36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 36:1
یٰسٓ ابو نعیم نے دلائل میں بیان کیا یہ کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ مسجد (کعبہ) میں اونچی آواز سے قراءت کرتے تھے۔ قریش کے کچھ لوگوں کو اس سے دکھ ہوتا تھا۔ (ایک روز) حضور ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کیلئے وہ لوگ اٹھے ‘ لیکن فوراً گردنوں سے ان کے ہاتھ بندھ گئے اور آنکھیں اندھی ہوگئیں ‘ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ مجبور ہو کر خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دے کر دعا کرنے کی درخواست کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری اس سے نہ ہو ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اور وہ مصیبت اللہ نے ان سے دور کردی۔ اس پر یٰسٓ سے لاَ یُؤْمِنُوْنَ تک آیات نازل ہوئیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ لفظ یٰسٓ معنوی اعتبار سے دوسرے مقطعات کی طرح ہے (یعنی اس کا مرادی معنی سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی کو معلوم نہیں ‘ مترجم) بعض نے کہا : بنی طی کے محاوری میں یٰسٓ کا معنی ہے اے انسان۔ انسان سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے۔ یٰسٓ (یاسین) اصل میں یا انسین تھا ‘ اِنْ کا لفظ حذف کردیا گیا ‘ جیسے ایمن اللہ میں مِنْ اللہ کہا جاتا ہے۔ کذا روی عن ابن عباس۔ حسن ‘ سعید بن جبیر اور ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ ابوالعالیہ نے کہا : یٰسین کا معنی ہے : یا رجل (اے شخص) ابوبکر وراق نے کہا : اس کا معنی ہے : یا سید البشر۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یہ قسم ہے ‘ یٰسٓ کی قسم کھائی ہے۔
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

والقران الحکیم قرآن حکیم کی قسم۔ یعنی اس قرآن کی قسم جو ندرت معانی اور عبادت کی تعجب انگیزی کے لحاظ سے محکم ہے۔ واؤ قسمیہ ہے اور یٰسین کو قسم قرار دیا جائے تو واؤ عاطفہ ہوجائے گا۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

اے محمدﷺ) بےشک تم پیغمبروں میں سے ہو

انک لمن المرسلین . بلاشبہ آپ اللہ کے بھیجے ہونے انبیاء میں سے ہیں۔ ایک شبہ : خبر دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو جو بات معلوم نہ ہو ‘ وہ معلوم ہوجائے اور اگر مخاطب کو اس بات کا علم ہو تو کم سے کم مخاطب کو یہ معلوم ہوجائے کہ متکلم کو بھی اس بات کا علم ہے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ میں پیغمبر ہوں اور میرا پیغمبر ہونا اللہ کو معلوم ہے ‘ پھر یہ کہنا کہ آپ مرسلین میں سے ہیں ‘ بےسود ہے۔ جواب : کافروں کو اطلاع دینا مقصود ہے اور ان کے انکار کو رد کرنے مطلوب ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کہا تھا : لَسْتَ مُرْسَلاً (آپ رسول نہیں ہیں) ۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ خبر کے دو فائدے تو وہی ہوتے ہیں معترض نے بیان کئے ‘ لیکن ایک تیسرا فائدہ بھی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مخاطب کے علاوہ کسی اور شخص کو بتانا اور اطلاع دینا مقصود ہوتا ہے اور یہی تیسرا فائدہ اس جگہ ہے ( مترجم) ۔
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے رستے پر

علی صراط مستقیم . جو سیدھے راستے پر (بھیجے گئے) تھے۔ یعنی توحید اور استقامت پر ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں۔ اگرچہ لمن المرسلین کے لفظ سے صراط مستقیم پر ہونا معلوم ہوگیا تھا لیکن ضمناً معلوم ہوا تھا ‘ اس جملہ میں صراحت کردی گئی کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں۔
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

تنزیل العزیز الحکیم۔ یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لتنذر قوما ما انذر آباؤھم فھم غفلون کہ آپ (اولاً ) ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا ‘ سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ لِتُنْذِرَکا تعلق تنزیل سے ہے (یعنی اس لئے یہ قرآن نازل کیا گیا ہے کہ آپ ڈرائیں) یا اس کا تعلق لمن المرسلین کے مفہوم سے ہے (یعنی آپ کو ہم نے اس لئے بھیجا کہ آپ ڈرائیں) ۔ مَّٓا اُنْذِرَ میں مَا نافیہ ہے۔ حضرت اسماعیل کے بعد مکہ میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا۔ مکہ والوں کو پیغمبر کی ضرورت بہت زیادہ تھی اس لئے فرمایا کہ ان لوگوں کے آباؤ اجداد کے پاس کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا (اور ان کو پیغمبر کی ضرورت سخت تھی اس لئے) آپ کو ان کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ‘ مگر ڈرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ‘ جس غفلت میں پہلے تھے انذار کے بعد بھی اسی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ یا ماموصولہ ہے یعنی جس چیز (عذاب آخرت ‘ تباہی) سے ڈرانے کیلئے ان کے آباؤ اجداد کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا ‘ اسی عذاب سے ڈرانے کیلئے آپ کو ان کے پاس بھیجا گیا ہے ‘ یا مَا مصدری ہے یعنی جیسے ان کے آباؤ اجداد کو ڈرایا گیا تھا ‘ ویسے ہی آپ ان کو ڈرائیں۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے

لقد حق القول علی اکثرھم فھم لا یؤمنون . ان میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہوچکی ‘ سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اَلْقَوْلُ سے مراد ہے اللہ کا یہ قول لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (میں جہنم کو ضرور بھر دوں گا جنات سے اور انسانوں سے ‘ سب سے) ۔ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ پس وہ یعنی اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ابن جریر نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا : اگر میں نے محمد ﷺ کو دیکھ پایا تو ایسا ایسا کروں گا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر اُلل رہے ہیں

انا جعلنا فی اعناقھم اغللاً فھی الی الاذقان فھم مقمحون . ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں ‘ پھر وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں ‘ سو ان کے سر اوپر کو اُ چکے ہوئے ہیں۔ مذکورہ آیت ابوجہل کے حق میں لاَ یُبْصِرُوْنَ تک نازل ہوئی۔ چناچہ لوگ ابوجہل سے کہتے تھے : یہ محمد ﷺ موجود ہیں (اب تم جو کہتے تھے ‘ وہ کر دکھاؤ) تو ابوجہل کہتا تھا : کہاں ہیں ‘ مجھے تو دکھائی نہیں دیتے۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول ابوجہل اور اس کے ایک مخزومی ساتھی کے حق میں ہوا۔ ابوجہل نے قسم کھا کر کہا تھا کہ میں نے جہاں بھی محمد ﷺ کو دیکھ پایا ‘ پتھر سے ان کا سر کچل دوں گا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو نماز کی حالت میں اس نے دیکھ لیا۔ اس کے پاس ہی پتھر بھی پڑا ہوا تھا ‘ اس نے رسول اللہ ﷺ کے سر پر مارنے کیلئے پتھر اٹھانا چاہا تو فوراً ہاتھ گرن سے چمٹ گیا اور پتھر چھوٹ کر ہاتھ پر گرپڑا۔ ابوجہل فوراً اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ کر آیا اور جو کچھ دیکھا تھا ‘ وہ بیان کیا اور بیان کرتے ہی گرپڑا۔ مخزومی شخص بولا : اب میں جا کر اسی پتھر سے محمد ﷺ کو قتل کروں گا۔ چناچہ پتھر مارنے کیلئے وہ حضور ﷺ کی طرف چلا ‘ آپ اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے ‘ اللہ نے اس کو اندھا کردیا۔ حضور ﷺ کی آواز تو اس کو سنائی دیتی تھی مگر آنکھوں سے کچھ نہیں نظر آتا تھا۔ وہ بھی اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آیا ‘ لیکن ساتھیوں میں سے بھی وہ کسی کو دیکھ نہ سکا۔ لوگوں نے اس کو آواز دی اور کہا : تو نے کیا کیا ؟ مخزومی نے کہا : مجھے تو وہ نظر ہی نہیں آئے ‘ ہاں ان کی آواز میں نے ضرور سنی مگر میرے اور ان کے درمیان کوئی ایسی چیز حائل تھی جیسے کوئی نر اونٹ ہو جو (حملہ کرنے کیلئے) دم ہلا رہا ہو۔ اگر میں ان کے قریب جاتا تو وہ اونٹ مجھے کھا جاتا۔ اس پر آیت اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلاَلاً نازل ہوئی۔ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ یعنی ٹھوڑیوں تک طوق ہونے کی وجہ سے ان کی گردنیں اوپر کو اچکی ہوئی ہیں ‘ آنکھیں بند ہوگئی ہیں ‘ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتیں۔ بیہقی نے دلائل میں بطریق سدی صغیر از کلبی از ابو صالح ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قبیلۂ بنی مخزوم کے کچھ لوگوں نے باہم مشورہ کر کے یہ بات طے کی کہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کردیں ‘ ان مشوروں میں ابوجہل اور ولید بن مغیرہ بھی شامل تھے۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور یہ لوگ آپ کی قراءت کی آواز سن رہے تھے۔ ساتھیوں کے مشورہ کے مطابق ولید بن مغیرہ ‘ رسول اللہ ﷺ کو قتل کردینے کے ارادہ سے چل دیا۔ جس جگہ رسول اللہ ﷺ نما زپڑھ رہے تھے ‘ وہاں تک پہنچ گیا لیکن آواز سننے کے علاوہ حضور ﷺ اس کو نظر نہیں آئے۔ واپس آکر اپنے ساتھیوں کو یہ بات بتادی ‘ یہ سنتے ہی دوسرے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور جہاں آپ نماز پڑھ رہے تھے ‘ وہاں تک پہنچ بھی گئے اور قراءت کی آواز بھی سنتے رہے لیکن حضور ﷺ نظر نہ آئے۔ آواز کی طرف بڑھتے تھے ‘ وہاں تک پہنچ بھی گئے تو آواز پیچھے سے آنے لگے ‘ پیچھے کی طرف آواز کی جانب آئے تو آواز آگے سے آنے لگی۔ آخر ناکام لوٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کا راستہ نہیں ملا۔ یہی مطلب ہے آئندہ آیت کا
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

وجعلنا من بین ایدیھم سدًا ومن خلفھم سدًا فاغشینھم فھم لا یبصرون . اور ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ کردی اور ایک آڑ ان کے پیچھے سے ‘ پھر ہم نے ان کو (ہر طرف سے پردوں سے) گھیر دیا جس کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ سکتے۔ فَاَغْشَیْنٰھُمْ یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا۔ تغشیۃٌ پردہ سے ڈھانک دینا۔ اہل معنی کہتے ہیں : یہ ایک تشبیہ ہے ‘ حقیقت میں نہ طوق تھا نہ آڑ ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کیلئے چند مواقع پیدا کر دئیے جن کی وجہ سے وہ ایمان لانے سے محروم ہیں۔ مواقع پیدا کرنے کو طوق اور آڑ پیدا کرنے سے تشبیہ دی۔ ان کو کفر پر اتنا پختہ کردیا اور ان کے دلوں پر ایسی چھاپ لگ گئی کہ کوئی نصیحت اور آیت ان کیلئے سودمند نہیں ہوتی ‘ پس ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کی گردن میں طوق ڈال دیا گیا ہو اور طوق ٹھوڑی تک پہنچ گیا ہو اور ایسا جکڑا ہوا ہو کہ وہ گردن نہ جھکا سکتا ہو اور سر اوپر کو اچکا ہوا ہو اور ان کافروں کی مثال اس طرح بھی ہے جیسے آنکھوں کے سامنے ہر طرف سے کوئی چیز آڑ بن جائے اور آدمی کو آڑ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی دکھائی نہ دے۔ کافروں کی بھی یہی حالت ہے کہ حق کی طرف توجہ کر ہی نہیں سکتے ‘ حق کی جانب گردن موڑ ہی نہیں سکتے ‘ مواقع کی وجہ سے سر جھکا کر حق کی تصویر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اگر بالفرض سر جھکا کر تصویر حق دیکھنا بھی چاہیں تو نگاہ کے سامنے بندش کی دیوار اور آڑ حائل ہے۔ اوپر سے بھی پردہ ہے اور آگے پیچھے سے بھی رکاوٹیں ہیں ‘ اسلئے راہ ہدایت ان کو سوجھائی نہیں دے سکتی۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جسمانی دکھ پہنچانے کا ارادہ کیا ‘ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو محفوظ رکھنے کیلئے ان کو روک دیا ‘ مواقع پیدا کر دئیے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ماصنی کو بمعنی مستقبل لیا جائے (جَعَلْنَا کو بمعنی نَجْعَلْ کے قرار دیا جائے) یعنی قیامت کے دن جہنم کے اندر ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے اور آگ کے صندوقوں میں بند کردیں گے کہ ان کے ہر طرف آگ کی دیوار ہوگی۔ آئندہ ایسا ہونا یقینی اور قطعی تھا ‘ اسلئے مستقبل کی جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا (گویا ایسا ہی ہوگیا) ۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

وسوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون . آپ کا ان کو (عذاب سے) ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں ان کیلئے برابر ہیں ‘ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کی (لفظ اور معنوی) تفسیر سورة بقرہ کی آیت سَوَآءٌ عَلَیھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ الخ میں گذر چکی ہے۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو

انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب فبشرہ بمغفرۃٍ واجر کریم پس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں (یعنی آپ کے ڈرانے کا فائدہ صرف ایسے شخص کو پہنچ سکتا ہے) جو نصیحت پر چلے اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے ‘ سو آپ اس کو مغفرت اور عمدہ ثواب کی خوش خبری دیجئے۔ الذِّکْرَ (نصیحت) سے مراد قرآن ہے ‘ قرآن کا اتباع کرنے سے مراد ہے اس کے مطلب پر غور کرنا اور اسکی تعلیم کے بموجب عمل کرنا۔ رحمٰن سے ڈرنے کا مطلب ہے اس کے عذاب سے ڈرنا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ کا ڈرانا اسی شخص کیلئے مفید ہوسکتا ہے جو قرآن کے اتباع کا اہل ہو اور اللہ سے خشیت (خوف) رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ القھار المنتقم کی بجائے الرحمن فرمایا حالانکہ رحمن سے ڈرنے کا کوئی تعلق نہیں (خوف تو قہار کے قہر اور منتقم کے انتقام کا ہونا چاہئے) کیونکہ رحمن کی صفت رحمت جانتے ہوئے پھر اسے ڈرنا ‘ یہ خشیت کا انتہائی درجہ ہے اور عین ایمان ہے (رحمن کی رحمت کو جاننا اور پھر اس سے خوف کرنا) کمال ایمان ہے ‘ خوف وامید کے درمیان ہی ایمان ہوتا ہے۔ بَالْغَیْبِ یعنی بن دیکھے عذاب سے ڈرتا ہے ‘ یا تنہائی میں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ بِمَغْفِرَۃٍ یعنی گناہوں کی معافی کی بشارت دے دیجئے۔ اَجْرٍ کَرِیْمٍ اعلیٰ ‘ عمدہ اجر یعنی جنت۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔

انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال (بھی) جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور وہ اعمال (بھی) جن کو وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ یعنی قبروں سے اٹھانے کے وقت ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جہالت اور گمراہی (جو حقیقت میں موت ہیں) کے بعد ہم علم اور ہدایت (جو حقیقت میں زندگی ہیں) دیتے ہیں۔ آثار سے مراد اعمال صالحہ (حسنہ) بھی ہیں جیسے سکھایا ہوا علم ‘ وقت کیا ہوا مال (مردہ سنت کو زندہ کرنا) اور اچھا طریقہ جاری کرنا اور برے اعمال بھی ہیں جیسے باطل کو رواج دینا ‘ ظلم کی بنیاد ڈالنا ‘ کفر کی مدد کرنا ‘ بدعت ایجاد کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا ‘ جس پر بعد والوں نے عمل کیا تو اس شخص کو اپنے کئے کا بھی ثواب ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کے برابر بھی جو اس کے جاری کردہ طریقے پر چلے ‘ مگر بعد کو اس طریقہ پر چلنے والوں کا ثواب کم نہیں کیا جائے گا اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا ‘ جس پر بعد کو آنے والے لوگ چلے تو ایجاد کرنے والے پر اپنے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور بعد کو عمل کرنے والوں کا بھی ‘ لیکن بعد کو عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ رواہ مسلم من حدیث جریر۔ بعض علماء نے کہا : اٰثَارُھُمْ سے مراد ہیں مسجدوں تک جانے کے نشانہائے قدم ‘ یعنی مسجدوں تک پہنچنے میں جتنے ان کے قدموں کے نشان پڑتے ہیں ‘ ہم سب کو لکھتے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز میں سب سے بڑا اجر اس شخص کیلئے ہوتا ہے جو سب سے زیادہ دور سے چل کر آئے ‘ پھر اس کے بعد اس شخص کا اجر ہوتا ہے جو (اوروں سے) زیادہ دور سے آئے۔ اور جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے انتظار میں رہتا ہے ‘ اس کو ثواب اس شخص سے بڑھ کر ملتا ہے جو نماز پڑھ کر سو جاتا ہے (متفق علیہ) حضرت جابر کا بیان ہے : مسجد کے گرد کچھ زمین کے قطعے خالی پڑے ہوئے تھے ‘ بنی سلمہ کا ارادہ ہوا کہ (اپنے محلہ سے) منتقل ہو کر مسجد کے قریب آ بسیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ منتقل ہو کر مسجد کے قریب آجاؤ ؟ بنی سلمہ نے عرض کیا : ہاں ‘ یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارا یہی ارادہ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : بنی سلمہ ! اپنے گھروں میں ہی رہو ‘ تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔ رواہ مسلم بغوی نے حضرت انس کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے جس کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین . اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کردیا تھا۔ اَحْصَیْنٰہُ یعنی ہم نے لکھ دیا تھا۔ امام مبین سے مراد ہے لوح محفوظ۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

واضرب لھم مثلاً اصحٰب القریۃ اذاجاء ھا المرسلون . اور آپ ان کے سامنے ایک قصبہ والوں کا اس وقت کا قصہ بیان کیجئے جب کہ اس بستی میں کئی رسول آئے تھے۔ اِضْرِبْ لَھُمْکفار مکہ سے بطور مثال ایک قصہ بیان کیجئے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے : یہ سب چیزیں ایک ضرب کی ہیں ‘ یعنی ایک جیسی ہیں۔ اِضْرِبْ کچھ دو مفعولوں کی جانب متعدی ہوتا ہے ‘ اس جگہ مثلاً پہلا مفعول ہے اور اصحاب القریۃ دوسرا مفعول۔ اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ سے انطاکیہ والے مراد ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : علماء تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دو حواری قاصد بنا کر انطاکیہ شہر کو بھیجے۔ یہ دونوں جب شہر کے قریب پہنچے تو ایک بوڑھا آدمی بکریاں چراتا ملا (یہ شخض حبیب تھا جو حضرت عیسیٰ کا صحابی ہوا) دونوں نے اس کو سلام کیا ‘ بوڑھے نے کہا : تم کون ہو ؟ قاصدوں نے کہا : اللہ کا رسول تم کو بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آنے کی دعوت دے رہا ہے۔ بوڑھے نے کہا : کیا تمہارے پاس کوئی نشانی ہے ؟ قاصدوں نے کہا : ہاں ‘ ہم اللہ کے حکم سے بیمار کو تندرست اور مادرزاد نابینا اور کوڑھی کو بھلا چنگا کردیتے ہیں۔ بوڑھے نے کہا : میرا ایک بیٹا ہے جو دو سال سے بیمار ہے۔ قاصدوں نے کہا : تو چلو ‘ ہم کو وہاں لے چلو ‘ ہم بھی اس کی حالت دیکھیں۔ بوڑھا دونوں کو لے کر اپنے گھر پہنچا۔ قاصدوں نے اس کے بیٹے پر جونہی ہاتھ پھیرا ‘ وہ اللہ کے حکم سے (تندرست ہو کر) اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ خبر شہر میں مشہور ہوگئی اور ان کے ہاتھ سے اللہ نے بہت مریضوں کو شفا عطا فرما دی۔ انطاکیہ والوں کا ایک بادشاہ تھا ‘ وہب نے اس کا نام انطفس کہا ہے۔ یہ بادشاہ رومی تھا اور بتوں کی پوجا کرتا تھا۔ جب اس کو اطلاع ملی تو اس نے دونوں قاصدوں کو طلب کیا ‘ دونوں حضرات اس کے پاس پہنچ گئے۔ بادشاہ نے پوچھا : تم کون ہو ؟ قاصدوں نے کہا : ہم عیسیٰ کے قاصد ہیں۔ بادشانہ نے کہا : کس غرض سے آئے ہو ؟ قاصدوں نے کہا : ہم تم کو دعوت دیتے ہیں کہ ایسے بتوں کی جو نہ کچھ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ‘ پوجا چھوڑ کر ایسی ذات کی عبادت کی طرف آجاؤ جو سنتا اور دیکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا : کیا تمہارا کوئی خدا ہمارے معبودوں کے علاوہ ہے ؟ قاصدوں نے کہا : جی ہاں ‘ جس نے آپ کو اور آپ کے معبودوں کو پیدا کیا ہے (وہی ہمارا معبود ہے) بادشاہ نے کہا : اچھا ‘ اب تو اٹھ جاؤ ‘ میں تمہارے معاملہ پر غور کروں گا۔ قاصد اٹھ آئے ‘ پھر لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور بازار میں پکڑ کر دونوں کو مارا۔ وہب کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ان دونوں شخصوں کو انطاکیہ کو بھیجا تھا۔ دونوں انطاکیہ پہنچے مگر بادشاہ تک رسائی نہ ہو اور ایک طویل مدت تک ان کو وہاں ٹھہرنا پرا۔ ایک روز بادشاہ (اپنے قصر سے یا شہر سے) برآمد ہوا تو ان دونوں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا ذکر (اونچی آواز سے) کیا۔ بادشاہ نے غضبناک ہو کر دونوں قاصدوں کو قید کردینے اور سو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے : جب ان دونوں قاصدوں کی تکذیب کی گئی ور مارا گیا تو حضرت عیسیٰ نے حواریوں کے سردار شمعون صفار کو ان کے پیچھے ان کی مدد کیلئے بھیجا۔ شمعون بستی میں حلیہ بدل کر پہنچے اور بادشاہ کے مصاحبوں سے ربط ضبط پیدا کیا۔ جب بادشاہ کے مصاحب ان سے مانوس ہوگئے تو انہوں نے ان کی اطلاع بادشاہ تک پہنچا دی۔ بادشاہ نے طلب کرلیا ‘ شمعون دربار میں حاضر ہوگئے۔ بادشاہ نے ان کی صحبت کو پسند کرلیا اور مانوس ہوگیا اور ان کی عزت کی۔ کچھ مدت کے بعد ایک روز شمعون نے بادشاہ سے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے دو آدمیوں کو قیدخانہ میں بند کر رکھا ہے اور جب انہوں نے آپ کو آپ کے مذہب کے خلاف دعوت دی تو آپ نے ان کو پٹوایا اور قید کردیا۔ کیا آپ نے ان سے کچھ گفتگو بھی کی تھی اور ان کی بات بھی سنی تھی ؟ بادشاہ نے کہا : مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں ان سے کوئی بات نہ کرسکا۔ شمعون نے کہا : اگر بادشاہ مناسب سمجھے تو ان کو طلب فرما کر دریافت کرے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ شمعون کے مشورہ کے موافق بادشاہ نے دونوں حواریوں کو طلب کیا ‘ شمعون نے ان دونوں سے دریافت کیا : تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے ؟ قاصدوں نے جواب دیا : اللہ نے ‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ شمعون نے کہا : اللہ کے مختصر اوصاف بیان کرو۔ قاصدوں نے کہا : وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسی اس کی مشیت ہوتی ہے حکم دیتا ہے۔ شمعون نے کہا : تم دونوں کے پاس نشانی کیا ہے ؟ قاصدوں نے کہا : جو آپ طلب کریں۔ یہ سنتے ہی بادشاہ نے ایک لڑکے کو بلوایا جس کی دونوں آنکھوں کے نشان بھی مٹے ہوئے تھے ‘ دونوں آنکھوں کی جگہ ایسی سپاٹ تھی جیسے پیشانی۔ دونوں نے مٹی کے دو غلّے فوراً لے کر آنکھوں کے شگافوں میں رکھ دئیے۔ فوراً دونوں غلّے آنکھوں کے ڈھیلوں کی طرح ہوگئے اور دونوں سے دکھائی دینے لگا۔ بادشاہ کو (بڑا) تعجب ہوا۔ شمعون نے بادشاہ سے کہا : اگر آپ اپنے معبود سے درخواست کریں اور وہ بھی ایسا ہی کر دے تو آپ کو برتری حاصل ہوجائے گی۔ بادشاہ نے کہا : تم سے کچھ چھپی بات نہیں ‘ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معبود جس کی ہم پوجا کرتے ہیں ‘ نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ ضرر پہنچا سکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے (وہ کچھ نہیں کرسکتا) شمعون کا قاعدہ یہ تھا کہ بادشاہ جب بتوں کی پوجا کرنے جاتا تھا تو شمعون بکثرت نماز پڑھتا اور (ا اللہ کے سامنے) گڑگڑاتا تھا۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے مذہب پر ہے۔ اس کے بعد بادشاہ نے دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارا خدا جس کی تم پوجا کرتے ہو ‘ مردہ کو زندہ کرسکے تو ہم اس کو مان لیں گے۔ حواریوں نے کہا : ہمارا معبود ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا : ایک زمیندار کا بچہ سات روز سے مرگیا تھا ‘ اس کا باپ موجود نہ تھا ‘ ہم نے اس کے باپ کے آنے تک اس کو دفن کرنے سے روک دیا ہے (اس کو تمہارا خدا زندہ کر دے تو مانیں) حسب الحکم لوگ میت کو لے آئے۔ میت بگڑ چکی اور شکل ڈراؤنی ہوگئی تھی۔ دونوں حواری اللہ سے علانیہ دعا کرنے لگے اور شمعون چپکے چپکے خدا سے دعا مانگتا رہا۔ غرض کچھ دیر کے بعد مردہ اٹھ بیٹھا اور کہا : میں سات روز ہوئے شرک کی حالت میں مرا تھا ‘ مجھے آگ کی سات وادیوں میں لے جایا گیا۔ میں تم کو اس شرک سے ڈراتا ہوں جس میں تم مبتلا ہو ‘ اللہ پر ایمان لے آؤ۔ پھر اس نے کہا : آسمان کے دروازے کھلتے مجھے دکھائی دئیے اور میں نے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا جو ان تینوں کی سفارش کر رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا : تین کون ؟ اس نے کہا : شمعون اور یہ دونوں۔ بادشاہ کو یہ سن کر اور دیکھ کر بڑا تعجب ہوا۔ شمعون نے جب دیکھ لیا کہ اس کی بات بادشاہ پر اثر کرچکی ہے تو بادشاہ سے کہا : آپ ان دونوں شخصوں سے سوال کریں کہ وہ آپ کی لڑکی کو زندہ کردیں۔ بادشاہ نے دونوں حواریوں سے اپنی لڑکی کو زندہ کردینے کی درخواست کی۔ فوراً دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور اللہ سے دعا کی ‘ شمعون بھی دعا میں ان کے ساتھ شرک تھے ‘ مگر چپکے چپکے دعا کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد اللہ نے اس عورت کو زندہ کردیا ‘ قبر پھٹی اور عورت اس سے نکل آئی اور کہا : خوب جان لو کہ یہ دونوں سچے ہیں اور میرا خیال ہے کہ تم نہیں مانو گے۔ پھر اس نے دونوں حواریوں سے درخواست کی کہ وہ اس کو اس کی جگہ واپس کردیں ‘ پھر اس نے اپنے سر پر کچھ مٹی ڈالی اور قبر میں لوٹ گئی۔ ابن اسحاق نے بحوالۂ کعب و وہب بیان کیا ہے کہ بادشاہ ایمان نہیں لایا اور قوم کے اتفاق رائے سے اس نے قاصدوں کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ یہ خبر حبیب کو مل گئی ‘ حبیب اس وقت شہر کے آخری دروازہ پر تھا ‘ فوراً وہ دوڑ کر شہر والوں کے پاس پہنچا ‘ ان کو نصیحت کی اور قاصدوں کا کہا ماننے کی دعوت دی۔ یہی مطلب ہے اللہ کے آئندہ قول کا
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون جب ہم نے ان کے پاس دو (رسولوں) کو بھیجا ‘ ان لوگوں نے دونوں (رسولوں) کو جھوٹا قرار دیا تو ہم نے تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی ‘ سو تینوں نے کہا : ہم کو تمہارے پاس (ہدایت کیلئے) بھیجا گیا ہے۔ وہب نے کہا : پہلے دونوں قاصدوں کے نام یحییٰ اور یونس تھے ‘ تیسرے قاصد کا نام شمعون تھا۔ کذا اخرج ابن المنذور عن سعید بن جبیر۔ اگر کلام کی کوئی خاص غرض ہو تو کلام کی رفتار اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ‘ دوسری چیز کا ذکر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں اس لطیف تدبیر کا اظہار مقصود ہے جس کی وجہ سے حق غالب اور باطل نابود ہوگیا ‘ اس لئے عَزَّزْنَا کے بعد مفعول کا ذکر نہیں کیا۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ قتادہ نے کہا : مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عیسیٰ نے اہل قریہ کے پاس دو حواریوں کو بھیجا تھا۔ کعب نے کہا : پہلے دونوں قاصد صادق و مصدوق تھے اور تیسرا قاصد سل رم تھا۔ قاصدوں کو بھیجنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی (باوجودیکہ وہ قاصد حضرت عیسیٰ کے تھے) کیونکہ حضرت عیسیٰ نے ان کو بامر خداوندی بھیجا تھا۔ فَقَالُوْٓا یعنی تینوں قاصدوں نے انطاکیہ والوں سے کہا۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

قالوا ما انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمٰن من شیءٍ ان انتم الا تکذبون (انطاکیہ والوں نے) کہا : تم بھی ہماری طرح آدمی ہی ہو (اس کے سوا کچھ نہیں ہے) اور رحمن نے کچھ بھی نہیں اتارا (یعنی وحی نازل نہیں کی) تم محض جھوٹ کہتے ہو (رسالت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہو) یعنی تم کو کوئی (مافوق البشریت) برتری حاصل نہیں جس کی وجہ سے تم کو رسول بنا دیا گیا ہو۔
Ayah 36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون . رسولوں نے کہا : ہمارا رب جانتا ہے (یعنی اللہ گواہ ہے) کہ ہم کو تمہاری جانب ہی (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہے۔ رسولوں نے اللہ کے علم سے استشہاد کیا جو قسم کے قائم مقام ہے (یعنی انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا) اس لئے (احناف کا مسلک ہے کہ) جس نے دانستہ جھوٹ بولا اور جانتے ہوئے کہا : اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کرلیا اور واقع میں وہ کاذب ہو تو اس پر یمین غموس پڑجائے گی (دانستہ گذشتہ واقعہ پر جھوٹی قسم) ۔ کافروں نے رسولوں کی رسالت کا انکار کیا تھا ‘ اسلئے رسولوں نے دوسری مرتبہ اپنا رسول ہونا پر زور طور پر قسم اور تاکید کے ساتھ بیان کیا۔
Ayah 36:17

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

وما علینا الا البلغ المبین اور ہمارے ذمے فقط واضح طور پر پہنچا دینا ہے (یعنی تمہارے ماننے نہ ماننے کی ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں) یعنی ہمارا کام صرف اللہ کا پیام واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ ایسی نشانیاں جو ہمارے پیام کے صحیح ہونے کو ظاہر کر رہی ہیں موجود ہیں ‘ مردوں کو زندہ کردینا ‘ مادر زاد اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردینا ‘ ہمارے پیام کی صحت کو واضح کر رہا ہے۔ اب نفع و نقصان تمہارا ہے ‘ تمہارا انکار ہم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ جب پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے کی وجہ سے اللہ نے ان کو کال میں مبتلا کردیا اور بارش نہ ہو
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

قالوا انا تطیرنابکم لئن لم تنتھوا لترجمنکم ولیمستکم منا عذاب الیم انہوں نے کہا : ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں ‘ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔ یعنی یہ مصیبت جو ہم پر آئی ‘ وہ تمہاری نحوست کی وجہ سے آئی۔ پیغمبروں کی رسالت کا دعویٰ ان کو عجیب معلوم ہوا ‘ ان کو اس قول سے ہی نفرت پیدا ہوئی اور جاہلوں کا طریقہ ہی یہ ہوتا ہے کہ جس طرف ان کی طبیعتیں راغب ہوتی ہیں ‘ اس کو پسند کرتے ہیں اور جو چیز طبیعت کی رغبت اور میلان نفس کے خلاف ہوتی ہے ‘ اس کو برا سمجھتے اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔ لَءِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا یعنی اگر تم اپنے قول سے باز نہ آئے تو پھر ہم پتھر مار مار کر تم کو ہلاک کردیں گے۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

قالوا طآئرکم معکم ائن ذکرتم بل انتم قوم مسرفون رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ کیا (اس کو تم نحوست سمجھتے ہو کہ) تم کو نصیحت کی جا رہی ہے (نحوست کی اور کوئی وجہ نہیں ہے) بلکہ تم خود حد (شریعت و عقل) سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ یعنی تمہاری نحوست کا سبب تمہارے ساتھ موجود ہے۔ مراد یہ ہے کہ نحوست کا سبب تمہارا کفر ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا : تمہارے نصیب کی بھلائی اور برائی تمہارے ساتھ ہے ‘ وہ ضرور تم کو پہنچے گی ‘ تم سے دور نہیں ہوگی۔ اَءِنْ ذُکِّرْتُمْط میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اگر تم کو نصیحت کی جا رہی ہے تو کیا اس کو تم ہماری نحوست سمجھتے ہو اور ہم کو سنگسار کردینے کی دھمکیاں دیتے ہو ؟ ایسا سمجھنا مناسب نہیں بلکہ تم کو ہمارا منت کش اور احسان مند ہونا چاہئے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ یعنی گناہ میں حد سے آگے بڑھ جانا تمہارا شیوہ ہی ہے۔ وہ رسول جن کو برکت کا ذریعہ سمجھنا چاہئے ‘ تم ان کو منحوس سمجھتے ہو۔
Ayah 36:20

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو

وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی . اور ایک آدمی اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا۔ یہ شخص حبیب نجار تھا (یعنی بڑھئی تھا) عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا یہی قول بیان کیا ہے۔ سدی نے کہا : حبیب دھوبی تھا۔ وہب نے کہا : حبیب ریشمی کپڑے بناتا تھا اور بیمار تھا۔ اس کو جذام ہوگیا تھا اسلئے شہر کے آخری دروازہ پر پڑا رہتا تھا اور مردمؤمن تھا ‘ خیرات بہت کرتا تھا۔ دن میں جو کچھ کماتا تھا ‘ شام کو دو حصے کر کے ایک حصہ خیرات کردیتا تھا اور ایک حصہ اپنے متعلقین کے صرف میں لاتا تھا۔ جب اس کو اطلاع ملی کہ اس کی قوم والوں نے رسولوں کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا ہے تو دوڑا ہوا آیا ‘ اور قال یقوم اتبعوا المرسلین۔ اس نے کہا : اے میری قوم والو ! ان رسولوں کی راہ پر چلو ‘
Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں

اتبعوا من لا یسئلکم اجرًا وھم مھتدون . ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خود راہ راست پر ہیں۔ لاَ یَسْءَلُکُمْ اَجْرًا یعنی تبلیغ رسالت کا وہ کوئی معاوضہ نہیں چاہتے۔ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ یعنی دونوں جہان کی بھلائی کے راستہ پر چل رہے ہیں۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون . اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اس کلام میں لطیف طرز میں ہدایت کی ہے اپنے نفس کو نصیحت کرنے کے پیرایہ میں ‘ دوسروں کو خالص نصیحت کی ہے کہ دوسروں کو بھی اسی بات کو اختیار کرنا چاہئے جو ناصح نے اپنے لئے اختیار کی ہے۔ حقیقت میں کفار کو اس امر پر رجز کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے خالق کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت پسند کی ہے۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اس کلام میں پرزور تہدید ہے۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ حبیب ایک غار کے اندر اللہ کی عبادت کرتا تھا ‘ جب اس کو رسولوں کی خبر معلوم ہوئی تو فوراً غار سے نکل کر اپنی قوم کے پاس پہنچا اور اپنے مذہب کا اعلان کرتے ہوئے ان سے کہا : یَقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّ یَسْءَلُکُمْ اَجْرًا وَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ قوم والوں نے کہا : کیا تو ہمارے مذہب کا مخالف ہوگیا اور ان رسولوں کے مذہب کا پیرو ہوگیا ؟ حبیب نے اس کے جواب میں کہا : وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ اس شخص نے تخلیق الٰہیہ کی نسبت تو اپنی طرف کی اور ان کی طرف لوٹ کر جانے کی نسبت قوم والوں کی طرف کی ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ تخلیق الٰہیہ ایک نعمت ہے جس کا اظہار اس شخص پر لازم تھا اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانے میں ایک طرح کی توبیخ و رجز ہے ‘ اسلئے اس کی نسبت کافروں کی طرف کرنی مناسب تھی۔ بعض اہل روایت کا بیان ہے کہ اس شخص نے جو اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ کہا تو لوگ اس کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ نے اس سے کہا : کیا تو ان رسولوں کا پیرو ہوگیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ یعنی اگر میں اپنے خالق کی عبادت نہ کروں تو میرے پاس اس کا کیا عذر ہے اور تم سب کو قیامت کے دن اسی کے پاس جانا ہے ‘ وہ تم کو ضرور بدلہ دے گا۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

ء اتخذ من دونہ الھۃ ان یردن الرحمن بضر لا تغن عنی شفاعتھم شیئا ولا ینقذون۔ کیا میں خدا کو چھوڑ کر ایسوں کو معبود بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے تکلیف پہچانی چاہے تو ان معبودوں کی سفارش میرے کچھ کام نہ آسکے نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ؟
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا

انی اذا لفی ضلال مبین . اگر میں ایسا کروں گا تو صریح گمراہی میں جا پڑوں گا۔ لاَ تُغٰنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُھُمْ یعنی تمہارے خیال میں جو یہ معبود سفارش کریں گے (اگر بالفرض انہوں نے سفارش کی) تو ان کی شفاعت میرے کام نہ آئے گی (مطلب یہ کہ ان کو شفاعت کرنے کا اختیار ہی نہ ہوگا ‘ مترجم) اور اگر اللہ مجھے عذاب دے گا تو یہ معبود مجھے اللہ کے عذاب سے چھڑا نہیں سکیں گے۔ دفع ضرر اور عذاب سے رہائی کیلئے شفاعت کا کام میں نہ آنا ظاہر کر کے شفاعت کے بےسود ہونے کو پرزور طریقہ سے بیان کردیا کیونکہ شفاعت سے رحمت کا حصول تو بڑی بات ہے ‘ جب دفع ضرر معبودوں کی شفاعت سے ممکن نہیں تو حصول رحمت کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟ اِذًا یعنی ایسی حالت میں کہ میں ان معبودوں کی پوجا کروں جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر اور اس خدا کی عبادت کو چھوڑ دوں جو نفع و ضرر پہنچانے پر قدرت رکھتا ہو۔ اگر میں نے ایسا کیا تو کھلی گمراہی میں جا پڑوں گا۔ ضَلَالٍ مُّبِیْنَ یعنی ایسی صریح گمراہی جو ادنیٰ تمیز رکھنے والے کی نظر سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

انی امنت بربکم فاسمعون بلاشبہ میں تمہارے رب پر (یعنی جو حقیقی رب ہے ‘ اس پر) ایمان لا چکا ‘ سو تم میری یہ بات سن لو۔ بِرَبِّکُمْ یعنی جس رب نے تم کو پیدا کیا ہے۔ خطاب قوم کو ہے یا بادشاہ کو۔ فَاسْمَعُوْنَ یعنی میرے ایمان کی اطلاع سن لو۔ اس تفسیر پر یہ قول جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ‘ نصیحت کا تتمہ قرار دپائے گا ‘ کیونکہ قوم والوں سے جب اس نے کہا تھا : اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ تو گویا قوم نے اس سے دریافت کیا کہ تو ان پر ایمان لے آیا ؟ اس کے جواب میں اس نے کہا : اِنَّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمِعُوْنَ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ‘ میرے ایمان کے اقرار کو تم بھی سن لو ‘ اگر یہ بہتر نہ ہوتا تو میں خود اس کو اختیار کیوں کرتا۔ بجائے بربی کہنے کے بربکم کہنے میں ایمان کی ایک بلیغ دعوت ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : جب اس شخص نے یہ بات کہی تو قوم والوں نے اس پر یکدم حملہ کر کے قتل کردیا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ قدموں سے ایسا روند دیا کہ اس کی آنتیں نیچے سے نکل گئیں۔ سدی نے کہا : لوگ اس کو پتھروں سے مار رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت کر۔ آخر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مار ڈالا۔ حسن نے کہا : اس کے گلے کو پھاڑ کر شہر کی فصیل سے لٹکا دیا۔ اس کی قبر انطاکیہ میں موجود ہے۔ ا اللہ نے اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔ وہ زندہ ہے ‘ اللہ کی طرف سے اس کو روزی ملتی ہے ‘ یعنی وہ شہید ہوگیا اور شہیدوں کی زندگی اس کو عطا کردی۔ 1 ؂ بعض علماء نے کہا : بِرَبِّکُمْ میں خطاب رسولوں کو ہے ‘ کیونکہ جب اس کو یقین ہوگیا کہ مجھے قتل کردیا جائے گا تو اس نے اپنے مؤمن ہونے کا گواہ پیغمبروں کو بنا لیا (گویا) پورا کلام اس طرح تھا : پھر اس نے رسولوں سے کہا : میں تمہارے رب پر ایمان لایا۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو

قیل ادخل الجنۃ . (مر جانے کے بعد اس سے) کہا گیا : جنت میں چلا جا۔ یعنی جب حبیب نجار شہید ہوگیا تو اس کی عزت افزائی کیلئے جنت میں جانے کی اجازت دے دی گئی اور بطور اجازت اس سے کہہ دیا گیا : جنت میں داخل ہوجا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ مرنے سے پہلے ہی اس کو جنت میں داخل ہونے کی بشارت دے دی گئی ‘ اس صورت میں جنت سے مراد ہوگی قبر ‘ کیونکہ قبر (مؤمن کیلئے) جنت کا ایک باغیچہ ہوتی ہے۔ یہ جملہ نستانفہ ہے جو بطور جواب استعمال کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ دینی پختگی کے بعد جب وہ اللہ سے ملا تو ان نے اس سے کیا فرمایا ؟ اس امکان سوال کا جواب دے دیا گیا ‘ جب حبیب جنت میں پہنچا تو قال یلیت قومی یعلمون۔ اس نے کہا : (اے میرے رب ! ) کاش میری قوم کو معلوم ہو
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا

بما غفر لی ربی وجعلنی من المکرمین جاتا کہ میرے رب نے مجھے کیا بخش دیا اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا۔ مَا غَفَرَ میں مَا موصولہ ہے ‘ یا مصدریہ ‘ یا استفہامیہ (ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے) یعنی کسی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت کردی ‘ یعنی ایمان اور کافروں کی طرف سے ایذاء پہنچنے پر صبر کرنے کی وجہ سے۔ اہل اصلاح کی عادت ہوتی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور دشمنوں پر بھی رحم کرتے ہیں ‘ اسی عادت کے سبب حبیب نے بھی اپنی قوم کی اپنی حالت سے واقف ہوجانے کی تمنا کی تاکہ اس اطلاع کے بعد وہ ایمان لے آئیں اور طاعت گذار ہوجائیں ‘ یا قوم کو واقف بنانے کی تمنا اس نے اس وجہ سے کی کہ وہ بتانا چاہتا تھا کہ میں حق پر تھا اور قوم والے بڑی غلطی پر تھے۔ بغوی نے لکھا : انطاکیہ والوں نے جب حبیب کو شہید کردیا تو اللہ کا غضب جوش میں آگیا اور فوری عذاب اس نے نازل کردیا۔ جبریل نے بحکم الٰہی ایک چیخ ماری جس سے سب مرگئے۔
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اُتارا اور نہ ہم اُتارنے والے تھے ہی

وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السمآء وما کنا منزلین۔ ہم نے اس کی قوم پر کوئی لشکر (فرشتوں کا) آسمان سے نہیں اتارا اور ہم کو اتارنے کی ضرورت ہی نہ تھی
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

ان کانت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم خمدون .‘ بس وہ سزا ایک چیخ کی آواز تھی جس سے وہ اسی دم بجھ کر رہ گئے ‘ یعنی مرگئے۔ عَلٰی قَوْمِہٖ حبیب کی قوم پر۔ مِنْم بَعْدِہٖ حبیب کے شہید ہونے کے بعد۔ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمآء یعنی آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر ہم نے نہیں اتارا جیسے خندق اور بدر کے دن اتارا تھا ‘ بلکہ ایک فرشتہ کی ایک چیخ ہی ان کیلئے کافی ہوگئی۔ اس میں حبیب کی قوم کی تحقیر کا اظہار اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ یعنی ہماری یہ عادت اور دستور نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے فرشتوں کی فوجیں بھیجیں ‘ اللہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ بات خندق اور بدر کے دن جو فرشتوں کو بھیجا گیا تھا ‘ وہ محض بشارت دینے اور رسول کی عظمت کا اظہار کرنے اور مسلمانوں کے دلوں کو تسکین دینے کیلئے تھا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی لَکُمْ وَلَتِطَمَءِنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ۔ بعض اہل علم کے نزدیک وَمَا کُنَّا میں مَا موصولہ ہے اور جند سے مراد ہے آسمان سے سنگ باری ‘ یا طوفان ‘ یا شدید بارشیں یعنی جس طرح گذشتہ قوموں پر ہم نے عذاب کی فوج بھیجی ‘ ایسی عذابی فوج حبیب کی قوم پر نازل نہیں کی۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت جبرئیل نے شہر کے دروازے کے دونوں بازو پکڑ کر ایک چیخ ماری تھی ‘ یہ مفسروں کا قول ہے۔ خٰمِدُوْنَ یعنی سب یکدم مرگئے۔ خمود (بجھنا) سے مراد موت ہے ‘ کیونکہ زندگی حرارت غریزیہ سے وابستہ ہے۔ جب طبعی حرارت بجھ جاتی ہے ‘ موت ہوجاتی ہے۔ یحسرہ علی العبادہ ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون . افسوس ایسے بندوں کے حال پر ‘ کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو۔
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

یٰحَسْرَۃً میں تنوین تعظیم کی ہے ‘ یعنی حسرت کی عظمت پر دلالت کر رہی ہے۔ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ میں استثناء ‘ شرط و جزا کے معنی میں ہے ‘ یعنی جب بھی کوئی رسول ان کے پاس آتا تھا ‘ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ یہ حسرت کی عظمت کا اظہار ہے۔ جو لوگ اپنے ان مخلص خیرخواہوں کا مذاق اڑائیں جن کی نصیحت سے دونوں جہان کی بہبودی وابستہ ہے تو ایسے لوگ اسی قابل ہیں کہ ان کی حالت پر اظہار حسرت کیا جائے اور جن و انس و ملائکہ ان پر افسوس کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حسرت سے مراد ایمان والے بندوں کی طرف سے اظہار حسرت نہ ہو ‘ بلکہ بطور استعارہ اللہ کی طرف سے حسرت کا اظہار ہو ‘ اس صورت میں استہزاء کرنے والوں کے جرم کی عظمت کی طرف اشارہ ہوگا۔ بعض نے کہا : منادٰی محذوف ہے ‘ یعنی اے لوگو ! ان بندوں پر افسوس کرو جو انبیاء کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حسرت کا معنی ہے شدت حزن اور پشیمانی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ چونکہ لوگ پیغمبروں پر ایمان نہیں لائے ‘ اسلئے قیامت کے دن اللہ فرمائے گا کہ آج بندوں کیلئے حسرت ‘ ندامت اور غم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا یہ کلام ہے۔ ابوالعالیہ نے کہا : جب انہوں نے عذاب انکھوں سے دیکھ لیا تو یا حسرۃً علی العباد کہا۔ العباد میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے مراد ہیں انطاکیہ کے باشندے ‘ یا تمام وہ لوگ مراد ہیں جو پیغمبر پر ایمان نہیں لائے اور رسولوں کا مذاق اڑایا ‘ اس صورت میں یہ اہل مکہ پر تعریض ہوگی۔
Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیھم لا یرجعون . کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں غارت کرچکے کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے۔ اَلَمْ یَرَوْا کیا مکہ والے نہیں جانتے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی کثرت سے امتوں کو ہلاک کردیا ؟ کیا یہ واقف نہیں کہ ہلاک شدہ امتیں ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گی ؟ اس کلام سے ایک شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید مردے کبھی نہیں لوٹیں گے (اور کبھی دوبارہ زندگی ان کو نہیں ملے گی) اس شبہ کو دور کرنے کیلئے آگے فرمایا۔
Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے

وان کل لما جمیع لدنیا محضرون اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو مجموعی طور پر ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے۔ یعنی قیامت کے روز سب ہمارے حاضر کئے جائیں گے۔ جمیع بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے اور لَدَیْنَا کا تعلق جمیع سے ہے (ہمارے پاس جمع کئے جائیں گے) یا تعلق محضرون سے ہے (ہمارے پاس حاضر کئے جائیں گے) ۔
Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

وایۃ لھم الارض المیتۃ احیینھا واخرجنا منھا حبا فمنہ یاکلون . اور (ا اللہ کی قدرت کی) ایک نشانی ان کیلئے مردہ (خشک) زمین ہے جس کو ہم زندہ کردیتے ہیں (بارش کی وجہ سے سرسبز کردیتے ہیں) اور اس سے غلّہ برآمد کرتے ہیں ‘ پھر اس غلّہ میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں۔ اَلْاَرْضُ سے کوئی معین زمین مراد نہیں ہے۔ حَبًّا سے مراد جنس غلّہ ہے جیسے گندم ‘ جو وغیرہ۔ مِنْہُ کو یَاْکُلُوْنَ سے پہلے لانے سے یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کی چیزوں میں اناج کا بڑا حصہ ہے (یعنی اناج ہی زیادہ کھایا جاتا ہے) اور زندگی کا یہی بڑا ذریعۂ معاش ہے۔
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے

وجعلنا فیھا جنت من نخیل واعناب اور زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے۔ حبّ چونکہ جنس ہے ‘ اسلئے اس کا مختلف ہونا معلوم ہی ہے ‘ اسلئے اس کو بصیغۂ جمع ذکر نہیں کیا لیکن نخیل واعناب پھلوں کے انواع ہیں ‘ اسلئے ان کو بصیغۂ جمع ذکر کیا۔ نخیل کھجور کے درخت کو کہتے ہیں اور تمر چھوارے کو کہتے ہیں ‘ مناسب تو یہ تھا کہ انگوروں اور اناج کے ساتھ چھواروں کا ذکر کیا جاتا ‘ لیکن بجائے چھواروں کے ان کے درختوں کا اسلئے ذکر کیا کہ کھجور کے درختوں کے فوائد پھلوں کے علاوہ اور بھی بہت ہیں اور صنعت الٰہیہ کا ظہور درخت کھجور سے بھی بہت ہوتا ہے۔ وفجرنا فیھا من العیون۔ اور اس میں چشمے جاری کئے
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟

لیاکلوا من ثمرہ وما علمتہ ایدیھم افلا یشکرون . تاکہ لوگ باغ کے پھلوں میں سے کھائیں اور اس پھل (اور غلّہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا ‘ سو کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟ مِنَ الْعُیُوْنَ (مِن تبعیضیہ ہے یعنی ( چشمے۔ اخفش نے نزدیک مِن زائد ہے۔ مِنْ ثَمَرِہٖ یعنی مذکورہ (درختوں یا) باغوں کے پھل۔ بعض کے نزدیک ثمرہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اللہ کے پیدا کئے ہوئے پھل۔ وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْھِمْ ‘ مَا موصولہ ہے ‘ ثمرہٖ اس کا عطف ہے تاکہ کھائیں وہ چیزیں جو وہ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں جیسے عرق ‘ شیرہ ‘ شربت وغیرہ۔ بعض کے نزدیک مَا نافیہ ہے ‘ مراد یہ ہے کہ سب پھل اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں ‘ انسان کی صنعت کو ان میں دخل نہیں ہے۔ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَہمزہ سوالیہ ہے اور واؤ عاطفہ ہے ‘ معطوف علیہ محذوف ہے ‘ یعنی کیا وہ خداداد نعمت کے منکر ہیں اور شکر نہیں کرتے ؟ ترک شکر کا انکار شکر کے ہکم کو مستلزم ہے ‘ یعنی ان کو شکر کرنا چاہئے۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے

سبحان الذی خلق الازواج کلھا مما تنبت الارض ومن انفسھم ومما یعلمون . پاک ہے وہ ذات جس نے انواع و اصناف پیدا کئے زمین کی پیداوار میں سے بھی اور ان کے اندر سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو وہ نہیں جانتے۔ الْاَزْوَاجَ سے مراد ہیں انواع و اصناف۔ مَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ یعنی سبزہ اور درخت۔ مِنْ اَنْفُسِھِمْ یعنی مرد و عورت۔ مِمَّا لاَ یَعْلَمُوْنَ یعنی بحر و بر کی وہ مخلوق جس کا علم کسی کو نہیں۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وایۃ لھم الیل نسلخ منہ النھار فاذاھم مظلمون . اور ان کیلئے (ہماری قدرت کی) ایک نشانی رات ہے جس (کے اوپر) سے ہم دن کی (چڑھی ہوئی) کھال اتار لیتے ہیں تو وہ یکایک تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔ اصل تاریکی ہے ‘ سورج نکلنے سے تاریکی پر دن کا خول چڑھ جاتا ہے۔ جب سورج ڈوب جاتا ہے تو گویا رات کے اوپر سے (روشنی کی) کھال اتر جاتی ہے اور تاریکی سامنے آجاتی ہے۔ سلخ کا معنی ہے کھال اتارنا ‘ اس جگہ بطور استعارہ اتار لینا مراد ہے۔ مطلب یہ کہ دن چلا جاتا ہے اور رات آجاتی ہے۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے

والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم اور (قدرت کی ایک نشانی) سورج ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔ یہ اندازہ مقرر کیا ہوا اس اللہ کا ہے جو غالب (اور) باعلم ہے۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْیعنی اپنے دائرہ کے اندر سورج اس طرح چلتارہتا ہے جیسے پانی میں مچھلی۔ یہ شب و روز کی پیدائش کی علت کا بیان ہے۔ مُسْتَقَرِّلَّھَا ‘ مستقر مصدر میمی ہے یعنی ایک طریقہ کی رفتار پر برقرار رہنے کیلئے ‘ یا مستقر ظرف ہے ‘ یعنی دورے کا آخری نقطہ (جہاں ایک دورہ ختم ہوتا ہے) آفتاب کی سیر کو مسافر کی رفتار سے تشبیہ دی۔ جس طرح مسافر اپنا سفر طے کرتا ہے ‘ اسی طرح سورج بھی اپنی رفتار جاری رکھتا ہے ‘ یا مستقر سے مراد ہے زوال سے کچھ پہلے وسط سماء کا مرکزی نقطہ ‘ اس جگہ سورج کی رفتار بہت سست پڑجاتی ہے کہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ سورج ٹھہر گیا ‘ یا مستقر سے مراد ہے گرمی کے موسم میں انتہائی بلندی پر پہنچ جانے کا اور سردی کے موسم میں آخری ہبوط (نزول) پر آجانے کا مقام ‘ یا مستقر سے مراد ہیں مشارق و مغارب کا منتہاء ‘ سورج کے پورے دورے میں 365 طلوع ہونے کے مقامات اور اتنے ہی غروب ہونے کے مقامات ہوتے ہیں۔ روزانہ نئے مطلع سے نکلتا اور نئے مغرب میں چھپتا ہے اور آئندہ سال تک نہ پھر اس مطلع سے طلوع ہوتا ہے ‘ نہ اس مغرب میں غروب ہوتا ہے ‘ یا مستقر سے مراد ہے دنیا کے تباہ ہونے کے وقت سورج کی رفتار ختم ہوجانے کا مقام۔ بظاہر سورج کی رفتار میں ٹھہراؤ اور وقفۂ منزل نظر نہیں آتا ‘ اسلئے مذکورہ تاویلوں کی ضرورت پڑی۔ حضرت ابن مسعود کی قراءت سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سورج کی کوئی قرار گاہ نہیں ہے۔ بغوی نے عمرو بن دینار کی روایت سے جو حضرت ابن عباس کے حوالہ سے نقل کی ہے ‘ اس میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نے والشَّمْسُ تَّجْرِیْ لال مُسْتَقَرَّ لَھَا پڑھا۔ لیکن صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سورج کا مستقر عرش کے نیچے ہے ‘ رواہ البخاری فی الصحیح۔ بغوی نے حضرت ابوذر کی روایت سے لکھا ہے کہ جس وقت سورج غروب ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں چلا جاتا ہے ؟ حضرت ابوذر نے کہا کہ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کو بخوبی علم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور (آگے چلنے کی) اجازت طلب کرتا ہے ‘ اس کو اجازت دے دی جاتی ہے۔ لیکن عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ یہ سجدہ کرے گا اور سجدہ قبول نہ ہوگا اور (آگے جانے کی) اجازت طلب کرے گا مگر اس کو اجازت نہیں ملے گی اور حکم دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے ‘ وہیں لوٹ جا۔ چناچہ وہ (لوٹ کر) مغرب سے طلوع ہوگا۔ یہی مطلب ہے آیت والشَّمْسُ تَّجْرِیْ لال مُسْتَقَرَّ لَھَا کا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ‘ متفق علیہ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غروب ہونے کے بعد طلوع ہونے سے قبل سورج عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے ‘ پھر اس کو مشرق سے طلوع ہونے کی اجازت مل جاتی ہے تو وہ طلوع ہوجاتا ہے ‘ لیکن عنقریب مشرق سے نکلنے کی اجازت اس کو نہیں ملے گی ‘ بلکہ مغرب سے برآمد ہونے کی اجازت ملے گی اور وہ مغرب سے نکلے گا۔ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ایک نشانی ہوگی۔ ایک شبہ : ممالک کے اختلاف سے رات کی مقدار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ غروب سے طلوع تک کا وقت سب جگہ برابر نہیں ہوتا ‘ جب سورج راس سرطان کے پاس ہوتا تو قطب شمالی کے نیچے بلغار کے پار عشاء کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ غروب آفتاب کے بعد ایک طرف شفق غائب ہوتی ہے تو دوسری طرف سے صبح نکلتی ہے۔ اتنا وقت ہی کہاں ہوتا ہے کہ سورج جا کر عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرے۔ میں کہتا ہوں : یہ مراد ہے کہ وقت غروب سے وقت طلوع تک سورج برابر سجدہ میں رہتا ہے ‘ اسلئے ممکن ہے کہ کوئی وقت ایسا ہو جس میں رات کی تاریکی ساری آباد دنیا میں ہوجاتی ہو اور یہ وقت وہی ہوگا جب سورج نصف دنیا میں پہنچتا ہوگا۔ ایسے وقت مؤکل ملائکہ سورج کو لے جاتے ہوں گے اور عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ میں سرافگندہ ہوجاتا ہوگا ‘ پھر اس کو طلوع کی اجازت مل جاتی ہوگی۔ اختلاف ممالک کی وجہ سے رات کی مقدار کے اختلاف کا تعلق رات کی ابتداء اور انتہا سے ہے۔ بعض لوگ تحت العرش پہنچ کر سورج کے سجدہ کرنے کی حدیث کو متشابہات میں سے کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک سجدہ سے اطاعت اور فرمانبرداری مراد ہے۔ یہ دونوں قول رفتار حدیث کے خلاف ہیں۔ ذٰلِکَ یعنی اس پر حکمت انداز کے مطابق سورج کی رفتار۔ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ایک ایسے خدا کی مقرر کردہ ہے جو ساری کائنات پر غالب ہے اور ہمہ گیر علم رکھتا ہے۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے

والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم . اور چاند کیلئے ہم نے سڑکیں مقرر کیں یہاں تک کہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔ یعنی ہم نے چاند کی سیر گاہ مقرر کی۔ اللہ نے چاند کی 28 منزلیں مقرر کی ہیں۔ ہر رات ایک منز میں اترتا ہے ‘ کبھی اپنی منزل سے نہیں چوکتا ‘ نہ منزل تک پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔ آخری منزل پر باریک اور خمیدہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی خمیدہ ٹہنی۔ پھر محاق کی تاریخ کو سورج کی شعاعوں کے نیچے آجاتا ہے (بالکل چھپ جاتا ہے) ۔