35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکیاں اور روشنی ہی (کبھی برابر ہوتی ہیں)

اور اندھیرے اور روشنی بھی یکساں نہیں ہوتی 20 ۔ کفر وشرک کا اندھیرا سب اندھیروں سے زیادہ گہرا اور زیادہ نقصان دہ اندھیرا ہوتا ہے لیکن اس کے نیچے بھی کئی ایک قسم کے اندھیرے ہوتے ہیں ، ہر گناہ اور جرم ایک اندھیرا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں روشنی صرف ایک ہے اور وہ کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ صحیح حدیث ہے ” بلا شبہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہی وہ چیز ہے جوان سارے اندھیروں کا علان ہے “ جس کی روشنی میں یہ اندھیرے نہیں پنپ سکتے یہی وہ اندھیرے ہیں جس سے انسانوں کو نکالنے کے لئے انبیاء کرام اس دنیا میں تشریف لائے لیکن بعض بوم صفت انسانوں کو یہ اندھیرے اتنے پسند ہیں کہ وہ روشنی میں کبھی دیکھ ہی نہیں سکتے گویا سورج کی روشنی ہی ان کو اندھا کرکے رکھ دیتی ہے یا روشنی سے ان کو اس قدر بیر ہے کہ وہ اس میں آنکھ کھولنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ عوام کے لئے کفر وشرک سے بھی ایک گہرا اندھیرا برادری اور خاندان کے رسم و رواج کا اندھیرا ہے جو سارے اندھیروں سے چھٹکارا پاسکتے ہیں لیکن اس اندھیرے سے بچنا ان کے بس کی بات نہیں۔
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ (ٹھنڈا) سایہ اور (گرم) لو (برابر ہوتی ہیں)

اور دیکھ لو کہ سایہ اور دھوپ بھی کبھی برابر نہیں ہوسکتے 21 ۔ بلا شبہ سایہ یعنی ثواب اور عتاب بھی دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ تیز دھوپ کو نبی کریم ﷺ نے بھی جہنم سے تعبیر کیا ہے اور اس جگہ مراد بہرحال دو مخالف چیزوں سے ہے اگرچہ سایہ اپنی افادیثت رکھتا ہے اور دھوپ بھی ایک اپنا مقام رکھتی ہے تاہم سایہ اور دھوپ ایک دوسرے کے مخالف ہیں اس لئے دو مخالف چیزوں کی تفہیم کے لئے ان کو بیان کردیا گیا ہے اس لئے اگر دونوں کو الگ الگ کریں وت چاہے دونوں ہی مفید ہوں اور چاہے دونوں مضر پڑیں یہ افادہ اپنی جگہ پر ہے اس جگہ دو مخالف چیزوں کے لئے بولا گیا ہے اور یہی مفہوم مراد ہے۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندہ اور مردہ کبھی برابر ہو سکتے ہیں ، بلاشبہ اللہ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور (اے پیغمبر اسلام ! ) ان لوگوں کو جو قبروں میں مدفون ہیں (مر مٹ گئے ہیں) آپ ﷺ ان کو بھی نہیں سنوا سکتے

زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے اللہ تو جس کو چاہے سنا سکتا ہے 22 ۔ زندوں سے بھی اس جگہ ایمان والے اور مردوں سے کفار مراد ہیں اور گزشتہ مضمون کی طرح یہاں بھی ان دونوں کو محض ایک دوسرے کی مخالفت کے لئے بیان کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے جہاں بھی ان دونوں کو بطور تقابل بیان کیا ہے موت سے مراد کفر ہی لی ہے اور اس موت کے مرے ہوئے لوگوں کو ایمان کی زندگی دینے کے لئے انبیاء کرام اور رسل عظام تشریف لائے اور اسی کفر کو مٹانے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی لیکن اس کے باوجود جن بدبختوں کو کفر کی موت مرنا تھا وہ ایمان کی زندگی حاصل نہ کرسکے باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام ایمان کی زندگی تقسیم کرنا تھا لیکن اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ کام یعنی ہدایت دینا اللہ کا کام ہے نبی کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے اس بات کو دوسری جگہ ” باذن اللہ “ سے بیان کیا ہے یعنی نبی ورسول کسی کو کفر کی موت سے زندگی دے سکتے ہیں تو وہ { باذن اللہ } ہی دے سکتے ہیں اور آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام قبروں والوں کو نہیں سنواسکتے۔ جس طرح آیت کے پہلے حصہ میں موت سے مراد کفر ہے اس طرح آیت کے اس آخری حصہ میں قبر سے مراد کفر کا گڑھا بھی لی جاسکتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو کفر کے گڑھے میں مدفون ہیں ان کے دلوں میں ایمان بھر دینا رسول کا کام نہیں ہے۔ گزشتہ چار آیتوں کا مفہوم اپنے اندر انسان کے لئے ہدایت لئے ہوئے ہے گزشتہ چار آیتوں میں جو تمثیلات بیان کی گئی ہیں یہ وہی ہیں جو قرآن کریم میں جگہ جگہ الگ الگ بیان کی جاچکی ہیں اور ان تمثیلات میں ایک مومن اور کافر کی زندگی کا فرق بتایا گیا ہے۔ کافروہ ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور کچھ نہیں دیکھتا کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ جس میں اس کا اپنا وجود بھی شامل ہے اپنے اندر کس صداقت کو لئے ہوئے اس کا اعلان کررہا ہے اور مومن وہ ہے جس کی ہدایت کھلی ہیں اور وہ صاف صاف دیکھ رہا ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز توحید الٰہی کا درس دے رہی ہے یہاں تک کہ اس کا اپنا وجود بھی اس بات کی گواہی پیش کررہا ہے کہ اس کائنات میں ایک اور صرف ایک ناظم ہے جس کے ہاتھ میں سارا نظام ہے۔ کافر وہ ہے جو اہام ومفروضات اور قیاسات کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی لائی ہوئی روشنی کو روشنی تسلیم کرنے ہی سے عاری ہے اور مومن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون پر پختہ یقین رکھتا ہے اور مفروضات وقیاسات کے گھوڑے کبھی نہیں دوڑاتا اور ایمانیات میں اس قدر پختہ ہے کہ وہم و گمان کے قریب بھی نہیں بھٹکتا ۔ کافر وہ ہے جو دوزخ کی تپش میں خوب تپایا اور جلا یا جانے والا ہے اور مومن وہ ہے جو سایہ رحمت الٰہی کا استحقاق رکھتا ہے اور وہ اس میں جگہ پائے گا اور انجام کار کافر کو موت سے اور مومن کی زندگی سے تشبیہہ دے کر بات کو مزید واضح کردیا گیا ہے اور ان تمثیلات و استعارات میں جو لطف بیان ہے وہ عام عبارت میں کہاں میسر آسکتا ہے اور انسانی زندگی کے لئے جو ان تمثیلات اور استعارات میں جو لطف بیان ہے وہ عام عبارت میں کہاں میسر آسکتا ہے اور انسان زندگی کے لئے جو ان تمثیلات اور استعارات میں ہدایات دی گئی ہیں وہ بلا شبہ سیدھی دل پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اسلام کی تعلیمات میں دل کی اصلاح ہی سے پورے جسم کی اصلاح ممکن ہے دل بیمار ہو تو جسم کبھی صحت مند نہیں ہوسکتا اور اس صحت سے وہ صحت مراد ہے جس سے انسان کی آخرت سنور جائے کیونکہ دنیوی زندگی تو نہایت عارضی زندگی ہے اصل زندگی تو وہی زندگی ہوسکتی ہے جس زندگی کے بعد موت کو بھی موت دی جائے گی اور زندگی ہی زندگی باقی رہ جائے گی۔ مختصراً یہ کہ ان آیات میں مومن کو بینا ، نور ، سایہ اور زندہ سے تشبیہہ دی گئی ہے اور کافر کو اندھا ، تاریکی ، دھوپ اور مردہ قرار دیا گیا ہے اور کافر کو مردہ کہنے کے بعد کہا گیا ہے کہ مردے نہیں سنتے۔ سماع موتی کے متعلق پیچھے سورة النحل کی آیت 81 , 80 ، سورة الروم کی آیت 52 میں بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں جو قبرستان میں جاکر ” السلام علیکم یا اھل القبور “ اس کے بعد یہ ایک دعا بیان کی گئی ہے یہ اکرام ہے ان مومنین ومسلمین کا جن کو ہم نے یہاں چھوڑا تھا اور وہ بلا شبہ ان تک ہمارا اسلام پہنچایا جاتا ہے اور اس سے یہ بحث کہ مردے سنتے ہیں اس لئے بھی صحیح نہیں کہ اگر کوئی سننے کے باوجود جواب نہ دے سکے تو یہ سننا اس کے لئے محمود نہیں بلکہ مذموم ہی ہوگا اور پھر مرنے والوں کے متعلق اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ قبروں کی طرف زندوں کا جانا محض عبرت حاصل کرنے کے لئے ہے کہ جہاں ہم نے ان کو دفن کیا ہے یہیں ہم کو دفن کیا جانا ہے اور اس شہر خاموشاں میں خاموش ہو کر آنے کے لئے ابھی تک ہم کو زندہ رکھا گیا ہے۔ یہ عبرت کی جگہ ہے تماشا نہیں اس لئے اس جگہ سے عبرت ہی حاصل کرنا چاہیے اس کو تماشا گاہ بنانا صاحب عقل کا کام نہیں بلکہ سراسر ایک جہالت کا مظاہرہ ہے اور جاہلوں ہی کا یہ مشغلہ ہے۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ تو بس ڈرانے والے ہیں

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کا کام نذارت ہے اسی لئے ان کو خبردا کردیں 23 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کا کام سوئے ہوئوں کو جگا دینا ہے کہ ” قم قم یا حبیبی کم تنام “ بہت سو لیا ہے تم نے ، جاگو اور اپنی آنے والی زندگی کے لئے کچھ کرلو۔ ہاں ! وہ جو جاگنے کے باوجود سوگئے ہیں ان کو کوئی نہیں جگا سکتا۔ آپ ﷺ ان کے جگانے کے ذمہ دار بھی نہیں ہیں۔ سونا ، جاگنایا جاگنے کے باوجود سوجانا ، ان کی ذمہ داری ہے آپ ﷺ کا کام فقط خبردار کردینا ہے۔ اس لئے جب آپ ﷺ نے ان کو خبردار کردیا تو گویا اپنی ذمہ داری پوری کردی۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) ہم نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور نصیحت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نصیحت کرنے والا (پیغمبر) نہ گزرا ہو

اس امت مرحومہ سے پہلے کوئی امت نہیں گزری جس کے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو 24 ۔ قرآن کریم میں اس کی بار بار تصریح کی گئی ہے کہ ہر قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی ڈرانے والا بھیجا جس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ یہ مضمون سورة رعد کی آیت 7 ، سورة الحجر کی آیت 10 ، سورة النحل کی آیت 36 ، سورة الشعرا کی آیت 208 میں بیان کیا گیا ہے اگرچہ بستی سے مراد بعض اوقات صرف ایک قوم ہے اور بعض اوقات ایک خاندان اور ایک علاقہ بھی مرادہوسکتا ہے اسی طرح ایک ہی قوم کے پاس بیک وقت ایک سے زیادہ ڈرانے والے بھی آئے جیسا کہ سورة یٰسٓ میں ذکر کیا گیا ہے۔ بہرحال نبوت کا سلسلہ کسی ملک ، علاقہ یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جہاں بھی انسانوں کا کوئی گروہ آباد تھا وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ان کے پاس ضرور آیا اس میں عرب ، فلسطین اور دوسرے کسی ملک کی کوئی تخصیص نہیں ہے اس سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ہند ، چین ، جاپان اور روس میں بھی بلا شبہ نذیر وبشیر آئے بلا شبہ اس پر ہمارا ایمان ہے اگرچہ ہم حتمی طور پر کسی کا نام سوائے ان انبیاء کرام کے نہیں سکتے جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث میں وضاحت کے ساتھ آیا ہے اور جن کے اسماء مذکور نہیں ان پر ایمان مجمل کے طور پر ہی رکھا جاسکتا ہے اگر کسی طرف سے کسی نذیر وبشیر کی صداکان میں آتی ہے کہ وہاں بھی فلاح نذیر یا بشیر آیا تھا تو ہم اس کی تعلیم کو سن کر ہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ صدا صحیح ہے یا غلط ؟ البتہ نبی اعظم وآخر ﷺ پر چونکہ نبوت و رسالت ختم کردی گئی ہے اس لئے جس طرح پہلے انبیاء کرام پر ایمان لانا ضروری تھا اسی طرح آپ ﷺ کے بعد کسی ایسے دعویدار کا انکار لازم وضروری ہے بلکہ ایسا دعویٰ کرنے والا اپنے دعویٰ کے ساتھ ہی ایمان سے خارج سمجھا جائے گا خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو اور کہاں ہو۔ زیر نظر آیت میں بھی لفظ { خلا } آیا ہے اور پیچھے بھی { خلت } کا لفظ گزر چکا ہے جو اپنی لفظی مناسبت کے لحاظ سے بھی ہر نئے یا پرانے آنے والے کی نفی کرتا ہے۔ ہاں ! بلا شبہ آپ ﷺ کے بعد تبشیر وتنذیر کا کام آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ہر وہ بات دوسروں تک پہنچا دے جس کو اس نے کتاب وسنت کے ذریعہ سے صحیح سمجھا ہے کہ یہ سلسلہ مسلسل جاری وساری ہے۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں تو جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں وہ بھی (اپنے پیغمبروں (علیہم السلام) کو) جھٹلا چکے ہیں ، ان کے رسول ان کے پاس (واضح) نشانیاں ، صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے

آپ ﷺ کو جھٹلایا گیا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا تھا 25 ۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر قریش مکہ نے آپ ﷺ کو جھٹلادیا ہے ، آپ ﷺ کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ ﷺ کے پاس حق نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ ﷺ حق لے کر آئے ہیں کیونکہ حق ہی وہ چیز ہے جو قبول کرنا مشکل ہے اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء ورسل ہم نے بھیجے ان سب کو ان کی قوموں نے جھٹلایا حالانکہ وہ رسول بھی روشن دلائل ، آسمانی صحیفے اور نورانی کتابیں لے کر اپنی اپنی قوموں کے پاس گئے تھے۔ یہ مضمون قبل ازیں عروۃ الوثقی ، جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 184 ، جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 147 ، جلد چہارم میں سورة یونس کی آیت 41 ، جلد ششم میں سورة الحج کی آیت 42 میں تفصیل کے ساتھ گزرچکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے (ہر زمانہ میں) ان کافروں کو پکڑ لیا ، پس میرا عذاب کیسا ہوا ؟

میں نے ان جھٹلانے والوں کو پکڑ لیا پھر دیکھو میرا عذاب کیونکر ہوا ؟ 26 ۔ گزشتہ انبیاء کرام کے جھٹلانے والوں کو ہم نے پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا اور عبرت کے لئے ان کے کھنڈرات چھوڑ دیئے آپ ﷺ ایک نبی ورسول کے حالات پڑھتے جائیں جتنی قومیں گزریں سب کا انجام یہی ہوا اور اگر پہلوں کیساتھ ایسا ہوا تو آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ ہم جھٹلانے والوں کو نابود کردیں گے ان کو بھی سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا اور ان جھٹلانے والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کریں گے۔ ہاں ! وہ فرق جو دوسرے نبیوں ، رسولوں اور محمد رسول اللہ ﷺ میں واضح ہے وہ یہی ہے کہ چونکہ ان میں سے ہر ایک صرف ایک قوم ، بستی یا علاقہ کے لئے رسول تھا اس لئے اس قوم ، بستی اور علاقہ کو نیست ونابود کیا اور وہی لوگ باقی بچے جو نبی ورسول پر ایمان لائے تھے اور آپ ﷺ کو ساری دنیا کے لئے رسول بنایا گیا ہے اس لئے ہر علاقہ کے لوگوں پر چھوٹے چھوٹے عذاب دے کر ان کو باور کرایا جاتا رہے گا کہ وہ اگر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں اور انجام کار آپ ﷺ ہی کی نبوت و رسالت پر اس دنیا کی زندگی کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا یعنی وہ قیامت آجائے گی جس کو قیامت کبریٰ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ سارا نظام بدل دیا جائے گا ، دارالعمل کو دارالجزاء سے بدل دیا جائے گا اور پھر سب لوگوں کے سامنے موت کو ذبح کردیا جائے گا۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تو نے اس بات کی طرف کبھی نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے ہم نے مختلف رنگوں کے پھول پیدا کیے اور پہاڑوں میں بھی مختلف رنگ والی گھاٹیاں ہیں کوئی سفید کوئی سرخ اور کوئی سیاہ کالی (یہ سب نشانات قدرت ہی تو ہیں)

پانی کے نازل کرنے ، پھلوں کے پیدا کرنے اور پہاڑوں کے بنانے سے استشہاد توحید 27 ۔ قرآن کریم نے جا بجا ان چیزوں سے استشہاد کیا ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ اللہ جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذکر سے سارا نظام آنکھوں کے سامنے ایک بار گھوم جاتا ہے جس نظام کے تحت زمین سے اس پانی کو بھاپ بنا کر اڑایا جاتا ہے اور فضائے بسیط میں لے جاکر اس کو اکٹھا کردیا جاتا ہے اور فضا کے اندر اس طرح پھرایا جاتا ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ اس سارے کام میں اجرام فلکی اپنا اپنا کام کر رہے ہیں اور زمین اپنا فرض انجام دے رہی ہے اور اس طح ایک ذرہ سے لے کر اتنے بڑے سورج تک ساری چیزیں اپنا اپنا فرض ادا کررہی ہیں تب جاکر زمین کو یہ بارش نصیب ہوتی ہے جس نے اس کو سوکھی قسمت کو ہرا بھرا کردیا ہے۔ پھر غور کرو کہ یہ ایک طرح کا پانی جو برسا ہے اس سے ان مختلف درختوں کو بار آور کیا گیا ہے اس طرح گویا خوراک سب کی ایک ہے اور ایک ہی دھرتی پر وہ قیام پذیر ہیں لیکن اس سب کے مزے ، بناوٹ ، رنگ اور خواص بالکل الگ الگ ہیں پھر غور کرو کہ جس کو تم پہاڑ کہتے ہو اس میں بھی کئی رنگ تم کو نظر آئیں گے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ کہیں تو بالکل سفید ہیں اور کہیں بالکل سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کے بھی اور یہ ساری رنگتیں اگر ملا دی جائیں تو جو رنگ بنتا ہے وہ بھی ان کیمیاوی ترکیب جو بھی تھی اور جیسے بھی تھی ، بہرحال ان سب سے تم فائدہ حاصل کر رہے ہو اور جہاں جس کو چاہتے ہو استعمال کرتے ہو اگر تم ان ساری چیزوں میں ذرا گہرائی میں جاکر غور کرو تو کیا ان میں سے ایک ایک چیز اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا پتہ نہیں بتارہی کہ ایک ہی ہستی ہے جس نے یہ سارا نظام باقاعدہ چلارکھا ہے اور پھر اس سارے نظام کی دعوت بھی اس کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک اور صرف ایک ہستی ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا نظام چلایا ہے اگر اس میں کہیں اور کسی حصہ میں بھی دوئی ہوتی تو یہ نظام ایکدن کے لئے بھی نہ چل سکتا اور ان میں سے وہ چیز بگڑ بیٹھتی جو کسی دوسرے کی تخلیق ہوتی کہ میں تو وہی کروں گا جو میرے خالق کا حکم ہے دوسرے خالق کی آخر کیوں کر پابند ہو کررہوں اور جس طرح ہمیشہ ساجھے کی ہنڈیا چورا ہے میں چور چور ہوتی ہے یہ نظام بھی کبھی کا چور چور ہوچکا ہوتا لیکن جب ہم کو معلوم ہے کہ یہ کروڑوں سال سے نظام اسی طریقہ کے مطابق چلایا جارہا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ بلاریب اس سارے نظام کو چلانے والا بھی ایک اور صرف ایک ہی ہے۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اس طرح انسانوں ، جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ (ہوتے) ہیں ، بلاشبہ اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علم والے (صاحب بصیرت) ہی ڈرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ غالب ہے بخشنے والا

انسانوں ، جانوروں اور چارپایوں کی مختلف رنگتوں کا بیان 28 ۔ قدرت کی نیر نگیوں اور قدرت آفرینیوں کا باب گنتی کی چند چیزوں کو شمار کرکے بند نہیں کیا جاسکتا کشادہ عقل کے لوگ اس کشادگی پر غور کریں جو اللہ تعالیٰ نے اس دھرتی ، اس فضا اور ان بلندیوں میں رکھی ہے تو ان کی عقل تھک جائے لیکن اس خالق کی مخلوق نہ گنی جاسکتی ہے اور نہ ہی نظروں میں پھرائی جاسکتی ہے اس مخلوق خداوندی سے ان ہی چیزوں کا نام لیا جاتا ہے جو ہر وقت انسان کی آنکھوں کے سامنے رہتی ہیں تاکہ اس کی سوچ بچار مخلوق ہی میں نہ الجھی رہے اور وہ اس کی تلاش میں اپنی عقلی صلاحیتوں کو ختم کرتا رہے بلکہ اس خالق کی طرف دھیان کرے جس خالق نے اس مخلوق کو بنایا ہے اس لئے زیر نظر آیت میں انسانوں ، چارپایوں اور جانوروں کا ذکر کرکے توحید الٰہی کی دلیل بیان کی گئی ہے کہ ان تینوں چیزوں پر غور کرو کہ ان میں مختلف رنگتیں اس طرح آراستہ پیراستہ کررہی ہیں کہ دل ان کی طرف خود بخود کھنچے جاتے ہیں اور بعض اوقات تو دلوں پر قابو پانا ہی مشکل ہوجاتا ہے اور آنکھیں ہزار بار دیکھنے کے باوجود سیر نہیں ہوتیں اور ان کی ایک بار اور کی آرزو پوری ہی ہیں ہوتی اور پھر ان تینوں ہی قسموں میں قدوقامت ، خدوخال اور سیاحت وملاحت میں اس قدر اختلاف پائے جاتے ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے لیکن ان اختلافات کے باوجود مختلف طرح کی جاذبیت ان میں پائی جاتی ہے اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ انسانوں میں ان کی باطنی قوتیں ، زمینی صلاحیتیں اور فطری استعداد بھی ہے کہ اپنی جگہ ایک حیرت انگیز تنوع پیش کرتی ہیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ عروس کائنات کے گیسو سنوارنے کی ذمہ داری اس کو سونپی جانے والی تھی اور ان لق ودق صحرائوں کو چمنستان بنانے کا کام اس کے سپرد کیا جانے والا تھا اور یہی وہ ظلوم وجول تھا جس نے اس ذمہ داری کو اپنے سر پر اٹھانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کون ہیں ؟ وہی جو کسی نہ کسی اسلامی مدرسہ سے فارغ ہوں اور عربی زبان کے ماہر ہوجائیں اور صرف ونحو اور فنون بلاغت کے جاننے والے ہوں اور جس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اس مکتب فکر کے رسم و رواج کو پختہ کرنے کے دلائل سے خوف واقف ہوں پھر اس میں بھی ان کے درجات ہیں جو مقررین ہیں ان کو اپنی خصوصیات ہیں ، جو مدرسین ہیں ان کو اپنی خصوصیات ہیں ، اسی طرح مناظرین کا اپنا ایک رنگ ڈھنگ ہے اور جن سر سیاسی پان چڑھائی گئی ہو ان کا ایک اپنا مقام ہے جو اس وقت سب سے اونچا تسلیم کیا جاتا ہے اور اگر اپنے خیال کو ذرا نیچے لاسکتے ہیں تو ہمارے دیہات میں ہماری مسجدوں کے جتنے امام و پیشوا ہیں جن کا کم مسجدوں میں امامت اور مسجد سے باہر نکاح کا ایجاب ، پیدا ہونے والے کے کان میں اذان ، مرنے والے کے نہلانے ، کفنانے اور جنازہ کی امامت کرکے قبر پر اتارنے کی ذمہ داری ہے اور اگر مردے کو بخشوانے کے لئے اہل میت کے خاندان چاہیں تو ہمت کرکے ان کو قبرستان میں مردے کے سرہانے قرآن پڑھنے کا کام سپرد ہے اور اس کے بعد تیسرے ، چوتھے ، ساتویں ، دسویں اور چالیسویں کی رسومات کے ادا کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے سب زمرہ علماء میں داخل ہیں ہاں ! فرق ہے تو یہ کہ پشت درپشت یہ کام کرنے والے اصل علماء ہیں اور جدید دور میں اس پیشہ کو اختیار کرنے والے ذرا کم درجہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کو سارے گر نہیں آتے جو اصل علماء کرام کو آتے ہیں۔ کیا یہی وہ علماء ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم اس جگہ بیان کررہا ہے ؟ ہرگز نہیں زیر نظر آیت میں ان پیشہ ور علماء کا بالکل ذکر نہیں کیا گیا اگر کسی اندھے کو نور عالم کہہ دینے سے وہ عالم کا نور نہیں ہوجاتا تو اسی طرح ان پیشہ ور لوگوں کو علماء کہہ دینے سے یہ علماء نہیں ہوجاتے ۔ اگر کسی غریب ونادار آدمی کو سیٹھ کہنا شروع کردیا جائے اور پھر سب لوگ اس کو سیٹھ کے نام سے یاد کرنے لگیں تو اس سے وہ سیٹھ نہیں ہوجاتا اگر کسی نحیف ولاغر اور اٹھنے بیٹھنے سے لاچار انسان کو پہلوان کہنا شروع کردیں تو وہ پہلوان نہیں ہوجائے گا بالکل اسی طرح اگر کسی کو عالم کہنا شروع کردیں تو وہ عالم کیونکر ہوجائے گا۔ علم را برتن زنی مارے بود علم رابر دل زنی یارے بود زیر نظر آیت میں علماء ان کو کہا گیا ہے جو ان تغیرات عالم میں غوروفکر کرتے ہیں اور زیر نظر آیت اور گزشتہ آیت میں جن چیزوں کا مخصوص طور پر ذکر کیا گیا ہے ان چیزوں میں فکر کرکے ان چیزوں کے پیدا کرنے والے اور ان سب کو ایک ضابطہ میں باندھ دینے والے رب ذوالجلال والاکرام کی ذات اور اس کی صفات کا تہہ دل سے اقرار کرتے ہیں اور اللہ کا ڈرتے اور ان کو آخرت کی فکر ہر وقت دامن گیررہتی ہے۔ کائنات کی ان اشیاء میں غور وفکر کرکے ان سے نئی نئی ایجادات کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور رب کائنات سے اپنا خاص تعلق ہونے کے باعث ان بندھنوں سے وہ کبھی آزاد نہیں ہوتے جو انسانی زندگی کے لئے اللہ نے باندھ دیئے ہیں جو وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل یعنی کام ہے تو ان کو پختہ یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ کے کلام اور اللہ کے کام میں فرق نہیں ہوسکتا اور پھر جہاں ان کو فرق نظر آتا ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے یا تو کلام الٰہی کے مفہوم کو ہم صحیح نہیں سمجھے اور یا پھر یہ کام اس طرح نہیں جیسے ہم نے سمجھ لیا ہے اس طرح جب وہ فکر کرتے ہیں تو یقینا حقیقت کو پالیتے ہیں اور اس نہج کی فکر ہی کانا خشیت ہے جو علماء کی صفت بتائی گئی ہے اور قرآن کریم نے علماء کرام کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا ہے جو غوروفکر کرنے والے ہیں جیسا کہ عروۃ الوثقی ، جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 191 ، جلد سوم سورة الاعراف 176 ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 42 ، سورة الرعد کی آیت 3 ، جلد پنجم سورة النمل کی آیت 69 , 44 , 11 جلد ہذا سورة الروم آیت 21 میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ہماری اس رائے سے آپ کو اتفاق نہ ہو لیکن ہم آپ کے اتفاق کی خاطر حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرسکتے جو تعریف اوپر علماء کرام کی بیان کی گئی ہے اگر اس تعریف پر پرکھ کر دیکھا جائے تو صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہم عالم تسلیم نہ کرسکیں اور ہم کسی حال میں یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین کے یہ لوگ علماء نہیں تھے اور اگر ان کو علماء تسلیم کریں تو اوپر بیان کی گئی درس نظامی کی تعریف خود بخود غلط ہوجاتی ہے۔ فافہم فتدبر۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور اعلانیہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کرتے ہیں جس میں کبھی خسارہ ممکن ہی نہیں

وہ کون ہیں جو آخرت کے سلسلہ میں خسارہ میں نہیں رہیں گے ؟ 29 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے کیا پڑھا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس میں کس چیز کا حکم دیا کہ اس کو کرنا ہے اور کس کس چیز سے منع کیا کہ اس سے رکنا اور باز آنا ہے اور اوامر ونواہی کو سمجھ لینے کے بعد اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور ان کے اعمال کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ وہ لوگ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں اور باقاعدہ حساب کتاب کرکے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور پھر صرف زکوٰۃ ادا کرکے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ راتوں اور دنوں میں چھپ چھپ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ان کو چھپنے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ ان کے خرچ کرنے میں کہیں دکھاوے کی کوئی صورت پیدا نہ ہوجائے اس طرح وہ گویا اپنے مالوں اور جانوں کا سودا براہ راست رب ذوالجلال والا کرام سے کرتے ہیں اور بلا شبہ ان کا یہ سودا کبھی خسارہ میں نہیں رہے گا اور ان کی تجارت کبھی نقصان کی تجارت نہیں ہوگی۔ اب غور کرو کہ جس تجارت کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے کبھی موجودہ دور کے علماء نے بھی کی ہے جن کو آپ لوگ علماء کہتے ہیں یہ سودا تو بلا شبہ صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین ہی نے کیا تھا جس کی بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں آج بھی پیش کی جاسکتی ہیں لیکن جن علم کے ٹھیکہ داروں کی آپ بات کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ایسا نہیں پاسکتے اس لئے کہ یہ تو نقد بہ نقد کے قائل ہیں ، درس دیں گے تو تم سے نقد وصول کرلیں گے ، وعظ کریں گے تو الوداع ہونے سے پہلے وصول کرلیں گے۔ دین کی تعلیم دیں گے تو ماہوار تنخواہ پائیں گے یہاں تک کہ جو کام ان کے ذمہ کے ہیں زیادہ کی اجرت ہاتھوں ہاتھ ہوگی اور بعض کام ایسے ہوں گے جن کا ماہانہ وصول کریں گے اور اگر تم سے کوئی زیادہ اجرت دے دے گا تو وہ تم کو چار آنکھیں دکھا کر اس طرف کا رخ کرلیں گے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ (اللہ) ان کو (ان کے عمل کا) پورا پورا بدلہ دے اور اپنے فضل سے مزید بھی عطا فرما دے بلاشبہ وہ بہت ہی بخشنے والا قدردان ہے

جن کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ ان کو پورا پورا ادا کرکے زائد بھی عطا کرے گا 30 ۔ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کن لوگوں کا اجر ہے ؟ انہی لوگوں کا جن لوگوں نے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کا پیغام پہنچایا اور اکثر یہی ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا گیا انہوں نے پیغام پہنچانے والے ہی کے کان پکڑوا دیئے اور وہ مار ماری کہ ان کو ننہیال یاد آگئے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے جن کو پیغام پہنچایا گیا وہ ان کے مزاج کے سخت خلاف تھے اور پیغام پہنچانے والوں نے چاہا کو جو بات ان کے مزاج کے خلاف ہے وہ اس کو قبول کرلیں اس طرح جب اس نے اللہ کا پیغام بار بار یاد دلایا تو انہوں نے اس کو خوب پٹائی گئی اور پھر اس کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش بھی کی جب وہ ساتھ ملنے سے انکاری ہوا تو اس کو لالچ دیا ، جب اس نے لالچ کو بھی قبول نہ کیا تو وہ مزید دشمن ہوئے اس رطح اس پیغام پہنچانے والے اور مار کھانے والے اور اجرت قبول نہ کرنے والے کی مزدوری اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہوگئی کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے پیغام دیتے وقت یہی شرط کی تھی کہ تو نے وہاں سے مزدوری حاصل نہ کی تو اس کا عوض میں دوں گا لہٰذا اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کا وہ عوض قیامت کے روز چکائے گا اور صرف یہی نہیں کہ وہ صرف اتنا ہی واپس دے گا۔ بلکہ وہ خوش ہو کر مزید انعام بھی عطا کرے گا اور بلاشبہ وہ جو انعام دے گا وہ اس کی شان خداوندی کے مطابق ہی ہوگا جو ایک بندے کے لئے کافی و وافی ہوگا اس لئے کہ وہ ذات الٰہ ہے ، لوگوں کی غلطیوں کو معاف بھی کرتا ہے اور اچھے اعمال کرنے والوں کی قدر بھی کرے گا کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی قدر شناس نہیں ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو کتاب ہم نے آپ ﷺ پر نازل کی ہے وہی حق ہے اپنے سے پہلے کی (نازل کی گئی کتابوں کی) تصدیق کرتی ہے ، بلاشبہ اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے (اور ان کی ہر بات کو) دیکھنے والا ہے

قرآن کریم اللہ کی وہ کتاب ہیجس میں گزشتہ کتابوں کا بھی خلاصہ بیان کیا گیا ہے 31 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر جو کتاب نازل کی گئی وہی کامل ومکمل کتاب ہے۔ گزشتہ کتابوں کے جن جن واقعات کی اس نے تصدیق کی وہ بلا شبہ صحیح اور درست ہیں اور یہ بھی کہ جن جن حصوں کی اس نے تصدیق کی ہے وہی درست ہیں جو تحریف سے پاک ہیں اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کے غیر درست ہونے پر اس نے مہر ثبت کردی ہے اور ایسی بھی ہیں جن کی طرف درست نہ ہونے کا اس نے اشارہ کردیا ہے لیکن ان پر زور نہیں دیا اس لئے کہ وہ باتیں اخلاقی نہیں تھیں اور غیر ضروری بحثوں کو قرآن کریم نے چھوا اور چھیڑا تک نہیں ہے اور بلاشبہ قرآن کریم کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ غیر ضروری باتوں کے پیچھے نہیں پڑتا اور اس طرح جو کچھ کرتے ہیں اس کو برداشت کرلیتا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کو بیان کرنے کے لئے اور اس کی عملی تعلیم دینے کے لئے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ بھیجے گئے تاکہ وہ اپنے اسوہ حسنہ سے ان کو مشاہدانہ تعلیم دے دیں اور اس کی گارنٹی بھی دے دی کہ جو کچھ محمدرسول اللہ ﷺ تعلیم دے رہے ہیں یہی حقیقت ہے اور اس پر ماننے اور تسلیم کرنے والوں کو حصر اور نحصار کرنا چاہیے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی حیثیت بھی واضح ہوجائے کہ وہ محض باجا کی طرح بجنے کے لئے نہیں ہیں اور ٹیپ ریکارڈر کی طرح صرف نقل سنانے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ وہ پریکٹیکل کرکے دکھانے کے لئے بھیجا گیا ہے اور جو کچھ اس نے کرکے دکھایا ہے وہ وہی ہے جو قرآن کریم کی عبارت میں آگیا ہے ہاں ! جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا اور ہم تک پہنچایا ہم کو ان کے متعلق تسلی کرنا ہے کہ آیا انہوں نے صحیح کہا یا غلط کہہ دیا تو اس کے لئے ایک روایت کی تسلی ہے اور دوسری درایت کی اور دونوں کے جو اصول مقرر کیے گئے ہیں ان پر انحصار کرنے کے سوا ہم کو چارہ نہیں۔ ہاں ! اس کے لئے قرآن کریم ہی ایک کسوٹی ہے جس پر حق وناحق پر کھا جاسکتا ہے کہ یہ اصل ہے اور احادیث اس کی تشریح اور انجام کار آیت نے ہم کو بتادیا کہ سب حالات سے آگاہ واقف وہ خود ہے اور بندوں کو وہ دیکھ رہا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اس لئے جو تم کرو اس نظریہ کے تحت کرو کہ اللہ کو ہمارے کیے کی خبر ہے اور وہ ہم کو ہر حالت میں دیکھ رہا ہے یادرکھو کہ اس پر جتنا عقیدہ تمہارا مضبوط ہوگا اتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا اور یقینا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور انسانی عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے ہم سب کو یہی کہنا چاہیے کہ رب اغفروارحم وانت خیرالراحمین۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا پس بعض (ان میں سے) اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض درمیانی راہ چلنے والے اور بعض اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے ہیں ان (لوگوں) پر اللہ کا بہت ہی بڑا فضل ہوتا ہے

حاملین اور وارثین قرآن کے فضائل ومناقب قرآن کی زبان میں 32 ۔ اوپر قرآن کریم کے فضائل میں بتایا گیا تھا کہ اس کی فضیلت اس سے پہلے اتاری گئی کتابوں پر کیونکر اور کیسے ہے ؟ اور یہ بھی کہ جس طرح نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں اسی طرح قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا والوں کی طرف آخری کتاب وپیغام ہے۔ ساتھ ہی وضاحت کردی کہ جس طرح آخری رسول گزشتہ رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم گزشتہ کتب الٰہی کامیمن ہے اور ان کی تعلیمات کو جو حق تھیں یعنی اللہ کی طرف سے نزل شدہ تھیں جن کو وہ کتابیں دی گئی تھیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں ملائی تھیں ان کی تصدیق و توصیف کرتا ہے۔ اب اس آخری رسول اور آخری کتاب کے آنے کے بعد نظام مذہب کو جاری ساری رکھنے کے لئے اس آخری رسول اور آخری کتاب کا وارث ہم نے امت محمدیہ کو بنایا ہے جو تمام امتوں میں سے برگزیدہ امت ہے کیونکہ جو شرف اس امت کو بخشا گیا ہے وہ شرف کسی دوسری امت کو نہیں بخشا گیا۔ امت کے اس شرف کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقی ، جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 143 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ اس شرف اور بزرگی کے کیا کہنے جس شرف اور بزرگی کو بیان کرتے ہوئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے وہی الفاظ اس امت کے لئے استعمال فرمادیئے جو گزشتہ انبیاء کرام اور رسل عظام کو برگزیدگی عطا کرتے وقت فرمائے جاتے رہے اس امت کے لئے یہ شرف عطا کرنے کے کیا الفاظ ہیں ؟ فرمایا { الذین اصطفینا من عبادنا } ان الفاظ نے ہی اس امت کے لوگوں کو بہترین لوگ ثابت کردیا تاہم اس کی وضاحت بھی کردی کہ اس امت کے ہر ہر فرد کو یہ شرف نہیں تاہم ان میں سے کسی ایک ہی کو یہ شرف حاصل نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کو یہ شرف حاصل ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ شرف امت کوئی معمولی شرف نہیں بلکہ نہایت اہم شرف ہے کیونکہ یہی وہ شرف تھا جو نبی اعظم وآخر ﷺ سے پہلے گزشتہ نبیوں اور رسولوں اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کو عطا کیا جاتا تھا گویا جو چیز گزشتہ نبیوں اور رسولوں اور دوسرے نیک بندوں کو عطا کی جاتی رہی وہ چیز اب محمدرسول اللہ ﷺ کی امت کے بیشمار لوگوں کو عطا کی جائے گی۔ غور کیجئے کہ اس سے بڑاشرف اور کیا ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کو حاصل ہوا۔ ارشاد الٰہی ہے کہ : { ان اللہ………………… العلمین } (آل عمران 33:3) ” بلا شبہ اللہ نے آدم اور نوح کو اور ابراہیم اور عمران کے گھرانوں کو تمام دنیا میں برگزیدگی عطا فرمائی “۔ ایک جگہ ارشا فرمایا کہ : { ومن……………………… الصلحین } (البقرہ 130:2) ” کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے منہ پھیر سکتا ہے ؟ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں بھی اسے برگزیدگی کے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی اس کی جگہ نیک انسانوں ہی کے زمرے میں ہوگی “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : { قال یموسیٰ…………………… الشاکرین } (الاعراف 144:7 ) ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے اپنی پیغمبری اور ہم کلامی سے لوگوں پر برگزیدگی بخشی پش جو چیز تجھے عطا فرمائی ہے اسے پکڑ لے اور شکر بجا لا “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : { واذکر………………… الاخیار } (ص 45:38 تا 48) ” اور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو کہ وہ بڑی قوت عملی رکھنے والے اور دیدور لوگ تھے ہم نے ان کو ان کی خاص صفات سے ان کو برگزیدہ کیا تھا “۔ اسی طرح سیدہ مریم اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکرکرکے ان کے متعلق ارشاد فرمایا اور اس طرح طالوت کو بنی اسرائیل کا سپہ سالار مقرر کرتے وقت ان کے متعلق ارشاد فرمایا اور یہی برگزیدگی اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لوگوں کو عطا فرمائی اس لئے ہم فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ برگزیدگی عطا کی جو گزشتہ قوموں کے نبیوں ، رسولوں اور دوسرے نیک بندوں کو عطا فرمائی تھی لیکن ساتھ ہی اس کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ امت بھی ایک ہی رنگ میں رنگی گئی کہ اختلاف مراتب جو دنیا میں ہر جگہ موجود ہے وہ ان میں بھی موجود رہے گا اندریں صورت ان میں بھی وہ لوگ ہیں جو { ظالم لنفسہ } جو اپنی جانوں پر ظالم کرنے والے ہیں ، جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ فظالمھم یغفرلہ یعنی یہ وہ ظالم ہیں جن کو انجام کار معاف کردیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ یہ ظالم بھی ایسے ہیں کہ شرک کرنیوالے نہیں ہیں کیونکہ مشرکوں کو نجات نہیں ہے۔ اس طرح زیر نظر آیت نے ان لوگوں کی جو صحیح معنوں میں امت کہلانے کے مستحق ہیں ان کو تین قسموں میں تقسیم کردیا ہے ایک وہ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں کہ بعض ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں اور بعض میں کوتاہی کرجاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عقائد کے تو صحیح اور ستھرے ہیں لیکن فرائض وواجبات میں جن کا تعلق رب ذوالجلال والا کرام سے ہے ان میں سستی کر جاتے ہیں اور بعض گناہوں کا ارتکاب وصدور ان سے ہوجاتا ہے لیکن ان کوتاہیوں کے باوجود وہ امت میں شامل ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو { منھم مقتصد } وہ لوگ ہیں جو درمیانی چال چلنے والے ہیں وہ فرائض میں کوتاہی نہیں کرتے اور جو باتیں ضروری ہیں ان کا خیال بھی رکھتے ہیں ، برائیوں سے بھی ہر لحاظ سے بچتے ہیں لیکن شوق وذوق سے آگے آگے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ نہیں لیتے ، اپنی لائن برابر رکھتے ہیں ، فرائض کو تو وہ ادا کرتے ہیں لیکن نوافل کی طرف ان کی رغبت نہیں ہے ، زکوٰۃ تو ادا کرتے ہیں لیکن علاوہ ازیں کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تیسرے وہ ہیں جو ” سابق بالخیرات “ ہیں بھلائیوں اور نیکیوں کی طرف ہر وقت دوڑتے ہیں ، نوافل کو کثرت سے ادا کرتے ہیں ، زکوٰۃ تو وہ ادا کرتے ہیں لیکن زکوٰۃ کے علاوہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ خود استعمال نہ کریں یا کم کریں لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر وقت مستعد رہیں اور سا طرح صدقہ و خیرات کرنے میں وہ بہت تیز ہیں ، مال کو وہ دنیا داروں کے بنکوں میں رکھنے کی بجائے سیدھا وہ رب کریم ہی کے بنک میں جمع کرانے کے شیدائی ہیں۔ یہ تینوں اقسام کے لوگ بلا شبہ اور بلاریب امت محمدیہ میں شامل ہیں اور تینوں ہی برگزیدہ ہیں اگرچہ پہلی قسم تیسرے درجے میں اور تیسری قسم پہلے درجے میں شامل ہوں تاکہ آخرت میں ہم کو پہلا درجہ نصیب ہوجائے اور اللہ تعالیٰ سے یہی امید رکھنی چاہیے کہ وہ ہم کو انہی لوگوں کا ساتھ نصیب فرمائے گا جو آخرت میں پہلے درجہ میں ہوں گے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

وہ باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس حریر (ریشم) کا ہو گا

یہی لوگ جنت عدن کے رہنے والے ہیں اور انعامات جنت کے مستحق ہیں 33 ۔ اوپر جو تین اقسام کے لوگ بیان کئے گئے ہیں بلاشبہ یہ لوگ جنت عدن کے مالک اور وارث بنائے جائیں گے اور اپنے اپنے درجات کے مطابق ان کو وہاں رہنا ہوگا اس بات کو اس ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ لو اور وہ یہ ہے کہ ابو ثابت کہتے ہیں کہ میں ایک روز مسجد نبوی میں گیا اور میرے جانے سے پہلے ابوالدرداء ؓ مسجد میں ایک جگہ تشریف فرما تھے اور ان کے قریب میں بھی جاکر بیٹھ گیا اور بیٹھ کر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللھم انس وحشتی وارحم غربتی ویسرلی جلیسا صالحا ” اے اللہ میری قلبی وحشت و پریشانی کو دور فرما اور میری حالت مسافرت پر رحم فرما اور مجھے کوئی صالح اور نیک جلیس یعنی ہم نشین عطا فرمادے “۔ ابودرداء ؓ نے میری یہ دعا سنی تو فرمانے لگے کہ بھائی ! اگر آپ اپنی اس دعا وطلب میں سچے ہیں تو میں اس معاملہ میں آپ سے زیادہ خوش نصیب ہوں کہ اس نے مجھے آپ جیسا جانشین بےمانگے عطا فرمادیا ہے۔ ابوالدردائ ؓ یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ بھائی میں آپ کو ایک حدیث سنتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے لیکن ابھی تک اس کے بیان کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ وہ حدیث یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک روز { ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا } آیہ کریمہ تلاوت فرمائی اور پھر فرمانے لگے کہ ان تینوں قسموں میں سے جو سابق بالخیرات ہیں وہ تو وہ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے او جو مقتعد یعنی درمیانے ہیں ان سے ہلکا سا حساب لیا جائے گا اور وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے لیکن وہ جن کو ” ظالم لنفسہ “ کہا گیا ہے یعنی اعمال میں کوتاہیاں کرنے والے اور گناہوں کی لغزش میں مبتلا ہونے والے ہیں ان کو اس مقام پر ایک دفعہ تو سخت رنج والم ہوگا اور یہی رنج والم ہی ان کے گناہوں کا ازالہ کردے گا اور انجام کار ان کو بھی جنت عدن میں داخل کردیا جائے گا اور زیر نظر آیت میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ ” ان ہی لوگوں کے لئے وہ باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے اور موتیوں کے کنگن پہنچائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس بھی ریشمی قسم کا ہوگا “۔ اور قرآن کریم نے اہل جنت کے لئے ہر اس چیز کو بیان کردیا ہے جس کی چاہت انسانی کے دل میں اس وقت موجود ہے اور یہ اس لئے بیان کیا ہے کہ جو چاہت اس وقت انسان کی ہوگی وہی کچھ اس کو اس وقت ملے گا۔ اگر ان چیزوں سے جنت کے انعامات کا ذکر نہ کیا جاتا تو انسان ان انعامات کو کبھی سمجھ نہ سکتا تھا اور اگر وہ سمجھ ہی نہ سکتا تو اس کا طلب ہوتی تو کیا ہوتی ؟ لیکن یاروں نے اسی تصور کے اندر گم ہو کر حورعین کے گلے میں با ہیں دیں اور تن من دھن سے ایک ہوگئے اور اب کہہ رہے ہیں کہ ع تاکس نہ گوید من دیگرم تو دگیری
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ سب اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کردیا ، بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا اور بہت ہی قدردان ہے

وہ اللہ کی حمد کے گیت گائیں گے کہ واہ سبحان اللہ ! ہمارے تو سارے غم دور ہوگئے 34 ۔ اہل جنت کو جب جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی تو وہ بہت خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں گے کہ شکر ہے اس ذات بےنیاز کا جس نے آج ہمارے سارے غم دور کردیئے۔ ان غموں سے کیا مراد ہے ؟ دنیا کے ہموم وغموم تو عام ہیں جن سے کوئی بھی مصئون نہیں ہے اور اللہ کے بندوں کو سارے غموں سے بڑھ کر یہی غم لگا رہتا ہے کہ ہماری آخرت کا کیا بنے گا بہرحال غم دنیا ہو یا غم آخرت اب اس کے ان سارے غموں کا مداوا ہوگیا جب وہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ گیا۔ جس نے کہا کہ یہ دنیا دکوں کا گھر ہے اور ہموم وغموم کی جا ہے بالکل صحیح کہا ہے اور اسی مضمون کو کسی صاحب نے اس طرح بھی ادا کیا ہے کہ ؎ دریں دنیا کسے بےغم باشد دگر باشد بنی آدم نبا شد غور کرو کہ جس جگہ کو نبی اعظم وآخر ﷺ نے ” دارالسجن “ کہا ہے وہ غم سے خالی کیونکر ہوسکتی ہے۔ انسان کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے اور قید آزادی کے خلاف ہے۔ اس لئے اگر مومن کے لئے دنیا قید خانہ ہے تو مومن کو آزاد ہونے کے لئے یہ قید کاٹنا ہے لیکن جس بیوقوف نے دنیا کو آزادی کا گھر سمجھ لیا گویا اس نے آخرت کا انکار کردیا اور جس نے آخرت کا انکار کردیا اس نے وہ خسارہ پایا جو کبھی پورا ہونے والا نہیں۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

(شکر ہے اللہ کا) جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ آباد رہنے کے مقام پر پہنچا دیا اس میں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی ہم کو یہاں تھکاوٹ ہو گی

تعریق خداوندی کے بعد وہ اقرار کریں گے کہ اب ہم کو اس جگہ نہ مشقت ہوگی اور نہ تھکان 35 ۔ جنت کی اصل تعریف کیا ہے ؟ زیر نظر آیت میں جنت کی اصل تعریف ہی یہ بیان کی گئی ہے جس کے چند خصوصیات بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ وہ { دارالمقامۃ } ہے یعنی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے وہاں سے نکالے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ بھی کو جو زندگی وہاں کسی کو میسر آئے گی یعنی جس درجہ میں بھی وہ رہے گا وہاں سے زوال پذیر ہونے کا اس کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا اس لئے کہ وہ دا العمل نہیں بلکہ دارالجزاء ہے اور جس کی کوئی جزاء مل گئی بس مل گئی وہ اس سے کبھی چھینی نہیں جائے گا دوسرے یہ کہ وہاں کسی کو کوئی غم پیش نہیں آئے گا کہ وہ اس زندگی سے کبھی تنگ پڑجائے جیسا کہ دنیا کی عیش و عشرت میں پیدا ہونے اور جوان ہونے والوں کو بھی بعض ایسے غم لاحق ہوجاتے ہیں کہ وہ جان دینے کو زندگی پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی زندگی کا خود ہی خاتمہ کرلیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہاں کسی کو کوئی تکان نہیں ہوگی جیسے دنیا میں انسان کو تکان ہوسکتی ہے نہیں بلکہ ہوتی ہے اور وہ نیند کی ضرورت محسوس کرتا ہے بلکہ اکثر اوقات سونے پر مجبور ہوجاتا ہے اور یہ تینوں چیزیں ہی جنت کی زندگی میں نہیں ہوں گی بلکہ وہ چیز ہی انسان کے جسم میں نہیں ہوگی جو ان چیزوں کا تقاضا کرتی ہے۔ لغوب کیا ہے ؟ تکلیف اور مشقت کا نتیجہ ہے۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

جو لوگ (اللہ اور اس کے رسول کے) منکر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے وہاں نہ ان کو قضا (یعنی موت) آئے گی کہ وہ مر جائیں اور نہ ہی ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اسی طرح ہم ہر کافر کو سزا دیتے ہیں

منکرین ومعاندین کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ؟ 36 ۔ انبیاء کرام اور رسل عظام کا انکار کرنے والے اور خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ کا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کرنے والے سارے لوگ جہنم ہی کے پاس ہوں گے اور جس طرح جنت والوں کو جنت سے نہیں نکالا جائے گا ان کے لئے پابندی نہیں ہوگی بلا شبہ ایسے بھی ہوں گے جن کو جہنم میں ہمیشہ رہنا ہوگا کیونکہ ان کی شفا اور صحت یابی کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ زیر نظر آیت میں انہی قسمت کے ماروں کا ذکر ہے کہ جب موت پر موت طاری ہوگئی تو اب ان کو مرنے کی بھی کوئی امید نہ رہی جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ ؎ اب تو گھبرا کر کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے خود قرآن کریم نے دوسری جگہ ان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ { لا یموت فیھا ولا یحییٰ } (طہ 74:20) ” نہ وہ مریں گے اس میں اور نہ ہی وہ زندہ ہوں گے “ مطلب یہی ہے کہ وہ مرنا چاہیں گے لیکن مرنہ پائیں گے۔ ان کا جی چاہے گا کہ کم ازکم ان سے عذاب ہلکا ہی ہوجائے فرمایا ایسا بھی نہیں ہوپائے گا اس لئے کہ ہم سارے کفر کرنے والوں کو ایک ہی جیسی سزا دیتے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر میں تو وہ سب برابر ہوں اور سزا میں مختلف ، کیوں ؟ اس لئے کہ ایک عام آدمی ہے اور دوسرا ” زرداری “ ہے۔ یہ اندھیر کھاتا دنیا میں تو ہوسکتا ہے لیکن آخرت میں کوئی بیہاری ہو یا زرداری ہو جرم ایک جیسا ہوگا تو سزا بھی ایک ہی جیسی ہوگی۔ یہ رب ذوالجلال والاکرام کی جیل ہے پاکستان کی جیل نہیں۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ اس میں چیخیں گے چلائیں گے کہ اے ہمارے رب ! (اس عذاب سے نکال اب) ہم نیک کام کریں گے وہ کام نہیں (کریں گے) جو ہم کرتے رہے (ان سے کہا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر [ نہ دی تھی کہ اس میں جس کو سوچنا ہوتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے (لیکن تم نے ان کی ایک نہ مانی) اب مزہ چکھو کہ ظالموں کا (اس وقت) کوئی مددگار نہیں

دوزخ میں وہ چیخیں چلائیں گے لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی جائے گی 37 ۔ { یصطر خون } اصطراخ کی اصل ص ر خ ہے۔ باب افتعال لیکن ت ط سے بدل گئی ہے معنی چیخنے چلانے اور استغاثہ کرنے کے ہیں اور استغاثہ اپیل کو ہمارے ہاں بھی رونے پیٹنے اور چیخنے چلانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کا چیخنا چلانا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ ہم اس حال سے ایک بار پھر اس حال کی طرف واپس کیا جائے جس حال سے ہم یہاں آئے تھے اس وقت ہم نے دینی ہادیوں اور ہدایت پیش کرنیوالوں کا مذاق اڑایا تھا اور نیک اعمال کو بزدلی سمجھا تھا لیکن اب ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم وہاں پہنچ کر نیک عمل کریں گے اور دین کی ہدایات دینے والوں کو ہدایت پر مکمل عمل کریں گے اور ان کی نافرمانی ہرگز نہیں کریں گے۔ فرمایا ان کا یہ چیخنا چلانا بالکل فضول ہے اب ان کی ایک نہیں سنی جائے گی بلکہ ان کو یاد کرایا جائے گا کیا ہم نے تم کو عمر نہیں دی تھی ، مہلت نہیں دی تھی جب تم ہدایت کا مذاق اڑاتے تھے تو کیا اس وقت ہم نے تم کو پکڑ لیا تھا آخر وہ عمر تم کو کو یں دی گئی ؟ محض اس لئے کہ تم سوچ سمجھ کر نصیحت حاصل کرلو اور اپنی اصلاح کرلو ان باتوں اور کاموں سے باز آجائو لیکن تم نے ایک نہ سنی اور ڈرانے والوں کو الٹا مذاق کا نشانہ بنایا حالانکہ انہوں نے تم کو بار بار باور کرایا کہ اگر تم آخرت کو پھنس گئے تو تم کو کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم نے تم کو ڈھیل دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور تم نے اپنی ضد پر قائم رہنے کی جو قسم کھائی تھی اسی پر ڈٹے رہے اور ہمارے ڈرانے والوں کو الٹا ڈرانا شروع کردیا اور ان کو خواہ مخواہ تنگ کیا اور مذاق کا نشانہ بنایا اب میری طرف سے یہ فیصلہ ہے کہ تمہارے جیسے ظالم شرک وکفر میں لت پت ہو کر آنے والے ہیں ان کو ان کے کیے کی سزادی جائے گی اور ان کا کوئی حامی اور مددگار ہمارے پاس نہیں آئے گا ہاں ! اگر تم کو ابھی کوئی شک وشبہ ہے کہ کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے تو تم کو ابھی اجازت دی جائے گی کہ اپنے سفارشیوں کو پیش کرو تاکہ ان کو بھی غلط سفارش کرنے کا مزہ چکھائیں لیکن آخر وہ تمہارے جیسوں کی سفارش آخر کیوں کریں گے کیسے جب کہ ان کو اذن ہی نہیں دیا جائے گا۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے بلاشبہ وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے

اللہ آسمان و زمین کا غیب جانتا ہے اور دلوں کے رازوں سے بھی وہ واقف ہے 38 ۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں آسمانوں میں ہو یا زمین میں اور وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے اس کے باوجود اس نے تمہارے سارے اعمال کی مکمل کیسٹ تیار کررکھی ہے جس میں صرف تمہاری آواز ہی نہیں بلکہ ہر حرکت اس میں بند کردی ہے تم کو تمہارے ہاتھ پائوں اور شکل و صورت یہاں تک کہ تمہارے جسموں کی جلدیں اور چمڑے بھی بول بول کر تمہارے سارے کرتوتوں کو بتائیں گے اور تم کو اور تمہارے چہار دہ سالہ محبوبوں کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کردیں گے تاکہ تمہارا سارا شک وشبہ صاف ہوجائے۔ تم وہی حافظ ہو جو اس دیوان والے ہو اور تمہاری شعروشاعری کا دنیا میں بہت چرچا تھا ؎ مے دو سالہ و محبوب چہار دہ سالہ ہمیں بس است مرا صحبت صغیروکبیر (ح) اے بلبل اگر نالی من باتوں ہم آوازم تو عشق گلے داری من عشق گل اندامی (س) بنال بلبل اگر بامنت سریاری است کہ مادو عاشق زاریم وکار مازاری است (ح)
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) اس نے تم کو اس زمین پر (گزشتہ قوموں کا) قائم مقام بنایا ہے پس جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کفر کی وجہ سے کفار کے حق میں پروردگار کے ہاں ناخوشی بڑھتی ہی جائے گی (قانونِ الٰہی کا یہی تقاضا ہے) اور کافروں کیلیے ان کا کفر مزید خسارے کا باعث ہو گا

اللہ نے تم کو ” خلیفۃ فی الارض “ بنایا اور تم نے خلافت کی خوب دھجیاں اڑائیں 39 ۔ جس طرح عرف عام میں پورے گھر کے افراد میں سے ایک آدمی نمبردار ہو یا چیئرمین ہو یا کوئی ممبر ہو تو پورے گھر کے لوگوں کو نمبرداروں ، چیئرمینوں یا ممبروں کا گھر یا خاندان کہا جاتا ہے اس طرح جب آدم (علیہ السلام) کو خلافت ونیابت ہی کے لئے بنایا یا تخلیق کیا گیا تو اس لحاظ سے آدم کا پورا گھرانہ یعنی نسل آدمی خلیفۃ الارض قرار پائی اور ہر قوم یا فرد کے بعد کوئی قوم یا کوئی فرد خلیفہ قرار پا گیا اور اس طرح اس دھرتی پر آباد ہونے والے انسانوں کے تصرف میں جو کچھ دیا گیا وہ فی الحقیقت اس کے اصل مالک نہیں ہیں بلکہ ان کو صرف اور صرف تصرف کے اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو اصل مالک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اصل مالک کے مال کے محافظ بن کر اس کے دیئے گئے اختیارات کے مطابق صرف کریں کیونکہ وہ مال کے مالک نہیں بلکہ اصل مالک کے خلیفہ ہیں۔ بلا شبہ یہی ایک وہ صورت ہے جو انسان کو خلیفۃ الارض بناتی ہے لیکن انسانوں نے اس خلافت کی جو دھجیاں اڑائی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ اور باقی لوگوں کے علاوہ جو اس مفہوم کو نہیں سمجھتے خود مسلمانوں نے اس خلافت اراضی کا جو حشر کیا ہے وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں صاف صاف بتادیا کہ ” جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے “ یعنی تم کو گزشتہ قوموں کا جانشین بنایا ہے تاکہ تم گزشتہ قوموں کے حالات سے سبق سیکھو لیکن اگر تم نے سبق حاصل نہ کیا اور وہی کفر کا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے وہ قومیں ہلاک ہوئیں تو جیسے انہوں نے اپنے کیے کا نتیجہ پایا یقینا تم بھی اپنے کیے کا نتیجہ پالو گے گویا جو شخص بھی اپنی حیثیت خلافت کو بھول کر خود مختار بن بیٹھا جس نے اصل مالک کو چھوڑ کر اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے حقیقی مالک کی مرضی کے خلاف تصرف کیا وہ عرف اسلام میں کافر ہے اور یقینا وہ اپنی باغیانہ روش کا برا انجام دیکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انصاف وعدل ہے ظلم و طغیان نہیں کہ ایک قوم کو اس کے کیے کی پاداش میں ہلاک کرے اور دوسری قوم کے وہی کرنے سے اس کے ساتھ پیار شروع کردے۔ کافروں کو ہمیشہ ان کا کفر برباد کرتا آیا ہے اور ہمیشہ ہی ان کو برباد کرتا رہے گا یہ قانون الٰہی ہے اور قانون الٰہی کے لئے اٹل امٹ ہونا لازم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون بدلتا ہے اور نہ ہی کسی کو بدلنے دیتا ہے اس لئے کافروں کو ان کے کفر کا خسارہ لازماً اٹھانا پڑے گا۔ زیر نظر آیت پر جتنا غور وفکر کرتے جائو گے کفر اور اسلام کی خود بخودوضاحت ہوتی جائے گی جس کی وسعت کا انحصار تمہارے اپنے ذہن پر ہے کہ تم کس وسعت کے مالک ہو یا تم کس ملائیت کے شیدائی ہو۔