Ayah 35:1آسمانوں زمین کا پیدا کرنے والا ، فرشتوں کو قاصد بناکر بھیجنے والا اللہ ہے
1 ۔ سب اچھی تعریفوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ سارے کمالات اسی کے ہیں۔ اس کی وضاحت سورة فاتحہ میں کردی گئی ہے کہ تعریف فی نفسہ اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی اور جس کو ستائش کہتے ہیں وہ ایسی تعریف ہی ہوسکتی ہے جو اچھی ہو بری تعریف کو ستائش نہیں کہا جاتا۔ پھر دنیا میں جس چیز کو بھی ستائش کی جائے دراصل وہ ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوگی اس لئے کہ جو وجہ ستائش ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اگر کوئی چیز براہ راست اللہ کی تخلیق ہے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر اس کی ستائش کی جائے گی تو ظاہر ہے کہ اس صنعت وکاریگری جس کا شاہکار ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا کوئی بندہ ہی ہوگا اور پھر جس عقل وفکر سے اس نے اس صنعت وکاریگری کا مظاہرہ کیا ظاہر ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی عقل وفکر ہے اور وہی اس کا خالق ومالک ہے۔ اس طرح ہرچیز پر غور کرتے جائو اور دیکھتے جائو تو ہرچیز کا آخر اور ہرچیز کی انتہا اللہ تعالیٰ ہی پر ہوگی۔
{ فاطر } اسم فاعل واحد مذکر فطر مصدر ۔ عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ اس کا صحیح ترجمہ مبدع ہی ہوسکتا ہے یعنی بغیر نمونہ و مثال کے عد محض سے عالم وجود میں لانے والا۔ فطر کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ (قاموس وصحاح) اللہ تعالیٰ بھی کائنات کو عدم کا پردہ پھاڑ کروجود میں لایا ہے اس لئے اس کو { فاطر } کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نئے سرے ہی سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے کسی جگہ اس کو { بدیع } فرمایا گیا اور کہیں اس کو { فاطر } کہا گیا ہے۔
دوسرا وصف اس جگہ فرشتوں کو رسول بنانے کا بیان ہوا ہے اور قبل ازیں سورة الحج میں بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے رسول بھیجے اور فرشتوں میں سے بھی اور ظاہر ہے کہ فرشتوں میں سے رسول وہی ہیں جو انبیاء کرام اور رسل عظام کی طرف وحی لے کر جاتے رہے اور اس طرح وہ فرشتے جو کراماً کا تبین اور بہت سے دوسرے ناموں سے معروف ہیں اور یہ بات قبل ازیں واضح کردی گئی ہے کہ فرشتہ کیا ہے ؟ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کردہ ان طاقتوں اور قوتوں کو کہا گیا ہے جن کو نور سے مخلوق کیا ہے اور اس میں برائی کی طاقت سرے سے ودیعت ہی نہیں کی گئی یہی وجہ ہے کہ برائی کا اس سے صدور محال ہے۔ جس طرح کسی بھی طاقت وقوت کا اپنا کوئی وجود واضح اور ظاہر نہیں ہوتا اس کو دیکھنے کے لئے کوئی اختراعی وجود ہی اس کو ملتا ہے اور جیسا وجود اس کو ملتا ہے ویسا ہی اس سے صدور ہوتا ہے یہی حال ان طاقتوں اور قوتوں کا ہے واضح فرق یہی ہے کہ یہ طاقت وقوت کسی ایسے جسم میں فرض نہیں کی جاسکتی جس سے برائی کا صدور ہورہا ہو کیونکہ برائی اور نافرمانی کا عنصر اس میں موجود ہی نہیں ہے۔
زیر نظر آیت میں { اولی اجنحۃ مثنی وثلت وربع یزید فی الخلق ما یشائ } فرمایا ہے یعنی وہ دو دو تین تین ، چار چار بازو وں والے ہوتے ہیں وہ پیدائش میں جو چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے “۔ کے مفہوم میں تفسیر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتوں کے پر ہوتے ہیں دو دو بھی ، تین تین بھی اور چار چار بھی اور اس سے جتنے وہ چاہے کسی کو زیادہ عطا فرمادے اس سے اکثر یہی سمجھا گیا ہے کہ وہ ایسے پر ہوتے ہیں جیسے پرندوں کے پر ہوا کرتے ہیں لیکن پرندوں میں تین یا چار یا زیادہ پروں والے پرندے ہوتے ہوں آج تک معلوم نہیں ہوا ہاں ! بعض کیڑے مکوڑے ایسے ہیں جن کے بازو نہایت ہی مضبوط قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ ان کے جسم پر پھیل جاتے ہیں لیکن جب کبھی وہ اڑنا چاہتے ہیں تو ان کے نیچے سے اڑنے والے بازو نکل آتے ہیں اور انہی اڑنے والے بازوئوں ہی سے وہ اڑتے ہیں تاہم اڑنے میں وہ بہت کمزور ہوتے ہیں کہ اوپر کے بازو ان کو اڑنے سے مزاحمت کرتے ہیں۔
کیا اس جگہ فرشتوں کے بازوئوں سے ان کے پر مراد ہیں ؟ بلا شبہ مفسرین نے پر ہی مراد لیے ہیں اور غالب فرشتوں کا آسمانوں کی طرف صدور اور زمین کی طرف نزول کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے اس سے یہ تخیل قائم کرلیا گیا ہے اور جو تخیل ایک بار قائم ہوگیا اور لوگوں میں مشہور بھی ہوگیا اس کے متعلق سوچ وبچار اور بحث فی الواقع لوہے کے چنے چبانے کے مرادف ہے تاہم اس کے متعلق اپنی تفہیم عرض کریں گے۔
زیر نظر آیت میں لفظ ہے { اجنحۃ } اور یہ جمع ہے جناح جس کے معنی لغت میں نیچے کی طرف مائل ہونے کے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ { وان جنحوا لسلم فاجنح لھا } (الانفال 61:8) ” اگر وہ کفار صلح کی طرف جھکیں تو آپ ﷺ بھی ان کی طرف جھک جائیے “۔ ہاں ! اگر اسکا تعلق پرندوں کے ساتھ ہو تو بلا شبہ اس کا ترجمہ ” پر “ ہی مناسب ہے اور یہی ترجمہ ہوگا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے کہ { ولاطائر یطیر بجناحیہ } (الانعام 38:6) ” اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے ساتھ پروں اپنے کے “ جناح کے معنی عضد کے بھی ہیں جیسا کہ صاحب قاموس نے بیان کیا ہے اور عضد کے معنی بازو کے ہیں ہمارے خیال میں یہی معنی انسانوں اور فرشتوں کے لئے مناسب ہیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { واضمم یدک الی جناحک } (22:20) ” اور ملالے ہاتھ اپنا طرف بازو اپنے کے “ { واضمم الیک جناحک } (33:28) ” اور ملالے طرف اپنی بازو اپنا “۔
کبھی اس سے اظہار الفت ، شفقت اور پیار بھی مراد لیا جاتا ہے جو کہ بوڑھوں اور بچوں پر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { واخفض ولھا جناح الذل من الرحمۃ } (24:17) ” اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
{ واخفض جناحک لمن تبعک من المومنین } (215:26) ” ان لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیے جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ پر چلتے ہیں “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
{ واخفض جناحک للمومنین } (88:15) ” اور مسلمانوں کے ساتھ شفقت و پیار رکھیے “ اور کبھی اس سے محض عاجزی و انکساری بھی مراد لی جاتی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { قال سنسشد عضدک باخیک } (35:28) ” فرمایا ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنادیتے ہیں “۔ اور وہ جگہ ارشاد فرمایا کہ { وما کنت متخذ المضلین عضدا } (51:18) ” اور میں ایسا عاجز نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بناتا “۔ معلوم ہوا کہ ” جناح “ یا ” عضد “ دونوں بازو اور مدد کرنے ، مدددینے ، مدد لینے کے معنوں میں بھی آتے ہیں اس لئے جس طرح انسان کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی بازو اور مدد کے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتوں کے بارے میں بھی جب یہ لفظ آئے تو معنی بازو اور مدد ہی کے صحیح ہوں گے اور یہی بات قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں زیادہ واضح اور زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اس طرح زیر نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغام رساں فرشتہ پر کبھی دو ، کبھی تین اور کبھی چار اور کبھی بہت زیادہ فرشتوں کی معیت میں زمین پر آتا ہے اس طرح جبرائیل (علیہ السلام) کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ آپ ﷺ چھ صد فرشتوں کی قیادت فرما رہے ہیں اور انہیں دور دور تک پھیلے ہوئے آپ نے دیکھا اور وحی الٰہی کے نزول میں اس کا بیان قرآن کریم میں بھی آیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
{ فانہ یسلکم من بین بدیہ ومن خلفہ رصدا } (27:72) ” اس فرشتہ کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے “۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ محافظوں سے مراد وہ فرشتے ہی ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس فرشتہ کی نگہبانی کرنے کے لئے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ وحی نہایت محفوظ طریقہ سے رسول تک پہنچ جائے اور اس طرح سیدہ مریم ؓ کے ذکر میں جب سیدہ کو بیٹے کی خوشخبری دینے کے لئے فرشتہ آیا تھا تو اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک پوری جماعت تھی جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { انا رسول ربک لاھب لک غلامازکیا } (19:19) ” فرشتہ نے کہا اے مریم ! میں تیرے رب کا بھیجا ہوا آیا ہوں تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکے کی خبر پہنچائوں “۔ اور اس کی وضاحت دوسری جگہ خود ہی قرآن کریم نے اس طرح کردی کہ { اذ قالت الملئکۃ یمریم………… منہ } (آل عمران 45:3) ” فرشتوں کی ایک جماعت آئی اور (ان کے قائد نے) کہا کہ اے مریم ! بلاریب اللہ تعالیٰ تجھ کو ایک (اپنے کلمہ کی جو تیرا بیٹا ہوگا) خوشخبری دیتا ہے “ اس طرح قرآن کریم نے وضاحت کی ہے کہ پیغام رساں فرشتے جب آتے ہیں تو وہ جماعت کی صورت میں نازل ہوتے ہیں جو پیغام پہنچانے والے فرشتہ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ہوتے ہیں وضاحت کے لئے دیکھو (76:22) فرشتے جب احکام الٰہی کو دنیا میں جاری کرتے آتے ہیں تو (الانفال 12:8) موت کے فرشتے جب جان قبض کرنے کے لئے آتے ہیں تو (الانعام 93:6) خصوصاً جب کافروں کی موت وہ قبض کرتے ہیں۔ (الانفال 50:8) اس طرح بیسیوں بار فرشتوں کے آنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے مل کر آنے کا بار بار ذکر آتا ہے۔ احادیث میں جو طالب علموں کی مدد کے لئے فرشتوں کے آنے کا ذکر ہے اس میں بھی یہی ہے کہ ضربت الملئکۃ باجنح تھا خضعا (بخاری) اسی طرح حدیث میں ہے کہ بنی اعظم وآخر ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو چھ صد فرشتوں کی معیت میں دیکھا تھا۔ ہمارے بیان کرنے کا مطلب محض یہ ہے کہ فرشتوں کو پرندوں ، کبوتروں اور مرغیوں کے ساتھ ملانے کی بجائے اگر اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ملایا جائے جب کہ وہ ان کے ساتھ ملتے بھی ہیں تو یہی صحیح ہوگا اور صرف جناح کے لفظ سے ” پر “ مراد لے کر ان کو اس طرح نسبت دینا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے بلکہ ان کے شرف و بزرگی کے پیش نظر یہی درست ہے جو ہم نے بیان کیا ہے جس کی تصدیق کتاب وسنت سے ہوتی ہے۔ صرف خیالی اجسام قراردے کر سلیمان (علیہ السلام) کے پر اور گھوڑوں کی طرح جنوں ، پریوں اور فرشتوں کو جو لوگوں نے پر لگادیئے ہیں وہ محض ایک تخیل ہے تاہم قارئین می سے جو اس تخیل کو قبول کرنا چاہتے ہیں بصد شوق قبول کریں صرف اتنی بات کو اپنے ذہن میں ایک بیماری نہ بنالیں ، مطالعہ جاری رکھیں اور اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے رہا کریں۔ بلا شبہ جناح پرندوں میں پر ہیں جن سے وہ اڑتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور انسان میں اس کے ہاتھ یا بازو ہیں جن کی مدد سے وہ کام کاج کرتے ہیں اور فرشتوں کے جناح بھی ان دونوں سے الگ طور پر ہوسکتے ہیں جس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ وہ ذاتی جسم نہیں رکھتے جیسا کہ شروع میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
ہاں ! اس سے اس نظریہ کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ فرشتوں میں بھی یکسانیت نہیں ہے یعنی سب کے سب ایک ہی مرتبہ کے نہیں ہیں بعض کی معیت میں دو دو ، بعض کی معیت میں تین تین اور بعض کی معیت میں چار چار فرشتے مزید بھی دیئے گئے ہیں اور پھر بیسیوں اور سینکڑوں کی معیت میں بھی ان کا اترنا ثابت ہے اور اس سے مراد ان کی طاقت اور قوت بھی لی جاسکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس جگہ وہی مراد لی گئی ہو اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کا بندھن باندھ دیا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک اندازہ مقرر کردیا ہے۔
Ayah 35:2اللہ تعالیٰ کسی کے لئے رحمت کا درازہ کھول دے تو کوئی نہیں جو اس کو بند کرسکے
2 ۔ زیر نظر آیت کو گزشتہ آیت کے ساتھ ملا کر اگر اس کا مفہوم بیان کیا جائے تو ہمارے بیان کردہ نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کے لئے وہ اسباب پیدا کردیتا ہے اور بلا شبہ فرشتوں کی مدد خواہ وہ دعاواستغفار کے طور پر ہو اور خواہ کسی دوسرے طریقہ پر انسان کو میسر آتی ہے اور آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کرتا ہے اور یہ بھی کہ اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے کسی کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جائے تو کوئی اس کو نہ تو بند کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے سے اس کو بند کراسکتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بدبخت انسان پر اس کی رحمت کا دروازہ بند کردیا جائے تو کوئی نہیں جو اس کو کھول دے یا کھلوا دے مگر ہاں ! جب وہ چاہے تو وہی کھول سکتا ہے اور بلاشبہ وہ سب پر غالب اور بہت ہی حکمت رکھنے والا ہے۔
Ayah 35:3لوگو ! اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے ؟
3 ۔ انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر صحیح وسالم پیدا کرنا انعامات الٰہی میں سے بہت بڑا انعام ہے جو بہت سے انسانوں پر اس نے کیا ہے ایک انسانی جسم کے اندر ان ساری ترقیوں اور ساری حالتوں کا سامان اللہ نے رکھ دیا ہے جو اس وقت تک دنیا میں معرض وجود میں آئی ہیں اور ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہے جو مشاہدہ میں نہیں آیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت کے ساتھ وہ بھی انسان کے اندر ودیعت کردیا ہوا ہے لیکن تعجب ہے کہ انسان اس مصنوعی ترقیوں پر مفتون ہوتا ہے اور اس قدرت الٰہی کا کبھی بھول کر بھی ذکر نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا عقل ہے اس کی جب کہ وہ ابھی تک یہ بات بھی معلوم نہیں کرسکا کہ میرے معلوم کرنے سے اگر میری یہ شان ہے تو اس رب کریم کے کیا کہنے جس نے ہر ایک چیز کو ایک خاص اندازے کے ساتھ پیدا کردیا اور پھر صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ہرچیز کے لئے رزق بھی مقرر کردیا ہے جس کی پیدائش کا سلسلہ آسمانوں اور زمین کی قوتوں میں ملادیا گیا ہے کہ آسمان زمین کی طرف رجوع کرتا ہے اور زمین پھٹ کر ان کے لئے سینکڑوں قسم کی اجناس ، ترکاریاں ، سبزیاں اور پھل پیدا کردیتی ہے اور یہ ساری تخلیق اسی کاریگر کی ہے جس کاریگر نے انسان کو تخلیق کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے جو کچھ رزق تخلیق کیا ہے عین انسانی ضرورتوں کے مطابق پیدا کیا ہے اور بلا شبہ اس کے سوا کوئی اور خالق نہیں ہے اور پھر جب خالق نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے سوا عبادت کے لائق بھی کسی کو نہیں ہونا چاہیے پھر جو انسان ، انسان کہلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور سمجھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ آوارہ دھکے ہی کھا رہے ہیں اور ان کو انسان کہنا ہی انسانی شرف کی سخت توہین ہے۔
Ayah 35:4اے پیغمبر اسلام ! اگر انہوں نے آپ کو جھٹلایا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے ہیں
4 ۔ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان قریش مکہ نے آپ ﷺ کو جھٹلایا ہے اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ ﷺ سے پہلے بہت سے نبی اور رسول بھیجے گئے اور ان کو ان کی قوموں نے خوف جھٹلایا اور ان کی ایک نہ مانی۔ ہمارے حکم کے مطابق انہوں نے سلسلہ تبلیغ جاری رکھا اور وہ ان کو جھٹلانے سے تبلیغ کو کبھی نہ چھوڑ بیٹھے وہ برابر اپنا فرض انجام دیتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آگیا جب انہوں نے رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنے درد کی کہانی بیان کی اور اللہ نے اپنا حکم نازل کردیا کہ ان لوگوں کو اتنی دیر کے لئے مہلت دی جارہی ہے اگر یہ لوگ باز آگئے تو فبہا ورنہ ان کا کام تمام کردیا جائے گا پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا اور ان کے مقررہ وقت سے آگے ان کو ایک پل بھر بھی مہلت نہ دی گئی اور ہر کام کا انجام اور ہر بات کی انتہا اسی رب ذوالجلال والاکرام کے ہاتھ میں ہے اور سب کام اسی کی طرف پھرتے ہیں اور ہم سب کو بھی لوٹ کر اس کے پاس جانا ہے اور یہ مضمون ہی تکرار کے ساتھ بار بار بیان کیا جاتا ہے تاکہ کسی جھٹلانے والے کے ذہن میں یہ غلط فہمی نہ رہے کہ صرف اس کو جھٹلایا جارہا ہے جب کہ وہ اپنی طرف سے اللہ کا پیغام سنارہا ہو تو پھر اس کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے غرض کیا ہے اس کو اپنا کام کرنا ہے اور چاہیے کہ وہ کرتا رہے۔
Ayah 35:5اے لوگو ! اللہ کا وعدہ حق ہے کوئی دھوکا دینے والا تم کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے
5 ۔ زیر نظر آیت میں وعدہ سے مراد بلا شبہ وعدہ قیامت ہی ہے جس کو انسان دنیوی زندگی میں مبتلا ہو کر اکثر بھول جاتا ہے اور دنیوی زندگی کی خواہشات اور اہوا اسکو آخرت یاد نہیں آنے دیتیں اور اس شہد کو چاٹنے میں انسان ایسا مصروف ہوتا ہے کہ آخرت کو بھول ہی جاتا ہے اور اس شہد کو چاٹتے ٹتے اس کی زندگی ہوجاتی ہے اس میں اس کو بتایا جارہا ہے کہ ہوشیار ہو کر اپنے ارد گرد کو دیکھو کہ کتنے لوگ ہیں جو یہاں سے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے رخصت ہوگئے اور آج ان کے نام ونشان بھی باقی نہیں رہا اور آنے والے کل میں تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے۔ اس کی وضاحت اسی جلد میں سورة لقمان کی آیت 33 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 35:6شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو دشمن سمجھو ورنہ مار کھاجائو گے
6 ۔ دھوکا ، فریب اور مکاری کا ایک نام شیطان ہے یا یوں کہو کہ شیطان مجسمہ ومکر ہے اس کا کام صرف اور صرف انسان کو دھوکے میں ڈالنا ہے اس لئے وہ تمہاری خیر خواہی کی سوگند کھائے ایک نہیں سو بار کہے تو بھی وہ فریب ہی کرے گا اگر وہ تم سے دوستی کے عہد و پیمان کرتا ہے تو کوئی نیا گل کھلائے گا چونکہ وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے کا کام ہے کہ وہ قسمیں کھاتا ہے تم بھی اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے تمہاری وجہ سے جو چوٹ اس کو لگی ہے وہ اس کو کبھی نہیں بھولا اور کبھی اور کبھی نہیں بھولے گا کیونکہ اس کی تکلیف وہ اب تک محسوس کررہا ہے وہ مانے یا نہ مانے بات اسی طرح ہے اس لئے تم اس کی میٹھی میٹھی باتوں میں نہ آئو کیونکہ وہ تو ہر لمحہ اس بات کی تلاش میں ہے کہ فرصت ملے تو وہ تمہیں ایسی دھوبی چال لگائے کہ صاف کرکے لٹا دے اور تم چت ہوجائو اور اس طرح دیکھو کہ اس کو بہت مزا آئے دیکھو ! تم نادان نہ بنو اور ایسے خطرناک دشمن سے ہمیشہ چوکنے رہو اور ایک بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جب وہ تم کو دشمن سمجھتا ہے تو تم بھی اس کو دشمن سمجھو کہ انسان اپنے دشمن سے اس وقت مار کھا جاتا ہے جب وہ اس کو دوست سمجھ لیتا ہے اور جب تک انسان اپنے دشمن کو دشمن سمجھتا رہے بہت کم مار کھاتا ہے۔ غور کرو کہ اس نے تمہارے دادا آدم کو کیا باور کرایا تھا ؟ دوست یا دشمن ؟ ظاہر ہے کہ دوست بن کر اس نے کہا تھا کہ میں آپ کو ایک نصیحت کرنے کے لئے آیا ہوں کہ اگر تم اس جنت میں ہمیشہ رہنا چاہتے ہو تو اس درخت سے کھالو جس سے تم کو روکا گیا ہے پھر کیا ہوا ؟ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ آدم حال و بےحال ہوتے اور معافیاں مانگ مانگ کر توبہ کر کرکے اور ناک رگڑ رگڑ کر اللہ سے معافی لی۔ اس لئے اس فریبی کو اگر تم نے صرف دشمن سمجھا تو انشاء اللہ مار نہیں کھائو گے۔ دوبارہ سن لو کہ وہ خود دوزخی ہے اور اپنے ساتھ بہت سی جمعیت لے جانے کا اس نے تہیہ کررکھا ہے۔
Ayah 35:7کافروں کے لئے عذاب اور مومنوں کے لئے بخشش واجر بےحساب ہے
7 ۔ اب دونوں گروہوں کو الگ الگ کرکے بیان کیا جارہا ہے ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے شیطان کو دوست بنالیا اور اس کے دھوکے میں آگئے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس کو دشمن سمجھا اور اس کے دائو سے بچ گئے۔ پہلے گروہ کو کافروں کا گروہ کہا گیا اور فرمایا ان کے لئے تو سخت عذاب ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور ان سے جو غلطیاں ہوئیں ان کی اللہ سے بخشش طلب کی تو ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ گویا شیطان کے دوستوں کے لئے جتنا بڑا عذاب ہے اس کو دشمن سمجھنے والوں کو اتنا ہی بڑا اجر بھی دیا جائے گا اس طرح گزشتہ آیت کا مفہوم زیر نظر آیت نے مزید واضح کردیا۔
Ayah 35:8بلا شبہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو برے اعمال ان کی نگاہوں میں اچھے نظر آنے لگتے ہیں
8 ۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت بڑی اصل انسان کو سمجھائی جارہی ہے بشرطیکہ انسان کو سمجھنے کی کوشش کرے ایک انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے اور وہ گناہ اس کا ابتدائی ہوتا ہے تو اس کا اپنا دل ہی اس کو لعن طعن کرتا ہے بلکہ بعض اوقات سخت احتجاج بھی کرتا ہے لیکن جب وہ دل کی اس آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس پر کان نہیں دھرتا تو اس کا اپنا ہی نفس اس کو اطمینان دلانے لگتا ہے اور وساوس پیش کرنے لگتا ہے اور یہی قرین ہے جس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ { بئس القرین } قراردیا ہے۔ اسی طرح کرتے کرتے وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ انسان کو گناہ گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا بلکہ وہی عین صواب نظر آنے لگتا ہے اور یہاں پہنچ کر وہ وقت آجاتا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ
ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ ایسے مرض کے صحت یاب ہونے کی بہت ہی کم امید ہوتی ہے کہ انسان گناہ کرے اور اس کو گناہ نہیں بلکہ عین ثواب سمجھے اور اس کی نظروں میں وہ کام اچھا نظر آنے لگے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو کہا جارہا ہے کہ ایسے انسانوں کے لئے اپنی جان کو مت ضائع کرنے لگو کہ ان کا درد اور غم لے کر بیٹھ جائو اور ان کے افسوس پر تمہارے جان مت گھلنے لگے اگر مشیت ایزدی نے ان کو دوزخ ہی کی خاطر تیار کرنا چاہا ہے تو آپ کے اختیار میں ان کو ہدایت دینا نہیں ہے اور خیال رکھو جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں اس کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام اچھی طرح جانتا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 35:9نشانات آفاق سے دوبارہ وہ اٹھائے جانے پر استدلال قائم کیا جارہا ہے
9 ۔ ہوا اور بادل کا تعلق نشانات آفاق سے ہے فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے ہوائوں کو بھیجا اور وہ بڑے بڑے بھاری بادلوں کو اپنے کندھوں پر لادے دوڑتی چلی آرہی ہیں اور وہ ان کو اس طرح ہانکتی ہوئی چلی آرہی ہے کہ گویا بختی اونٹوں کا ایک جھنڈ ہے جو گردنیں لمبی کیے ہوئے دوڑتا آرہا ہے یہ ہوائیں ان کو کہاں لے جارہی ہیں جہاں کا ان کو حکم ملا ہے فرمایا ان کو حکم ہے کہ ان کو جلدی اس شہر پر لے چلو جس کی زمین مکمل طور پر مرچکی ہے اور جس کے جسم میں زندگی کا نشان بھی موجود نہیں ہے اور پھر کیا ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس مروہ شہر پر ان بادلوں سے پانی برسانا شروع کردیتا ہے اور زیادہ دیر نہیں لگتی کہ اس مردہ شہر کی زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اور انسان جدھر دیکھتا ہے اس کو ہر طرف ہریاول ہی ہریاول نظر آنے لگتی ہے یہ ایک مثال ہے اگر تم اس کو سمجھنے کی کوشش کرو تو جس طرح موت کے بعد اس زمین کی زندگی آنے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگی اس طرح تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا ہے کہ ایک آواز بلند ہوگی بالکل اسی طرح جس طرح ہوائوں نے دوڑا کر تمہارے سامنے بادل کو کہیں سے کہیں برسایا اسی طرح وہ اس زندگی کو ایک ہی آواز سے لاکر تمہارے سامنے کھڑا کردے گا اور نہ ماننے والے دیکھتے ہی دیکھتے رہ جائیں گے کہ ایک طرف تو ابھی انکار جاری تھا اور دوسری طرف اللہ رب العزت کے سامنے کھڑا بھی کردیا۔ تم کو یہ ایک مثال دی گئی ہے اگر تم کو دیدہ بینا میسر ہے تو دیکھو گے کہ تم جدھر نظر اٹھاتے ہو ادھر ہی اس کی مثالیں تمہارے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں لیکن یہ سب کچھ اس آنکھ کے لئے تو مطلق بیکار ہے جس آنکھ نے اس کی طرف کبھی دیکھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔
Ayah 35:10تم کو عزت کی تلاش ہے تو وہ اللہ کے پاس ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح اسی کی طرف بڑھتے ہیں
10 ۔ آخرت سے انکار ہے تو آخر کیوں ؟ اچھے اعمال کی طرف رغبت نہیں تو آخر کیوں ؟ اس لئے کہ جتنے و ڈیرے ہیں خواہ مذہبی پیشوا اور راہنما ہیں اور خواہ وہ دنیوی جاہ و جلال کے خمار میں مست ہیں تو اب وہ اس مستی سے نکلیں تو کیسے اس لئے کہ ایک طرف وہ اپنے اس جاہ و جلال ، اپنی پیشوائیت اور لیڈری پر نظر رکھتے ہیں تو دوسری طرف ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس نظر آتی ہے جو ایک در یتیم ہے اور اس دنیوی زندگی کے مال ومتاع میں سے کسی چیز کی بھی فراوانی اس کو حاصل نہیں ہے۔ اس عزت کی متلاشیوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر ہم اس دریتیم کی بات کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں تو عزت خاک میں ملتی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اپنے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ کتنے کوتاہ اندیش ہو تم ، تم نے یہ سارا کاروبار محمد ﷺ کا سمجھ لیا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام جو ساری عزتوں کا اصل مالک ہے اس کی طرف تم نے نہیں دیکھا حالانکہ عزت جس کے تم خواہاں ہو وہ تو ساری کی ساری اسی رب ذوالجلال والا کرام ہی کے پاس ہے عزت جس کو ملی ہے اسی سے ملی ہے اس لئے تم کو یہ کتنی بڑی غلطی لگی ہے کہ تم نے عزت جیسی چیز کو بےعزت لوگوں کے پاس تلاش کرنا شروع کردیا ہے تف ہے تمہاری سوچ پر کہ تم نے کتنی گھٹیا حرکت شروع کی ہے اس کی مزید وضاحت سورة منافقون میں ملے گی۔ فرمایا جتنے اچھے کلمات ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف صعود کرتے ہیں اور پاکیزہ کلمات اور اچھے اعمال کو بلند کرنا صرف اور صرف رب کریم ہی کا کام ہے اور ان کی نسبت بھی اسی کو زیب دیتی ہے اور ہر قول طیب اور ہر عمل صالح اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور بلا شبہ یہ دونوں لازم وملزوم ہیں کیونکہ کوئی عمل اس وقت تک عمل صالح نہیں کہا جاسکتا جب تک عمل صالح اس کی تصدیق نہ کرے اور اس سے صرف ایک صورت مستثنیٰ قراردی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان عقیدہ صالح کا اعلان کرے اور عمل صالح کا اس کو وقت ہی میسر نہ آئے کہ اس کی زندگی کا دیا بجھ جائے اس کے سوا دوسری کوئی صورت نہیں ہے مثلاً ایک شخص زبان سے کہتا ہے کہ میں صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کو معبود مانتا ہوں مگر عملاً وہ غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے ، غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے اور اپنے نفع ونقصان کا مالک غیروں کو جانتا ہے تو وہ بلا شبہ جھوٹا ہے اور اس کی زبان کا کچھ اعتماد نہیں ہے مکہ والوں کے اس شرک کو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے رہے وہ لوگ جو دن رات برے مکر کرتے ہیں اور اس طرح کی تحریکیں چلاتے ہیں جو سراسر کتاب وسنت کے خلاف ہیں اور اپنی چالاکیوں اور فریب کاریوں کو فروغ دینے دینے کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور ان کے مقابلے میں کلمہ حق کو نیچا دکھانے کے لئے بری سے بری تدبیر استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے ان کے لئے ایک تو دنیا میں بھی سخت عذاب ہے اور آخرت بھی ان کی یقینا برباد ہے اور ان کی ایسی تدبیروں کو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خاص کر وہ آخرت کی ناکامی سے ضرور دوچار ہو کر رہیں گے۔
Ayah 35:11نشانات آفاق سے نشانات انفس کی طرف مضمون کو منتقل کرکے استدلال کیا جارہا ہے
11 ۔ ” اور اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا “ ظاہر ہے کہ یہ انسان کی پہلی پیدائش کی طرف اشارہ ہے جو توالد وتناسل کے ضابطہ سے مستثنیٰ تھی اس پیدائش میں کتنے انسان پیدا ہوئے ؟ خواہ وہ کتنے ہوں بہرحال وہ پیدائش اول ایک ہی سلسلہ تخلیق رکھنے کے باعث ایک ہی قسم کی پیدائش تصور کی جائے گی جس کے ہادی ورہنما کو آدم سے موسوم کیا گیا اور اس پیدائش میں مرد و عورت دونوں کا ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک جنس کی دواصناف ہیں اور دونوں الگ الگ ہوں تو کسی ایک کی بھی انسانیت کی تکمیل نہیں ہوتی اور دونوں کے ملنے سے دونوں ہی کی انسانیت کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ یہ نظریہ کہ پہلے فقط آدم ایک ہی جان کو پیدا کرکے اس جان میں سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور وہ بھی اس کی بائیں پسلی سے یہ نظریہ صحیح نہیں ہے اور اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی ، جلد دوم سورة النساء کی پہلی آیت میں بیان کر آئے ہیں اور اسی طرح پیدائش جو توالد وتناسل سے مقرر کی گئی اس کے لئے زوجین کا ہونالازم قرار پایا اور اسی طرح یہ بھی کہ جو پیدائش توالدوتناسل کے اصول سے پہلے کی ہے وہ محض تخلیق ہے کسی کی اولاد نہیں کہلاتی مثلاً یہ کہ آدم بےماں باپ ہیں اس وجہ سے وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں اور دوسری پیدائش انسانی جس کو اصول توالد وتناسل سے تعلق ہے وہ باقاعدہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور ان میں سے کوئی انسان بھی قیامت تک اس سے آزاد نہیں ہے اگرچہ لوگوں نے ہر دور میں کسی نہ کسی انسان کو بےباپ یا بغیر ماں باپ کے تسلیم کیا ہے بلا شبہ یہ قومی توافق ہے اسلامی نظریہ نہیں۔
” پھر تم کو نطفہ سے پیدا کیا۔ “ نطفہ سے پیدائش کا جو اصول مقرر کیا گیا اس اصول میں بھی اصل یہی ہے کہ پیدائش کا فعل پھر بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نسبت رکھتا ہے اس لئے کہ اس کا فاعل یعنی خالق وہی ہے اور اس نے اپنے وعدہ مشیت کے مطابق انسان کی پیدائش کا یہ سلسلہ نطفہ سے مقرر کردیا ہے اور زوجین میں سے اس کا بیج حاصل کرنے کا اصول اس احکم الحاکمین نے مقرر کیا ہے اور اب یہ اصول قیامت تک بدستور قائم رہے گا اگرچہ اس بیج کے مصنوعی طریقے بھی ایجاد کرلئے جائیں اصول اپنی جگہ بدستور قائم رہے گا اور آج کل نئی ٹیکنالوجی نے جو صرف ایک صنف سے بیج حاصل کرکے پیدائش کرنے کا تجربہ حاصل کیا ہے یہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان پر دو اصناف میں دونوں قسم کے بیج موجود ہیں جن کے ملانے کا فطری طریقہ تو وہی ہے جو مقرر ہے اور سب کو معلوم ہے رہا غیر فطری طریقہ تو وہ بیج حاصل کرنے کا بھی غیر فطری طریقہ ہے اور بیج رکھنے کا بھی غیر فطری طریقہ ہے لہٰذا اس غیر فطری طریقہ سے بیج کو ایک صنف سے لے کر اسی صنف کے ایک دوسرے فرد میں غیر فطری طریقہ سے منتقل کرنے سے وہ ضابطہ نہیں بدلتا۔ ہاں ! اس غیر فطری طریقہ سے کی گئی پیدائش سے آگے پیدائش کا کوئی طریقہ تشکیل نہیں دیا جاسکتا اور یہ ہمارا چیلنج ہے جس کی وضاحت ہم نے جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 54 میں بیان کردیا ہے۔
” پھر تم کو جوڑا جوڑا بنایا “ پیدائش انسانی کے ضابطہ کے لئے اصلین کے لازم کرنے کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نطفہ کی پیدائش تو دونوں اصناف میں موجود ہے لیکن اس کے ملنے کا فطری طریقہ زوجین کے ملنے سے وابستہ کردیا گیا ہے تاکہ دونوں اصناف ایک دوسرے سے تسکین حاصل کرکے اس زندگی کے بار کے ساتھ ساتھ وہ اس طرح لطف اندوز ہوں کہ فطری طور پر اس کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں اور یہ وہی بات ہے جس کو ہماری زبان میں ایک پنتھ دو کاج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
” نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اس کے علم میں ہے “۔ وہ جانتا ہے کہ کون سی مادہ فطری طور پر جائز طریقہ سے حاملہ ہوئی اور کون سی مادہ غیر فطرطور پر ناجایز طریقہ سے حاملہ ہوئی ہے اور یہ جائز وناجائز کی بحث شرعی قواعد کے مطابق ہے ورنہ ہر مادہ کے حاملہ ہونے کا طریقہ ایک ہی ہے فطری طور پر بھی اور غیر فطری طریقہ سے بھی۔ اور پھر کو کچھ اس حمل سے واضح ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ ، وہ کامل ومکمل ہے یا یہ کہ نامکمل اور ناتمام گویا یہ کہ جو کچھ رحم مادہ میں کمی بیشی ہوئی ہے اس سے بھی وہ خوب واقف ہے وہ جانتا ہے کون کون سی اجناس قریب الجنس ہونے کے باعث ایک تیسری جنس کو جنم دے سکتی ہیں اور کون کون سی اجناس بعیدالجنس ہونے کے باعث پیوند کاری کے قابل نہیں ہیں اور اس طرح انسان کہاں کہاں غیر فطری طریقہ سے پیوند کاری کرسکتا ہے اور کہاں نہیں کرسکتا اور جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جائے گا یہ سربستہ راز کھلتے جائیں گے اور دو قریب الجنس اجناس میں سے ایک تیسری جنس پیدا ہوجائے گی اور یہ بھی کہ قریب الجنس اجناس سے جو جنس پیدا ہوگی وہ کس طرح بعید الجنس ہوجائے گی کہ آئندہ اس سے نہ تو طبعی جوڑ لگ سکے گا اور نہ مصنوعی طور پر جوڑ لگایا جاسکے گا۔
” اور نہ کسی شخص کی عمر زیادہ کی جاسکتی ہے اور نہ کم کی جاتی ہے مگر یہ سب کچھ کتاب میں لکھا جاچکا ہے “۔ جتنی عمر کسی کو ملی ہے اس میں کسی کے کہنے سے کمی بیشی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس کمی میں بیشی اور بیشی میں کمی کی یا کرائی جاسکتی ہے اس معاملہ میں جتنی باتیں ہمارے ہاں بیان کی جاتی ہیں سب فرضی اور اختراعی کہانیاں ہیں جو نادانوں نے بزرگوں کے نام منسوب کردی ہیں اور اس طرح انسانی زندگی کو بڑھانے سے آبادی کو کم یا زیادہ کرنے کے جتنے منصوبے بنائے گئے ہیں اور بنائے جا رہے ہیں سب کے سب اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے ہاں بےکار اور ناکارہ ہیں اس لئے کہ جرائم میں اضافہ کا باعث ہوتے ہیں۔ تاہم جو منصوبہ جس کو تیار کرتا ہے اس کی وضاحت بھی علم الٰہی میں موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان ساری چیزوں کا طے ہونا اور اس کے علم میں موجود ہونا کوئی مشکل چیز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مشکل ہو اس کا تصور ہی صحیح نہیں کیونکہ اس نے ہر ایک چیز کے لئے ایک اصول مقرر کردیا ہے اور وہ اسی کے مطابق ہوتی چلی جارہی ہے۔
Ayah 35:12غور کرو کہ میٹھا اور ٹھنڈا ، کھاری اور کڑوا کبھی برابر ہوتے ہیں ؟
12 ۔ غور کرو کہ پانی کے دو طرح کے ذخائر پائے جاتے ہیں ایک وہ ذخیرہ ہے جو ٹھنڈا اور میٹھا ہے اور ایک وہ ہے جو کھاری اور کڑوا ہے اور دونوں ذخائر کا ملاحظہ زمین کے اندر بھی کیا جاسکتا ہے او سمندر کے اندر بھی۔ زمین کے اندر کی مثال ہمارے ان ہینڈ پمپز Hend Pumps سے دی جاسکتی ہے کہ ایک جگہ نل لگایا تو پانی کھاری اور کڑوا نکل آیا اور قریب ہی دوسری جگہ لگایا تو پانی میٹھا اور ٹھنڈا دستیاب ہوگیا حالانکہ دونوں کی گہرائی ایک ہی ہے اس میں بھی کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی اور سمندر میں دونوں طرح کے پانی مشاہدہ کیے جاچکے ہیں جو دور تک ساتھ ساتھ چلنے کے باوجود ایک دوسرے میں نہیں ملتے حالانکہ ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے بلکہ ان کے اندر کی خاصیت ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتی۔ اور یہ بات تو عام ہے کہ آدمی اس پانی کو پی سکتا ہے جو ٹھنڈا ہونے کے ساتھ میٹھا بھی ہے اور کڑوا اور کھاری حلق سے کب اترتا ہے اس کی تفصیل ہم پیچھے جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 53 میں کر آئے ہیں وہاں سے تفصیل آپ دیکھ سکتے ہیں۔
اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور دونوں ہی سے زیبائش کی چیزیں بھی حاصل کرتے ہو۔ “ فرمایا پھر تم غور کرو کہ ان دونوں پانیوں سے مچھلیاں حاصل کرتے ہو اور ان کو بطور خوراک بھی کھاتے ہو اور بطور دوا بھی استعمال کرتے ہو اور دونوں پانیوں میں ایک ہی طرح کی مچھلی ہونے کے باعث ان کی غذائیت میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کے مزہ اور جنس اور رنگ ڈھنگ میں کوئی فرق تم کو نظر نہیں آتا اور علاوہ ازیں دونوں ہی پانیوں سے موتی اور مونگے اور اسی قبیل کی دوسری بہت سی اشیاء تم حاصل کرتے ہو اور وہ بھی تم کو دونوں جگہ دستیاب ہوتی ہیں لیکن ان کی ہیئت اور ڈیل ڈول میں بھی کوئی فرق نہیں رکھا گیا جس سے تم پہچان جائو کہ یہ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے ہیں اور یہ کھاری اور کڑوے پانی کے۔ اگر تمہاری کھوپڑی میں عقل نام کی کوئی چیز موجود ہے تو ذرا غور کرو کہ ان پانیوں میں فرق کس نے کیا اور ان موجودہ چیزوں میں کس نے فرق نہیں ہونے دیا اور وہ کون ہے جس کی کرشمہ سازیوں کا نتیجہ تم مشاہدہ کرتے ہو۔ یہیں کیا بس ہے ؟ اس کے واقعات کا سلسلہ تو بہت وسیع و عریض ہے ذرا آنکھ کھولو یہ ” منوڑہ “ ہے اور یہ ” کلفٹن “ ہے ذرا گردن کو اوپر اٹھائو اور ان بھاری بھرکم سمندری جہازوں کو ملاحظہ کرو کہ وہ اپنی پشتوں پر ہزاروں مسافروں کو اور لاکھوں من سامان کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے سمندر کی موجوں کو چیرتے چلے آرہے ہیں اور یہاں سے دوسرے ممالک کی طرف رواں دواں ہیں اور انہی جہازوں کے ذریعہ تم دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرتے ہو ، کروڑوں من کی بھاری اشیاء اسی پانی کے ذریعہ تم ایک ملک سے دوسرے ملک کو لاتے لے جاتے ہو تاکہ اس سے نفع حاصل کرو اور اپنے کاروبار کو چلاتے رہو اور اپنی ضرورت کی اشیاء لاتے لے جاتے رہو۔ آخر یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ تم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائو اور قدرت خداوندی کے ان مظاہر کی طرف توجہ کرو اور اپنے رب کی قدرتوں کا اندازہ کرکے اس کے شکر گزار بندے بن جائو اور توحید الٰہی کا اقرار کرکے اور مکمل ایمانداری کیس اتھ کام کرکے اپنی آخرت کو بھی سنوار لو اگر تم سنوارنا چاہتے ہو۔
Ayah 35:13دن کو رات اور رات کو دن میں داخل کرنے والا اور ہرچیز کو مسخر کرنے والا اللہ ہی ہے
13 ۔ تمہاری زندگی کی آسائش و آرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان اجرام فلکی اور سماوی میں کیا کیا تبدیلیاں رکھ دی ہیں کہ کبھی رتا بڑھتی چلی جارہی ہے تو کبھی دن اور کبھی دن گھٹتا جارہا ہے اور کبھی رات ، نہ تو سال بھر کا موسم ایک ہے اور نہ ہی ان اجرام فلکی کے پورے سال کے راستے ایک جیسے ہیں کبھی سورج کا راستہ کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ بلکہ چاند کو دیکھو تو وہ ہر روز کمہوتا اور بڑھتا تم کو نظرآئے گا ، چاند کی یہ کمی بیشی اور سورج اور چاند کے راستوں کی تبدیلی یہ سارا کچھ خواہ مخواہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص نظم وضبط کے تحت ہے نہی تبدیلیوں نے تمہارے لئے مختلف راحت کے سامان پیدا کردیئے ہیں اگر موسم کی یہ تبدیلی ختم کردی جائے تو تمہاری زندگی کی کتنی ہی خوشیاں نیست ونابود ہوجائیں۔ بلا شبہ گرمی کی شدت تم کو گھبرا دیتی ہے لیکن اس گھبراہٹ کو دور کرنے کے لئے جو سامان تم مہیا کرتے ہو جب وہ تم کو مہیا ہوجاتے ہیں تو تمہارا دل کتنی خوشی محسوس کرتا ہے اس طرح سردی کی شدت سے تم ٹھٹھرتے ضرور ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اس سردی کو دور کرنے کے جو سامان تم نے تیار کر رکھے ہیں ان کے حصول کے لئے تمہیں جو محنت اور مشقت کرنی پڑتی ہے وہ سب کافور ہوجاتی ہے جب تم ان کو ایک بار پہن کر دوسرے کے سامنے آتے ہو۔ یہ اجرام فلکی چل رہے ہیں اور ان سب کا چلنا اور سب کی گردش میں تمہاری زندگی کے سامان رکھ دیئے ہیں اور یہ سب کچھ ایک خاص اندازے اور خاص بندھن کے ساتھ اسی طرح باندھ دیا گیا ہے کہ ذرا اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اس کی تفصیل دراصل عروۃ الوثقی ، جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 27 جلد ششم سورة الحج کی آیت 61 جلد ہذا سورة لقمان کی آیت 29 میں کردی گئی ہے ان مقامات کا مطالعہ کریں۔
” یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی حکومت اور بادشاہی ہے “ جس نے اتنے اتنے بڑے اجرام سماوی اور زمین کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تمہاری روزی اور سامان عیش و عشرت کے لئے یہ اپنا کام جاری رکھیں اور اس میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں۔ یہی تمہارا رب اور روزی رساں ہے ، اسی کے قبضہ قدرت میں تمہارا نفع ونقصان ہے ، وہی تمہارا حاکم اور بادشاہ حقیقی ہے ، تم خود اور تمہاری ہرچیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ” وہ لوگ جن کو تم اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو وہ تو گٹھلی کے ایک تاگے کے بھی مالک نہیں ہیں “۔ اور جس چیز کو تم ان کی ملکیت سمجھتے ہو وہ تو سراسر تمہاری نظر کا دھوکا ہے جس کو تم ان کی ملکیت خیال کرتے ہو اس کو دیکھو کہ کتنا عرصہ ہوا کہ وہ ان کی ملکیت میں آئی اور وہ کہاں ہیں جن کی ملکیت میں وہ اس سے پہلے پائی جاتی تھی ابھی تھوڑی دیر توقف کرو تو ہرچیز ان کے نام سے بھی منتقل ہوجائے گی پھر یہ مالک کیونکر ہئے اگر مالک ہوتے تو اپنی ملکیت بحات رکھتے ۔ یہ عارضی ملکیت بھی تو اسی مالک حقیقی کے انعامات میں سے ایک انعام ہے اگر تم سمجھو۔ تعجب ہے کہ آج جن جن کو تم نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا ہے یہ سب کے سب خود اپنی زندگی میں مشکلات میں گھرے رہے لیکن وہ اپنی مشکلات کا مداوا نہ کرسکے پھر تم اس دھوکا اور فریب میں کیوں مبتلا ہوگئے اور تم نے ان کو جو خود مجبور محض تھے اپنا حاجت روا اور مشکل کشا کیسے تسلیم کرلیا اور کیوں تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کا قائم مقام بنالیا اپنی عقل کو سیدھا کرو اور ابھی وقت ہے سمجھ جائو ورنہ وقت گزر جانے کے بعد پچھتائو گے لیکن اس پچھتاوے سے تم کو کچھ بھی فائدہ نہ ہوگا۔ { قطمیر } وہ باریک چھلکا جو گٹھلی پر ہوتا ہے یا وہ باریک ڈورا جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے اور اس سے مراد حقیر ، بےمقدار اور جس کی کوئی حیثیت قائم نہ ہوتی ہو۔ (المفردات) اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے مقابلہ میں ہر انسان کی یہی وقعت اور یہی قدرت و قیمت ہے جس طرح اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے خواہ وہ انسان کون ہو اور کیسا ہو ؟
Ayah 35:14تم ان کو پکارو تو وہ سن سکیں اور اگر سنیں تو جواب نہ دے سکیں تو ان کی حیثیت کیا ہوئی ؟
14 ۔ انسانوں کے بنائے گئے معبودوں کا یہی حال ہے خواہ وہ کون ہوں اور کیسے ہوں ؟ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تم ان کو بلائو اور پکارو تو ان کو تمہارے اس بلانے اور پکارنے کی کیا خبر ؟ اور اگر وہ زندہ ہوں جیسا کہ اکثر لوگ پیروں ، فقیروں اور بزرگوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں فرمایا اگر تم ان کو جو زندہ ہیں سنوالو گے تو وہ تمہاری اس بات کو پورا ہی کب کرسکیں گے کیونکہ ان کے پاس اختیار تو ہے نہیں پھر الر کوئی بات سن بھی لے لیکن اس کے پورا کرنے کی طاقت وہمت اس میں نہ ہو تو اس کے سننے اور تمہارے سنانے کا آخر فائدہ ؟ فرمایا قیامت کے روز ” یہ لوگ تمہارے شریک ٹھہرانے سے کھلا انکار کریں گے “ کیونکہ ان میں جو فرشتے اور اللہ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کے شریک بنالیے گئے انہوں نے آخر لوگوں کو اپنے شریک بنائے جانے کی کب دعوت دی تھی کہ اب وہ تمہاری مدد کریں بلا شبہ انہوں نے کہا تھا بلکہ داتا تو تم نے خود ان کو سمجھا تھا انہوں نے تو یہ تعلیم نہیں دی تھی اور برے لوگ اس لئے انکار کریں گے کہ اب انہوں نے اس عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہوگا اور دیکھتے ہی ان کے طوطے اڑ چکے ہوں گے۔ یادرکھو اور کان کھول کر سن لو کہ ” جس طرح کامل علم کے ساتھ تم کو اللہ تعالیٰ آگاہ کررہا ہے اور کوئی نہیں کرسکتا “ اب تم کو بالکل صحیح حالات سے آگاہ کیا جارہا ہے کیونکہ تم کو آگاہ کرنے والا وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے جو ظاہر و باطن اور خفی ہرچیز سے بخوبی آگاہ ہے اب تم خود ہی غور کرلو کہ اس ذات الٰہ کیس وا کوئی اور ایسی ہستی بھی ہے جو اس طرح تم کو آگاہ کرسکے جس طرح وہ اپنے کامل علم کی بنا پر آگاہ کررہا ہے بلاشبہ اس کے برابر آگاہی رکھنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ اس کی وضاحت عروۃ الوثقی ، جلدسوم سورة الاعراف کی آیت 193 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اسی طرح جلد پنجم میں سورة کہف کی آیت 52 اور سورة القصص کی آیت 64 میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 35:15اے لوگو ! تم سب محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہی غنی ہے ، تعریف کیا گیا
15 ۔ انسان اور اغراض دونوں لازم وملزوم ہیں اور پھر انسان ہر غرض کے لئے محتاج ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی غرض پوری ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی ساری جائز اغراض کا جائز بندوبست کردیا ہے اس کی کوئی غرض ایسی نہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے بندوبست نہ کیا ہو اب انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اغراض کے لئے جائز اور درست کوشش اور جدوجہد کرے تاکہ وہ ان کو پورا کرسکے اس طرح انسان کے اندر جتنی خواہشات پیدا ہوسکتی ہیں ان سب کو پورا کرنے کا ایک جائز طریقہ بھی اور بہت سے ناجائز طریقے بھی ہیں اور یہ اس کے لئے امتحان رکھ دیا گیا ہے کہ وہ جائز طریقہ کو استعمال کر کے اپنی ضرورت کی چیز کو حاصل کرتا ہے یا ناجائز طریقہ کو استعمال کرکے پھر جائز طریقہ سے جو اس کو حاصل ہے اس پر قناعت کرنا ہی آخرت پر یقین رکھنا ہے اور ناجائز ذرائع کا استعمال کرنا ہی آخرت سے دوری اور اس عقیدہ کو تسلیم نہ کرنا قرار دیا جاتا ہے اب اس بات کو پیش نظر رکھو اور ایمانداری کے ساتھ سب سے پہلے تو اپنا ہی تجزیہ کرکے دیکھو اور پھر جس مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر کا چاہو تجزیہ کرو اور نتیجہ دیکھ لو کہ کیا نکلتا ہے حالانکہ ماننے کو تو ہر مسلمان آخرت کی زندگی کا اقراری ہے لیکن اس اقرار میں کون صحیح ہے اور کون غلط تم سب پر روشن ہوجائے گا۔ مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں سارے انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تم تو ہر ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے محتاج ہو اگر وہ نگاہ کرم کو ایک منٹ کے لئے بھی ہٹائے تو دنیا اندھیر ہوجائے وہ تم کو اگر اپنی تسبیح و تہلیل کے لئے کہتا ہے تو اس میں بھی اس کا نہیں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے اگر تم سمجھو۔
Ayah 35:16وہ چاہے تو تم سب کو جائے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لا کر بسادے
16 ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا انسان کے لئے ذرا بھی مشکل ہو کیونکہ یہ لانے اور لے جانا کا قانون پہلے ہی اپنا کام کررہا ہے اور مشیت الٰہی کے فیصلہ کے مطابق یہ آنا جانا بدستور چل رہا ہے اور جب تک اللہ نے چاہا چلتا رہے گا۔ غور کرو کہ تمہاری عمر کتنی ہے ؟ فرض کیا کہ تیس سال تو تم ان تیس سالوں سے پہلے کہاں تھے ؟ پھر دیکھو کہ اس وقت اس تیس سال کی زندگی میں تم کتنے مکانوں ، زمینوں ، کارخانوں ، فیکٹریوں اور اسی طرح کی بیشمار دوسری چیزوں کے مالک ٹھہرے لیکن کبھی غور کیا تم نے کہ تیس سال پہلے یہ چیزیں کس کی ملکیت میں تھیں ؟ پھر تمہاری ملکیت میں کیسے آگئیں ؟ بالکل اسی طرح زیادہ سے زیادہ چندمزید سالوں کے بعد تمہاری یہ ملکیت یقینا بدل جائے گی ، چیزیں رہیں گی لیکن ان کے مالک تمہارے سوا کچھ اور ہی لوگ ہوں گے جس طرح تم ایک جدید پیدائش اور جدید مالک ہوئے اسی طرح ان چیزوں کے جدید مالک آجائیں گے اور گزشتہ قوموں کا ذکر تم نے پڑھا اگر اللہ چاہے تو پوری قوم کی قوم کی یہ ملکیت بدل دی جاسکتی ہے اور بدلتی رہی ہے اس لئے وہ چاہے تو تم سب کو ایک بار اپنے ہاں بلا لے اور سارا کنٹرول دوسرے ہاتھوں میں دے دے۔
Ayah 35:17اگر وہ چاہے تو اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں
17 ۔ آنکھ جھپکنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کو اس نظام کے بدلنے ، ان ملکیتوں کے بدلنے میں اتنی بھی دیر نہیں لگتی لحظہ بھر میں وہ حکومتوں کو بدل کر رکھدیتا ہے۔ زندگی میں ہم نے کتنی بار دیکھا کہ ایک شخص نے قطعہ زمین خریدا اور اپنے نام انتقال کرانے کے لئے تحصیل ہیڈ کو ارٹر پہنچا ، انتقال ہوگیا لیکن ابھی اس انتقال کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی کہ ملکیت بدل گئی اور لوگوں نے نئے انتقال کے لئے سوچنا شروع کردیا اور یہی بات قرآن کریم نے زور دے کر بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مخلوق کو لے جانا اور دوسری کو لا بسانا کوئی مشکل نہیں ہے۔
Ayah 35:18قیامت کے روز کوئی ایک بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اگرچہ وہ کتنا قریبی ہو
18 ۔ ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ اس بوجھ سے مراد وہ مرئی بوجھ نہیں جو اینٹ ، پتھر اور لوہے کا ہوتا ہے بلکہ وہ غیرمرئی بوجھ ہے جو بداعمالیوں کا انسان اپنے سر اٹھا لیتا ہے اور اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد سوم سورة الانعام 164 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 15 میں گزر چکی ہے۔ خیال رہے کہ زیر نظر جلد میں سورة العنکبوت کی آیت 13 میں دوسروں کے بوجھ اٹھانے کا ذکر ہے وہ اس آیت کے خلاف نہیں ہے اس کی وضاحت محولہ آیت کے زیر تحت بیان کردی ہے۔
” اگر کوئی گراں بار کسی دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھوانے کے لئے پکارے گا بھی تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا خواہ وہ اس کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو “ اس جملہ نے پہلے جملہ کی مزید وضاحت کردی اور حق یہ ہے کہ جو تفصیل قرآن کریم نے اس کی کردی اس سے زیادہ ممکن ہی نہ تھی چناچہ ارشادالٰہی ہے کہ ” آخر کار جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز بلند ہوگی اس روز آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں ، اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا “۔ (عبس 33:8 تا 36) غور کیجئے کہ اس سے زیادہ کوئی عزیز اور بھی ہوسکتا ہے اور پھر جب ان کے بھاگنے کا قرآن کریم نے بیان کیا ہے تو اور کون ہوگا جو ہمت کرکے اس کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوگا۔ لیکن جو بدبخت اتنے شقی ہیں کہ کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کے سامنے اس طرح کے بیانات کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔
” آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بلا دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں “۔ آسمان سے بارش ایک ہی طرح کی ہوتی ہے لیکن کھیت میں اس کا اثر کیا ہوتا ہے اور پتھر میں کیا اور اگر یہ بارش گندگی کے ڈھیر پر برسے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ کسی سے مخفی نہیں اس لئے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ تو سب لوگوں کو ڈراتے ہیں اور تنبیہ کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی تنبیہہ سے سارے لوگ تو فائدہ نہیں اٹھاسکتے بلکہ بعض جن کے دلوں کی زمین گندی ہے ان پر تو اس بارش سے تعفن پیدا ہوجاتا ہے اور فائدہ اٹھانے والے ہی خوش نصیب ہیں جو رب ذوالجلال والا اکرام کا ڈر رکھتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں۔ بلا شبہ جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنی جان کے لئے اختیار کرتا ہے اس لئے کہ جب وہ اپنا دامن گناہوں سے پاک رکھتا ہے ، تقویٰ اور پرہیزگاری کو اپنا شعار بناتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو سنوار رہا ہے اور اس کی دنیا بھی سنور جائے گی اور اس میں سراسر اسی کا فائدہ ہے اور سب لوگوں کو خواہ وہ اچھے ہوں یا برے بہرحال سب کو اسی رب ذوا الجلال والاکرام کی طرف لوٹنا ہے اور اسی وقت سب کے سب اپنے کیے کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔
Ayah 35:19اندھا اور بینا کبھی یکساں نہیں ہوتے
19 ۔ قرآن کریم میں جہاں بھی { اعمیٰ } کا لفظ آیا ہے زیادہ تر اس سے مراد ان ظاہری آنکھوں کا نابینا مراد نہیں لیا گیا بلکہ دل کے اندھے ہی مراد لیا گیا ہے اور انبیاء کرام اور رسل عظام جن اندھوں جو باذن اللہ درست کرنے کرنے کے لئے تشریف لائے وہ وہی اندھے تھے جو دلوں کے اندھے تھے اور یہ بھی کہ ان ظاہری آنکھوں کا اندھا ہونا انسان کی اختیاری بات ہیں اس لئے ان اندھوں جن کی آنکھوں کی روشنی بالکل ضائع ہوچکی ہو وہ قوت ہی مردہ ہوجائے جو دیکھنے کے کام آتی ہے تو کبھی آنکھیں درست نہیں ہوسکتیں اس کے مقابلہ میں دل کا اندھا ہونا اختیاری بات ہے اور اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اندھا نہ رہے تو بلاشبہ وہ ہوسکتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے جہاں بھی ان دلوں کے نابینوں کا ذکر کیا تو ان کی آنکھوں ہی کے نابینا خیال کیا۔ ایسا کیوں کیا ؟ اپنی سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ چونکہ وہ خود بھی یا ان کی اکثریت بھی دلوں کی اندھی تھی اس لئے انہوں نے ان آنکھوں کی طرف لوگوں کو دھیان ہی نہ دینے دیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ اگر ان کے دلوں کی آنکھیں روشن ہوجائیں تو ان کو ہماری بینائی جاتے رہنے کا علم نہ ہوجائے ورنہ قرآن کریم نے تو اس مضمون کو اتنی بار بیان کیا اور اس طرح بار بار تصریف آیات کے ذریعہ بیان کیا کہ اس میں غلطی کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہیں تو عروۃ الوثقی ، جلد ششم سورة الحج کی آیت 46 کی تفسیر دیکھیں۔