36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة یٰسین۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة یا سین کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی قسم کھا کر تصدیق فرما دی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ اس کے نازل کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کردیا جائے جو کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے نافرمانوں کو ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں آپ ان کی نا فرمانیوں ، ضد اور ہٹ دھرمی کی پروانہ کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا مقصد زندگی بیان کرتے جایئے جو بھی اس پر ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اس کو آخرت میں اجر عظیم عطاء کیا جائے گا اور منکرین جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس مرنے والے کے پاس سورة یا سین کو پڑھا جاتا ہے تو اس کے لئے اس کی موت آسان ہوجاتی ہے۔ ( ویلمی ، ابن حیان) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ کفار و مشرکین جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دین کی سچائیوں کو قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں ان کو سمجھاتے رہیے۔ یہی تمام نبیوں اور رسولوں کا طریقہ رہا ہے ، چناچہ اللہ نے مثال کے طور پر ایک بستی کے نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اس بستی میں آباد قوم نے کفر اور نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تب اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے دوپیغمبروں کو بھیجا جنہوں نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی ضدر پر اڑے رہے ۔ اسی دوران اللہ نے ان دونوں پیغمبروں کی حمایت و تصدیق کرنے کے لئے ایک اور پیغمبر کو بھیجا مگر نافرمان قوم نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی آدمی ہو آخر تمہارے اندر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بناء پر ہم تمہیں اللہ کا پیغمبر سمجھ لیں ۔ ان تمام پیغمبروں نے کہا کہ ہم جھوٹے نہیں ہیں بلکہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔ کفار و منکرین نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سے تم نے یہ وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا ہے ہمارے گھروں اور خاندانوں میں ہر طرف نحوست پھیل گئی ہے۔ ہم بڑے سکون سے رہتے تھے مگر تمہاری باتوں کی وجہ سے ہمارے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگئے ہیں ۔ اگر تم اپنی ان نصیحتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ وہ بستی والے ایمان لانے کے بجائے ان پیغمبروں کے دشمن بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک آدمی رہتا تھا اس نے ان پیغمبروں کی بات کو سن کر قبول کیا ۔ جب اس نے یہ سنا کہ اس کی قوم اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلا رہی ہے اور ہر طرح کی دھمکیاں دے رہی ہے تو وہ بڑی تیزی سے جوش اور اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر بستی والوں کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم اللہ کے پیغمبروں کا کہا مانو ان کی اتباع و پیروی کرو اور ان سے منہ نہ موڑو ۔ یہ تمہاری بھلائی کے علاوہ تم سے کوئی معاوضہ اور بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ اس نیک آدمی نے کہا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین و مذہب کو چھوڑ کر اگر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کروں جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے تو میری طرف سے یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہوگا ۔ میں تو ایک اللہ کی بندگی کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تم بھی اسی راستے پر چلو۔ جب قوم کے لوگوں نے اس نیک آدمی کی تقریر سنی تو وہ اس کو برداشت نہ کرسکے ۔ جوش میں آ کر چاروں طرف سے اس پر لاتوں گھونسوں کی بارش کردی اور اسے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اس شہید کو جنت کی راحتیں عطاء کی گئیں اور اس نے عزت کا اعلیٰ ترین مقام دیکھا تو کہنے لگا کہ کاش میری قوم اس بات کو جان لیتی کہ مجھے رب العالمین نے دین اسلام کی برکت سے کتنا زبردست اعزازو اکرام عطاء فرمایا ہے۔ (قرآن کریم میں جتنی باتیں اور احکامات نازل کیے گئے ہیں وہ نہایت متانت ، سنجیدگی اور وقار کا تقاضا کرتے ہیں ، لہٰذا وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی چمک دمک اور رونقوں میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنی زندگیوں کو کھیل کود بنا لیا ہے ان کے مزاج اس طرح الٹ دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہر سچی بات کو جھٹلانا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسے لوگوں کی پروانہ کیجئے اور اپنا نیک مشن اور مقصد جاری رکھیے اور ان بدکرداروں کو سچائی کا شعور ، صراط مستقیم کی تڑپ اور اللہ کے سامنے حاضری کا احساس دلاتے رہیے۔ حق و صداقت کی آواز پر تو صرف سعادت مند اور خوش نصیب لوگ ہی دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں یہ پیغمبر اللہ کا پیغام پہنچانے آئے تھے جب منکرین نے نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تو پھر اس قوم پر عذاب آگیا ۔ ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دی اور وہ سب کے سب وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئے۔ اس وقت نہ ان کے معبود ان کے کام آئے اور نہ ان کی مالت و دولت ان کو سہارا دے سکی ۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ نافرمانی نہ کرتے اور ان انبیاء کرام کو نہ جھٹلاتے تو اس طرح صفحہ ہستی سے نہ مٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ چاند ، سورج ، ستارے تمہارے سامنے جگمگا رہے ہیں ۔ دن اور رات آتے اور جاتے ہیں مگر انہیں کون کنٹرول کر رہا ہے کس کے حکم سے یہ چل رہے ہیں یقینا ہر شخص کا ضمیر کہہ اٹھے گا کہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی ہر چیز کے نظام کو چلا رہی ہے۔ فرمایا کہ تم سمندروں کو دیکھتے ہو کہ اس میں جہاز اور کشتیاں چل رہی ہیں ۔ اپنی زندگی گزارنے کے سامنا ادھر سے ادھر لے کر جاتے ہو ۔ انسان کو یہ طاقت اور صلاحیت کس نے عطاء کی ہے۔ تم بھی عجیب ہو کہ دن رات اس کی نشانیوں اور انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ جاہلانہ مطالبہ کرتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے اس کو آنا ہے تو آجائے یعنی ان کا گمان تھا کہ اگر عذاب ہم پر آئے گا تو ہمارے جھوٹے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یاد رکھو جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو پھر کسی کو ایک لمحہ کی مہلت بھی نہ دی جائے گی۔ اگر وہ بازاروں میں ہوگا تو اس کو گھر والوں تک پہنچنے کا موقع بھی نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب زندہ ہو کر بد حواسی میں ادھر ادھر دوڑتے ہوئے رب العالمین تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہائے ! ہماری بد نصیبی کہ ہم اس عذاب کے مقابلے میں اپنی قبروں میں زیادہ آرام سے تھے نہ جانے ہمیں کس نے ہماری قبروں سے اٹھادیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہی وہ قیامت کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور ہمارے پیغمبروں نے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا ۔ جن لوگوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے ان کو جنت کی راحتیں دی جائیں گی جن میں وہ خوش و خرم اور عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے۔ انہیں ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور وہ جو بھی نعمت کی تمنا کریں گے وہ فوراً ان کے سامنے پیش کردی جائے گی ۔ انہیں وہاں دیدار الٰہی نصیب ہوگا ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آئے گا ۔ اس کے بر خلاف مجرمین کو اہل ایمان سے الگ کردیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کی آگ ہی میں رہو جنت کی راحتیں تم پر حرام ہیں ۔ وہ جھوٹ بولتے ہوئے کہیں گے کہ الٰہی ہم پر جو الزامات ہیں وہ کام ہم نے نہیں کیے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ، پاؤں اور کھالوں تک کو زبان دے دے گا اور وہ ان کے ہر گناہ پر گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا کہ جس طرح گزشتہ قوموں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور طرح طرح کی باتیں کیں اسی طرح جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو قرآنی آیات سناتے تو کہتے کہ یہ تو کوئی شاعر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا یہ لوگ کس قدر بد نصیب ہیں کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی شروع کردی اور اپنے خالق ومالک اللہ کو بھول گئے کہنے لگے کہ جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں ؟ اللہ نے فرمایا کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے جو اللہ سبز درختوں سے آگ کو پیدا کرسکتا ہے وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

Ayahs 36:1–12

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

حکمت سے بھر پور اس قرآن کی قسم

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک آپ اللہ کے رسولوں میں سے ( ایک رسول)

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

اور بالکل سیدھے راستے پر ہیں ۔

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

( یہ قرآن حکیم) زبردست اور رحم کرنے والے کی طرف سے اتارا گیا ہے۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تا کہ آپ ( اس کے ذریعہ سے) ان لوگوں کو آگاہ کردیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا تھا ۔ اسی لیے وہ غافل و بیخبر ہیں۔

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر لوگوں پر اللہ کا عذاب ثابت ہوچکا ہے لہٰذا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے جن سے وہ تھوڑیوں تک اس طرح جکڑ دیئے گئے ہیں کہ ان کے سر اوپر کو اٹھے رہے گئے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر کے ( اوپر سے) اس کو ڈھانپ دیا ہے تو ان کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

ان کے لئے یہ بات یکساں ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ ﷺ تو صرف ان لوگوں کو ہی خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کو قبول کرتے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرتے ہیں ۔ آپ ایسے لوگوں کو بخشش اور باعزت اجر وثواب کی خوشخبری سنا دیجئے۔

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو انہوں نے آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا اس سب کو ہم لکھ رہے ہیں اور ہم نے اس کو کھلی کتاب ( لوح محفوظ) میں محفوظ کر رکھا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ بعض علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ ’ ’ یٰسین “ کے معنی اے انسان کے ہیں جس سے مراد انسان کامل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں ( ابن عباس ؓ ، عکرمہ ؓ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ان کے نام سے پکارا ہے جیسے یا آدم ، یا موسیٰ ، یا عیسیٰ وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن کریم میں کسی جگہ ” یا محمد “ کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ آپ کی مختلف صفات سے آپ کو پکارا گیا ہے جیسے ” یایھا المدثر، یا ایھا المزمل “ وغیرہ اسی طرح آپ کے صحابہ ؓ نے بھی کبھی آپ کو ” یا محمد ﷺ “ کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ یا رسول اللہ ﷺ کہہ کر کوئی بات عرض کیا کرتے تھے۔ البتہ کفار اور گستاخ منافقین آپ کو ” یا محمد “ کہہ کر اپنے کلام کا آغاز کرتے تھے ۔ لہٰذا یا محمد کہنا یا لکھنا دونوں جائز نہیں ہیں۔ اس سورت کو ” یٰسین “ سے شروع کیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے حکمت سے بھر پور قرآن کریم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ اس نے آپ کو اپنے رسولوں میں سے ایک رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں ۔ یہ وہ صراط مستقیم ( قرآن حکیم) ہے جس کو ایسے زبردست اور رحم و کرم کرنے والے اللہ نے نازل کیا ہے جس میں کسی شک و شبہ اور وہم کی گنجائش نہیں ہے تا کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کے بد ترین نتائج سے آگاہ کردیں اور ان کو اصل کامیابی و کامرانی اور منزل مقصود کی طرف رہنمائی فرما دیں ۔ یہ اللہ کا وہ آسان اور سہل کلام ہے جسے ہر شخص سمجھ کر اس پر عمل کرسکتا ہے۔ فرمایا کہ آپ ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے جن کے پاس سیکڑوں سال سے کوئی آگاہ اور خبردار کرنے والا نہیں آیا ہے۔ آپ ان کو وہ باتیں بتا دیجئے جن سے وہ خود اور ان کے باپ دادا ناواقف تھے۔ اب بھی اگر وہ خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو یہ ان کی بد نصیبی ہوگی ۔ آپ کا کام ہے پیغام حق سنا دینا جو سعادت مند ہے وہ اس کو یقینا مان لے گا لیکن جس کے مقدر میں بد نصیبی اس کے برے اعمال کے سبب لکھ دی گئی ہے وہ اس حقیقت کو کبھی تسلیم نہ کرے گا ، لہٰذا آپ ایسے لوگوں کی پرواہ نہ کیجئے ۔ ایسے لوگوں کو جنہیں ان کی دولت اور دنیا کے اسباب نے غرور وتکبر کا پیکر بنا دیا ہے وہ اپنی بڑائی اور ذات میں اس طرح گم ہیں کہ وہ اپنے سے باہر کی کسی حقیقت کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور گردنیں اکڑ کر چلتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کی گردنوں میں ایسے طوق ڈال دیئے جائیں گے جو ان کی گردنوں کو ٹھوڑیوں تک جکڑدیں گے جن سے ان کا سر اور چہرہ اوپر کو اٹھا رہ جائے گا ۔ نہ وہ اپنی گردنوں کو ہلا سکیں گے اور نہ نیچے دیکھ سکیں گے یہ ان کی آخرت سے غفلتوں کا نتیجہ ہوگا ۔ فرمایا کہ ہم نے ان کے سامنے اور پیچھے دیوار کھڑی کردی ہے جس سے وہ باہر کی ہر حقیقت کو دیکھنے سے محروم ہیں ۔ حق و صداقت کو دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں رہے۔ ان پر غفلتوں کے ایسے پردے پڑچکے ہیں کہ ان کو آخرت اور عذاب الٰہی سے ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ۔ کیونکہ جو آدمی کسی سچائی کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہو اس سے ایمان لانے کی توقع کرنا فضو ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار مسلط ہوچکی ہے ۔ تا ہم اے نبی ﷺ ! آپ اپنا مشن جاری رکھئے جو لوگ اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی شمعیں روشن کرچکے ہیں ان کا غیب پر کامل یقین ہے اور وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں ایسے لوگوں کو معافی و مغفرت اور ایک بہت بڑے اجر وثواب کی خوش خبری دے دیجئے۔ فرمایا کہ ساری مخلوق کے مر جانے کے بعد نہ صرف ہم ان سب کو دوبارہ پیدا کریں گے بلکہ ان کے وہ تمام اعمال جو انہوں نے اپنے آگے بھیجے ہیں یا اپنے پیچھے چھوڑے ہیں وہ سب لکھ کر محفوظ کر لئے گئے ہیں جس کے جیسے اعمال ہوں گے اس کو ویسا ہی بدلے ملے گا ۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت یہ سورت جو عام طور پر ” سورة یٰسین “ کہی جاتی ہے اس کے احادیث میں بہت سے نام آئے ہیں جو اس سورت کی عظمت کی نمایاں دلیل ہے۔ عظیمہ ، معمہ ، مدافعہ ، قاصیہ۔ معمہ :۔ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے وہ دنیا و آخرت کی تمام برکات اور رحمتوں کو حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی۔ مدافعہ : جو شخص اس سورت کی تلاوت کا عادی ہوگا وہ بہت سی بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا ۔ قاضیہ : اس سورت کو پڑھنے سے انسان کی ضروریات اور حاجات پوری کی جاتی ہیں ۔ اس لئے حضرت عبد اللہ ابن زبیر ؓ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی حاجت کے لئے سورة یٰسین کو پڑھے گا تو اس کی ہر حاجت پوری ہوجائے گی۔ ( المحاملی) نبی کریم ﷺ سے اور بہت سی احادیث میں اس سورت کے پڑھنے والوں کے لئے بعض سے ارشادات ہیں ۔ حضرت ابو دردائ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس مرنے والے کے پاس اس سورت کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس کی موت کے قوت آسانی ہوجاتی ہے۔ ( ویلمی ۔ ابن حیان) حضرت معقل ابن یسار نے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” یٰسین “ قرآن حکیم کا قلب ( دل) ہے۔ فرمایا کہ جو شخص سورة یٰسین پڑھے گا اس کی مغفرت کردی جائے گی ۔ اس کو تم اپنے مرنے والوں پر پڑھا کرو۔ ( نسائی ، حاکم، روح) حضرت یحییٰ ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ جو شخص صبح کو سورة یٰسین پڑھے گا وہ شام تک خوشی اور آرام سے رہے گا ۔ اور اگر شام کو پڑھے گا تو صبح تک خوش و خرم رہے گا ۔ فرمایا کہ مجھے یہ بات اس نے بتائی ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ ( این الفریس) ٭یہ بھی نبی کریم ﷺ کی شان اور عظمت کا ایک پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دی ہے اور قسم کھائی ہے۔ یہ مقام کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہے۔ اہل عرب کا دستور یہ تھا کہ جب وہ کوئی یقینی بات کہتے تھے تو قسم کھا کر کہتے تھے تا کہ دوسرے کو اس بات کی سچائی پر یقین آجائے۔ دوسرے یہ کہ کلام کی فصاحت وبلاغت کا یہ بھی اندازہ تھا کہ اس کلام میں مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی جاتی تھیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زمین و آسمان ، چاند، سورج ، ستاروں ، دن رات ، گھوڑوں اور نفس انسانی اور اپنی ذات اور قرآن کریم کی قسمیں کھا کر بہت سی ان حقیقتوں کی وضاحت فرمائی ہے جو انسان کو کھلی آنکھ سے نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم میں ایسے سات مقامات ہیں جہاں اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت پر قسم کھاتے ہوئے ان کفار کو جو قسمیں کھا کر آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا کرتے تھے آگاہ اور خبردار کیا ہے کہ آپ کو اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے جس میں کسی شک و شبہ اور وہم کی گنجائش نہیں ہے اور آپ کو جو کتاب الٰہی دی گئی ہے وہ علم و حکمت اور دانائی و بینائی کے اصولوں سے بھر پور ہے اور قیامت تک اسی کی روشنی میں زندگی کے اندھیرے دور کئے جاسکیں گے۔ ٭قرآن کریم میں جتنی باتیں اور احکامات نازل کئے گئے ہیں وہ نہایت متانت ، سنجیدگی اور وقار کا تقاضا کرتے ہیں ۔ لہٰذا وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی چمک دمک اور رونقوں میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنی زندگیوں کو کھیل کود بنا لیا ہے ان کے مزاج اس طرح الٹ دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہر سچی بات کو جھٹلانا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو اپنی بد عملی کی انتہاؤں تک پہنچ چکے ہیں آپ ان کی پروا نہ کیجئے کیونکہ ان پر حجت تمام ہوچکی ہے اور اب وہ ان لوگوں میں شامل ہو کر اپنے عقیدے میں پختہ ہوچکے ہیں جن پر اللہ کا عذاب طے ہوچکا ہے لہٰذا آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور آپ پیغام رسالت کو ساری دنیا تک پہنچانے کی جس جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اس مشن کو جاری رکھئے اور ان بدکرداروں کو سچائی کا سعور ، صراط مستقیم کی تڑپ اور اللہ کے سامنے حاضری کا احساس دلاتے رہئے۔ ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو حق و صداقت کی آواز سن کر اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے اور دین اسلام کی سچائیوں کو ساری دنیا میں پھیلانے میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے۔ آپ ان کو پیغام حق پہنچایئے جو اللہ اور اس کے رسول کی محبت و اطاعت کی شمعیں روشن کرنا چاہتے ہیں یہی ایک انعام عظیم کے مستحق ہوں گے اور ان کو ان کی نیکی اور قربانیوں کا پورا پورا بدلہ اور صلہ دیا جائے گا ۔ ٭ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری سے منہ موڑ کر چلیں گے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ گردنوں میں طوق ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے کسی مجرم کی گردن اچھی طرح شکنجے میں اس طرح جکڑ دی جائے جس سے اس کا چہرہ اور سر اوپر کو اٹھا رہ جائے ۔ جس سے وہ اپنی گردن کو نہ تو ہلا سکتا ہو اور نہ اپنے سر کو نیچے کرسکتا ہو ۔ اگر وہ کسی راستے پر جا رہا ہو اور راستے میں کوئی کھڈیا گڑھا آجائے اور وہ اس میں گر کر ہلاک ہوجائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے اسی طرح وہ لوگ جو زندگی کے اسباب کا طوق اپنے گلے میں ڈالے گھوم رہے ہیں وہ کبھی سچائی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ ان کی ضد اور ہٹ ڈدھرمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ حق و صداقت کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ نہ وہ حق کو دیکھ سکتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے اپنی گردن جھکانے کو تیار ہوتے ہیں ۔ فرمایا کہ ان کی غفلت کا یہ حال ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی ہزاروں نشانیوں کو یکھنے اور سمجھنے کے باوجود اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا پیغام دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچاتے رہیے جو سعادت مند اور خوش نصیب ہیں وہ اس کو مان لیں گے لیکن جنہوں نے بد نصیبی اور جہنم کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور انہوں نے اپنے دل کو سخت بنا لیا ہے ان کے سامنے ساری حقیقتیں بھی کھول کر رکھی دی جائیں گی وہ ان کو کبھی تسلیم نہ کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا کی رونقوں ، چمک دمک، مال و دولت کی کثرت ، باپ دادا کی اندھی تلقید ، غفلت ، جہالت ، بد عملی ، نادانی اور ان کے اعمال کی شامت نے چاروں طرف سے اس طرح گھیر لیا ہے جیسے ان کے آگے اور پیچھے ایک دیوار ہے اور اوپر سے اس کو ڈھانپ دیا گیا ہے۔ جس طرح ایسا شخص ارد گرد سے بیخبر اور غافل ہوتا ہے اسی طرح اپنی خواہشات کی دیواروں میں یہ اس طرح بند ہیں کہ وہ حق و صداقت کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے بد ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” ونکتب ما قدموا و اثارھم ‘ ‘ اور ہم اس کو لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا یا اس کو پیچھے چھوڑا ۔ عمل کو آگے بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ وہ آخرت میں لکھا لکھا یا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔ جس کے اعمال اچھے ہوں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوگا اور جس کے برے اور بد ترین اعمال ہوں گے اس کو ہمیشہ کے لئے جہنم کے انگاروں پر لوٹنا ہوگا ۔ یہ تو وہ اعمال ہیں جو اس نے آگے بھیجے ہیں لیکن وہ نیک اعمال جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں وہ اس کے لئے ثواب جاریہ ہیں جن کا اجر قیامت تک ملتا رہے گا جیسے اس نے نیک اولادچھوڑی یا اس نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس میں اللہ کے بندوں کا بھلا ہو وہ اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے جیسے کسی نے مسجد بنوا دی یا اس کے بنوانے میں شرکت کی یا کسی کو حافظ قرآن یا عالم بنا دیا جب تک وہ مسجد رہے گی حافظ قرآن کو سناتا رہے گا عالم اپنے علم کو پھیلاتا رہے گا اس کا ثواب اس کے کرنے والے کو بھی ملے گا اور بغیر کسی کمی کے اس شخص کو بھی ملتا رہے گا جس نے اس کار خیر کا آغاز کیا تھا ۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی ایسا کام کیا جو اللہ و رسول کی نافرمانی کا کام ہے تو اس کا عذاب کرنے والے کو اور جس نے اس کو قائم کیا دونوں کو ملے گا ۔ حضرت جریر ابن عبد اللہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا ثواب ( قیامت تک) ملتا رہے گا اور اس کے طریقے پر جو عمل کریں گے ان کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی کی جائے اور جس نے برا طریقہ جاری کیا تو اس کو ( قیامت تک) گناہ ملتا رہے گا اور جتنے لوگ اس برے عمل کو اختیار کریں گے ان کا گناہ اس ( جاری کرنے والے) کو بھی ملتا رہے گا بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کمی آئے۔ ( ابن کثیر ، ابن ابی حاتم)
Ayahs 36:13–32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال بیان کیجئے ۔ جب اس میں کئی رسول آئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا ۔ پھر ہم نے تیرے رسول سے ان کو تائیدو قوت دی ۔ تینوں نے کہا کہ ہمیں تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

کہنے لگے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ( آدمی) ہو۔ رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ۔ تم محض جھوٹ کہہ رہے ہو ۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہمارا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم بیشک ( اللہ کی طرف سے) تمہاری ( ہدایت کے لئے) بھیجے گئے ہیں ۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

ہمارے ذمہ تو کھول کھول کر واضح طریقے پر پہنچا دینا ہے۔

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں منحوس ( قدم) سمجھتے ہیں۔ اگر تم ( اپنی وعظ و نصیحتوں سے) باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار ( پتھر مار کر ہلاک) کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا تم اس کو ( نحوست کہتے ہو کہ) تمہیں سمجھایا جا رہا ہے۔ واقعی تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو ۔

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کی دور کی جگہ سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم رسولوں کی پیروی کرو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

(ان کا کہا مانو) ان لوگوں کے پیچھے چلو جو تم سے کوئی معاوضہ ( صلہ یا بدلہ) نہیں مانگتے۔ جب کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہوا کہ میں اس ( اللہ کی) عبادت و بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کو چھوڑ کر ایسوں کو معبود بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے نہ تو ان ( معبودوں ) کی سفارش میرے کام آئے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ۔

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اور اگر میں ایسا کروں گا تو کھلی ہوئی گمراہی میں جا پڑوں گا ۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ۔ تم میری بات ( غور سے سنو) ۔

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

( یہ کہتے ہی اس کو شہید کردیا گیا) اسی شہید سے کہا گیا کہ تم جنت میں داخل ہو جائو ۔ وہ کہنے لگا کاش میری ( حالت اور بات) کو میری قوم جان لیتی

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ مجھے تو میرے رب نے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کردیا ۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر ( آسمان سے فرشتوں کا) لشکر نہیں بھیجا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت نہ تھی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

اور ان کی سزاصرف یہ تھی کہ ایک زبردست چنگھاڑ آئی اور وہ اچانک آگ کی طرح بجھ کر رہ گئے ( مر گئے) ۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

ان لوگوں پر افسوس ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا ۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی بستیوں کو ( نافرمانی کی وجہ سے) تباہ و برباد کردیا کہ وہ پھر کبھی ( ان بستیوں کی طرف) لوٹ کر نہ آئے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور کوئی ایسا نہ ہوگا جسے ہمارے پاس حاضر نہ کیا جائیگا ۔

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین کو بطور مثال ایک ایسی بستی کا واقعہ سنا دیجئے کہ جب اللہ نے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے متعدد پیغمبر بھیجے پہلے دو پیغمبروں کو بھیجنے کے بعد ایک اور پیغمبر کو مزید قوت اور تائید کے لئے بھیجا گیا انہوں نے اس بستی کے لوگوں کو اللہ کی ذات اور برے اعمال کے بدترین انجام سے ڈرایا اور کہا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ تم اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور ان بےحقیقت جھوٹے معبودوں کی عبادت و بندگی سے باز آ جائو تا کہ تم قیامت کے دن ہر طرح کی رسوائیوں سے بچ سکو ۔ ہم نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب ماننا یا نہ ماننا یہ تمہارے اختیار میں ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد کہنے لگے کہ تم اللہ کے پیغمبر کیسے ہو سکتے ہو کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ” بشر “ ہو ۔ یہ وہ جواب ہے جو قوم نوح ، قوم عاد اور قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخر وہ کون سا فرق ہے جس کی وجہ سے ہم یہ بات مان لیں کہ واقعی تم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو ۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ نے کوئی ایسی چیزنازل نہیں کی جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو ۔ اس طرح انہوں نے ان پیغمبروں کو جھٹلاتے ہوئے ان کے پیغام کو ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اللہ کے ان پیغمبروں نے نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری طرف بھیجا ہے۔ ہم نے اللہ کا پیغام تک تک پہنچا دیا اب تم مانتے ہو تو دنیا و آخرت کی ہر کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔ کہنے لگے کہ کامیابیاں تو ہمارے قدم کہاں چو میں گی تمہاری ان باتوں کی وجہ سے اور ہمارے بتوں کی برائیاں بیان کرنے سے ہمارے معبود ہم سے ناراض ہوگئے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے اوپر طرح طرح کی مصیبتیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ بارش نے برسنا چھوڑ دیا ، ہمارے کھیت خشک ہوگئے جس سے قحط پڑنا شروع ہوگیا ۔ ہم سب عیش و عشرت سے زندگی گزار رہے تھے ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا مگر تمہارے قدموں کی نحوست سے ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ باتیں جو تم کر رہے ہو ان کو بند کرو ورنہ ہم برداشت نہیں کریں گے اور تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے اور تمہیں ایسی ایسی اذیتیں دیں گے جن سے تم عاجزو بےبس ہو کر رہ جائو گے ۔ اللہ کے پیغمبروں نے ان کی جاہلانہ باتوں کا نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب کچھ جو آفتیں آرہی ہیں وہ تمہارے اعمال کی شامت کی وجہ سے آرہی ہیں ۔ اگر تم ہماری بات پر غور کرتے اور اللہ کا حکم مان لیتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں تم سب کی بھلائی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن تم تو زندگی کے ہر معاملے میں حد سے گزر جانے والے ہو اسی لئے یہ ساری نحوستیں تم پر نازل ہو رہی ہیں ۔ ان پیغمبروں کی پوری قوم نے جب اپنے ارادے کی تکمیل کے لئے کمر کس لی تو اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک اور متقی شخص رہتا تھا جو رزق حلال کماتا تھا اور اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہتا تھا جب اسے اپنی قوم کے برے ارادوں اور بےراہ روی کی اطلاع ملی تو وہ بھاگا ہوا دوڑتا چلا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تا کہ وہ برے ارادے سے باز آجائیں اور اللہ کے عذاب سے بچ جائیں اس شخص نے کہا کہ اللہ کے بندوٖ ! یہ پیغمبر اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جو بھی پیغام لے کر آئے ہیں اس کی اتباع اور پیروی کرو ان کی نصیحتوں پر عمل کرو ۔ وہ یہ سب کچھ تمہاری بھلائی کے لئے کہہ رہے ہیں اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض اور لالچ نہیں ہے وہ تم سے یہ سب کچھ کرنے پر کوئی صلہ یا بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ وہ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے پر چلو ۔ اس شخص نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں آخر اس ذات کی عبادت و بندگی کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب کو اسی ایک پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں ایسے معبود کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنا لوں حالانکہ اگر وہ رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان بتوں کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور وہ سب مل کر مجھے اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔ اگر میں ایسا کروں گا تو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا ۔ میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ۔ تم بھی اسی طرح ایمان قبول کرلو ۔ اس شخص کا آنا اس پوری قوم کو سخت نا گوار گزرا اور انہوں نے اس کو لاتوں اور گھونسوں سے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ نے اس شخص کے لئے جنت کا فیصلہ کر کے فرمایا کہ تو جنت کی راحتوں میں داخل ہوجا ۔ جب اس نے جنت کی راحتوں کو دیکھا تو اس نے کہا کہ کاش میری قوم یہ دیکھتی کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدمی کی وجہ سے اللہ نے نہ صرف اس کی مغفرت کردی ہے بلکہ اس کو اعلیٰ ترین مقام عطاء فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس قوم کی نا فرمانیوں کی سزا دینے کے لئے کوئی لشکر نہیں اتارا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہ تھی بس یکا یک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب بجھ کر رہ گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی سمجھانے والا آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور شدید مخالفت کی ، حالانکہ اگر غور و فکر سے کام لیتے تو انہیں اللہ کا یہ دستور معلوم ہوجاتا کہ جب اللہ نے کسی قوم کو برباد کیا ہے تو وہ پھر کبھی اپنے گھروں کی طرف پلٹ کر نہیں آئے ۔ فرمایا کہ وہ اللہ سے کتنے بھی بھاگ کر دور چلے جائیں آخر کار ان کو ایک دن اس کے سامنے ہی حاضر ہونا ہے۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں۔ (1) اس پر بحث کرنا کہ یہ کون سی بستی تھی ؟ ان پیغمبروں کے نام کیا تھے ؟ یہ کب آئے تھے ؟ اس موقع پر اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک عام واقعہ ہے جس کا مقصد ان قریش مکہ کو بتانا ہے کہ اگر انہوں نے بھی تعصب ، ہٹ دھرمی اور ضد کو نہ چھوڑا تو ان کا انجام بھی اس بستی والوں سے مختلف نہ ہوگا ۔ (2 ) ۔ بشریت انبیاء پر کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں کفار نے انبیاء کی بشریت کا انکار کیا ہے وہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی ہم جیسا جیتا جاگتا ، چلنے پھرنے والا انسان ہو ۔ اس کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ جو بشریت اور اس کے تقاضوں سے بلند تر ہو ۔ حالانکہ تمام انبیاء کرام کا ایک ہی جواب تھا کہ ” واقعی ہم تمہاری طرح بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے عنایت کرتا ہے ( سورة ابراہیم : 10۔ 11) اگر قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے حالات زندگی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہی وہ بات تھی جس نے ان کو ہدایت سے دور رکھا اور اسی بنیاد پر تباہی آئی ۔ (3) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے ” لا طیرۃ فی الاسلام “ دین اسلام میں کسی چیز کے لئے بد شگونی اور نحوست کوئی چیز نہیں ہے کسی انسان کا قدم منحوس نہیں ہوتا بلکہ جو مصیبتیں آتی ہیں وہ انسان کے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں مگر تمام وہ لوگ جو اپنی کمزوریوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں پر یہ کہہ کر ڈال دیتے ہیں کہ یہ سب کام جو خراب ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ یہ شخص ہے اس کی نحوست سے سارے کام بگڑ رہے ہیں ۔ لیکن یاد رکھئے اسلام نے ہمیں ان باتوں سے روکا ہے۔ ایک مسلمان کی زبان سے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وہ دوسروں کو منحوس قدم کہے یا سمجھے۔ (4) ۔ اصل میں تمام وہ لوگ جو دین اسلام کی سر بلندیوں کے لئے جدوجہد یا کوشش کر رہے ہیں ان کو یہ اصول ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ حق و صداقت کی بات اثر ضرور کرتی ہے اس میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے شاید کوئی ایک شخص حق و صداقت کی بات سن کر اس کو قبول کرلے اور جب وہ اپنا سب کچھ قربان کر دے تو اس کی قربانیوں کے نیچے میں حق و صداقت پر چلنے والوں کی نجات ہوجائے۔ (5) ۔ جب قوموں کی نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے غرور وتکبر انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تب اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے وہ دنیا والوں کی طرح اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ لشکر بھیج کر کسی قوم پر فتح حاصل کی جائے۔ بلکہ اس کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی ذات اور قوت پر اعتماد کر کے یقین کرلینا چاہیے کہ وہ رب اس قدر طاقت ور ہے کہ اس کے سامنے ساری دنیا کی طاقتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔