36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاحکام القرآن

Ayah 36:1
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو

Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر

Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائینگے

Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر الل رہے ہیں

Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو

Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے

Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

Ayah 36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

Ayah 36:17

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

Ayah 36:20

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو

Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے لیے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر ہیں

Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا

Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا بولا کاش میری قوم کو خبر ہو

Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا

Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی

Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشیں) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے

Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کیلئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس میں چشمے جاری کر دئیے

Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے

Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

Ayahs 36:38–39

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے (یہ) خدائے غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے

سورج کی روانی دلیل ربانی ہے قول باری ہے (والشمس تجری لمستقرلھا۔ اور ایک نشانی سورج بھی ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں رہتا ہے) ۔ قیامت کی نشانیاں ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں معمر نے ابواسحق سے انہوں نے وہب بن جبار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ سورج طلوع ہوتا ہے اور انسان اس کا مشاہدہ کرتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ سورج غروب ہوجائے گا اور اللہ اسے جب تک چاہے گا روکے رکھے گا پھر اسے حکم ہوگا کہ جہاں وہ پہنچاسکے گا۔ یعنی قیامت کا دن اس موقعہ پر حضرت عمر ؓ نے اس مضمون کی پوری آیت کی تلاوت کی۔ معمر کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ رات آجائے گی جس کی صبح سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو تہجد گزار لوگ حسب معمول تہجد کے لئے اٹھیں گے، لیکن وہ تہجد پڑھتے پڑھتے اکتا جائیں گے اور رات ختم ہونے کو نہیں آئے گی پھر وہ سوجائیں گے پھر اٹھیں گے اور پھر تہجد پڑھتے پڑھتے اکتا جائیں گے ۔ وہ اس طرح تین مرتبہ کریں گے لیکن رات اپنی جگہ باقی رہے گی، ستارے ٹھہرے نظر آئیں گے حتیٰ کے لوگ نیند سے اکتا کر اپنے گھروں سے نکل آئیں گے اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑیں گے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس روایت کی روشنی میں قول باری (لمستقرلھا) کے معنی یہ ہوں گے کہ سورج اس رات کھڑا ہوجائے گا اور اس کی یومیہ رفتار رک جائے گی اور اس طرح اگلے دن وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ معمر کہتے ہیں مجھے یہ روایت بھی پہنچی ہے کہ قیامت کی پہلی اور آخری نشانی کے درمیان چھ ماہ کی مدت ہوگی۔ معمر سے پوچھا گیا کہ قیامت کی نشانیاں کون کون سی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قتادہ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے پہلے جو نیکیاں کرسکتے ہو کرلو۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے، دجال، دخان اور دابۃ الارض کے نکلنے سے پہلے، فتن خاصہ سے پہلے اور فتن عامہ سے پہلے۔ “ ان سے پوچھا گیا آیا آپ کو معلوم ہے کہ ان میں سے کون سی نشانی سب سے پہلے آئے گی۔ انہوں نے کہا۔” سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ “ سب سے پہلے وقوع پذیر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ دجال کا خروج سب سے پہلے ہوگا۔ جب تک دنیا میں ایک بھی موحد باقی ہے قیامت برپا نہ ہوگی ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ثابت البنانی سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا تقوم الساعۃ علی احد یقول لا الہ الا اللہ قیامت کسی ایسے شخص پر نہیں آئے گی جو کلمہ توحید ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہوگا) یعنی جب تک دنیا میں ایک موحد بھی باقی رہے گا اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی۔ قتادہ نے (لمستقرلھا) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ” ایک وقت تک کے لئے جس سے وہ یعنی سورج آگے نہیں جاسکتا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ سورج ایک ہی رفتار اور اس کی ایک ہی مقدار پر رواں دواں ہے اس رفتار اور مقدار میں فرق نہیں پڑتا۔ ایک قول کے مطابق اس قول باری کا مفہوم یہ ہے کہ سورج اپنے بعید ترین منزل پر پہنچ کر غروب ہوتا ہے۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

سورج اور چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں قول باری ہے (لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر۔ نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت کی ہے، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے حسن سے اس قول باری کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ” یہ بات شب ہلال میں ہوتی ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ۔ واللہ اعلم۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ سورج چاند کو اس طرح نہیں پکڑتا کہ اسے اپنی شعاعوں سے ڈھانپ لے اور پھر وہ نظرنہ آئے کیونکہ سورج اور چاند دونوں مسخر یعنی تابع فرمان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو ترتیب مقرر کردی ہے اس پر چلنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے کسی کو اس ترتیب سے ہٹنے کی مجال نہیں ہے۔ ابوصالح کا قول ہے کہ ان میں سے کوئی دوسرے کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتا۔ ایک قول کے مطابق آفتاب کی مجال نہیں کہ وہ چاند کو جاپکڑے یہاں تک کہ سورج کی روشنی کی کمی چاند کی روشنی کی کمی کی طرح ہوجائے۔ ایک اور قول ہے کہ سورج اپنی رفتار کی سرعت کی بنا پر چاند کو نہیں پکڑ سکتا۔ ہمیں عبداللہ بن محمدنے روایت بیان کی ہے، انہیں حسن بن ابی ربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، معمر نے کہا ہے کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ عکرمہ کا قول ہے۔” ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ حکمرانی ہے ۔ چاند کے لئے رات کے وقت حکمرانی ہوتی ہے اور سورج کے لئے دن کے وقت، سورج رات کے وقت طلوع نہیں ہوسکتا اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ۔ یعنی جب رات ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ دن آنے سے پہلے دوسری رات آجائے۔ مہینوں کی ابتدا دن سے نہیں رات سے ہوتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہینے کی ابتدادن سے ہوتی ہے رات سے نہیں ہوتی کیونکہ قول باری ہے (ولا الیل سابق النھار۔ اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے) جب رات دن سے پہلے نہیں آسکتی اور ان دونوں کا اجتماع بھی محال ہے تو اس سے یہ امر واجب ہوگیا کہ دن رات سے پہلے آئے اور اس طرح مہینے کی ابتداء دن سے ہو رات سے نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت کی تاویل وہ نہیں ہے جو معترض نے اختیار کیا ہے بلکہ سلف سے جن اقوال کا پہلے ذکر گزر چکا ہے آیت کی تاویل ان میں سے ایک پر محمول ہوگئی۔ سلف میں سے کسی کا یہ قول نہیں ہے کہ مہینے کی ابتدا دن سے ہوتی ہے۔ اس لئے اجماع کی بنیاد پر معترض کی یہ تاویل ساقط ہے۔ نیز قمری مہینوں کے ساتھ احکام شرع کا تعلق ہے اور بلال کا ظہور سب سے پہلے رات کے وقت ہوتا ہے۔ دن کی ابتدا کے ساتھ اس کا ظہور نہیں ہوتا۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مہینوں کی ابتدا بھی رات سے تسلیم کی جائے۔ اہل علم کے نزدیک اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ماہ رمضان کی پہلی رات رمضان کا ہی حصہ ہوتی ہے اور ماہ شوال کی پہلی رات شوال کا حصہ ہوتی ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مہینوں کی ابتدا رات سے ہوتی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ تراویح کی ابتداء رمضان کی پہلی رات سے ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (اذا کان اول لیلۃ من رمضان صفدت الشیاطین فیہ۔ جب رمضان کی پہلی رات آجاتی ہے تو اسی رات شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے) یہ تمام باتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ مہینوں کی ابتدا رات سے ہوتی ہے۔ ہمارے اصحاب کا یہ قول ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے۔ ” اللہ کے لئے مجھ پر ایک مہینے کا اعتکاف لازم ہے۔ “ وہ اعتکاف کی ابتدا رات سے کرے گا کیونکہ مہینوں کی ابتداء رات سے ہوتی ہے۔