28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 28:47–64

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ ” اے رب تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ ” جیسی نشانیاں موسیٰ کو ملی تھیں ویسی اس کو (محمد ﷺ کیوں نہیں ملیں۔ “ کیا جو نشانیاں پہلے موسیٰ کو دی گئی تھیں انہوں نے ان سے کفر نہیں کیا ؟ کہنے لگے کہ ” دونوں جادو گر ہیں ایک دوسرے کے موافق اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں۔

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

فرمادیں کہ اگر سچے ہو تو تم اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں۔

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ آپ کی بات نہ مانیں تو جان لیں کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں ‘ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے در پے ان لوگوں کے پاس ہدایت کی باتیں بھیجتے رہے تاکہ نصیحت پکڑیں۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آئے۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب قرآن ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے فرمانبردار ہیں۔

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا۔ کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں۔” کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے چاہنے والے نہیں ہیں۔

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) آپ جس کو دوست رکھتے ہیں اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ” اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں۔ “ کیا ہم نے ان کو حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جو امن کا مقام ہے وہ جگہ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں اور یہ رزق ہماری طرف سے ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالاجو اپنی خوشحالی پر اترا رہے تھے۔ سو یہ ان کے مکانات ہیں جو ان کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے ‘ اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس وقت کہ وہاں کے لوگ ظالم ہوں۔

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیزتم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے ‘ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلاجس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے دیے پھر وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں ہو جو ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے رب یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ان کو بھی گمراہ کیا تھا ‘ اب ہم تیری طرف متوجہ ہو کر ان سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلائو۔ تو وہ ان کو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو تمنا کریں گے کہ ” کاش وہ ہدایت پالیتے۔

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن یہ الزام نہ لگے کہ ہمیں تو پتہ ہی نہ چلا۔ اصل میں انسان کامل کی صفت یہ ہے کہ وہ گمراہی سے بچ کر نیکی کی راہ اختیار کرلیتا ہے لیکن ایک خبیث فطرت انسان اس وقت تک نیکی اختیار نہیں کرسکتا جب تک میدان حشر میں اس کا سامنا اپنے اعمال کے مطابق دوزخ سے نہ ہوجائے۔ اور وہ وقت صرف افسوس کرنے کا ہوگا۔ جو لوگ انسان کامل ہیں یعنی ان کے اندر چار اخلاقی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ حکمت ‘ شجاعت ‘ عفت اور عدالت۔ تو ایسے لوگ نیکی بدی کا فرق بہت جلد سمجھ جاتے ہیں اور پھر اس کو اپنانے کے لیے ان کو زیادہ مشکل پیش نہیں آتی وہ بڑی جرأت سے باپ دادا کے غلط راستوں کو چھوڑ کر نیکی اور سعادت کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ان اخلاقی صفات سے محروم ہوتے ہیں وہ بھٹکتے رہتے ہیں اور سعادت مند لوگوں پر الٹے سیدھے اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ احساس کمتری کا شکار ہو کر ہر قسم کا گناہ بڑی خوشی سے کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر گناہوں اور بدکرداریوں کا خزانہ لیے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ تو ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ نے پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ جو اہل ایمان ہیں وہ صبر کرتے ہیں۔ برائی کو دور کرتے ہیں۔ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ بیہودہ گفتگو اور کاموں سے دور رہتے ہیں۔ شرو فساد سے بچتے ہیں۔ فارابی ایک عظیم مفکر اور سائنسدان قدرت کے نظام کی یوں تعریف کرتے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ اس دنیا کا منتظم اور مدبر ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ حق کی طرف رجوع کرے اور اللہ کا فرمانبردار بندہ بن جائے۔ پاکیزہ اور فطری زندگی یہ ہے کہ انسان تفکر اور تدبر سے کام لے وہ اس جاہلانہ زندگی کو ترک کر کے سعادت کی طرف لوٹ آئے۔ صحیح تفکر اور تدبر ‘ پاکیزہ خیالات ‘ اعمال صالح ‘ حسن اخلاق انسان کے دل و دماغ کو روشن کردیتے ہیں اللہ کی عظمت کا اظہار ‘ نماز ‘ روزہ ‘ تسبیح و تقدیس اور اعمال صالح اس کی زندگی کو پاکیزہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ بزرگ و برتر اس بندے سے خوش ہوتا ہے اور موت کے بعد وہ عظیم الشان صلہ کا مستحق ہوتا ہے۔ “ (از مسلمان سائنسدان اور ان کی خدمات مصنف ابراہیم عمادی) اوپر بیان کیے گئے اخلاقی اوصاف کے علاوہ جو بھی زندگی ہوگی وہ قابل سزا زندگی ہوگی۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا مگر جو خود اپنے اوپر ظلم کرے تو اس کو سزا ضرور ملے گی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن میں آیا ہے۔ ” اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش وہ ہدایت پالیتے۔ “ (آیت :64 القصص)
Ayahs 28:65–70

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس دن خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ بھی نہ پوچھ سکیں گے۔

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کیے تو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو۔ (

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے برگزیدہ کرلیتا ہے ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں اللہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ چھپاتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں آپ کا رب اس کو جانتا ہے۔

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اسی کی تعریف ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

میدان حشر میں پوچھ گچھ اور اللہ کی قدرتیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا گیا ہے کہ حشر کے میدان میں کفار و مشرکین حیران و پریشان بےسہارا سخت بےبسی کے عالم میں ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی بچانے ولا ان کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ” جب ہم نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا اور پیغمبر نے ان کو حق کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنی عقلوں سے کیوں کام نہ لیا ؟ اور کیوں اندھوں کی طرح ہمارے پیچھے لگ گئے ؟ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں یہ جانیں اور ان کا کام۔ “ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو یہ سوچ سمجھ کر دوسرے کی بات ماننی چاہیے۔ کہ آیا یہ راستہ ہمارے لیے دوزخ کا راستہ تو نہیں ؟ جو لوگ آج اس دنیا میں اتنی سمجھ رکھتے ہیں تو وہ اپنے گزرے ہوئے یا ناسمجھی میں کیے گئے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو آخرت کے لیے وقف کردیتے ہیں تو ایسے ہی مقبول الٰہی لوگ اللہ کی عظمت کو پہچانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ کار مختار قادر مطلق صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ کیونکہ کوئی طاقت ایسی نہیں کہ جو اس کی طرح انسان کو اور تمام کائنات کو پیدا کرسکے۔ اور ہر مسلم یہ جانتا ہے کہ دنیا و آخرت کے تمام معاملات اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور اسی کی طرف مرنے کے بعد سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ ہی برتر وبالا ہے۔
Ayahs 28:71–75

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کی تاریکی کیے رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لا دے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

فرمادیں تو بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن کیے رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لا دے جس میں تم آرام کرو ‘ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟۔

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ ” میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعویٰ تھا کہاں ہیں۔

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک امت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات اللہ کی ہے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔

اللہ کی برتری کی نشانیاں تشریح : یہ تمام باتیں اللہ کی نشانیاں ‘ اس کی رحمتیں ‘ برکتیں اور فضل و کرم جو اس نے انسانوں کی سہولیات کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ عقل مند ‘ سوجھ بوجھ رکھنے والے اور نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ کی راہ اختیار کرنے اس کو معبود برحق ماننے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر راہبری اور ہدایت کے لیے ہر امت میں سے رسول ‘ نبی اور پیغمبر بھیجے گئے۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کی راہبری کریں۔
Ayahs 28:76–85

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور ان پر ظلم کرتا تھا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اسکی قوم نے کہا کہ اتنا اترائو نہیں بیشک اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو مال تم کو اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کرو اور دنیا میں اپنا حصہ مت بھلائو۔ اور جیسی بھلائی اللہ نے تم سے کی ہوئی ہے ویسی بھلائی تم بھی لوگوں سے کرو اور ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد پھیلانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ ” یہ مال مجھے میری دانش مندی سے ملا ہے۔ کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر تھیں اور تعداد میں اس سے زیادہ تھیں ‘ ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو ایک دن قارون بڑی آرائش اور ٹھاٹھ سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ ” جیسا مال و متاع قارون کو ملا ہے ‘ کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی خوش نصیب ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ ” تم پر افسوس ‘ مومنوں اور نیکو کاروں کے لیے جو ثواب اللہ کے پاس تیار ہے وہ کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے قارون اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ تو اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اس کے رتبہ کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ” ہائے شامت ! اللہ ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ‘ ہائے خرابی ! کافر نجات نہیں پاسکتے۔

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ جو آخرت کا گھر ہے ہم نے اسے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر صلہ موجود ہے ‘ اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کیے ان کو بدلہ بھی اسی طرح ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے۔

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) جس اللہ نے آپ پر قرآن کے احکام کو فرض کیا ہے وہ آپ کو بہترین جگہ لوٹا دے گا۔ فرمادیں کہ میرا رب اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اس کو بھی جو صریح گمراہی میں ہے۔

قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں زندگی بس یہی ہے کہ اللہ سے بالکل بےنیاز ہو کر اس کے نیک بندوں کی بجائے مدد کرنے کے خوب مخالفت کی جائے۔ اور دولت کے نشے نے اسے نیکی بدی کے فرق کا بھلادیا تھا اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لانے کی بجائے وہ شیطان کا ساتھی بن گیا۔ لوگ اس کی دولت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یہ بھی بھول جاتے تھے کہ یہ تو صرف آزمائش ہے اور فنا ہوجانے والی چیز ہے جبکہ نیکی ‘ بھلائی اور تقوٰی ہی بہترین اعمال ہیں۔ کیونکہ جب آخرت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو صرف یہی نیک اعمال ہی ہمیں اللہ کی قربت اور جنت کا وارث بنائیں گے۔ اور پھر بہت بڑا فرق یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی ہر صورت ختم ہوجانے والی ہے جبکہ آخرت کی زندگی ہرگز ختم نہ ہوگی بلکہ وہ زندگی ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی زندگی ہوگی۔ آج کا مسلمان اس عقیدہ سے بالکل بیخبر ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ہر لمحہ کا حساب کتاب دینا ہے۔ وہ صرف مال و دولت کے اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ اس قدر مصروف ہے کہ نہ اسے اللہ یاد ہے اور نہ اللہ کے بتائے ہوئے زندگی گزارنے کے بہترین اصول۔ وہ اصول مختصراً یوں ہیں۔ (1) شرک سے بچو۔ (2) اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے ذریعے آخرت کی بھلائی تلاش کرو۔ (3) دنیا سے بغیر اعمال صالحہ کے خالی ہاتھ نہ جاؤ۔ (4) دنیا میں فساد مت پھیلائو۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور احسان کا رویہ رکھو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ بھلائیاں کی ہیں۔ (5) غرور نہ کرو کہ اللہ کو ناپسند ہے۔ (6) ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔ تکلیف میں بھی اور راحت میں بھی کیونکہ یہ دونوں اللہ کی طرف سے آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ اور یہی فرق ہے کافر اور مومن میں۔ کہ مومن ہر صورت شکر ادا کرتا ہے جبکہ کافر ہر چیز کو اپنی محنت کا ذریعہ سمجھتا ہے کہ کبھی بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے جو تکبر ‘ غرور اور بےدینی کی اور غفلت کی زندگی گزارتے ہیں قارون کا قصہ عبرت کا باعث ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے غرور کا مزہ دنیا میں یوں چکھایا کہ اس کو اس کے ساتھیوں ‘ پورے خزانے مال و دولت سمیت یوں زمین میں غرق کردیا کہ اس کا نام و نشان ہی مٹ گیا اور عبرت کے لیے صرف اس کا قصہ باقی رہ گیا۔ آخرت میں تو اللہ کو معلوم کہ قارون کو کیا عذاب ہوگا البتہ اس کا تصور ہم قرآنی آیات کی روشنی میں بڑی اچھی طرح کرسکتے ہیں۔ فساد کی تعریف یہ ہے کہ عقیدے کا فساد ہو یا عمل کا کوئی کفر وشرک کرے یا فسق و فجور کرے قیامت کے دن سزا ضرور پائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ جو ہوس اقتدار میں مبتلا نہ ہو بلکہ خلوص سے نیک اعمال کرے تو اس کو ہر نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ دیا جائے گا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی سے وعدہ فرمایا کہ ” جس ذات پاک نے آپ پر قرآن نازل فرمایا اس کی تلاوت اور نشر و اشاعت کو آپ پر فرض کیا وہی آپ کی مدد فرما رہا ہے۔ ایک دفعہ آپ کو ہجرت کر کے مدینہ جانا پڑے گا۔ مگر پھر یہاں آپ کی واپسی اس شان و شوکت سے ہوگی کہ تمام دشمن آپ کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور ان کی قسمت کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ “ فرمایا ” اے نبی یقین جانو کہ جس ہستی نے یہ قرآن آپ پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام تک پہنچانے والا ہے۔ “ (القصص آیت : 85) اور یہ پیش گوئی 8 ھ سے 10 ھ تک سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ 8 ھ میں مکہ فتح ہوا۔ اور یہ فتح مسلمانوں کی بہترین فتوحات کی بنیاد بنی۔ 9 ھ میں حج فرض ہوا۔ اور اعلان کیا گیا کہ آئندہ کوئی مشرک اور غیر مسلم خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکے گا اور حج و طواف کا پرانا طریقہ بالکل ختم کردیا گیا۔ اور یہ مسلمانوں کے اقتدار کا واضح ثبوت تھا۔ غزوہ تبوک بھی 9 ھ میں ہی ہوا۔ 10 ھ میں تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار مسلمان حج میں شامل ہوئے۔ آپ ﷺ نے اس موقع پر اسلام کے سارے اصول سمجھائے۔ جاہلیت کی تمام رسموں ‘ شرک و کفر کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا اور امت کو الوداع کہا۔