27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 27:15–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داود اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت بخشی۔

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داود کے وارث بنے اور کہنے لگے ” لوگو ! ہمیں اللہ کی طرف سے جانوروں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہر چیز عنایت کی گئی ہے بیشک یہ اس کا صریح فضل ہے۔

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے جنوں ‘ انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ جماعت وار کیے گئے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو سلیمان اس کی بات سے مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے اے پروردگار ! مجھے تو فیق عطا کر کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں انکا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور جب انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کیا سبب ہے کہ ُ ہد ُ ہد نظر نہیں آتا کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ؟

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنے بےقصور ہونے کی) واضح وجہ بیان کرے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ُ ہد ُ ہد آموجود ہوا اور کہنے لگا کہ ” مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس اس شہر سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور اسے ہر چیز میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستہ سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

اور کیوں نہیں وہ اللہ کو سجدہ کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا ہے اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ” اچھا ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے ؟

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

ملکہ نے کہا کہ ” دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ : شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

اس کے بعد یہ کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آئو۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

خط سنا کہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو ( اور مشورہ نہ دو ) میں کسی کام کا فیصلہ کرنے والی نہیں۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور اور جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے جو حکم آپ دیں اس کے انجام پر آپ غور کرلیں۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے۔

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان کی طرف کچھ تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتا ہے ؟

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب قاصد سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ اپنے تحفے سے تم ہی خوش ہوتے ہو گے۔

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر حملہ کریں گے جن کے مقابلہ کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ” اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے۔

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک مضبوط جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لا حاضر کرتا ہوں اور مجھے اس پر قدرت بھی حاصل ہے اور میں امانتدار بھی ہوں۔

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں، جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھے ہوئے دیکھا تو کہا کہ ” یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بےپرواہ اور کرم کرنے والا ہے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ (ملکہ کی عقل کے امتحان کے لیے) اس کے تخت کی صورت بدل دو ‘ دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو سوجھ نہیں رکھتے۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا ” کیا آپ کا تحت بھی اسی طرح کا ہے “ ؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہوبہو وہی ہے اور ہم کو پہلے ہی سلیمان کی عظمت اور شان کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں۔

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش کرتی تھی ‘ سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا اس سے پہلے تو وہ کافروں میں سے تھی۔

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

پھر اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے جب اس نے اس کے فرش کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا ‘ اور کپڑا اٹھا کر اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا ” یہ ایسا محل ہے جس کے نیچے بھی شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ ” رب العزت میں اپنے اوپر ظلم کرتی رہی تھی اور اب میں سلیمان کے ہاتھ پر رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا مقابلہ کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہ وحشم ‘ مال و دولت ‘ عزت ووقار سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ مگر یہ سب بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ جو تو ان کو پاکر شکر بجا لائے جیسے سیدنا سلیمان (علیہ السلام) ہر وقت اس کی تسبیح و تقدیس اور ذکر و شکر میں مصروف رہتے تو وہ اللہ کے مقبول ترین بندے شمار ہوئے اور انہوں نے ذکر و شکر کی بدولت دنیا و آخرت میں اپنے لیے بڑے مقامات حاصل کرلیے جب کہ فرعون نے اسی مال و دولت ‘ عزت و طاقت کو غرور کا نشان بنا لیا اور خود کو خدا بنا بیٹھا تو اس کو اس جرم کی سزا دنیا میں مل گئی اور آخرت میں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ بےحد نصیحت آموز اور دلچسپ ہے۔ آپ کو حکومت اور نبوت دونوں ملیں۔ حکومت ایسی کہ نہ پہلے کسی کو ملی تھی نہ بعد میں کسی کو ملے گی اس لحاظ سے کہ انسان جنات حیوان چرند پرند اور ہوائیں بھی آپ کے تابع فرمان تھیں مگر آپ انتہائی منکسر المزاج اور صابر و شاکر اور پکے مومن تھے۔ نیکی کے تصور میں یہ چیزیں آتی ہیں۔ ایمان ‘ عبادات ‘ صبر ‘ شکر اور معاملات۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) میں یہ تمام چیزیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سی اخلاقی اچھائیاں موجود تھیں۔ اور وہ دنیا میں بڑے بہترین حاکم اور نبی گزرے ہیں۔ ان کی مثال سامنے رکھتے ہوئے زندگی کے اصول بنانے چاہییں۔
Ayahs 27:45–53

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا کہ اے قوم ! تم بھلائی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی کرتے ہو اور اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں صالح نے کہا کہ تمہاری بد شگونی اللہ کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو فساد کیا کرتے تھے زمین میں اورا صلاح سے کام نہیں لیتے تھے۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اللہ کی قسم کھائو کہ ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شبخوں ماریں گے پھر اس کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت وہاں گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم نے ان کی چال انہیں پر لوٹا دی اور وہ کچھ شعور نہیں رکھتے تھے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا کیسا انجام ہوا ؟ ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کی وجہ سے خالی پڑے ہیں۔ جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانی ہے۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی۔

قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔ شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت مقرر پر ان پر اتنا شدید زلزلہ آیا کہ پوری بستی نیست ونابود ہوگئی۔ اب اس پر کئی لوگ حجت کرتے ہیں کہ زلزلہ قدرتی آفات میں سے ایک ہے اس کو عذاب کیوں کہا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آج اس قدر ترقی کر چکنے کے بعد بھی زلزلہ کی نشاندہی اس قدر یقینی نہیں ہوسکتی جیسا کہ سیدنا صالح (علیہ السلام) نے صاف بتا دیا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ حکیم و دانا ہے قدرتی آفات کا آنا اللہ کے حکم اور قدرت میں ہے وہ جب چاہے جہاں چاہے آفت نازل کرسکتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور معافی مانگتے رہنا چاہیے تاکہ جو بھی غلطی ہو معاف ہوجائے لیکن جو لوگ بجائے معافی مانگنے کے الٹا گناہ و نافرمانی پر ڈٹے رہتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے پروگرام کے مطابق وقت مقرر پر زمین کو گنہگاروں کی غلاظت سے صاف کرنے کے لیے ان پر یکدم ایسا عذاب ڈالتا ہے کہ پھر سنبھلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ اس لیے اہل عرب بلکہ تمام کفار و مشرکین کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن کی یہ خبر کہ ” عذاب آجاتا ہے۔ “ نہ جھوٹی ہے اور نہ بےبنیاد۔ بلکہ جب ان تباہ شدہ بستیوں کو دیکھتے ہو اور ان کے بارے میں قرآنی تفصیلات پڑھتے ہو تو سوچ لو تم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہوسکتا ہے۔ اس لیے وقت ہے خبردار ہوجاؤ۔ اسی طرح سیدنا لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔