36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 36:1–20

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائینگے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر الل رہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اے محمد ! ﷺ آپ جملہ انبیاء ومرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کئے تھے۔ جو کوئی انبیاء ومرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء ومرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہوجاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں کیونکہ آپ صفات کا ملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمد ﷺ کی رسالت، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت پر دلیل اور شہادت کے لئے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ (علی صراط مستقیم) ” سیدھے راستے پر گامزن ہیں “ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیہ نفس، تطہیر قلب اور اجر میں اضافے کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کردیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کئے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لئے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ یہ صراط مستقیم (تنزیل العزیز الرحیم) وہ راستہ ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لئے لاحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انہیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کا ملہ سے تغیر و تبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بےپایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انہیں اس کے داررحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں (العزیز) اور (الرحیم) پر ختم فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کئے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کئے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا : (لتنذرقوماً مآ انذر ابآؤھم فھم غفلون) ” تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے، لہٰذا وہ غافل ہیں۔ “ اس سے مراد وہ ” امی “ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھا گئی تھی، جہالت نے ان کو اندھا کردیا تھا اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بےوقوفی پر جگ ہنسائی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے جبکہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے اور تاکہ وہ ” امی “ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر امی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لئے عام طور پر اور عربوں کے لئے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجا سے انجام سے ڈرانے کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انداز کے بعد وہ دو گروہوں میں مقنسم ہوگئے ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے آپ کی دعوت کو رد کردیا اور آپ کے انداز کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایومنون) یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر اور اس کی مشیت نافذ ہوگئی کہ وہ اپنے کفر و شرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انہوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چناچہ فرمایا : (انا جعلنا فی اعناقھم اغلاً فھی الی الاذقان) ” بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں۔ “ (اغلال) (غل) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لئے ایسے ہی ہے جیسے پاؤں کے لئے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ (فھم مقمحون) پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سیاپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کو جھکا نہیں سکتے۔ (وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا) ” اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کردی ہے “ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ (فھم لایبصرون) ” پس وہ نہ دیکھ سکتے۔ “ جہالت اور شقاوت نے انہیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لئے انداز نہ کریں، ان کے لئے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ وہ شخص کیسے ایمان لاسکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اذار کو قبول کرلیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انما تنذر) یعنی آپ کا انداز اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی (من اتبع الذکر) ” جس نے نصیحت کی پیروی کی۔ “ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے (وخشی الرحمٰن بالغیب) ” اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے “ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیہ نفس کرسکتے ہیں، جسے ان دوامور کی توفیق بخش دی گئی (فبشرہ بمغفرۃ) تو اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوش خبری دے دیجیے (واجر کریم) اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوش خبری دے دیجیے۔ (انا نحن نحی الموتی) یعنی ہم انہیں، ان کے مرجانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ (ونکتب ماقدموا) ” اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں “ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ (واثارھم) اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر میں جنہیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے مثلاً نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، یہ سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لئے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔ بنا بریں رسول الہ ﷺ نے فرمایا : (آیت) (1) ” جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجرا سے عطا ہوگا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروں میں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا۔ جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہوگا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جب کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ “ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہوجاتی ہے۔ برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ (وکل شیء) ” اور ہر چیز کو “ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو (احصینہ فی امام مبین) ” ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے “ اس سے مراد (ام الکتب) ہے وہ تمام کاتبیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں اور وہ لوح محفوظ ہے۔ (1) صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ۔۔۔ ، ح :1018
Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کے لیے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر ہیں

آیت 21 آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کردیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لئے نصیحت ہوگی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے در پے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بےتکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سر تسلی خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طریقے سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ عمل میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لئے مثال قرار دیا۔ (اذ جآء ھا المرسلون) ” جب ان یک پاس رسول آپے۔ “ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لئے خلاص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انہیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ (اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث) ” جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے (ان کی) تائید کی “ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی چناچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہوگئی (فقالوآ) تو رسولوں نے ان سے کہا : (انا الیکم مرسلون) ” بلا شبہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔ “ اور انہوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔ (قالوا ما انتم الا بشر مثلنا ” انہوں نے کہا : تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔ “ یعنی کس بنا پر تمہیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا : (ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ) (ابراہیم :11/13) ” ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔ “ (وما انزل الرحمٰن من شیء) ” اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ “ یعنی انہوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انہوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا : (ان انتم الا تکذبون) ” تم تو جھوٹ بولتے ہو۔ “ ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : (قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون) ” ہمار رب جانتا ہے کہ یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں “ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کردیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا (وما علین الا البلغ المبین) ” اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ “ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہوجائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہماریے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کردی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کردیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کرلی تو یہ تمہارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا : (انا تطیرنا بکم) ’ دبے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ “ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارے آنے اور ہمارے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے۔۔۔ جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں۔۔۔ یہ کہا جائے کہ وہ شے لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کردیا اور وہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انہوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (لئن لم تنتھو النرجمنکم) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں رجم کردیں گے۔ “ یعنی ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے (ولیمسنکم منا عذاب الیم) ” اور تمہیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔ “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا : (قالوا طآئرکم معکم) ” تمہاری فال بد تو تمہارے ساتھ ہے “ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لئے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ (این ذکر تم) ” کیا اس لئے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ “ یعنی ہم نے تمہیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمہاری بھلائی اور تمہارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا : (بل انتم قوم مسرفون) ” بلکہ تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ “ ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ (وجآء من اقضا المدینۃ رجل یسعی) ” ار شہر کے پر لے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ “ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیر خواہی کے لئے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا : پس اس نے اپنی قوم سے کہا : (یقوم اتبعوا المرسلین) اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیر خواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا : (اتبعوا من لایسئلکم اجراً ) یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہے، جو تمہارے لئے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمہارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہوسکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لئے اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے فرمایا : (وھم مھتدون) ” اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ “ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے (قبیح) ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قوبل نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔
Ayahs 36:22–30

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا بولا کاش میری قوم کو خبر ہو

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشیں) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کرسکتی ہیں۔ اس لئے اس نے کہا : (آیت) ” اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائے تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کرسکے گا، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔ (انی اذا) ” بیشک میں سا وقت “ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو (لفی ضلل مبین) ” صریح گمراہی میں ہوں۔ “ اس کے اس تمام کلام میں ان کی خیر خواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل وبراہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا : (انی امنت بربکم فاسمعون) ” میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔ “ جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کردیا۔ (قیل) اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا : (ادخل الجنۃ) ” جنت میں داخل ہوجا “ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا (یلیت قومی یعلمون، بما غفرلی ربی) کا شچ میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کردیا (وجعلنی من المکرمین) اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا : (آیت) ” اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ “ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لئے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لئے آسمان سے فوج اتارنی پڑے (وما کنا منزلین) ” اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔ “ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لئے کافی ہے۔ (ان کانت) یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب (الا صیحۃ واحدۃ) ” مگر ایک چیخ ہی “ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا (فاذا ھم خبدون) ” تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔ “ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہوگئے۔ وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بےجان ہوگئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوقات کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ “ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔
Ayahs 36:31–32

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے

آیت 31 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہوگئیں۔ ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ آئے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ (آیت) ” اگر نیکی ہوگی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “
Ayahs 36:33–36

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کیلئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس میں چشمے جاری کر دئیے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے

آیت 33 (وایۃ لھم ) ” ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر و نشر، حساب کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزا و سزا پر دلیل ہے۔ (آیت) ” مردہ زمین “ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسا یا اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں (وجعلنا فیھا) یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے (جنت) باغات جن میں بیشمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں (وفجرنا فیھا) اور ہم نے اس میں جاری کئے یعنی زمین میں (من العیون) ” چشمے “ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے (لیاکلوا من ثمرہ) تاکہ یہ انہیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں (و) حالانکہ ان پھلوں کو (ماعملتہ ایدیھم) ” ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا۔ “ ان میں سے ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل، یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیر الرزازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جاسکتا ہے (افلا یشکرون) جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائیں، جس نے اپنے بےپایاں فضل و کریم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے، تو یہ اس ہسی کا شکر کیوں نہیں کرتے ؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کئے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کئے۔۔۔ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ کیوں نہیں ؟ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آیت) ” پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔ “ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا (مما تنبت الارض) ” زمین کی نباتات سے “ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے (ومن انفسھم) یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہری و باطنی میں تفاوت پیدا کیا۔ (ومما لایعلمون) اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہیں کی گئیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی، یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
Ayahs 36:37–40

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا رہتا ہے (یہ) خدائے غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

آیت 37 (وایۃ لھم) ” اور ان کے لئے ایک نشانی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل (الیل نسلخ منہ النھار) ” رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ “ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین مو کمنور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا، جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں (فاذا ھم مظلمون) ” پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ “ اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لئے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (والشمس تجری لمستقرلھا) سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرایا ہے۔ وہ اس سے تجاویز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختایر رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کیق درت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ (ذلک تقدیر العزیز) ” یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔ ‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا (العلیم) ” جاننے والا ہے۔ “ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لئے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔ (والقمر قدرنہ منازل) اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔ “ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے (حتی) یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہوجاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے (کالعرجون القدیم) ” پرانی ٹہنی کی طرح “ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہوجاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہوجاتی ہے۔ (وکل) ” اور ہر ایک “ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے، کوئی اس سے تجاوز نہیں کرسکات۔ ہر ایک کے لئے وقت مقرر ہے۔ جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہوجاتاے، بنا بریں فرمایا : (لا الشمس تنبغی لھا ان تدر کالقمر) ” سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے “ یعنی اس کی بادشاہی میں، جو رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہے۔ (ولا الیل سابق النھار) ” اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی “ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔ (وکل ” اور ہر ایک “ یعنی سورج، چاند اور ستارے (فی فلک یسبحون) ” سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آجا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔