27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 27:54–59

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ” تم بےحیائی کے کام کیوں کرتے ہو ؟ اور حالانکہ تم دیکھتے ہو۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ بولے تو یہ بولے اس کے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا۔ کہ لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی مگر ان کی بیوی کے لیے ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

ہم نے ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو خبردار کردیا گیا تھا ‘ برا برسا تھا۔

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا ‘ بھلا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا :” بھلا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اللہ کا شریک بناتے ہیں ؟۔ (آیت 59 )
Ayahs 27:60–81

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ‘ اور کس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس سے سرسبز باغ اگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے ‘ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ ناانصافی کر رہے ہیں۔

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا ؟ اور اس کے اندر نہریں بنائیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے ‘ اور کس نے دو دریائوں کے درمیان اوٹ بنائی ؟ یہ سب کچھ اللہ نے بنایا تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر نہیں جانتے۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے ؟ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے۔ اور کون اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے ؟ اور کون تم کو اگلوں کا جانشین بناتا ہے ؟ (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ ہرگز نہیں مگر تم بہت کم غور کرتے ہو۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بتاتا ہے ؟ اور کون ہوائوں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہرگز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں اللہ کی شان اس سے بلند ہے۔

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کو لو ٹائے گا ‘ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) ۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہرگز نہیں) فرمادیں ( کہ مشرکو ! ) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

فرمادیں کہ آسمانوں اور زمین میں غیب (چھپی چیزوں) کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے ‘ بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں، ” جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے باپ دادا سے ہوتا چلا آیا ہے۔ ( کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

ان کے حال پر غم نہ کرنا اور نہ ان کی چالوں سے تنگ دل ہونا جو یہ کر رہے ہیں۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

فرمادیں کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی کر رہے ہو۔ شاید اس میں سے کچھ تمہارے پاس نزدیک آپہنچا ہو۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور آپ کا رب تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ مگر ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں ‘ آپ کا رب ان سب کو جانتا ہے

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر وہ کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

آپ کا رب قیامت کے روز ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا ‘ وہ غالب اور علم والا ہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں آپ کھلے حق پر ہیں۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

نہ اندھوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں۔ آپ تو انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں۔

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے ایک آدمی کا وزن سورج پر 54 گنا ہوجاتا ہے۔ کائنات کی یہ وسعتیں۔ افلاک کی بلندیوں میں سورج ‘ چاند ‘ ستارے یہ سب کس نے بنائے ہیں۔ جو انتہائی منظم طریقہ سے ہر وقت اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کروڑوں اربوں سال گزر گئے سب کچھ ویسے ہی بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا چلا جا رہا ہے۔ جبکہ انسان کے کیے ہوئے انتظامات آئے دن فیل ہوتے رہتے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کون کر رہا ہے ؟ تو ایک ہی جواب ملتا ہے۔ ” اللہ “۔ جو اکیلا ہے سب سے عظیم ہے۔ تو پھر ان کفار و مشرکین کی عقل پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ دیکھ کر جان کر ‘ استعمال کر کے پھر بھی اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں جن سے دعائیں مانگتے ہیں۔ جب کہ دعا قبول کرنا اور عنایات کرنا صرف اور صرف اللہ الہ العلمین کا ہی کام ہے۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ وہی تو ہے جو مصیبتوں میں ہماری دعائیں سنتا ہے اور پھر ان مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔ اور ہمارے لیے رزق پیدا کرتا ہے اور بیشمار آسانیاں اور سہولتیں دیتا ہے۔ کیونکہ اس نے ہمیں پیدا کیا تمام کائنات پیدا کی۔ غیب کا علم سوائے اللہ وحدہ ‘ لا شریک کے اور کسی کو نہیں۔ کیونکہ پیدا کرنے والا نشونما کرنے والا پھر مارنے والا اور پھر اس کے بعد دوبارہ زندہ کر کے حساب لینے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کفار و مشرکین تو اس لحاظ سے بالکل اندھوں کے برابر ہیں۔ آخرت پر نہ انکو یقین ہے نہ انکے آبا و اجداد کو یقین تھا اس لیے ان کو بتا دو اے پیارے نبی ﷺ ! کہ جس عذاب کے لیے یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ” لے آئو۔ “ وہ کوئی دور نہیں بلکہ قیامت عنقریب آنے والی ہے۔ اللہ کے علم میں اس کا وقت موجود ہے۔ وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے تو تمہیں مہلت دے رکھی ہے۔ پیغمبر بھیجتا رہتا ہے اور اب آخری کتاب قرآن مجید تمہاری نجات کے لیے بھیجی ہے جو ہر صورت تمہارے لیے رحمت ہی رحمت ہے۔ اگر تم نبی پر ایمان لے آئو قرآن کو غور سے پڑھو اس پر عمل کرو تو دنیا و آخرت اچھی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے قرآن کو رحمت کہا گیا ہے۔ اور پھر یہ بھی یقین رکھنا ضروری ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی بھیجی ہوئی نہیں بلکہ اس غالب اور حکمت والے کی طرف سے بھیجی گئی ہے جو ہماری اور ہماری تمام کائنات کا اکیلا خالق ومالک اور رازق ہے۔ وہ تمام کاروبار انتظامات کو خوب اچھی طرح جانتا اور چلاتا ہے۔ انگلستان کا ایک ماہر طبیعات جارج ارل ڈیوس کہتا ہے کہ ” میں مدت سے کائنات کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ایک ذرے سے لے کر آفتاب تک ہر جگہ ایک حیرت انگیز نظم ونسق پایا جاتا ہے۔ روشنی کی ہر شعاع ‘ قطرہ شبنم کی ہر لرزش اور ہر کیمیائی اور فطری تغیر پابند آئین ہے۔ یہ امر ناقابل تصور ہے کہ یہ نظم و ضبط اور یہ ترتیب کسی ناظم کے بغیر خود بخود وجود میں آگئی ‘ انسانی بدن میں کان ‘ آنکھ ‘ دل ‘ جگر اور دماغ اس قدر پر اسرار اور پیچیدہ مشینیں ہیں کہ انسان انہیں سمجھ تک نہیں سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا خالق کون ہے ؟ جواب ایک ہی ہے۔ ” اللہ “۔ (از خدا موجود ہے صفحہ 1 ) پھر آخر میں اللہ رب العزت اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتے ہوئے یہی فرماتا ہے۔ ” تو تم اللہ پر بھروسہ رکھو تم تو کھلے حق پر ہو۔ “ 79 کچھ شک نہیں کہ تم مردوں (مشرکین) کو بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو۔ “ 80 اور پھر فرمایا کہ ” تم تو انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں۔ “ (81 النمل)
Ayahs 27:82–93

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا، بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس روز ہم ہر امت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی جماعت بندی کی جائے گی۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو اللہ فرمائے گا کہ ” کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلا دیا تھا ؟ اور تم نے اپنے علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا۔ بھلا تم کیا کرتے تھے ؟۔

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کے سبب ان کے حق میں عذاب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ تو وہ بول بھی نہ سکیں گے۔

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو اس لیے بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا ہے کہ اس میں کام کریں بیشک اس میں مومن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘ سب گھبرا اٹھیں گے مگر وہ جسے اللہ چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے۔

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ اپنی جگہ پر کھڑے ہیں مگر وہ اس روز اس طرح اڑتے پھریں گے جیسے بادل یہ اللہ کی حکمت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بیشک وہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ تیار ہے اور ایسے لوگ اس دن گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے۔

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے۔ تم کو تو انہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

فرمادیں مجھے یہی کہا گیا ہے کہ اس شہر مکہ کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم اور ادب کا مقام بنایا اور سب چیز اسی کی ہے۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا فرمانبردار رہوں۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدہ کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو فرمادیں کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور فرمائیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لوگے اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا رب ان سے بیخبر نہیں ہے۔

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں فرماتے ہیں : کہ تشریح کرتے وقت ہمیں چاہیے کہ قرآنی نص اور صحیح احادیث پر اکتفا کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ علامات قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ زمین میں سے اس قسم کا جانور نکلے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب توبہ کے دروازے بند ہوچکے ہوں گے ‘ اب جو لوگ جس عقیدے اور جس حالت میں ہوں گے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس وقت یہ جانور نکلے گا یہ ان کے ساتھ بات کرے گا۔ جب کہ جانور بات نہیں کرتے۔ یا ہم ان کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ لیکن آج سب لوگ اس جانور کی بات سمجھیں گے۔ اور سمجھ لیں گے کہ یہ نشانی ہے جسے قیامت سے قبل آنا تھا۔ اس سے قبل وہ آیات الٰہیہ پر ایمان نہ لاتے تھے نہ ان کی تصدیق کرتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سورة النمل میں ایسے مشاہدات اور عجائبات کا ذکر ہے مثلاً حشرات الارض کی آپس میں گفتگو ‘ طیور کی گفتگو اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا ان کی گفتگو کو سمجھنا۔ اسی ضمن میں دابۃ الارض اور لوگوں کے ساتھ اس کی گفتگو مضمون کلام کی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ اس طرح قرآن کریم کی ہر سورت میں مناظر ‘ مثالیں اور مضامین و مفاہیم و معانی بھی باہم متناسب بیان ہوئے ہیں۔ دابہ کے بارے میں مکمل طور پر معلوم نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ بس جتنا قرآن میں بیان کیا گیا ہے اسی پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قیامت کا وقت تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں بس اس کے بارے میں بڑی سخت دہشت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ بار بار اس دن کی سختی کا ذکر قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کی قبل از وقت اطلاع دی گئی ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے سے تیاری کرلو۔ پھر مہلت کا وقت گزر جائے گا۔ یہاں قیامت اور روز حشر کا نقشہ بڑا ہی ہولناک کھینچا گیا ہے۔ تو بندوں کو چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں شکر ادا کریں اور توبہ کریں۔ اور پھر ایک سچے اور پکے مسلمان کے کردار کی تعریف کی گئی ہے۔ اور مسجد الحرام کی عظمت کی تعریف کی گئی ہے۔ پھر اللہ کو مالک و خالق ماننا اسی کی عبادت کرنا۔ آخرت پر یقین رکھنا اور اس بات پر پختہ یقین رکھنا کہ اعمال سے اللہ ہرگز بیخبر نہیں بلکہ وہ علیم وخبیر ہے۔ (آیت :93 ) خلاصہ سورة النمل سورة نمل معرفت الٰہی یعنی اللہ کو پہچاننے، عبادت صرف اللہ کو لائق ہے، اس کے بھیجے گئے رسول کی عزت و احترام اور فرمانبرداری کے طریقے ‘ اللہ کی بھیجی گئی کتاب کی تلاوت ‘ غور اور پھر عمل کرنے کی ترغیبات سے بھری ہوئی ہے۔ کیونکہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ صراط مستقیم اپنا کر بہترین زندگی گزاری جائے صراط مستقیم کی پہچان قرآن مجید سے ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ تمام آسمانی کتابوں کا مجموعہ اور بہترین کتاب ہدایت ہے۔ اسی لیے اسے آخری کتاب کہا گیا ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ رحمن و رحیم ‘ علیم وخبیر نے خود اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ جو بھی اس کو غور اور توجہ سے پڑھے گا بہترین انسان بن جائے گا۔ مسلم بننے کے لیے قرآن مجید کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ کے حکم سے فرمایا۔” اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمان بن کر رہوں اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں۔ “ (آیات 92 - 91 سورة النمل) غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کے لیے بھی تلاوت قرآن ضروری تھی۔ کیونکہ اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ (1) تلاوت قرآن سے روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ (2) پیغمبر کیونکہ مسلمانوں کے لیے عملی زندگی کا نمونہ ہوتا ہے۔ اس لیے تلاوت قرآن پاک ضروری تھی۔ (3) جب پیغمبر کو تلاوت قرآن کا حکم ہے تو امتی کیسے اس حکم سے علیحدہ رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر تلاوت فرض ہے۔ (4) کسی بھی عبادت کو سمجھنے کے لیے تلاوت قرآن بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ بار بار پڑھنے سے قرآن کی تاثیر انسان کو ضرور متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے دل میں نرمی اور لطافت و سرور پیدا ہوتا ہے۔ جس سے جہالت اور بےعلمی دور ہونے لگتی ہے اور اس طرح دل میں ہدایت کا نور مزاج میں یاد الٰہی ‘ حب الٰہی اور قرب الٰہی پیدا ہونے لگتا ہے اور یوں قرآن کے مضامین آسان ‘ دلچسپ اور پُر اثر دکھائی دینے لگتے ہیں تلاوت کرنے والے اور سننے والوں کی دلی حالتوں کا اللہ تعالیٰ یوں ذکر کرتے ہیں۔ ” جب اللہ رحمن کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے ہیں۔ (آیت :58 مریم آیات سجدہ) قرآن پاک کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ بار بار پڑھنے کی کتاب ہے۔ جب بھی پڑھو نئے نئے خزانے حاصل کرو اور دنیاو آخرت میں سکون ہی سکون حاصل کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان دنیا کی کسی چیز کو اللہ کے برابر نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی چیز سے اس قدر محبت اور دلی لگائو رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی سے وہ اس قدر ڈر اور خوف رکھتے ہیں جس قدر کہ وہ اللہ سے رکھتے ہیں اور نہ کسی کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ وہ کسی کے رتبہ ‘ امارت یا پوزیشن سے مرعوب نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ دنیاوی عیش و آرام مال و دولت اور عزت و احتشام کے پیچھے اندھا دھند بھاگتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ تبارک تعالیٰ کے احکام کو سامنے رکھتے ہیں اور یوں مطمئن زندگیاں گزارتے ہیں۔ وہ اللہ سے راضی اور اللہ ان سے راضی۔ الحمدللہ کہ سورة النمل مکمل ہوئی۔