36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 36:1–13

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے حکمت والے قرآن کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک آپ پیغمبروں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر ہیں

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ قرآن ، اللہ) زبردست ، مہربان کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے تھے سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

بیشک ان میں سے اکثر برحق (اللہ کی) بات پوری ہوچکی ہے پس وہ (ہرگز) ایمان نہ لائیں گے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

یقینا ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں سو وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے) ہیں ، پس وہ سر اونچا کر رہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار بنا دی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار پھر ان کو ڈھانپ دیا سو وہ (اس کو) دیکھ نہیں سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لئے آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈراسکتے ہیں جو نصیحت پر عمل کرے اور رحمن (اللہ) سے بن دیکھے ڈرے سو اس کو بخشش اور بڑے عمدہ صلہ کی خوشخبری دیجئے

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور جو نشان پیچھے چھوڑ آئے ہیں ہم اس کو لکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کیجئے ، جب وہاں (اس بستی میں) پیغمبر آئے

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ ہر کام اور ہر بات میں وہی رائے درست اور وہی راہ سیدھی ہے جو آپ ارشاد فرما دیں اور اس کی یہ حقانیت اس بات کی دلیل بھی ہے کہ اسے اللہ نے نازل فرمایا ہے جو سب سے زبردست بھی ہے اور سب پر رحم کرنے والا بھی اور اس کے نزول کا مقصد بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت دکھانا ہے کہ جن کی کئی پشتوں میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر آپ ﷺ کی بعثت تک پوری انسانیت کے لیے کوئی نبی نہ تھا جس کے سبب لوگ غفلت میں گرفتار ہوگئے مگر آپ کی بعثت اور اتنی بڑی نعمت کے باوجود بھی کچھ لوگوں پر اللہ کی وعید صادق آئی اب انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی کہ گناہ اور جرائم سے دل پہ سیاہی بڑتی جاتی ہے حتی کہ وہ حد آجاتی ہے جہاں نہ صرف توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے بلکہ فکر و شعور میں ٹیڑھا پن آجاتا ہے اور بندہ قلبی اندھے پن کا شکار ہوجاتا ہے ان کی بھی مثال ایسی ہی ہے جیسے ان کے گلے میں بہت بڑے بڑے طوق پڑے ہوں جنہوں نے ٹھوڑیوں تک کو اوپر اٹھا رکھا ہو اور سرا اوپر ہی جھول رہے ہوں کہ راستہ دیکھ ہی نہ سکتے ہوں یا ان کے ہر طرف ایسی دیوار چن دی گئی ہو کہ انہیں کچھ نظر نہ آتا ہو۔ اور جب وہ دیوار اوپر سے ڈھانپ بھی دی جائے تو یہ بالکل تاریکی گھر گئے لہذا انہیں کچھ نظر نہیں آسکتا۔ یہ مثال ان کے اعمال بد کی ہے کہ بڑھتے بڑھتے انہوں نے ان کی چشم بصیرت کا ہر طرف سے گھیراؤ کرلیا۔ اللہ کریم نے یہ دیواریں چننے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے کہ ہر طرح اجر تو وہ ذات واحد ہی مرتب کرتی ہے مگر اس کا سبب ان لوگوں کا کردار ہے لہذا آپ انہیں انجام بد کی خبر دیں تو بھی ان کا وہی حال ہے جو خبر نہ دینے سے ہوتا ہے کہ ان سے توفیق ایمان ضائع ہوچکی اب یہ ایمان نہ لائیں گے۔ ارشاد نبوی قبول کرنے کے لیے استعداد شرط ہے : آپ ﷺ کے ارشادات تو صرف وہ لوگ قبول کریں گے جن میں نصیحت قبول کرنے کی استعداد ہوگی تب وہ غائبانہ اور بن دیکھے اللہ کی عظمت و جلالت کے سامنے سر جھکا دیں گے اور ان کے دل میں اس بہت بڑے رحم کرنے والے پر فدا ہونے کا جذبہ جاگ اٹھے گا ایسے لوگوں کو بخشش کی بشارت دیجیے کہ اگر بتقاضائے بشری ان سے خطا بھی ہوگئی تو اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے وہ بخش دے اور ان کے نیک اعمال پر بہت ہی زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ یہ ہماری ذات اور قدرت کاملہ کا کام ہے کہ مردہ کو زندہ کرتے ہیں یعنی جس کی تخلیق وسعت کائنات میں بکھر کر اس کی خلاقی پہ شہادت دے رہی ہے وہی ذات مردوں کو زندہ کرے گی اور نہ صرف زندہ کریگی بلکہ ان سے حساب بھی لے گی اور اس معاملہ میں بھی اسے کسی کی احتیاج نہیں اس کا علم اس قدر وسیع ہے اس نے ان کے اعمال اور اعمال کے اثرات تک ہر شے پوری پوری شمار کرکے ان سے پہلے یعنی ان کے قبر میں پہنچنے یا میدان حشر میں حاضری سے پہلے لکھ رکھی ہے یہاں یہ ارشاد بھی فرما دیا کہ ہر عمل کا جو اثر اور نتیجہ ہوگا جیسے کسی نے کنواں راستہ مسجد مدرسہ یا نیک اور مسلم ریاست میں لوگوں کی بھلائی کا کوئی کام کیا جب تک اس کے اثرات رہیں گے اجر لکھا جاتا رہے گا ایسے ہی برائی کے کامون کی داغ بیل ڈالنے والے ان کے اثرات بھگتیں گے اور سب سے بڑا ظلم مسلمانوں کو غیر اسلامی طرز حکومت میں جکڑنا ہے بعد میں جب تک اس میں گرفتار رہیں گے اس کا اہتمام کرنے والوں کے اعمالنامے سیاہ ہوتے رہیں گے ۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اور اپنی پناہ میں رکھے اور کافرانہ نظام کو تبدیل کرکے نفاذ اسلام کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayahs 36:14–21

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے (پیغمبر) سے تائید فرمائی تو انہوں نے فرمایا بیشک ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم ہماری طرح صرف (عام) آدمی ہو اور رحمن (اللہ) نے تو کوئی چیز نازل نہیں فرمائی تم تو محض جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا ہمارا پروردگار جانتا ہے یقینا ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ کہنے لگے بیشک ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے مار ڈالیں گے۔ اور ہماری طرف سے تمہیں سخت تکلیف پہنچے گی

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا (اور) کہنے لگا اے میری قوم ! (ان) پیغمبروں کی راہ پر چلو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے معاوضہ نہیں مانگتے اور ہ خود راہ راست پر بھی ہیں

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ انہیں یہ کہہ دیا کہ آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس پر اللہ کی شان کریمی کہ ایک اور نبی بھیج دیا تاکہ ان دونوں کی بات کی تائید کرے اور لوگوں کو سمجھانے میں معاون ہو چناچہ اس نے بھی جا کر دعوت دی اور کہا کہ ہم سب اللہ کی طرف سے تمہاری طرف مبعوث ہوئے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو تم لوگوں میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آتی بلکہ تم لوگ بھی ہماری ہی طرح بشر ہو۔ یہ عجیب بات ہے کہ کسی نے نبی کو بشر مان کر اس کی نبوت کا انکار کردیا تو کسی کو نبوت ماننے کی توفیق ہوئی تو نبی کے بشر ہونے سے انکار کردیا حق یہ ہے کہ انبیاء آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور بشر ہی ہوتے ہیں مگر ہماری طرح بشر نہیں بلکہ ان کے قلوب ان کے وجود مھبط وحی ہوتے ہیں غیر نبی کی بشریت نبی کی بشریت کی مثل نہیں ہوسکتی ان کی بشریت بھی غیر نبی کی روحانیت تک سے لطیف تر ہوتی ہے نیز کہنے لگے کہ اللہ کے رحمن ہونے کی بات الگ مگر اس نے کچھ نازل نہیں فرمایا یہ سب آپ لوگوں نے گھڑ لیا ہے تو ان کا اللہ کو رحمن ماننا بھی مذاق تھا جب انبیاء کی نبوت کا انکار کردیا اس طرح تو مجبورا ہر باطل فرقے کو بھی بالآخر ایک سب سے بڑی طاقت ماننا ہی پڑتی ہے انبیاء نے فرمایا کہ دلائل عقلی اور نقلی تمہارے سامنے ہیں اس کے بعد اللہ ہی کی شہادت ہے ہم اس کی قسم بھی دیتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں تمہارے پاس مبعوث فرمایا ہے اور یہ بھی سن لو ہماری ذمہ داری بات کا پہنچانا تھا ماننے یہ نہ ماننے کا اختیار تمہارے پاس ہے اور نتیجہ بھی تم لوگ ہی بھگتو گے۔ لوگ برائی کو فساد نہیں کہتے بلکہ برائی سے روکنے کو فساد کہتے ہیں : تو لوگوں نے کہا کہ تم لوگ نبوت کے دعوے کرتے ہو حالانکہ تم سے پہلے یہاں کا ماحول پر امن تھا تم لوگ آئے نئی باتیں ہوئیں لوگ مختلف آراء ہوگئے اختلافات بڑھ گئے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ سب تم لوگوں کی نحوست ہے تم لوگ تو بھلے آدمی بھی نہیں ہو اور اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے نہ صرف یہ بلکہ پہلے خوب ایذا دیں گے اور سخت سزاؤں کے بعد پھر پتھر مار مار کر قتل کردیں گے۔ انبیاء نے جواب دیا کہ بھلا برائی اور کفر پر کبھی اتحاد ہوا کرتا ہے یہ تو اجتماعی خود کشی کی طرح ہے کہ آخر کار سب کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور حق کی طرف بلانا تو اس مصیبت سے بچانے کے لیے ہے۔ ہاں دعوت حق کی مخالفت کرنے والا فسادی ہوتا ہے جو تم کر رہے ہو اور کفر پہ جم رہنا ہی سب سے بڑی منحوس بات ہے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے اور اس میں اس قدر ڈوب گئے ہو کہ اتنی سی بات پر بھڑک اٹھے ہو اور اس قدر زیادتی کرنا چاہتے ہو حالانکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے تمہیں نصیحت کی گئی ہے۔ اسی شہر کے دوسرے سرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا جو ایمان قبول کرچکا تھا اور قوم کو انبیاء سے جھگڑا کرنے کی خبر پا کر بھاگا آیا اور سب سے کہا اے میری قوم میں تو تمہارے ہی میں سے ایک ہوں مجھ پر اعتماد کرو تمہاری بھلائی اللہ کے رسولوں کی اطاعت میں اور ان کی اطاعت قبول کرلو۔ دیکھو انہیں تم سے لالچ ہے نہ تم سے کوئی مطالبہ اور بات جو کہتے ہیں وہ بھی حق ہے تو بھلا نہ ماننے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ (پارہ تئیس شروع ہوتا ہے)
Ayahs 36:22–32

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا اور تم سب کو (بھی) اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ کہ اگر وہ بڑا مہربان مجھے کچھ تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان (معبودوں) کی سفارش میرے کچھ کام آئے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں۔ اگر میں ایسا کروں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تو یقینا میں صریح گمراہی میں جا پڑا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا سو تم (بھی) میری بات سنو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ (جا) بہشت میں داخل ہوجا وہ بولا کاش ! میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے عزت داروں میں شامل کردیا

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہی ہم اتارنے والے تھے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک سخت چنگھاڑ تھی پس اسی دم وہ بجھ کر رہ گئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس اپنے بندوں پر کہ کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا جس کی انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتوں کو تباہ کرچکے کہ وہ (پھر) ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور وہ سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کیے جائیں گے

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا وہ جس کی اس کے علاوہ میں اطاعت اختیار کروں اس کے مقابلے میں مجھے کچھ بھی کام نہ آسکے چھڑانا تو درکنار میری سفارش بھی نہ کرسکے کہ اس کے ہاں سفارش بھی اسی کی ہوگی جس کی اس نے اجازت دی ہو اور اس کے مقرب ہی کرسکیں گے ہر کوئی تو سفارش کی جرات بھی نہ کرسکے گا۔ یہ سب تو کھلی گمراہی ہے کہ میں دیکھتی آنکھوں کفر کے اندھے کنویں میں گر جاؤ انہوں نے غلط بحث کی طرف لا کر الجھانے کی کوشش کی جس کا جواب یہاں ارشاد ہوا کہ اللہ کے اس بندے نے کج بحثی میں الجھنے کی بجائے پھر دلیل سے بات کی اور ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ اپنے پروردگا جو تمہارا پالنے والا بھی ہے ایمان رکھتا ہوں اور اچھی طرح جان لو کہ مجھے تمہارا کافرانہ عقائد سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں۔ مفسرین کے مطابق قوم نے اسے ظلما شہید کردیا تو ارشاد ہوا کہ اے میرے بندو جنت میں داخل ہوجا گویا جنت اس کی راہ دیکھ رہی تھی۔ یہ سوال کہ جنت کا داخلہ تو حشر کے بعد ہوگا درست مگر حدیث شریف کے مطابق ہر قبر یا جنت کا باغ ہے اور یا دوزخ کا گڑھا کہ برزخ میں جو قیام کی جگہ ہے وہ بھی یا جنت سے متعلق ہے یا دوزخ سے اور دوسری رائے مفسرین کی یہ ہے کہ انبیاء کی صحبت میسر آنے سے اس کی قوت مشاہدہ اور کشف عود کر آئی اور اسے جنت دنیا میں ہی دکھا دی گئی کہ یہ تیرا گھر ہے اور یہ ممکن بھی ہے اور صحابہ کرام اور اولیاء اللہ سے یہ مشاہدہ ثابت بھی۔ تو اس نے کہا کاش میری قوم کو اس کی خبر ہوجائے کہ میرے پروردگار کی بخشش نے میرا دامن بھر دیا اور مجھے اپنے قرب سے نواز کر بہت ہی عزت عطا فرمائی۔ جب یہ دلیل بھی ان پہ اثر نہ کرسکی تو اللہ نے انہیں مہلت نہ دی اور ان کے لیے کوئی خاص لشکر تیار نہ کرنا پڑا کہ آسمانوں سے اتارا جائے نہ ہی اللہ ایسی باتوں کا محتاج ہے وہاں تو صرف ایک کڑک اس زور کی پڑی کہ وہ سب چراغ سحر کی لو کی طرح تھرا کر بجھ گئے اور ساری بستی زندگی کی رعنائیوں سے محروم ہو کر عبرت کا سامان بن گئی ایک ہیبت ناک آواز نے سب کو تباہ کردیا۔ وائے حسرت ہے ایسے بندوں پر جن کے پاس اللہ کا رسول آئے اور وہ اس کا مذاق آرائیں دین سے اور دین لانے والے نبی سے مذاق غضب الہی کو دعوت دینے والی بات ہے جبکہ یہ دیکھ رہے ہی کہ ان سے پہلے اس جرم میں کتنی قومیں تباہ ہوگئیں جو اب واپس صفحہ ہستی پر نہ آسکیں گی اور پھر بات اس تباہی و بربادی پہ تمام نہ ہوئی بلکہ ان سب کو بیک وقت جمع ہو کر ہماری بارگاہ میں حاضر نہ ہونا اور جواب دینا ہے۔