30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 30:40–45

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا، پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا، بھلا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور بلند ہے اس سے جو شریک ٹہراتے ہیں۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین کے رستے پر سیدھا منہ کیے چلے چلو اس دن سب لوگ منتشر ہوجائیں گے۔

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا نقصان اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ اپنے ہی لیے آرام گاہ درست کرتے ہیں۔

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو اللہ اپنے فضل سے بد لہ دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا “

اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا ہے جو ان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ حب دنیا ہی ایسی چیز ہے جو اخلاقی بد حالی میں بری طرح مبتلا کردیتی ہے۔ مکارم اخلاق کے سلسلے میں مشہور ولی اللہ سری السقطی خال جنید بغدادی (رح) کا ایک نہایت قیمتی قول اور نصیحت پیش خدمت ہے۔ ” تین چیزیں نیک لوگوں کے اخلاق میں ہیں۔ 1۔ فرائض کی پوری طرح بجا آوری۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے مکمل اجتناب (بچنا) 3۔ ذکر و عبادت کے سلسلے میں ترک غفلت (غفلت نہ کرنا) اور تین دیگر امور بھی متقین و صالحین کے اخلاق میں سے ہیں جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی دلاتے ہیں۔ 1۔ کثرت استغفار۔ (توبہ کرتے رہنا) 2۔ تواضع۔ 3۔ کثرت صدقات۔ (صدقہ کرتے رہنا) اور تین امور ایسے ہیں جو اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہیں۔ 1۔ خلاف شرع کھیل۔ 2۔ کسی سے ناجائز مذاق۔ 3۔ غیبت۔ اور ان تین انواع اخلاق میں سے دسواں امر وہ ہے جو دین کے لیے ستون اور بنیاد کا درجہ رکھتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن۔ (توحید باللہ پر پکا یقین رکھنا) مزید لکھتے ہیں۔ اللہ عزوجل کے ساتھ ظن رکھنا اور اسی ظن پر اعتماد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اپنی کامیابی کی دعا مانگنا اور اللہ عزو جل سے تکمیل مقاصد کی امید واثق رکھنا بہت بڑی سعادت ہے۔ (از جنۃ القناعہ) تو یہ تصور نیک و بد انسان کا ہے۔ جن کو جنت یا دوزخ ملے گی۔ ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ موت ایک دروازہ ہے جس میں سے ہر کسی کو گزرنا ہے۔ پھر اس سے گزر کر نئی زندگی حاصل کرنی ہے۔ نئی زندگی کیسی ہوگی ؟ جیسے ہمارے اعمال ہوں گے، اس دنیا میں۔ اے اللہ مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر دے اور پاکی حاصل کرنے والوں میں سے بنا دے۔ (آمین)
Ayahs 30:46–51

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ جو خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے روزی طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور تہ بتہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے۔ تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور بیشتر تو وہ مینہ اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے۔

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) اللہ کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے، بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ اس کے سبب کھیتی کو دیکھیں کہ زرد ہوگئی ہے تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں “۔

باران رحمت اور انسان کی ناشکری تشریح : اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور قدرتوں میں سے ہوائیں، بادل، پانی، زمین اور انسان کا مرنے کے بعد زندہ ہوجانا شامل ہے یہ تمام موضوعات تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر حال سوچنے والوں کے لیے ان تمام باتوں میں بڑے بڑے سائنسی معجزات موجود ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جو کئی اور کاموں کے علاوہ ایک بہت بڑا کام یہ کرتی ہیں کہ بادلوں کو اپنے زور سے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیتی ہیں جہاں بارش ہوتی ہے اور سرد علاقوں میں وہی بادل درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بجائے پانی کے قطروں کے برف کے ذرات میں بدل کر برف باری کرتے ہیں۔ سمندر میں ہواؤں کے زور پر ہی بادبانی کشتیاں چلتی ہیں جن سے انسان سفر کرتا ہے اور کاروبار کرتا ہے۔ یہ کچھ مثالیں ہیں جو اللہ نے انسان کو سمجھانے کے لیے دی ہیں۔ جو لوگ عقل سمجھ رکھتے ہیں وہ اللہ کی بتائی ہوئیـ آیات پر غور و فکر کر کے بیشمار سائنسی حقائق تلاش کر کے ان سے بیشمار فائدے حاصل کرتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ پانی حیات بخش چیز ہے۔ جس طرح بارش کے ایک قطرے سے بےجان زمین کو زندگی ملتی ہے اسی طرح انسان کے حیاتیاتی تو لیدی کوڈ Biological genetic Code کو دوبارہ زندہ کردینا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ آخر میں پھر خبردار کیا گیا ہے کہ ہر وقت ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔ مصیبت ہو یا راحت ہو۔ اللہ ہی دینے والا ہے۔ اس میں ہر بات دلیل سے سمجھائی گئی ہے۔ رسولوں کا آنا گویا باران رحمت ہے کہ جو کفر سے مردار ہوجانے والے دلوں کو ایمان کی روشنی سے زندہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح مردہ زمین کا پانی سے سر سبز شاداب ہوجانا۔ انسان کے دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح زندگی کی حقیقت کو ان مثالوں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ کہ زندگی تو مکمل ہی دکھ اور سکھ سے ہوتی ہے۔ اگر ہمیشہ سکھ ہی سکھ ملے رہیں تو بھی بندہ مغرور سرکش اور اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا۔ اکتاہٹ کیا ہے ؟ ڈپریشن۔ ڈپریشن امیر بےدین یا کمزور دین والوں کی خاص بیماری ہے۔ اور اسی طرح دکھ بھی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اور پھر دکھ کے بعد سکھ کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ تو ہوگئی زندگی کی ایک خاص روایت یعنی زندگی نام ہے دکھ اور سکھ کے مجموعے کا۔ اب بندے کا کام یا کامیاب بندے کا کام کیا ہے ؟ کامیاب بندے کا کام یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اور اسباب پر پوری طرح بھروسہ کرے شکر اور صبر سے کام لے کیونکہ یہی بندگی ہے نجات ہے سکون ہے چین ہے اور کامیابی ہے دنیا و آخرت میں۔ ایسے ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور مقبولِ الٰہی ہوتے ہیں۔ انہی لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
Ayahs 30:52–60

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو آپ مردوں کو بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو کہ جب وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں ( آواز سنا سکتے ہو)

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لاسکتے ہیں۔ آپ تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو ابتدا میں کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت دی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھا پا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں اٹھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) الٹے جاتے تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا وہ کہـیں گے کہ ” اللہ کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے۔ لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہ تھا۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

ہم نے لوگوں کے سمجھانے کے لیے قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کریں تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور دیکھو جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو اوچھا نہ بنا دیں۔

گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ کرنا اور پیغامِ رب العزت لوگوں تک پہنچانا۔ ان لوگوں کی طرف سے آپ پریشان نہ ہوں جو ایمان کی طرف دھیاں نہیں دیتے۔ اصل میں کفر و شرک کا اندھیرا ان پر اس قدر غالب آچکا ہے کہ ان کے دل، کان اور آنکھیں ایمان کی آواز کو سن نہیں سکتے اور آنکھیں ایمان کی روشنی کو دیکھ نہیں سکتیں تو پھر دل کس طرح ایمان کو مان لیں اور زبان کس طرح ایمان کا یقین کرلے۔ ایمان لانے والے تو بغیر کسی معجزہ کو دیکھے ہی ایمان لے آتے ہیں۔ جو نہیں لاتے ان کو ان کا اپنا وجود بھی اس طرف مائل نہیں کرسکتا کہ وہ کس طرح ایک پانی کے قطرے سے ماں کے پیٹ میں پہنچ گئے پھر مدت پوری کر کے دنیا میں آگئے۔ جب دنیا میں آئے تو کس بےبسی اور کمزور حالت میں آئے کہ پرورش کرے تو ماں کرے یا کوئی اور مشفق و مہربان کرے۔ پھر تھوڑی سمجھ آئی تو بچہ چلنے پھرنے لگا اور پھر بچپن سے لڑکپن جوانی اور پھر دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آنے لگی اور آخر موت۔ جہاں سے روح آئی تھی وہیں واپس چلی گئی کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے عالم ارواح میں تھے دنیا سے واپس جانے کے بعد پہلے عالم برزخ پھر قیامت اور اس کے بعد دائمی زندگی جنت یا جہنم۔ حشر کے دن دنیا کے کونے کونے سے تمام پشتوں، تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لوگ اللہ کے حضور حاضر ہو جائـیں گے عجیب افراتفری ہیبت اور بےبسی کا عالم ہوگا۔ نیک اور صالح تو سکون میں ہوں گے جب کہ کفار و مشرکین گھبرائے گھبرائے یہ کہیں گے کہ ” بھئی ہم تو دنیا میں زیادہ دیر رہے ہی نہیں بس ایک آدھ دن ہی رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ پریشانی میں الٹے سیدھے بہانے بنائیں گے جبکہ وہاں تو صرف اعمال کے حساب کتاب کا سلسلہ چل رہا ہوگا۔ نہ سفارش نہ رشوت نہ جھوٹے معبود اور نہ ہی توبہ ہی کسی کام آسکے گی۔ بس صرف اپنے اعمال جو اس دنیام میں کیے گئے ہیں کام آئیں گے۔ آخر میں نبی اکرم ﷺ اور تمام مسلمانوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ تم صبر، ایمان اور یقین کے ساتھ اپنے مشن میں قائم و دائم رہو۔ تمہیں کوئی لالچ کوئی فریب اور کوئی طاقت تمہاری تبلیغ کے کام سے روک نہ دے۔ کیونکہ حق کی فتح یقینی ہے اور باطل کی شکست بھی یقینی ہے۔ کہاں اللہ الہ العٰلمین اور کہاں یہ بےبس مجبور ناتواں جھوٹے معبود اور ان کا سردار شیطان۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ” سو آپ قائم رہیں بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے آپ کو اکھاڑ نہ دیں۔ (آیت 60 الروم) خلاصہ سورة الروم گر لاکھ برس جئے تو پھر مرنا ہے ہاں تو شئہ آخرت مہیا کرلے جو شے ہے فنا، اسے بقا سمجھا ہے ہے بحر جہاں میں عمر مانند حباب کیا کیا دنیا میں صاحب مال گئے پہنچا کے لحد تک پھر آئے سب لوگ پیمانہ عمر ایک دن بھرنا ہے غافل تجھے دنیا سے سفر کرنا ہے جو چیز ہے کم اسے سوا سمجھا ہے غافل ! اس زندگی کو کیا سمجھا ہے ؟ دولت نہ گئی ساتھ نہ اطفال گئے ہمراہ اگر گئے تو اعمال گئے تو قیر تیرے آستانے میں ملی مال و زر و آبرو و دین و ایمان عزت تیرے در پہ سر جھکانے سے ملی کیا کیا دولت تیرے خزانے میں ملی (میر انیس)