36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsسراج البیان

Ayahs 36:1–11

یٰسٓۚ Open ayah 36:1 in the Quran reader

یٰسین (ف 1)

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

حکمت والے قرآن کی قسم

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک تو رسولوں میں سے ہے

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھی راہ پر غالب

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

مہربان کا نازل کیا ہوا ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تو اس قوم (عرب) کو ڈرائے جن کے باپ داد سے نہیں ڈرائے گئے ۔ بس وہ غافل ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں بہتوں پر بات ثابت ہوچکی ہے پس وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ان کی گردنوں میں طوق ڈالے ہیں ۔ سو وہ ٹھوڑیوں تک ہے ۔ پھر ان سر الل (یعنی اونچے) ہورہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار بنائی ہے ۔ اور ان کے پیچھے ایک دیوار بنائی ہے پھر ہم نے انہیں ڈھانپ لیا سو وہ نہیں دیکھتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لئے برابر ہے کہ تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تو تو اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت مانے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے سو تو ایسے کو مغفرت اور عزت کے اجر کی بشارت دے

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس کا ایک خاص پیغام کا حامل ہونا ور مدلل ومبرمین ہونا ۔ یہ سب باتیں اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں ۔ کہ یہ کتاب کسی انسان کے دماغ کا نتیجہ نہیں ہے ۔ پھر اس میں ایسے علمی خوارق ہیں ۔ جن پر کوئی بشر پہلے سے آگاہ نہیں ہوسکتا ۔ یہ واقعہ ہے ۔ کہ انسانوں کے لئے اس سے بڑا معجزہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ کہ ایک امی آج سے چودہ سو سال قبل ایک ایسی کتاب پیش کرے ۔ جو آج بھی نہ صرف لائق عمل ہو بلکہ واجب العمل ہو ۔ اور آج بھی جو مذہب کا تخیل پیش کرے ۔ وہ انسانی عقول نے صدیوں کے علم کے بعد حاصل کیا ہے ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ اس قرآن حکیم کو دیکھو ۔ اس کی خوبیوں کی تخیل کرو ۔ اس کے فضائل کو ٹٹولو ۔ اور اس کے پیغام کو بنگاہ وقت و عبرت دیکھو ۔ تم بول اٹھو گے ۔ کہ اس کو پیش کرنے والا اللہ کا رسول ہے ۔ اور یہ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کی جانب دعوت دیتی ہے ۔ اور عزت ورحمت کا سزا وار بنادیتی ہے ۔ یہ اتمام حجت ہے ۔ ان لوگوں پر جو اس سے پیشتر فیوض نبوت سے محروم رہے ہیں ۔ اور جن کی یہ خواہش رہی ہے ۔ کہ ہم میں بھی کوئی پیغمبر مبعوث ہو ۔ جو ہمارے لئے شرف ومجد کا موجب ہو ۔ مگر اب جب ان کی آرزو پوری ہوچکی ہے ۔ اور اللہ کے فضل سے ایک داعی نے انہیں بیدار کرنا شروع کردیا ہے ۔ تو یہ اور زیادہ الجھ رہے ہیں ۔ اور عمداً صداقت کا انکار کررہے ہیں ۔ ان کے لئے فطرت کا فیصلہ یہی ہے ۔ کہ یہ ایمان کی دولت سے قطعی محروم رہیں ۔ ان کی گردنوں میں رسم و رواج کے گرانبار طوق پڑے ہیں ۔ اور ان کے آگے اور پیچھے تعصب وخود پسندی کی دیواریں کھڑی ہیں ۔ اس لئے ان میں یہ استعداد ہی نہیں رہی ۔ کہ ہدایت کو قبول کرسکیں اور حقائق کر دیکھ سکیں ۔ فرمایا کہ آپ چاہے ان کو کتنا ہی خشیت اور خوف الٰہی سے متائر کریں ۔ ان پر مطلق اثر نہیں ہوگا ۔ ان کے دلوں میں وہ شئے لطیف ہی نہیں ہے اور وہ جس ہی موجود نہیں ۔ جو ایمان کا ذریعہ بن سکے ۔ کیونکہ متاثر تو وہ ہوتا ہے ۔ اور قلب تو اس شخص کا انوار قرآنی سے روشن ہوتا ہے ۔ جو قرآن کی پیروی کرے اور اس کی یہ خواہش ہو کہ قرآن کی برکتوں اور سعادتوں سے اپنا دامن بھرلے ۔ وہ رحمن سے ڈرتا ہے ۔ حالانکہ اس نے اس کو دیکھا تک نہیں ہے ۔ یہی لوگ درحقیقت بخشش اور اجر کے مستحق ہیں ۔ اور اس لائق ہیں ۔ کہ آپ ان کو باقاعدہ ان کی کامیابی پر خوشخبری سنائیں ۔ حل لغات :۔ اغلالا ۔ غل کی جمع ہے ۔ بمعنی طوق آہنی ، عدم ابتداء سے کنایہ ہے الاذقان ۔ ذقن کی جمع ہے ۔ بمعنے ٹھوڑی سدا ۔ دیوار ۔
Ayahs 36:12–14

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم ہی مردے جلاتے ہیں اور جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو ان کے پیچھے نشان رہے (سب کچھ) لکھتے ہیں اور ہر شئے ہم نے ایک کھلی کتاب میں شمار کر رکھی (ف 1) ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور تو ان کے لئے مثال کے طور پر اس گاؤں والوں کا حال بیان کر جب اس بستی میں رسول آئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے ۔ تو ان دونوں کو جھٹلایا ۔ پھر ہم نے تیسرے سے ان کی مدد کی تب انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

ضبط اعمال کا نظریہ 1: ضبط اعمال کا نظریہ قرآن حکیم نے پیش فرمایا ہے ۔ اور یہ نظریہ ان محترعات علمی سے ہے جن کو آج پیش کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک گفتگو کا تعلق تھا ۔ اب یہ مشاہدہ ہے ۔ کہ ہر لفظ جو زبان سے نکلتا ہے ۔ پتھر کے تموجات اس کو فضا میں پھیلا دیتے ہیں ۔ اور وہ گم نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں ایسے آلات نصب ہوں ۔ جو ان تموجات کو اپنی گرفت میں لے سکیں ۔ تو فضا میں منتشر اقوال صاف سنائی دینے لگتے ہیں ۔ چاہے متکلم اور سامع میں ہزاروں کوس کا فاصلہ ہوا ۔ اس طرح یہ بھی صحیح ہے ۔ کہ نفس اعمال کے الزات بھی ضائع نہیں جاتے ۔ فضا میں ایسے برقی ذرات ہیں (الیکڑان) جو ان کو زندہ جاوید بنا دیتے ہیں ۔ مگر ابھی تک یہ نہیں معلوم ہوسکا ۔ کہ ان اعمال کے ضبط کی کیا ضرورت ہے ۔ بہرحال یہ مسئلہ کہ فرشتے اعمال کو لکھ لیتے ہیں ۔ صرف مذہبی افسانہ نہیں رہا ہے ۔ بلکہ یہ ایک طبعی حقیقت بن گیا ہے ۔ اور انسانی علم جس قدر آگے بڑھے گا ۔ وہ یہ دیکھے گا ۔ کہ مذہب اور سائنس کی حدود آپس میں مل رہی ہیں ۔ اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ۔
Ayahs 36:15–19

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے تم تو ہماری مانند آدمی ہو ۔ اور رحمن نے تو کوئی شئے نازل نہیں کی تم سب جھوٹ بولتے ہو (ف 2)

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

بولے ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے آئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارا ذمہ تو صرف کھول کر پہنچا دیا ہے

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے تو تمہیں نامبارک پایا اگر تم باز نہ آؤ گے ، تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کردیں گے اور ہم سے تمہیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسول بولے تمہاری نامبارکی تمہارے ساتھ ہے ۔ کیا اس (سبب سے) کہ تمہیں نصیحت دی گئی (ہمیں نامبارک بتلاتے ہو ؟ ) کوئی نہیں بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ حد پر قائم نہیں رہتے

ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس مبعوث ہوکر آئے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ کہ تم کیونکر رسول ہوسکتے ہو ۔ جب کہ تمہاری حالت ہم سے مختلف نہیں ہے ۔ تم بھی انسان ہو ۔ اور ہم بھی انسان ہیں ۔ تم محض جھوٹ بولتے ہو ان کے نقطہ نگاہ میں نبوت کے لئے ضروری تھا ۔ کہ وہ بشر نہ ہوں ۔ انبیاء نے جواب دیا ۔ کہ ہمارا خدا جانتا ہے ہم جھوٹ نہیں بولتے ۔ ہم اسی کی طرف سے مامور ہوکر آئے ہیں ۔ ہمارا کام محض یہ تھا ۔ کہ اتمام حجت کے طور پر اس کا پیغام تم تک پہنچادیں ۔ اب اگر تم نہیں مانتے ہو ۔ تو اس کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی ۔ ان بدبختوں نے کہا کہ تمہارے پیغام میں ہمارے لئے کوئی سعادت موجود نہیں ۔ بلکہ ہم تمہیں منحوس خیال کرتے ہیں ۔ اور اگر تم اس طرح وعظ ونصیحت سے باز نہ آئے ۔ تو پھر ہم تم کو ہلاک کرڈالیں گے ۔ اور سخت تکلیف پہنچائیں ۔ حل لغات :۔ اثارھم ۔ اعمال فعززنا ۔ عزت سے ہے یعنی تیسرے کے ساتھ قوت و استحکام بخشا ۔
Ayahs 36:20–22

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے سرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا ۔ بولا اے قوم ان رسولوں کے تابع ہو (ف 1) ہوجاؤ

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

جو تم سے مزدوری نہیں مانگتے ۔ اور راہ پائے ہوئے ہیں

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہوا کہ میں اس کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم اسی کی طرف پھر واپس جاؤ گے

ف 2: اللہ کے ان رسولوں نے جب یہ سنا تو فرمایا نحوست و محرومی تو تمہارے حصہ میں آئی ہے ۔ خدا سے نہیں ڈرتے ہو ۔ کیا وعظ ونصیحت کے معنے نحوست کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفس توازن کھوچکے ہیں ۔ اور تم مسرف لوگوں میں سے ہو ۔ اتنے میں ان لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے توفیق ہدایت دی ۔ اور وہ بھاگا ہوا آیا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہیں ۔ ان کا تتبع کرو ۔ دیکھو وہ تم سے اجر اور صلہ نہیں مانگتے ۔ خودراہ راست پر گامزن ہیں اور تم کو بھی صراط مستقیم پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سارے قصہ سے مقصود یہ ہے کہ حضور کو تسلی دی جائے اور بتایا جائے ۔ کہ آپ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں ۔ اور لوگوں نے سختی سے ان کی تکذیب کی ہے ۔ پھر ان میں سے بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت کے لئے چن بھی لیا ہے ۔ جنہوں نے اپنی گمراہ قوم کی مخالفت کرکے دین قویم کو تھام لیا ہے ۔ اس لئے مایوس نہ ہوں ۔ انہیں مکہ والوں میں اللہ تعالیٰ ایسے تفوس قد سیہ پیدا کردے گا جو آپ پر ایمان لائیں گے ۔ اور آپ کے دست حق پرست پر بعیت کریں گے ۔ حل لغات :۔ تطیرنا ۔ طائر سے ہے ۔ عرب پرندوں سے بدحالی لیتے ہیں ۔ اس لئے تطیر کے معنے منحوس سمجھنے کے ہیں ۔
Ayahs 36:23–26

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا ایسوں کو معبود مان لوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کام نہ آئے ۔ اور نہ وہ مجھ کو چھڑا سکیں (ف 1)

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

البتہ اس صورت میں میں صریح گمراہی میں رہوں

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

رائے سونو ، بیشک میں تمہارے رب پر ایمان لایا سو تم مجھ سے سن لو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں چلا جا ۔ بولا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہو

میں کیوں خدا کی عبادت نہ کروں ؟ 1: جب کسی قوم نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ تو انہیں میں ایک مرد مومن اٹھا اور جس نے ان کی ہمنوائی کی ۔ اس نے کہا کہ اے قوم تم مجھے توحید پر ملامت کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میں ایک خدا کی پرستش کیوں کرتا ہوں ۔ مجھے تو اس بات میں کوئی وجہ معقول نظر نہیں آتی ۔ کہ رب فاطر کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکوں ۔ آخر کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں ۔ جس نے مجھے وجوہ کی نعمت سے نواز ہے ۔ اور پھر بالآخر اسی کی جانب لوٹ جانا ہے ۔ کیا تمہاری رائے ہے ۔ کہ میں خدا کو چھوڑ دوں اور ایسے معبودان باطل کو اپنا خدا سمجھ لوں ۔ جن کا کائنات میں کوئی حصہ نہیں ۔ جو اختیارات سے محروم ہیں ۔ اور اگر مجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کو دور نہ کرسکیں ۔ اور نہ دور کرنے کی سفارش کرسکیں ۔ اگر میں ایسی بےاختیار شخصیتوں کے سامنے سر نہ جھکاؤں تو کیا یہ کھلی گھراہی نہ ہوگی ۔ اس مرد مومن کے طرز استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عقیدہ توحید کو اپنے ذاتی وجدان کے معیار پر رکھ رہا ہے ۔ اور وہ اپنے قلب کی آواز کو بیان کررہا ہے ۔ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرا دل تو اس رب کے احسانات سے معمور ہے ۔ جو میرا مالک اور آقا ہے ۔ اب میں اس خدا کو جو میری ساری کائنات پر چھارہا ہے کیسے چھوڑ دوں ؟ کیا مٹی کے بیجان بتوں کے لئے ؟ پتھر کے بےحس مجسموں کے لئے ؟ مورتیوں کے لئے ۔ مجھے تو ان میں کوئی زندگی نظر نہیں آتی ۔ یہ کیونکر میری تکلیفوں کو دور کرسکیں گے ؟ ان اصنام میں یہ قدرت کہاں ہے کہ مصیبت زدہ انسان کی دستگیری کرسکیں ؟ پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد اسی خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے ۔ اگر اس نے پوچھا تو جواب کیا ہوگا ؟ جبکہ بت پرستی پر اپنا ہی دل مطمئن نہیں ۔ تو ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق مطمئن کرسکیں گے ۔ حقیقت تو یہ ہے ۔ کہ اگر انسان بالکل خالی الذہن ہوکر اس مسئلہ پر غور کرے اور خود اپنی فطرت کو راہنما ٹھہرائے تو ناممکن ہے کہ بجز توحید کے وہ کسی دوسرے مخالف نظرئیے کو تسلیم کرسکے
Ayahs 36:27–28

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ ساتھ کس چیز کے مجھے میرے رب نے بخش دیا اور مجھے عزت والوں (ف 2) میں کیا

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی فوج نازل نہیں کی اور ہم فوجیں نہیں اتارا کرتے

ف 2: اس مرد مومن نے قوم کی مخالفت کی اور سختی کے ساتھ ان مقصدات پر تنقید کی ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ قوم میں عداوت کے جذبات بھڑک اٹھے اور وہ اس کی جان کے لاگو ہوگئے اور اس کو شہید کرکے انپے زعم میں انہوں نے اس کو حیات عارضی کی نعمتوں سے محروم کردیا ۔ مگر وہاں فرشتوں نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ آؤ جنت میں تمہارا مقام ہے ۔ اور ایمان کی یہ گراں قیمت ادا کرنے پر تمہارے لئے یہ دائمی ، مقامات ہیں ۔ اس وقت اس کے دل میں اپنی بدبخت قوم کی شقاوت کے متعلق خیال آیا ۔ اس نے کہا اے کاش ان لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے کن مکرمات کا انتظام کررکھا ہے ۔ حل لغات : ینقدؤن ۔ انقاذ سے ہے جس کے معنے چھڑانے کے ہیں ۔ جند ۔ لشکر ۔ صحیحہۃ سخت آواز
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

کہ ایسوں کو ٹھنڈا (ف 3) کرنے کو بس ایک ہماری ڈانٹ ہی کافی ہوتی ہے ! ان کا عذاب صرف ایک چنگھاڑ تھی کہ وہ فوراً بجھے رہ گئے

ف 3: اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان قدروقیمت کے لحاظ سے ساری کائنات پر خالق ہے ۔ اس لئے اس کو تکلیف دینا گویا اللہ کی غیرت کو چیلنج دیتا ہے ۔ چناچہ جب ان محرومان ازل نے اس مرد جانباز کو شہید کردیا ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکا اور ایک سخت تنیز آواز نے ان کی شمع حیات کوفی الفور بجھا کر رکھ دیا اور خرمن زندگی کو یکسر خاکستر کردیا ۔
Ayahs 36:30–32

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے جب کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس آیا انہوں نے اس کی ہنسی ہی اڑائی (ف 1)

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کس قدر امتیں ان سے پہلے ہلاک کیں کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے ؟

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور ان سب میں کوئی نہیں کہ جو جمع ہوکر ہمارے پاس پکڑ سے نہ آئیں ؟

ف 1: غرض یہ ہے جب انکار وسرکشی کی سزا ہلاکت ہے اور اقوام وعلل کی تاریخ بتارہی ہے ۔ کہ جب بھی اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا گیا ہے موت اور تباہی نے آگھیرا ہے ۔ اور ناممکن ہے کہ کوئی گروہ اللہ کے اس قانون مکافات سے بچ سکے اور جب یہ بھی صحیح ہے کہ سب لوگوں کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ضرور ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ تو پھر اس کفر کا فائدہ کیوں نہ سب لوگ اس کی چوکھٹ پر جھکیں ۔ اور اس کی عظمت کا اقرار کریں ؟ کیوں نہ اس کے رسول کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ اور اپنی زندگی سنوار لیں ۔ کیوں نہ ایسا ہو کہ سب لوگ ایک رنگ میں نظر آئیں ۔ سب خدا کے پرستار نہیں ۔ سب کے دلوں میں خدا محبت ہو ۔ سب اسی سے ڈریں ۔ اور اسی سے ہر طرح بھلائی کی امید رکھیں ۔
Ayahs 36:33–35

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا سو اسی میں سے وہ کھاتے ہیں ۔ (ف 2)

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں سے کھجور اور انگور کے باغ لگائے اور ان میں چشمے جاری کریں

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

کہ وہ اس کے پھلوں میں سے کھائیں اور اسے ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا ۔ پھر کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟

فطرت کے انعامات 2: ان آیات میں مظاہر فطرات کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ تم دیکھوں عنایات الٰہیہ نے تمہیں کس درجہ مسنون کر رکھا ہے ۔ تمہارے کھیت جب سوکھ جاتے ہیں اور تمہارے باغات جب خشک اور خزاں پذیر ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت اللہ اپنی قدرت کاملہ سے ان میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے ۔ اور وہ مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اس میں غلہ پیدا ہوتا ہے ۔ اور تم اس کو کھاتے ہو ۔ پھر یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے تمہارے لئے زمین میں عمدہ عمدہ باغات پیدا کر رکھے ہیں جن میں کھجوریں اور انگور ہوتے ہیں ۔ اور ان باغات میں چشمے جاری ہیں ۔ تم ان پھلوں کو کھاتے ہو ۔ حالانکہ اس میں تمہاری صنعت کاری کو کوئی دخل نہیں ۔ تو کیا وہ خدا اس لائق نہیں ۔ کہ تم اس کا شکر ادا کرو ۔ حل لغات :۔ لما ۔ اس جگہ حرف استشا کے معنوں میں ہے اعناب ۔ عنب کی جمع ہے ۔ بمعنی انگور العیون ۔ جمع ہے عین کی ۔ بمعنے چشمے ۔
Ayahs 36:36–39

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ پاک ذات ہے جس نے تمام مقابل قسموں کو پیدا کیا نباتات زمین کے قبیل سے بھی اور (خود) ان آدمیوں میں سے بھی اور ان چیزوں میں سے جن کو عام لوگ نہیں جانتے (ف 1)

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور نشانی ان کے لئے رات ہے کہ ہم اس سے کھال کی طرح دن کو اتار لیتے ہیں ۔ پھر ناگاہ وہ تاریکی میں آجاتے ہیں

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنی قرار گاہ پر چلا جاتا ہے ۔ یہ اندازہ غالب جاننے والا ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چان کی ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی (سوکھی) شاخ کی مانند ہوجاتا ہے

ف 1: وہ کس قدر پاک اور بلند ذات ہے جس نے بوقلموں نباتات کو پدیا کیا ۔ اور گوناگوں انسانوں کو بنایا ہے ۔ اور ایسی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ۔ جن کو عام لوگ نہیں جانتے ۔ سوچنے والوں کے لئے اس بات میں بھی بڑی نشانی ہے کہ وہ کیونکر رات کی تاریک فضا سے دن کو اجالا نمودار کرتا ہے اور دن پر سے جب اس کے سفید لبادے کو اتارر دیتا ہے ۔ تو کس طرح سے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں ۔ آفتا کے لئے حرکت کا ایک اندازہ مقرر ہے ۔ اسی طرح چاند کی بھی منزلیں ہیں ۔ جن میں سے وہ گزرتا ہے کبھی ہلال ہوتا ہے کبھی بدر منیر ہوکر چمکتا ہے اور کبھی کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک ہوجاتا ہے پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے ۔ کیا یہ سب حقائق اس قابل نہیں ہیں کہ تمہاری فطرت کا ابھار سکیں ۔ اور تمہیں توحید کے جلوں سے آگاہ کرسکیں ؟ تم اگر کائنات میں حلیمانہ انداز سے سوچو گے ۔ اور ان نعمتوں پر غور کرو گے ، تو تمہاری نظریں ضرور بلند ہوجائیں گی ۔ اور تم ضرور سچے خدا کے پرستار بن جاؤ گے ۔ اس مشاہد سے تمہارے دلوں میں فطرت کی سادگی اور صداقت کا یقین پیدا ہوجائیگا ۔ اور تم شکوک کی بھول بھلیوں سے نکل کر توحید کے کھلے اور کشادہ صحن میں آجاؤ گے ۔