36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 36:1

یٰسٓۚ Open ayah 36:1 in the Quran reader

یا۔ سی ... ن

یس حروف مقطعات میں سے ہے ‘ نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام بھی : 1۔ یس کوئی لفظ نہیں بلکہ دو الگ الگ حروف ہیں یا ۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ ن اور یہ اسی طرح حروف مقطعات سے ہے جس طرح قرآن کریم کی بعض سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں ، یہ کل 29 سورتیں ہیں جن کے شروع میں حروف مقطعات بیان ہوئے ہیں اور انہی 29 سورتوں میں یہ سورت بھی شامل ہے جس طرح طہ کو بھی رسول اللہ ﷺ کا ایک نام بتایا گیا ہے پھر جس طرح طہ کو اس سورت کا نام بھی تسلیم کیا گیا ہے اس طرح یس کو بھی اس سورت کا نام بتایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے یہ بھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے لیکن اس کو مشہور ننانوے اسماء میں شامل نہیں کیا گیا ۔ مفسرین نے اس نام پر بہت کچھ ہی بحث کی ہے لیکن ہم اس سورت کو قرآن کریم کا دل کہنے ‘ ماننے اور تسلیم کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس سورت کے متعلق یہی صحیح احادیث میں آیا ہے اور اسی نام سے سورت کو شروع کیا گیا ہے ۔
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قرآن (کریم کے رب ) کی قسم

حکمت بھرے قرآن کریم کے رب کی قسم اٹھا کر بات کو پختہ کیا گیا ہے : 2۔ عربوں کے رواج کے مطابق بعض حروف قسمیہ بتائے گئے ہیں جیسے ب اور ت اسی طرح واؤ بھی قسمیہ حروف میں شامل ہے اور بعض اوقات لا کو بھی قسمیہ تسلیم کیا جاتا ہے ، اس جگہ (والقرآن) کی واؤ بھی قسمیہ تسلیم کی گئی ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم کے لفظ سے قبل رب کا لفظ محذوف تسلیم کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکمت والے قرآن کریم کے رب کی قسم آنے والی بات جس پر قسم اٹھائی گئی ہے بالکل صحیح اور بغیر کسی شک وشبہ کے سچ ہے ، سچی ‘ صاف اور سیدھی بات کو قسم سے مزید پکا کرنا فطرت انسانی میں سے ہے جس سے قرآن کریم نے منع نہیں فرمایا بلکہ تاکید کی ہے کہ قسم جب بھی کھاؤ تو اللہ کی کھاؤ اور سوفیصدی سچی بات پر کھاؤ اور بات بات پر قسم اٹھانے کی عادت ترک کر دو ۔ کوئی اشد ضرورت پڑے تب ہی قسم کھاؤ ۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بلاشبہ آپ ﷺ (اے رسول ﷺ پیغمبروں میں سے (ایک) ہیں

قسمیہ طور پر کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے : 3۔ مخاطبین اول نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کو نہیں مانتے تھے اور صرف یہی نہیں کہ مانتے نہیں تھے بلکہ شدت سے انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے ، ان کے اس انکار کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی ذات کی قسم کھا کر جس طرح قرآن کریم کو آپ ﷺ پر نازل فرمایا اس کی تصدیق فرمائی کہ یہ کلام بھی عین حکمت الہی ہے اور اس کلام کے بھیجنے والا بھی اللہ ہے اور جس پر قرآن کریم نازل کیا گیا وہ بھی یقینا اللہ کا رسول ہے اس جگہ صرف اشارہ کیا ہے اور وہ بلاشبہ مضبوط کرنے کے لئے قسمیہ طور پر کیا ہے اور دوسری بہت سی جگہوں پر اس مضمون کو نہایت وضاحت سے بھی بیان کیا ہے تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 15 ‘ 16 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 88 ‘ جلد ششم سورة القصص کی آیت 42 ‘ 45 ملاحظہ کریں اور خصوصا سورة الشوری میں اس کی وضاحت آئے گی ، انشاء اللہ ۔
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

(آپ ! ﷺ سیدھے راستے پر (گامزن ہیں)

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے : 4۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی رسالت کو جب قسمیہ بیان کیا گیا تو ظاہر ہے کہ یہ اس لیے تھا کہ قوم کا اور رسول اللہ ﷺ کا راستہ الگ الگ ہوچکا تھا ۔ قوم شرک میں لت پت تھی اور ایک دو کو کیا سینکڑوں اور ہزاروں کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتی تھی ‘ کوئی بارش برسانے والا بزرگ تھا تو کوئی اولاد دینے والا کوئی مردے زندہ کرنے والا تھا تو کوئی دھوپ روشن کرنے والا ۔ گویا بالکل ان کی یہی صورت تھی جو اس وقت ہماری قوم کی اکثریت یا سواد اعظم کی ہے اگر فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بزرگوں کی یاد تازہ کرنے کے لئے اور ان کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے ان کے مخصوص تھانوں پر حاضری دینے کے لئے بت تراشے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں یہ فرق رکھا گیا ہے کہ بتوں کی بجائے انہی قبروں کے ساتھ یہ عقیدت رکھتے ہیں جن میں سمجھتے ہیں کہ ہمارے بزرگ یہاں دفن کیے گئے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا اختلاف تھا جو مکہ والوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی راہوں کو الگ الگ کردیتا تھا کہ آپ ﷺ کی تعلیم میں سرفہرست چیز ہی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں جو حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کے قابل ہو بلکہ یہ کہ تمہارا حاجت روا اور مشکل کشا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ۔ اسی طرح قرآن کریم کو آپ ﷺ کی رسالت پر بطور گواہ پیش کیا گیا اور یہی وہ سب معجزات سے بڑا معجزہ ہے جو اس وقت سے لے کر اس وقت تک زندہ وجاوید اور اپنی جگہ پر بدستور اسی حالت میں قائم ہے اور رہتی دنیا تک زندہ وجاوید اور اپنی جگہ پر بدستور قائم رہے گا اور بلاشبہ یہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر فضیلت کا بھی باعث ہے جو فضیلت ابدالاباد قائم ودائم رہے گی ۔ آپ اچھی طرح غور کریں اور یہود ونصاری دونوں قومیں موجود ہیں ان کے مذہبی احبارو رہبان ‘ پوپ وپادری موجود ہیں ‘ ان دونوں قوموں کا مذہبی لٹریچر موجود ہے اور ان دونوں کا نام محض ان کی تعداد کے پیش نظر لیا جا رہا ہے ورنہ حقیقت میں سارے مذاہب کو چیلنج ہے کہ کسی رسول کی کتاب ‘ کسی رسول پر اس طرح کی گواہ نہیں بنائی گئی جس طرح قرآن کریم کو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر شاہد قرار دیا گیا اور جس طرح اس کتاب الہی کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے اٹھائی اس طرح کسی کتاب الہی کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ دی گئی اور یہی وہ معجزہ ہے جس نے سابق انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے سارے معجزات کو اس طرح ڈھانپ کر رکھ دیا ہے جس طرح سورج کے طلوع ہونے سے آسمان کے سارے ستارے اور چاند وغیرہ ڈھانپے جاتے ہیں کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ : ع : آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری : کیوں نہ ایسا ہوتا جب کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت و رسالت کے عہدہ خداوندی کو ختم کردیا گیا تھا تو ضرور ایسا معجزہ بھی دیا جانا لازم تھا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید رہے اور جس کو دنیا کے آنے والے لوگ بھی دیکھتے رہیں اور جدید سے جدید دور آتے رہیں لیکن اس کی آب وتاب بدستور سب کے سامنے اسی طرح قائم ودائم رہے ۔ سائنس کتنی ترقی کرتی جائے علوم قرآنی سے آگے نہیں بڑھ سکتی قرآن کریم کی وضاحت ہی پیش کرسکتی ہے اور یہ قانون قدرت ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور وہ تھیوری (Theory) ہے جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات ہے اور سائنس کیا ہے ؟ اس کائنات کی ان اشیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں معلوم کرنا اور ان کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ان سے فوائد حاصل کرنا اس لئے یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ دراصل تھیوری (Theory) پہلے ہوتی ہے اور تشریح اس کی بعد میں کی جاتی ہے اور یہ بھی کہ لوگوں کی تخلیق کی گئی تھیوریاں ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار بدلی جا چکی ہیں لیکن قرآن کریم کی تھیوری بدستور اپنی جگہ پر قائم ہے ۔ آج تک جب بھی کہیں سائنس اور قرآن کریم کی تھیوری کا آپس میں ٹکراؤ ہوگیا تو قرآن کریم ہی کی تھیوری نے فتح پائی اور قیامت تک یہی ہوتا رہے گا ۔ تفصیل کا یہ موقع ومحل نہیں انشاء اللہ اس کی وضاحت اپنے مقام پر ہوگی ۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ اس کا چیلنج کرتے ہیں کہ جیسے جیسے علم ترقی کرے گا قرآن کریم کی صداقت نکھرتی چلی جائے گی ۔ بلاشبہ یہ حق ان سچے مسلمانوں کا تھا کہ وہ علم میں ترقی کرکے اور اپنی منزل کو آسمانوں سے بھی اوپر تک لے جا کر یہ بات ثابت کرتے لیکن مسلمانوں نے جب اس سے منہ پھیرلیا تو اس نے اپنی دوسری مخلوق کو جو غیر مسلم تھی اس کام پر لگا دیا کوئی مانے نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے خالق ہرچیز کا وہی ہے اور مالک بھی ہرچیز کا وہی ہے اور اس کی مثالیں پہلے موجود ہیں کہ جب کوئی انسان بھی ایک کام کو سرانجام دینے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ قادر وقدیر اور مالک وملیک اپنی کسی بھی مخلوق سے جو کام لینا چاہئے وہ لے سکتا ہے اور اس کے لئے اس کے بنائے قانون میں پوری پوری گنجائش موجود ہے بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا بھی ہو ۔ تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین اور مذہبی ٹھیکہ دار جہاں گنجائش نہیں رکھی گئی اور نہ ہی اس گنجائش کی کوئی ضرورت ہے وہاں تو گنجائش نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ نے خود گنجائش رکھی ہے وہاں اس گنجائش کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ ( قرآن کریم) غالب آنے والے پیار کرنے والے (اللہ) نے نازل کیا ہے

یہ قرآن حکیم غالب آنے والے پیار کرنے والے اللہ نے نازل کیا ہے : 5۔ یہ قرآن کریم کی تحدی ہے جس کو ہمارے ہاں چیلنج کے نام سے بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے ہوا ہے اور اگر غور کرو گے تو تم کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ یہ چیلنج کوئی معمولی چیلنج نہیں ہے کیونکہ ایک امی قوم کے امی انسان کی طرف ایسے پر حکمت کلام کا نزول ہی منجانب اللہ ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے اور اتنی بڑی شہادت ہے کہ اس سے بڑی کوئی دلیل یا شہادت ہو ہی نہیں سکتی کہ یہ باتیں اس امی انسان کے منہ سے نکل رہی ہیں جس نے آج تک کسی انسان سے ایک حرف تک نہیں سیکھا اور کسی استاد کے سامنے تہ زانو نہیں ہوا اور اس پر ایسے کلام کا نازل ہونا کیا فی نفسہ اتنی بڑی دلیل نہیں کہ اس سے بڑی اور کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ؟ بلاشبہ اس سلسلہ میں یہ ایک بہت بڑی اور واضح دلیل ہے ۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ (اے پیغمبر اسلام ! ) ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

آپ ﷺ ان لوگوں کو ڈرانے کے لئے آئے جن کے پاس مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا : 6۔ عربوں کے پاس براہ راست کوئی قومی نبی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد آپ کے بیٹے اسماعیل کے سوا کوئی نہیں آیا اور ان دونوں نبیوں اور رسولوں کو یہ لوگ عرب نہیں بلکہ مستعربہ قرار دیتے ہیں اور پھر جو عرب نبی ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ یا اس علاقہ کی کسی بستی میں نہیں آئے تھے اگرچہ وہ بھی ایک بہت مدت پہلے کی بات تھی بہرحال ان لوگوں کے ہاں ایک مدت سے براہ راست کوئی رسول ونبی نہیں آیا تھا اس لئے ان لوگوں کو بھی اور ان کے آباء و اجداد کو بھی غافل کہا گیا لیکن بہرحال ان کی چاہت ضروری تھی کہ ہمارے پاس بھی کوئی نبی ورسول آئے ان کی اسی چاہت کا ذکر پیچھے سورة الانعام کی آیت 109 میں گزر چکا ہے پھر جب ان کے پاس وہ نبی ورسول آگیا تو انہوں نے اس کو دیکھ کر ‘ آزما کر اس کا انکار کردیا اور اتنا سخت انکار کیا کہ اس سے پہلے کسی قوم نے بھی اتنی زبردست مخالفت نہیں کی ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ کیا قتل کرنا مخالفت نہیں ؟ بلاشبہ مخالفت ہے لیکن فتنہ و فساد قتل سے زیادہ سخت چیز ہے قرآن کریم نے خود ارشاد فرمایا کہ (الفتنۃ اشد من القتل) فتنہ و فساد قتل سے بھی بہت بری چیز ہے اور فتنہ پردازوں نے آپ ﷺ کی مکی زندگی میں اس کی کوئی کمی نہیں کی بلکہ تیرہ سالوں میں برابر اس کو بھڑکاتے ہی رہے ۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

بیشک ان میں اکثر لوگوں پر یہ بات (ان کے اعمال کے باعث) ثابت ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے

اکثریت پر یہ بات صادق آئے گی کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں : 7۔ انداز بیان پر غور کرو کہ وہ انداز خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پہلے انبیاء کرام جن جن بستیوں ‘ قوموں اور علاقوں کی طرف بھیجے گئے ان کی بھی یہی حالت رہی کہ ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ ہوئی بلکہ اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت ہی نے اس نبی ورسول کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا اور اس طرح جو بات پیچھے ہوتی چلی آرہی تھی وہی اب بھی ہوگی کہ ان لوگوں کی اکثریت بھی ایمان لانے والی نہیں ہے اور اس طرح گزشتہ قوموں والی بات ان پر بھی صادق آئے گی اور فی الواقع وہی ہوا لیکن آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ قدرت نے مقصود اصل کو اضافات سے بہت ہی کم رکھا ہے اور قانون قدرت کی خلاف ورزی ممکن ہی نہیں اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہر وہ فیصلہ اور ہر وہ بات جس میں صرف اور صرف اکثریت کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہو وہ کبھی صحیح نہیں ہو سکتا ۔ یہی وہ مقصود اصل تھا جو سمجھانے کے لئے اللہ نے انبیاء ورسل کو بھیجا اور ان کی قوموں کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کرکے اس کی تفہیم کرائی گئی اور یہی وہ مقصود اصل تھا جس کو سمجھانے کے لئے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا اور آپ ﷺ کی زندگی کا ایک ایک حرف لوگوں کے سامنے رکھ کر اس کا خوب مشاہدہ کرایا گیا قرآن کریم نے اس اصل عظیم کو بار بار دہرایا پھر اس پر جتنے اعتراضات وارد ہو سکتے تھے ان کو خود وارد کر کے ان کے جواب دیئے گئے اور بات کو تصریف آیات کے ذریعہ اس طرح باور کرایا گیا کہ شاید ہی کسی اور موضوع کو اس قدر مثالیں دے کر بیان کیا گیا ہو جتنا کہ اس کو بیان کیا گیا اگر اس کی تفصیل کی جائے تو اس کے لئے ایک دفتر درکار ہے لیکن اشارات کیے جاسکتے ہیں اور وہ ہم نے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 116 کے زیر عنوان ص 521 سے 534 تک بیان کیا ہے ۔ اشارات کو وہاں سے دیکھ لیں اور ان آیات کی وضاحت سمجھنے کے لئے محولہ آیتوں کی تفسیر کو پڑھیں جو عروۃ الوثقی کی جلدوں میں 85 مقامات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مذہبی پیشواؤں نے قرآن کریم کی ان آیتوں سے بالکل ہی منہ موڑ لیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ قوم مسلم کے سیاسی لیڈروں نے مل کر عیسائیوں اور یہودیوں کی پیروی کو قرآن کریم اور رسول مکرم ﷺ کی پیروی پر ترجیح دے دی اور قرآن ورسول کی پیروی کا پٹا اتار کر یہود ونصاری کی پیروی کا پٹا پہن لیا اور اس طرح انہوں نے اپنی سیاست کے بل بوتے پر حکومت کی باگ ڈور سنبھال کر اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے شروع کردیئے اور ان کے سارے سیاسی فوائد کا نچوڑ اور ماحصل دولت تھا اس پر انہوں نے کنٹرول حاصل کرلیا ‘ کسی بھی قوم کا اگر ایک طبقہ سیاسی ہوتا ہے تو دوسرا مذہبی بھی ہوتا ہے ہمارے سیاسی لیڈروں نے اس مذہبی طبقہ کے حقوق بھی فی الواقع غصب کرلیے اور ان کو اپنے اصل حق سے بھی محروم کردیا اب اس مذہبی پیشواؤں کے طبقہ نے چونکہ فرقہ بندی کی لعنت کو پہلے ہی اپنے سر اٹھا لیا ہوا تھا ان کو پورا یقین ہوگیا کہ ہمارے سروں کا یہ بوجھ ہم کو کبھی اپنا حق وصول نہیں ہونے دے گا تو انہوں نے مل کر ان سیاسی لیڈروں سے اپنا حق وصول کرنے کی بجائے ان کی پیروی کرچکے تھے جب مذہبی پیشواؤں نے ان کی پیروی شروع کی تو مطلب اور بھی واضح اور صاف ہوگیا کہ اب مذہبی پیشوا یہی چاہتے ہیں کہ وہ فوائد اسی طرح ہم بھی حاصل کریں جس طرح سیاسی لیڈروں نے حاصل کیے تو اس طرح وہ بھی اپنے اپنے مذہبی فرقے اور مذہبی گروہ بندی کے لیڈر بن گئے اور انہی سیاسی لیڈروں کے ساتھ مل بیٹھے اور اب وہی ہتھ کنڈے جو خالص سیاسی لیڈروں کے تھے ان ناخالص لیڈروں نے بھی اختیار کرلیے ہاں ! اگر یہ ناخالص کا لفظ آپ کو پسند نہ آئے تو ان کو آپ مذہب زدہ سیاسی لیڈر کہہ لیں تاکہ مذہب کا نام بھی ساتھ ساتھ رہے اس طرح اگر پہلے ایک قلندر تھے تو یہ دوسرا ڈیڑھ قلندر ہوگئے اور قوم کا محافظ ونگہبان اللہ ہی ہے اور یقینا وہی اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو کوئی نتیجہ سامنے آئے گا لیکن اس کی حکمت کے تقاضے وہی جانتا ہے کہ کسی جرم کو کتنی مدت تک ہونے دینا ہے اور تب اس کے ہاتھ کو حرکت آنا ہے وہی اس کی مدت کو اور وہی اس کی حقیقت کو جانتا ہے ۔ ولا یظھر علی غیبہ احدا “۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے (گمراہی اور شیطان کی غلامی کے) طوق ان کی گردنوں میں ڈال دیئے جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں پس ان کے سر پھنس کر رہ گئے ہیں

ان کے گلوں کے طوقوں کو دیکھو جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں : 8۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان معاندین و مخالفین کی گردنوں میں ہم نے اپنے قانون مشیت کے مطابق ” طوق “ ڈال دیئے ہوئے ہیں یعنی ان کے تکبر اور ان کی نخوت کا یہ عالم ہے کہ ان کے بار بار اکڑنے اور تکبر کرنے کے باعث ان کی گردنیں اب اس طرح اکڑ چکی ہیں کہ وہ نیچے کی طرف دیکھ نہیں سکتے ‘ ان کی گدیوں میں شیطان موت گیا ہے اور انہوں نے اس کو پیار کی نشانی قرار دے دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کو شیطان سے پیار ہو اس کے ” لاہود “ کی اکڑاؤں کبھی ختم نہیں ہوتی مگر ہاں اس وقت جب اللہ کا ہاتھ بڑھ کر اس کو اس کی اکڑی ہوئی گردن سمیت پکڑ لے اور اس بات کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ قرآن کریم نے جو ان کی حالت بیان کی ہے اس پر ذرا مزید غور کرو فرمایا (فھم مقمحون) اور (قمح) کا لفظ عرب اسی وقت بولتے ہیں جب وہ اونٹ کو حوض پر لے جاتے ہیں تاکہ وہ خوب پانی پئے لیکن اونٹ اس حوض اور اس کے پانی کی طرف دیکھتا تک بھی نہیں اور یہی حالت اونٹ کی اس وقت ہوتی ہے جب اس کی نکیل کو پیچھے کھینچ کر اس کو سر کے پیچھے لے جانے کے بعد جب ان کے پالان سے اس کو باندھ دیا جاتا ہے تو وہ اپنا سر آگے نہیں لاسکتا اور ظاہر ہے کہ اس جگہ بطور تشبیہہ اور استعارہ ہی کے یہ لفظ بولا گیا ہے اور یہ بات عام ہماری بول چال میں بھی کہی جاتی ہے کہ فلاں آدمی اب نیچے کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتا ۔ اس نے کبھی نیچے دیکھا ہی نہیں وہ اوپر ہی اوپر کو دیکھتا ہے اور اس جگہ مطلب یہ ہے کہ ان کو ہم نے اس تالاب کے کنارے لاکھڑا کیا ہے جس تالاب میں سوائے ہدایت کے اور کوئی چیز ہی نہیں کہ یہ ذرا اس کی طرف توجہ کریں تو ہدایت کو پہنچ جائیں لیکن انہوں نے اس طرح ہدایت حاصل کرنے بلکہ اس کی طرف دیکھنے سے بھی انکار کردیا کہ گویا اس کو قبول کرنا تو درکنار وہ ہدایت کے چشمہ کو دیکھ بھی نہیں سکتے ، ان طوقوں کا ان کی ٹھوڑیوں تک ہونے کا مطلب بھی تشبیہہ یہی ہے کہ وہ اپنے سروں کو بالکل نہیں جھکا سکتے یعنی حق کی طرف اور ہدایت کی طرف وہ دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ قومی رسم و رواج ‘ خاندانی نخوت وتکبر ‘ دولت واقتدار کا نشہ ‘ وعزت ووقار کا بھوت ان کے سروں پر سوار ہے اور ہم چوما دیگرے نیست کی ڈینگیں وہ مار رہے ہیں ، مذہبی پشوائیت اور سیاسی لیڈری کے نشہ نے ان کو بدمست کردیا ہے پھر اونٹ بھی ہو اور مست بھی تو ظاہر ہے کہ اس پر وہی ہاتھ ڈال سکتا ہے جو اس کا مالک ہو آپ اور میں تو اسی میں نجات سمجھیں گے کہ ہم خیریت سے گزر گئے ۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار اور پیچھے بھی ایک دیوار بنا دی ہے پھر ہم نے ان کو اوپر سے بھی ڈھانپ دیا (یہ ان کے کفر کی حالت میں پختہ ہونے کا بیان ہے) پس (اب) ان کو کچھ نہیں سوجھتا

ہمارے قانون مشیت نے ان کو آگے اور پیچھے سے روک کر اوپر چادر ڈال دی ہے : 9۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کو اپنی وقتی حالت پر اتنا نشہ ہے کہ وہ نہ آگے کو دیکھنے کے لئے تیار ہیں اور نہ پیچھے کو بلکہ یہ بدحال اپنے حال میں مست ہیں اور موجودہ حالت میں وہ نہ اس بات کو دیکھنے کے لئے تیار ہیں کہ وہ کس حقیر پانی سے تخلیق کیے گئے ہیں اور نہ اپنے طریقہ تخلیق کی طرف کبھی ان کو دھیان آیا ہے اور نہ ہی ان کو وہ وقت یاد ہے جو اس دنیا میں قدم رکھنے کا تھا گویا غفلت نے ان پر اس طرح پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ ساری طرفوں سے اس وقت رکے پڑے ہیں اور اپنی موجودہ حالت میں مگن ہیں نہ بڑھاپا ان کو یاد ہے اور نہ موت ۔ بس موجودہ زندگی کی ایک چادر ہے جو انہوں نے اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہے اور چادر سے باہر کی دنیا کو یہ لوگ ابھی دیکھنے کے موڈ میں ہی نظر نہیں آتے بلاشبہ یہ باتیں ان ہی کے افعال کے نتیجہ میں ہو رہی ہیں لیکن مشیت الہی سے تو باہر نہیں ۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو آپ ﷺ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے لیے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں : 10۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو تعلیم کرنا چھوڑ دیا جائے اور ہدایت ان کے سامنے پیش ہی نہ کی جائے یا یہ اتنے زور آور ہیں کہ اللہ میاں کے پاس ان کی ہدایت کی کوئی صورت نہیں یا اتنے منہ زور ہیں کہ اللہ کا قانون ان پر گرفت کر ہی نہیں سکتا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانا نہ لانا ان لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے آپ ﷺ پر ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے کوئی گرفت نہیں اور ان کی حالت ایسی ہے جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا آپ ﷺ ان کی حالت کے باعث دل تنگ نہ ہوں اور ہمارے قانون امہال سے آپ ﷺ بیزار نہ ہوں ان کی ہر حالت ہمارے قانون مشیت کے تحت ہے اور اس حکمت کو ہر آدمی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ہر آدمی کو اتنا ظرف نہیں ملا اس طرح گویا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے سارے لوگوں کو بات سمجھائی گئی ہے ۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ ﷺ تو صرف اور صرف اس کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرنے اور بن دیکھے اللہ سے ڈرنے والا ہو ، پس آپ ﷺ اس کو مغفرت اور بڑے درجہ کے اجر (ثواب) کی بشارت (سنا) دیجئے

آپ ﷺ اپنا کام تنذیر وتبشیر کرتے جائیں نصیحت قبول کرنا ان کی ذمہ داری ہے : 11۔ قرآن کریم ہم نے انسانوں کی ابدی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے جو شخص اس ابدی ہدایت کی تابعداری اور پیروی کرے گا وہی ہدایت یافتہ ہوگا اور وہی رحمن کا ڈر اور خوف اپنے دل میں رکھتا ہوگا پھر جو ہدایت کی پیروی کرکے سیدھی راہ اختیار کرتا ہے آپ ﷺ اس کو بخشش کی خبرسنا دیں اور بلاشبہ اس کا اجر ہمارے ہاں محفوظ ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اس پر اتاری گئی ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ صرف یہی نہیں کہ وہ تسلیم نہیں کرتا اس سے آگے بڑھ کر وہ غیروں کی پیروی کرتا ہے اور اس طرح اللہ کے مقابلہ میں گویا وہ ڈٹ رہا ہے تو پھر پہاڑ سے ٹکر لے کر وہ خود ہی پاش پاش ہوجائے گا پہاڑ کا آخر نقصان ؟ ذرا غور تو کریں اے مخاطب ! کہ آخر یہ دنیا کی زندگی چیز کیا ہے جس پر وہ اتنا مفتون ہوچکا ہے کہ وہ نظر اٹھا کر دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے کیا وہ نہیں جانتا یا سمجھتا کہ چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ہے ۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی وہ سب کچھ لکھتے جاتے ہیں جو (اعمال) یہ لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے اثرات (جو مرتب ہوتے ہیں) اور ہم نے ہرچیز کو ایک روشن کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ دیا ہے

ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو انہوں نے آگے بھیجا ہے اس کو لکھ بھی رہے ہیں : 12۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کفر کی موت ہوؤں کو بھی ہم زندہ کردیتے ہیں اپنے قانون کے مطابق کہ اگر وہ کفر سے نکلنا چاہتے ہیں اور اسلام کی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو ہماری ہدایت تو ان کے لئے ہر وقت تیار ہے اور آپ ﷺ کو اس زندگی کے لئے بھیجا گیا اور آپ ﷺ سے پہلے بھی اسی مقصد کے تحت آئے تھے نہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں میں ہم نے ہدایت دی تھی کہ وہ چاہے جس کو ہدایت دے دیں اور نہ ہی آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا ہے یہ لوگ اچھا یا برا جو کچھ بھی کریں گے وہ محفوظ کیا جا رہا ہے انہی سے وہ نکلیں گے جو قرآن کی روشنی کو قبول کریں گے اور انہی سے وہ بھی نکلیں گے جو ستاروں پر کمند ڈالیں گے اور انہی سے وہ بھی نکلیں گے جو اپنے پیچھے اچھا نام اور اچھا کام چھوڑ کر جائیں گے اور ان ہی میں وہ بھی ہیں جو قیامت کے روز دوزخ کے ایندھن کا کام دیں گے اور انہی میں ہیں جن کو اس آگ میں بھونا جائے گا ، ہم کو چونکہ سب کچھ نظر آرہا ہے اس لئے ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ان کو مہلت پر مہلت دیئے جا رہے ہیں اور ہمارے مخاطبین کو یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے آپ ﷺ کو بھیجا ہے کہ آپ ﷺ ان کو اطمینان دلائیں کہ اپنا کام کرو اور دیکھتے جاؤ کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ، پھر کچھ زیادہ دیر نہ لگی کہ لوگوں نے ان آنکھوں سے دیکھا کہ جن کو کفر پر مارنا تھا وہ کفر پر مرے اور جن کو ایمان قبول کرنا تھا بلاشبہ ایمان قبول کیا اور پھر وہ زندگی بھی ان کو نصیب ہوئی کہ مردہ عرب ایک بار پھر زندہ کردیا گیا اور یہ سب کچھ خود اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نے اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھا اور آپ ﷺ کو مخاطب کرکے خوشخبری سنائی گئی کہ (آیت) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا “۔ بلاشبہ وہ وقت آیا کہ اللہ کی مدد پہنچی اور لوگوں نے فتح کو آپنی آنکھوں سے دیکھا اور لوگ بھی فوج درفوج اور گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوئے اور پھر ان کا جو مال اور نتیجہ تھا وہ بھی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خود رسول اللہ ﷺ نے اس کے ترانے گائے اور حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے خطبہ شروع کرتے ہی شہادتین کے بعد فرمایا : لا الہ الا اللہ وحدہ انجزوعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ ” وہ اللہ جس کے سوا عبادت کے کوئی بھی لائق نہیں ہے بلاشبہ وہ ایک اور صرف ایک ہے اس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اس نے اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور اس نے خود اپنی تمام فوجوں کو شکست دی ۔ “ غور کرتے جاؤ کہ آپ ﷺ نے جن لوگوں کو مخاطب فرمایا وہ کہیں آسمان سے اترے تھے ؟ کیا انہوں لوگوں میں سے نہ تھے جو کفر کی موت مر چکے تھے ؟ پھر کیا کفر کو موت کہا جاتا ہے یا نہیں ؟ قرآن کریم نے ہزار بار کفر کو موت کہا اور اسلام کو زندگی ‘ اور یہی وہ مردے ہیں جن کو زندہ کرنے کے لئے عیسیٰ (علیہ السلام) بھی آئے اور پھر جن کو اللہ نے چاہا ان کو وہ زندگی اختیار کرنے کی توفیق بھی دی جو زندگی سراسر اسلام ہی کی زندگی تھی لیکن ہمارے مفسرین نے اس کو کیا سے کیا بنا دیا ۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کیجئے کہ جب ان کے پاس (ہمارے) بھیجے ہوئے آئے

اے رسول ! آپ ﷺ ایک بستی کی طرف ہمارے بھیجے ہوئے جو گئے تھے ان کا ذکر ان کو سنائیں : 13۔ یہ ذکر سب سے پہلے کن لوگوں کو سنانے کا حکم دیا تھا ؟ اس کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ کو پھر کیا مکہ والوں نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ بستی کون سی بستی تھی اور کون کون رسول اس کی طرف بھیجے گئے ؟ دو پہلے اور ایک بعد میں کیوں آیا ؟ پھر یہ کہ ان کا واقعہ ہم کو کیوں سنانے جا رہے ہو ؟ اس طرح ایک ایک تفسیر کا مطالعہ کرتے جاؤ سب تفاسیر میں ایسے سوال درج ہیں لیکن کسی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ یہ سوال مکہ کے مشرکوں نے اٹھائے تھے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ مخاطبین اول بہرحال اس واقعہ سے خوب اچھی طرح واقف تھے اور واقفین حال سے اس تفصیل کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آئی اور نہ ہی واقف حال اس طرح کے سوال اٹھاتے ہیں ۔ ہاں ! بعد میں آنے والوں نے اس بستی کے متعلق سوال اٹھایا اور ان کو اس وقت لوگوں نے جواب بھی دے دیا جو دے دیا لیکن پھر مزید بعد میں آنے والے اس تحقیق میں لگ گئے کہ آخر یہ بستی کون سی تھی ؟ اور کون رسول ان کی طرف آئے تھے ؟ ـ پھر کسی نے ان دو رسولوں سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو لیا اور تیسرے کے ذکر کو انہوں نے گول کردیا ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے مراد لے لئے ؟ تو انہوں نے فورا جواب دیا کہ وہ بذاتہ اس سے مراد نہیں ہیں بلکہ ان کی قوموں نے عربوں کو رام کرنے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں ۔ پہلے یہودیوں نے کوشش کی اور بعد میں عیسائیوں نے لیکن مکہ کے لوگ اتنے سخت تھے کہ انہوں نے ایک نہ مانی اس لئے ان دونوں نبیوں کی قوموں کو سمجھانے کو نبیوں کا سمجھانا مراد لیا گیا ۔ صاحب علم سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ تفسیر بیان کرنے والے کون ہیں اور انہوں نے کس انداز سے قوم مسلم کو ایک نظریہ دینے کی کوشش کی ، رسول اور نبی سے مراد کبھی قوم کے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ ذرا گہرائی میں جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قوم کو نبی ورسول یا نبی ورسول کہلانے وال کو قوم مراد دینے سے کیا فائدہ ہوتا ہے اور کس کو ہوتا ہے ؟ بعض مفسرین نے اس بستی سے مراد انطاکیہ کی بستی لی ہے اور انطاکیہ شام میں ہے اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو حواریوں کو وہاں بھیجا اور تیسرے کو بعد میں روانہ کیا اور انطاکیہ والوں نے ان تینوں حواریوں کو مارا پیٹا اور ان کے ساتھ بہت ظلم و زیادتی کی اور اس بستی سے مراد انہوں نے انطاکیہ کو لیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواریوں کو رسول بنا کر قوم کو یہ نظریہ پیش کیا کہ اللہ کی کتاب میں ان نبیوں اور رسولوں کے علاوہ بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے خود بنی ورسول بنا کر مبعوث نہ فرمایا ہو نبی یا رسول کہا جاسکتا ہے کیونکہ نبی کے معنی خبر دینے والا اور رسول کے معنی پیغام پہنچانے والا کے ہیں ۔ یہ نظریہ کن لوگوں کو فائدہ دیتا تھا اور انہوں نے کیوں اس طرح کی تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی ؟ بلاشبہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے ۔ ہم بھی ایک بات پوچھنا چاہتے ہیں اپنے زمانہ کے مفسرین سے جو رخصت ہوگئے ‘ ان کے حواریوں سے اور جو موجودہ ہیں براہ راست ان سے کہ آخر اللہ میاں کو اس بستی اور نبیوں اور رسولوں کا نام نہیں آتا تھا اس لئے اس نے اس کی وضاحت نہ کی اور صاف صاف نہ کہہ دیا کہ یہ فلاں بستی تھی اور فلاں فلاں رسول اس بستی کی طرف بھیجے گئے تھے کہ بعد میں آنے والے مفسرین کو یہ کوشش کرنے اور اس کا کھوج نکالنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ؟ ہم نے یہ سوال کیوں پوچھا ؟ اس لئے کہ ہمارے مفسرین ہم سے پوچھتے ہیں کہ ” جو لوگ قرآن کریم کو اللہ کا کلام مانتے ہیں اور پھر مسیح (علیہ السلام) کے متعلق یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ولادت حسب معمول باپ اور ماں کے اتصال سے ہوئی تھی وہ دراصل ثابت یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اظہار مافی الضمیر اور بیان مدعا کی اتنی قدرت بھی نہیں رکھتا جتنی خود یہ حضرات رکھتے ہیں ۔ “ ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارے مفسرین جو آپس میں الجھ گئے اور کوئی کسی بستی کو قرار دیتا ہے اور کوئی کسی بستی کو اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کا حال سورة یس کی آیت 13 سے 32 تک بیس آیتوں میں بیان کیا اور کہیں اس بستی کا اور اس بستی کی طرف آئے ہوئے رسولوں کا ذکر نہ کیا کہ وہ بستی کون سی تھی اور وہ رسول کون سے تھے ؟ کیا اللہ میاں کو اظہار مافی الضمیر اور بیان مدعا کی اتنی قدرت بھی نہیں جتنی ان ہماری مفسرین کو ہے حالانکہ قرآن کریم نے بیسیوں نبیوں اور ان کی بستیوں کا ذکر کیا ہے اور کسی بستی کے بارے میں ‘ کسی رسول کے بارے میں ان کو ابہام نہیں ہوا جتنا اس بستی کے بارے میں وہ ٹکریں مارتے پھر رہے ہیں اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا لہذا کوئی کسی بستی کا ذکر کرتا ہے اور کوئی کسی کا نام لیتا ہے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بیان کی اس جگہ کوئی ضرورت نہیں تھی اور مفسرین کی یہ ٹکریں خواہ مخواہ ہیں ۔ رہی یہ بات کہ ہم کسی کو بغیر باپ کے کیوں نہیں مانتے کیا اللہ تعالیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے ؟ تو اس کے لئے ہماری اتنی التجا ہے کہ ہمارے ان مفسرین میں سے جو زندہ حیات موجود ہیں براہ راست اور جو رخصت ہوگئے ہیں ان کے حواریوں کے ذریعہ یہ اپیل کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک سامنے آئے اور کہہ دے کہ میرا باپ نہیں تھا اور ان کے حواری کہہ دیں کہ ہمارے فلاں مفسر کا کوئی باپ نہیں تھا پھر دیکھیں ہم مانتے ہیں یا نہیں اگر وہ نہیں کہنا چاہتے تو ہم ان میں سے کسی کو یہ کہہ کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس لئے ہمارے رب کو جس طرح پہلے قدرت تھی بالکل اسی طرح اب بھی قدرت ہے اور جب تک دنیا کا نظام قائم ہے بلکہ آخرت میں بھی ساری قدرتوں کا وہی مالک ہے کیا ان کے خیال میں اس وقت وہ قادر تھا اور اب قادر نہیں رہا ؟ اگر ہے تو وہ ایسا کیوں تسلیم نہیں کرتے پھر ہم نے تو انہیں مفسرین سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ کا ذکر سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھا تو ہم نے ان کی زبان کو پکڑ لیا اور اتنا کھینچا کہ وہ ایک ہاتھ لمبی باہر آگئی اور ان سے مطالبہ کیا کہ اگر باپ تھا تو فرشتہ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ہم اس کی ماں مریم کی سیرت سے واقف ہیں اس کی سیرت اللہ نے ہم کو بتائی ہے تم جھوٹ بولتے ہو کہ اس کا باپ انسان تھا کیونکہ وہ انسانوں ہی کی جنس سے تھی انہوں نے ہم پر اتنا الزام لگایا اور اپنی بات کو پی گئے اور زور زور سے پکارے کہ عیسیٰ کا باپ کوئی انسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور فقرہ کو پورانہ کر کے خیانت یہ کی کہ اب جبریل کا نام دل میں لینے لگے اور چونکہ ان کو یہ گر یاد تھا کہ جو بات دل میں کہی جائے از روئے فقہ وہ بھی اصل میں شامل ہوجاتی ہے اس سے انہوں نے فائدہ حاصل کیا اور ہم پر الزام لگانے لگے حالانکہ خدا گواہ ہے کہ ایسا کہنے میں پہل انہوں نے کی اور انہوں نے پہلے جبریل (علیہ السلام) کو باپ قرار دیا ہم اب ان کو کہتے ہیں کہ اس الزام سے باز آجاؤ فرشتے اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جن کے ہاں توالد وتناسل حرام ہے اس لئے اس ظلم سے باز آجاؤ اللہ سے ڈرو یہ ایک اللہ کے نبی اور رسول کی توہین ہے اور کسی ایک نبی کی توہین بھی جائز نہیں اس سے ایمان کے جاتے رہنے کا قوی خطرہ ہے اور ایک انسان ‘ انسان ہی کا باپ یا انسان ہی کا بیٹا ہو سکتا ہے فرشتہ انسان کا یا انسان فرشتہ کا بیٹا یا باپ نہیں ہو سکتا پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہے ہیں اور جب تک زندہ ہیں کہتے رہیں گے اس لئے کہ ہمارے رب کا یہی فیصلہ ہے ۔ تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی کی جلد دوم میں سورة آل عمران کے مختلف مقامات کا بغور مطالعہ کریں ۔
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

(پھر وہ وقت) جب ہم نے ان کی طرف دو (رسول) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ایک تیسرے (رسول) سے ان کی تائید کی پھر ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس (اللہ کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں

دو رسولوں کو ہم نے پہلے بھیجا اور پھر تیسرے نے ان کی مدد کی : 14۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کے متعلق صرف اس قدر بتایا ہے کہ گزشتہ زمانہ میں ایک بستی میں کفر وشرک اور شر و فساد کو دور کرنے کے لئے اور رشد وہدایت کا سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو پیغمبروں کو مامور کیا ‘ انہوں نے اہل قریہ کو حق کی تلقین کی اور صراط مستقیم کی طرف ان کو دعوت دی لیکن بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلایا ‘ تو اس وقت ہم نے ایک ہادی کا اور اضافہ کردیا اور وہ تینوں مل کر ایک جماعت ہوگئے اور اب ان تینوں نے یقین دلانے کی سرتوڑ کوشش کی کہ تم تسلیم کرلو ہم کو اللہ تعالیٰ نے نبی و رسول بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا ہے لیکن انہوں نے ان کی بات ماننے سے مکمل انکار کردیا اور وہی کہا جو گزشتہ قومیں کہتی آرہی تھیں ۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ (قوم کے لوگ) بولے کہ تم تو بس ہماری ہی طرح کے انسان ہو اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا ہے تم تو محض جھوٹ بول رہے ہو (ہم تمہاری بات کیسے مان لیں)

انہوں نے کہا کہ تم تو تمہاری طرح کے بشر ہو اور بشر رسول کیسے ہو سکتا ہے ؟ : 15۔ اس بستی کے مستغرقن کو ان پر یہ بھی اعتراض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مخلوق کے ہادی و راہنما کیسے بنا دیئے گئے حالانکہ وہ سامنے نظر آرہے ہیں کہ اسی طرح کے وہ انسان ہیں جس طرح کے انسان ہم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دینے کے لئے اگر کسی کو آنا ہی تھا تو اس کے پاس فرشتوں کی کیا کمی تھی کہ وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیتا ہم تو یہی کہیں گے کہ ہو نہ ہو یہ تمہاری ہی گھڑی ہوئی بات ہے اور ان کا یہ اعتراض بالکل وہی اعتراض ہے جو ان سے پہلی قومیں پیش کرچکی تھیں اور ہم اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة ہود کی آیت 27 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 10 ‘ 11 ‘ جلد ششم سورة الانبیاء 32 ‘ سورة المومنون آیت 24 ‘ 33 ‘ 34 ‘ 37۔ اور سورة الشعراء کی آیت 154 ‘ 186 میں بیان کرچکے ہیں اس لئے وہیں سے مطالعہ کرلیں ۔
Ayah 36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ بلاشبہ ہم تمہاری طرف (اس کے) بھیجے ہوئے آئے ہیں

رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں : 16۔ ان تینوں نے مل کر بستی والوں کو یقین دلایا کہ بلاشبہ ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم اپنی بات اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو شاید وضامن بنا کر کر رہے ہیں ہم یہ بات کہنے میں بالکل جھوٹے نہیں ہیں اس نے ہم کو تمہاری ہدایت کا پروانہ دے کر بھیجا ہے ۔
Ayah 36:17

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمہ (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینا ہے

ہمارے ذمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں : 17۔ انہوں نے اہل قریہ کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ ہماری غرض صرف اس قدر ہے کہ تم کو پیغام خداوندی نہایت مستعدی اور پوری ہمت سے پہنچا دیں اس کو قبول کرنا یا رد کرنا تمہارا کام ہے ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کردی اور تم اپنی ذمہ داری ادا کرو گے تو تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اگر قبول نہیں کرو گے تو ظاہر ہے کہ اس میں خسارہ بھی تمہارا اپنا ہی ہے ۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ (قوم کے لوگ) کہنے لگے کہ ہم نے تم کو منحوس پایا ہے (کہ تمہارے آنے سے قوم میں پھوٹ پڑگئی) اگر تم (اس تبلیغ سے) باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہمارے ہاتھوں تم کو دردناک عذاب پہنچے گا

بستی والوں نے ان کو جواب دیا کہ ہم تو تم کو منحوس آدمی خیال کرتے ہیں : 18۔ بستی والوں نے ان کو فورا جواب دیا کہ ہم تو تم لوگوں کو منحوس خیال کرتے ہیں کہ تم نے خواہ مخواہ ہمارے یہاں آکر گڑ بڑ شروع کردی ہے اور اگر تم اس سے باز نہ آئے تو ہم تم تینوں ہی کو مار ڈالیں گے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم کتنے منحوس اور نحس ہو کہ جب سے تم آئے ہو ہم کو امن ہی نہیں اور ہماری قوم بکھر کر تتر بتر ہوگئی ۔ تم سے ہماری گزارش یہی ہے کہ تم مہربانی فرما کر اس سے باز آجاؤ ہم پر بھی رحم کرو اور اپنی جانوں پر بھی اور یاد رکھو کہ اگر تم نے ہمارے بزرگوں کے خلاف پروپیگنڈہ اسی طرح جاری رکھا تو تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا بلکہ نہایت سختی کے ساتھ انہوں نے جھڑک دیا کہ بس ہمارے علاقے اور بستی میں صرف تم تین ہی ایسے ہو جن کو اللہ نے ہم کلام ہونے اور ہماری ہدایت کے لئے چن لیا ہے ۔ اگر تم نے یہی روش اختیار رکھی تو تم کو چورا ہے میں کھڑا کر کے سنگسار کردیا جائے گا اور پھر کوئی نہیں جو ہم کو تمہارے بارے میں ایسا کرنے سے پوچھ بھی سکے اس لئے ہم بھی تم کو آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ تم ہماری گرفت سے بچ جاؤ ورنہ سخت سزا پانے کے لئے تیار رہو اس لیے کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو (خود) تمہارے ہی ساتھ ہے بلکہ تم خود حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو (کہ تمہاری عقل پر پردے پڑچکے ہیں)

رسولوں نے بھی ان کو جھوٹی بات کا کھرا جواب سنا دیا کہ منحوس ہم نہیں بلکہ تم خود ہو : 19۔ رسولوں نے بھی سمجھا کہ اس جان کو بچانے کے لئے ان کی جھوٹی باتوں کا ان کو کھرا کھرا جواب سنادیا جائے تو یہی بہتر ہے کہ یہ جان تو بہرحال جانے ہی کے لیے ہے پہلے اس کو کون بچا سکا ہے جو ہم بچا سکا ہے جو ہم بچا لیں گے حقیقت تو یہ ہے کہ جس میں ایک لمحہ کی بھی کوئی کم وبیش نہیں کرسکتا اگرچہ مذہبی ٹھیکہ داروں نے سو افسانے اس کو کم وبیش کرنے کے لئے گھڑ رکھے ہوں لیکن حقیقت کبھی بدلا نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کی باتوں میں تبدل حرام ہے ، اللہ تعالیٰ نہ تو خود بدلتا ہے اور نہ ہی کسی کو بدلنے دیتا ہے خواہ وہ کوئی ہو اور خواہ وہ کون ہو ؟ اس لئے انہوں نے بھی ان مترفین کو کھرا جواب سنا دیا اور فرمایا کہ لوگو ! تمہاری بدبختی اور بدفالی تو تمہارے ساتھ ہے جب تم نے اس دنیا میں قدم رکھا تھا تو تمہارا اعمال نامہ اور تمہارا شگون تو تمہارے گلے کا ہار تھا اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں ۔ جہالت اور توہم پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے وہ وقت تو خیر وہ ہی تھا آج اس پڑھے لکھے دور میں بھی ایسے جاہل علاموں بلکہ حضرت العلام حضرات اور ایسے پیروں اور بزرگوں کی کوئی کمی نہیں جو اس جہالت کے ساتھ بھرے پڑے ہیں ۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈر ‘ بڑے بڑے ڈاکٹرز ‘ انجینئرز ‘ پروفیسرز ‘ پر نسپلز ‘ ڈائریکٹرز ‘ سیکرٹری حضرات جن کے ہاتھ میں اس ملک کی قسمت دی گئی ہے اس طرح کے توہمات سے بھرے پڑے ہیں ‘ کتنی چیزیں ہیں جن کو وہ منحوس خیال کرتے ہیں ‘ کتنی باتوں سے وہ بدشگونی لیتے ہیں یہی حالت ان کی تھی فرق یہ ہے کہ ان کی وہم پرستی کف کی تھی لیکن ہماری پکی اسلامی وہم پرستی ہے جس طرح ہماری چوریاں ‘ ہمارے ڈاکے ‘ ہمارا قتل و غارت ‘ ہمارا دھوکا اور فریب اور بددیانتی سب اسلام مار کہ ہے ایسی ہی ہماری بدشگونیاں بھی اسلام مار کہ ہیں اور وہم پرستیاں بھی اور پھر یہ بھی کہ ایک چال ہمارے پاس اور بھی ہے وہ یہ کہ ہم اپنی ان اسلامی وہم پرستیوں کو کرامت اور فرق عادت اور اس طرح کے دوسرے ناموں سے بھی بدلتے رہتے ہیں ، جہاں اور کوئی دلیل ہم کو کام نہ دے تو یہ سو دلیلوں کی ایک دلیل ہمارے پاس موجود ہے اور کون ہے جو ہم کو ان دلائل کے پیش کرنے سے باز رکھ سکے ‘ اسلام ہمارا اور ہم اسلام کے ۔ مختصر یہ کہ ان بستی والوں کو ہمارے ان رسولوں نے کھرے کھرے جواب سنا دیئے اور واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو حد سے بڑھ جانے والے ہو لیکن بڑے لوگ کمزوروں کی ایسی باتوں کو جو صاف اور کھری ہوں کب برداشت کرسکتے ہیں جو وہ لوگ ان باتوں کو برداشت کرتے ۔
Ayah 36:20

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے ایک دور کے گوشہ سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا اے میری قوم (کے لوگو ! یہ رسول سچے ہیں) ان رسولوں کی پیروی کرو

ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو رسولوں کی دعوت قبول کرنے کی ہدایت کرنے لگا : 20۔ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا نام نہیں لیا اور اس کا نام نہیں بتایا ‘ اس کی حیثیت واضح نہیں کی مفسرین کو پوچھ لو کہ آیا اللہ میاں کو یہ بات معلوم ہی نہ تھی یا اور کوئی راز کی بات ہے کہ اس کا نام نہ لیا کیونکہ ہمارے مفسرین کو انہی باتوں پر تعجب ہوتا ہے جن پر تعجب کی کوئی ضرورت نہ ہو ۔ بہرحال اس آدمی نے آتے ہی قوم کو للکارا کہ میری قوم کے لوگو ! یہ لوگ بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر مبعوث کیے ہیں اور تم ان کی بات کو قبول کرلو اور ان کی تکذیب مت کرو۔
Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے اور وہ سیدھی راہ پر (گامزن) ہیں

دیکھو تم سے یہ کوئی مزدوری تو اس پیغام پر طلب نہیں کرتے اور تم کو ہدایت کرتے ہیں : 21۔ میں تم کو نصیحت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں اور تم کو معلوم ہے کہ میں بھی تمہارے اسی شہر کا رہنے والا ہوں ‘ تمہاری قوم کا ایک فرد ہوں ‘ جس طرح یہ آدمی بھی تمہاری اپنی بستی کے رہنے والے ہیں ۔ میرا مخلصانہ فیصلہ کان کھول کر سن لو کہ بہتر تو یہ ہے ج کہ تم ان پر ایمان لے آؤ اور ان کی پیروی کرو ‘ ان کی صداقت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے تم سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا ، چندہ کی اپیل نہیں کی بلکہ مفت تم کو راہ ہدایت پیش کر رہے ہیں اگر انہوں نے صرف ڈھونگ رچایا ہوتا جیسا کہ تم خیال کرتے ہو تو انکو اس سردردی کی کیا ضرورت تھی پھر تم کم از کم یہ تو دیکھو کہ یہ لوگ جس جس بات کی تم کو دعوت دے رہے ہیں اس پر خود بھی سختی سے کاربند ہیں ایسے مخلصین کی نیت پر خواہ مخواہ کا شک کرنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے اور ان پر ایمان نہ لانا نہایت ہی بےانصافی کی بات ہے اس طرح اس نے اچانک مداخلت شروع کردی اور قوم کو ان اللہ کے بندوں پر زیادتی کرنے سے سختی کے ساتھ منع کردیا اور انداز بھی ایسا اختیار کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی ان کے برابر کا نہیں تو کم بھی نہیں کہ وہ قوم کو دو ٹوک کہتا ہے ۔ نہیں طلب کرتے اس پر کچھ تم سے مزدوری مگر ہدایت نہ پانے والے کی ہوگی جنت سے دوری : کلیم۔ اسی مضمون پر قرآن کریم کا بائیسواں پارہ ختم کیا جارہا ہے ۔ والحمد للہ علی ذالک ۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے

اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایک اللہ کی بندگی نہ کروں : 22۔ غور کرو کہ قرآن کریم کا انداز کتنا پیارا اور کتنا اصلاحانہ ہے اس اللہ کے بندے نے اپنے آپ کو مخاطب کرکے عرض کیا کہ مجھے کی حق پہنچتا ہے کہ میں اس ایک اللہ کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے ایک حقیر سے قطرہ سے پیدا فرمایا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، اس نے ایک چیز کو اپنی طرف نسب دی اور دوسری چیز کو ان سب کی طرف نسبت دے دی اور قوم کو یہ باور کرا دیا کہ وہی تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے اور اس حقیر بوند سے تم بھی پیدا ہوئے ہو اگر تم کو عزت واقتدار اور مال و دولت ‘ خاندان اور برادری زیادہ مل گئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کسی اور راستے اور طریقہ تخلیق پر پیدا کیے گئے ہو اور پھر یہ بھی کہ تمہارا اس دنیا سے رخصت ہونے کا طریقہ بھی کمزوروں اور غریبوں سے کوئی الگ نہیں بلکہ ایک روز ایسا آئے گا کہ تم بھی خالی ہاتھ اس طرح اس دنیا سے رخصت ہوجاؤ گے جس طرح سارے انسان رخصت ہوتے ہیں گویا تم دنیا میں آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہو اور اس طرح تم دنیا سے جاؤ گے نہیں بلکہ تم کو ایک دن لے جایا جائے گا پھر درمیان میں یہ جو دن تم کو میسر آگئے ہیں ان دونوں پر اس قدر تم کو ناز آخر کیوں ؟ ہاں ! اگر تم نہیں مانتے اور ان کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کرتے تو آخر میں اپنے رب کی عبادت سے سرتابی کیوں کروں جب کہ ہم اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب پیش کرنا ہے اور اگر عذاب الہی کے مستحق ہوگئے تو کون ہے آخر جو ہماری سفارش کرکے ہمیں بچائے گا ۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اللہ کے سوا ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر اللہ مجھے (کوئی) تکلیف پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے (اس گرفت سے) بچا سکیں

کیا میں ایسوں کو اپنا الہ مان لوں جو خود بھی بےحقیقت ہیں : 23۔ کیا میں ایسے لوگوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا مان لوں اور ان کو داتا کہوں ‘ ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں کجا یہ کہ وہ میرے معبود ومسجود ہوں اگر دشمن مجھے دکھ دینے کا ارادہ کرلے تو وہ مجھ کو اس کے دکھ سے سفارش کرکے نکال نہ سکیں اور جس گرفت میں ‘ میں پکڑا جاؤں اس سے مجھے وہ چھڑا بھی نہ سکیں ۔ خیال رہے کہ جو جو باتیں وہ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے وہ بحیثیت انسان منسوب کر رہا ہوں پھر جو میری سفارش نہیں کرسکیں گے ظاہر ہے کہ وہ تمہاری بھی سفارش نہیں کرسکیں گے ‘ جو میرے کام نہیں آئیں گے ظاہر ہے کہ تمہارے کام بھی نہیں آئیں گے جو مجھے گرفت سے نہیں چھڑا سکیں گے ظاہر ہے کہ تم کو بھی نہیں چھڑا سکیں گے پھر ایسے بزرگوں کو بزرگ ہی کیوں نہ کہا جائے ‘ ان کو معبود والہ کیوں مان لیا جائے اور ان کی حیثیت سے بڑھ کر ان کو کیوں مرتبہ دیا جائے کیا انسان کے لئے وہی مرتبہ اور وہی رتبہ کافی نہیں ہے جو انسانوں کو دیا جاسکتا ہے ‘ انسانوں کو الہ اور معبود بنا کر ان کی توہین کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

بلاشبہ (اس وقت تو) میں صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا

تم جو ہو وہ ہو کیا میں بھی کھلی گمراہی اختیار کرلوں ؟ 24۔ وہ کہنے لگا کہ میری قوم کے لوگو ! تمہاری تو جو مت ماری گئی کیا میں بھی تمہارا عقیدہ اختیار کرکے کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں اگر میں ایسا کروں تو کیا میرا گمراہ ہونا ثابت نہیں ہوگا کیونکہ گمراہی بہرحال گمراہی ہے وہ میں اختیار کروں یا تم اختیار کرو۔ آج بدقسمتی سے ہم اس اصل کو بھی بھول گئے اور ہم نے اس طرح سمجھ لیا کہ ایک کام میں کروں تو وہ گناہ ہے اور اگر وہی کام کوئی بڑا مذہبی پیشوا یا سیاسی لیڈر یا کوئی قوم کا پیروبزرگ کرے تو وہ عین ثواب ہوجائے ، خدا نہ کرے اگر کوئی عام آدمی آپ کے گھر سے کوئی چیز بغیر بتائے اٹھا لے اور آپ کو پتہ نہ لگنے دے اور پھر آپ کو چیز مل جائے اور یہ معلوم بھی ہوجائے کہ فلاں آدمی نے اٹھائی تھی تو اس کو چور کہیں اور اس کو سخت سے سخت سزا ملے اگرچہ اس ملک میں سزا کا ملنا محال ہوگیا ہے بہرحال اگر وہی چیز آپ کے گھر سے کوئی پیروبزرگ اور سادات کے نام سے معروف اٹھا کرلے جائے تو وہ اس کی کرامت سمجھ لی جائے اور پھر مزید اگر وہ یہ بھی ارشاد فرما دے اگر یہ چیز آپ کے ہاں پڑی رہتی تو آپ کے لئے نہایت ہی منحوس ثابت ہوتی اور صدقہ و خیرات کے نام سے ہم لوگ آپ کو معلوم ہے کہ حاصل ہی نہیں کرسکتے آل رسول ہیں اور اگر یہی چوری کسی نبی ورسول کے ذمہ لگا دیں تو وہ معجزہ قرار دے دی جس میں اللہ میاں کو بھی شریک کردیں تو پھر سبحان اللہ ! کیا ہی معجزہ ہے اور کیا کرامت ہے لیکن ہمارے مفسرین کی اس تفہیم کو فی نفسہ قرآن کریم کی آیات قبول نہیں کرتیں اور یہی بات وہ اللہ کا بندہ جو دور سے بھاگ کر آیا تھا وہ کہہ رہا ہے کہ اگر میں بھی ایسا کروں یا ایسا کہوں پھر تو میں بھی گمراہ ہوگیا اور میں تو خود بھی گمراہی سے نکلا ہوں اور تم لوگوں کو بھی نکالنا چاہتا ہوں اگر تم نکلنا چاہو لیکن اگر نہ نکلنا چاہو تو کھلے دل سے تم گاتے رہو اور زور سے آواز بلند کر کے اور جھوم جھوم کر پڑھتے رہو کہ ۔ پکڑے خدا تو چھڑاے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا : اور قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ (ان یردن الرحمن بضر لا تغن عن شفاعتھم) ” اگر اللہ مجھے تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے “۔ اور محمد رسول اللہ ﷺ جو نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں وہ بھی اس وقت سفارش کرسکیں جب اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے اور صرف اسی کی سفارش کرسکیں جس کی سفارش کا آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے حکم ملے اور اجازت فراہم ہو ۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بلاشبہ میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لایا پس اس کو سب سن لو

میں نے تمہارے رب کو مان لیا ‘ تم میری بات سنو ! : 25۔ اسی اللہ کے بندے نے اس بستی کے سارے وڈیروں کو مخاطب کرکے کیا پیارا انداز تبلیغ اختیار کیا کہ میں تمہارا رب پر ایمان لایا ہوں گویا اللہ رب العزت کو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے سب کا رب تو وہی ہے ۔ بلاریب حق کا علم بردار بہت ہی نڈر اور بےباک ہوتا ہے ، ساری بستی کے لوگ ایک ہیں اور خصوصا اس بستی کے رئیس اور سردار اس بستی کے لوگوں کے ساتھ ہیں سارا ماحول اس اللہ کے بندے سے کبیدہ خاطر ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کے من گھڑت معبودوں ‘ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کا انکار کرتے ہوئے ایک ہی پروردگار کے ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ سبحان اللہ ! حالات کے بھڑکتے ہوئے آتش کدہ میں کھڑے ہو کر ایسا اعلان کرنا ایک مومن ہی کی شان ہو سکتی ہے اور بےخوف وخطر توحید کا اعلان کرتا ہے اور اپنے اعلان میں ان کو باور کراتا ہے کہ جو میرا پروردگار ہے وہ وہی ہے جو تم سب کا پروردگار ہے تم اس کا چھوڑ کر غیروں کو کیوں رب بناتے ہو اور اس شرک کے کیوں مرتکب ہوتے ہو ۔ غور کرو کہ مشرکوں کی مت کیسے ماری گئی کہ وہ اس بات کو بھی برداشت نہ کرسکے کہ اس نے اپنے رب کو ان کا رب کیوں کہا حالانکہ وہ ان کے بدعقیدہ کو چھیڑتا تک نہیں صرف اپنی مافی الضمیر ان کے سامنے پیش کررہا ہے لیکن بات کرنے میں ذرا بھر بھی جھجک محسوس نہیں کرتا اور زور دار الفاظ سے سچی بات کا اعلان کرتا ہے کہ لوگو میری بات سنو !
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(جب وہ ظلم کا شکار ہوا تو اس سے) کہا گیا کہ بہشت میں داخل ہوجا (وہ) بولا کاش ! کہ میری قوم کو معلوم ہو جاتا

بستی کے و ڈیرے اپنے حواریوں کو اشارہ کرتے ہیں اور وہ اس کا کام تمام کردیتے ہیں : 26۔ اس تین نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے نے ہزاروں بلکہ لاکھوں ایمان لانے والوں سے زیادہ کام کر دکھایا کہ وہ ظالموں اور مشرکوں کے سامنے اس طرح ڈٹ گیا جس طرح وہ ایک آدمی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی جماعت ہے لیکن بستی والوں نے اس کو برداشت نہ کیا بلاشبہ وہ اپنے عزم کا پہاڑ تھا لیکن دلائل وبراہین سے ہٹ کر اور بات کا جواب بات سے دینے کی بجائے انہوں نے اس پر حملہ کردیا اور وڈیروں کے اشارہ سے ان کے حواریوں ہی نے اس کا کام تمام کردیا اور اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی جنت کے دروازے اس کے لئے کھل گئے اور آسمان کے فرشتے اس کے استقبال کرنے کو آگے بڑھے اور اس کو ” خوش آمدید “ اور ” اھلا وسھلا “ کی صداؤں کے ساتھ اپنی ہمراہی میں لیے لیا ۔ اس کے شہید کرنے کی جو صورت بھی ان لوگوں نے اختیار کی اس کو پتھر مار مار کر ہلاک کیا یا دھکا پیل سے اس کی جان نکل گئی یا کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے اس کی پٹائی کرکے قتل کیا یا لوگوں نے اپنے پاؤں کے نیچے اس کو مسل کر مار دیا یا اس کی بوٹی بوٹی اور بیرہ بیرہ کردیا جو بھی ہوا قرآن کریم نے ان میں سے کسی ایک کیفیت کا بھی ذکر نہیں کیا ضروری نہیں تھا کہ اس کی دکھ بھری موت اور شہادت کی تکمیل کیونکر ہوئی اس لئے کہ اس بیان کی ضرورت نہ تھی لہذا اس کو چھوڑ دیا لیکن مفسرین نے اس بات پر خوب بحث کی کسی نے کہا کہ جب لوگ اس کو مار پیٹ رہے تھے تو فرشتوں نے اس کو خوشخبری سنا دی کہ اب جنت میں داخل ہوجاؤ ‘ کسی نے لکھا کہ اس کو مارا یا قتل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسے اٹھا کر اسی طرح زندہ ہی جنت میں پہنچا دیا ‘ کسی نے کہا کہ اس کو قتل کردیا اور پھر اس کے شہید کردینے کی الگ الگ صورتیں بیان ہیں اور اس طرح کہتے کہتے وہ کہیں سے کہیں نکل گئے بعض نے اس کا یہ ذکر بھی کیا ہے کہ وہ کون تھا اور کیسے ایمان لایا تھا ؟ اس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے اس جگہ ہم صرف اتنی بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے جنت میں داخل کرنے کے ذکر نے صرف یہ بات واضح کی کہ ان لوگوں نے اس کو شہید کردیا کیونکہ ایک سچے اور پکے مسلمان کو جنت میں داخل ہونے سے مانع اگر کوئی چیز ہے تو وہ فقط دنیا کی زندگی ہے ، دنیا کی زندگی ختم ہوئی خواہ وہ کس طرح ختم ہوئی اور اس کا خاتمہ بال ایمان اس کو سیدھا جنت میں لے گیا اب جنت کے اس مقام اور حصہ کو عالم برزخ کا علین نام رکھو چاہے جو بھی کہو اس نظریہ اور عقیدہ کو قائم رکھنا ہی اصل چیز ہے ۔ اس نے جنت میں جب انعامات جنت کو آنکھوں سے ملاحظہ کیا اور اپنے استقبال کی حالت کا مشاہدہ کیا تو اس نے اس وقت بھی اپنی قوم ہی کو یاد کیا اور کہا کہ ہائے افسوس ! اگر میری قوم کو میری اس حالت کی اطلاع ہوجائے تو وہ سارے کے سارے اسی طرح کی موت مرنے کے لئے بخوشی تیار ہوجائیں اس شہید ہونے والے کا یہ جملہ بہت ہی معنی خیز ہے بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا ہو۔ غور کرو کہ قوم کا درد دل میں رکھنے والے لوگوں کے روئیں روئیں میں کس طرح یہ ایک ہی درد سما چکا ہوتا ہے کہ ان کو اپنی جان کی بھی کوئی پروا نہیں رہتی وہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ‘ کھاتے پیتے ‘ سوتے جاگتے قوم کی حالت نہیں بھول سکتے اور ان کی یہ کوشش محض قوم کی بھلائی میں ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کو اپنی جان اپنے مال اور ہر اس چیز کی کوئی پروا نہیں ہوتی جس چیز کی ان کی ذات کے ساتھ نسبت دی جاتی ہو اور ہرچیز اور ہر اس کام کو وہ دل وجان سے عزیز سمجھتے ہیں جس کی نسبت قوم کے ساتھ وابستہ ہو یہی حال اللہ کے بندے کا تھا کہ اس نے جان جیسی عزیز چیز راہ الہی میں فدا کردی اور پھر مرنے کے بعد بھی اس کو قوم کی یاد ہی نے ستایا کہ اس نے انعامات الہی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کیا اور نعمت ہائے جنت کو دیکھا تو قوم کا غم تازہ ہوگیا اور اس کی زبان سے نکلا تو یہی کہ اے میری قوم ! اگر تم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ نے مجھے کون کون سے انعامات سے نوازا ہے اور پھر کیا کیا نعمت ہائے غیر مترقبہ عطا کی ہیں تو تم سارے کے سارے راہ الہی میں جان پیش کرنے کے لئے میرے سے بھی زیادہ تیار ہوجاؤ ۔