36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 36:78–83

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ (جب) ہڈیا بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

(وہی) جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز کی بقا ممکن ہوتی ہے محال نہیں ہوتی۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ قیاس اور اعتبار کو تسلیم کرنا واجب ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین پر نشاۃ ثانیہ کو نشاۃ اولیٰ پر قیاس کرنا لازم کردیا ہے۔ بعض حضرات نے قول باری (قال من حیی العظام وھی رمیم) سے یہ استدلال کیا ہے کہ ہڈیوں میں زندگی ہوتی ہے۔ انہوں نے اصل جسم کی موت کی بنا پر ہڈیوں پر موت کا حکم لگایا ہے اور انہیں مروہ قرار دیا ہے، لیکن یہ کوئی پائدار بات نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجازاً ہڈی کو زندہ کا نام دیا ہے۔ اس لئے کہ ہڈی بھی ایک عضو ہے جسے زندہ کیا جائے گا۔ جس طرح یہ قول باری ہے ( یحی الارض بعد موتھا۔ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے) حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ زمین میں کوئی زندگی نہیں ہوتی۔