ایثار کا منبع ہونا اور پھر اسی طرح اولاد کا فرمان بردار، نیک اور مسلم ہونا، یہی دونوں باتیں ہیں جو کنبے کو ہر برائی، نفرت، حسد، بغض، نفاق سرکشی، بےراہروی اور پھر بد نظمی سے پوری طرح بچائے رکھتی ہیں۔ اور اسی کا سبق اللہ تعالیٰ نے دیا۔” اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کردیں تاکہ ان کی طرف مائل ہو کر آرام حاصل کرو۔ اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی۔ “ پھر اس جذبے، محبت اور مہربانی کے جذبات کو قابو میں رکھ کر استعمال کرنے کے لیے نکاح اور ازدواجی زندگی کی حدود مقرر کردیں تاکہ معاشرہ بدنظمی اور بےراہروی سے محفوظ رہے۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ (آمین)
Ayahs 30:28–37

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لیے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن لونڈی غلاموں کے تم مالک ہو وہ اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے، تمہارے شریک ہیں ؟ اور کیا تم اس میں ان کو اپنے برابر مالک سمجھتے ہو اور کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ اس طرح ہم عقل والوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جسے اللہ گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو آپ ایک طرف کے ہو کر دین الٰہی کے رستے پر سیدھا منہ کیے چلے جائیں اور اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اختیار کیے رہیں، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(مومنو ! ) اسی اللہ کی طرف رجوع کیے رہو، اور اس سے ڈرتے رہو نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا۔

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے، سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

(اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں) اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں ؟ سو فائدے اٹھا لو عنقریب تم کو اس کا انجام معلوم ہوجائے گا۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی تکلیف پہنچے تو ناامید ہوجاتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں “۔

شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتحاد، تنظیم اور یقین محکم ہی انسان، قوم اور ملک کی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ آپس کی پھوٹ کسی قوم کو تباہ کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ جیسا کہ ہندوستان پاکستان کی جنگ آزادی میں انگریزوں نے کیا۔ اور پھر آج کل کئی شیطان فطرت لوگ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے کوئی بھی غیر ضروری سا نکتہ اٹھا دیتے ہیں تو لوگ اس میں الجھ کر دین کے اصل نکات کو بھول جاتے ہیں۔ تو ان سب باتوں سے بچنے کے لیے اللہ فرماتا ہے۔ ” اسی کی طرف رجوع کرو، اسی سے ڈرتے رہو، نماز پڑھتے رہو، مشرکوں میں سے نہ ہونا “ (الروم 31) پھر یہ بھی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے کہ انسان اللہ کی اس حکمت کو دل و جان سے تسلیم نہ کرے کہ رزق کی کشائش یا تنگی اور اسی طرح آفات و آسانیاں یہ سب اللہ کی حکمت کا ایک خاص حصہ ہیں۔ اس لیے ہر حال میں شکر گزاری کرنے والا ہی پکا مسلمان ہے۔ اس کا ایمان کامل نہیں جو راحت میں تو خوش ہو اور تنگی میں چیخ و پکار شروع کر دے۔ کیونکہ راحت و تنگی دونوں ہی آزمائش کے ذریعے ہیں۔ بندے وہی اچھے ہیں جو ہر حال میں شکر اور صبر سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ مقصد کی سچی لگن مشکلات میں مایوس نہیں ہونے دیتی۔
Ayahs 30:38–39

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تم قرا بتداروں، محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دو جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں۔

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں زیادتی ہو تو اللہ کے نزدیک اس میں زیادتی نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے اللہ کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو وہ موجب برکت ہے۔ اور ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دو گنا تین گنا کرنے والے ہیں “

مال کے حق دار، سود اور زکوٰۃ کا فرق تشریح : اسلام کے دین فطری ہونے کی ایک دلیل ہمیں ان آیات میں ملتی ہے۔ یہاں معاشیات اور اخلاق کا آپس میں ربط بتایا گیا ہے۔ مال کمانا اللہ کا فضل ہے مگر اس فضل کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی کچھ حدود وقیود مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بتا دی ہیں سب سے پہلے تو یہ کہ جو کچھ کماؤ اس کو خرچ کرو جو زیادہ ہو اس کو اپنے رشتہ دار محتاج اور مسافر یعنی ہر ضرورت مند پر خرچ کرو۔ یہ خرچ کرنا صدقہ و زکوٰۃ نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور آپس کی ہمدردی اور خلوص کی بنیاد پر بخوشی خرچ کرو۔ اس کے بعد سود اور زکوٰۃ کا موازنہ اس طرح کیا گیا ہے کہ سود غریب انسان کو اور بھی غریب کردیتا ہے اور امیر کو اور بھی امیر کردیتا ہے اور یوں پیسے کی گردش رک جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو زبردست نقصان پہنچتا ہے جبکہ زکوٰۃ سے پیسے کی گردش بڑھتی ہے۔ صاحب مال اللہ کا عطا کیا ہوا مال پاک کرتا ہے اور غریب کو مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بیشمار ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ تجارت بھی کرسکتا ہے اپنی محرومیوں کو پورا کرسکتا ہے اور اس طرح ملکی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے ماحول اور معاشرہ پر امن اور پاکیزہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ اسلام کیونکہ ایک مکمل دین ہے۔ جس طرح اس نے زندگی کے ہر شعبہ کے لیے بہترین اصول بنائے ہوئے ہیں اسی طرح اس نے انسان کے معاشی مسئلہ کو بھی اہمیت دیتے ہوئے بہترین اصول بنا دیے ہیں اور یہ اصول دوسرے تمام مذاہب کے نظام معیشت سے مختلف ہیں۔ اس نے حصول دولت کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر ایسے تمام دروازے بند کردیے ہیں جن سے انسان گمراہی کے راستوں پر چل کر دولت کو بیجا خرچ کرے۔ زکوٰۃ کو فرض کر کے انسانیت کی بہت بڑی خدمت اور معاشرے کی بھلائی کا بہت بڑا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں۔ ” جو تم زکوٰۃ دیتے ہو، اس سے اللہ کی رضا طلب کرتے ہو ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دگنا اور تین گنا کرنے والے ہیں “۔ زکوٰۃ کے بارے میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ (الروم آیت 39)