Ayah 35:40جن لوگوں کو تم نے میرا شریک بنایا ہے ان کی کوئی تخلیق ؟ نہیں ! تو شرکت نامہ کی تحریر ؟
40 ۔ سوال کیا ہے ؟ یہ کہ اے پیغمبر اسلام ان سے پوچھو کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا ہے جنہیں تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ” اپنے شریکوں کو ؟ “ ہاں ! اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہ تھا ، ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا لیکن اس کے باوجود آخر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا شریک بنائے۔ یہ سوال کن لوگوں سے ہے ؟ اس وقت قریش مکہ سے اور اس وقت کے سارے دوسرے پرستاروں سے تھا خواہ کسی کی پرستش کرتے اور کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ پھر ہم سے ہے جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں اور پھر ان لوگوں سے ہے جو ہمارے بعد آئیں گے۔ قریش مکہ سے سوال تھا ؟ صحیح ہے اس لئے کہ انہوں نے لات ، منوۃ ، عزیٰ ، ود ، سواع ، یغوث ، یعوق ، نسر اور بیسیوں اور کو اپنا معبود بنایا لیکن دوسروں سے کیوں ؟ اس لئے کہ جس طرح قریش نے اپنے بزرگوں اور ولیوں کے مرنے کے بعد ان کی یاد میں ان کے بت تراشے بعینہ یہودونصاریٰ نے اپنے بزرگوں کو اللہ کا جزء یا شریک ٹھہرایا جیسے فرشتوں کو اور انسانوں کو جیسے عزیر اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح ، تو پھر ہم اس میں کیسے شامل ہوگئے ؟ اس طرح کہ انہوں نے اپنے بزرگوں ، ولیوں کے بت گھڑے اور ہمارے ہاں کے لوگوں نے قبروں کے ساتھ اپنا کام چلایا اور وہی حیثیت ان کو دی جو انہوں نے اپنے بتوں کو دی تھی اور پرستش نہ تو انہوں نے بتوں کی کی اور نہ ہی ہمارے ہاں کے لوگ قبروں کی کرتے ہیں انہوں نے صاحب بت کی پرستش کی اور ہمارے ہاں کے لوگوں نے صاحب قبر کی پرستش کی۔ اس لئے فرق جو رہا وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انہوں نے بت تراشے اور ہمارے ہاں ان گھڑے پتھر یا مٹی کے ڈھیر کی پرستش کی جانے لگی اور اس کے علاوہ اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف ناموں کا ہے کہ ان کے ہاں وہ نام تھے اور ہمارے ہاں کے نام اور ہیں اور اس طرح رہتی دنیاتک کے لوگوں کے یہ سوال بدستور قائم ہے۔
کفار سے چیلنج یہ کیا گیا ہے کہ اگر زمین و آسمان یا جو کچھ زمین و آسمان کے اندر ہے ان ساری چیزوں میں کسی کی کوئی شرکت ہے تو اس کا ثبوت دو اور اگر کسی کی کہیں پیدائش ہے تو اس کا ثبوت پیش کرو ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ہمارے ہاں کی روایتوں میں بدقسمتی سے اس کے ثبوت بھی پیش کیے گئے لیکن اس کے باوجود وہ مشرک ٹھہرے اور ہمارے ہاں کے لوگ پکے مومن کیونکہ وہ سواد اعظم ہیں ان کو کوئی کیوں مشرک کہے گا اور کہے گا تو کیا ان کے پاس کوئی الزام نہیں ہوگا جو وہ کہنے والے کو تھوپ دیں گے چناچہ تحریر ہے کہ ” خانقاہ میں ایک باپردہ خاتون اپنے منے کو چادر میں لپٹائے سینے سے چمٹائے زاروقطار رورہی تھی اتنے میں ایک ” مدنی منا “ دوڑتا ہوا آیا اور ہمدردانہ لہجے میں اس خاتون سے رونے کا سبب دریافت کیا ، وہ خاتون روتے ہوئے کنے لگی بیٹا میرا شوہر اپنے لخت جگر کے دیدار کی حسرت لیے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہ بچہ اس وقت پیٹ میں تھا اور اب یہی اپنے باپ کی نشانی اور میری زندگانی کا سرمایہ تھا۔ یہ بیمار ہوگیا میں اسے اس خانقاہ میں دم کروانے لارہی تھی کہ راستے ہی میں اس نے دم توڑ دیا۔ میں پھر یہ امید لے کر یہاں حاضر ہوئی کہ اس خانقاہ والے بزرگ کی ولایت کی ہر طرف دھوم ہے اور اس کی نگاہ کرم سے اب تھی بہت کچھ ہوسکتا ہے مگر وہ مجھے صبر کی تلقین کرکے اندر تشریف لے گئے ہیں۔ خاتون نے یہ کہا اور پھر بیٹے کو رونے لگی ” مدنی منے “ کا دل پگھل گیا اور اس کی رحمت بھری زبان پر یہ الفاظ کھیلنے لگے کہ محترمہ ! آپ کا منا مرا ہوا نہیں بلکہ زندہ ہے۔ دیکھو تو سہی کہ وہ حرکت کررہا ہے۔ دکھیاری ماں نے بےتابی کے ساتھ اپنے منے کی لاش پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو وہ سچ مچ زندہ تھا اور ہاتھ پیر ہلا کر کھیل رہا تھا۔ اتنے میں خانقاہ والے بزرگ اندر سے واپس تشریف لائے ، بچے کو زندہ دیکھ کر ساری بات مجھ گئے اور لاٹھی اٹھا کر یہ کہتے ہوئے ” مدنی منے “ کی طرف لپکے کہ تو نے ابھی سے تقدیر خداوندی کے سربستہ راز کھولنے شروع کردیئے۔ ” مدنی منا “ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور وہ بزرگ اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔ ” مدنی منا “ یکایک قبرستان کی طرف مڑا اور بلند آواز سے پکارنے لگا اے قبروں والو ! مجھے بچائو ! تیزی سے دوڑتے ہوئے بزرگ اچانک ٹھٹھک کر رہ گئے کیونکہ قبرستان سے تین سو مردے اٹھ کر اس ” مدنی منے “ کی ڈھال بن گئے اور وہ ” مدنی منا “ دور کھڑا اپنا چاند سا چہرہ چمکاتا ہوا مسکرارہا تھا اور اس بزرگ نے حسرت کے ساتھ ” مدنی منے “ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ، بیٹا ! ہم تیرے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے اس لئے تیری مرضی کے آگے اپنا سرتسلیم خم کرتے ہیں “۔ معلوم ہے کہ یہ ” مدنی منا “ کون تھا ؟ اس کا نام عبدالقادر تھا جو بعد میں شیخ عبدالقادر کے نام سے معروف ہوا اور آج ہم ان کو غوث الاعظم کے لقب سے یاد کرتے ہیں اور یہ بزرگ آپ کے نانا تھے۔ (الحقائق فی الحوائق) یہ تو متن تھا اب تفسیر ملاحظہ کریں :
” اسلامی بھائیو ! بیشک موت وحیات اللہ کے اختیار میں ہے لیکن اللہ اپنے کسی بندے کو مردے جلانے کی طاقت بخشے تو اس کے لئے کوئی مشکل بات نہیں ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو ہم مردہ زندہ کرنیوالا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر شیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ نے کسی اور کو مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اس کا یہ نظریہ یقینا حکم قرآنی کے خلاف ہے دیکھئے قرآن پاک میں سیدنا عیسیٰ روح اللہ کے مریضوں کو شفا دینے اور مردے زندہ کرنے کی طاقت کا صاف صاف اعلان ہے کہ { وابری الاکمہ والا برص واحی الموتی باذن اللہ } (القرآن) ” اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھوں اور سفید داغوں والے (کوڑھی) کو اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے “۔ امید ہے کہ شیطان کا وسوسہ جڑ سے کٹ گیا ہوگا۔
اس سید مودودی (رح) کا کوئی حواری کسی سے پوچھے کہ ” ہمارا لکھا ہوا کوئی پروانہ ان کے پاس ایسا ہے جس میں ہم نے یہ تحریر کیا ہو کہ فلاں فلاں اشخاص کو ہم نے بیماروں کو تندرست کرنے یا بےروزگاروں کو روزگار دلوانے یا حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرنے کے اختیارات دیئے ہیں تو اس کی کوئی سند تمہارے پاس موجود ہے تو لائو اسے پیش کرو “ تو تم فورا قرآن کریم کی سورة آل عمران کی آیت 49 اور حدائق کی یہ عبارت ان کو پیش کردو اور پھر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ رہیں اس طرح کی کہانیاں تو وہ ایک یا دو نہیں بیسیوں نہیں ، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں تحریری طور پر ہم کو مہیا کردیں گے کہ ہمارے ہاں کے کتنے مارنے اور جلانے والے موجود ہیں۔ مشرکین مکہ کے پاس موجود نہ ہوں یہ ممکن ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے اور ہم ماشاء اللہ پکے اور سچے مسلمان ہیں بات تو ان مشرکروں کی ہورہی تھی لیکن ان مشرکوں کی بات کیسے یہاں شروع کردی اس کو تفسیر بالرائے کہتے ہیں اور رائے سے تفسیر کرنے والا ہی تو پکا دوزخی ہے۔
غور کیجئے کہ قرآن کریم کی آیات کا مفہوم غلط بیان کرکے جن مردوں کی قرآن کریم نے بات کی تھی ان کا ذکر چھوڑ کر طبعی موت مرے ہوئوں کو مراد لے کر ہمارے مفسرین نے حقیقت کو کہاں سے کہاں لاکھڑا کردیا لیکن انہوں نے سیدھی اور صاف بات کہنے والوں کو اب بھی برداشت نہ کیا اور ان کے طرح طرح سے نام بگاڑے اور ان پر پھبتیاں کسیں۔ فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون۔
فرمایا ” یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیئے جا رہے ہیں “ یہ پیشوا اور پیر ، پروہت اور کاہن یہ واعظ اور مجاور اور ان کے ایجنٹ محض اپنی دکانیں چمکانے کے لئے عوام کو الو بنارے ہیں اور اس طرح کے قصے گھڑ گھڑ کر لوگوں کو یہ جھوٹے بھروسے دلا رہے ہیں کہ خدا کو چھوڑ کر فلاں فلاں ہستیوں کے دامن تھام لو گے تو دنیا میں تمہارے سارے کام بن جائیں گے اور آخرت میں تم چاہے کتنے ہی گناہ سمیٹ کرلے جائو وہ اللہ سے تمہیں بخشوالیں گے تم ان وہابیوں کے دھوکے میں نہ آئو یہ بتوں پر اترنے والی آیتوں کو نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں پر پڑھ پڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
Ayah 35:41اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے ذرا سرک جائیں تو کیا ہو ؟
41 ۔ مانو نہ مانو تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ تمہارے شریکوں کا آسمان و زمین کی تخلیق میں کسی قسم کا برائے نام بھی حصہ نہیں نہ علی ؓ مشکل کشا کا ، نہ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کا اور نہ علی ہجویری (رح) کا اور نہ صابر کلیری (رح) کا۔ منہ بنائو یا منہ بسورو حقیقت بہرحال حقیقت ہی ہے اب ہم سے سنو ! ہم تم کو بتا رہے ہیں کہ اس کارخانہ ہستی کو بنانے والا بھی وہی ہے اور چلانے والا بھی وہی ہے۔ زمین کا یہ کشادہ فرش اسی نے بچھایا ہے اور آسمانوں کا یہ محیرالعقول سائبان اسی نے تان رکھا ہے اور ہر ایک چیز کو اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرایا ہوا بھی اسی نے ہے۔ سارے آسمان اسی کے حکم سے اپنے اپنے مقام پر استادہ ہیں اور کرہ زمین کو اس بےکراں فضا میں جہاں اور جس جگہ اس نے فٹ کردیا ہے وہاں سے ایک انچ بھی اوپر نیچے نہیں ہوسکتا۔ اگر زمین و آسمان اپنے اپنے مقام سے مشیت الٰہی کے مطابق ہلنے لگیں تو اس کے بغیر کوئی زور آور اور طاقت ور ہستی نہیں ہے جو آگے بڑھ کر گرتے ہوئے آسمانوں کو کندھادے یا ڈگمگاتی ہوئی زمین کو سنبھال سکے اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے سے روک سکے۔ ہاں ! اللہ کی ذات بہت ہی بردبار ہے جو لوگ گناہوں سے باز نہیں آتے اور گناہ پر گناہ کیے چلے جاتے ہیں وہ انہیں مہلت پر مہلت دیئے چلا جاتا ہے اور پھر بردبار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ غفور بھی ہے اگر کوئی توبہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور وہی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 35:42یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو ہم یہ ہدایت قبول کریں گے
42 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت سے پہلے کی بات کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ میرے رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے تو تم سخت قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کیسے ہیں جن کے پاس نبی ورسول آتے اور انہوں نے ان کی تعلیمات کو ٹھکرادیا اگر اس طرح ہمارے پاس کوئی نبی ورسول آیا ہوتا تو ہم اس کو ہتھیلیوں پر اٹھاتے اور اس کے قدموں کے نیچے آنکھیں بچھاتے۔ نہ معلوم کیسے لوگ تھے جنہوں نے اللہ ، نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا ، سرکشی اور عصیان کوشی میں مگن رہے جس کے نتیجے میں اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا اور وہ تباہ وبرباد ہوگئے۔ قریش مکہ اس طرح کے حالات سن کر ان تباہ ہونے والی قوموں پر بڑا لعن طعن کرتے اور کہتے کہ یہ لوگ بڑے ہی بدبخت اور بدسرشت تھے کہ انہوں نے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کا مستحق بنا لیا اور وہ قسمیں اٹھاتے اور پھر ساری قسمیں عادتاً نہ اٹھاتے بلکہ انتہائی سخت قسم کی قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ اگر ہمارے پاس کوئی نبی آیا تو ہم اس کی پیروی کریں گے اور راہ راست پر یوں ثابت قدمی سے گامزن رہیں گے کہ گزشتہ زمانہ میں جن قوموں نے ہدایت قبول کی ان سے بھی بازی لے جائیں گے اور کوئی قوم راست روی میں ہماری ہمسر نہیں ہوگی۔
” پھر جب ان کے پاس اللہ سے ڈرانے والا آیا تو اس سے ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا “۔ یہ کون تھا جس سے انہوں نے نفرت شروع کردی ؟ یہ وہی تھا جس کو ان کے ساتھ رہتے ہوئے کم وبیش چالیس سال گزرچکے تھے جس کے بچپن سے وہ اچھی طرح واقف تھے ، جس کی جوانی انہوں نے اپنی آنکھوں سے گزرتی دیکھی تھی ، جس کو الامین اور الصادق کا خطاب دیتے ان کو برس ہا برس گزر چکے تھے ، جس کو وہ اپنے بچوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں سب میں سے ایک بااخلاق اور باکردار انسان سمجھتے تھے۔ جب وہ نبوت و رسالت کے عہدے پر فائز ہوا اور اس کی طلعت زیبا سے ہدایت کے انوار تاریکیوں کو شکست پر شکست دینے لگے تو یہ کور باطن جو پہلے لمبے چوڑے وعدے کیا کرتے تھے سب کچھ بھول گئے اور مخالفت شروع کردی اور دن بدن ان کے عناد اور ان کی نفرت میں اضافہ ہونے لگا۔ انہیں وہ اپنی قسمیں بھول گئیں اور ان کو بھولے سے بھی یاد نہ آیا کہ کل ہی وہ حلفیہ طور پر کیا کہتے تھے اور آج وہ کیا گل فشانی کر رہے ہیں اور اپنے عہد و پیمان کو توڑ رہے ہیں۔ مشہور ہے کہ آدمی ڈھیٹ ہوجائے تو شرم خود بخود اس سے منہ موڑ جاتی ہے کچھ اسی طرح کی حالت ان کی ہوگئی اور انہوں نے وہ مخالفت کی کہ پہلوں کے بھی کان کاٹ ڈالے۔
Ayah 35:43نفرت کا سبب کیا ہوا ؟ فرمایا زمین میں سرکشی اور خفیہ بدبیروں کی برائی
43 ۔ ہمارے مفسرین نے زیر نظر آیت کا مفہوم گزشتہ آیت سے جو رنے میں بہت مغزماری کی اور اپنے اپنے علم کا زور دکھایا حالانکہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں تھی جس کے لئے اتنا زور خرچ کیا گیا اور علم کی بوریاں اور خرجیاں اس جگہ خالی کردی گئیں بات بالکل آسان اور صاف ہے کہ گزشتہ آیت میں سوال اٹھایا تھا کہ ان کو اتنی نفرت آخر کیوں ہوئی ؟ اور اس آیت میں جواب دیا گیا کہ ان کو نفرت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اس سرزمین میں اپنے آپ کو نبی اعظم وآخر ﷺ سے بڑا سمجھا اور ہم چوما دیگرے نیست کی نظر بد نے ان کی مت ماردی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف خفیہ سازشیں شروع کردیں اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ اگر محمد بن عبداللہ صرف محمد بن عبداللہ ہی ہوتا تو وہ ایسا دعویٰ ہی آخر کیوں کرتا اور اگر وہ اس وقت صرف محمد بن عبداللہ ہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہے تو رسالت کا تعلق تو براہ راست اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے ہے اس لئے ہم جو بھی خفیہ سکیمیں لڑائیں گے اور مشورے کریں گے ان اسکیموں اور مشوروں کی اطلاع اس کو رب کریم کی طرف سے اسی وقت دے دی جائے گی اور ہمارا سارا کیا کرایا فیل ہو کر رہ جائے گا۔ جب انہوں نے خفیہ اسکیمیں شروع کیں اور ان کو معلوم ہوا کہ ان کی خبر تو محمد رسول اللہ ﷺ تک اسی وقت ہوجاتی ہے تو وہ مزید خفیہ اسکیمیں سوچتے جب اس سے بھی پردہ اٹھا ان کو نظرآتا تو ان کا غصہ مزید بھڑک جاتا یہ ایک فطری چیز ہے کہ جب کسی مخالفت اپنے مخالف کے خلاف کامیاب نہ ہو رہی ہو تو اس کا غصہ مزید بھڑک جاتا ہے لیکن جب ان کا مزید غصہ بھڑکتا تھا تو اس کا وبال انہیں پر پڑتا تو وہ مزید سیخ پا ہوجاتے اس طرح جب ان کا ایک ایک منصوبہ خاک میں ملتا تو ان کی حالت مزید غیر ہوجاتی اور ان کا خیال اس طرف بھی نہ جاتا کہ اس معاملہ میں سنت اللہ کیا ہے ؟ اس طرح وہ ٹھوکریں ہی ٹھوکریں کھاتے رہے اور ہر طرف سے منہ کی کھائی اگر ان کے دن اچھے ہوتے تو گزشتہ قوموں اور ان قوموں کے نبیوں اور رسولوں کی تاریخ ہی پر نظر ڈال لیتے لیکن نہ ایسا ہونا تھا نہ ہوا اور نتیجہ اس کا وہی ہوا جو گزشتہ اقوام میں ہوتا آیا تھا کہا نہوں نے انجام کار یہ مشورہ کیا کہ آج رات محمد ﷺ کا سر قلم کردیا جائے اس کے سوا اس کا اور کوئی حل ان کو نظر نہ آیا ادھر انہوں نے میٹنگ شروع کی اور ادھر اللہ نے محمدرسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کردی کہ بس آج رات ان مشورہ کرنے والوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے مکہ سے کوچ کرنا ہے ادھر وہ تیاریاں اور ادھر یہ تیاریاں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ ہجرت کرنے کا جو حکم دیا آپ ﷺ اس کی تکمیل کے لئے اٹھے اور فی الواقع پہرا دینے والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے غار حرا تک پہنچ کر اس غار میں اللہ کے حکم سے قیام کیا اور کچھ عرصہ ایک دو رات آرام کے بعد رب کریم کی ہدایت کے مطابق یہاں سے دوبارہ سفر ہجرت جاری کردیا اور سنت اللہ کے مطابق بخیروخوبی اپنے مقام ہجرت تک پہنچ گئے ادھر آپ نے مکہ چھوڑا اور ادھر مکہ والوں کو قحط نے آکر دبا لیا اور سنت اللہ کے مطابق اس قحط نے عذاب الٰہی کی صرف جھلکی ہی ان کو نہ دی بلکہ اس میں خوب ڈبویا یہاں تکہ کہ انہوں نے اپنی ساری مخالفتوں کو بالائے طاق رکھ کر رسول اللہ ﷺ سے اس قحط کے اٹھائے جانے کی دعا کی درخواست پیش کی کہ اے محمد ! ﷺ اپنے رب سے دعا فرمادیجئے کہ وہ ہم سے اس قحط سالی کو ہٹا دے اور رحمت للعالمین کے ہاتھ دشمنوں کو بچانے کی خاطر بدرگاہ رب ذوالجلال والا کرام اٹھ گئے اور اللہ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی لاج رکھ لی اور میدان بدر میں شکست دینے کے لئے اور بہت سے کافروں اور مشرکوں کو اس میدان کے اندر مارنے اور قتل کرنے کی خاطر اس قحط سالی میں بھوک کی موت مارنے سے بچالیا اور جب وقت آیا تو ان کی تڑپتی نعشوں کو میدان بدر میں بےیارومددگار رکھا اور تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے وہ مجبور ہوگئے پھر ان کے تڑپتے نعشوں کو میدان بدر میں بےیارومددگار رکھا اور تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے وہ مجبور ہوگئے پھر ان کے تڑپتے نعشوں پر محمدرسول اللہ ﷺ کے ان فقرات سے جو گزری وہ وہی بتاسکیں گے کہ اے قریش کے سردارو ! میرے رب نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا وہ بلاریب پورا ہوا لیکن میں پوچھتا ہوں کہ تم سے جو وعدہ ہوا تھا وہ بھی پورا ہوا یا نہیں ہوا ؟ جو جھوٹا تھا وہ میدان بدر میں رہا یا نہیں رہا۔ بات کیا تھی جو ان تڑپتے ہوئے نعشوں پر کی گئی ان پتھروں کے پیچھے چھپے ہوئے لوگوں نے اس کو سنا اور کچھ جواب نہ دے سکے لیکن ہمارے یاروں نے اس بات کا خوب بتنگڑ بنایا اور ایک نئی بحث چھیڑ دی اور اس پر کا کوا اور کوے کا خوب ڈار بنایا۔ اللہ تعالیٰ ایسی بیکار بحثوں سے بچائے۔
Ayah 35:44کیا وہ زمین میں کبھی نہیں چلے پھرے کہ اپنے سے پہلوں کا انجام دیکھتے
44 ۔ کیا ان لوگوں کو کبھی کوئی سفر درپیش نہیں آیا ؟ بلا شبہ آیا اور انہوں نے ایک بار نہیں کئی بار ان بستیوں کو دیکھا جو تجارتی شاہراہوں پر اپنے دیکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ پیش کررہی تھیں لیکن یہ بھی ایک فطری چیز ہے کہ آدمی کو جب تک خود تکلیف نہ پہنچے اس کو دوسرے کی تکلیف کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو خود خیروعافیت سے وقت گزار رہا ہو اس کو دوسروں کی پریشانی سے کبھی عبرت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ دن رات ان بستیوں کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں لیکن ان کے ذہن و دماغ میں کبھی چوکا نہیں لگا کہ یہ لوگ کبھی اس طرح آباد تھے جیسے ہم ہیں اور اس طرح کاروبار کرتے تھے جیسے آج کل ہم کرتے ہیں اور اسی طرح خوشیاں مناتے تھے جیسے آج ہم مناتے ہیں اور اسی طرح اپنے نبی اور رسول کی نافرمانی کرتے تھے جیسے ہم کر رہے ہیں پھر کیا ایسا نہیں ہوسکتا کو جو حال اس کا ہوا ہمارا بھی ہوجائے جس طرح وہ لوگ آج سامان عبرت پیش کر رہے ہیں کبھی ہماری بستیاں بھی آنے والوں کو اسی طرح کا سامان عبرت پیش کریں۔ فرمایا اگر یہ لوگ غور کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ جو کچھ اس دنیا کی نعمتوں سے ہم نے ان کو دے رکھا تھا یہ لوگ تو ابھی اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچے ، جو ترقیاں انہوں نے کیں ، جیسے محلات انہوں نے تعمیر کئے ، جو سامان تعیش ان کو حاصل تھا وہ ابھی تک ان کو نہیں ملا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے انجام پر نظر نہیں ڈالی۔
اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ساری تخلیق ہے اور یہ سارا نظام اسی کا چلایا ہوا ہے پھر کون ہے جو اس کو آسمان و زمین میں عاجز کرسکے۔ ہر طاقتور کی طاقت اور صاحب قوت کی قوت اور ہر صاحب اقتدار کا اقتدار اس کی طاقت ، قوت اور اقتدار کے سامنے لاشے ہے اور آسمان و زمین کے ذرہ ذرہ سے وہ واقف ہے کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں ہے اور وہی ہے جس نے ہرچیز کا بندھن باندھ دیا ہے۔
Ayah 35:45لوگوں کے کرتوتوں پر وہ ہر قوت مواخذہ کرتا تو اس زمین پر کوئی نظر ہی کیوں آتا ؟
45 ۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں بلکہ ہرچیز ظاہر اور حاضر ہے اور وہ ہر ایک انسان کو دیکھ رہا ہے کہ صبح سے شام تک کس کس کام ، کس کس اسکیم اور کس کس ارادہ میں ہے پھر اگر وہ ہر وقت انسان کو پکڑنا چاہتا تو آخر کون تھا جو اس سے بچ کر نکل جاتا اور کون تھا جو اس سے کسی کو بچا لیتا لیکن اس نے جو قانون مشیت بنایا ہے وہ اسی کے مطابق اس نظام کو چلارہا ہے اور کسی کو گناہ کرتے دیکھ کر اسی وقت اس کا ہاتھ نہیں پکڑ لیتا بلکہ وہ اپنے قانون امہال کے تحت ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلے جارہا ہے اور نہایت ہی خاموشی کے ساتھ اپنے اس نظام پر نظر رکھے ہوئے ہے اگر وہ اس طرح پکڑتا تو اس زمین پر انسان تو انسان کوئی جانور بھی زندہ نہ چھوڑتا اور اس نظام کی ایک چیز بھی تم ان آنکھوں سے نہ دیکھ سکتے کیونکہ اس نے یہ سارا سوانگ انسان کے امتحان ہی کے لئے رچایا ہے اس کائنات کی کسی چیز کو اس کے ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ہے ہرچیز کے ہونے سے انسان ہی کا فائدہ ہے اور انسان ہی کی خدمت میں ہرچیز دن رات مصروف ہے اور ہر ایک قوم ، ہر ایک گروہ ، ہر ایک انسان کے لئے اس کا وقت مقرر ہے اور پھر یہ وقت مقرر بھی اس کے اندازہ تقدیر سے ہے اور جب تک اس کا وہ مقررہ وقت آ نہیں لیتا اس وقت تک وہ مواخذہ نہیں کرتا اس کے کو بالکل نہیں پکڑتا اور پھر جب ووہ وقت مقرر آجاتا ہے تو اس کے سارے دوست و احباب اور رشتہ دار ، جان پہچانے والے اس کے پاس ہوتے ہیں ، ہر ایک اپنی اپنی جگہ اس کے روکنے کی کوشش رکھتا ہے لیکن اجل مسمی پر اس کو اس طرح پکڑ کر الگ کردیا جاتا ہے جیسے مکھن سے بال بغیر کسی آلائش کے نکا لیا جاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلا شبہ اللہ اپنے بندوں میں سے ہر ایک بندے پر اپنی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ عقل مند اور سمجھدار وہی ہے جو اس کی اس مہلت سے فائدہ حاصل کرکے اپنی اصطلاح کی کوشش کرتا ہے اور پھر اصلاح کرلیتا ہے ۔ رب یسر ولا تعسر وتمم بالخیر۔
اسی دعا پر سورة فاطر کا مضمون ختم ہورہا ہے۔