28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 28:1–13

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طٰسۗمّۗ۔ (حروف مقطعات میں سے ہے۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کو سنانے کے لیے صحیح صحیح سناتے ہیں۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

کہ فرعون ملک میں سرکش ہوچکا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو یہاں تک کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا۔

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ ملک میں جو لوگ کمزور کردیے گئے ہیں ‘ ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہیں ملک کا وارث کریں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ملک میں ان کو قدرت دیں فرعون ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جن سے وہ ڈرتے ہیں۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلائو جب تمہیں اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا ‘ نہ خوف کھانا اور نہ رنج کرنا ‘ ہم اس کو واپس تمہارے پاس پہنچا دیں گے اور پھر اسے پیغمبر بنا دیں گے۔

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے اسے اٹھا لیا اس لیے کہ نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے موجب غم ہو۔ بیشک فرعون ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ ” یہ میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا ‘ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اے بیٹا بنا لیں “ اور وہ انجام سے بیخبر تھے۔

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا اگر ہم اس کا دل مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ وہ اس غصہ کو ظاہر کردیں غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں۔

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی بہن سے کہا کہ پیچھے پیچھے چلی جا۔ تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی ‘ اور ان لوگوں کو کچھ خبر نہ تھی۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر دائیوں کے دودھ حرام کردیے تھے۔ تو موسیٰ کی بہن نے کہا کہ ” میں تمہیں ایسے گھر والے بتائوں کہ تمہارے لیے اس بچے کو پالیں اور خیر خواہی سے اس کی پرورش کریں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

تو ہم نے اس طرح ان کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ‘ اور معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور پرورش کرنے پر ایک دینار روزانہ بھی ملتا تھا۔ اور یوں وہ فرعون ظالم و جابر اور اس کے درباری اللہ کی تدبیر کے سامنے بےبس ہوگئے اور ان کو پتہ تک نہ چلا کہ ان کے ساتھ کیا ہوگیا ہے۔ اصل میں بنی اسرائیل سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں ہجرت کر کے مصر میں آگئے تھے اور فرعون کو ان سے خطرہ تھا کہ کہیں بغاوت کر کے اس کا تختہ نہ الٹ دیں۔ اس لیے اپنی رعایا سے تو جو ظلم کرتا تھا وہ تو تھا ہی بنی اسرائیل کے ساتھ تو حد درجہ ظلم و ستم کرتا تھا اسی سلسلہ کی یہ کڑی تھی کہ بنی اسرائیل کے گھر جو بچہ پیدا ہوتا اسے قتل کردینے کا حکم تھا۔ اگر بچی پیدا ہوتی تو قتل نہ کرتے۔ مقصد یہ تھا کہ ان کو انتہائی ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر اپنے آپ سے دور کردیا جائے یعنی ان کی اپنی قومی انفرادیت بالکل ختم کردی جائے۔ مگر اللہ کی مرضی یہ تھی کہ اولاد یعقوب کو ظلم و ستم سے نجات دلا کر وہاں کا سردار بنا دیا جائے اس کے بارے میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں خاص طور سے اللہ کی حکمت ‘ تدبیر اور حق کی مدد کو نمایاں کیا گیا ہے اور آئندہ کامیابیوں کی بشارت دی گئی ہے۔ تاکہ نبی اکرم ﷺ مطمئن اور مضبوط رہیں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے بندے کی تدبیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور حق کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑ دیتا۔ اس کے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی جوانی اور ہجرت کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جو اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
Ayahs 28:14–21

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ جوانی کو پہنچے اور بھر پور جوان ہوگئے تو ہم نے ان کو علم اور حکمت عطا کیا اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسیٰ کی قوم کا اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا تو جو شخص اس کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو دشمنوں میں سے تھا اس کے خلاف مدد طلب کی تو انہوں نے اس کو مکہ مارا اور اس کا کام تمام کردیا ‘ کہنے لگے کہ یہ ہوا شیطان کے کام سے بیشک وہ انسان کا دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولے کہ ” یارب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے تو مجھے بخش دے “ تو اللہ نے ان کو بخش دیا ‘ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

بولے ” اے رب العزت ! تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں آئندہ کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا۔

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے، تو اچانک وہی شخص جس نے کل مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے ‘ موسیٰ نے اس سے کہا کہ ” تو تو صریح گمراہی میں ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ یعنی موسیٰ کی قوم کا آدمی بول اٹھا ” کہ جس طرح تو نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا ‘ اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے کہ نیکوکاروں میں ہو۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” موسیٰ شہر کے رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

موسیٰ وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے اور دعا کرنے لگے کہ ” اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔

ظلم کے خلاف جہاد ہجرت اور مدین میں قیام تشریح : جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو بڑے خوبصورت پڑھے لکھے باشعور ‘ پاکیزہ ‘ نیک ‘ نرم دل ‘ متقی اور پرہیزگار جوان تھے۔ ملک میں چاروں طرف پھیلا ہوا ظلم و ستم ان کو کسی صورت بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے حاکم اور وزراء کی پالیسی یہ تھی کہ رعایا کی بجائے اپنے تاج و تخت کی زیادہ فکر کی جائے تو اس کے لیے ان کو یہ پالیسی زیادہ پسند تھی کہ رعایا کو آپس میں کسی نہ کسی طرح لڑائے رکھو تاکہ وہ حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف نہ متوجہ ہوں اور نہ ہی احتجاج کریں بس آپس میں ہی لڑتے مرتے رہیں۔ اس لیے ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہ تھی اور خاص طور سے بنی اسرائیل کیونکہ باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے اس لیے ان پر تو حد سے زیادہ ظلم و زیادتی کی جاتی تھی سیدنا موسیٰ ان کو دیکھ کر بہت پریشان ہوتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ غلطی سے ایک قبطی کا قتل ان سے ہوگیا تھا جو کہ شیطان کا کام ہی لگتا تھا۔ بہرحال آپ نے اس پر توبہ استغفار کیا مگر حکومت کی طرف سے پکڑ کے خوف سے آپ وہاں سے ہجرت کر گئے آگے ملاحظہ ہو :