36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاحکام القرآن

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

کشتی نوح میں سوار کیا قول باری ہے (وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون اور ان کے لئے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا) ضحاک اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے کشتی نوح مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اولاد کی نسبت مخاطبین کی طرف کی گئی ہے اس لئے کہ مخاطبین بھی ان کی جنس میں سے ہیں گویا یوں فرمایا : ” ذریۃ الناس “ (لوگوں کی اولاد)
Ayahs 36:42–67

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور ہم اگر چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ ان کو رہائی ملے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سو ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق تم کو خدا نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا تم تو صریح غلطی میں ہو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا ؟

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑتے ہوں گے آپکڑے گی

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاسکیں گے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلا ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا )

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا )

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو آج الگ ہوجاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم کو کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں پھر یہ راستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں ؟

جوانی کے بعد بڑھاپا لازمی ہے قول باری ہے (ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ اور ہم جس کی عمر (بہت زیادہ) کردیتے ہیں اسے اس کی خلقت میں الٹا کردیتے ہیں) قتادہ کا قول ہے۔ ہم اسے ہرم یعنی بہت بڑھاپے کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں جس کی بنا پر اس کی حالت قویٰ کی کمزوری اور بیخبر ی کے لحاظ سے بچے کی حالت کے مشابہ ہوجاتی ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ہم اسے قوت وطاقت دینے کے بعد کمزوری اور ضعف سے، نیز جسم کی فربہی کے بعد لاغری سے اور تروتازگی ونشاط کے بعد خشکی اور سستی سے دو چار کردیتے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ومنکم من یرد الی ارذلی العمر اور تم میں سے وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے) انتہائی بڑھاپے کی عمر کو نکمی عمر اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں کمی کے بعد اضافے اور لاعلمی کے بعد علم کی طرف رجوع کرنے کی کوئی توقع اور آس نہیں ہوتی۔ جس طرح بچے کے بارے میں یہ توقعات ہوتی ہیں کہ ابھی اگرچہ وہ کمزور ہے لیکن اس کے جسم میں قوت آجائے گی اور ابھی اگرچہ اسے کچھ خبر نہیں لیکن آگے چل کر باخبر ہوجائے گا۔ اس نظریہ قول جاری ہے (ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ ۔ پھر اللہ نے قوت وطاقت دینے کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا) ۔
Ayahs 36:69–77

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چار پائے پیدا کر دئیے اور یہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لئے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہر گز) طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کئے جائیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ تمہارے سامنے وہ باتیں ظاہر کردے گا جن سے تم ابھی تک ناواقف ہو اور تمہیں وہ شخص خبریں سنائے گا جسے تم نے اس کام کے لئے کوئی تو یہ وغیرہ نہیں دیا ہے۔ معمر کہتے ہیں کہ حضور ﷺ اس شعر کے آخری مصرعے کی ترتیب بدل کر یوں پڑھتے : ع ” یاتیک من لم تزود بالاخبار “ اس موقعہ پر حضرت ابوبکر ؓ عرض کرتے ہیں ” اللہ کے رسول ﷺ ! یہ مصرعہ اس طرح نہیں ہے۔ “ آپ جواب میں فرماتے ۔” میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہو شعروں سے میری مناسبت ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو شعر گوئی کا علم نہیں دیا تھا۔ اس لئے اس نے آپ کو شعر پڑھنا بھی نہیں سکھایا تھا کیونکہ یہ ایک ایسا ذوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاعری کا ذوق اس لئے عطا نہیں کیا کہ کہیں اس سے بعض لوگوں کو یہ شبہ نہ پیدا ہوجائے کہ شاعرانہ ذوق کی بنا پر نعوذ باللہ آپ نے قرآن بھی اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ جب درج بالا آیت کی یہ تاویل کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرے سے شعر گوئی کا ذوق عطا نہیں کیا تھا تو اس صورت میں کسی اور شاعر کا شعر پڑھنے میں کوئی امتناع نہیں تاہم کسی صحیح روایت سے یہ بات ثابت نہیں کہ آپ نے کبھی کسی شاعر کا کوئی شعر پڑھا ہو اگرچہ یہ مروی ہے کہ آپ نے یہ شعر کہا تھا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت اے نیری انگلی، تو اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے لیکن تجھے جو کچھ برداشت کرنا پڑا ہے وہ اللہ کی راہ میں برداشت کرنا پڑا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ حضور ﷺ کا شعر نہیں ہے بلکہ کسی صحابی کا شعر ہے نیز جو شخص ایک آدھ شعر کہہ لیتا ہے یا کسی اور شاعر کے ایک دو شعر پڑھ لیتا ہے وہ شاعر نہیں کہلاتا اور نہ ہی اس پر اس امر کا اطلاق ہوتا ہے کہ اسے شاعری آگئی ہے یا اس نے شاعری سیکھ لی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو تیراندازی اچھی طرح نہیں آتی بعض دفعہ اس کا تیر نشانے پر جالگتا ہے لیکن اس کی بنا پر وہ تیرانداز نہیں کہلاتا۔ اور نہ ہی اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اسے تیراندازی کا فن آگیا ہے۔ اسی طرح جو شخص ایک آدھ شعر کہہ لیتا ہے یا کسی اور شاعر کے ایک دو شعر پڑھ لیتا ہے وہ شاعر نہیں کہلاتا۔