36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاحسن البیان

Ayah 36:1
1۔ 1 بعض نے اس کے معنی یا رجل یا انسان کے کئے ہیں۔ بعض نے اسے نبی ﷺ کے نام اور بعض نے اسے اللہ کے اسمائے حسنٰی میں سے بتلایا ہے۔ لیکن یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔ یہ بھی ان حروف مقطعات میں سے ہی ہے۔ جن کا معنی و مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن با حکمت کی (1)

2۔ 1 یا قرآن محکم کی، جو نظم و معنی کے لحاظ سے محکم یعنی پختہ ہے۔ واؤ قسم کے لئے ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ بیشک آپ پیغمبروں میں سے ہیں (1)

3۔ 1 مشرکین نبی ﷺ کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لئے آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ 43؀) 13۔ الرعد :43) ' تو تو پیغمبر ہی نہیں ' اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ ﷺ اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ ﷺ شرف و فضل و اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لئے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ ﷺ کی امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی رسالت کے اثبات کے لئے قسم کھائی۔
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر ہیں (1)

4۔ 1 یعنی آپ ﷺ ان پیغمبروں کے راستے پر ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ یا ایسے راستے پر ہیں جو سیدھا اور مطلوب منزل (جنت) تک پہنچانے والا۔
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (1)

5۔ 1 یعنی اس اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو عزیز ہے یعنی اس کا انکار اور اس کے رسول کو جھوٹا کرنے والے سے انتقام لینے پر قادر ہے رحیم ہے۔ یعنی جو اس پر ایمان لائے گا اور اس کا بندہ بن کر رہے گا اس کے لئے نہایت مہربان۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے تھے، سو (اسی وجہ سے) یہ غافل ہیں (1)

6۔ 1 یعنی آپ ﷺ کو رسول اس لئے بنایا ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو ڈرائیں جن میں آپ ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، اس لئے ایک مدت سے یہ لوگ دین حق سے بیخبر ہیں۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی جگہ گزر چکا ہے کہ عربوں میں حضرت اسماعیل ؑ کے بعد، نبی ﷺ سے پہلے براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ یہاں بھی اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے (1)

7۔ 1 جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ' میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا ' (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) 32۔ السجدہ :13) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ' میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دونگا۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبرا ان کو ایمان سے محروم رکھا کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے انکے سر اوپر الٹ گئے ہیں (1)

8۔ 1 جس کی وجہ سے وہ ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں۔ نہ سر جھکا سکتے ہیں، بلکہ وہ سر اوپر اٹھائے اور نگاہیں نیچے کئے ہوئے ہیں۔ یہ ان کے عدم قبول حق کی اور عدم انفاق کی تمثیل ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کی سزا جہنم کی کیفیت کا بیان ہو۔ (ایسر التفاسیر)
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اور ایک آڑ ان کے پیچھے کردی (1) جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا (2) سو وہ نہیں دیکھ سکتے۔

9۔ 1 یعنی دنیا کی زندگی ان کے لئے مزین کردی گئی، یہ گویا ان کے سامنے کی آڑ ہے، جس کی وجہ سے وہ لذائذ دنیا کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے اور یہی چیز ان کے اور ایمان کے درمیان مانع اور حجاب ہے اور آخرت کا تصور ان کے ذہنوں میں ناممکن الواقع کردیا گیا، یہ گویا ان کے پیچھے کی آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کیونکہ آخرت کا کوئی خوف ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ 9۔ 2 یا ان کی آنکھوں کو ڈھانک دیا یعنی رسول اللہ ﷺ سے عداوت اور اس کی دعوت حق سے نفرت نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ گی، یا انہیں اندھا کردیا ہے جس سے وہ دیکھ نہیں سکتے یہ ان کے حال کی دوسری تمثیل ہے۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

10۔ 1 یعنی جو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے گمراہی کے اس مقام تک پہنچ جائیں، ان کے لئے اندازہ بےفائدہ رہتا ہے۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں (1) جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور با وقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجئے۔

11۔ 1 یعنی انذار سے صرف اس کو فائدہ پہنچتا ہے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے (1) اور ہم لکھتے جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے (2)

12۔ 1 یعنی قیامت والے دن یہاں احیائے موتی کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کردیتا ہے جو کفر و ضلالت کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔ 12۔ 2 اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لیے ہیں۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے (1)

13۔ 1 تاکہ اہل مکہ یہ سمجھ لیں کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں، بلکہ رسالت و نبوت کا یہ سلسلہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔
Ayahs 36:14–17

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں (1)

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بیشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔

14۔ 1 یہ تین رسول کون تھے ؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کئے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں (1) اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔

18۔ 1 ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعْوذ باللّٰہِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا ہو تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعْوذ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بےبہرہ لوگ، اہل ایمان وتقوی کو ہی، منحوس، سمجھتے ہیں۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے (1) ، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔

19۔ 1 یعنی وہ تمہارے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہے جو تمہارے ساتھ ہی ہے نہ کہ ہمارے ساتھ۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم ! ان رسولوں کی راہ پر چلو (1)

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر ہیں۔

20۔ 1 یہ شخص مسلمان تھا، جب اسے پتہ چلا کہ قوم پیغمبروں کی دعوت کو نہیں اپنا رہی، تو اس نے آکر رسولوں کی حمایت اور ان کے اتباع کی ترغیب دی۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (1)

22۔ 1 اپنے مسلک توحید کی وضاحت کی، جس سے مقصد اپنی قوم کی خیر خواہی اور ان کی صحیح رہنمائی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی قوم نے اس سے کہا ہو کہ کیا تو بھی اس معبود کی عبادت کرتا ہے، جس کی طرف یہ مرسلین ہمیں بلا رہے ہیں اور ہمارے معبودوں کو تو بھی چھوڑ بیٹھا ہے ؟ جس کے جواب میں اس نے کہا۔ مفسرین نے اس شخص کا نام حبیب نجار بتایا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ مجھے بچاسکیں (1)۔

23۔ 1 یہ ان معبودان باطلہ کی بےبسی کی وضاحت ہے جن کی عبادت اس کی قوم کرتی تھی اور شرک کی اس گمراہی سے نکالنے کے لئے رسول ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ نہ بچاسکیں کا مطلب ہے کہ اللہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یہ بچا نہیں سکتے۔
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

پھر تو یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں (1)۔

24۔ 1 یعنی اگر میں بھی تمہاری طرح اللہ کو چھوڑ کر ایسے بےاختیار اور بےبس معبودوں کی عبادت شروع کر دوں، تو میں بھی کھلی گمراہی میں جا گروں گا۔ یا ضلال یہاں حسران کے معنی میں ہے، یعنی یہ تو نہایت واضح خسارے کا سودا ہے۔
Ayahs 36:25–26

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میری سنو ! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان لا چکا ہوں (1)

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش ! میری قوم کو بھی علم ہوجاتا۔

25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ مجھے رب نے بخش دیا اور مجھے با عزت لوگوں میں سے کردیا (1)۔

27۔ 1 یعنی جس ایمان اور توحید کی وجہ سے مجھے رب نے بخش دیا، کاش میری قوم اس کو جان لے تاکہ وہ بھی ایمان و توحید کو اپنا کر اللہ کی مغفرت اور اس کی نعمتوں کی مستحق ہوجائے۔ اس طرح اس شخص نے مرنے کے بعد بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی۔ ایک مومن صادق کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت لوگوں کی خیر خواہی ہی کرے، بد خواہی نہ کرے اور ان کی صحیح رہنمائی کرے، گمراہ نہ کرے، بیشک لوگ اسے جو چاہے کہیں اور جس قسم کا سلوک چاہیں کریں، حتی کہ اسے مار ڈالیں۔
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (1) اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں (2)۔

28۔ 1 یعنی حبیب نجار کے قتل کے بعد ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یہ اس قوم کی حقیر شان کی طرف اشارہ ہے۔ 28۔ 2 یعنی جس قوم کی ہلاکت کسی دوسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے وہاں ہم فرشتے نازل بھی نہیں کرتے۔
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک زور کی چیخ تھی کہ یکایک وہ سب کے سب بجھ بھجا گئے (1)

29۔ 1 کہتے ہیں کہ جبرائیل ؑ نے ایک چیخ ماری، جس سے سب جسموں سے روحیں نکل گئیں اور وہ بجھی آگ کی طرح ہوئے۔ گویا زندگی، شعلہ فروزاں ہے اور موت، اس کا بجھ کر راکھ کا ڈھیر ہوجانا۔
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

(ایسے) بندوں پر افسوس ! (1) کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو۔

30۔ 1 حسرت و ندامت کا یہ اظہار خود اپنے نفسوں پر، قیامت والے دن، عذاب دیکھنے کے بعد کریں گے کہ کاش انہوں نے اللہ کے بارے میں کوتاہی نہ کی ہوتی یا اللہ تعالیٰ بندوں کے رویے پر افسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق ہی کیا۔
Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کردیا کہ وہ ان (1) کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

31۔ 1 اس میں اہل مکہ کے لئے تنبیہ ہے کہ تکذیب رسالت کی وجہ سے جس طرح پچھلی قومیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہوسکتے ہیں۔
Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ وہ جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی (1)

32۔ 1 مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گذشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگیں جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا۔
Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک نشانی (1) (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زندہ کردیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وہ کھاتے ہیں۔

33۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت اور مردوں کو زندہ کرنے پر نشانی۔
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کردیئے (1) اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کردیئے ہیں۔

34۔ 1 یعنی مردہ زمین کو زندہ کرکے ہم اس سے ان کی خوراک کے لئے صرف غلہ ہی نہیں لگاتے، بلکہ ان کے کام و دہن کی لذت کے لئے مختلف اقسام کے پھل بھی کثرت سے پیدا کرتے ہیں، یہاں صرف دو پھلوں کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ کثیرالمنافع بھی ہیں اور عربوں کو مرغوب بھی، نیز ان کی پیداوار بھی عرب میں زیادہ ہے۔ پھر غلے کا ذکر پہلے کیا کیونکہ اس کی پیداوار بھی زیادہ ہے اور خوراک کی حیثیت سے اس کی اہمیت بھی مسلمہ۔ جب تک انسان روٹی یا چاول وغیرہ خوراک سے اپنا پیٹ نہیں بھرتا، محض پھل فروٹ سے اس کی غذائی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں (1) اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (2) پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے۔

35۔ 1 یعنی بعض جگہ چشمے جاری کرتے ہیں، جس کے پانی سے پیدا ہونے والے پھل لوگ کھائیں۔ 35۔ 2 امام ابن جریر کے نزدیک یہاں ما نافیہ ہے یعنی غلول اور پھلوں کی یہ پیداوار، اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔ اس میں ان کی سعی و محنت، کدو کاوش اور تصرف کا دخل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر کیوں نہیں کرتے ؟ اور بعض کے نزدیک ما موصولہ ہے جو الَّذِیْ کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کا پھل کھائیں اور ان چیزوں کو جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا۔ ہاتھوں کا عمل ہے، زمین کو ہموار کرکے بیج بونا، اسی طرح پھلوں کے کھانے مختلف طریقے ہیں، مثلًا انہیں نچوڑ کر ان کا رس پینا، مختلف فروٹوں کو ملا کر چاٹ بنانا وغیرہ۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواہ خود ان کے نفوس ہوں خواہ وہ (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں (1)

36۔ 1 یعنی انسانوں کی طرح زمین کی ہر پیداوار میں بھی ہم نے نر مادہ دونوں پیدا کئے۔ علاوہ ازیں آسمانوں میں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی جو چیزیں تم سے غائب ہیں، جن کا علم تم نہیں رکھتے، ان میں زوجیت (نر اور مادہ) کا یہ نظام ہم نے رکھا ہے۔ پس تمام مخلوق جوڑا جوڑا ہے، نباتات بھی نر اور مادے کا یہی نظام ہے۔ حتٰی کہ آخرت کی زندگی، دنیا کی زندگی کے لئے بمنزلہ زوج ہے اور یہ حیات آخرت کے لئے ایک عقلی دلیل بھی ہے۔ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو مخلوق کی صفت سے اور دیگر تمام کوتاہیوں سے پاک ہے۔ وہ (فرد) ہے، زوج نہیں۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھنچ دیتے ہیں تو یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (1)

37۔ 1 یعنی اللہ کی قدرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ دن کو رات سے الگ کردیتا ہے، جس سے فوراً اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ دن کو رات سے الگ کردیتا ہے۔ اَظْلَمَ کے معنی ہیں، اندھیرے میں داخل ہونا۔ جیسے اَصْبَحَ اور اَمْسَیٰ اور اَظْھَرَ کے معنی ہیں، صبح شام اور ظہر کے وقت میں داخل ہونا۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج کے لئے جو مقررہ راہ ہے وہ اسی پر چلتا رہتا ہے یہ ہے مقرر کردہ غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا۔ (1)

(1) یعنی اپنے اس مدار (فلک) پر چلتا رہتا ہے، جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے، اسی سے اپنی سیر کا آغاز کرتا ہے اور وہیں پر ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے ذرا ادھر ادھر نہیں ہوتا، کہ کسی دوسرے سیارے سے ٹکرا جائے۔ دوسرے معنی ہیں، اپنے ٹھہرنے کی جگہ تک، اور اس کا یہ مقام قرار عرش کے نیچے ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سورج روزانہ غروب کے بعد عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور پھر وہاں سے طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے (صحیح بخاری، تفسیر سورة یسین) دونوں مفہوم کے اعتبار سے لمستقر میں لام، علت کے لئے ہے۔ ای۔ لأجل مستقرلھا بعض کہتے ہیں کہ لام، الی کے معنی میں ہے، پھر مستقر یوم قیامت ہوگا۔ یعنی سورج کا یہ چلنا قیامت کے دن تک ہے، قیامت والے دن اس کی حرکت ختم ہوجائے گی۔ یہ تینوں مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں (1) کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے (2)

39۔ 1 چاند کی 28 منزلیں ہیں، روزانہ ایک منزل طے کرتا ہے، پھر غائب رہ کر تیسری رات کو نکل آتا ہے 39۔ 2 یعنی جب آخری منزل پر پہنچتا ہے تو بالکل باریک اور چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ہو، جو سوکھ کر ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ چاند کی انہی گردشوں سے اپنے دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب اور اپنے اوقات عبادات کا تعین کرتے ہیں۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے (1) اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے (2) اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں (3)۔

40۔ 1 یعنی سورج کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے جس سے اس کی روشنی ختم ہوجائے بلکہ دونوں کا اپنا اپنا راستہ اور الگ الگ حد ہے۔ سورج دن ہی کو اور چاند رات ہی کو طلوع ہوتا ہے اس کے برعکس کبھی نہیں ہوا، جو ایک مدبر کائنات کے وجود پر ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ 40۔ 2 بلکہ یہ بھی ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ 40۔ 3 کُل سے سورج، چاند یا اس کے ساتھ دوسرے کواکب مراد ہیں، سب اپنے اپنے مدار پر گھومتے ہیں، ان کا باہمی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔