Ayahs 36:1–3آپ اللہ کے رسول ہیں، قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو تبلیغ کریں جن کے باپ دادوں کے پاس ڈرانے والے نہیں آئے
لفظ یٰسٓ متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، منکرین جو آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) (بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں) اور مزید یہ فرمایا (عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم) (کہ آپ سیدھے راستہ پر ہیں) آپ کے دشمن جو آپ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں اور آپ جس راہ پر ہیں یعنی توحید اور عبودیت للہ، اس سے جو مخاطبین بدکتے ہیں ان کا خیال نہ کیجیے اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں۔
جو لوگ آپ کی رسالت کے منکر تھے اور قرآن کریم کو بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں مانتے تھے ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ ) اس میں مصدر مفعول مطلق ہے جو نَزَّل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن ایسی ذات پاک کی طرف سے اتارا گیا ہے جو زبردست ہے رحم فرمانے والا ہے۔ العزیز فرما کر یہ بتادیا کہ منکرین چین سے نہ بیٹھیں، نڈر نہ ہوں جس نے یہ قرآن نازل فرمایا ہے وہ باعزت ہے غلبہ والا ہے اور انکار پر سزا دینے پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے، اور الرَّحِیْمِفرما کر یہ بتادیا کہ گرفت میں جو دیر لگ رہی ہے وہ اس کی شان رحمت کا مظاہرہ ہے اس دیر لگنے سے یہ نہ سمجھیں کہ عذاب میں مبتلا ہونا ہی نہیں ہے۔
Ayahs 36:4–6(لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُھُمْ ) آپ کو جو نبوت سے نوازا گیا ہے اور آپ پر جو قرآن مجید نازل کیا گیا ہے یہ اس لیے ہے کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادوں کو نہیں ڈرایا گیا یعنی آپ کے اولین مخاطب اہل مکہ ہیں ماضی قریب میں ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا جو انہیں ڈراتا، یوں تو یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں انہوں نے انہیں دین حق کی تبلیغ کی تھی، توحید سمجھائی تھی، شرک سے بچنے کی تاکید کی تھی لیکن بعد میں یہ لوگ کفر اور شرک پر لگ گئے۔ (ھذا اذا کانت مانافیہ کما ھو المتبادر وقال ابن عطیۃ یحتمل ان تکون ما مصدریۃ تکون نعتًا لمصدرٍ مؤکد ای لتنذر قومًا انذارًا مثل انذار الرسول اٰباءھم الابعدین) (یہ اس وقت ہے جب ما نافیہ ہو جیسا کہ ظاہر ہے اور ابن عطیہ نے کہا ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہو کہ مصدر موکد کی صفت ہو یعنی تاکہ آپ قوم کو ڈرائیں جیسا کہ ان کے دور کے آباء کو رسولوں نے ڈرایا۔ )
(فَھُمْ غٰفِلُوْنَ ) (سو یہ لوگ غافل ہیں) ان کے باپ دادوں کو ڈرانے کے لیے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا لہٰذا وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اب آپ ان کو ڈرائیے اور سمجھایئے۔
Ayah 36:7پھر فرمایا (لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ ) (الآیۃ) جب رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کو تبلیغ کرتے تھے تو وہ آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ کی بات نہیں مانتے تھے، اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ان میں سے اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے یعنی ان کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ عذاب میں جائیں گے۔ تکوینی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ اکثر ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا آپ کار رسالت انجام دیں اور ان کے انکار اور عناد سے دلگیر نہ ہوں۔
Ayah 36:8اس کے بعد منکرین کے ایک عذاب کا تذکرہ فرمایا (اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ ) (الآیۃ) کہ ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے یہ طوق ٹھوڑیوں تک ہیں (اور ہاتھ بھی اوپر ہی ان طوقوں میں بندھے ہوئے ہوں گے) لہٰذا ان لوگوں کی کیفیت ایسی ہوجائے گی کہ ان کے سر اوپر ہی کو اٹھے ہوئے رہ جائیں گے نیچے کو نہ جھکا سکیں گے۔
علامہ قرطبی ؓ (جلد 15: ص 9) نے بعض حضرات سے آیت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ اہل کفر کے ساتھ یہ معاملہ دوزخ میں ہوگا اور سورة المومن کی آیت کریمہ (اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ ) سے استدلال کیا ہے، بظاہر یہ رائے ٹھیک ہے اس میں مجاز اور تمثیل کا ارتکاب نہیں کرنا پڑتا۔
آیات بالا کا شان نزول :
اور صاحب روح المعانی نے بحوالہ دلائل النبوۃ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن (مسجد میں) بلند آواز سے قرآن مجید پڑھ رہے تھے قریش مکہ کو اس سے تکلیف ہوئی وہ لوگ جمع ہو کر آپ کے قریب آئے تاکہ آپ کو پکڑ لیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود ان کی پکڑ ہوگئی، ان لوگوں کے ہاتھ گردنوں تک پہنچ کر جام ہوگئے اور نظر آنا بھی بند ہوگیا۔ جب یہ حال ہوا تو نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ کو اللہ تعالیٰ اور رشتہ داری کے واسطہ دیتے ہیں دعا کیجیے کہ ہماری مصیبت دور ہوجائے، آپ نے ان کے لیے دعا کردی جس سے ان کی وہ حالت ختم ہوگئی اور (یٰسٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ) سے لے کر (اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) تک آیات نازل ہوئیں، لیکن ان میں سے ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔
اس قصہ میں یہ تصریح ہے کہ جب ان لوگوں نے آپ کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو ان کی یہ حالت ہوئی کہ ان کے ہاتھ گردنوں سے چپک کر رہ گئے۔ 1 اگر دنیا میں بھی ایسا واقعہ ہوا ہو جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور آخرت میں اس سے بڑھ کر ہوجائے تو اس میں کوئی منافاۃ نہیں ہے۔
صاحب روح المعانی نے ایک قصہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن ابو جہل نے پتھر اٹھایا تاکہ آپ پر حملہ کرے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، ابو جہل کا ہاتھ گردن تک اٹھا اور وہیں جاکر چپک گیا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، کیا دیکھتے ہیں کہ پتھر اس کے ہاتھ میں اور اس کا
ہاتھ گردن سے چپکا ہوا ہے، ان لوگوں نے بڑی محنت اور مشقت سے اس کا ہاتھ گردن سے چھڑایا، پھر اس پتھر کو بنی مخزوم کے آدمی نے لے لیا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کی روشنی ختم کردی اور وہ واپس لوٹا تو اس کے ساتھی اسے نظر نہ آ رہے تھے انہوں نے آواز دے کر اسے اپنے پاس بلالیا، اب تیسرا شخص اٹھا اس نے پتھر لیا اور یوں کہتا ہوا چلا کہ میں ان کا سر پھوڑوں گا، تھوڑا سا چلا کہ فوراً ایڑھیوں کے بل پیچھے لوٹا یہاں تک کہ گدی کے بل گرپڑا کسی نے کہا ارے تجھے کیا ہوا ؟ کہنے لگا کہ بہت بڑا حادثہ ہوگیا وہ یہ کہ میں جب ان کے قریب گیا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک بہت بڑا اونٹ ہے، ایسا اونٹ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ اونٹ میرے اور ان کے درمیان حائل ہوگیا، پھر بتوں کی قسم کھا کر کہا اگر میں ان کے قریب چلا جاتا تو یہ اونٹ مجھے کھائے بغیر نہ چھوڑتا۔ یہ قصہ لکھ کر صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (اگر اس قصے کو سبب نزول مانا جائے تو) طوق ڈالنا اور آگے پیچھے آڑ بن جانا یہ سب استعارہ ہوگا یعنی وہ تینوں حملہ کرنے والے پیچھے ہٹ گئے اور حملہ نہ کرسکے، ایسے بےبس ہوگئے جیسے کسی کا ہاتھ گردن سے بندھ جائے اور آنکھوں کی روشنی چلی جائے۔
Ayahs 36:9–11اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے ان کو ایمان لانا نہیں ہے یعنی یہ لوگ آپ کے انذار کا اثر نہ لیں گے، جو لوگ انذار کا اثر لیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا نصیحت قبول کرنے کا مزاج ہے جو حق بات سنتے ہیں اور فکر کرتے ہیں اور وضوح حق کے بعد حق کو مان لیتے ہیں : (ھٰذا علی احد القولین) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ (مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ ) سے مومنین مراد ہیں اور (ویؤید ما بعدہ) جو بن دیکھے رحمان سے ڈرتے ہیں، وہ رحمان کو رحمن بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی نافرمانی اور تقصیر اور کوتاہی کے سبب سے اس کی گرفت سے بھی ڈرتے ہیں۔
(فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (سو اس شخص کو مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو )
Ayah 36:12(اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی) (الآیۃ) بلاشبہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے آثار کو یعنی اچھے اور برے اعمال کو لکھ رہے ہیں جو وہ آگے بھیج رہے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو واضح کتاب یعنی لوح محفوظ میں پوری طرح محفوظ کردیا ہے۔
لفظ (وَاٰثَارَھُمْ ) اچھے برے تمام اعمال کو شامل ہے، اور اعمال کی بجائے (اٰثَارَ ) کا لفظ لانے میں یہ نکتہ ہے کہ جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا (اچھا ہو یا برا) جس کا اتباع بعد کے آنے والے لوگ کرتے ہیں اور جس سے نفع حاصل کرتے رہے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں داخل ہوجائے، جو اپنی نماز خود پڑھی یا قرآن مجید کی تلاوت کی اس کا ثواب تو ملتا ہی ہے لیکن اگر کسی کو نماز سکھا دی، قرآن مجید پڑھا دیا، نماز پڑھنے والوں کے لیے مسجد بنا دی، کوئی دینی کتاب لکھ دی، تو یہ سب آثار میں شامل ہے جب تک فیض جاری رہے گا ثواب بھی ملتا رہے گا۔ یہی حال معصیتوں، بدعتوں اور بری رسوم کے جاری کرنے کا ہے، جس کسی نے یہ چیزیں جاری کردیں بعد میں عمل کرنے والے کے گناہوں میں ان کا جاری کرنے والا بھی شریک رہے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک ان چیزوں میں جو مومن کو موت کے بعد پہنچتی ہیں یعنی اس کا عمل اور اس کی نیکیاں، ان میں ایک تو علم ہے جسے اس نے حاصل کیا اور پھیلایا اور اولاد صالحہ ہے جسے چھوڑ گیا یا قرآن ورثہ میں چھوڑ گیا یا مسافر خانہ تعمیر کرگیا یا نہر جاری کر گیا یا اپنے مال سے زندگی میں اور تندرستی کے زمانے میں ایسا صدقہ نکال گیا جو مرنے کے بعد اس کو پہنچتا ہے۔ (رواہ ابن ماجہ ص 22)
1 اوپر جو ترجمہ لکھا گیا ہے اسی کے مطابق ہے 12 مولف عفا اللہ عنہ۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جس کسی نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے اسے ان کے عمل کا بھی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا اسے اس کا گناہ ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس طریقہ پر عمل کریں گے ان کے عمل کا گناہ بھی اسے ملے گا اور ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ (رواہ مسلم)
بعض حضرات نے (وَاٰثَارَھُمْ ) کے عموم میں مساجد کو جانے آنے کے نشان ہائے قدم کو بھی شمار کیا ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے آس پاس جگہیں خالی ہوگئیں تو قبیلہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے دور والے گھروں کو چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آباد ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ کو ان کے اس ارادہ کی خبر ملی تو ارشاد فرمایا کہ اے بنی سلمہ تم اپنے گھروں ہی میں ٹھہرے رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 68 از مسلم)
Ayah 36:13ایک بستی میں پیامبروں کا پہنچنا اور بستی والوں کا معاندانہ طریقہ پر گفتگو کرنا
ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ایک بستی (جس کا نام مفسرین نے انطاکیہ بتایا ہے) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو فرستادہ گئے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں نبی نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے آدمی تھے جو انہوں نے اپنے حوارین میں سے بھیجے تھے، چونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک رسول نے انہیں بھیجا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت فرمائی اور (اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ ) فرمایا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات مستقل نبی تھے، پہلے دو حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے بستی والوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں ہماری بات سنو، دین اسلام قبول کرو اور توحید پر آؤ، یہ بات سن کر بستی والوں نے انہیں جھٹلا دیا اور کہا کہ نہیں تم لوگ اللہ کے رسول نہیں ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے آدمی کو بھیجا جس کے ذریعہ پہلے دو آدمیوں کی تائید کرنا مقصود تھا، اب ان تینوں نے مل کر وہی بات کہی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تم ایمان لاؤ توحید کو قبول کرو، بستی والوں نے کہا کہ تم کو کیسے اللہ کا فرستادہ مانیں تم تو ہمارے ہی جیسے ہو تم میں ایسی کونسی فضیلت کی بات ہے جس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے پیغمبر بنائے گئے۔ تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی ہے ہم اسے نہیں مانتے، ہمارے نزدیک تو رحمن نے تم پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جھوٹ ہے۔
ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم مانو یا نہ مانو ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور ضرور تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تمہارے ماننے نہ ماننے سے ہمارے کام پر کچھ اثر نہیں پڑتا، ہم نتیجہ کے مکلف نہیں ہیں ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ خوب اچھی طرح واضح طور پر بیان کریں ماننا نہ ماننا یہ تمہارا کام ہے، بستی والے کہنے لگے کہ تمہارا آنا تو ہمارے لیے منحوس ہوگیا، ایک تو تمہارے آنے سے ہمارے اندر دو فرقے ہوگئے کوئی تمہارا مخالف اور منکر ہے اور کوئی تمہارا موافق ہے (اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان لوگوں کے انکار کی وجہ سے بطور عذاب بعض چیزوں کا وقوع ہوگیا تھا اس کو انہوں نے نحوست بتایا) گاؤں والوں نے مزید کہا کہ تم اپنی باتیں بس کرو اگر باز نہ آئے تو تمہاری خیر نہیں اگر تم نے اپنی باتیں نہ چھوڑیں تو ہم پتھروں سے مار مار کر ختم کردیں گے اور اس کے علاوہ بھی ہم تمہیں سخت تکلیف پہنچائیں گے۔
ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم نحوست کو ہماری طرف منسوب کر رہے ہو، تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے نہ تم کفر پر جمے رہتے نہ پھوٹ پڑتی نہ کوئی اور تکلیف آتی کرتوت تمہارے ہیں اور ان کا نتیجہ ہمارے ذمہ لگا رہے ہو، ہم نے تو اتنا ہی کیا ہے کہ تمہیں توحید کی دعوت دی ہے اور ایمان قبول کرنے کو کہا ہے اس میں کون سی ایسی بات ہے جسے نحوست کا سبب بنالیا جائے۔ (قال صاحب الروح ائن ذکرتم ووعظتم مافیہ سعادتکم تطیرون اوتتوعدون او نحو ذلک ویقدر مضارع وان شئت قدرت ماضیًا کتطیرتم) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کیا اس لیے کہ تمہیں اس چیز کی وعظ و نصیحت کی گئی ہے جس میں تمہاری کامیابی ہے تم نحوست کی فال لیتے ہو یا یہ کہ تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو یا اسی جیسی کوئی اور عبارت محذوف ہوسکتی ہے۔ اور فعل محذوف مضارع بھی مانا جاسکتا ہے اور اگر چاہو تو ماضی مان لو جیسے تطیرون کی جگہ تطیرتم)
ان تینوں حضرات نے آخر میں فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے ہو تمہارا حد سے آگے بڑھنا یعنی کفر پر جمے رہنا ان چیزوں کا سبب ہے جنہیں ہماری آمد کی نحوست بتا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام میں نحوست کوئی چیز نہیں ہے، تینوں حضرات نے جو یہ فرمایا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، یہ ان کے جواب میں (علیٰ سبیل المشاکلہ) فرمایا، کفر کی وجہ سے جو ان لوگوں کی کچھ گرفت ہوئی تھی اسے انہوں نے نحوست بتادیا، تینوں حضرات نے ان کے الفاظ ان پر لوٹا دئیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الطیرۃ شرک) یعنی بد شگونی شرک ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 329)
Ayahs 36:14–20مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا
تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتے تیسرے یہ خود ہدایت پر ہیں، ان کا عمل ان کے قول کے مطابق ہے۔ (لہٰذا ان کا اتباع تم پر لازم ہے۔ )
یہ باتیں کہہ کر اس شخص نے ان لوگوں کو عبادت خداوندی کی دعوت دی اور اپنے اوپر بات رکھ کر کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات پاک کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔ اس میں یہ بتادیا کہ جس نے پیدا کیا وہی عبادت کا مستحق ہے، جب پیدا فرمانا استحقاق عبدودیت کی دلیل ہوا تو ضروری ہے کہ تم بھی اللہ ہی کی عبادت کرو میں بھی اسی کی عبادت کروں، اسی لیے آخر میں (وَالیہ ارجع) (اور میں اسی کی طرف لوٹایا جاؤں گا) نہیں کہا بلکہ (وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کہا۔ جب اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس نے پیدا کیا تو اس کی عبادت چھوڑنا یا دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرنا یہ تو بالکل ہی حماقت اور بیوقوفی کی بات ہے۔
چونکہ اس بستی کے لوگ مشرک تھے اس لیے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے اس شخص نے مزید کہا (ءَ اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ) (الآیتین) (کیا میں اپنے پیدا کرنے والے کے علاوہ دوسرے معبود تجویز کرلوں) یہ جو تم نے اس کے سوا معبود بنا رکھے ہیں وہ تو بالکل ہی بےحقیقت ہیں اگر رحمن تبارک و تعالیٰ مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اس کی بارگاہ میں سفارش کرکے میری کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ خود مجھے اس ضرر سے چھڑا سکتے ہیں، یعنی نہ تو یہ شفاعت کے اہل ہیں اور نہ خود ان میں کوئی قوت اور طاقت ہے، اگر رحمان جل مجدہٗ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنالوں تو میں کھلی گمراہی میں پڑجاؤں گا۔ (یہ سب باتیں اس دور سے آنے والے آدمی نے اپنے اوپر رکھ کر کہیں اور انہیں بتادیا کہ تم لوگ مشرک ہو، کھلی گمراہی میں ہو اور خالق جل مجدہٗ کے علاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہیں کچھ بھی نفع نہیں پہنچاسکتے۔ )
Ayahs 36:21–25اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اس شخص نے یہ باتیں کہیں تو وہ لوگ یکبار ہی اس پر پل پڑے اور اسے قتل کردیا، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اسے پاؤں سے اتنا روندا کہ اس کی آنتیں نکل پڑیں۔
Ayah 36:26(قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ) اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان اور دعوت توحید اور شہادت کا انعام دیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جنت میں داخل ہوجا۔
(قَالَ ٰیلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکَرَّمِیْنَ ) جنت میں داخل ہو کر اس شخص نے کہا کیا اچھا ہوتا کہ میری قوم کو اس کا پتہ چل جاتا جو میرے رب نے میری مغفرت فرمائی اور جو مجھے معزز بندوں میں شامل فرمایا (یہ بات اس نے آرزو کے طور پر کہی کہ میری قوم کو اللہ کے انعام کا پتہ چل جاتا تو وہ بھی مسلمان ہوجاتے۔ )
معالم التنزیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب بستی والوں نے اس آدمی کو قتل کردیا جو بستی کے آخر والے حصہ سے آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیج دیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کے ہلاک کرنے کا حکم دیا انہوں نے وہاں زور سے ایک چیخ ماری جس کی وجہ سے وہ سب لقمہ اجل بن گئے، ان لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں فرمایا (وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَمَا کُنَّا مُنزِْلِیْنَ اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ھُمْ خَامِدُوْنَ ) (اور ہم نے اس شخص کی قوم پر اس کے بعد آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا اور ہم لشکر نازل کرنے والے نہ تھے وہ تو صرف ایک چیخ تھی سو اچانک وہ بجھ کر رہ گئے) یعنی مذکورہ بستی والے جو ہلاک کردئیے گئے۔ ان کی ہلاکت کے لیے ہمیں کوئی لشکر اور جماعت کبیرہ بھیجنے کی ضرورت نہ تھی بس ایک چیخ ہی کے ذریعے ہلاک کردئیے گئے۔ اس میں عبرت ہے دوسرے منکرین و مکذبین کے لیے، کوئی فرد یا جماعت یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے انتقام نہیں لے سکتا اگر وہ انتقام لینا چاہے گا تو العیاذ باللہ اسے دشواری نہ ہوگی نہ اسے کوئی لشکر بھیجنا پڑے گا۔ وہ تو قادر مطلق ہے، اس کے صرف کن کے خطاب سے سب کچھ ہوجاتا ہے جو چیخ بھیجی اس کی بھی ضرورت نہ تھی لیکن حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ایک چیخ کے ذریعے ہلاک کردیا جائے، ایک چیخ آئی اور یہ لوگ بجھے ہوئے رہ گئے، بڑے غرور اور طمطراق میں بھرے ہوئے تھے نہ خود رہے نہ جماعت رہی نہ غرور رہا، بالکل ایسے ہوگئے جیسے آگ کسی لکڑی کو بجھا کر راکھ بنا دے۔
(قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ) جو فرمایا ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے اس شخص کو انہیں میں شامل فرما دیا اور اسے مزید یہ فضیلت دی کہ وقوع قیامت کا انتظار نہیں کیا گیا ابھی سے جنت میں داخل کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ کوئی بعید نہیں ہے۔ (کما قال النّبی ﷺ لقد رأیت رَجُلاً یتقلب فی الجنّۃ فی شجرۃ قطعھا من ظھر الطریق کانت تؤذی النّاس) (رواہ مسلم ص 328) (جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے جنت میں ایک آدمی کو آزادی سے پھرتے دیکھا جس نے راستہ سے لوگوں کو تکلیف دینے والا درخت کاٹا۔ )
اور بعض حضرات نے (قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ) کا مطلب یہ لیا ہے کہ اس سے محض بشارت دینا مقصود ہے اور جنت کا داخلہ قیامت کے دن اپنے وقت پر ہوگا، اگر یہ قول مراد لیا جائے تو (قَالَ ٰیلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ) کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ موت کے بعد ہی برزخ میں جو حسن سلوک ہوا اسی سے متاثر ہو کر اس نے یہ بات کہی۔ (وَاللّٰہُ تَعَالیٰ اَعْلَمْ )
Ayahs 36:27–28اور (وَمَا کُنَّا مُنزِلِیْنَ ) کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بستی کے ہلاک کرنے کے لیے ہم فرشتوں کو اتارنے والے نہیں تھے کیونکہ ہمیشہ تعذیب اور ہلاکت کے لیے فرشتے نہیں آتے، اللہ تعالیٰ کبھی فرشتوں کو اتار دیتے ہیں جیسا کہ غزوۂ بدر میں فرشتے نازل کیے گئے اور کبھی نہیں اتارتے، مختلف طریقوں سے ہلاک کیا گیا۔
(قال صاحب روح (ج 33: ص 2) والظاھر انّ المراد بھذا الجند جند الملئکۃ ای ما انزلنا لاھلاکھم ملآء کَۃً مِّنَ السَّمَآءٍ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ وما صح فی حکمتنا ان ننزّل الجند لاھلاکھم لما انا قدرنا لکل شیءٍ سبباً حیث اھلکنا بعض من اھلکنا من الامم بالحاصب وبعضھم بالصیحۃ وبعضھم بالخسف بعضھم بالاغراق وجعلنا انزال الجند من خصائصک فی الانتصار لک من قومک وکفینا امر ھؤلاء بصیحۃ ملک صاح بھم فھلکوا۔ یعنی ان ذلک الرجل خوطب بذلک) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ اس لشکر سے مراد فرشتوں کا لشکر ہے یعنی ہم نے ان کے ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتارتے اور نہ ہی ہم فرشتے اتارنے والے تھے کہ ہماری حکمت میں ان کی ہلاکت کے لیے فرشتوں کا اتارنا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ہم نے ہر چیز کے لیے سبب مقرر کیا ہے جیسا کہ بعض قوموں کو ہم نے پتھر برسا کر ہلاک کیا بعض کو چیخ سے بعض کو زمین میں دھنسا کر بعض کو پانی میں غرق کرکے ہلاک کیا فرشتے نہیں اتارے، لیکن اب یہ تیری قوم میں تیری مدد کے لیے فرشتوں کا اترنا تیری خصوصیات میں سے ہے۔ اور ہم نے ان کے لیے ایک فرشتہ کی چیخ کو کافی کردیا فرشتے نے چیخ ماری اور یہ سب ہلاک ہوگئے۔ یعنی اس آدمی سے خطاب کرکے یہ کہا گیا۔ )
Ayahs 36:29–30(یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ) (افسوس ہے بندوں کے حال پر) بیان القرآن میں لفظ ” حسرت “ کا ترجمہ افسوس سے کیا ہے، لفظ حسرت وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی نفع مند چیز فوت ہوجائے اور اس پر ندامت اور شرمندگی ہونے لگے۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ کے لیے اصلی معنی میں حسرت ہونا محال ہے اس لیے افسوس سے ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن احقر کو اس میں بھی اشکال ہے کیونکہ افسوس سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بلندو برتر ہے، صاحب روح المعانی نے اس موقع پر متعدد اقوال نقل کیے ہیں کہ حسرت کرنے والے کون ہیں اور العباد کون ہیں جن پر حسرت کی گئی، پھر ایک قول یہ لکھا گیا ہے : (وجوزان یکون التحسر منہ سبحانہ وتعالیٰ مجازًا علی استعظام ما جن وہ علی انفسھم) (اور ہوسکتا ہے کہ یہ حسرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجازاً ہو ان کے جرم کی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے) پھر چند سطر کے بعد لکھا ہے : (وقیل (یا) للنداء والمنادی محذوف و (حسرۃ) مفعول مطلق لفعل مضمرو (علی العباد) متعلق بذلک الفعل ای یا ھؤلاء تحسروا حسرۃ علی العباد) (بعض نے کہا ہے یا نداء کے لیے ہے اور منادی محذوف ہے اور حسرۃً فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور علی العباد اسی فعل محذوف کا متعلق ہے یعنی اے لوگو ! ان بندوں پر خوب حسرت کرو) یعنی منادی محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے لوگو ! بندوں کے حال پر حسرت کرو، ان کے پاس جب کبھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اپنی آخرت برباد کی۔
صاحب روح المعانی نے اخیر میں لکھا ہے : (ولعل الاوفق للمقام المتبادر الی الافھام ان المراد نداء حسرۃ کل من یأتی منہ التحسر ففیہ من المبالغۃ مافیہ) (اور مقام کے زیادہ موافق ذہن کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سے مراد حسرت کی دعوت ہے ہر اس آدمی کو جو حسرت کرسکتا ہے ایسی صورت میں اس میں مبالغہ ہے) یعنی مقام کے مناسب یہ مطلب زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو حسرت کرنے کا اہل ہے ان لوگوں کے حال پر حسرت کرے جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق بنایا۔
Ayah 36:31(اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِنَ الْقُرُوْنِ ) کیا ان لوگوں (یعنی اہل مکہ) نے اس کو نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں (جن کا انہیں علم ہے اور اقرار ہے) اسفار میں جاتے ہیں تو ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈر دیکھتے ہیں، اگر غور کرتے تو جھٹلانے اور نبیوں کا مذاق بنانے سے بچتے (اَنَّہُمْ اِِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ) یہ ہلاک شدگان ان کی طرف لوٹنے والے نہیں ہیں یعنی جنہیں ہلاک کیا گیا وہ ختم ہوگئے دنیا سے چلے گئے اب انہیں واپس آنا نہیں ہے، جو کچھ محل تعمیر کیے، عمارتیں بنائیں، مال جمع کیا سب کچھ دھرا رہ گیا نہ پہلی زندگی میں ان چیزوں نے ان کی جان بچائی نہ واپس آکر ان سے منتفع اور مستفید ہوسکتے ہیں۔
Ayah 36:32(وَاِِنْ کُلٌّ لَمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (اور یہ سب لوگ مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر کیے جائیں گے) یعنی جو لوگ کفر کی وجہ سے ہلاک کیے گئے ان کا جو دنیا میں ہلاک کیا جانا اور عذاب دیا جانا ہے اسی پر بس نہیں ہے مزید عذاب آخرت میں دیا جائے گا جو دائمی ہوگا جو لوگ بھی ہلاک کیے جائیں گے وہ سب مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر ہوں گے، حجتیں قائم ہوں گی پھر دائمی عذاب کی جگہ یعنی دوزخ میں جائیں گے۔
فوائد مستنبطہ از قصہ مذکورہ
تین حضرات مذکورہ بستی میں دعوت اور تبلیغ کے کام کے لیے گئے ان کے بارے میں بیان فرمایا کہ پہلے دو حضرات کو بھیجا تھا پھر تیسرا شخص بھی ان کی تقویت کے لیے بھیج دیا، اس سے جماعتی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرنے کا ایک طریقہ معلوم ہوا، یوں تو ایک شخص تنہا بھی اپنی بساط کے موافق جتنا چاہے کرسکتا ہے اور بعض مرتبہ مخاطبین کی بدسلوکی کی وجہ سے اسے بہت زیادہ ثواب بھی مل سکتا ہے لیکن جماعت بن کر لوگوں کے پاس جانے اور انہیں حق کی تبلیغ کرنے اور ایمان اور ایمانیات کی دعوت دینے کے لیے نکل کر لوگوں کے پاس پہنچنے سے بعض مرتبہ نفع زیادہ ہوتا ہے اور فی نفسہٖ یہ طریقہ بہت مفید ہے۔
قصہ بالا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو حضرات دینی دعوت کے لیے کہیں جائیں تو مقامی لوگوں کو بھی ان کی تائید میں کھڑا ہونا چاہیے جیسا کہ مذکورہ بستی کے دور دراز حصہ سے آکر ایک شخص نے اصحاب ثلاثہ کی تائید کی، اس سے دعوت دینے والے حضرات کو تقویت ہوتی ہے۔
ان حضرت کے قصہ سے دو باتیں اور مزید معلوم ہوئیں، اول یہ کہ دور دراز سے جو شخص آیا اس نے خطاب کی ابتداء کرتے ہوئے یا قوم کہا پھر یوں کہا (اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْءَلُکُمْ اَجْرًا) (کہ اے میری قوم تم ان لوگوں کا اتباع کرو جو کسی معاوضہ یا اجرت کا سوال نہیں کرتے) (وَّ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) (اور وہ لوگ خود بھی ہدایت پر ہیں) معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت کا کام کہیں لے کر جائیں وہ بغیر کسی دنیاوی غرض کے دعوت کے کام کے لیے نکلیں اور جن لوگوں کے پاس پہنچیں ان سے کسی قسم کا ذرا سا بھی کوئی لالچ نہ رکھیں نہ دعوت و ضیافت کا نہ روٹی پانی کا نہ بوریا اور بستر کا، اپنا خرچہ خود ہی کریں۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا یہ خاص وصف تھا کہ وہ اپنے دعوت کے کام کا ثواب صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے تھے مخاطبین سے ذرا سی بھی نہ امید رکھتے تھے نہ ان سے کچھ طلب کرتے تھے، ان حضرات کا فرمانا تھا : (وَمَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اور میں تم سے توحید کی دعوت پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر صرف اللہ کے ذمہ ہے) سورة سبا میں ہے (قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلَی اللّٰہِ ) (آپ فرما دیجیے کہ میں نے جو کچھ کوئی عوض تم سے طلب کیا ہو تو وہ تمہارے ہی لیے ہے میرا اجر صرف اللہ پر ہے) سورة ص کے آخر میں فرمایا (قُلْ وَمَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اپنے دعوت کے کام پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور میں بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ )
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو لوگ ہدایت کی دعوت دیں وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہوں، اگر خود بھی ہدایت پر ہوں گے تو مخاطبین ان کی بات کا اثر جلدی لیں گے اور ان میں سے کوئی شخص یوں نہ کہہ سکے گا کہ نکلے ہو دوسروں کو بتانے اور دینی اعتبار سے تمہارا اپنا حال پتلا ہے۔
داعی حق کو مخاطبین سے بات کرنے کا اسلوب بھی ایسا اختیار کرنا چاہیے جسے ان کے کان خوشی سے سن لیں اور قلوب گوارا کرلیں۔ مذکورہ بالا بستی کا جو شخص دور سے دوڑا ہوا آیا تھا ایک تو بستی والوں کو (یَاقَوْم) کہہ کر اپنایا اور یہ بتایا کہ تم اور میں ایک ہی قوم کے افراد ہیں ان کے ذہنوں کو قریب کرنے کے لیے یہ بتایا کہ میں تمہی میں سے ہوں۔
پھر یہ صاحب جب اصحاب ثلاثہ (تینوں فرستادوں) کی تائید سے فارغ ہوئے تو اپنے اوپر رکھ کر یوں کہا (وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ ) (اور کیا ہوا کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا) وہ شخص خود تو ہدایت پر تھا، موحد تھا اور جو مخاطب تھے وہ مشرک تھے، لیکن بات کرنے میں متکلم کا صیغہ استعمال کیا کہ مجھے کیا ہوا جو میں اپنے خالق کی عبادت نہ کروں، حالانکہ بظاہر یوں کہنا چاہیے تھا۔ (وَمَا لَکُمْ لاَ تَعْبُدُوْنَ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ ) کہ تمہیں کیا ہوا کہ اس ذات کی عبادت نہیں کرتے جس نے تمہیں پیدا کیا، خطاب ان سے کیا بات اپنے اوپر رکھی اور توحید کی دلیل بھی بتادی اور شرک کی تردید بھی کردی کہ جس نے پیدا کیا ہے صرف وہی مستحق عبادت ہے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے کیونکہ اس کی صفت خالقیت میں کوئی بھی شریک نہیں اور چونکہ اصل تبلیغ مخاطبین ہی کو کرنی تھی اس لیے آخر میں (وَاِلَیْہِ ارجع) نہیں کہا (کہ میں اس کی طرف لوٹایا جاؤں گا) بلکہ (وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) کہا کہ تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے، اب تم سمجھ لو کہ تمہارا کیا حال بنے گا، شرک کی پاداش میں سزا بھگتنا ہے تو تم جانو۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے صاحب موصوف نے کہا (اِنِّیْ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (اگر میں اپنے خالق کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے لگوں تو کھلی ہوئی گمراہی میں پڑجاؤں گا) یہ بات بھی اپنے اوپر رکھ کر کہی اور مخاطبین کو بتادیا کہ دیکھو تم مشرک ہو اور کھلی ہوئی گمراہی میں ہو۔
آخر میں کہا (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ ) (بلاشبہ میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا سو تم میری بات سنو) اس میں اپنے ایمان کا واضح طور پر اعلان کردیا اور اس میں بھی ان کو ایمان کی دعوت دے دی (اٰمَنْتُ بِرَبِّیْ ) کے بجائے (اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ ) کہا اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا پروردگار ہے اسی پر ایمان لانا اور اسی کی عبادت کرنا لازم ہے پرورش تو کرے خالق اور مالک جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور عبادت دوسروں کی کی جائے یہ تو ہلاکت اور ضلالت کی بات ہے۔
بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے دعوت و ارشاد کا کام کرتے ہیں، ناصح اور امین ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں اس کا طریقہ ڈال دیتے ہیں اور ان کی زبانیں حسن اسلوب، حسن اداء اور عمدہ سلیقہ سے متصف ہوجاتی ہیں۔ (ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ )
Ayah 36:33مردہ زمین کو زندہ فرمانا اور اس میں سے کھیتیاں اور پھل پیدا فرمانا، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض مظاہرے ہیں
اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے تو بہت ہیں اور کثیر تعداد میں ایسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمین مردہ ہوجاتی ہے اس میں کوئی سبزی اور گھاس پھونس باقی نہیں رہتا، پھر اللہ جل شانہٗ پانی برسا دیتے ہیں اور اس پانی کے ذریعے زمین کو زندہ فرما دیتے ہیں، پانی برسا زمین زندہ ہوگئی کسانوں نے بیج ڈالا تو کھیتی ظاہر ہوگئی، آگے بڑھی بالیں نکلیں ان میں دانے پیدا ہوئے پھر وہ پک گئے، کاٹی گئیں، غلے نکالے پھر لوگوں نے ان کو غذا بنایا، یہ تو سلسلہ کھیتی کا ہے اور کھیتی کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بہت سارے باغ بھی پیدا فرمائے ہیں، ان میں مختلف قسم کے درختوں کے باغ ہیں۔ آیت بالا میں انگوروں اور کھجوروں کے باغوں کا تذکرہ فرمایا، کھجور اور انگور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں ان میں بڑی غذائیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چشمے بھی پیدا فرما دئیے ہیں، جن کا پانی میٹھا ہوتا ہے بارش نہ ہو تو ان چشموں سے کھیتوں کو اور باغوں کو سیراب کردیا جاتا ہے جس طرح کھیتوں سے پیدا ہونے والے غلوں سے خوراک حاصل کرتے ہیں اسی طرح درختوں کے پھل بھی غذائیت کا کام دیتے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کے میوہ جات بھی بنائے جاتے ہیں۔
کھیتوں اور باغوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : (وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ) کہ یہ جو چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں انہیں ان کے ہاتھوں نے پیدا نہیں کیا یہ سب چیزیں ہماری ہی بنائی ہوئی ہیں، ان نعمتوں کا شکر کرنا لازم ہے (اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ) کیا پھر بھی شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayahs 36:34–36(سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا) (الآیۃ) یعنی زمین سے جو بھی چیزیں پیدا ہوتی ہیں سب اس ذات نے پیدا فرمائی ہیں جو بالکل بےعیب ہے، ہر نقص اور ہر کمی کوتاہی سے پاک ہے، یہ چیزیں جو زمین کی پیداوار ہیں ان میں طرح طرح کے انواع و اقسام ہیں اور خود انسانوں کی جانوں میں بھی ازواج ہیں یعنی کچھ مذکر ہیں اور کچھ مونث ہیں، اپنی جانوں کو اور زمین کی پیداوار کو تو لوگ جانتے ہیں ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بر و بحر میں پھیلی ہوئی ہیں، درندے ہیں چرندے ہیں، دریائی جانور ہیں، ان میں بھی مختلف قسم کے انواع و اقسام ہیں، (وَذٰلِکَ کلہ من صنع اللّٰہ تعالیٰ لادخل فیہ لغیرہ سبحانہٗ وتعالیٰ )
انسان ہل جوتنے اور بیج ڈالنے اور ٹریکٹر چلانے کی کچھ کوشش تو کرلیتے ہیں لیکن پیدا فرمانا، زمین سے نکالنا، بڑھانا، پھل پھول کے لائق بنانا دانہ نکالنا پھر ثمرات ظاہر ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ شانہٗ کی قدرت اور تخلیق اور ایجاد سے ہے۔
Ayah 36:37رات دن اور شمس و قمر اللہ تعالیٰ کے مظاہر قدرت میں سے ہیں
آیات سفلیہ بیان فرمانے کے بعد آیات علویہ کا بیان شروع ہو رہا ہے، رات اور دن کا تعلق چونکہ سورج کے طلوع اور غروب سے ہے اس لیے ان دونوں کو بھی آیات علویہ میں ذکر فرما دیا، ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے لیے رات بھی ایک نشانی ہے رات کے آنے جانے سے بھی اپنے خالق کو پہچان سکتے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ رات کے آنے جانے میں صرف اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کو دخل ہے، فرمایا : (نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ ) (ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اچانک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں) یعنی جس جگہ روشنی ہوتی ہے اور دن ہوتا ہے اس جگہ سے ہم روشنی کو کھینچ لیتے ہیں۔ 1 جب روشنی ختم ہوجاتی ہے تو دن ختم ہوجاتا ہے اور رات آجاتی ہے، دن گیا رات آئی اور لوگوں پر اندھیرا چھا گیا، اب ان میں سے کسی میں بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ رات کو ختم کرکے دن کی روشنی لے آئے جس نے رات کو پیدا فرمایا وہی دن کو پیدا فرماتا ہے۔
1 قال صاحب الروح ای نکشف ونزیل الضومن مکان اللیل و موضوع القاء ظلّہ وظلمتہ وھو الھواء عبارۃ عن الضوء اما علی التجوز أو علی حذف المضاف وقولہ تعالیٰ (منہ) علی حذف مضاف و ذلک لأن النھار واللیل عبارتان عن زمان کون الشمس فوق الافق وتحتہ ولا معنی لکشف احدھما عن الاٰخر (الیٰ اٰخر ما ذکر)
Ayah 36:38سورج کی رفتار میں مظاہر قدرت ہے
(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا) (اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے) سورج بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اس کا وجود مستقل نشانی ہے اور اس کی روشنی مستقل نشانی ہے پھر اس کا اپنے ٹھکانہ کے لیے چلنا یہ بھی مستقل نشانی ہے، اس کی رفتار اور اس کے محور پر چلنا، ادھر ادھر نہ ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کی نشانی ہے۔ (ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ) (یہ اس کا مقرر کیا ہوا ہے جو زبردست ہے علم والا ہے) سورج پابند ہے کہ اپنے محور پر چلے اور اسی رفتار پر چلے جو اس کی رفتار مقرر ہے، گرمیوں کے زمانہ میں سورج خط استواء پر چلتا ہے اور سردیوں میں ہٹ جاتا ہے اور دوسرا محور اختیار کرلیتا ہے، اس کا جو راستہ خالق جل مجدہٗ کی طرف سے طے کردیا گیا ہے اس کے خلاف نہیں چل سکتا۔
سورج کے مستقر یعنی ٹھکانہ کا کیا مطلب ہے۔ بعض لوگوں نے بلاوجہ اس کو مجاز پر محمول کیا ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک سال سے دوسرے سال کے ختم تک اس کا جو دور ہے اسی حد معین کا نام مستقر ہے، اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ لام تعلیلیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ چونکہ اسے اپنے مستقر کے مشارق اور مغارب پر پہنچنا ہے اس لیے چلتا رہتا ہے، اس کی ایک حد مقرر ہے وہاں تک پہنچنے اور پھر آگے بڑھنے کو مستقر فرمایا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بارہ برجوں میں مخصوص طریقہ پر ٹھہرنا اور پھر آگے بڑھنا یہ مستقر میں پہنچنا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مستقر اسم زمان ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کے مسلسل چلتے رہنے کا جو ایک وقت مقرر ہے اس وقت تک چلتا رہے گا اور جب قیامت قائم ہوگی تو اس کی رفتار ختم ہوجائے گی۔
سورج کا سجدہ کرنا
ان سب باتوں کی بنیاد محض احتمالات ہیں، صحیح بات وہ ہے جو حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن مجھ سے) سورج چھپ جانے کے بعد فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک یہ چلتے چلتے عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرتا ہے اور حسب عادت مشرق سے طلوع ہونے کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے اور ایسا بھی ہونے والا ہے کہ ایک روز یہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور (مشرق سے طلوع ہونے کی) اجازت چاہے گا تو اجازت نہ دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا، چناچہ سورج (واپس ہوکر) مغرب کی جانب سے طلوع ہوگا۔ پھر فرمایا کہ (وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا) (سورج اپنے ٹھکانے کو جاتا ہے) کا یہی مطلب ہے کہ (اپنے مقررہ ٹھکانے تک جا کر مشرق سے نکلتا ہے) اور فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ (بخاری و مسلم)
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سورج چلتا ہے، اپنے مستقر پر جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، آگے بڑھنے اور طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے جب اجازت ملتی ہے تو وہ آگے بڑھتا ہے اور طلوع ہوتا ہے، ایک وہ وقت بھی آئے گا جب وہ آگے بڑھنے کی اجازت طلب کرے گا تو اجازت نہ دی جائے گی اور واپس پیچھے لوٹنے کا حکم ہوگا چناچہ وہ واپس پیچھے لوٹ جائے گا۔ یہاں لوگوں نے یہ اشکال کیا ہے کہ آلات رصدیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حرکت کسی وقت بھی ختم نہیں ہوتی برابر چلتا رہتا ہے، اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ حدیث شریف کی تصریح کے بعد اس کے خلاف کوئی قول معتبر نہیں، پھر کیا یہ ضروری ہے کہ پورے عالم کا ہر ہر جگہ کا طلوع اور غروب مراد ہو، ممکن ہے کہ خاص مدینہ منورہ اور اس کے محاذی نقطہ غروب والے مقامات کا غروب مراد ہو اور یہ سجدہ والا سکون ایسا خفیف ہو جس کا آلات رصدیہ سے ادراک نہ ہوتا ہو۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے حرکت سنو یہ بھی مراد ہوسکتی ہے یعنی ہر سال کے ختم پر وہ اپنے مستقر پر جاتا ہے پھر سجدہ کرتا ہے اور طلوع ہونے کی اجازت لیتا ہے، لیکن یہ اس مفہوم کے خلاف ہے جو حدیث شریف سے متبادر ہوتا ہے۔ (واللّٰہ تعالیٰ اعلم باسرارہ ما اودع فی کتابہ)
فائدہ : سورج کا چلنا تو آیت کریمہ سے ثابت ہوا جس کا انکار کفر ہے، رہی یہ بات کہ زمین چلتی ہے یا نہیں ! اس کے بارے میں قرآن مجید ساکت ہے، اور سورة نمل میں جو (اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا) فرمایا ہے اس سے قطعی طور پر زمین کے عدم تحرک پر واضح دلالت نہیں ہے کیونکہ قَرَارًا کا ایک یہ معنی بتایا گیا ہے کہ وہ اس طرح حرکت نہیں کرتی کہ اس پر انسانوں کا رہنا مشکل ہوجائے جسے سورة لقمان میں (وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 36:39منازل قمر کا تذکرہ
یہ بتانے کے بعد کہ آفتاب کا اپنے مستقر تک جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے چاند کے بارے میں فرمایا (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمْ ) (اور ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے) یعنی جس طرح کھجور کی پرانی ٹہنی ٹیڑھی ہوجاتی ہے اسی طرح مہینے کے اول میں اور آخر میں نظر کے سامنے بظاہر خمدار نظر آتا ہے، چاند کی جو منزلیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں ترتیب کے ساتھ انہیں میں چلتا رہتا ہے۔
Ayah 36:40سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا
اس کے بعد چاند اور سورج کی رفتار اور رات دن کی آمد کے نظام بےمثال کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (لا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ ) (کہ نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ چاند کو جا کر پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے) مطلب یہ ہے کہ آفتاب رات کو محو نہیں کرسکتا، جو چاند کے منور ہونے کا وقت ہے۔
اور دن کا جتنا وقت مقرر ہے اس وقت کے ختم ہونے سے پہلے رات نہیں آسکتی، رات آگے بڑھ کر دن کا کچھ حصہ اپنے اندر لے لے اور مقررہ نظام کے خلاف دن گھٹ جائے اور رات بڑھ جائے ایسا کوئی اختیار نہ رات کو ہے نہ دن کو ہے، (وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) فلک گول چیز کو کہتے ہیں جس کا ترجمہ دائرہ سے کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ چاند اور سورج کی حرکت مستدیر ہے۔