36. Surah Yaseen
يسYaseen · 83 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة یٰسین۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة یا سین کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی قسم کھا کر تصدیق فرما دی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ اس کے نازل کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کردیا جائے جو کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے نافرمانوں کو ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں آپ ان کی نا فرمانیوں ، ضد اور ہٹ دھرمی کی پروانہ کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا مقصد زندگی بیان کرتے جایئے جو بھی اس پر ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اس کو آخرت میں اجر عظیم عطاء کیا جائے گا اور منکرین جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس مرنے والے کے پاس سورة یا سین کو پڑھا جاتا ہے تو اس کے لئے اس کی موت آسان ہوجاتی ہے۔ ( ویلمی ، ابن حیان) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ کفار و مشرکین جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دین کی سچائیوں کو قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں ان کو سمجھاتے رہیے۔ یہی تمام نبیوں اور رسولوں کا طریقہ رہا ہے ، چناچہ اللہ نے مثال کے طور پر ایک بستی کے نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اس بستی میں آباد قوم نے کفر اور نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تب اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے دوپیغمبروں کو بھیجا جنہوں نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی ضدر پر اڑے رہے ۔ اسی دوران اللہ نے ان دونوں پیغمبروں کی حمایت و تصدیق کرنے کے لئے ایک اور پیغمبر کو بھیجا مگر نافرمان قوم نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی آدمی ہو آخر تمہارے اندر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بناء پر ہم تمہیں اللہ کا پیغمبر سمجھ لیں ۔ ان تمام پیغمبروں نے کہا کہ ہم جھوٹے نہیں ہیں بلکہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔ کفار و منکرین نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سے تم نے یہ وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا ہے ہمارے گھروں اور خاندانوں میں ہر طرف نحوست پھیل گئی ہے۔ ہم بڑے سکون سے رہتے تھے مگر تمہاری باتوں کی وجہ سے ہمارے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگئے ہیں ۔ اگر تم اپنی ان نصیحتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ وہ بستی والے ایمان لانے کے بجائے ان پیغمبروں کے دشمن بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک آدمی رہتا تھا اس نے ان پیغمبروں کی بات کو سن کر قبول کیا ۔ جب اس نے یہ سنا کہ اس کی قوم اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلا رہی ہے اور ہر طرح کی دھمکیاں دے رہی ہے تو وہ بڑی تیزی سے جوش اور اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر بستی والوں کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم اللہ کے پیغمبروں کا کہا مانو ان کی اتباع و پیروی کرو اور ان سے منہ نہ موڑو ۔ یہ تمہاری بھلائی کے علاوہ تم سے کوئی معاوضہ اور بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ اس نیک آدمی نے کہا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین و مذہب کو چھوڑ کر اگر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کروں جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے تو میری طرف سے یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہوگا ۔ میں تو ایک اللہ کی بندگی کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تم بھی اسی راستے پر چلو۔ جب قوم کے لوگوں نے اس نیک آدمی کی تقریر سنی تو وہ اس کو برداشت نہ کرسکے ۔ جوش میں آ کر چاروں طرف سے اس پر لاتوں گھونسوں کی بارش کردی اور اسے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اس شہید کو جنت کی راحتیں عطاء کی گئیں اور اس نے عزت کا اعلیٰ ترین مقام دیکھا تو کہنے لگا کہ کاش میری قوم اس بات کو جان لیتی کہ مجھے رب العالمین نے دین اسلام کی برکت سے کتنا زبردست اعزازو اکرام عطاء فرمایا ہے۔ (قرآن کریم میں جتنی باتیں اور احکامات نازل کیے گئے ہیں وہ نہایت متانت ، سنجیدگی اور وقار کا تقاضا کرتے ہیں ، لہٰذا وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی چمک دمک اور رونقوں میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنی زندگیوں کو کھیل کود بنا لیا ہے ان کے مزاج اس طرح الٹ دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہر سچی بات کو جھٹلانا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسے لوگوں کی پروانہ کیجئے اور اپنا نیک مشن اور مقصد جاری رکھیے اور ان بدکرداروں کو سچائی کا شعور ، صراط مستقیم کی تڑپ اور اللہ کے سامنے حاضری کا احساس دلاتے رہیے۔ حق و صداقت کی آواز پر تو صرف سعادت مند اور خوش نصیب لوگ ہی دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں یہ پیغمبر اللہ کا پیغام پہنچانے آئے تھے جب منکرین نے نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تو پھر اس قوم پر عذاب آگیا ۔ ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دی اور وہ سب کے سب وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئے۔ اس وقت نہ ان کے معبود ان کے کام آئے اور نہ ان کی مالت و دولت ان کو سہارا دے سکی ۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ نافرمانی نہ کرتے اور ان انبیاء کرام کو نہ جھٹلاتے تو اس طرح صفحہ ہستی سے نہ مٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ چاند ، سورج ، ستارے تمہارے سامنے جگمگا رہے ہیں ۔ دن اور رات آتے اور جاتے ہیں مگر انہیں کون کنٹرول کر رہا ہے کس کے حکم سے یہ چل رہے ہیں یقینا ہر شخص کا ضمیر کہہ اٹھے گا کہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی ہر چیز کے نظام کو چلا رہی ہے۔ فرمایا کہ تم سمندروں کو دیکھتے ہو کہ اس میں جہاز اور کشتیاں چل رہی ہیں ۔ اپنی زندگی گزارنے کے سامنا ادھر سے ادھر لے کر جاتے ہو ۔ انسان کو یہ طاقت اور صلاحیت کس نے عطاء کی ہے۔ تم بھی عجیب ہو کہ دن رات اس کی نشانیوں اور انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ جاہلانہ مطالبہ کرتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے اس کو آنا ہے تو آجائے یعنی ان کا گمان تھا کہ اگر عذاب ہم پر آئے گا تو ہمارے جھوٹے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یاد رکھو جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو پھر کسی کو ایک لمحہ کی مہلت بھی نہ دی جائے گی۔ اگر وہ بازاروں میں ہوگا تو اس کو گھر والوں تک پہنچنے کا موقع بھی نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب زندہ ہو کر بد حواسی میں ادھر ادھر دوڑتے ہوئے رب العالمین تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہائے ! ہماری بد نصیبی کہ ہم اس عذاب کے مقابلے میں اپنی قبروں میں زیادہ آرام سے تھے نہ جانے ہمیں کس نے ہماری قبروں سے اٹھادیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہی وہ قیامت کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور ہمارے پیغمبروں نے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا ۔ جن لوگوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے ان کو جنت کی راحتیں دی جائیں گی جن میں وہ خوش و خرم اور عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے۔ انہیں ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور وہ جو بھی نعمت کی تمنا کریں گے وہ فوراً ان کے سامنے پیش کردی جائے گی ۔ انہیں وہاں دیدار الٰہی نصیب ہوگا ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آئے گا ۔ اس کے بر خلاف مجرمین کو اہل ایمان سے الگ کردیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کی آگ ہی میں رہو جنت کی راحتیں تم پر حرام ہیں ۔ وہ جھوٹ بولتے ہوئے کہیں گے کہ الٰہی ہم پر جو الزامات ہیں وہ کام ہم نے نہیں کیے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ، پاؤں اور کھالوں تک کو زبان دے دے گا اور وہ ان کے ہر گناہ پر گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا کہ جس طرح گزشتہ قوموں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور طرح طرح کی باتیں کیں اسی طرح جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو قرآنی آیات سناتے تو کہتے کہ یہ تو کوئی شاعر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا یہ لوگ کس قدر بد نصیب ہیں کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی شروع کردی اور اپنے خالق ومالک اللہ کو بھول گئے کہنے لگے کہ جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں ؟ اللہ نے فرمایا کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے جو اللہ سبز درختوں سے آگ کو پیدا کرسکتا ہے وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
یٰسٓۚ Open ayah 36:1 in the Quran reader
یٰسین،
وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader
حکمت سے بھر پور اس قرآن کی قسم
اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader
بیشک آپ اللہ کے رسولوں میں سے ( ایک رسول)
عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader
اور بالکل سیدھے راستے پر ہیں ۔
تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader
( یہ قرآن حکیم) زبردست اور رحم کرنے والے کی طرف سے اتارا گیا ہے۔
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader
تا کہ آپ ( اس کے ذریعہ سے) ان لوگوں کو آگاہ کردیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا تھا ۔ اسی لیے وہ غافل و بیخبر ہیں۔
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader
ان میں سے اکثر لوگوں پر اللہ کا عذاب ثابت ہوچکا ہے لہٰذا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader
بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے جن سے وہ تھوڑیوں تک اس طرح جکڑ دیئے گئے ہیں کہ ان کے سر اوپر کو اٹھے رہے گئے ہیں
وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader
اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر کے ( اوپر سے) اس کو ڈھانپ دیا ہے تو ان کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader
ان کے لئے یہ بات یکساں ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader
آپ ﷺ تو صرف ان لوگوں کو ہی خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کو قبول کرتے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرتے ہیں ۔ آپ ایسے لوگوں کو بخشش اور باعزت اجر وثواب کی خوشخبری سنا دیجئے۔
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader
یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور جو انہوں نے آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا اس سب کو ہم لکھ رہے ہیں اور ہم نے اس کو کھلی کتاب ( لوح محفوظ) میں محفوظ کر رکھا ہے۔
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال بیان کیجئے ۔ جب اس میں کئی رسول آئے
اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader
پھر ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا ۔ پھر ہم نے تیرے رسول سے ان کو تائیدو قوت دی ۔ تینوں نے کہا کہ ہمیں تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader
کہنے لگے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ( آدمی) ہو۔ رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ۔ تم محض جھوٹ کہہ رہے ہو ۔
قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader
انہوں نے کہا ہمارا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم بیشک ( اللہ کی طرف سے) تمہاری ( ہدایت کے لئے) بھیجے گئے ہیں ۔
وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader
ہمارے ذمہ تو کھول کھول کر واضح طریقے پر پہنچا دینا ہے۔
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader
کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں منحوس ( قدم) سمجھتے ہیں۔ اگر تم ( اپنی وعظ و نصیحتوں سے) باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار ( پتھر مار کر ہلاک) کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader
رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا تم اس کو ( نحوست کہتے ہو کہ) تمہیں سمجھایا جا رہا ہے۔ واقعی تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو ۔
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader
اور شہر کی دور کی جگہ سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم رسولوں کی پیروی کرو
اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader
(ان کا کہا مانو) ان لوگوں کے پیچھے چلو جو تم سے کوئی معاوضہ ( صلہ یا بدلہ) نہیں مانگتے۔ جب کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader
اور مجھے کیا ہوا کہ میں اس ( اللہ کی) عبادت و بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader
کیا میں اس کو چھوڑ کر ایسوں کو معبود بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے نہ تو ان ( معبودوں ) کی سفارش میرے کام آئے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ۔
اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader
اور اگر میں ایسا کروں گا تو کھلی ہوئی گمراہی میں جا پڑوں گا ۔
اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader
میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ۔ تم میری بات ( غور سے سنو) ۔
قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader
( یہ کہتے ہی اس کو شہید کردیا گیا) اسی شہید سے کہا گیا کہ تم جنت میں داخل ہو جائو ۔ وہ کہنے لگا کاش میری ( حالت اور بات) کو میری قوم جان لیتی
بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader
کہ مجھے تو میرے رب نے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کردیا ۔
وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر ( آسمان سے فرشتوں کا) لشکر نہیں بھیجا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت نہ تھی
اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader
اور ان کی سزاصرف یہ تھی کہ ایک زبردست چنگھاڑ آئی اور وہ اچانک آگ کی طرح بجھ کر رہ گئے ( مر گئے) ۔
یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader
ان لوگوں پر افسوس ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا ۔
اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی بستیوں کو ( نافرمانی کی وجہ سے) تباہ و برباد کردیا کہ وہ پھر کبھی ( ان بستیوں کی طرف) لوٹ کر نہ آئے
وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader
اور کوئی ایسا نہ ہوگا جسے ہمارے پاس حاضر نہ کیا جائیگا ۔