Explained with ayahs 81–83
اللہ ہر چیز پر قادر۔
اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
سورة یٰسٓ 68
یا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختوں میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم لکڑیوں سے آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرْخ اور عَفَار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی تھی۔ قدیم زمانہ میں عرب کے بدّو آگ جلانے کے لیے یہی چقماق استعمال کیا کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(آیت) جعل لکم من الشجر الاخضر ناراً ، عرب میں دو درخت معروف تھے۔ ایک مرخ دوسرا عفار۔ عرب لوگ ان دونوں درختوں کی دو شاخیں مثل مسواک کے کاٹ لیتے تھے جو بالکل ہری تازہ پانی سے بھری ہوتی تھیں، ایک کو دوسری پر رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ ہرے درخت سے آگ پیدا کرنے میں اس طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) اور اگر درختوں کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو ہر درخت بھی اس کا مصداق ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت میں بظاہر یہی مراد ہے (آیت) افرءیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نحن المنشؤن، یعنی کیا تم اس آگ کو نہیں دیکھتے جس کو تم سلگا کر اپنے کام میں لیتے ہو کیا اس آگ سے شعلہ بننے والے درخت کو تم نے…
Read the full tafseer →آیت 81
اسی استبعاد کو ایک دوسرے پہلو سے رفع فرمایا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کردیا اور اس کو اس میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی کیا وہ ان کی جیس مخلوق کو دوبارہ پیدا کردینے پر قادر نہیں ہوسکتا ؟ یہ سوچیں کہ ان دونوں میں زیادہ مشکل کام کون سا ہے ؟ بلی وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اس سوال کا خود ہی جواب دیا ہے کہ ہاں، وہ پوری طرح قادر ہے کہ ان کو دوبارہ پیدا کردے۔ اس جواب سے مخاطب کے لئے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ کتنی ہی سخن سازیاں کرے۔ ’ وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے مذکورہ دعوے پر دلیل ہے کہ اصل پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا تو خدا ہی ہے۔ اوپر آیت 79 میں…
Read the full tafseer →81۔ 1 یعنی انسانوں جیسے مطلب انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا جس طرح انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، آسمان و زمین کی پیدائش سے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر استدلال ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ) (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 46۔ الاحقاف :33) ' آسمان و زمین کی پیدائش (لوگوں کے نزدیک) انسانوں کی پیدائش سے زیادہ مشکل کام ہے '۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
24: عرب میں دو درخت ہوتے تھے، ایک مرخ اور دوسرا عفار۔ اہل عرب ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، اور ان کو ایکد وسرے کے ساتھ رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ جس ذات نے ایک سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے، اس کے لیے دوسرے جمادات میں زندگی پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →اولیس الذی۔۔۔۔۔ الخلق العلیم (36: 81) ” کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کردیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے کیوں نہیں ! جبکہ وہ ماہر خلاق ہے “۔
آسمان اور زمین اور یہ وسیع کائنات تو ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اور اس میں لاکھوں ملین اجناس و اصناف مخلوقات موجود ہیں ، بعض اس قدر باریک کہ ہم ان کے حجم ہی کو نہیں پکڑ سکتے۔ نہ ہم ان کی حقیقت کو پاسکتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں آج تک ہم بہت کم جانتے ہیں۔ یہ زمین اس سورج کے کہکشاں میں سے ایک چھوٹا سا تابع سیارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس میں ہم سورج کی روشنی اور حرارت سے رہتے ہیں اور ہمارا یہ سورج جس کہکشاں کے…
Read the full tafseer →1 یعنی جس نے آسمان و زمین جیسی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں اسے ان کافروں جیسی چھوٹی چیزوں کا پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 81 { اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ } ”تو کیا جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ‘ وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسی مخلوق دوبارہ پیدا کر دے !“
یہاں پر یَخْلُقَ مِثْلَہُمْکے الفاظ میں ایک اہم مضمون بیان ہوا ہے جو اس آیت کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو ہم میں سے ہر ایک کو بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں دیا جائے گا بلکہ ”اس جیسا“ جسم دیا جائے گا۔ اس کی عقلی توجیہہ یہ ہے کہ انسان کا جسم تو اس کی زندگی میں بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں مسلسل تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →73 درختوں کے فائدے اور آگ کا حصول :۔ آسمانوں اور زمین جیسی عظیم مخلوق کو بھی دیکھ لو اور اپنے آپ پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو کہ ان کے مقابلہ میں تمہاری یا تم جیسوں کی کیا حیثیت اور حقیقت ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تو کیا تمہیں ہی وہ دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا حالانکہ وہ تخلیق کے تمام طریقوں کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →55۔ اول تو کہاں خلق اول، نیستی سے ہستی، عدم سے وجود میں لانا، اور کہاں حیات ثانی، اور پھر کہاں آسمان و زمین کا جثہ وجسامت اور کہاں انسان ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
آیت نمبر 68 تا 83
ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →اولیس الذی خلق السموت والارض بقدر علی ان یخلق مثکھم بلی وھو الخلق العلیم
اور جس نے آسمان کو ‘ زمین کو پیدا کیا ‘ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو (دوبارہ) پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں ‘ وہ بڑا پیدا کرنے والا (اور) خوب جاننے والا ہے۔
استفہام انکاری ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور تم کو اس بات کا اقرار بھی ہے تو جس نے اتنے عظیم الشان اجرام پیدا کئے ‘ وہ ان آدمیوں کی طرح پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔
مِثْلَھُمْ یعنی جتنے بڑے آسمان و زمین ہیں ‘ اتنے ہی چھوٹے یہ آدمی ہیں یا مثل ہونے سے مراد ہے اصول وصفات میں ایک جیسا ہونا۔
وَھُوَ…
Read the full tafseer →کیا آسمانوں و زمین کا خالق انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں یقینا وہ اس چیز پر قادر ہے وہ بڑا پیدا کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ : یہ دوبارہ زندگی کی تیسری دلیل ہے کہ آسمان اور زمین کو دیکھو، ان میں اللہ تعالیٰ نے جو عجیب و غریب اور عظیم الشّان چیزیں رکھی ہیں، انھیں دیکھو اور ان کے مقابلے میں انسان کو دیکھو، کیا اس عظیم آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اس ضعیف البنیان انسان کو پہلے یا دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا، کیوں نہیں ! وہ خلّاق بھی ہے اور علیم بھی۔ جب اس میں صفت خلق اور صفت علم پورے کمال کے ساتھ جمع ہیں تو پھر کون سا مردہ ہے جو وہ زندہ نہ کرسکے ؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر متنبہ فرمایا اور مردوں کو زندہ کرنے کے ساتھ اپنی کمال قدرت پر دلیل قائم کی ان چیزوں سے جنہیں وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ تر لکڑی سے ایسی چیز نکالی جو جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور خشک ہوتی ہے اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ کافر نے کہا : نطفہ زندگی کی طبیعت کی وجہ سے گرم تر ہے اور ہڈی موت کی طبیعت کی بنا پر ٹھنڈی اور خشک ہے تو اس سے زندگی کیسے نکلتی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فامیا کہ سبز درخت پانی سے جنم لیتا ہے پانی ٹھنڈا تر ہے جو آگ کی ضد ہے یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں اللہ تعالیٰ نے اس سے آگ کو پیدا کیا تو وہ اس پر قاد رہے کہ ضد کو ضد سے نکالے وہ ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ہڈی تھی اس نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑا پھر کہا اے محمد ﷺ اس کو اللہ تعالیٰ کیسے زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا) اور تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ، وھو بکل خلق علیم “ (آپ فرمادیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے )
بروز قیامت دوبارہ زندہ ہونا :
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →اَوَلَيْسَ الَّذِيْ [اور کیا وہ جس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [پیدا کی آسمانوں اور زمین کو ] بِقٰدِرٍ [قدرت رکھنے والا نہیں ہے ] عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ [اس پر کہ وہ پیدا کرے ] مِثْلَهُمْ ڲ [ان کے جیسا ] بَلٰى ۤ [کیون نہیں ] وَهُوَ الْخَــلّٰقُ [اور وہ بہت (کچھ) پیدا کرنے والا ہے ] الْعَلِـيْمُ [ہمیشہ (سب کچھ) جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمانے کی ایک اور دلیل ذکر فرمائی اور سوال کے پیرایہ میں فرمایا (اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ) (جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جیسے پیدا فرما دے) (بَلٰی وَھُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ) (ہاں وہ قادر ہے اور وہ بڑا پیدا کرنے والا ہے) جس ذات پاک نے اتنے بڑے بڑے آسمان بنا دئیے، اتنی بڑی زمین بنا دی اس کے بارے میں یہ کہنا کہ جب ہم مرجائیں گے تو وہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا، یہ سوال سراسر حماقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں
منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1)
قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…
Read the full tafseer →50:۔ اولیس الخ :۔ جس قادر و توانا اور قیوم و دانا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرلیا۔ کیا وہ انسانوں کو دوبارہ اپنی پہلو شکلوں پر پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں ! ضرور پیدا کرسکتا ہے جبکہ وہ ساری کائنات کا خالق اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ انما امرہ الخ : اس کے لیے کسی چیز کا پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں، بلکہ نہایت ہی آسان ہے۔ وہ جب کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے ارادہ کرتے ہی وہ چیز خلعت وجود پہن لیتی ہے اسی طرح انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے لیے صرف اس کا ارادہ کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔
انسان کی پیدائش
ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…
Read the full tafseer →اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ 0 ۭ ۬ بَلٰى 0 0 ۤوَہُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِـيْمُ 81
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا (…
Read the full tafseer →اولیس الذی خلق السمٰوٰت والارض بقادر علی ان یخلق مثلہم کہ کیا وہ شخص کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو بارو گر پیدا کرے ؟ بیشک پیدا کرسکتا ہے۔ متلھم ای مثل ھؤلاء الاناسی الذین ماتوا اوالمراد ھم علی سبیل الکنایۃ نحو مثلک لاینجل والمراد انت آپ ہی اس استفہام کا جواب دیتا ہے۔ بلی وھو الخلاق العلیم کیوں نہیں وہ خلاق ہر چیز پیدا کرسکتا ہے اور علیم بھی ہے، ہر قسم کے علوم اس کے آگے حاضر ہیں۔ قدرت بھی ثابت کی گئی علم بھی۔
اب کلام میں کوئی جگہ مخالف کے لیے باقی نہیں۔ کس لیے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے وجود کو مانتا ہے اور اس کو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا بھی جانتا ہے…
Read the full tafseer →اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ ط ص بَلٰی ق وَھُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۔ (یٰسٓ: 81)
(کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی جیسی مخلوق پیدا کردے، کیوں نہیں، اور وہی اصل پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ )
مسلَّمات سے دلیل
سابقہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے سوالیہ انداز میں فرمایا اور اس سوال کی بنیاد مشرکین کے مزعومات اور مسلَّمات پر رکھی۔ کیونکہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا بلکہ تمام کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور اس کے سوا کسی میں یہ قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور مشرک کے عقیدہ اور قیامت کے منکر کی سوچ سے اعلیٰ اور مبرّا ہے۔
مشرک کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنے وسیع و عریض نظام کو اکیلا نہیں چلا سکتا اس لیے اسے معاونین کی ضرورت ہے قیامت کا منکر اس لیے جی اٹھنے سے انکار کرتا ہے کہ ایسا ہونا اس کے نزدیک بڑا محال ہے۔ ایسے لوگوں کے نظریات کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی قوت وسطوت، اقتدار اور اختیار کا ذکر پورے جلال کے ساتھ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس ذات کے بارے میں ضعیف اور کمزور تصورات رکھتے ہو اس کے اقتدار واختیار کا عالم یہ ہے کہ ہر چیز کی بادشاہی اس کے پاس ہے وہی سب کا مالک اور خالق…
Read the full tafseer →آسمانوں کے خالق پر انسان کا اعادہ کیا مشکل ؟
81: اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (اور جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے ہیں کیا وہ) بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ (اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے آدمیوں کو پیدا کر دے) مثل کا مطلب آسمان و زمین کے مقابلہ میں ان جیسے چھوٹے چھوٹے ہیں یا مثل کا مطلب جیسے پہلے تھے اسی طرح ان کو لوٹا دے۔ کیونکہ لوٹانا ابتداء کی طرح ہے۔ کیا ایسا نہیں بَلٰی (کیوں نہیں) یعنی آپ فرما دیں کیوں نہیں وہ اس پر قادر ہے۔ وَھُوَ الْخَلّٰقُ (وہ بیشمار مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے) ۔ الْعَلِیْمُ (وہ بیشمار معلومات والا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81، اولیس الذی خلق السموت والارض بقادر، یعقوب نے یقدر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، علی ان یخلق مثلھم بلی، کہہ دیجئے وہ اس سے بھی زیادہ قدرت والا ہے۔ ، وھوالخلاق ، ایک مخلوق کے بعد دوسری کو پیدا کرتا ہے ۔ ، العلیم ، تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
80 تا 83۔ انسان کی عقل کی رسائی سے باہر یہ اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کیوں کہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جاوے تو اس کی ٹہنیاں جل جاویں گی یہ ساری صاحب قدرت کی قدرت ہے کہ مثلاً بانس اور بعضے درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہری ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری ٹہنی سے رگڑا جاوے تو ان تنیوں میں سے آگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں۔ پھر فرمایا جس صاحب قدرت نے ان منکرین حشر کے سر پر بغیر ستون کے سات آسمان کھڑے کردیئے ان کے رہنے اور بسنے کے لیے پانی پر زمین بچھادی کیا ایک دفعہ پیدا کر کے پھر دوبارہ ان منکرین حشر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت 77
ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے
قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
83 بعث بعد الموت کے کائنات کے وجود سے استدلال : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کے خالق کیلئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کے مقابلے میں یہ انسان ضعیف البنیان ایک ذرئہ بےمقدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَخَلْقُ السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } ۔ (المومن : 57) ۔ سو جب اس قادر مطلق، خالق کل نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرما دیا اور اس کو کسی طرح کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں تو پھر اس کیلئے اس چند فٹ کے اس انسان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل
تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83:
اسرار و معارف :
اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 7 نہ کہ کسی اور کی طرف لہٰذا وہ تمہیں سزا دے گا اور وہی جزا
Read the full tafseer →(36:81) اولیس الذی۔۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے وائو عاطفہ ہے جملہ مابعد کا عطف جملہ مقدرہ ما قبل پر ہے :۔
ای الیس الذی انشاھا اول مرۃ ولیس الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا ولیس الذی خلق السموت والارض۔
مثلہم۔ ان جیسا۔ ان کی طرح۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب منکرین حشر کی طرف راجع ہے۔ مراد یہ ہے کہ جس ذات عالی صفات نے آسمانوں اور زمین کو جن کا حبثہ وجسامت جن کی عظمت وشان، جن کی گہرائیاں اور وسعتیں بےحدو حساب ہیں۔ پیدا کیا۔ وہ ان جیسی حقیر بےوقعت اور کمتر مخلوق کو (دوبارہ) پیدا نہیں کرسکتا۔
بلی۔ ہاں۔ الف اس میں اصل ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تانیث کے لئے ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(ف 1) انسان کی عقل کی رسائی سے باہر اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کہ کیونکہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جائے تو اس کی ٹہنیاں جل جائیں گی یہ اسی کی قدرت ہے کہ بعض درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہر ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری سے رگڑاجائے تو ان ٹہنیوں میں سے ـآگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں عرب میں دودرخت ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مزح ہے اور دوسرے کا نام عفار۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آگ نکلتی ہے باوجوی کہ وہ اتنی تری ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
[26] یعنی اول پانی سے سبز و شاداب درخت تیار کیا پھر اسی تروتازہ درخت کو سکھا کر ایندھن بنادیا جس سے اب تم آگ نکال رہے ہو۔
ماہرین ارضیات کی تحقیق یہ ہے کہ کوئلہ کی تخلیق درختوں سے ہوئی۔ آج سے ہزاروں سال پہلے جب انسانوں کی تعداد کم تھی زمین پر دور دور تک جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ بڑی بڑی جھیلوں اور دریاؤں کے کنارے اونچی اور گھنی کائیاں تھیں۔ زلزلوں کی وجہ سے کائیاں اور جنگلات زمین میں دب گئے اور زمین کے دباؤ اور دیگر کیمیائی تغیرات سے وہ پہلے نسواری رنگ کے گوند میں تبدیل ہوگئے۔ بعد میں یہی گوند سیاہ ہو کر کوئلہ بن گیا۔ آج ہم زمین سے یہی کوئلہ نکال کر جلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 2: یعنی جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور وسعتوں کا تعلق ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں ۔ کہ وہاں عدم امکان یا استحاز کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ کسی چیز کا منصہ شہود پر لانے کے لئے ذرائع اور وسائل کا محتاج نہیں ۔ وہ جب چاہے بیک جنبش اعادہ ہزاروں عوالم امکان پیدا کردے ۔ کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔ اور ہر چیز پر اس کو پورا اختیار اور قابو حاصل ہے ۔
حال لغات :۔ ملکوت ۔ پوری پوری بادشاہت ۔
Read the full tafseer →(81) اور کیا جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کردے۔ بیشک وہ ضرور قادر ہے اور وہی ہے اصل بنانے والا سب جاننے والا۔ یعنی جس اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین جیسی بڑی بڑی مخلوق کو بنادیا اور ان کو فنا کرنے کے بعد پھر پیدا کردے گا۔ کیا وہ اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان جو آسمان و زمین کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس کو موت کے بعد دوبارہ پھر پیدا کر دے بیشک وہ قادر ہے۔ وہ بہت بڑا بنانے والا اور پیدا کرنے والا اور سب کو جاننے والا اور ہر ایک کے حال سے آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ف 1۔ چناچہ عرب میں ایک درخت تھا مرخ اور ایک عفار، ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، پس جب پانی میں کہ خضرت اسی کا اثر ہے، آگ پیدا کردیتے ہیں تو جماد میں حیات پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے کیا وہ قادر نہیں کہ ان کی مانند بنائے :
81۔ چونکہ دوسری جگہ ارشاد الہی ہے کہ قیامت کے روز اس زمین اور آسمانوں سب کو بدل دیا جائے گا نہ یہ زمین ہوگی اور نہ یہ اس وقت کے آسمان تو یہ بات منکرین قیامت کو اور بھی اچنبھا محسوس ہوئی اور یک نہ شد دوشد کے مصداق ہوگئے ، پہلی بات سے منکر تھے کہ قیامت آئے گی اور انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان سے حساب کتاب لیا جائے گا ، یہ عقیدہ ان کے گلے میں ایسا پھنسا کہ گلے سے اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اور پھر جب انہوں نے یہ بات سنی کہ ان آسمانوں اور اس زمین کو بھی بدل دیا جائے گا تو وہ مزید بوکھلا گئے ، ان کو مخاطب کرکے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
In verse 80, it was said: جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا (the One who created for you fire from the green tree). Two trees used to be well known in ` Arabia - Markh (Cynanchum Vinimale) and ` Afar. The Arabs were accustomed to cutting two twigs from these two trees as they did with siwak or miswak. These twigs would be solid, green, and full of fresh water inside. By rubbing one on the other, it worked like firestone. They could strike fire out of these. This is what has been alluded to in striking fire out of the green tree. (Qurtubi) And if we were to consider the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
68 It either means that He has placed the inflammable matter in the green trees due to which people kindle fire from the pieces of wood. Or, it is an allusion to the markh and 'afar trees, whose green branches the Arabs struck against each other to produce the sparks. In ancient times the Bedouins used this method of kindling the fire and might even be using the same today.
Read the full tafseer →