29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 29:36–44

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کے آنے کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچائو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے ان کو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے کے عذاب نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا چناچہ ان کے ویران گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو سیدھے رستے سے روک دیا حالانکہ وہ بصیرت والے لوگ تھے۔

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

قارون ‘ فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کردیا اور ان کے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لیکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ‘ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ‘ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک طرح کا گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش یہ اس بات کو جانتے۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو اللہ اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں ہم لوگوں کو سمجھانے کے لیے بیان کرتے ہیں اور اسے تو دانش مند ہی سمجھتے ہیں۔

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لیے اس میں نشانی ہو۔

عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں مگر اللہ کی پہچان سے خود کو دور رکھنے والے لوگ تھے اس لیے انہوں نے خود اپنے لیے اللہ کی ناراضگی مول لی جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک حد تک تو ان کو ڈھیل دی گئی مگر بالآخر ان پر مختلف قسم کے عذاب آتے چلے گئے اور دنیا کو گناہوں اور گندگیوں سے برابر صاف کیا جاتا رہا۔ اس طرح کی سزائیں آج بھی قوموں کو اپنے برے اعمال کے بدلے میں وقتاً فوقتاً ملتی رہتی ہیں۔ مگر انسان ان کو قدرتی آفات سمجھ کر ٹال دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کو ان کے اپنے ہی اعمال اور غلطیوں کی وجہ سے مصیبتوں ‘ بیماریوں اور بےچینیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مثلاً بےحیائی ‘ بےراہ روی بےغیرتی اور غیر فطری عمل کو اپنا کر دنیا کے بیشتر حصوں میں ایڈز کی بیماری پھوٹ پڑی ہے۔ اسی طرح بیشمار عورت مرد ہم جنسی کے سبب خاندانی سکون سے محروم ہوچکے ہیں جن ملکوں میں ہم جنس کی شادیاں رواج پا چکی ہیں وہاں بیشمار ذہنی امراض سر اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح بغیر شادی کے عورت مرد کا ایک ساتھ رہنا بچے پیدا کرنا ‘ عورت ‘ مرد ‘ بچے اور پوری سوسائٹی عدم تحفظ کی شکار ہو کر بیشمار غیر قانونی کام کرنے لگتی ہے۔ تمام اخلاقی برائیاں یہاں سے پیدا ہونے لگتی ہیں۔ زنا ‘ جھوٹ ‘ قتل ‘ فساد اور بیشمار جسمانی اور روحانی بیماریاں خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے غیر فطری قانون اور غیر فطری طرز زندگی سے پیدا ہوجاتے ہیں اور یوں خود اپنے ہاتھوں خود کو عذاب کا شکار بنا دیتے ہیں۔ پھر اللہ کی طرف سے دی گئی مہلت جب ختم ہوجاتی ہے تو قدرتی آفات جو آہستہ آہستہ ان کے بےراہروی کی وجہ سے تیار ہوتی رہتی ہیں یکدم ان پر عذاب کی صورت میں آپڑتی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے پچھلی گزری ہوئی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ ہمیں بھی ایسی ہی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔ ہمیں ہوش کرنا چاہیے۔ ایک قوم جب تک اخلاقی بلندی اللہ کی رضا اور اس کے خوف کو اپنائے رکھتی ہے باعزت اور کامیاب ہوتی ہے۔ جونہی اللہ کی راہ سے منہ موڑتی ہے اللہ کے قانون کے مطابق آہستہ آہستہ تباہی کی طرف پہنچ جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اس بات کی وضاحت بہت دفعہ موجود ہے کہ خرابی ایک انسان سے شروع ہو کر پوری سوسائٹی حتی کہ پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جس طرح ایک نبی ‘ رسول یا پیغمبر یا مرد مومن پوری قوم کو ہدایت دینے کا کام کرتا ہے اور نبی اکرم ﷺ تو پوری دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان کا سبق ‘ مشن اور تبلیغ بھی وہی ہے جو تمام پیغمبر دیتے آئے ہیں۔ اور ان کو اس راستے میں بےپناہ دشواریاں پیش آتی رہیں۔ اور پھر حق کے مقابلہ میں باطل کا ہونا ضروری ہے۔ مگر حق مضبوط ‘ پائیدار اور کامیاب ہونے والا ہے جبکہ باطل کی حیثیت انتہائی کمزور مٹ جانے والی اور ناپائیدار ہے۔ جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے گھر سے دی ہے۔ کہ ایک انگلی لگائو تو اس کا پورا گھر نابود ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ انتہائی چھوٹی چھوٹی کمزور مخلوقات کا ذکر قرآن پاک میں کیا ہے۔ ذرا ان کی تہہ میں جائیں تو انسان کے لیے بڑے بڑے سبق موجود ہیں۔ مثلاً نمل (چیونٹی) کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جونہی بچہ انڈے سے نکلتا ہے ماں اللہ کے حکم سے دو باتیں اس کے ذہن نشین کردیتی ہے۔ ایک باہمی اتفاق دوسرا سمت کی پہچان۔ ہم مائوں کو غور کرنا چاہیے کیا ہم اپنے بچوں کی تربیت اسی خلوص اور تندہی سے کر رہی ہیں ؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں زیادہ تر مائیں بچوں کی صحیح تربیت سے لاپرواہی برت رہی ہیں اور یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اب ذرا مکڑی کی طرف غور سے دیکھتے ہیں۔ یہ انتہائی حقیر سا کیڑا ہے۔ جس کا گھر انتہائی ناپائیدار ہمارے خیال میں ہوتا ہے مگر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی ماہر تعمیرات ‘ ماہر فلکیات ماہر سائنسدان اس جیسا ایک دھاگہ بھی نہیں بنا سکتا۔ مکڑی کا گھر ترتیب ‘ حساب اور نمونے کے لحاظ سے حیرت انگیز کام ہے۔ یہ اصل میں مکڑی کے غدود سے رس کر نکلتا ہے جو ایک ایسا مادہ ہوتا ہے جس سے انتہائی باریک ریشمی دھاگہ بنتا ہے جس کو مکڑی انتہائی حسابی لحاظ سے اپنے اعصابی خلیات کی مدد سے حیرت انگیز طور پر ایک شاندار جالاتان دیتی ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور کوئی بڑے سے بڑا ماہر تعمیرات بھی اس جالے کا ایک انچ بھی نہیں بنا سکتا۔ کیا یہ سب کچھ اللہ کی قدرت ‘ کمال اور وحدانیت کے جیتے جاگتے ثبوت نہیں ہیں ؟ حیرت ہوتی ہے ان مشرکوں پر جو اس معبود برحق سمیع وبصیر قادر مطلق کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی اور خود بنائے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ اور پھر اتنے مضبوط اور بھر پور طریقے سے اپنے ان بےمعنی معبودوں کو پوجتے ہیں کہ کوئی پیغمبر کوئی دلیل اور بات کوئی نشانی ان کو اللہ کی طرف نہیں پھیر سکتی تو پھر اس کو اندھا پن ہی کہ سکتے ہیں اور کیا کہیں۔ اللہ ہمیں شرک سے محفوظ فرمائے۔ (اٰمین)
Ayahs 29:45–46

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ کتاب جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کریں اور نماز قائم کریں کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا (عمل) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طرح کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں ان میں سے جو بےانصافی کریں ان سے اسی طرح بات کرو اور کہہ دو کہ جو کتاب ہم پر اتری اور جو کتابیں تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

نبی ﷺ کے لیے ہدایات، قرآن کی برکات تشریح : یہاں اللہ جل شانہ ‘ اپنے پیارے نبی سے مخاطب ہو رہے ہیں کہ آپ کو نبوت کا رتبہ دیا گیا ہے اور وحی کے ذریعے سے قرآن مجیددیا گیا ہے۔ اس کو پڑھا کرو۔ کیونکہ قرآن پاک کوئی معمولی کتاب نہیں۔ یہ کتاب انسان کے لیے ہر قسم کے علوم کا مجموعہ ہے۔ اور ثابت ہوچکا ہے کہ قرآن کسی بندے کا لکھا ہوا نہیں بلکہ یہ آسمانی کتاب ہے جو اللہ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ پر نازل فرمائی۔ اس کی سچائی کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی انسان قرآن کا مصنف ہوتا تو آج سے چودہ سو سال قبل ایسے حقائق کیسے بیان کرسکتا جو آج جدید سائنسی معلومات سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔ قرآن میں تخلیقات کائنات کے تمام موضوعات، یعنی فلکیات ‘ زمین سے متعلق مادے ‘ عالم حیوانات ‘ نباتات اور خاص طور سے اخلاقیات و الٰہیات اور علم الغیب کو بڑی خوبصورتی اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن ایک ایسا دریچہ ہے جہاں سے ہم کائنات اور تمام تخلیقات کے ماضی ‘ حال اور مستقبل کو بڑے واضح طریقے سے دیکھ سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ آنکھ بصیرت رکھتی ہو۔ جس کا دل زندہ اور ہدایت کے نور سے منور ہو۔ جو اس نور کی جستجو رکھتا ہو۔ قرآن تصورات کی دنیا سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آتا ہے۔ پھر ان تمام حقائق پر غوروفکر کرنے کی تاکید اور مقصد بتایا۔ مقصد یہ ہے کہ جیسے جیسے انسان خود اپنے اوپر کائنات کے نظم و ضبط پر تحقیق کرتا ہے وہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ یہ سب کام صرف اس ایک اللہ کا ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا اور اپنی طاقت و عظمت اپنی تخلیقات کے ذریعے ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ گویا سائنس ہر پہلو سے انسان کو اللہ کی وحدانیت اور وجود کا یقین دلاتی ہے۔ تیسرا قرآنی تعلیمات سے ہر چیز کا صحیح علم سامنے آجاتا ہے کیونکہ قرآن میں شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں یہ سچ ہے کیونکہ اللہ سچے کا کلام ہے۔ چوتھے علم پر کسی خاص فرد یا گروہ کا قبضہ نہیں۔ اسی لیے اسلام کے آتے ہی دنیا میں علم کا سیلاب آگیا۔ کفر و شرک اور جہالت اور بدامنی کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔ مسلمانوں کی علمی ترقی اور جدوجہد و کامیابیوں سے ہر دور کے مورخین متاثر ہوئے مثلاً : فلب حتی نے اس طرح اظہار کیا : ” اس زمانے میں جب عرب علماء ارسطو کا مطالعہ کر رہے تھے ‘ یورپ میں شارلیمن اور اس کے امراء اپنے نام کے ہجے سیکھ رہے تھے۔ ایسے زمانے میں جب جامعہ آکسفورڈ کے عالم غسل کرنے کو بےدینی کی رسم بتاتے تھے ‘ قرطبہ کے مسلمان سائنس دان پر تکلف اور عطر بیز حماموں کا لطف اٹھا رہے تھے۔ “ (از تاریخ عرب اردو ترجمہ ص 11 ) جارج سارٹن کہتے ہیں :” آٹھویں صدی کے نصف آخر سے گیا رھویں صدی کے اختتام تک عربی ہی بنی نوع انسان کی سائنسی اور ترقی پسندانہ زبان تھی۔ سب سے زیادہ گراں قدر ‘ سب سے زیادہ اچھوتی اور سب سے زیادہ پر مغز کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں۔ “ (از تاریخ سائنس) ولیم ڈمپیر لکھتا ہے :” جب عیسائی دنیا زوال پر تھی ‘ اسلامی دنیا میں علوم کی نشوونما اپنے عروج پر تھی۔ آٹھویں صدی کے آخر نصف میں علم کے میدان میں برتری یورپ کی بجائے یقینا مشرق قریب کو حاصل ہوچکی تھی۔ “ (تاریخ سائنس ص 72 ) اسی طرح ریفالف نے کہا :” یورپ کے احیاء اور ارتقاء کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر اسلامی تہذیب کے گہرے اثرات نہ پائے جاتے ہو۔ “ (تشکیل انسانیت اردو ترجمہ ص 190 ) یہ تو سب علوم متفرقہ تھے جن میں مسلمانوں نے قرآنی آیات کو بنیاد بنا کر پوری دنیا کو علم کی روشنی سے منور کردیا۔ اب بات ہوجائے اس علم کی جو انسان کو انسان بناتی ہے اور وہ اخلاقی ‘ مذہبی اور روحانی علوم سے روشناس کرواتی ہے۔ اسلام میں اخلاق ‘ کردار ‘ اعتقادات ‘ فضائل اخلاق ‘ حقوق العباد ‘ حقوق اللہ پر بڑی وسعت اور جامعیت سے روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ مسلمان کسی قوم سے پیچھے نہ رہے۔ اصل میں قرآن انسان کے لیے ہر طرح کی شفاء کا ذریعہ ہے۔ جسمانی ‘ روحانی اور مادی مشکلات کا حل قرآن میں موجود ہے بات یہی ہے کہ آنکھ میں بصیرت اور دل میں ایمان کی روشنی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا یعنی تمام دنیا کے مسلمانوں کو حکم ہے کہ قرآن کو پڑھو ‘ سمجھو اور عمل کرو۔ اور پھر نماز قائم کرنے کی تاکید کی گئی۔ ارکان اسلام پانچ ہیں جن میں سے ایک نماز ہے جس کا مختصر سا بیان یہاں دیا گیا ہے۔ پانچ وقت کی نماز مسلمانوں کے لیے ایک روحانی ‘ جسمانی اور اخلاقی ایکسرسائز ہے کیونکہ اول تو نماز سے اور بہت سے فائدوں کے علاوہ ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان میں غم ‘ تکلیف ‘ خوف اور پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا راستہ نکلتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز برائیوں سے یقیناً بچاتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب دو رکعت نماز میں ” اللہ اکبر “ گیارہ دفعہ دہرایا جاتا ہے اور سجدہ کرکے اللہ کی بڑائی اور انسان کی عاجزی کا اظہار کیا جاتا ہے تو بندہ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ آزاد، خود مختار اور مضبوط و متکبر انسان نہیں۔ بلکہ ایک اللہ مختار کل کا بندہ ہے۔ جو ہر وقت اس کے ظاہر و باطن سے واقفیت رکھتا ہے۔ تو یوں انسان کے اندر سے غرور ‘ ناانصافی ‘ بدعملی ‘ نفرت اور حقارت کے تمام جذبات ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کا دل صرف اللہ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور وہ ایک متقی، پرہیزگار انسان بن جاتا ہے اور بہت سی اخلاقی برائیاں اس سے دور ہوجاتی ہیں۔ ایسے شخص میں نہ تو احساس برتری رہتا ہے اور نہ ہی احساس کم تری ہی ہوتا ہے۔ اور پھر آخر میں دہرایا گیا ہے کہ مسلمان کا ایمان ہے کہ جس قدرآسمانی کتابیں پہلے اترچکی ہیں وہ بھی سچ ہیں اور ہر نبی نے توحید ہی کا سبق دیا ہے۔ یہی تعلیمات دی ہیں۔ نماز ایک قدیم عبادت ہے ہر رسول کی شریعت میں نماز شامل رہی توحید و رسالت کے بعد نماز اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے۔ یاد الٰہی مومن کی زندگی کی روح ہے۔ میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی قرآن مجید کے آسمانی کتاب ہونے کا ثبوت
Ayahs 29:47–55

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں ‘ اور بعض (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو نافرمان ہیں۔

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے۔ ایسا ہوتا تو کفار ضرور شک کرتے۔

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ‘ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں محفوظ اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں فرمادیں کہ ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہی ہیں میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں۔

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں نصیحت ہے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

فرمادیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے جو ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو ان پر عذاب آبھی چکا ہوتا۔ اور وہ کسی وقت بھی ضرور اچانک ان پر آکر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا۔

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ آپ سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کفار کو گھیر لینے والی ہے۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو اوپر سے اور نیچے سے ڈھانپ لے گا اور اللہ فرمائے گا کہ جو کام آپ کیا کرتے تھے اب ان کا مزہ چکھو۔

کفار کے لیے عذاب کی خبر تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی کے ہر قسم کے مسائل کے حل کے اتنے بہترین اصول، ایسے بیان کررہے ہیں کہ پہلے کسی نے بیان نہیں کیے یعنی آپ ایک ہی وقت میں بہترین پیغمبر ‘ استاد ‘ ماہر معاشیات ‘ سپہ سالار اور حاکم مملکت، جج اور ان جیسے بیشمار اوصاف کے مالک کیسے بن گئے ؟ یہ سب اس قرآن پاک کی ہی برکت تھی کہ وحی کے ذریعے آپ کو ہر معاملے کا حل اور متعلقہ مسئلہ کے بہترین اصول و ضوابط بتا دیے جاتے تھے۔ آپ اللہ کے ان پیغامات کو اللہ کی مدد سے یاد کرلیتے اور پھر صحابہ کرام کو یاد کروا دیتے جو کہ کچھ اپنی استطاعت کے مطابق لکھتے بھی جاتے تھے۔ ہمیشہ رہنے کے لیے آیات قرآنی کو کئی کئی دفعہ پڑھا اور سنا جاتا تھا کہ کسی قسم کی غلطی نہ رہ جائے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے اپنے اس کلام پاک کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے۔ اس لیے اس میں کمی بیشی تو کسی صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ ایک عام امی شخص یوں یکدم مصلح انسانیت اور معلم بن گیا جس نے تن تنہاکفار و مشرکین کی مخالفتوں کا مقابلہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ کی خاص مہربانی ‘ عنایت اور مدد سے فاتح عالم نبی آخر الزمان حامل قرآن بن کر دنیا کو بہترین شریعت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مگر اس کی تعلیمات قرآن و سنہ ان شاءللہ رہتی دنیا تک باقی رہیں گے۔ جن کو اللہ توفیق دے گا وہ ایمان کی روشنی سے منور ہوجائیں گے اور جو طرح طرح کے اعتراضات میں گم ہو کر کفر کے اندھیروں میں ڈوبے رہنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ڈوبے رہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے درد ناک دوزخ کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ اور یہ بالکل سچ ہے۔ کیونکہ یہ راز اس اللہ بزرگ و برتر کا بتایا ہوا ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کا ہر وقت پورا پورا علم رکھتا ہے۔ وہ سینوں کی باتیں بھی جانتا ہے کون ہے جو اس کے نظام کو بدل سکے اور اس کے حساب کتاب اور سزا سے بچ سکے۔ سوائے ان نیک لوگوں کے جن کو اجر عظیم کی خوشخبری دی گئی ہے۔ وہ کون ہیں ؟
Ayahs 29:56–63

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو ‘ میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر شخص موت کو چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آئوگے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ‘ نیک عمل کرنے والوں کا یہ خوب بدلہ ہے۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ‘ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اگر ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ سورج اور چاند کو کس نے تمہارے زیر فرمان کیا ؟ تو ضرور کہیں گے ” اللہ نے “ تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا ؟ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد کس نے زندہ کیا ؟ تو کہیں گے کہ ” اللہ نے “ فرمادیں کہ اللہ کا شکر ہے بلکہ ان میں سے اکثر نہیں سمجھتے۔

مومنوں کے اوصاف اور ربوبیت الٰہی کے دلائل تشریح : ان آیات میں خوشخبری ان لوگوں کو دی گئی ہے جن میں صبر اور توکل ہو۔ یعنی ہر قسم کی آزمائش ‘ سختی اور مصیبت جو ان کو راہ خدا میں اٹھانی پڑے صبرو سکون سے برداشت کرتے ہوئے ایمان بااللہ پر قائم رہیں۔ اور پورا بھروسہ اللہ پر رکھیں ایمان کی حفاظت اور بقا کے لیے ان کو گھر بار ‘ جائیداد اور رشتہ دار عزیز بھی چھوڑنے پڑیں تو ہجرت ضرور کر جائیں یہ سنت ہے۔ اور جو اللہ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ دیتا ہے وہ تو ویسے ہی اللہ کا مقبول ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تو ویسے ہی بڑا مہربان اور رازق ہے کیونکہ وہ ہر کافر مشرک کو برابر رزق دیتا ہے۔ رزق دینا صرف اسی کا کام ہے۔ اس کے لیے اس نے کیسے کیسے بندوبست کر رکھے ہیں ؟ عقل حیران ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کی ضروریات اور دعائوں کو ہر وقت سنتا ہے اور جانتا ہے۔ اس کو خوب معلوم ہے کہ کس کو کتنا رزق دینا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جانتا ہے یعنی ان کی نفسیات ‘ عادات کو جانتا ہے اس لیے رزق کی کمی اور زیادتی کی 2 وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ (1) یہ امتحان ہے جو کسی کا دولت کی کمی سے اور کسی کا دولت کی زیادتی سے لیا جاتا ہے۔ (2) بعض لوگوں کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ دولت کی زیادتی سے اس قدر مغرور اور مست ہوجاتے ہیں کہ شرک کی راہ اختیار کرلیتے ہیں۔ سرکشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جس طرح قارون سرکش ہو کر دین سے ہی پھر گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سرکشی اور شرو فساد سے بچانے کے لیے تین سخت ترین بندشیں بنا رکھی ہیں۔ (1) فقرو افلاس (2) امراض (3) موت۔ اس کے باوجود بھی انسان اللہ کو بھول کر سرکشی اختیار کرلیتا ہے۔ جبکہ عبادت ‘ ذکر اور شکر اللہ کے نیک بندوں کا کام ہے رزق ‘ لباس اور ٹھکانا اللہ کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بارے میں محمد موسیٰ روحانی بازی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” داود (علیہ السلام) جلیل القدر نبی ہیں۔ ہر نبی و رسول کی دعائوں میں بڑی مصلحتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ “ تو داود (علیہ السلام) دعا کے وقت یہ کہتے تھے۔ ” اے کوے کے چھوٹے بچوں کو گھونسلے میں رزق دینے والے۔ “ یعنی اس دعا کی وجہ تخصیص (خاص وجہ) یہ ہے کہ کوا جب انڈوں کو بچے نکالنے کے لیے توڑتا ہے تو ابتداء میں وہ بچے سفید رنگ کے ہوتے ہیں سفید رنگ کی وجہ سے کوا ان سے متنفر ہو کر ان کی پرورش چھوڑ دیتا ہے۔ چناچہ کوے کے یہ بچے اپنی چونچیں کھول دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خاص قسم کی مکھیاں بھیج دیتے ہیں جو ان بچوں کے منہ میں داخل ہوتی رہتی ہیں ‘ یہی مکھیاں ان بچوں کی غذا بنتی رہتی ہیں تاآنکہ ان بچوں کا رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اس کے بعد ادھر ان مکھیوں کا آنا بند ہوجاتا ہے ادھر کوا اپنے بچوں کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اور ان کی پرورش شروع کردیتا ہے۔ “ بہرحال اللہ تعالیٰ کا نطام رزق بڑا عجیب و لطیف اور نہایت محکم ہے۔ “ (از گلستان قناعت مسمیٰ بہ جنۃ القنایہ) محمد موسیٰ روحانی بازی آیت :60 کی تشریح بڑے خوبصورت انداز سے کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے رزق کے بارے میں چند امور کا ذکر کیا ہے۔ (1) اپنی عظیم قدرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زمین و آسمان کا خالق میں ہی ہوں۔ (2) شمس و قمر کو منور و مسخر کرنے والا بھی میں ہی ہوں۔ (3) کفار بھی اس بات کے معترف (ماننے والے) ہیں۔ (4) لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر یقین کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کسی اور ذات کی طرف رجوع کرنا اور اپنے معاملات میں اس پر اعتماد کرنا بڑی غلطی ہے۔ (5) رزق کی فراخی اور تنگی بھی میرے قبضہ قدرت میں ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں : ” دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں راہ سنت پر چلنے کی اور لباس باطنی یعنی اعمال زندگی کو گناہوں اور لغزشوں سے پاک و صاف رکھنے کی توفیق بخشیں۔ “ آمین (از گلستان قناعت) کیونکہبالآخر تو اللہ کے پاس ہی واپس جانا ہے تو جو لوگ شکر اور توکل سے نیک زندگیاں گزارتے ہیں ان کے لیے خوشخبری ہے اللہ فرماتا ہے۔ ” ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ “ (58 العنکبوت)
Ayahs 29:64–69

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے ‘ کاش یہ لوگ سمجھتے۔

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے اور خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو پھر فوراً شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں۔ تو خیر عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے ؟ اور لوگ ان کے گردونواح سے اچک لیے جاتے ہیں (دنگا فساد کا شکار ہوجاتے ہیں) کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے ؟ یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے ؟ کیا کفار کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ضرور ان کو اپنے رستے دکھا دیں گے اور اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔

اعمال دنیا اور اس کا انجام تشریح : ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو ہمیشہ کی زندگی قرار دیا ہے۔ پھر مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کیا کہ وہ کشتی میں تو خالص اللہ کو پکارتے مگر باہر آکر اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتے۔ آج کے نام نہاد مسلمان مشرکین مکہ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ ایسی جگہ پر بھی غیر اللہ کو پکارتے ہیں مثلا ً معین الدین چشتی پار لگا دو میری کشتی، یا بہاو الحق، بیڑادھک وغیرہ انسان مصیبت میں تو اللہ کو پکارتا ہے مگر راحت میں شکر نہیں کرتا اور غفلت میں پڑ کر قیمتی عمر دنیا کی عزت ‘ راحت ‘ آسائش اور دنیوی کامیابی کے حصول میں ضائع کردیتا ہے۔ جب کہ معلوم ہے کہ یہ زندگی ختم ہوجانے والی ہے اور اصل زندگی اور ہمیشہ رہنے والی عزت و آسائش کی زندگی تو صرف موت کے بعد کی زندگی ہے۔ جو عنقریب آنے والی ہے۔ اس لیے بدی سے دور رہنا اور بدی کے خلاف جہاد کرتے رہنا ہی انسان کے اعلیٰ کردار اور بہترین زندگی کا نشان ہے۔ یہ جہاد ہے کہ برائی کو کسی حال میں برداشت نہ کرے بلکہ اس کو ختم کرنے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجائے۔ جو شخص دوسروں کے لیے برائی کو برداشت کرتا ہے تو گویا وہ اخلاقی لحاظ سے کمزور ہے تو ایسا شخص بڑی آسانی سے اپنی نیک راہیں بدل لیتا ہے اور یوں ذلت و خواری اور اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور پھر اس کے اندر شرافت اور انسانیت کا کوئی جذبہ باقی نہیں رہ جاتا اور ایسے ہی لوگ اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہوتے ہیں۔ جبکہ مسلمان کی پوری زندگی جہاد ہے۔ چناچہ امام راغب اصفہانی (رح) نے لفظ جہاد کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ” جہاد کی تین قسمیں ہیں۔ (1) ایک کھلے دشمن کا مقابلہ (2) دوسرے شیطان اور اس کے پیدا کیے ہوئے خیالات کا مقابلہ۔ (3) تیسرے خود اپنے نفس کا ناجائز خواہشات سے مقابلہ۔ “ تو ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ فرماتا ہے۔ ” ہم ضرور ان کو اپنے رستے دکھا دیں گے اور اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔ “ (آیت :69 العنکبوت) سورت العنکبوت مکمل ہوگئی۔ الحمدللہ۔ خلاصہ سورة العنکبوت سورة العنکبوت جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ مکڑی سے منسوب ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا ہے جو انتہائی خوبصورت گھر بناتا ہے۔ مگر انتہائی نازک ہونے کی وجہ سے اسے ناپائیدار ہونے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دنیا کو بھی اس سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو کفار کے عقائد سے تشبیہ دی ہے۔ بہرحال پوری سورت حضرت جعفر صادق (رح) کی اس نصیحت کے گرد گھومتی ہے فرماتے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کا شکر ‘ استغفار اور خوف و خطر میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کی تاکید ہے۔ یہی مسلمان کی سب سے بڑی تجارت ہے۔ تجارت دو قسم کی ہوتی ہے۔ دنیاوی تجارت اور اخروی تجارت۔ دنیاوی تجارت کے فوائد و منافع چونکہ ظاہر ہوتے ہیں اس لیے لوگ اس تجارت سے خوش ہوتے ہیں۔ اخروی تجارت کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جنت کے بدلے میں ان کی جانیں بھی خریدلی ہیں ان کے مال بھی۔ “ ( سورة توبہ آیت :111 ) سلامتی کا راستہ قرآن و سنت کا راستہ ہے۔ جس نے ان کو سامنے رکھ کر اس دنیا میں زندگی گزاری اور تمام کاروبار حیات میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھا تو گویا اس نے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرلی ایسے ہی بندوں کے لیے اللہ فرماتا ہے : ” اے مطمئن روح تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا۔ اور میری جنت میں چلی جا۔ “ (سورۃ الفجر آیات 27 تا 30 ) خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیری خوشا دماغ جسے تازہ رکھے بو تیری دعا ہے :” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! آپ ہی میرے کار ساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ مجھے پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجئے اور مجھے خاص نیک بندوں میں شامل کر دیجئے۔ “ (سورۃ یوسف آیت :101) یہ سورت ہر زمانے کے مسلمانوں کے لیے حوصلہ مندی کے لیے بہت بڑی دلیل ہے۔ جب بندے کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس راستے میں ہمیشہ ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی مشکلات پیش آتی ہیں تو پھر وہ زیادہ مستعد اور مضبوط ہوجاتا ہے۔ اور پھر جب یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کامیابی اور سلامتی کی یہی راہیں ہیں پھر تو اور بھی نڈر ‘ بہادر اور مضبوط مسلمان بن جاتا ہے۔ مسلمان کی تعریف شاعر نے یوں کی ہے ؎ جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامین پیدا (اقبال) جب یہ مٹی سے بنا ہوا انسان جس میں اللہ نے اپنی قدرت سے زندگی بھر دی ہے۔ خالق اکبر پر اس کا ایمان پختہ ہوجاتا ہے تو پھر اس میں یقین و ایمان کی مضبوطی سے فرشتوں جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں یعنی وہ روحانیت میں اس قدر کمال حاصل کرلیتا ہے کہ قرب الٰہی حاصل کرلیتا ہے۔