28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 28:22–46

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے ” امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا رستہ بتائے۔

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے ہیں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں ‘ موسیٰ نے ان سے کہا ” تمہارا کیا کام ہے “ ؟ وہ بولیں کہ ” جب تک چراو ہے اپنے جانوروں کو لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو موسیٰ نے ان کے لیے بکریوں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے اور بولے ” پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک عورت جو شرماتی لجاتی چلی آرہی تھی موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ” تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اجرت دیں۔ “ جب وہ ان کے پاس آئے اور ان سے اپنا معاملہ بیان کیا تو انہوں نے کہا ” کچھ خوف نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ایک لڑکی بولی کہ ” اباجان ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے کہ جو توانا اور امانت دار ہو۔

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ ” میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس معاہدے پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو گے اور اگر دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے احسان ہے اور میں تم پر زیادتی کرنا نہیں چاہتا تم انشاء اللہ مجھے نیک انسانوں میں پائو گے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ ” آپ میں اور مجھ میں یہ عہد پکا ہوا میں جو مقررہ مدت چاہوں پوری کر دوں گا پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس پر گواہ ہے۔

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ ” تم یہاں ٹھہرو ‘ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے رستے کا کوئی پتہ لائوں یا آگ کا انگارہ لے آئوں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ ” موسیٰ میں تو اللہ رب العلمین ہوں۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہم نے کہا کہ ” موسیٰ آگے آئو اور ڈرو مت تم امن پانے والوں میں ہو۔

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔ اور خوف دور ہونے کی وجہ سے اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑ لو۔ یہ دو معجزے تمہارے رب کی طرف سے ہیں۔ ان کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے رب العزت ! ان میں سے ایک شخص میرے ہاتھوں قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھے مار نہ ڈالیں۔

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور ہارون میرا بھائی کہ اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ” ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے ‘ تم اور تمہاری پیروی کرنے والے غالب رہیں گے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ ” یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو کبھی سنی نہیں۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ ” میرا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لے کر آیا ہے اور جس کے لیے عاقبت کا گھر ( بہشت ہے) بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ” اے اہل دربار ! میں تمہارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا تو ہامان میرے لیے گارے کو آگ لگا کر اینٹیں پکا دو پھر ایک اونچا محل بنا دو تاکہ میں موسیٰ کے رب کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

وہ اور اس کے لشکر ملک میں خواہ مخواہ مغرور ہو رہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا میں ڈال دیا۔ سو دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لیے بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو آپ طور کی غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعہ کو دیکھنے والوں میں تھے۔

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے موسیٰ کے بعد کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ آپ مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ آپ اس وقت جب کہ ہم نے موسیٰ کو آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ آپ کا بھیجا جانا آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کریں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل سکتی تھیں۔ کیونکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ آپ سے صدیوں پہلے گزر چکا تھا۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رحلت کے بعد بیشمار نسلیں آئیں اور گئیں جو کتاب تورات آپ پر نازل ہوئی تھی کچھ مدت طویل گزرنے سے اور دنیاطلب لوگوں کی بدنیتی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے مضامین کے لحاظ سے کافی حد تک بدل دی گئی تھی یا ختم کردی گئی تھی یہاں تک کہ تورات میں آخری نبی ﷺ کی آمد کا جو ذکر کیا گیا تھا وہ بھی لوگوں کے ذہنوں سے بالکل مٹ چکا تھا۔ تو ایسے حالات میں یہ واقعہ جو آپ لوگوں کو پوری صحت کے ساتھ سنا رہے ہیں یہ سوائے وحی یعنی اللہ کی رہبری کے آپ کیسے سنا سکتے تھے تو یہ بھی آپ کے نبی ہونے کی ایک روشن دلیل ہے۔ اور پھر آیت :46 میں یہی وضاحت کی گئی ہے کہ یعنی اللہ نے آپ کو اس قوم کی طرف بھیجا ہے جس میں مدت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہدایت نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی بلکہ ہر طرف جہالت ‘ کفر ‘ شرک اور بدامنی کی فضا پھیلی ہوئی تھی۔ تو سیدنا محمد ﷺ کو اللہ نے اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ لوگوں کو ہدایت دیں اور ان کو حق و باطل کی پہچان کروائیں دوزخ سے ڈرائیں اور جنت کی خوشخبری دیں۔