Ayahs 36:1–5یسین میں قرأت کی کئی صورتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور نسائی نے نون کو واد میں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ ابو عمروف ‘ اعمش اور حمزہ نے یٰسٓکو نون کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے عیسیٰ بن عمر نے یٰسنٓ یعنی نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن ابی اسحاق اور نصر بن عاصم نے اسے نون کے کسرہ کی ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے یٰسنٓ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ پہلی قرأت ادغام کے ساتھ ہے جس طرح لغت عربیہ میں ضروری ہے کیونکہ نون کو واو میں مدغم کیا جاتا ہے جس نے ادغام کے بغیر پڑھا ہے اس نے کہا : حروف ہجاء کا طریقیہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے ادغام تو درمیان کلام میں ہوتا ہے وقف پر نہیں ہوتا۔
سیبویہ نے نصب کا ذکر کیا ہے اور نصب دو وجوہ سے ذکر کی ہے : (1) ایک صورت تو یہ مفعول ہے وہ اسے مصرف قرار نہیں دیتے کیونکہ اس کے نزدیک یہ عجمی لفظ ہے اور ہابیل کے قائم مقام ہے تقدیر کلام یہ ہے اذکر یٰسٓ سیویہ نے اسے سورت کا نام بنا دیا ہے (2) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مبنی برفتحہ ہے جیسے کیف اور این ہے۔ جہاں تک کسرہ کا تعلق ہے فراء نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ عربوں کے قول : جیر افعل کے شابہ ہے اس سورت میں یس قسم ہوگی ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ امس ‘ حزام ‘ ھولاء اور رقاش کے مشابہ ہے۔ جہاں تک اس کے مضموم ہونے کا تعلق ہے تو اس صورت میں یہ منذ ‘ حیث اور قط کے مشابہ ہے اور منادی مفرد کے مشابہ ہے جب تو کہے : یا رجل جو آدمی اس پر وقف کرتا ہے ابن سمیقع اور ہارون نے کہا : اس کی تفسیر میں یا رجل کہا ہے ‘ مناسب اس پر ضمہ ہے۔ ابن انبارمی نے کہا : جس نے کہا یہ سورت کا آغاز ہے تو اس کے لئے وقف کرنا اچھا ہے جس نے کہا : یٰسٓ کا معنی یا رجل تو اس پر وقف نہ کرے۔
حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اس کا معنی ہے اے انسان ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان : سلم علی ال یاسین) الصافات ( کے بارے میں کہا یعنی آل محمد پر سلامتی ہو (1) ۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہ سورت حضرت محمد ﷺ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اس کی دلیل انک لمن المرسلین ہے سید حمیرمی نے کہا :
یا نفس لا تمحضی بالنصح جاہدۃ علی المودۃ الا آل یاسین (2)
اے نفس ! حضرت محمد ﷺ کی ذات کے سوا کسی سے محبت کرنے میں نصیب کو خالص نہ کر جبکہ تو کوشش کرنے والا۔ ابوبکر وارق نے کہا : اس کا معنی ہے اے سید البشر ! ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے امام مالک کا قول ہے ‘ اشہب نے ان سے روایت کیا ہے۔ جس نے آپ سے پوچھا کیا کیس کے لئے مناسب ہے کہ نام یاسین رکھ لے ؟ فرمایا : میں تو اسے مناسب خیال نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یٰسٓ والقرآن الحکیم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : یہ میرا نام یٰسٓ ہے ابن عربی نے کہا : یہ بہت عمدہ کلام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بندے کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے رب کے اسماء میں سے ایسا نام رکھ لے جب کہ اس بندے میں اس کا عنی موجود ہے جو جس طرح عالم ‘ قادر ‘ سید اور متعلم سے امالک نے یٰسٓ نام رکھنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے جس کا معنی معلوم نہیں بعض اوقات کوئی ایسا وصف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ یکتا ہوتا ہے تو اس لئے یہ جائز نہیں کہ بندہ اس پر آگے بڑھے۔
اگر یہ سوال کیا جائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سلم علی ال یاسین) الصافات (
ہم اس کا جواب دیں گے : یہ حروف تہجی کے ساتھ لکھا گیا ہے اس لئے اس کے ساتھ نام رکھنا جائز ہے یہیٰسٓ ایسا اسم ہے جس کے ہجے نہیں لکھے گئے ‘ امام مالک نے اس کے بارے میں یہی گفتگو کی ہے کیونکہ اس میں اشکال موجود ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جاتا ہے۔
بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز یاء اور سین کے ساتھ کیا ہے ان دونوں میں خیر ہی خیر ہے شروع کرنے والے کی اس پر راہنمائی کی گئی ہے کہ یہ سورت دل ہے اور دل جسم کا امیر ہے اسی طرح یٰسٓ تمام قرآن کے معانی پر مشتمل ہے۔
علماء نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ سعید بن جبیر اور عکرمہ نے کہا : یہ حبشہ کی لغت کا لفظ ہے۔ شعبی نے کہا : یہ سریانی زبان کا لفظ ہے ‘ عربوں نے اپنی زبان میں اسے استعمال کیا تو یہ ان کی لغت کا ایک لفظ بن گیا۔ یہ بحث سورة طہٰ اور کتاب کے مقدمہ میں مفصل گزرچکی ہے۔ قاضی عیاض نے یٰسٓ کے معنی کے متعلق مفسرین کے اقوال اچھی طرح بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ میرے ‘ میرے رب کے ہاں دس نام ہیں ان میں طہٰ اوریٰسٓ کا ذکر کیا۔
میں نے کہا : ماوردی ہے نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں میرے سات ناموں کا ذکر کیا ہے محمد ‘ احمد ‘ طہ ‘ یس ‘ مزمل ‘ مدثر اور عبداللہ (1) “
یہ قاضی عیاض کا قول ہے۔
ابو عبدالرحمن سلمی نے امام جعفر صادق (رح) سے یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ ارادہ کیا ہے اے سید ! اس میں نبی ﷺ کو خطاب کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے یٰسٓ کا معنی ہے اے انسان ! اس سے حضرت محمد ﷺ کا ارادہ کیا ہے ‘ کہا : یہ قسم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک ہے ‘ زجاج نے کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اے محمد ! ایک قول یہ کیا گیا : اے مرد ! ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے انسان ! ابن حنفیہ سے مروی ہے یٰسٓ سے مراد ہے اے محمد ﷺ ! کعب سے مروی ہے یٰسٓ سے مراد قسم ہے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے تخلیق سے دو ہزار سال پہلے اس کے ساتھ قسم اٹھائی فرمایا : اے محمد ! تو مرسلین میں سے ہے پھر فرمایا : والقران الحکیم۔ اگر یہ مقدر کیا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے اور یہ صحیح ہو کہ یہ قسم ہے تو اس میں تعظیم کا پہلو موجود ہوگا اس پر دوسری قسم کا جو عطف کیا گیا ہے اس کے ساتھ پہلی قسم کو مٔوکد کیا گیا ہے اگر یہ ندا کے معنی میں ہو تو اس کے بعد قسم اس لئے آئی ہے تاکہ آپ ﷺ کی رسالت کو ثابت کیا گیا جائے اور آپ ﷺ کی ہدایت پر گواہی دی جائے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف وحی کی ‘ آپ ایمان کی صراط مستقیم پر ہیں یعنی یہ ایسا راستہ ہے جس میں کوئی کمی نہیں اور حق سے کوئی اعراض نہیں۔ نقاشی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ ﷺ کے سوا کسی کی رسالت کے لئے قسم نہیں اٹھائی اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے عظمت اور شرف کا اظہار ہے۔ یہ تعبیر اس کے مطابق ہے جس نے اس کی یہ تاویل کی یا سید کو ین کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں (2) “ ان کی گفتگو اپنے اختتام کو پہنچی۔
قشیری نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا : قریش کے کفار نے کہا تو مرسل نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہماری طرف مبعوث نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم اٹھا کر فرمایا : آپ رسولوں میں سے ہیں۔ حکیم کا معنی محکم ہے یہاں تک کہ باطل اور تناقض لاحق نہیں ہوتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : احکمت ٰایتہ) ہود (1:
اسی طرح یہ قرآن نظم اور معنی میں محکم ہے اسے کوئی خلل لا حق نہیں ہوتا بعض اوقات لفظ حکیم اللہ تعالیٰ کے حق میں محکم کے معنی میں ہوتا ہے جس طرح الیم مئولم کے معنی میں ہوتا ہے۔
علی صراط مستقیم یعنی دین مستقیم پر ہوتا ہے اس سے مراد اسلام ہے۔ زجاج نے کہا : اس سے مراد ہے آپ سابقہ انبیاء کے طریقہ پر ہیں۔ کہا : لمن المرسلین ان کی خبر ہے (1) اور علی صراط مستقیم دوسری خبر ہے یعنی آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ صراط مستقیم پر ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنہیں استقامت پر بھیجا گیا تو اس صورت میں علی صراط مستقیم المرسلین کا صلہ ہوگا ‘ یعنی آپ ان رسولوں میں سے ہیں (2) جنہیں صراط مستقیم پر بھیجا گیا تھا ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و انک لتہدی الی صراط مستقیم) شوری ( یعنی اللہ تعالیٰ کا رابطہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
تنزیل العزیز الرحیم ابن عامر حفص ‘ اعمش ‘ یحییٰ ‘ حمزہ ‘ نسائی اور خلف نے تنزیل پڑھا ہے یعنی یہ مفعول مطلق ہے تقدیر کلام یہ ہے۔ نزل اللہ ذالک تنزیلا (3) مصدر کو مضاف کیا تو وہ معرفہ ہوگیا جس طرح یہ قول ہے فضرب الرقاب) محمد : (4 یہ اصل میں ضرباللرقاب تھا باقی قراء نے تنزیل کو رفع کر ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہوگی تقدیر کلام یہ ہوگی ہو تنزیل یا تقدیر یہ ہوگی الذی انزل الیک تنزیل العزیز الرحیم (4) ۔ اس نقطہ لطیفہ کو محفوظ کرلو۔ اسے تنزیل کر کے بھی پڑھا گیا ہے اس وقت یہ قرآن سے بدل ہوگا اور تنزیل قرآن کی طرف لوٹے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ رہا ہے معنی یہ بنے گا آپ ﷺ رسولوں میں سے ہیں اور آپ ﷺ عزیز و رحیم کی تنزیل ہیں ‘ اس صورت میں تنزیل ‘ ارسال کے معنی میں ہوگا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا یتلوا) الطلاق ( یہ جملہ بولا جاتا ہے : ارسل اللہ المطروانزلہ دونوں کا معنی ایک ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کی حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل کی۔ جس نے اسے منصوب پڑھا ہے اس نے کہا : آپ ﷺ رسولوں میں سے ہیں جسے عزیز و رحیم کی جانب سے بھیجا گیا ہے العزیز یعنی اپنے مخالف سے انتظام لینے والا۔ الرحیم اہل اطاعت پر حیم ہے۔
Ayahs 36:6–8لتنذر قوما ما انذر ابائوہم اکثر علماء تفسیر کے نزدیک ما کا اعراب میں کوئی محل نہیں ‘ ان میں سے قتادہ بھی ہیں کیونکہ یہ نافیہ ہے (1) تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جسے آپ سے قبل کسی ڈرانے والے نے نہیں ڈرایا ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : ما اور فعل مصدر ہیں تقدیر کلام یہ ہوئی لتنذر قوما ما انذار آبائہم۔ ایک قول یہ کیا گیا : ما ‘ الذی کے معنی میں ہے (2) معنی یہ ہوگا آپ انہیں ڈرائیں جس طرح ان کے آبا کو ڈرایا گیا۔ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ عربوں کو تواتر سے انبیاء کی خبریں پہنچی ہوں معنی یہ ہوگا انہیں میں سے کسی رسول میں سے انہیں نہ ڈرایا گیا۔ یہ جائز ہے کہ انہیں خبر تو پہنچی ہو لیکن انہوں نے غفلت کی ہو ‘ اعراض کیا ہو اور وہ بھول گئے ہوں۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس قوم کو خطاب ہو جن تک کسی نبی کی خبر نہ پہنچی ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما اتینہم من کتب یدرسونہا ومآ ارسلنا الیہم قبلک من نذیر) سبا ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعھم یتذکرون) القصص ( یعنی ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ جس نے یہ کہا ان تک انبیاء کی خبریں پہنچیں تو اس کا معنی ہوگا وہ اب اعراض کرنے والے ہیں اس سے جان بوجھ کر غافل بنتے ہیں۔ جو آدمی کسی چیز سے اعراض کرتا ہے اسے غافل کہتے ہیں : ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی سزا سے غافل ہیں۔
لقد حق القول علی اکثرھم فھم لا یومنون۔ یعنی ان میں سے اکثر پر عذاب ثابت ہوچکا ہے وہ آپ کے خبردار کرنے پر ایمان نہیں لائیں گے یہ پھر ان لوگوں کے بارے میں ہوگا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہی تھا کہ وہ کفر پر مریں گے (3) ۔ پھر انہوں نے جو ایمان ترک کیا اس کا سبب ذکر کیا فرمایا : انا جعلنا فی اعناقھم اغللاً ۔۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت ابو جہل بن ہشام اور اس کے دو مخزومی ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اس کی وجہ یہ بنی ‘ ابو جہل نے قسم اٹھائی اگر اس نے) حضرت ( محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ ان کا سر پتھر سے کچل دے گا۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو وہ مارنے کے لئے گیا ‘ پتھر اٹھایا جب پتھر مارنے کا قصد کیا تو اس کا ہاتھ گردن کی طرف لوٹ آیا اور پتھر اس کی گردن کے ساتھ چمٹ گیا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو جو کچھ دیکھ وہ بتایا۔ ایک آدمی جس کا نام ولید بن مغیرہ تھا اس نے کہا : میں اس کا سر کچل دوں گا 0 وہ پتھر مارنے کے لئے آیا جب کہ آپ ﷺ اسی طرح نماز پڑھ رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اسے اندھا کردیا وہ آپ ﷺ کی آواز کو سن رہا تھا مگر وہ دیکھتا نہیں تھا وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا مگر اپنے ساتھ بھی نظر نہیں آئے یہاں تک کہ انہوں نے اسے ندادی۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے دیکھا نہیں ‘ اس کی آواز سنی ہے۔ تیسرے نا کہا : میں اس کا سر پیس دونگا پتھر اٹھایا وہ چلا پھر پچھلے پائوں واپس پلٹا یہاں تک کہا پنی گدی کے بل گرپڑا اور بےہوش ہوگیا اسے کہا گیا : تجھے کیا ہوا اس نے کہا : میرا معاملہ بڑا عظیم ہے میں نے اسے دیکھا جب میں اس کے قریب ہوا تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نر اونٹ اپنی دنب ہلا رہا ہے میں نے اس جیسا بڑا نر کبھی بھی نہیں دیکھا وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہوگا لات و عزی کی قسم ! اگر میں اس کے قریب ہوتا تو وہ مجھے کھا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ ابن عباس ؓ نے اسے یوں پڑھا ہے انا جعلنا فی ایمانھم۔ زجاج سے اسے انا جعلنا فی ادیھم پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قرأت تفسیر ہے۔ مصحف کے برعکس قرأت نہیں کی جائے گی جماعت قرأت میں کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یوں گی انا جعلنا فی اعناقھم فی ایدیھم اغلا لا فہی الی الاذقان عرب اس قسم کے الفاظ کو حذف کردیتے ہیں اس کی مثل سرابیل تقیکم الحر) النحل (81: تقدیر کلام یہ ہوگی و سرابیل تقیکم الحر) النحل (81: تقدیر کلام یہ ہوگی تو اس کو حذف کردیا گیا۔ کیونکہ جو چیز گری سے بچاتی ہے وہ سردی سے بچاتی ہے کیونکہ طوق جب گردن میں ہوتا ہے تو لازما ًہاتھ میں ہوتا ہے خصوصاً اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فھی الی لاذقان اس سے مراد ہاتھ ہیں پس وہ اپنے سروں کو اٹھائے ہوں گے وہ انہیں نیچے کرنے کی طاقت نہ رکھیں گے کیونکہ جس کا ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے ساتھ جکڑا ہوا ہو تو اس کا سر بلند ہوتا ہے۔
عبداللہ بن یحیٰی سے مروی ہے کہ حضرت علی شیر خدا نے انہیں الاقماح کا طریقہ بتایا آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی داڑھی کے نیچے رکھا دونوں کو ساتھ چمٹایا اور اپنے سر کو اوپر اٹھایا (1) ۔ اس لفظ کے معنی کی تعبیر میں جو کچھ روایت کیا گیا ہے اس میں سے یہ ذی شن ہے ‘ یہ معنی اس چیز سے ماخوذ ہے جو اصمعی نے ذکر کیا ہے اس نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے اتحمت الدابۃ جب تو اس کو لگام کو کھینچے تاکہ اپنے سر کو اوپر اٹھائے۔ نحاس نے کہا : قاف ‘ کاف سے بدلا ہوا ہے کیونکہ اس کا قریبی لفظ ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے قھرتہ ‘ کھرتہ اصمعی نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے اکحمت الدابۃ۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اس کی لگام کھینچے یہاں تک کہ وہ اپنا سر اوپر اٹھالے ‘ اسی معنی میں یہ قول ہے : والراس مکمح سر اوپر اٹھا ہوا۔ اسی طرح یہ جملے بولے جاتے ہیں اکمح تھا ‘ اکفح تھا اور کبح تھا۔ سب کا معنی ایک ہے کبح تھا باب افعال کے وزن پر نہیں ‘ اصمعی سے یہ بھی مروی ہے قمع البعیر قموحا جب اونٹ حوض پر اپنے سر کو اٹھا لے اور وہ پانی پینے سے رک جائے ‘ اسی سے بعیر قامح اور قمع ہے یہ بھی جملہ بولا جاتا ہے : شرب فتقمح وانقمح دونوں کا معنی ایک ہے جب وہ اپنا سر اٹھالے اور سیراب ہونے کی وجہ سے پانی پینے سے رک جائے یہ جملہ بولا جاتا ہے : و قد قامحت ابلک جب وہ پانی پروارد ہو اور پانی نہ پیئے اس نے اپنا سر کسی بیماری کی وجہ سے اٹھا لیا یا سرد کی وجہ سے ایسا کیا اس کے ساتھ یوں صفت بھی ذکر کی جاتی ہے ابل مقامحۃ ‘ بعیر مقامح ‘ ناقۃ مقامح اس کی جمع خلاف قیاس قماح آتی ہے ‘ بشر کشتی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے۔
” ہم کشتی کے اطراف میں بیٹھے ہوئے تھے ہم آنکھیں بند کئے ہوئے تھے جس طرح وہ اونٹ آنکھیں بند کرلیتے جو پانی پینے سے رک جاتے ہیں “۔ اقماح کا معنی سر اٹھانا اور آنکھیں بند کرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اقمحہ الغل جب وہ تنگی کی وجہ سے اپنا سر اوپر کو اٹھالے شہر قماح ایسا مہینہ جس میں سخت سردی ہوتی ہے وہ دونوں دسمبر اور جنوری ہیں انہیں نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اونٹ جب پانی پر وارد ہوتا ہے تو پانی کی ٹھنڈک اسے اذیت دیتی ہے تو وہ اپنا سر اوپر کو اٹھا لیتا ہے اسی سے ایک جملہ قمحت السویق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں بیان فرمائی ہے کہ وہ ہدایت سے یوں رکے ہوئے ہیں جس طرح وہ آدمی رکا ہوتا ہے جس کے گلے میں طوق ڈالا گیا ہو ‘ یہ یحییٰ بن سلام اور ابوعبیدہ نے کہا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان حمار یعنی وہ ہدایت کو نہیں دیکھتا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان حمار یعنی وہ ہدایت کو نہیں دیکھتا۔ جس طرح شاعر نے کہا :
لھم عن الرشد اغلال و اقیاد
ہدایات پانے میں انہیں طوق اور بیڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ذئویب دور جاہلیت میں ایک عورت سے محبت کرتے تھے جب وہ مسلمان ہوگئے تو اس عورت نے انہیں بہلانا چاہا تو انہوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے : انہوں نے یہ کہنا چاہا تھا کہ اسلام کے احکام نے ہمیں بدکاری اور فسق سے روک دیا ہے۔ فراء نے بھی یہ کہا ہے : یہ ضرب المثل یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہمیں روک دیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک) الاسراء (29 یہ صحاک کا قول بھی ہے۔
ایک قوم یہ کیا گیا ہے کہ یہ حق کو قبول کرنے سے تکبر میں اس طرح وہ آدمی ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں طوق ہے اور اسے اس کی گردن کے ساتھ چسپاں کردیا گیا ہو وہ ہمہ وقت سر اٹھائے ہی رہتا ہے وہ اسے جھکا نہیں سکتا وہ اپنی آنکھ بند رکھتا ہے وہ اسے کھولتا نہیں۔ متکبر کی صفت بھی اسی چیز کے ساتھ لگائی جاتی ہے کہ وہ اپنی گردن کھڑی کئے ہوئے ہے۔ ازہری نے کہا : جب ان کے ہاتھ ان کی گردنوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں تو ان طوقوں نے ان کی ٹھوڑیوں کو اوپر اٹھا دیا جب کہ ان کے سر سیدھے کھڑے ہیں جس طرح وہ اونٹ ہوتے ہیں جو اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں یہ رکاوٹ اس طرح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں میں کفر پیدا کردیتا ہے۔ ایک قوم کے نزدیک اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کفر کی وجہ سے سزا کے طور پر توفیق سلب کرلیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا جائے گا ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور بیڑیاں ہونگی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا لا غلل فی اعناقھم والسلسل) غافر (71: ماضی کے لفظ کے ساتھ اسے تعبیر فرمایا یعنی فرمایا ان جعلنا مقمحون کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ مجاہد نے کہا : مقمحون کا معنی ہے انہیں ہر بھلائی سے روک دیا گیا ہے۔
Ayahs 36:9–11و جعلنا من بین ایدیھم سداو من خلفھم سدا مقاتل نے کہا : جب ابو جہل اپنے ساتھیوں کے پاس گیا جب کہ وہ نبی کریم ﷺ تک نہیں پہنچ پایا تھا اور پتھر اس کے ہاتھ سے گرگیا تو بنی مخزوم کے ایک اور آدمی نے پتھر اٹھایا اور کہا : میں اسے اس پتھر کے ساتھ قتل کروں گا جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو بےنور کردیا تو وہ نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھ سکا وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا تو وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ دیکھ سکا یہاں تک کہ ساتھیوں نے اسے ندا دی ‘ آیت کا یہ معنی ہے۔
محمد بن اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے اوجہل اور امیہ بن خلف بیٹھے وہ نبی کریم ﷺ کی تاڑ میں تھے تاکہ وہ آپ ﷺ کو اذیب پہنچا سکیں نبی کریم ﷺ ان کی طرف نکلے جب کہ آپ ﷺ سورة یس پڑھ رہے تھے آپ ﷺ کے ہاتھ میں مٹی بھی تھی نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف وہ مٹھی پھینکی اور پڑھا و جعلنا من بین ایدیھم سداومن خلفھم سدا انہوں نے سر نیچے کر لئے تو آپ ﷺ ان کے پاس سے گزر گئے۔ سورة سبحان میں اس کی بحث پہلے گزر چکی ہے سورة کہف میں سدا کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے کہ سدا سین کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے یہ دونوں اس کی لغتیں ہیں۔
فاغشینہم فھم لا یبصرون۔ ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور یحییٰ بن نعیم نے اسے فاعشیناھم پڑھا ہے۔ (1) ۔ یہ عشا سے عین کے ساتھ ہے جس کا معنی ہے اس کی نظر کمزور ہے وہ رات کو نہیں دیکھ سکتا۔ شاعر نے کہا :
متی تاتہ تعشوالی ضورنارہ
جب تو اس کے پاس آتا ہے تو اس کی آگ کی روشنی سے اندھا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و من یعش عن ذکر الرحمن) الزحرف (36: دونوں الفاظ کے معنی قریب قریب ہیں معنی ہے ہم نے انہیں اندھا کردیا جس طرح شاعر نے کہا :
” تیرا باپ نہ رہے حوادثات زمانہ میں سے یہ بھی ہے کہ مجھ پر زمین پہاڑوں کے ساتھ پھینک دی گئی ہے ان میں عذیب اور مراد کے علاقہ کے درمیان تلعتہ کی جگہ کو نہیں پاتا۔
وہ ہدایت کو نہیں دیکھ سکتے ‘ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب قریش نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا۔ ضحاک نے کہا آیت میں من بین ایدیھم سدا سے مراد دنیا ہے اور و من خلفھم سدا سے مراد آخرت ہے یینا وہ دوبارہ اٹھائے جانے سے اندھے ہوگئے اور دنیا میں شرائع کو قبول کرنے اندھے ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و قیضنا لھم قرناء فزینوا لھم ما بین ایدیھم وما خلفھم) حم سجدہ : (25
یعنی ان شیطانوں نے ان کے لئے دنیا کو مزین کیا اور آخرت کو جھٹلانے کی دعوت دی۔
ایک قول یہ کیا گیا : من بین ایدیھم سدا سے مراد ہے دنیا کے بارے میں دھوکہ میں مبتلا ہونا اور من خلفھم سدا سے مراد آخرت کو جھٹلانا۔ ایک قوم کیا گیا ہے : من بین ایدیھم سے مراد آخرت ہے اور من خلفھم سے مراد دنیا ہے۔
و سوآء علیھمء انذرتہم ام لم تنذرہم لا یٔومنون۔ سورة بقرہ میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ آیت قدریہ اور دوسرے لوگوں کا رد کرتی ہے۔
ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے غیلان قدری کو طلب کیا پوچھا : اے غیلان ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! لوگ مجھ پر جھوٹ بولتے ہیں پھر کہا : اے امیر المومنین ! کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان آپ نے نہیں دیکھا : انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمن بالغیب فبشیرہ بمغفرہ و اجر کریم۔
ذکر سے مراد قرآن ہے یعنی اس پر عمل کیا۔ بالغیب سے مراد جو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور آگ سے غائب ہوا ‘ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہوئے اور تنہا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اسے گناہ کی بخشش اور جنت کی بشارت دیجئے۔
Ayah 36:12(1) اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے مقصود کافروں کا رد ہے۔ ضحاک اور حسن نے کہا : ہم انہیں جہالت کے بعد ایمان کے ساتھ زندہ کرتے ہیں (1) پہلا قول زیادہ ظاہر ہے ہم جزا کے لئے بعث کے ساتھ انہیں زندہ کریں گے پھر تمام اعمال لکھنے کے ساتھ انہیں دھمکی دی۔
(2) اللہ تعالیٰ ہر چیز کا شمار کئے ہوئے ہے اور انسان جو کچھ کرتا ہے اسے شمار کئے ہوئے ہے۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس نے جو عمل کیا۔ مجاہد اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : علمت نفس ما قدمت و اخرت) الانفطار ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ینبوا الانسان یومئذ بمام قدم و اخر) القیامۃ (13: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اتقوا اللہ و التنظر نفس ما قدمت اخد) الحشر (18: انسان کے اعمال جو باقی رہیں گے اور جنہیں ذکر کیا جائے گا خوہ وہ اچھے ہوں یا برے ہوں اس پر انہیں بدلا دیا جائے گا اچھا عمل جیسے علم جس کی اس نے تعلیم دی ‘ جیسے کتاب جو اس نے تصنیف کی ‘ وقف جو اس نے وقف کیا یا ایسی عمارت جو انہوں نے بنائی وہ مسجد ہو ‘ سرائے اور پل وغیرہ۔ یا برا عمل ہو جس طرح کوئی ایسا ٹیکس ہو جو کسی ظالم حکمران نے مسلمانوں پر لگایا ہو یا ایسی گلی جو اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے بنائی ہو یا کوئی ایسی چیز جو اس نے مسلمانوں کو ذکر سے روکنے کے لئے بنائی ہو جس طرح گانے بجانے کے مراکز ‘ لہو و لعب کے میدان اسی طرح ہر اچھی سنت اور بری سنت جس پر عمل کیا جات ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ نشانات ہیں جو مسجد کی طرف پیدل آنے والوں کے قدموں سے بنتے ہیں ‘ اس آیت کا یہی معنی حضرت عمر ‘ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیان کیا ہے (2) ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ و اثارھم کا معنی ہے مساجد کی طرف جاتے ہوئے ان کے قدم نحاس نے کہا : اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ہے ان سب میں سے یہ بہترین معنی ہے کیونکہ نحاس نے کہا : یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ انصار کے مکانات مسجد سے دور تھے ایک حدیث مرفوع میں ہے : یکتب لہ برجل حسنۃ و تحط عنہ برجل سیئۃ ذاھبا و راجعا ازاخر جرالی مسجد ایک قوم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک قدم پر ایک برائی مٹادی جاتی ہے یہ صورت مسجد آتے اور جاتے ہوئے ہوتی ہے جب وہ مسجد کی طرف نکلے۔
میں کہتا ہوں : ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ بنو سلمہ مدینہ طیبہ کی ایک جانب رہتے تھے انہوں نے مسجد کے قریب گھر بنانے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں “ تو وہ مسجد کے قریب منتقل نہ ہوئے (1) ۔ کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے اور ثوری سے مروی ہے۔ مسلم شریف میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب آجائیں جگہ بھی خالی تھی ‘ یہ خبر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچی تو ارشاد فرمایا اے بنو سلمہ اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں “ انہوں نے کہا : ہم منتقل ہوتے تو یہ چیز ہمیں خوش نہ کرتی (2) ۔
ثابت بنانی نے کہا : میں حضرت انس مالک کے ساتھ نماز کی طرف نکلا تو میں نے جلدی کی تو انہوں نے مجھے روک لیا جب نماز ختم ہوگئی تو کہا : میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ چلا تو آپ ﷺ نے مجھے روک لیا جب تماز ختم ہوگئی تو فرمایا : ” کیا تو نہیں جانتا کہ یہ قدم لکھے جاتے ہیں (3) “ آیت کا مصداق بھی یہی ہے۔
فتادہ ‘ مجاہد اور حسن بصری نے کہا : اس آیت میں آثار سے مراد قدم ہیں۔ ثعلبی نے کہا : حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آثار سے مراد جمعہ کی طرف جانے والے قدم ہیں (4) ۔ آثار کا واحد اثر ہے اسے اثر بھی کہتے ہیں۔
(3) یہ احادیث جو آیات کی تفسیر بیان کرتی ہیں ان میں اس امر پر دلیل ہے کہ مسجد سے دوری افضل ہے۔ اگر کوئی آدمی مسجد کے پڑوس میں ہو تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ مسجد سے دور چلا جائے اس میں اختلاف ہے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ وہ قضائے حاجت کی جگہ دور اختیار کرے۔ دوسرے صحابہ سے مروی ہے کہ جو آدمی مسجد سے جتنا دور ہو اس کا اجر اتنا ہی بڑا ہوگا حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے اسے مکروہ جانا ہے کہا : وہ مسجد کے پڑوس کو نہ چھوڑے کیونکہ کوئی دوسرا آجائے گا ‘ یہ امام مالک کا نقصہ نظر ہے۔ اپنی مسجد کو چھوڑ کر بڑی مسجد میں جانے میں دو قول ہیں : (1) ابن ماہ نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” آدمی کا اپنے گھر کے قریب والی مسجد میں نماز ایک نماز ہے اور قبائل کی مسجد میں ایک نماز پچیس نمازیں ہیں اور وہ نماز جو جامع مسجد میں پڑھی جائے وہ پانچ سو نمازیں ہیں ‘ (5) ۔
(4) دیارکم ‘ اغراء کے طریقہ پر منصوب ہے جس پر احصینہ دلالت کرتا ہے گویا کلام یوں ہے واحصینا کل شئی احصیناہ۔ اسے مبتدا کی حیثیت سے رفع دینا بھی جائز ہے کیونکہ یہ مبتدا بن سکتا ہے تاہم نصب دینا بہتر ہے تاکہ فعل جس پر عمل کر رہا ہے اس کا اس پر عطف کیا جس پر فعل نے عمل کیا ‘ یہ سیبویہ اور خلیل کا قول ہے۔ الامام سے مراد وہ کتاب ہے جس کی اقتدار کی جاتی ہے وہ حجت ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور ابن فرید نے کہا : امام سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ایک فرقہ نے کہا : اس سے مراد اعمال کے صحیفے ہیں۔
Ayahs 36:13–19خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : وہ حضرت شمعون اور حضرت یوحنا تھے۔ نقاشی نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت شمعون اور حضرت یحییٰ تھے دونوں نے حضرت صادق اور مصدوق کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بھی جائز ہے۔ کہ مثلا اور اصحاب قریہ ‘ اضرب کے دونوں مفعول ہوں یا اصحاب قریہ ‘ مثلا سے بدل ہو تقدیر کلام یوں ہوگی اضرب لھم مثلاً اصحٰب القریۃ مضاف کو حذف کردیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ ان مشرکین کو اس عذاب سے ڈرائیں کہ ان مشرکوں پر وہ عذاب نازل ہو سکتا ہے جو اس بستی کے کفار پر نازل ہوا تھا جن کی طرف تین رسول بھیجے گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسل من اللہ ‘ مبتدا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان تین افراد کو انطاکیہ کی طرف بھیجا تھا تاکہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں اللہ نے ان کے بھیجنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حکم سے انہیں بھیجا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا تو لوگوں نے انہیں جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگوں نے دونوں کو مارا اور دونوں کو قیدی بنا لیا تو ہم تیسرے کے ساتھ انہیں قوت بخشی اور تیسرے کے ساتھ رسالت کو پختہ کیا۔
ابوبکر نے عاصم سے یہ قرأت نقل کی ہے فززنا بثالث جب کہ باقی قراء نے اسے مشدد پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تشدید اور تخفیف دونوں کے ساتھ ہے قوت بخشی اور مضبوط کیا اس حساب سے دونوں قرائتیں ایک معنی میں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تخفیف کی صورت میں یہ غلبنا اور قھرنا کے معنی میں ہے اس معنی میں و عزنی فی الخطاب۔ ) ص ( تشدید قوینا اور کثرنا کے معنی میں ہے۔ ابوعمرو بن علاء نے متلمس کے لئے شعر پڑھا :
اجدا ازا رحلت تعزز لحمھا و اذا تشد بنسعھا لا تببس
قصہ میں ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی طرف دو قاصد بھیجے وہ ایک بوڑھے کو ملے جو اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہا تھا وہ صبیب نجار صاحب یس تھا دونوں نے اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دی دونوں نے کہا : ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ہم تجھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں اس نے دونوں سے معجزہ طلب کیا دونوں نے کہا : ہم مریض کو شفا دیتے ہیں۔ اس حبیب نجار کا ایک بیٹا مجنون تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ بستر پر مریض پڑا تھا دونوں نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ اللہ کے حکم سے صحیح وسالم اٹھ کھڑا ہو وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہی وہ آدی تھا جو شہر کے دور دراز علاقہ سے دوڑتا ہوا آیا تھا اس نے دونوں کے امر کو ظاہر کردیا دونوں نے بہت سے لوگوں کو شفا عطا فرمائی۔
بادشاہ نے دونوں کو بلا بھیجا جب کہ وہ بتوں کی عبادت کیا کرتا تھا تاکہ دونوں کے احوال کو سمجھے دونوں نے کہا : ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا : تمہاری نشانی کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : ہم مادرز اداندھوں ‘ کوڑھ کے مریض کو اور دوسرے مریضوں کو اللہ کے حکم سے درست کرتے ہیں اور ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں بادشاہ نے ان کو مارنے کا ارادہ کیا۔ وہب نے کہا : بادشاہ نے دونوں کو گرفتار کرلیا اور دونوں کو سوکوڑے مارے یہ خبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچی تو آپ نے تیسرے قاصد کو بھیجا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ شمعون صفا تھا جو حواریوں کا سردار تھا دونوں کی مدد کے لئے اسے بھیجا اس نے بادشاہ کے ہم نشین کے ساتھ راہ ہم پیدا کیے یہاں تک وہ ان کے ہاں ذیشان ہوگیا اور وہ لوگ اس سے مانوس ہوگئے انہوں نے اس کی بات بادشاہ تک پہنچائی وہ بھی اس سے مانوس ہوگیا پھر ایک دن اس نے بادشاہ سے پوچھتا اس کا پس منظر کیا ہے ؟ بادشاہ نے کہا : غصہ میرے اور ان کے سوال کے درمیان غالب آگیا تھا اس آدمی نے کہا : کاش ! تو انہیں حاضر ہونے کا حکم دیتا ؟ اس نے ایسا ہی کیا شمعون نے دونوں سے کہا : تم جو دعویٰ کرتے ہو اس پر دلیل کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : ہم مادرز اداندھوں کو اور برص کے مریضوں کو شفایاب کرتے ہیں۔ ایک ایسا لڑکا لایا گیا جس کی آنکھوں کے نشان ہی نہ تھے اس کی آنکھوں کی جگہ ایسی تھی جس طرح پیشانی ہوتی ہے دونوں نے اپنے رب کے حضور دعا کی تو آنکھ کی جگہ پھٹ گئی دونوں نے مٹی کے ڈھیلے لئے اور اس کے رخسار پر رکھ دیئے تو دونوں اس کی آنکھیں بن گئیں جن کے ساتھ وہ دیکھنے گا۔ بادشاہ متعجب ہوا اس نے کہا : یہاں ایک لڑکا ہے جو سات دن پہلے فوت ہوگیا ہے میں نے اس دفن کیا یہاں تک کہ اس کا باپ آئے کہا : کہا تمہارا رب اسے زندہ کرسکتا ہے ؟ دونوں نے اعلانیہ دعا کی اور شمعون نے آہستہ دعا کی وہ مردہ زندہ ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے کہا : میں سات دن پہلے مرگیا تھا مجھے مشرک کی حثیت سے پایا گیا مجھے آگ کی سات وادیوں میں داخل کیا گیا جس حالت پر ہوں اس سے میں تمہیں خبردار کرتا ہوں پھر آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے تو میں ایک خوبصورت چہرے والے جوان کو دیکھا جو ان تین افراد کے حق میں سفارش کر رہا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی روح اور کلمہ ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ لوگوں نے اس سے پوچھا : یہ شمعون بھی انہیں کا ساتھی ہے ؟ اس نے کہا : یہاں یہ ان سے افضل ہے شمعون نے لوگوں کو بتایا کہ اسے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی طرف بھیجا تھا اس کی گفتگو بادشاہ پر اثر انداز ہوئی اس نے بادشاہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی بادشاہ بیشمار لوگوں کے ساتھ مومن ہوگیا اور دوسرے بیشمار لوگوں نے کفر اختیار کیا۔
قشیری نے یہ ذر کیا ہے کہ بادشاہ تو ایمان لے آیا تھا لیکن اس کی قوم مومن نہ ہوئی تھی ‘ حضرت جبریل امین نے ایک چیخ ماری تو باقی ماندہ سب کافر مر گئے۔
یہ روایت کی گئی ہے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس بستی کی طرف جائیں تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ہم ان لوگوں کی زبان میں گفتگو نہیں کرسکتے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے حق میں عا کی تو اسی جگہ پر سو گئے وہ نیند سے اٹھے تو فرشتوں نے انہیں اٹھایا اور انطاکیہ میں جا پہنچا یا تو ان میں سے ہر ایک ان کی زبان میں بات کر رہا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان : و ایدنہ بروح القدوس) البقرہ (87: کا یہی مفہوم ہے سب نے کہا : ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا : تم تو محض ہماری طرح انسان ہو تم کھانا کھاتے ہو اور بازاروں میں چلتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے تو کوئی چیز نازل نہیں کی جس کے ساتھ وہ حکم دے یا منع کرے تم تو اپنی رسالت کے دعویٰ میں جھوٹ بولتے ہو ‘ رسولوں نے کہا : ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اگرچہ تم ہمیں جھٹلائو ہمارے ذمے تو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ لوگوں نے ان سے کہا : ہم نے تم سے فال بدلیا۔ مقاتل نے کہا : تین سال تک ان سے بارش روک لی گئی۔ لوگوں نے کہا : یہ تمہاری نحوست ہے۔ یہ بھی قول کیا جاتا ہے : دس سال تک انہیں ڈراتے رہے لوگوں نے کہا : اگر تم ہمیں ڈرانے سے نہ رکے تو ہم تمہیں رحم کردیں گے۔ فراء نے کہا : ہم تمہیں قتل کردیں گے (1) ۔ کہا : قرآن حکیم میں جم سے مراد قتل کرنا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد پتھر مار مار کر مار ڈالنا ہے۔ ایک قول یہ ہے : ایک قول یہ ہے : کہا گیا ہے اس کا معنی ہے ہم تمہیں گالیاں دیں گے۔ سب بحث پہلے گزر چکی ہے۔ عذاب الیم۔ سے مراد قتل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد تکلیف وہ عذاب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد قتل سے قبل تکلیف وہ عذاب ہے جیسے کھال اتارنا ‘ ہاتھ پائوں کاٹنا اور سولی پر لٹکانا۔ رسولوں نے کہا : خیر اور شر میں سے حصہ تمہارا ہے اور تمہاری گردنوں میں لٹکا ہوا ہے وہ سب کچھ ہماری نحوست کی وجہ سے نہیں ‘ یہ معنی ضحاک نے بیان کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تمہارا رزق اور تمہارا عمل ہے ‘ معنی ایک ہی ہے۔
حضرت حسن بصری نے اسے اطیرکم پڑھا ہے جو تطیرکم کے معنی میں ہے ائن ذکرتم قتادہ نے کہا : تقدیر کلام یہ ہوگی ان ذکرتم تطیرتم اس میں نو قرائتیں ہیں۔ اہل مدینہ نے اسے این ذکر تم یعنی دوسرے ہمزہ میں تخفیف ہے اہل کوفہ نے أان دونوں ہمزوں کو ثابت رکھے ہوئے پڑھا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دونوں ہمزوں کے درمیان الف فاصل ہے کیونکہ دونوں ہمزوں کو ثابت رکھتے ہوئے پڑھا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دونوں ہمزوں کے درمیان الف فاصل ہے کیونکہ دو ہمزوں کا اجتماع ناپسندیدہ ہے۔ چوتھی صورت یہ ہے ہمزہ کے بعد الف ہے الف کے بعد ہمزہ مخففہ ہے۔ پانچویں صورت دو مفتوح ہمزوں کے درمیان الف ہے۔ چھٹی صورت یہ ہے دونوں مفتوح ہمزوں کو ثابت رکھا گیا ہے۔ فراء نے کہا : یہ قرأت ابور زین کی قرأت ہے۔
میں کہتا ہوں : ثعلبی نے اسے زربن حبیش اور ابن سمیقع سے نقل کیا ہے۔ عیسیٰ بن عمر اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں اس کی قرأت کی قالو اطائرکم معکم این ذکرتم ‘ این جو حیث کے معنی میں ہے۔ یزید بن قعقاع ‘ حسن بصری اور طلحہ نے کہا : ذکر تم تخفیف کے ساتھ ہے۔ نحاس نے یہ سب اقوال ذکر کیے ہیں۔ مہدوی نے طلحہ بن مصرف اور عیسیٰ ہمدانی سے نقل کیا ہے آن ذکرتم یعنی مد کے ساتھ اسے پڑھا ہے ہمزہ استفہام ‘ ہمزہ مفتوحہ پر داخل ہوا ہے ماحبشون نے کہا : ان ذکرتم ایک ہمزہ مفتوح کے ساتھ ہے ‘ یہ نو قرائتیں ہیں۔ ابن ہر مز نے اسے طیرکم معکم ‘ ائن ذکرتم پڑا ہے کیونکہ انہیں نصیحت کی گئی ‘ یہ نیا کلام ہے یعنی اگر تمہیں نصیحت کی جائے تم فال پکڑنے لگتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اس وقت فال بد لیا جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دعوت دی تو انہوں نے وہ دعوت قبول نہ کر ان کا انجام ہلاکت ہے قتادہ نے کہا : تم فال پکڑنے میں اسراف سے کام لینے والے ہو یحییٰ بن سلام نے کہا : تم اپنے کفر میں اسراف کرنے والے ہو۔ ابن بحر نے کہا : سرف سے یہاں مراد فساد ہے اس کا معنی ہے بلکہ تم لوگ فسادی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم مشرک ہو (2) ۔ اسراف کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے مشرک بھی حد سے تجاویز کرتا ہے۔
Ayahs 36:20–29رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں اور اس کی تکلیف رفع کردیں تو بتوں نے اس کی کوئی دعا قبول نہ کی۔ جب قاصدوں نے اسے دیکھا تو اے اللہ کی طرف دعوت دی تو اس نے پوچھا : کوئی نشانی بھی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہم قادر رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو جو تکلیف تجھے لاحق ہے اللہ تعالیٰ اسے تجھ سے دور کر دے گا پوچھا : وہ ایک دن میں کیسے اس تکلیف کو دور فرمائے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہمارا رب جو چاہتا ہے اس پر قادر ہے ‘ یہ بت تو نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان کرسکتے ہیں۔ وہ ایمان لے آیا۔ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تکلیف کو رفع کردیا گویا اسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں پھر وہ اپنی کمائی کی طرف متوجہ ہوا جب اس نے شام کی تو اپنی کمائی کو صدقہ کردیا اس نے نصف اپنے عیال کو کھلایا اور نصف صدقہ کیا جب اس کی قفوم نے قاصدوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا : بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو۔ قتادہ نے کہا : وہ ایک غار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا جب اس نے بھیجے گئے افراد کے بارے میں سنا تو وہ دوڑتا ہوا آیا تو اس نے بھیجے گئے افراد سے کہا : تم جو کچھ لائے ہو اس پر اجر بھی طلب کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ابو عالیہ نے کہا : اسے ان کی صداقت کا یقین ہوگیا اور وہ ان پر ایمان لے آیا اور اپنی قوم کی طرف اس قوم کے ساتھ متوجہ ہوا : اے میری قوم ! ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ ان کی اتباع کرو جو کوئی اجر طلب نہیں کرتے اگر یہ جھوٹے ہوتے تو تم سے اجر طلب کرتے ‘ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
قتادہ نے کہا : اس کی قوم نے پوچھا : تو ان لوگوں کے دین پر ہے ؟ تو جواب دیا : مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ جس نے مجھ پیدا کیا ہے میں اس کی اتباع نہ کروں کیونکہ تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ یہ ان کے خلاف اس کی طرف سے حجت قائم کرنا تھا۔
فطرت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس پر نعمت ہے جو شکر اور دوبارہ اٹھائے جانے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ وہ وعید ہے جو اجر کا تقاضا کرتی ہے گویا نعمت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا یہ شکر کو زیادہ نمایاں کرنے والا ہے اور دوبارہ اٹھائے جانے کو کافر کی طرف منسوب کرنا شر میں زیادہ بلیغ ہے (1) ۔
الھۃ سے مراد بت ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے یعنی جو اسے بیماری لگی ہے تو ان بتوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی اور وہ مجھے آزمائش سے چھٹکارا نہ دلا سکیں گے اور میں ایسا کروں تو میں واضح خسارے میں ہوں گا ‘ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے گواہ بن جائو۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس نے بھیجے گئے افراد سے خطاب کیا کہ وہ ان کے رب پر ایمان لے آیا ہے۔ اور فاسمعون کا معنی ہے تم میرے ایمان لانے پر گواہ بن جائو۔ کعب اور وہب نے کہا : اس نے یہ بات اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہارے اس رب پر ایمان لایا ہوں جس کا تم نے انکار کیا ہے۔ ایک قوم یہ کیا گیا ہے : جب اس نے اپنی قوم سے کہا ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ تم اس کی پیروی کرو جو تم سے اجر کا سوال نہیں کرتے تو لوگ اسے بادشاہ کے پاس لے گئے اور کہا : تو نے ہمارے دشمنوں کی پیروی کی ہے۔ اس نے ان کے ساتھ گفتگو کو طویل کیا تاکہ اس کے ذریعے بھیجے گئے افراد کے اقتل سے انہیں غافل کر دے یہاں تک کہ اس نے کہا انی امنت بربگم تو وہ اس پر جھپٹ پڑے اور اسے قتل کردیا۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : انہوں نے اسے اپنے پائون سے روند ڈالا یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں اس کی دبر سے نکل آئیں اور اسے کنوئیں میں پھکنت دیا ‘ وہی رس ہے وہ اصحاب رس ہیں (1) ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے : لوگوں نے ان تینوں افراد کو قتل کردیا۔ سدی نے کہا : انہوں نے اسے پتھر مارے جبکہ وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کردیا (2) ۔ کلبی نے کہا : انہوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس میں اسے ڈال دیا اور اس پر مٹی ڈال دی اور وہ مٹی کے نیچے دب کر مرگیا۔
حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے اسے آگ میں جلادیا (3) اسے شہر کے فصیل سے لٹکا دیا اس کی قبر انطاکیہ کی دیوار میں ہے ‘ یہ ثعلبی نے بیان کیا ہے۔ قشیری نے کہا : حضرت حسن بصری نے کہا : جب قوم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا تو وہ جنت میں ہے وہ نہیں مرے گا مگر جب آسمان فناء ہوجائے گا اور جنت ہلاک ہوجائے گی جب اللہ تعالیٰ جنت کو دوبارہ لوٹائے گا تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا (4) ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اسے آری کے ساتھ چیر دیا یہاں تک کہ وہ اس کی دو ٹانگوں کے درمیان سے نکلی اللہ کی قسم ! اس کی روح نہیں نکلی مگر اسے جنت میں داخل کردیا گیا اللہ تعالیٰ کا فرمان : قیل ادخل الجنۃ کا یہی معنی ہے جب اس نے جنت کا مشاہدہ کیا تو اس نے کہا : ہائے کاش ! میری قوم وہ کچھ جان لیتی جو میرے رب نے مجھے بخشا ما فعل کے ساتھ ملکر مصدر کے حکم میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد مخدوف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ استفہامیہ ہے جو تعجب کے معنی میں ہے گویا کہا : کاش ! میری قوم جانتی کہ کس وجہ سے میرے رب نے مجھے بخشا ہے ؟ یہ فراء کا قول ہے۔ کسائی نے اس پر اعتراض کیا ہے اس نے کہا : اگر یہ صحیح ہو تو بم کا لفظ کہتا۔ فراء نے کہا کہ ما الف کے ساتھ کہا جائے یہ استفہامیہ ہے اور اس میں کئی اشعار پڑھے۔
زمحشری نے کہا : الف کے بغیر پڑھنا زیادہ اچھا ہے اگرچہ الف کو ثابت رکھنا قلیل ہے اس صورت میں یعلمون پر وقف کیا جائے گا۔
ایک جماعت نے کہا : ادخل الجنۃ کا معنی ہے تیرے لئے جنت ثابت ہوگئی۔ یہ خبر ہے تو جنت میں داخل ہوجا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا وہ اس میں زندہ ہے اسے رزق دیا جاتا ہے بطور دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربھم یرزقون۔ جس طرح آل عمران پہلے گزر چکا ہے۔
قال یلیت قومی یعلمون۔ سائل کے سوال کی وجہ سے کلام ذکر کی گئی ہے جو سوال اتنی بری کامیابی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جو بخشش اور تکریم کی صورت میں متحقق ہوئی اسے من مکرمین بھی پڑھا جاتا ہے۔ اتمنی میں دو قول ہیں :
(1) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے حال سے آگاہی حاصل کریں تاکہ اس کے حسن انجام اور پسندیدہ عاقبت سے آگہی حاصل کریں (2) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے ایمان کی مچل ایمان لائین اور اس کی ہالت جیسی حالت والے ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس نے اپنی قوم کو زندہ اور مردہ حالت میں نصیحت کی (2) انہوں نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کیا۔ حضرت علی بنابی طالب ؓ یہ ان میں سے افضل ہیں ‘ آل فرعون کا مون اور صاحب یٰس یہ صدیق ہیں ‘ زمحشری نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔
اس آیت کریمہ میں عظیم تنبیہ ہے (3) اور غصہ پی جانے ‘ جہلاء سے حلم کرنے ‘ جو آدمی اپنے آپ کو شریر اور باغیوں کی آبادی میں پھنسالے اس پر شفقت کرنے ‘ اس کو چھٹکارا دلانے میں کوشش کرنے ‘ اس کا فدیہ دینے میں مہربانی کرنے ‘ اس کے دشمنوں کو خوش کرنے والے عمل سے اور اسے بددعا دینے سے اغراض کرنے کے وجوب پر دلالت موجود ہے کیا تم دیکھنے نہیں اس نے اپنے قاتلوں کے لئے ‘ اس کے لئے ہلاکت چاہنے والوں کے لئے خیر کی تمنا کی جب کہ وہ کافر تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب حبیب کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے غضبناک ہوگیا اور قوم پر جلد عذاب کو مسلط کردیا ‘ جبرایل امین کو حکم دیا اس نے ان پر ایک چیخ ماری تو وہ سب کے سب مر گئے اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین۔ کا یہی مفہوم ہے ‘ یعنی ہم نے اس کے قتل کے بعد ان پر کوئی نبی اور رسول مبعوث نہ کیا ‘ یہ قتادہ ‘ مجاہد اور حسن کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جند سے مراد لشکر ہیں (4) یعنی ان کو ہلاک کرنے کے لئے لشکروں کو بھینے کا محتاج نہیں بلکہ میں انہیں ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردوں گا ‘ یہ حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء کے معنی بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما کنا منزلین ان کے امر کو حقیر قرار دینا ہے یعنی ہم نے اس کے قتل کو بعدیا آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم ان کے پہلوئو پر اسے نازل کرنے والے نہ تھے۔
زمحشری نے کہا : اگر تو یہ کہے : یوم بدر اور یوم خندق کو کیوں لشکر نازل کیے گئے ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فارسلنا علیھم ریحا و جنود الم تروھا) الاحزاب (9:
میں جواب دونگا : ایک فرشتہ ہی کافی تھا قوم لوط کے شہر حضرت جبریل امین کے ایک پر سے ہلاک کردیئے گئے (5) ‘ قوم ثمود کے شہر اور قوم صالح کے شہر ایک چیخ سے برباد کردیئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیاء اور اولی العزم رسولوں پر فضیلت دی۔ حبیب نجار کی کیا حیثیت ہے آپ ﷺ کو کرامت اور اعزاز کے اسباب عطا فرمائے جیسے اسباب کسی اور کو عطا نہ فرمائے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے آسمان سے لشکر نازل فرمائے گویا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا وما انزلنا۔۔۔۔ وما کنا منزلین۔ کیونکہ لشکروں کو نازل کرنا عظیم امور میں سے ہے جن کا تیرے سوا کوئی اہل نہیں اور ہم تیرے سوا کسی اور کے لئے کچھ بھی کرنے والے نہیں۔
ان کا نت الا صیحۃ واحدۃ عام قرأت واحدژ نصب کے ساتھ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ماکانت عقوبتھم الاصیحۃ واحدۃ۔
ابو جعفر بن قعقاع ‘ شیبہ اور اعرج نے صیحۃ) مرفوع ( پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ان کا نت الا صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ میں کون کو وقوع اور حدوث کے معنی میں لیا ہے گویا یوں کلام کی : ما وقعت علیھم الا صیحہ واحدۃ۔ ابو حاتم اور دوسرے بہت سے نحویوں نے تانیث کے سبب اس قرائت کو ناپسند کیا ہے جب کہ یہ قول ضعیف ہے جس طرح ما قامت الا ھند ضعیف ہے اس کی وجہ یہ ہے معنی ہے ما قام احد الاھند۔ ابو حاتم نے کہا : اگر بات اس طرح ہو جس طرح ابو جعفر نے قرأت کی ہے تو کلام یوں ہوتی ان کان الا صیۃ نحاس نے کہا : ان میں سے کوئی شے بھی ممتنع نہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے : ما جائتنی الا جاریتک تو اس معنی میں ہے ما جائتنی امراۃ او جاریۃ الا جاریتک۔ رفع کی صورت میں قرأت میں تقدیر کلام یوں ہوگی جو ابو اسحاق نے کہا ہے کہا : اس کا معنی ہے ان کا نت علیھم صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ۔ دوسرے علماء نے اس کی یوں تقدیر کلام ذکر کی ہے ما وقعت علیھم صیحۃ واحدۃ۔ کان کا لفظ وقع کے معنی میں کلام عرب میں اکثر واقع ہوتا ہے ‘ عبدالرحمن ابن اسود نے اس کی یوں قرأت کی۔ یو بھی قول کیا جاتا ہے : حضرت عبداللہ کی قرأت میں بھی اس طرح ہے ان کا نت الازقیۃ واحدۃ یہ مصحف کی مخالف ہے نیز یہ بھی کہ معروف لغت زقا یزقو ہے جس کا معنی ہے چیخنا اس معنی میں ضرب المثل ہے : اثقل من الزواقی۔ اس صورت میں نقیۃ کی جگہ یزقوزقوۃ کا لفظ ہوگا ‘ یہ نحاس نے زکر کیا ہے۔
میں کہا ہوں : جوہر نے کہا الزقو اور الزقی مصدر ہیں قدزقا الصدی یزقوزقاء اس نے چیخ ماری ہر چیخ مارنے والے کو زاق کہتے ہیں اور زاقیۃ کا معنی چیخ ہے۔
میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے کہا جاتا ہے زقوۃ اور زقیۃ دور لغتیں ہیں قراءت صحیح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
فاذاھم خمدون۔ تو اچانک وہ مردہ تھے۔ انہیں ٹھنڈی راکھ کے ساتھ تشبیہ دی قتادہ نے کہا : خمدون کا معنی ہلاک ہونے والے ہیں۔ معنی سب کا ایک ہے۔