Ayah 36:1(36:1) یس۔ یا اور س حروف مقطعات میں سے ہیں اس کے مراد ی معنی سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی کو معلوم نہیں۔ یہ سورة کا عنوان بھی ہے ۔ اس سورة کے کئی دیگر نام بھی ہیں مثلاً معمہ۔ کیونکہ اس کے پڑھنے والے کو دونوں جہانوں کی بھلائی بھی عطا ہوتی ہے اس کو دافعہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی کو دفع کرتی ہے اس کا نام قاضیہ بھی ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کی ہر ضرورت کو پورا کرتی ہے وغیرہ ذلک۔
Ayah 36:2(36:2) والقران الحکیم وائو قسم کے لئے ہے بعض نے یس کو قسم قرار دیا ہے اس صورت میں وائو عاطفہ ہوجائے گی القران الحکیم موصوف و صفت ہے۔ حکیم فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے یعنی بڑی حکمت والا۔ پراز حکمت۔ یا اس کا معنی محکم بھی ہوسکتا ہے یعنی ایسی محکم کتاب جو ندرت معانی اور عبارت کی تعجب انگیزی کے لحاظ سے محکم ہے یا ایسی محکم کہ باطل کسی گوشہ سے اس پر حملہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 36:3(36:3) انک لمن المرسلین۔ یہ جواب قسم ہے اور کفار کے اس اعتراض کے جواب میں جس کا ذکر اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویقول الذین کفروا لست مرسلا۔ (13:43) اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم خدا کے رسول نہیں ہو۔
Ayah 36:4(36:4) علی صراط مستقیم۔ موصوف وصفت، راہ راست ، سیدھا راستہ یعنی اسلام، دین حق۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) یہ خبر ثانی ہے (لمن المرسلین۔ خبر اول)
(2) یہ المرسلین کا صلہ ہے ای انک لمن المرسلین الذین ہم علی صراط مستقیم ای علی طریقۃ مستقیمۃ (بےشک آپ مرسلین الٰہی میں سے ہیں جو سب کے سب راہ راست پر گامزن تھے۔
Ayah 36:5(36:5) تنزیل العزیز الرحیم۔ تنزیل فعل محذوف کا مفعول مطلق (مصدر) ہے ای نزل العزیز الرحیم تنزیلا (مولانا اشرف علی تھانوی ) ای نزل اللہ ذلک تنزیلا (قرطبی) نزل اللہ ذلک تنزیل العزیز الرحیم (شو کافی) خدائے غالب و زبردست اور نہایت مہربان کی اسی تنزیل کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ ای ھذا منزل من اللہ۔ ضمیر مفعول کا مرجع القرآن ہے۔
Ayah 36:636:6 لتنذر۔ لام تعلیل کا ہے۔ تنذر واحد مذکر حاضر (منصوب بوجہ عمل لام) تاکہ تو ڈرائے۔ اس کا تعلق یا تنزیل سے ہے یعنی یہ قرآن اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ڈرائیں۔ یا اس کا تعلق لمن المرسلین کے مفہوم سے ہے یعنی ہم نے آپ کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ تو ڈرائے۔
ما انذر۔ انذر ماضی مجہول واحد مذکر غائب انذار (افعال) مصدر وہ ڈرایا گیا۔ ما کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) ما نافیہ ہے اور ما انذر اباء ہم کے معنی ہوں گے جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا۔
(2) یہ موصولہ ہے بمعنی جس چیز (عذاب الٰہی، عذاب آخرت، تباہی وغیرہ) سے ڈرانے کے لئے ان کے آبائو اجداد کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ اس عذاب سے ڈرانے کے لئے آپ کو ان کے پاس بھیجا گیا ہے۔
(3) یہ مصدریہ ہے یعنی جیسے ان کے آبائو اجداد کو ڈرایا گیا تھا ویسے آپ سن کو ڈرائیں ما کا نافیہ ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد مکہ میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا۔ اس لئے مکہ والوں کو پیغمبر کی ضرورت زیادہ تھی۔
فہم غافلون۔ میں فاء ترتیب کا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کی دو صورتیں ہیں۔
(1) اگر ما نافیہ لیا جائے تو ضمیر کا مرجع اباء ہم ہوگا۔
(2) ما کی دوسری صورتوں کے مدنظر فہم غفلون کا تعلق لتنذر سے ہوگا۔ تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے اس چیز سے کہ جس سے ان کے ابا و اجداد کو ڈرایا گیا تھا۔ کیونکہ وہ اس سے غافل ہیں۔ فہم غافلون متعلق نبفحی الا نذار علی الوجہ الاول : ای لم ینذر اباء ہم فہم بسبب ذلک غفلون۔ وعلی الوجوہ الاخرۃ متعلق بقولہ تعالیٰ لتنذر ای فہم غافلون عما انذرنا بہ اباء ہم (شو کافی) ۔
Ayah 36:7(36:7) لقد حق القول۔ لام تاکید کا ہے قد بمعنی تحقیق۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے بمعنی حق ہونا۔ ثابت ہونا۔ مطابق ہونا۔ حق وہ قول یا فعل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کہ جس وقت اور مقدار میں اس کا ہونا واجب ہے۔
جملہ ہذا میں قول سے مراد کافروں کو عذاب دینے کا خدائی فیصلہ ہے۔ مثلاً ولکن حق القول منی لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین ۔ (32:13) لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ۔ آیت ہذا کا ترجمہ ہوگا : بیشک ان میں سے اکثر پر یہ بات لازم ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 36:8(36:8) اغلالا۔ طوق۔ غل کی جمع۔ نیز ملاحظہ ہو (34:33) ۔
فھی۔ میں ضمیرھی واحد مؤنث غائب اغلالا کے لئے ہے۔ الاذقان۔ ذقن کی جمع۔ ٹھوڑیاں۔
مقمحون۔ اسم مفعول جمع مذکر، مقمح واحد اقماح (افعال) مصدر قمح مادہ۔ وہ لوگ جو گردن پھنسنے کی وجہ سے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں۔
قمح اس گیہوں کو کہتے ہیں جو پکنے کے وقت سے لے ذخیرہ اندوزی تک بالی کے اندر ہی رکھا جائے اور اس گیہوں سے جو ستو بنایا جاتا ہے اسے قمیحۃ کہتے ہیں (اور ستو کی مناسبت سے ) کوئی چیز پھانکنے کے لئے سر اوپر اٹھانے کو القمح کہا جاتا ہے پھر محض سر اٹھانے پر (خواہ کسی وجہ سے ہو) قمح کہا جانے لگا۔ چناچہ کہا جاتا ہے قمح البعیر اونٹ نے (سیر کے بعد حوض سے ) سر اوپر اٹھا لیا۔
فہم مقمحون۔ بمعنی تو ان کے سر اوپر اٹھ رہے ہیں یعنی ٹھوڑیوں تک طوق ہونے کی وجہ سے ان کی گردنیں اوپر اچکی ہوئی ہیں۔ ان کی آنکھیں بند ہوئی ہیں کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتیں۔
Ayahs 36:9–10(36:9) من بین ایدیہم ان کے سامنے۔ سدا۔ دیوار۔ آڑ۔ بند۔
اغشیناہم۔ ماضی جمع متکلم۔ اغشاء (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو اوپر سے ڈھانک دیا۔ یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا۔
Ayah 36:11(36:11) خشی الرحمن بالغیب۔ اور رحمن سے بن دیکھے ڈرے۔ القھار اور المنتقم کی بجائے الرحمن سے ڈرنے کا ذکر کیا حالانکہ رحمن سے ڈرنے کا کوئی تعلق نہیں خوف تو قھار کے قہر سے اور منتقم کے انتقام سے ہونا چاہیے لیکن رحمن سے ڈرنا اس لئے فرمایا کہ رحمن کی صفت رحمت جانتے ہوئے پھر اس سے ڈرنا یہ خشیت کا انتہائی درجہ ہے۔ اور عین ایمان ہے۔ کمال ایمان ہے (کہیں بندے کی کوتاہی رحمان کی رحمت میں کمی کا باعث نہ بن جائے جو بندے کے لئے ناقبل برداشت نقصان ہے ) ۔
اجر کریم۔ موصوف صفت۔ عمدہ اجر۔ یعنی جنت۔ ما قدموا۔ ما موصولہ ہے قدموا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ جو انہوں نے آگے بھیجا۔ یہاں ماضی بمعنی حال استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو (نیک وبد اعمال ) وہ آخرت کے لئے کرتے ہیں۔
Ayah 36:1236:12 واثارہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے پیچھے۔ ان کے نشانات قدم۔ وائو عاطفہ ہے اثارہم کا عطف ما قدموا پر ہے ای ونکتب اثارہم اور ہم لکھتے جاتے ہیں ان کے نیک وبد اعمال جو وہ پیچھے چھوڑے جاتے ہیں۔
وکل شیء احصینہ۔ ای واحصینا کل شیئ۔ احصینا ماضی جمع متکلم احصاء (افعال) مصدر جس کے اصل معنی عدد کو حاصل کرنے کے ہیں احصیت کذا میں نے اسے شمار کیا۔ اصل میں یہ لفظ حصی (کنکریاں) سے مشتق ہے اور اس سے گننے کے معنی اس لئے لئے جاتے ہیں کہ عرب کے لوگ گنتی میں کنکریوں پر اس طرح اعتماد کرتے تھے جس طرح ہم انگلیوں پر کرتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول کل شیء کے لئے ہے یعنی ہم نے ہر شی کو گن رکھا ہے یا ضبط کر رکھا ہے یا درج کر رکھا ہے، محفوظ کر رکھا ہے۔
امام مبین۔ موصوف وصفت امام (فعال) کے وزن پر اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ۔ جس کا قصد کیا جائے ۔ چونکہ مقتدا اور رہنما کا قصد کیا جاتا ہے اس لئے اس کو امام کہتے ہیں ۔ غرض جس کی پیروی کی جائے وہ امام ہے خواہ وہ انسان ہو اس کا قول وفعل ہو۔ کتاب ہو۔ صحیفہ ہو وغیرہ ذلک۔ چونکہ راستہ کا بھی قصد کیا جاتا ہے اس لئے راستہ کو بھی امام کہتے ہیں۔ اسی معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے وانھما لبامام مبین (15:79) اور وہ دونوں ( یعنی قوم لوط اور اصحاب الایکۃ) کھلے راستہ پر واقع ہیں۔
اسی طرح قیامت کو صحائف اعمال کی پیروی کی جائے گی یعنی جیسا ان میں تحریر ہوگا اسی کے مطابق جزا اور سزا ہوگی !
یا ایسے ہی لوح محفوظ میں جو کچھ مرقوم ہوتا ہے اسی کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے گویا ہر شی اپنے وجود میں اسی کی پیرو ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں صحیفہ اعمال یا لوح محفوظ کے لئے امام کا لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً آیۃ ہذا وکل شیء احصینہ فی امام مبین اور ہم نے ہر شے کو ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں درج کر رکھا ہے۔
مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ کھلا ہوا۔ صریح ۔ ظاہر۔ یہاں امام کی صفت آیا ہے۔
Ayah 36:13(36:13) اضرب، فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ضرب سے۔ جس کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنے کے ہیں۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
(1) ہاتھ، لاٹھی یا تلوار سے مارنا۔ مثلاً اضرب بعصاک الحجر۔ (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔
(2) ضرب الارض بالمطر۔ بمعنی بارش برسنا۔ (3) ضرب الدراہم درہم کو ڈھالنا۔ (4) ضرب فی الارض۔ سفر کرنا۔
(5) فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا (20:77) تو ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا دے۔
(6) ضرب الفحل الناقۃ۔ نر کا مادہ سے جفتی کرنا۔
(7) ضرب الخیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ضربت علیہم الذلۃ (2:61) ذلت ان سے چمٹا دی گئی یعنی ذلت نے ان کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کسی شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے اسی طرح یہی معنی اس آیت میں ہیں : ضربت علیہم المسکنۃ (3:112) ناداری ان سے لپٹ رہی ہے۔
(8) فضربنا علی اذانہم فی الکھف سنین عددا۔ (18:11) تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے رکھا۔ (یعنی ان کو سلائے رکھا) ۔
(9) فضرب بینہم بسور (57:13) پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔
(10) کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو اسے ضرب المثل کہتے ہیں مثلاً ضرب اللہ مثلا (39: 29) اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اضرب تو مثال بیان کر۔
مثلا۔ تشبیہی قصہ۔ اضرب کا مفعول اول۔
اصحب القریۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر دونوں مفعول ثانی اضرب کا۔ ایک بستی کے مکین۔ بستی کے رہنے والے۔ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔ ان کے سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کریں۔ بستی والوں کا قصہ۔ یعنی بستی والوں کا قصہ مثال کے طور پر بیان کر کے (ان کو سمجھائیں) ۔
اذ۔ ظرف زمان۔ بمعنی جب۔ جس وقت۔ جبکہ۔ جاء ھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع القریۃ ہے۔
المرسلون اسم مفعول جمع مذکر۔ فرستادہ۔ بھیجے گئے۔ بھیجے ہوئے۔
فائدہ :۔ یہ المرسلون کون تھے اور القریۃ سے مراد کون سی بستی ہے اس کے متعلق مختلف آرا ہیں ۔ بغوی ، رازی، سیوطی، محلی، بیضاوی، علامہ آلوسی بغدادی، ابو السعود وغیرہ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد تھے۔ جو انطاکیہ میں تبلیغ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دو حواریوں کو بھیجا ۔ لیکن اہل انطاکیہ نے ان کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تو پھر ان کی تائید کے لئے تیسرا قاصد بھیجا گیا۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی ماننے سے انکار کردیا۔
بادشاہ وقت الطیخس اور اس کے لوگوں نے قاصدوں کے قتل کا مشورہ کیا اس کی خبر پا کر ایک مومن شخص جس کا نام حبیب نجار تھا اور وہ مضافات شہر میں آباد تھا۔ آیا اور اپنی قوم کو رسولوں کے اتباع کے لئے کہا لیکن قوم نے اس کی ایک نہ سنی اور ان تینوں کو شہید کردیا۔
بہت اجلہ علما ومحققین اس طرف گئے ہیں کہ یہ سارا قصہ بےبنیاد ہے اور یہ کہ حضرت ابن عباس ، حضرت عکرمہ، حضرت کعب احبار اور وہب بن منبہ وغیرہ نے اسے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے۔ اور ان فرستادگان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے بعض کے نزدیک پہلے دو کے نام صادق ومصدوق تھے اور تیسرے کا نام شلوم تھا۔ بعض نے پہلے دو کے نام یوحنا اور شمعون بتائے ہیں اور تیسرے کا نام بولص۔ بعض نے لکھا ہے کہ پہلے دو کے نام یحییٰ اور یونس تھے۔ اور تیسرا شمعون نامی تھا۔
اس قصہ کی تردید کے لئے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ سلوقی خاندان (جس سے انطیخش کا تعلق تھا) کی حکومت 65 قبل مسیح ہی ختم ہوچکی تھی اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں انطابیہ سمیت شام و فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر تسلط تھا۔
بستی کا تعین نہ تو قرآن میں کیا گیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانہ میں بھیجے گئے تھے۔ اور قرآن مجید جس غرض کے لئے یہ قصہ بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لئے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔
قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی ، تعصب اور انکار حق کی اسی روش پر چل رہے ہو۔ جس پر اس بستی کے لوگ چلے تھے اور اسی انجام سے دو چار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دو چار ہوئے “ (تفہیم القرآن)
اذ ارسلنا۔ اذ (جاء ھا) کا بدل ہے۔
Ayah 36:14(36:14) فکذبوھما۔ فاء تعقیب کا ہے۔ کذبوا ماضی جمع مذکر غائب تکذیب (تفعیل) مصدر ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب، ضمیر کا مرجع اثنین ہے تو انہوں نے ان دونوں کی تکذیب کی ان کو جھٹلایا۔
فعززنا۔ ماضی جمع متکلم تعزیز (تفعیل) مصدر۔ ہم نے قوت دی۔ ہم نے مضبوط کیا۔ عززنا کے بعد مفعول محذوف ہے ای فعززنا ھما۔ ہم نے ان دوں کو تقویت دی۔ (ایک تیسرے رسول کے بھیجنے سے) ۔
فقالوا۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب تینوں رسولوں کی طرف راجع ہے ۔ پس ان تینوں رسولوں نے کہا۔ انا الیکم مرسلون۔ بیشک ہم تمہاری بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 36:15(36:15) قالوا۔ یعنی بستی والوں نے کہا۔ ان انتم میں ان نافیہ ہے۔
تکذبون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ کذب مصدر (باب ضرب) ۔
Ayah 36:16(36:16) ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون۔ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ۔ لام تاکید کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے استشہاد قسم کے قائم ہے !
اذ تشھدوا بعلم اللہ تعالیٰ وھو یجری مجری القسم۔ جب اللہ تعالیٰ کے علم سے استشہاد کرلیا جائے تو وہ قسم کے قائم مقام ہوتا ہے :
Ayah 36:17(36:17) وما علینا۔ اور ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
البلغ المبین۔ موصوف وصفت۔ بلاغ بلغ یبلغ (نصر) سے مصدر ہے ۔ البلاغ والبلوغ کے معنی مقصد اور منتہی کی آخری حد تک پہنچنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہا تک پہنچنے کے معنی میں ہے۔ حتی بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔
البلاغ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں ہے ھذا بلغ للناس (14:52) یہ قرآن لوگوں کے نام خدا کا پیغام ہے۔ یا فانما علی کی البلغ وعلینا الحساب (13:40) تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
المبین۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ صاف صاف، واضح طور پر پہنچا دینا۔ ایسی تبلیغ کہ جس میں ہر پہلو کی وضاحت کی گئی ہو۔ مبین ابانۃ سے (باب افعال) ظاہر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ کھلونے والا ( باب افعال سے لازم ومتعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے) ۔
بلاغ کے معنی کافی ہو بھی آتے ہیں جیسے ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21:106) عبادت کرنے والوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں میں ) پوری پوری اور کافی تبلیغ ہے۔
Ayah 36:18(36:18) قالوا۔ یعنی اہل قریہ۔ بستی والوں نے کہا۔
تطیرنا۔ ماضی جمع متکلم تطیر (تفعیل) سے ہم نے برا شگون لیا۔ ہم نے منحوس جانا۔ تطیر فلان واطیر۔ کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں۔ پھر یہ ہر چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا۔ جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ انا تطیرنا بکم ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ طائر بمعنی نحوست ۔ مثلاً قالوا طائرکم معکم (36:19) انہوں (رسولوں) نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ لئن۔ لام تاکید اور ان حرف شرط سے مرکب ہے۔
لم تنتھوا۔ مضارع نفی حجد بلم۔ بلم کے آنے سے نون اعرابی آخر سے ساقط ہوگیا ہے۔ انتھاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم باز نہ آئے ۔ اگر تم باز نہیں آئو گے۔
لنرجمنکم۔ لام جواب شرط کے لئے ہے نرجمن مضارع بانون تاکید ثقیلہ صیغہ جمع متکلم ۔ رجم ورجوم مصدر (باب نصر) ہم ضرور ضرور تم کو سنگسار کردیں گے۔ الرجام پتھر۔ الرجم سنگسار کرنا۔ مرجوم جس کو سنگسار کیا گیا ہو جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور ضرور سنگسار کر دئیے جائوگے۔
استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ۔ جھوٹے گمان۔ تو ہم، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جھوٹے گمان کے معنی میں ہے رجما بالغیب (18:22) یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں اور دھتکار دینے کے معنی میں ہے :۔ فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم (16:98) تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ فاخرج منھا فانک رجیم (38:77) تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے۔ قرآن مجید میں شہب (ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے رجوما للشاطین (67:5) شیاطین کو مارنے کا آلہ۔
ولیمسنکم۔ وائو عاطفہ ہے لام جواب شرط کے لئے ہے یا تاکید کے لئے۔ یمسن مضارع بانون تاکید ثقیلہ ۔ مس مصدر (باب سمع) وہ ضرور پہنچے گا (ہمارے طرف سے درد ناک عذاب)
Ayah 36:19(36:19) قالوا۔ رسولوں نے کہا۔ طائرکم معکم تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔
ائن ذکرتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف شرط ہے ، جو اب شرط محذوف ہے ای ان ذکرتم تطیرتم بناو تواعد تمونا جب تم کو نصیحت کی جاتی ہے تو تم ہم کو منحوس قرار دیتے ہو اور تکلیف دہی کا ڈراوا دیتے ہو۔ (حرف استفہام بمعنی یہ کیا بات ہوئی ۔ کہ)
بل۔ بلکہ (حرف اضراب ہے ) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ :۔
(36:19) مسرفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مسرف واحد۔ حد سے بڑھنے والے۔ اسران (افعال) مصدر۔ حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔
Ayah 36:20(36:20) اقصا۔ افعل التفضیل کا صیغہ قصاء سے جس کے معنی دور ہونے کے ہیں زیادہ دور۔ بہت بعید۔ اقصا المدینۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ شہر کا پر لا۔ (دور والا سرا۔ یا شہر کا کوئی ودر والا مقام) ۔ یسعی۔ مضارع واحد مذکر غائب سعی مصدر۔ (باب فتح) دوڑتا ہوا۔ یہ رجل کا حال ہے۔
Ayah 36:21(36:21) مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر، مرفوع، نکرہ، اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت پانے والے۔ ہدایت یافتہ۔ راہ راست پر چلنے والے۔
Ayah 36:22(36:22) وما لی۔ واو عاطفہ ہے۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا !
میرے پاس کوئی عذر نہیں۔۔
اور ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں یہ استفہام انکاری کے لئے ہے ترجمہ ہوگا ! میرے پاس عذر ہی کیا ہے کہ۔۔ (یعنی میرے پاس کوئی عذر ہی نہیں ہے) ۔
لا اعبد مضارع منفی واحد متکلم۔ (کہ ) میں عبادت نہ کروں۔
فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر مصدر ( باب ضرب ونصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ نیست سے ہست کرنا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے معنی میں پھاڑنے کا مفہوم ضرور ہونا چاہیے ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اس نے مجھے پیدا کیا۔ وہ عدم کے پردہ کو بھاڑ کر مجھے وجود میں لایا ۔
ترجعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رجع (باب ضرب) مصدر بمعنی لوٹانا۔ یا (بطور فعل لازم ) لوٹنا۔ تم لوٹائے جائو گے۔
علامہ پانی پتی (رح) صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔
اس کلام میں لطیف طرز میں ہدایت کی ہے اپنے نفس کو نصیحت کرنے کے پیرایہ میں دوسروں کو خالص نصیحت کی ہے کہ دوسروں کو بھی اسی بات کو اختیار کرنا چاہیے جو ناصح نے اپنے لئے اختیار کی ہے۔ حقیقت میں کفار کو اس امر پر زجر کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے اپنے خالق کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت پسند کی ہے۔
اور بعض کے نزدیک وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون جواب ہے، سوال محذوف کا۔ سوال کے متعلق دو روایات ہیں :
(1) جب اقصا المدینۃ سے آنے والے نے آکر کر اپنی قوم سے کہا۔ یقوم اتبعوا المرسلین ۔۔ الخ تو قوم والوں نے کہا کہ :۔ کیا تو ہمارے مذہب کا مخالف ہوگیا ہے اور ان رسولوں کے مذہب کا پیرو ہوگیا ہے تو اس نے کہا ومالی لا اعبد۔۔ الخ۔
(2) بعض اہل روایت کا بیان ہے کہ جب اس شخص نے یقوم اتبعوا۔۔ کہا تو لوگ اس کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے بادشاہ نے اس سے کہا کیا تو ان رسولوں کا پیرو ہوگیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا :۔ وما لی ۔۔ الخ۔
Ayah 36:23(36:23) ء اتخذ۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے اتخذ مضارع کا صیغہ واحد متکلم ہے اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اختیار کرنا۔ کیا میں اختیار کروں۔ بھلا میں اختیار کرو۔ الھۃ۔ الہ کی جمع ہے۔ ء اتخذ من دونہ الھۃ۔ کیا میں اس کو (اللہ کو) چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا لوں
ان یردن الرحمن بضر (جملہ شرطیہ) لا تغن عنی شفاعتہم شیئا ولا ینقذون (جواب شرط) ۔ ان شرطیہ یردن مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) واحد مذکر غائب۔ ارادۃ مصدر (باب افعال) اصل میں یردنی تھا۔ ان کے عمل سے اخیر کی یا ساقط ہوگئی ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم مفعول، اگر وہ مجھ کو (دکھ پہنچانا) چاہے۔
لا تغن۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب، اغناء (افعال) مصدر کام آتا ہے۔ کفایت کرنا۔ بےپرواہ بنادینا۔ اصل میں تغنی تھا۔ عامل کے سبب سے آخر سے یا ساقط ہوگئی شفاعتہم مضاف مضاف الیہ، ان کی شفاعت۔ ہم ضمیر جمع مذکر کا مرجع الھۃ ہے۔ لا تغن عنی شفاعتہم شیئا۔ (تو) ان (معبودان باطل ) کی شفاعت یا سفارش میرے کسی کام نہ آسکے گی۔ مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گی۔
لا ینقذون۔ مضارع منفی (مجزوم بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب۔ اصل میں یہ ینقذوننی تھا ۔ نون اعرابی مضارع مجزوم کی صورت میں گرگیا۔ نون مکسور نون وقایہ ہے۔ آخر میں یا متکلم بوجہ تخفیف محذوف ہوگئی ۔ انقاذ مصدر۔ (باب افعال) الانقاذ کے معنی کسی خطرہ یا ہلاکت سے خلاصی دینا ہے۔ مثلاً وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا (3:102) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا۔ لا ینقذون۔ ای لا یخلصون من ذلک الضر۔ مجھے اس ضرر سے نہ بچا سکیں یا چھڑا نہ سکیں۔
Ayah 36:24(36:24) اذا۔ تب ۔ ای اذا اتخذت من دونہ الھۃ یعنی اگر میں خدا کو چھوڑ کر ان بتوں کو معبود بنالوں تو اس صورت میں (ان فی ضلل مبین) میں صریح گمراہی میں جا پڑا۔
Ayah 36:25(36:25) انی امنت بربکم (میں ایمان لے آیا ہوں تمہارے رب پر) ۔ اس کی تین صورتیں ہیں !
(1) یہ خطاب قوم سے ہے جس کو اس نے یوں خطاب کیا تھا۔ یقوم اتبعوا المرسلین۔
(2) یہ خطاب بادشاہ سے ہے جس کے پاس قوم کے آدمی اسے پکڑ کرلے گئے تھے۔
(3) بعض علما نے کہا ہے کہ بربکم میں خطاب رسولوں کو ہے کیونکہ جب اس کو یقین ہوگیا کہ مجھے قتل کردیا جائے گا۔ تو اس نے اپنے مومن ہونے کا پیغمبروں کو گواہ بنا لیا۔ اور کہا کہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں۔ میرے گواہ رہنا۔ ترجیحا یہ خطاب قوم سے ہی ہے۔
فاسمعون۔ اسمعوا۔ سماع سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ن وقایہ ہے ی متکلم کی محذوف ہے ۔ پس میری سنو ! یعنی میرے ایمان کی اطلاع سن لو۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ اس پر مجھے تمہاری طرف سے کیا سہنا پڑے گا۔
فائدہ۔ (1) تفسیر الماجدی میں ہے کہ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔ ء اتخذ انی اذا ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لئے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو جو غوروتدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔
فائدہ : (2) انی امنت بربکم میں بجائے بربی کہنے کے بربکم کہا اس کہنے میں ایمان کی ایک بلیغ دعوت ہے۔
Ayah 36:26(36: 26) قیل ادخل الجنۃ (کہا گیا جنت میں داخل ہوجا) ادخل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ دخول مصدر (باب نصر) تو داخل ہوجا۔ یہ فقرہ کب کہا گیا اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔
(1) جب اس مرد مومن نے قوم سے خطاب کیا تو انہوں نے اس کو قتل کردیا ۔ موت کے بعد جب خدا کے حضور اس کی پیشی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کیا فرمایا۔ اس امکانی سوال کا یہ جواب ہے (یہ جملہ مستانفہ ہے جو بطور جواب استعمال کی گیا ہے) ۔ بعض کے نزدیک وہ قتل نہیں ہوا تھا بلکہ طبعی موت مرا تھا۔
(2) بعض نے کہا ہے کہ جب اس کی قوم نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اور ووہ وہاں جنت میں ہے ۔
(3) بعض علما کا خیال ہے کہ یہ بشارت اس کو مرنے سے پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ لیکن جمہور کا قول یہی ہے کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔
قال یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین۔ (اس نے کہا : اے کاش : میری قوم کو یہ معلوم ہوجاتا کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں شامل کردیا) ۔ لیت حرف مشبہ بفعل ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے تمنا کے لئے مستعمل ہے۔
Ayah 36:27(36: 27) ما غفر میں ما موصولہ ہے یا مصدریہ یا استفہامیہ (اوپر کا ترجمہ ما موصولہ کے لحاظ سے ہے) مصدریہ کی صورت میں ترجمہ ہوگا :
اے کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا کہ میرے رب نے مجھے کیا بخش دیا۔ اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا۔
المکرمین۔ اسم مفعول جمع مذکر اکرام (افعال) مصدر۔ معززین یہ مرد مومن کا جنت کی نوید ملنے پر اپنی قوم کے لئے ہمدردی کا اظہار ہے۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ :۔ نصح قومہ حیا ومیتا۔ اس شخص نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مر کر بھی۔
Ayah 36:28(36:28) وما انزلنا میں ما نافیہ ہے۔ اور ہم نے نہیں اتارا۔ علی قومہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع مرد مومن (حبیب نجار) ہے۔ من بعدہ۔ میں بھی ہ ضمیر کا مرجع حبیب نجار ہی ہے۔ اس کے بعد یعنی اس کے شہید کئے جانے کے بعد۔
وما کنا منزلین۔ اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی ۔ یعنی نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت ہی تھی۔ منزلین اسم فاعل ۔ جمع مذکر منصوب (بوجہ خبر کنا) اتارنے والے۔ اس جملہ کی تفسیر میں علامہ ثنا اللہ پانی پتی (رح) صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں !
وما کنا منزلین۔ یعنی ہماری یہ عادت ہی نہیں اور دستور ہی نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کی فوجیں بھیجیں اللہ کو اس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ باقی یہ بات کہ خندق اور بدر کے دن فرشتوں کو جو بھیجا گیا تھا وہ محض بشارت دینے اور رسول کی عظمت کا اظہار کرنے اور مسلمانوں کے دلوں کو تسکین دینے کے لئے تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :۔
” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم وما النصر الا من عند اللہ “ (8:10) اور اللہ نے یہ بس اس لئے کیا کہ (تمہیں) بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان ہوجائے درآنحالیکہ نصرت تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔
بعض کے نزدیک ما کنا میں ما موصولہ ہے اور جند سے مراد ہے آسمان سے سنگ باری یا طوفان یا شدید بارش۔ یعنی جس طرح گذشتہ قوموں پر ہم نے عذاب کی فوج بھیجی ایسی عذابی فوج حبیب نجار کی قوم پر نازل نہیں کی۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے اور حبیب نجار کی قوم کی تحقیر مقصود ہے کہ وہاں فرشتوں کی فوج اتارنے کی ضرورت تو کجا رہی وہاں تو پہلی قوموں کی طرح طوفان بادوباراں وغیرہ کی بھی ضرورت نہ تھی۔ محض ایک فرشتہ کی ایک چیخ ہی کافی تھی کہ سب ایک دم بجھ کر رہ گئے (یعنی مرگئے) ۔
Ayah 36:29(36:29) ان کانت۔ ان نافیہ ہے۔ کانت کی ضمیر واحد مؤنث غائب جو اسم کان ہے مضمر ہے۔ ای ان کانت الاخذۃ الا صیحۃ واحدۃ۔ کانت فعل ناقص الاخذۃ اسم کانت۔ صیحۃ خبر۔ نہ تھی وہ آپکڑنے والی (یعنی مصیبت، عقوبت) مگر ایک گرج ۔ یعنی بس وہ تو ایک گرج یا چیخ تھی۔ الصیحۃ کے معنی آواز بلند کرنا کے ہیں۔ گرج ۔ چیخ۔ چنگھاڑ کے معنی میں مستعمل ہے صور پھونکنے کی آواز کو بھی صیحۃ کہتے ہیں۔
فاذا میںسببیہ ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ خامدون۔ اسم فاعل جمع مذکر خمود مصدر (باب نصر) بجھنے والے۔ خمدت النار۔ آگ کے شعلوں کا ساکن ہوجانا۔ (جبکہ اس کا انگارہ نہ بجھا ہو ) کنایۃ خمود بمعنی موت بھی استعمال ہوتا ہے۔ فاذاہم خمدون پس (اس چیخ کی وجہ سے ) وہ یک دم بجھ کر رہ گئے ۔ یعنی مرگئے۔
دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فما زالت تلک دعوہم حتی جعلنہم حصیدا خمدین۔ (21:14) وہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا۔
Ayah 36:30(36:30) یحسرۃ۔ حسرۃ افسوس، پشیمانی، پچھتاوا۔ حسر یحسر (سمع) کا مصدر ہے یا حرف ندا ہے اور حسرۃ منادی۔ اے افسوس ! علی العباد۔ العباد میں الف لام عہد کا ہے اور مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔
کانوا بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کے لئے ہے۔ یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ وہ استہزا کیا کرتے تھے، ہنسی اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 36:31(36:31) کم ۔۔ من القرن۔ کتنی ہی قومیں۔ کتنی ہی امتیں القرن جمع ہے القرن کی جس کے معنی کوئی ایسی قوم یا امت جس کا اپنا مخصوص زمانہ ہو دوسروں سے الگ۔
کم سوالیہ بھی آتا ہے اس صورت میں اس کا ما بعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ہے اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں۔ جیسے کم رضلا ضربت تو نے کتنے آدمیوں کو پیٹا ؟
کم دوسری صورت خبریہ ہے اس صورت میں یہ مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا ہم نے بہت بستیوں کو ہلاک کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی بستیوں کو ہلاک کردیا (یعنی بہت بستیوں کو) ۔ کم ۔۔ من القرون۔ کتنی ہی قوموں کو، کتنی ہی امتوں کو (یعنی بہت بستیوں یا امتوں کو) ۔
انہم۔ ضمیر ہم جمع مذکر غائب من القرون کی طرف راجع ہے۔ الیہم۔ چونکہ خطاب اہل مکہ سے ہو رہا ہے لہٰذا ہم ضمیر مرجع اھل مکہ ہیں۔ انہم الیہم لا یرجعون۔ کہ ان بستیوں کے باسی پھر لوٹ کر ان کے پاس واپس نہ آئے۔ یا نہ آئیں گے۔
Ayah 36:32(36:32) وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ ان نافیہ ہے کل مبتدا ہے اس کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے اصل میں کلہم تھا۔ (ہم سے مراد القرون ہے جن کی ہلاکت کا ابھی ذکر ہوا) لما بمعنی الا ہے جمیع بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے ای مجموعون اور یہ خبر ہے لدینا مضاف مضاف الیہ مل کر ظرف مکان ہے۔ محضرون خبر ثانی۔ آیت کا مطلب ہوگا :
وما کلہم الا مجموعون لدینا محضرون (للحساب والجزائ) لیکن وہ سب کے سب اکٹھے کر کے ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے (حساب وجزا کے لئے) ۔
Ayah 36:33(36:33) ایۃ لہم الارض المیتۃ میں الارض المیتۃ (موصوف وصفت) مبتدا ہے اور ایۃ خبر مقدم لہم متعلق ایۃ ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں اور مردہ (یعنی خشک) زمین ان کے لئے ایک نشانی ہے (اللہ کی قدرت کی یا بطور دلیل مردوں کو دوبارہ زندہ کردینے کی) الارض سے مراد جنس زمین ہے کوئی معین زمین مراد نہیں ہے۔
احییناھا ۔۔ الخ ایۃ کی تفسیر ہے ماضی جمع متکلم احیاء (افعال) مصدر سے۔ ھا ضمیر کا مرجع الارض ہے ہم نے اس کو زندہ کردیا (بارش برسا کر اور نباتات اگا کر) ۔
حبا۔ غلہ۔ اناج (گندم ، جو وغیرہ) اناج کے دانہ کو حب وحبۃ کہتے ہیں اس کی جمع حبوب ہے یہاں مراد جنس غلہ ہے۔
فمنہ۔ فا سببیہ ہے من ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔ ہ ضمیر کا مرجع حبا ہے جارومجرور متعلق یاکلون کے ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہم مردہ زمین کو بارش کی وجہ سے سرسبز کردیتے ہیں اور اس سے غلہ برآمد کرتے ہیں پھر اسی غلہ سے یہ لوگ کھاتے ہیں۔
Ayah 36:34(36:34) فیھا ای فی الارض۔ زمین میں۔
نخیل۔ نخیل ونخل اسم جنس ہے کھجور کے درخت یا کھجوریں۔ درختوں کے معنی میں قرآن مجید میں ہے کانہم اعجاز نخل خاویۃ (66:7) جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔ اور کھجوروں کے معنی میں فیھما فکھۃ ونخل ورمان۔ (55:68) ان میں میوے۔ کھجوریں اور انار ہیں۔ نخل کی جمع نخیل ہے جیسے عبد کی جمع عبید ہے۔
اعناب عنب کی جمع ہے بمعنی انگور۔ فجرنا ماضی جمع متکلم تفجیر (تفعیل) مصدر ای شققنا۔ ہم نے پھاڑا ہم نے پھاڑ کر بہایا۔ فیھا۔ ای فی الارض اوفی جنت۔ زمین میں یا باغات میں۔ من العیون۔ من کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) من ابتدائیہ ہے ای فجرنا من المنابع ما ینتفع بہ من المائ۔ یعنی منبعوں سے (چشموں) سے نفع بخش پانی بہایا۔
(2) من زائدہ ہے۔ ای فجرنا فیھا العیون جب کہ عیون فجرنا کا مفعول ہے اس میں ہم نے چشمے جاری کئے ۔
(3) من بیانیہ ہے اس میں ہم نے چشمے جاری کر دئیے۔ (4) من تبعیضیہ ہے ہم نے اس میں کچھ چشمے جاری کئے۔
Ayah 36:35(36:35) لیاکلوا۔ لام تعلیل کا ہے یاکلوا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب تاکہ وہ کھائیں۔
من ثمرہ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وہ اشیا مجعولہ ہیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ مثلاً احیا الارض المیتہ۔ اخراج الحب من الارض۔ وجعل الجنت من نخیل واعناب وتفجیر العیون فی الارض۔ یعنی ان سب کے نتیجے میں جو پھل پیدا ہوتے ہیں وہ کھائیں ۔ (2) ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اللہ کے پیدا کئے ہوئے پھل کھائیں۔
وما علمتہ ایدیہم۔ وائو عاطفہ ہے ما کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ما موصولہ ہے اس کا عطف ثمرہ پر ہے اور (وہ بھی کھائیں) جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ مثلاً عرق۔ شربت۔ شیرہ۔ اچار ۔ چٹنی وغیرہ (کھانے پکانے کی اور بھی بہت سی صورتیں اس میں شامل ہیں۔
(2) ما نافیہ ہے یعنی یہ سرسبز و شاداب کھیت۔ یہ اناج لہلہاتے ہوئے کھیت، پھلوں سے لدے ہوئے باغات، جاری و ساری نہریں۔ ان میں سے کوئی بھی چیز تو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنائی ۔ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے !
افلا یشکرون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ اور فا عاطفہ ہے جس کا عطف محذوف پر ہے ای ایرون ھذہ النعم ویتنعمون بھا فلا یشکرون المنعم بھا۔ کیا یہ لوگ ان نعمتوں کو دیکھتے ہیں اور ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور (پھر بھی) ان نعمتوں کے بخشنے والے کا شکر ادا نہیں کرتے۔ (یہ ان کو زجرو تنبیہ ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو منعم کا شکر ادا کرنا چاہیے) ۔
Ayah 36:36(36:36) الازواج۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ اقران۔ حیوانات میں نر اور مادہ ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے۔ غیر حیوانات میں ہر اس شے کو جو دوسری شے کے لگ بھگ (قرین) ہو خواہ مماثل ہو یا مقابل (متضاد) زوج کہتے ہیں۔ ازواج، زوج کی جمع ہے۔ قرآن مجید میں زوج بمعنی خاوند بیوی، عورت مرد، ساتھی۔ مختلف اقسام کے لوگ، مختلف انواع واصناف، ایک دوسرے کے قرین، وغیرہ استعمال ہوا ہے مثلاً :۔
(1) یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ (2: 35) اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو (خاوند بیوی) ۔
(2) وجعل منہ الزوجین الذکر والانثی۔ (75:39) پھر اس کی دو قسمیں بنائیں۔ (ایک ) مرد اور (ایک ) عورت۔ (مرد، عورت) ۔
(3) احشروا الذین ظلموا وازواجہم وماکانوا یعبدون (37:22) جو لوگ دنیا میں نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اور جن کی وہ پوجا کیا کرتے تھے ایک جگہ اکٹھا کرو۔ (ساتھی یعنی جو ہر فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے) ۔
(4) ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا۔ ( 20:131) اور اس کی طرف اپنی نگاہ مت رکھو جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے (دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں :۔
آیت ھذا (36: 36) میں بھی الازواج سے مراد مختلف انواع واصناف اور ان کے جوڑے ہیں۔ الذی خلق الازواج کلھا۔ جس نے ہر نوع وصنف کے جوڑے پیدا کئے۔
مما تنبت الارض۔ مما من حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے تنبت مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے ۔ انبات (افعال) مصدر، وہ اگاتی ہے۔ مما تنبت الارض اس میں سے جو زمین اگاتی ہے یعنی نباتا سبزہ ۔ درخت وغیرہ۔
من انفسہم۔ یعنی مرد اور عورت سے۔ مما لا یعلمون۔ اس سے جو وہ نہیں جانتے یعنی بحروبر کی وہ مخلوق جس کا علم کسی کو نہیں۔
Ayah 36:37(36:37) وایۃ لہم الیل وائو عطف کی ہے ایۃ مبتدا لہم متعلق ایۃ اور الیل خبر۔ یا الیل مبتدا اور ایۃ لہم خبر مقدم۔ الیل سے مراد کوئی خاص رات نہیں بلکہ جنس شب مراد ہے اور ان کے لئے رات (خدا کی قدرت کی ) ایک نشانی ہے۔
نسلخ مضارع جمع متکلم سلخ مصدر (باب نصرو فتح) میں نے اس کی کھال کھینچی تو وہ کھینچ گئی اسی سے استعارہ کے طور پر زرہ اتارنے اور مہینہ کے گذر جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم (9:5) جب حرمت والے مہینے گذر جائیں۔
اور نسلخ منہ النھار کے معنی ہوئے ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں۔ اصل تاریکی ہے۔ سورج نکلنے سے تاریکی پر دن کی روشنی کا خول رات کی تاریکی پر چڑ ھ جاتا ہے سورج کے کے غروب ہونے پر گویا وہ روشنی کا خول اتر جاتا ہے اور رات کی تاریکی پھر نمودار ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح رات اور دن کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ فاذا میں الفا برائے عطف سببی ہے اذا مفاجاتیہ ہے۔
مظلمون۔ ای داخلون فی الظلام۔ تاریکی میں چلے جاتے ہیں۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اظلام (افعال) مصدر بمعنی تاریکی میں ہوجانا۔ تاریک ہوجانا۔ ظلم مادہ۔ تاریکی۔ قرآن مجید میں ہے واذا اظلم علیہم قاموا۔ (2:20) اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ فاذا ہم مظلمون تو وہ یک لخت اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
Ayah 36:38(36:38) مستقر۔ ظرف مکان مجرور استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار گاہ ٹھہرنے کی جگہ۔ ٹھکانہ۔ والشمس تجری لمستقرلھا۔ اور سورج ہے کہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔ ذلک۔ اشارہ ہے سورج کا اپنے مستقر کی طرف چلنے کی طرف۔
تقدیر۔ قدر یقدر سے تفعیل کے وزن پر مصدر ہے اگرچہ یہ لفظ کثیر المعانی ہے مگر یہاں اس سے مراد اندازہ کرنا ہے اور العزیز العلیم کا مضاف ہے۔ ایک زبردست گرامی قدر ( العزیز) بڑے دانا اور خوب جاننے والے العلیم کا اندازہ کردہ نظام۔ یعنی سورج کی اپنے مقرر شدہ مقام کی طرف لگاتار حرکت ایک عزیز وعلیم کے اندازہ کردہ نظام الاوقات کے تحت ہے۔ اس کے طلوع و غروب، ارتفاع و انخفاض تاب وتپش، سفر وراہ سفر میں کوئی ردو بدل نہیں تا آنکہ خود وہ ذات اقدس اس میں کسی قسم کے ردو بدل کا ارادہ نہ فرمائے۔
Ayah 36:39(36:39) والقمر قدرنہ منازل۔ واو عاطفہ ہے القمر منصوب بوجہ فعل مضمر کے ہے۔ ای قدرنا القمر اور قدرنا فعل ماضی جمع متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القمر ہے یہ ہ مضاف الیہ جس کا مضاف محذوف ہے ای قدرنا مسیرہ منازل۔ مضاف محذوف (مسیر) قدرنا کا مفعول اول ہے اور منازل مفعول چانی۔ قدرنا بمعنی صیرنا (ایک حالت یا شکل سے دوسری حالت یا شکل میں بدل دینا) ہے مطلب یہ کہ ہم نے چاند کا بھی ایک ضابطہ مقرر کیا ہے اور اس کی مسافت کو منزلوں یا حالتوں میں بانٹ دیا ہے کہ وہ ان منزلوں سے گذرتا ہوا ہلال سے بدر اور بدر سے پھر اپنی پہلی ہلالی شکل میں آجاتا ہے۔
عاد۔ ماضی واحد مذکر غائب عود مصدر ( باب نصر) سے جس کے معنی کسی سے ہٹ جانے کے بعد پھر اس کی طرف لوٹنے کے ہیں۔ عاد اصل میں عود تھا۔ وائو متحرک ما قبل مفتوح، فتحہ وائو پر ثقیل تھا اس لئے واو کو الف سے بدلا۔ عاد ہوگیا۔ وہ پھرا اس نے عود کیا۔
علامہ ناصر بن عبد الصمد المغرب میں لکھتے ہیں عود کے معنی ہیں صیرورت (ایک حال سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ) خواہ ابتداء ہو یا ثانیا۔ پہلی صورت کی مثال ہے حتی عاد کالعرجون القدیم ۔ (36:39) یہاں تک کہ پھر آرہے ہے جیسے کہ ٹہنی پرانی۔ اور دوسری صورت کی مثال ہے کما بداکم تعودون۔ (7:29) اس نے جس طرح تم کو ابتدا میں پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا ہو گے “۔
کالعرجون القدیم۔ کاف تشبیہ کا ہے العرجون القدیم موصوف وصفت العرجون کھجور کے خوشے کی ڈنڈی جو خشک ہو کر خمیدہ ہوجاتی ہے (مادہ عرجن) القدیم پرانی جس کو خشک رہتے ہوئے زمانہ گذر گیا ہو اور بدیں وجہ اس میں ٹیڑھا پن اور زردی کا شائبہ ظاہر ہو۔ ترجمہ ہوگا :۔ کھجور کے خوشے کی سوکھی ٹیڑھی ڈنڈی کی طرح۔
Ayah 36:40(36:40) لا ینبغی مضارع واحد مذکر غائب انبغاء مصدر (انفعال) ینبغی ان یکون کذا کا محاورہ دو طرح استعمال ہوتا ہے۔
(1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو۔ جیسے النار ینبغی لھا ان تحرق الثوب یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے۔ انہی معنی پر محمول یہ آیۃ شریفہ ہے۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ (36:69) اور ہم نے ان کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ ہی ان کی فطرت میں یہ خاصہ ہے۔
اور انہی معنی میں آیۃ ہذا ہے لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر۔ سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے (یہ خاصیت اس میں ودیعت ہی نہیں کی گئی) ۔
(2) یہ کہ وہ اس شے کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے فلان ینبغی ان یعطی لکرمہ۔ فلاں کے لئے اپنے کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے۔ اس معنی میں یہ آیہ شریفہ ہے وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی (38:35) اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کو میسر نہ ہو۔
سابق۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ سبق (باب ضرب ونصر) مصدر۔ آگے بڑھنے والا مضاف النھار (دن) مضاف الیہ۔ سابق النھار ، دن سے آگے بڑھ جانے والا۔ یعنی نہ رات دن سے آگے نکل جانے والی ہے۔ مراد یہ ہے کہ دن اور رات ایک دوسرے کے آگے پیچھے مقررہ نظام کے تحت چل رہے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ اس نظام سے انحراف کرے۔
کل۔ ای کل واحد من الشمس والقمر یعنی سورج اور چاند میں سے ہر ایک۔ تنوین مضاف الیہ کے عوض میں لائی گئی ہے
فلک۔ ستاروں کا مدار۔ وہ بیضوی، صوری راہ جس پر اجرام فلکی گردش کرتے ہیں الفضاء یدور فیہ النجم والکواکب۔
الفلک کے معنی کشتی کے ہیں ستاروں کا مدار کشتی نما ہونے کی وجہ سے فلک کہلاتا ہے فلک کی جمع فلائک ہے اور فلک کی جمع افلاک ہے۔ اس سے فلکی علم نجوم کے ماہر کو کہیں گے اور علم الافلاک علم نجوم کو۔
فلک یفلک فلکا وافلاکا۔ (لڑکی کا) گول پستان والی ہونا۔ اسی سے الفلک بمعنی التل المستدیر من الرمل ریت کا گول ٹیلہ ہے پھر اسی رعایت سے اجرام فلکی کا مدار گول نما ہونے کی وجہ سے الفلک ہوا۔
یسبحون۔ مضارع جمع مذکر غائب سبح (باب فتح) مصدر۔ وہ تیرتے ہیں۔ وہ تیز اور ہموار رفتار سے چلتے ہیں۔ السبح کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ استعارۃ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ کل فی فلک یسبحون (سب (سورج، چاند و دیگر اجرام فلکی) اپنے اپنے مدار میں تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں۔