29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 29:1–4

الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader

الۗمّۗ (حروف مقطعات میں سے ہے)

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ” ہم ایمان لے آئے، چھوڑ دیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان کو بھی آزمایا تھا اور ان کو بھی آزمائیں گے سو اللہ ان کو ضرور معلوم کرے گا جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھتے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے۔

ایمان داروں کی مصائب کی کسوٹی پر آزمائش تشریح : ایمان کا زبان سے اقرار اور دل سے یقین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس اقرار اور یقین پر عمل بھی کیا جائے۔ مسلمان وہ ہے جو پورے کا پورا دین میں داخل ہوجائے۔ اس کی زندگی کے معمولات سے ‘ اس کے رہن سہن تہذیب و تمدن غرص لباس اور عادات واطوار سے خود بخود یہ دکھائی دینے لگے کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ نہیں کہ دعوٰی تو اسلام کا کرے اور کام کرے ہندوعیسائی یا سکھوں جیسے۔ اور جب ایک سچا مسلمان ایمان کی وجہ سے آزمائشوں میں پڑتا ہے تو پھر وہ صرف ایمان کی حفاطت میں جان ‘ ملک ‘ ماں باپ آل اولاد غرض دنیا کی ہر چیز قربان کردیتا ہے۔ پھر اس کو اللہ کی طرف سے بےشمارنصرت اور انعام و اکرام ملتے ہیں۔ مگر جب جذبہ سچا ہو۔ شاعر کی زبان سے سنیے۔ دل ہو کہ جان کیوں کر تجھ سے عزیز رکھیے دل ہے سو چیز تیری ‘ جان ہے سو مال تیرا خواجہ الطاف حسین حالی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سچے جذبے کی آزمائش میں ضرور کرتا ہوں اور پھر یہ بھی لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کریم تو سینے کی باتوں اور نیتوں تک کو جانتا ہے۔ وہ علیم و حکیم ہے۔ کوئی اس کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے مگر اللہ کو دھوکہ دینا کسی بندے بشر کے اختیار میں نہیں۔ اس لیے کوئی برا انسان اللہ کی پکڑ سے ہرگز بچ نہیں سکتا۔ اور اچھے انسان کی تعریف یہ ہے کہ صرف اللہ کے احکام کی اطاعت کرے اس کے علاوہ وہ کسی اور کا حکم نہ مانے۔ عبادت کے خلوص یا ریاکاری کو اللہ تعالیٰ بڑی اچھی طرح جانتا ہے۔ خلوص ہی نجات کا باعث ہوتا ہے اور بناوٹ سزا کا موجب۔ اور اس کا علم اللہ کو خوب اچھی طرح ہوجاتا ہے کیونکہ وہ علیم وخبیر ہے۔
Ayahs 29:5–7

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا مقررر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے محنت کرتا ہے اور اللہ تو تمام جہان سے بےپرواہ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

برے لوگوں کے لیے خبر اور ایمان والوں کا انجام تشریح : اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور نیک و بد کو اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ بلکہ برے کو صرف برائی کا بدلہ ملے گا جب کہ نیک کے چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور نیکی کا بدلہ کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے ‘ سنتا ہے اور جانتا ہے۔
Ayahs 29:8–13

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کی حقیقت کی تمہیں خبر نہیں تو ان کا کہا نہ مانو۔ تم سب کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تمہیں خبر دوں گا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے جب ان کو اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لوگوں کی دی گئی ایذا کو یوں سمجھتے ہیں جیسا کہ اللہ کا عذاب ‘ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ “ کیا جو دنیا والوں کے سینوں میں ہے اللہ اس سے واقف نہیں ؟۔

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ان کو ضرور معلوم کرے گا جو سچے مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ” ہمارے طریقوں پر چلو ہم تمہارے گناہ اپنے سر لیں گے، حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں ‘ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے لوگوں کے بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان سے ان کی ضرور پوچھ ہوگی۔

اچھے لوگوں کی صفات اور اللہ کے احکامات تشریح : یہاں والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت کردی گئی کہ اللہ کو وحدہ ‘ لا شریک ماننا اتنا ضروری ہے کہ والدین اگر ایمان باللہ سے منع کریں اور شرک کا حکم دیں تو ان کی بات مت مانو۔ اور پھر یقین رکھو اللہ پر اتنا مضبوط کہ منافقین اور کفار کی کوئی بات کوئی لالچ تمہیں اس سے پھیر نہ سکے یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔ ہر شخص کے اعمال کی اسے خبر ہے اور قیامت کے دن سب معاملات بڑے انصاف سے نمٹا دیے جائیں گے۔ اور دنیا میں بھی برے لوگ عذاب سے بچ نہیں سکتے جیسا کہ پچھلی قوموں کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تاریخی واقعہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں ساڑھے نو سو سال رہے پھر ان کو طوفان کے عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لیے نشانی بنا دیا۔

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف ‘ ھود ‘ المومنون ‘ الشعراء اور ان کے علاوہ کئی سورتوں میں موقع کے مطابق ذکر آچکا ہے۔ اب یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں اور نبی اکرم ﷺ کو ان کے صبر اور ثابت قدمی کی مثال دی جاسکے کیونکہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال مخالفین کی بےحد مخالفتیں اور ظلم برداشت کیے اتنا طویل عرصہ ان کو سمجھاتے رہنا اور دکھ اٹھاتے رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس لیے رسول معظم ﷺ اور ان کی امت کو بھی تبلیغ کے سلسلہ میں اگر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے تو صبر و ثبات سے کام کیے جائیں۔ ساتھ ہی کفار کو بھی تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ مہلت ضرور دیتا ہے مگر بالآخر اس کا عذاب بھی ضرور آجاتا ہے جیسا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم جب بالکل ہی باز نہ آئی تو پھر ان پر طوفان پانی کا بھیج کر پوری قوم کو غرق کردیا گیا سوائے ان نیک لوگوں کے جو سیدنا نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ان کی کشتی میں سوار ہوئے جو دوبارہ نسل انسانی کو بڑھانے کا موجب بنے۔ اس تاریخی واقعہ کو لوگوں کے لیے عبرت کا جیتا جاگتا ثبوت بنانے کے لیے سیدنا نوح (علیہ السلام) کی کشتی کو کوہ جودی پر ٹھہرا دیا۔ ” ابن جریر نے قتادہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیزہ کے علاقے میں گئے تو انہوں نے کوہ جودی پر اس کشتی کو دیکھا۔ موجودہ زمانے میں بھی وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوح کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسا اوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انہوں نے ایک ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے۔ (از تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 678) اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ بہرحال سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ہر زمانے کے مسلمانوں اور کفار و مشرکین کے لیے کھلی نشانی ہیں عبرت حاصل کرنے کی۔ اسی سلسلے میں آگے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :
Ayahs 29:16–27

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

یقینا تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور جھوٹ باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس اللہ سے ہی رزق مانگو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم میری تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں اپنے پیغمبروں کو جھٹلا چکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو لوٹائے گا یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر اللہ ہی بعد کی پیدائش کرے گا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور اس کو نہ تم زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں سے انکار کیا اور اس سے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو ، مگر اللہ نے ان کو آگ کی سوزش سے بچا لیا۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم نے کہا کہ ” تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں آپس میں دوستی کے لیے ‘ مگر پھر قیامت کے دن ایک دوسرے کی دوستی سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے ‘ اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر ایک لوط ایمان لائے اور ابراہیم کہنے لگے ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر کردی اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ دیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ : (1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ (2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔ (3) اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ وہی عبادت کے لائق ہے۔ (4) نعمتیں دینے والا ‘ پیدا کرنے والا ‘ مارنے والا اور دوبارہ زندہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے۔ (5) اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (6) موت ضروری ہے۔ ہر کوئی مقررہ وقت پر مرجاتا ہے۔ اور دوبارہ ضرور زندہ کیا جائے گا کیونکہ زندگی کے اعمال کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ لہٰذا اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے ہمیں بڑے سائنٹفک طریقہ سے پیدا کیا اور پھر ہماری تمام ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے ہوا ‘ بجلی ‘ پانی ‘ بارش ‘ پہاڑ ‘ سمندر ‘ نظام شمسی کا بہترین اور شاندار نظام قائم کردیا۔ اور یہ کام صرف اور صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا ان میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں کرسکتا تو ثابت ہوگیا کہ الہ کا مطلب ہے۔ (1) جس کی عبادت کی جائے۔ (2) جس کے بارے میں عقل حیران ہو۔ (3) جس سے بےپناہ محبت ہو۔ (4) جو انسانی عقل سے باہر اور پوشیدہ ہو لیکن اس کی قوت ‘ عظمت اور غلبہ ہر جگہ دکھائی دے۔ اسی لیے ہر انسان میں فطری طور پر اللہ کا تصور ضرور پایا جاتا ہے مگر اپنی ہٹ دھرمی اور اجداد کی پیروری کرتے ہوئے انسان خواہ مخواہ شرک کی ظلمت میں پڑا رہتا ہے۔ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے توحید کے بارے میں فضائل اور شرک کے بارے میں نقصانات سن کر ان کی قوم تنگ آگئی اور اپنا راستہ بدلنے کو تیار نہ ہوئی تو پھر قوم نے فیصلہ کرلیا کہ ان کو جلا کر ختم کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کی مدد کی اپنی حکمت سے ان کو جلنے سے بچا لیا۔ اسی طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے تبلیغ کے راستے میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بہت سی آزمائشوں کا سامنا کیا اور اب ایک اور فیصلہ ‘ کہ ایمان کی حفاظت میں ہجرت کر جانے کا فیصلہ کیا۔ تو یہاں سیدنا ﷺ کو ہجرت کر جانے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اکثر پیغمبروں کو تبلیغ کی راہ میں گھر بار ‘ ملک اور عزیز و اقربا چھوڑ کر کسی دوسری سرزمین میں نکلنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی محبت سب سے برتر و اعلیٰ ہے اور پھر جب کوئی شخص اس حد تک اللہ کی محبت میں گم ہوجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس کو دنیا و آخرت میں بہترین انعامات سے نوازتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو مبارک اولاد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) اور سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کی صورت میں عطا کی اور ان کی نسل میں نبوت کا اعزاز خاص کردیا۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بڑی شان ہے آپ کو اللہ کا دوست ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور آپ کی یاد میں حج کے کئی ارکان خاص کردیے گئے اور یوں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) مومنین کے لیے صبر ‘ ثبات ‘ قربانی ‘ حب الٰہی اور نیکی و جان نثاری کی ایک بےمثال حقیقت اور نمونہ بن گئے اور یوں انہوں نے اس دنیا کی عارضی تکلیفوں کے بجائے آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کی تمام آسائشیں اور اللہ کی رضا حاصل کرلی۔ دنیا کا ہر بندہ ان کی راہیں اختیار کر کے دنیا و آخرت میں سربلند ہوسکتا ہے۔ دعا ہے۔ ” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں میں صبر ڈال دے اور ہمارے پائوں جمائے رکھ اور اس کافر قوم پر ہمیں غالب کیجئے۔ “ (البقرہ آیت :250 )
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ” تم عجیب بےحیائی کا کام کرتے ہو ‘ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم لذت کے ارادے سے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو ‘ مسافروں کی راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو۔ “ تو ان کی قوم کے لوگوں نے جواب دیا۔ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آئو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا ” اے میرے رب ! ان مفسد لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما !۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کیونکہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ ” اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے ” جو لوگ یہاں رہتے ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

تو جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ سے تنگ دل اور ناخوش ہوئے۔ فرشتوں نے کہا ” کچھ خوف نہ کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لیے اسی بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی۔

سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ بنی آج بھی عبرت کا نمونہ بنی ہوئی ہے کیونکہ اہل مکہ کے تجارتی قافلے جب شام کی طرف جاتے ہیں تو یہ راستے میں موجود ہے۔ یہی علاقہ قوم لوط کا مرکزی شہر سدوم ہے۔ سورة الشعراء ‘ ھود اور الاعراف میں بھی کافی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں پر بھی ان کی بدفعلی، رہزنی اور کھلے عام بےحیائی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایسی بدکردار قوم کے ساتھ سیدنا لوط نے کئی سال محنت کی مگر وہ راہ راست پر نہ آئی تو آخر ہار کر انہوں نے اللہ سے فریاد کی ” اے میرے رب ! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا فرشتوں نے اس خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا، بلندی پر لے جا کر اس زور سے زمین پر الٹا کر مارا کہ وہ حصہ زمین میں دھنس گیا پھر اللہ نے اوپر سے پتھر برسائے اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے گھر والوں کو عذاب سے بچا لیا مگر ان کی بیوی بھی عذاب کا شکار ہوئی کیونکہ وہ بھی انہی بدکاروں میں سے ایک تھی۔ اسی طرح اور بھی کئی قوموں اور پیغمبروں کے حالات مسلمانوں کے لیے تسلی اور عبرت بنی۔