27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طٰسۗ۔ یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز قائم کرتے زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کے لیے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگردان پھر رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بھی بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم دونوں کی ذہانت کے مطابق مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ مثلاً دن اور رات کا بدلنا۔ بدو اور جاہل انسان اس سے کام اور آرام پھر دن تاریخ اور مہینے کا تعین کرتا ہے جبکہ ایک عالم فاضل سائنسدان دن رات کے ردو بدل سے بیشمار سائنسی نکات نکال لیتا ہے مثلاً سورج چاند اور زمین کا فاصلہ اور ان کا عمل اور ان کے وہ تمام اثرات جو انسان حاصل کرتا ہے۔ اور پھر ان کی بنیاد پر کئی ایجادات کرلی گئیں جو لوگوں کی سہولت اور آسانی کا باعث بنتی ہیں۔ یوں کہنا درست ہے کہ قرآن کی ہدایت مومنین کے لیے بشارت اور ہدایات کا مجموعہ ہے۔ مومن کی تعریف اللہ رب العزت یوں فرماتا ہے کہ وہ نماز ‘ زکوٰۃ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق خوشدلی اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا ہے اور پھر آخرت پر مکمل طور پر یقین رکھتا ہے۔ آخرت پر یقین اصل میں انسان کو بہترین انسان بناتا ہے۔ جب تک ایک طالب علم کو یہ یقین نہ ہو کہ جو کچھ وہ پڑھ رہا ہے اس کا نتیجہ اس کو ملے گا اور پھر اسی نتیجہ پر اس کی آئندہ زندگی کی ترقیوں اور کامیابیوں کا انحصار ہے۔ اس وقت تک اس محنت ‘ توجہ اور کوشش میں وہ زور پیدا نہیں ہوسکتا جس کی اس کو اصل میں ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہمیں پتہ ہے کہ یہ دنیا عمل کرنے کی عارضی جگہ ہے مگر وقت بہت قیمتی ہے جیسے ہی یہ وقت ختم ہوگا ہم دنیا کو چھوڑ کر اپنے اعمال کے ساتھ عالم برزخ میں چلے جائیں گے پھر حساب کے دن اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ پھر اپنے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہمیشہ کے لیے یا جنت ملے گی یا دوزخ۔ ایسے میں کون بیوقوف ہوگا جو نیکی کے راستہ کو چھوڑ کر شیطان کی راہ پر چلے گا۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی نعمت ان کو دی گئی ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ بیشک یہ بہت بڑی نعمت اللہ کی طرف سے انسان کو دی گئی ہے۔ اس اللہ کی طرف سے جو بڑی حکمت والا بھی ہے اور بہت زیادہ علم والا بھی ہے۔ اس کی حکمت اور اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے میں دکھائی دیتا ہے۔ بس اس کو دیکھنے ‘ پرکھنے کے لیے نظر کی ضرورت ہے اور خلوص کی ضرورت ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ؎ کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق (علامہ ڈاکٹر اقبال)
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں رستے کا پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارہ تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ وہ جو آگ میں ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے پاک ہے۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ میں ہی اللہ غالب اور دانا ہوں۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈال دو ! جب اس (موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو سانپ کی طرح ہل رہی تھی ‘ تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ‘ حکم ہوا کہ موسیٰ ڈرو مت ‘ ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں ! جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا، مہربان ہوں۔

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو بغیر کسی عیب کے سفید نکلے گا، (یہ دو معجزے) ان نو معجزوں میں سے ہیں جو کہ فرعون اور اس کی قوم کے لیے کہ وہ بدکردار لوگ ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا لیکن ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔