34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی ” حمد “ ہے اور وہ بڑا حکمت والا خبردار ہے

سب اچھی تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے جو حکیم وخبیر ہے 1 ۔ اس کائنات کی بلندیوں اور پستیوں میں جو کچھ ہے خواہ کوئی چھوٹی چیز ہے یا بڑی سب کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہرچیز اس کے فرمان کے سامنے سر بسجود ہے جو خوبی اور اچھائی کہیں بھی پائی جاتی ہے اور کسی چیز میں بھی پائی جاتی ہے سب اس کی طرف سے ہے اور اس کے لطف وکرم کا پر تو ہرچیز پر ہے پھر دنیا تو بہرحال دنیا ہے آخرت کی ہرچیز پر بھی اس کا جلوہ ہے وہی آخرت اور آخرت کی چیز کا خالق ومالک بھی ہے اس موجودہ آسمان و زمین کا خالق ومالک بھی ہے اس کو پیدا کرنیوالا بھی وہی ہے ، اس کی قدرت کاملہ سے اس کا قیام ہے وہی اس کا منتظم حقیقی ہے اور جس طرح اس ہرچیز کا وہ خالق ومالک ہے اسی طرح ان سب چیزوں کو فنا کرنے والا بھی وہی ہے اور بلا شبہ اس آسمان و زمین کو فنا کرنے کے بعد وہ نئی زمین اور نیا آسمان تخلیق کرے گا کیونکہ اس نے کہہ دیا ہے کہ یہ زمین و آسمان تبدیل کردیئے جائیں گے اور جو اس نے کہا ہے وہ ہو کر رہے گا اس طرح صرف یہی جہان نہیں بلکہ آخرت کا جہان بھی اس کا پیدا کردہ ہوگا اور اس کے حکم کے مطابق یہ تبدیلی ہوگی یہاں بھی اسکی حکمرانی ہے اور وہاں بھی اسکی حکمرانی ہوگی جو نعمت کسی کو ملے گی اسی کی جو دوعطا کا کرشمہ ہوگا اس لئے وہاں بھی ہرچیز کا مالک ومختار وہ آپ ہی ہوگا پھر یہ بھی کہ اس دنیا میں تو کئی غلط اندیش اس کا نام چھوڑ کر دوسروں کا نام لینے والے ہیں اور وہ دوسروں ہی کی محدود تعریف کے گیت گاتے ہیں لیکن قیامت آنے کی دیر ہے کہ سارے حجاب اٹھ جائیں گے اور غیر اللہ کو پکارنے اور سورنے والے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ چکے ہوں گے اور اپنے کئے پرکف افسوس ملتے ہوں گے اگرچہ اس وقت ان کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم حقیقت تو سب پر عیاں ہوچکی ہوگی وہاں حمد کے گیت گائیں گے تو صرف اور صرف رب ذوالجلال والا کرام ہی کی تعریف و توصیف کے گائے جائیں گے اور سارے ملکوں کے مالک اپنی اپنی مملکت سے دستبردار ہو کر اپنے کیے کی جواب دہی کے لئے لائن حاضر کرلئے جائیں گے اور پوری کی پوری مملکت صرف ایک اللہ واحد القہار ہی کی ہوگی ۔ انسان کو اچھی طرح یادرکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ارشاد ، ہر کام اور اس کی شریعت کا ہر قانون اور قضا وقدر کے سارے فیصلے اس کی حکمت و دانائی کے آئینہ دار ہیں اور وہ اپنی مخلوق کے حالات اور ضروریات سے ہر وقت اور ہر آن پوری طرح باخبر ہے اور بلا شبہ جو کچھ ہی اس سے ہے اور جو کچھ ہوگا سب اسی سے ہوگا۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ جانتا ہے کہ جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمانوں سے اترتا ہے اور جو کچھ ان میں چڑھتا ہے اور وہ پیار کرنے والا بخشنے والا ہے

اللہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے جو نکلتا ہے اور یہی حال آسمان کا ہے 2 ۔ زمین کو دیکھو صرف اتنا ہی خیال نہ کرو کہ وہ ایک گیند کی مانند ہے اس کی وسعت پر نظر کرو اس کی موٹائی کو دیکھو ، قشرارض پر غور کرو ، اس کی گہرائی پر دھیان دو پھر زمین پر سمندر ہیں ، پہاڑ ہیں اور دریا ہیں اس کے دفینوں کو شمار کرو اور ساری عمر کرتے رہے تو تم ان کو شمار نہ کرسکو کیونکہ جو ظاہر ہوچکے ہیں وہ تو ہو ہی چکے ہیں لیکن ابھی کیا کچھ ہے جو ظاہرہی نہیں ہوا اس کے اندر جو قوت نمو ہے اس پر غور کرو۔ تم نے جب یہ معلوم کیا کہ پانی فلاں فلاں گیس سے ملی کر تیار ہوا ہے تو تم پھولے نہ سمائے اور پالیا ، پالیا کے نعرے بلند کرنے شروع کردئیے تم نے کبھی غور کیا کہ جن گیسوں سے مل کر پانی بنتا ہے ان گیسوں کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ کیا وہ گیسیں اس فضا میں موجود نہیں ؟ اگر موجود ہیں اور بلا شبہ موجود ہیں تو وہ آپس میں مل کیوں نہیں جاتیں ؟ وہ کون ہے جس نے ان کو آپس میں ملنے سے روک رکھا ہے۔ خشک زمین کو دیکھو اور بارش کے ان قطروں کو دیکھو وہ کون ہے جس نے اس خشک زمین پر ان کو لابرسایا ، اچھا بارش برس گئی تو وہی زمین جو سڑ گئی تھی آج اس میں ہریاول ہی ہریاول نظر آتی ہے یہ ہریاول کہاں سے آگئی ؟ آپ نے دیکھا کہ زمین میں پانی ہی پانی ہے جدھر دیکھو پانی ہی پانی اور ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا ہوگا کہ تم نے دیکھا پانی کا تو نام ونشان بھی نہیں اور زمین کے صرف نشیب حصے پانی کا نشان بتاتے ہیں تم نے اس زمین میں ہل چلائے ، اس کو کاشت کے قابل بنایا یہاں تک کہ جو بیجنا چاہتے تھے تم نے بیچ دیا لیکن چار ہی دن گزرے تھے کہ زمین نے انگوری ظاہر کردی۔ وہ کون ہے جس نے اس دانے کے اندر قوت رکھی اور زمین کے اندر قوت رکھی اور پھر ان دونوں قوتوں کے ملاپ سے وہ چیز تمہارے سامنے پیش کردی جس کی تم کو خواہش تھی ، اس طرح غور کرتے جائو ، سارا دن سوچو ، تمہاری سوچ ختم ہوجائے گی ، تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو گن نہیں پائو گے۔ یہ زمین کیا ہے ؟ اس کے یہ نشیب و فراز کیا ہیں ؟ شمار کرو اور شمار کرتے جائو تم یقینا شمار نہیں کرسکوں گے ، پھر غور کرو کہ یہ زمین اس سے سب کچھ نکلا اور یہ زمین اس میں سب کچھ داخل ہوگیا نہ نکلنے والی اشیاء کا کو اندازہ لگا سکتا ہے نہ داخل ہونے والی چیزوں کا پھر تعجب یہ کہ نہ نکلتے وقت زمین میں کسی طرح کی کوئی کمی ہوئی اور نہ داخل ہونے سے کچھ زیادتی۔ غور کرو کہ زمین میں کیا طاقت اللہ نے رکھی ہے کہ وہ ہر ایک چیز کو نگل جاتی ہے اور باقاعدہ ہضم کردیتی ہے یہاں تک کہ اس کا نام ونشان ہی ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا اور پھر اسی زمین میں تم کو لوٹا دیا جاتا ہے اور یقین جان لو کہ اسی زمین سے تم کو دوبارہ نکال لیا جائے گا۔ ذرا آسمان کی بلندی پر غور کرو کہ جب اس کی بلندی کا کوئی اندازہ نہ لگا سکا تو کہہ دیا کہ آسمان ایک حد نظر کا نام ہے پھر آسمان سے نازل ہونے والی چیزوں میں غور کرنے کی دعوت دی جارہی ہے کہ جو کچھ وہاں سے نازل ہوتا ہے اس پر غور کرو ، آسمانوں سے نازل ہونے والی چیزوں سے وہ اشیاء جن کو اڑتے ہر آنکھ دیکھتی ہے پانی ہے ، اولے ہیں ، بجلی ہے ، کڑک ہے وحی الٰہی ہے اللہ تعالیٰ کی وہ ان گنت اور نہ شمار ہونے والی قوتیں ہیں جن کو فرشتوں اور ملائکہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہم سب کا رزق ہی آسمانوں ہی سے نازل کیا جاتا ہے۔ اوس اور شبنم ہے ، چاند کی چاندنی اور سورج کی دھوپ ہے اس طرح شمار کرتے جائو تو تم تھک جائو گے اس لئے کہہ دینا چاہیے کہ ان اترنے والی چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور پھر آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزوں میں ہمارا یہی پانی ہے جو بھاپ بن کر اوپر کو چڑھ رہا ہے قرآن کریم کی زبان میں شیاطین من الجن ہیں اور اب ہم دھڑ لے سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت شیاطین من الانس بھی ہیں۔ سارے جانداروں کی ارواح ہیں جو عالم علیین اور سجین کی طرف رواں دواں ہیں۔ زمین پر پڑنے والی سردی اور گرمی ہے کہ جس طرح اس کے نازل ہونے کا اصول ہے اس طرح ان کے چڑھنے کا بھی ایک اصول طے ہے اور اسی اصول کے مطابق اترنا ہے اور اس اصول کے مطابق چڑھنا ہے اور یہ سارا کارخانہ جس رب کریم نے چلا رکھا ہے اسی رب ذوالجلال والا کرام کا انکار کرنے والے ہیں کہ وہ ان کو برابر روزی دیتے چلا جارہا ہے اور ان کو فوراً سزا نہیں دے دیتا بلا شبہ وہ سالہا سال حکم بغاوت بلند رکھتے ہیں اور ندناتے پھرتے ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کی سزا نہیں دے سکتا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اذت رحیم و غفور بھی ہے اور وہ اپنی صفت رحیمیت کے باعث اور صفت غفوریت کے باعث ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہے ہے اور جب وہ ڈھیل کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو اس کو پکڑتے کوئی دیر نہیں لگتی اور وہ جہاں سوتے ہیں دھر لیے جاتے ہیں اور ان کو اس طرح پکڑ لیا جاتا ہے کہ ان کو بھی خبر نہیں ہوئی۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ ﷺ فرما دیجئے کہ آخر کیوں نہیں آئے گی ؟ میرے رب کی قسم وہ تم پر ضرور آئے گی (اس لیے کہ یہ اس نے کہا ہے جو) سارے غیبوں کا جاننے والا ہے ، اس سے آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ، کوئی چھوٹی اور بڑی چیز ایسی نہیں جو اس کی روشن کتاب (لوح محفوظ) میں موجود نہ ہو

کافر کہتے ہیں کہ قیامت آکیوں نہیں جاتی ؟ ان کو سمجھایاجارہا ہے کہ جلدی نہ کرو 3 ۔ یہ کفار کا پرانا مطالبہ ہے کہ آپ ہم کو بار بار کہتے ہیں کہ قیامت آئے گی ، قیامت آئے گی پھر آخر وہ آکیوں نہیں جاتی ؟ ان کو بتایا جارہا ہے کہ جس وثوق سے تم اس کا انکار کرتے ہو اور اپنے انکار سے خدا کو تھکا دینا چاہتے ہو یہ تمہاری بھول ہے خدا وہ ذات نہیں ہے کہ تھک جائے اور نہ وہ ایسا ہے کہ تمہارے چڑدلانے سے چڑ جائے اور اس کو فوراً تمہارے سامنے لا کھڑا کردے بہرحال تمہارا یہ مطالبہ اس وجہ سے ہے کہ دراصل تم اس کا انکار کر رہے ہو اور کرتے رہو بالکل نہ مانو اور اپنی زندگیوں کی اچھی طرح حفاظت کرو اور اس وقت تک تم بالکل نہ مرو جب تک قیامت آنہ لے لیکن میں تم کو قسم کھا کر بتلاتا کہ رب ذوالجلال والا کرام کی قسم وہ ضرور آئے گی اور ضرور بہ ضرور آئے گی مجھے اس اللہ کی قسم جو عالم الغیب ہے قیامت ضرورآئے گی اور تم کو اپنے رب کے سامنے حاضر کردیا جائے گا تم کو تعجب محض اس لئے ہورہا ہے کہ وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آکیوں نہیں جاتی لیکن تم خود ہی غور کرلو کہ کیا تم آئے ہو یا نہیں اگر آئے ہو اور یقینا آئے تو کہاں سے آئے ہو اور کیوں آئے ہو ؟ تم نہیں بتا سکتے لیکن تم اس لئے آئے ہو کہ اس لانے والے کے قانون میں تمہارا آنا موجود تھا اور تم کو معلوم بھی نہ ہوا کہ تم آدھمکے لیکن آنے کے بعد ذرا دل سے پوچھو کہ یہاں سے جانے کو جی چاہتا ہے ؟ یقینا تمہارا جواب یہی ہوگا کہ نہیں اور ہرگز نہیں لیکن کیا پھر تم نہیں جائو گے ؟ یقینا جائو گے کیا بتاسکتے ہو کہ کب جائو گے ؟ نہیں ! نہ جانے کے لئے تم تیار ہو لیکن اس کے باوجود تم یہاں سے چلے جائو گے آخر یہ لے جانے والا تمہارا کون ہے ؟ بلا شبہ وہی جو تمہارا یہاں لانے والا تھا۔ پھر تم کو آنے کا معلوم اور جانے کے لئے تیار اس کے باوجود تم آبھی گئے اور چلے بھی جائو گے اور تمہارے آنے میں تمہاری مرضی کو کوئی دخل نہ تھا ، تمہارے جانے میں تمہاری مرضی کو کچھ دخل نہیں ہے پھر تم ایک بار جانے کے بعد دوبارہ آنے سے آخر انکار کیوں کرتے ہو ؟ آجا کر تمہارا یہی کہنا ہے کہ تم جب بھر بھری ہڈیوں کی طر ہوجائو گے اور مٹی تم کو کھا جائے گی تو آخر تمہارا دوبارہ آنا کیونکر ہوگا ؟ تم اس بات کو سمجھنا چاہتے ہو تم کیا خاک سمجھو گے جب کہ تم اپنے پہلے آنے کو ہی نہیں سمجھ سکتے ہم تم کو یہی کہتے ہیں کہ جس طرح تم پہلی بار آگئے اور پھر آنے کے بعد جانے کے لئے تیار نہ ہونے کے باوجود چلے جائو گے اسی طرح تمہارا دوبارہ آنا بھی ممکن ہوجائے گا۔ رہی قیامت تو جس طرح تمہارے آنے کا ایک وقت تھا کہ تم آئے اور تمہارے جانے کا ایک وقت ہے کہ تم نہیں رہو گے اس طرح تمہارے دوبارہ آنے کے لئے بھی ایک وقت مقرر ہے اور وہ وقت وہی ہے جس کو قیامت کے نام سے پکارا جارہا ہے قیامت کے روز تمہارا جاکر آنا ضروری ہے اور یہ اس نے کہا ہے جو قیامت کا لانے والا ہے اور اس طرح تمہارا لانے والا بھی ہے اور ابھی تم گئے نہیں اور قیامت کے آنے کو طلب کر رہے ہو تو وہ کیسے آجائے گی ابھی تم کو جانا ہے اور پھر قیامت کے ساتھ ہی تم کو دوبارہ واپس آنا ہے پھر تم عجیب ہو کہ ابھی گئے بھی نہیں کہ قیامت کو طلب کر رہے ہو تو آخر وہ ابھی کس طرح آجائے۔ خوب یاد کرو کہ تم کون بھی ہو اور کہاں بھی ہو تم کو ابھی جانا ہے اور پھر جب تم کو جاکر آنا ہے تو وہ تمہارا دوبارہ آنا قیامت کے ساتھ ہی وابستہ ہے تم اللہ کے قانون کے ساتھ مت کھیلو اور ضد مت کرو اس ضد سے تمہارا فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا تم اپنے جانے کی تیاری کرو اور اس طرح جائو کہ دنیا سے سرخرو ہو کر جائو تاکہ جب دوبارہ آئو تو کامیاب ہو کر آئو۔ فرمایا تمہارا لانے والا کوئی ایرا غیرا اور نتھو خیرا نہیں بلکہ وہ عالم الغیب ہے جس سے آسمانوں اور زمین کا ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ہے پھر ذرہ تو ذرہ ہے اس سے اگر کوئی چھوٹی چیز جزء لا یتجزی ہے تو وہ بھی اور اس ذرہ سے بڑی چیز ہے تو وہ بھی پوشیدہ نہیں ہے ہر ایک چیز خواہ آسمانوں کی بلندیوں میں ہو یا زمین کے نیچے تحت الشریٰ میں ہو وہ اس کو بھی جانتا ہے اس مخلوق کو بھی جانتا ہے جس کو تم دیکھ سکتے ہو اور اس مخلوق کو بھی وہ جانتا ہے جس کو تم دیکھ نہیں سکتے اور ہرچیز اس کی کتاب لوح محفوظ میں ضبط تحریر ہے اور وہ ہر ایک چیز سے باخبر ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ میں مرجائوں تو میری نعش کو جلا کر راکھ کردینا اور زمین میں بکھیر دینا اور بیٹوں نے باپ کی وصیت کے مطابق باپ کی نعش کو جلایا اور پھر راکھ کر اٹھا کر زور دار آندھی کے دن اس کو آندھی کے سپرد کردیا لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوا تو اس سے پوچھا گیا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی یا اللہ محض اس خاطر کہ تیرے عذاب سے بچ جائوں۔ میرے اعمال میں اگر اچھائیاں تھیں تو برائیاں بھی تھیں مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ میرا کیا حال ہوگا میرا دل ڈر گیا اور اس ڈر کے باعث میں نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی لیکن میں نے دیکھا کہ میں تو پھر بھی لائن حاضر کرلیا گیا ہوں۔ اب مجھے پختہ یقین آیا کہ انسان اگر اس طرح رب کریم سے چھپ جانا چاہے اور نہ ظاہر ہونا چاہے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی برائیاں محو کردیں اور اس کو اچھا ٹھکانا عطا فرمادیا بلا شبہ اس میں شرک کی بیماری نہیں تھی اور گناہوں کی معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی کردیا ہے کہ اگر چاہو گا تو معاف کروں گا۔ اس لئے اللہ نے چاہا تو اس کو معاف کردیا اور اس سے زیادہ معاف کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

(یہ اس لیے ہے) تاکہ اللہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہی لوگ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ان کے ایمان لانے کی جزا ضرور دے گا 4 ۔ گزشتہ آیت کا مضمون ابھی جاری ہے اور اس جگہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا کیوں ضروری ہے ؟ اور کیوں ایسا ہے کہ وہ سارے انسانوں کے مرنے کے بعدہی آئے اور پہلے بالکل نہ آئے خواہ کوئی کتنی ہی ضد کیوں نہ کرے ؟ اس لئے کہ قیامت کا آنا بلا شبہ ضروری ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور محض اس ایمان لانے کا باعث وہ ظالموں کے ظلم کا شکار ہوگئے اور ظالموں نے ان پر دل کھول کر ظلم کیے اور اپنی جہالت کا ان کو نشانہ بنایا اور وہ اس طرح ظلم کرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے اور ایمان لانے والے اسی طرح ان کے ظلم وستم کو برداشت کرتے کرتے اس دنیا سے فارغ ہوگئے ، اب دونوں فریقوں کو اپنے کیے کا بدلہ اس جگہ نہ ملا اگر کسی کو کچھ ملا بھی توعین ممکن ہے کہ وہ پورا پورا بدلہ اس کا نہ ہو اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام اپنی جلالت و کرامت کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے اور اس کے عدل کا تقاضا ہے کہ ان دونوں فریقوں کو اپنے کیے کا پورا پورا بدلہ ضرور ملے اس لئے اس نے قیامت کا دن اس غرض وغایت کے لئے مقرر کررکھا ہے کہ سارے انسانوں کو ان کے کیے کی جزا وسزا ملے اور وہ اسی طرح ممکن تھی جو طریقہ اس کے لئے مقرر کردیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ قیامت آئے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس وقت آئے جب اس دنیا کا پورا نظام ختم کرکے یہاں پر جو کچھ کسی نے کیا ہے اس کا پورا پورا بدلہ اس کو دلایا جائے اور پھر آنے والے نظام میں جس سزا یا جس جزا کا وہ مستحق ہی اس سے وہ دوچار ہوجائے یہی وجہ ہے کہ کسی کے ضد کرنے سے کہ قیامت آکیوں نہیں جاتی نہیں آئے گی ہاں ! ضرور آئے گی بلکہ ضرور ہی آئے گی لیکن اس وقت پر آئے گی جو وقت اس کے لئے مقرر کردیا گیا ہے اور وہ وقت وہی ہے جس کی وضاحت اوپر کردی گئی ہے۔ فرمایا ایمان لانے والے اور ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کرنے والے ہی اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ آخرت کے اچھے رزق میں حصہ دار ٹھہرائے جائیں تاکہ ان کو ان کے ایمان لانے کا پورا پورا صلہ دیا جائے اور وہ اپنے رب کے ہاں مہمان ٹھہرائے جائیں اور ان کی خوب مہمانی کی جائے اور وہ آخرت کے انعامات کے مستحق قرار پائیں اور پھر ابدلا باد ان باغات میں رہیں جن کا ان کے پروردگار نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو عاجز کرنے میں کوشاں ہوتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے گناہوں کے باعث دردناک عذاب کی سزا تیار ہے

جو لوگ ہماری آیتوں کو عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے 5 ۔ کتنے بدبخت اور کوتاہ عقل ہیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بدبخت اور کوتاہ عقل اس لئے کہا جارہا ہے کہ ان کے پاس قیامت کے جھٹلانے اور دوبارہ اٹھائے نہ جانے کی کوئی دلیل عقلی اور نقلی موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایسے نادان ہیں کہ جھٹلاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ان کو ایک نہیں بیسیوں نشانیاں دی ہیں جن کا تقاضا ہے کہ قیامت آئے اور ضرور آئے اور یہ بھی کہ وہ اپنے وقت سے پہلے نہ آئے اور یہ بھی کہ اس کا جو وقت متعین ہے اس کی واضح نشاندہی کردی گئی ہے اور ان کو بار بار بتایا جاچکا ہے لیکن یہ ایسے ضدی ہیں کہ کوئی دلیل نہ رکھنے کے باوجود انکار پر انکار کیے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں تعجب ہوا جب ہم نے یہ دیکھا کہ صاحب ضیاء القرآن نے اس آیت کے تحت حاشیہ میں تحریر کیا کہ ” آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم تو بار بار اس امر کا اعلان کر رہے ہیں کہ قیامت آئے گی۔ انہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے بارے میں ان سے باز پرس ہوگی لیکن یہ لوگ ان آیتوں کو جھٹلانے میں کوشاں ہیں اور اس پر طرح طرح کی بےمعنی حجت بازیاں کرتے ہیں اور اپنی طرف سے عقلی اور نقلی دلائل کے انبار لگاتے چلے جاتے ہیں اس طرح وہ خیال کرتے ہیں کہ ہیں کہ ہم اپناارادہ بدل دیں گے “۔ صاحب ضیاء القرآن جسٹس ہیں انہوں نے یہ کس طرح لکھا دیا کہ وہ اپنی طرف سے عقلی اور نقلی دلائل کا انبار لگاتے چلے جاتے ہیں حالانکہ قیامت کے منکر آج بھی موجود ہیں لیکن ہم تحدی سے یہ بات کہتے ہیں کہ ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ ہی نقلی۔ قرآن کریم کفار کے اس مطالبہ سے بھرا پڑا ہے کہ قیامت آ کیوں نہیں جاتی اور اس طرح قرآن کریم نے بار بار قیامت کا انکار کرنے والوں سے دلیل طلب کی ہے لیکن کسی ایک منکر نے بھی آج تک نہ عقلی دلیل پیش کی ہے اور نہ ہی نقلی دلیل پیش کی ہے زیادہ سے زیادہ جس نے کہا ہے وہ یہی ہے کہ { من یحی العظام وھی رمیم } (78:36) ” اجی ! کون زندہ کرسکتا ہے ان ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “ اور ان کا یہ کہنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نقل موجود ہے یہ تو ان کے مونہوں کی ایک بڑ اور افواہ ہے جو وہ بک رہے ہیں اور پھر جن لوگوں نے یہ سوال اٹھایا جس سو اہل کی ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل موجود تھی اور نہ ہی نقلی دلیل وہ رکھتے تھے اور نہ ہی ایسی مہمل بات کی کوئی دلیل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کو ایسا واضح ، کھلا اور صحیح جواب دیا گیا اور اتنا جلدی دیا گیا کہ وہ دم بخودرہ گئے اور ان سے کہا گیا کہ نادانو ! اور نا سمجھو تم نے کتنا سطحی سوال کیا اور سوال کرتے وقت تم نے ذرا عقل وفکر سے کام نہ لیا سن لو اور اچھی طرح غور سے سن لو کہ { بحیھا الذی انشاھا اول مرۃ وھو بکل خلق علیم } (79:36) ” انہیں وہی ذات زندہ کرے گی جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو خوب جانتی ہے۔ “ بس یہ جو ال ملنا تھا کہ وہ دم بخود رہ گئے اور دوبارہ بولنے کی ہمت ہی ان کو نہ ہوئی۔ ہم جناب پیر جی سے مودبانہ گزارش کریں گے کہ پیر جی اختراعی اور گھڑی ہوئی باتوں کو جن کا کوئی سر پیر نہ ہو اگر کوئی تحریر بھی کردے اور وہ تحریر ہوتے ہوتے ایک مدت تک تحریر ہوتی چلی جائیں تو بھی وہ نقلی دلیل نہیں ہوجاتیں نقلی دلائل ان کو کہا جاتا ہے جو کسی اصول کی کتاب میں موجود ہوں اور عقلی دلائل وہ ہوتے ہیں جن کو عقل تسلیم کرنے پر مجبور ہو اور اس کا جواب مزید فراہم نہ کرسکے اور کم از کم یہ کہ جس کو صاحب عقل لوگ تسلیم کریں پھر غور کرو کہ جب کسی انسان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہی نہیں ہے تو وہ ان دلائل کے انبار کہاں سے لگائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے یہ کیوں تحریر کیا ؟ لیکن اس بات کو ہم اس جگہ چھیڑنا نہیں چاہتے اس طرح بات بہت لمبی ہوجائے گی۔ آپ ماشاء اللہ جسٹس ہیں اور صاحب علم وعقل ہیں لیکن اس طرح کی بےاحتیاطی سے نقل کی گئی باتیں بعد میں آنے والوں کو بعض اوقات دھوکا میں مبتلا کردیتی ہیں اس لئے آپ جیسے صاحب علم کو اتنی بےاحتیاطی سے بات کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے جو دوسروں کی ٹھوکر کا باعث ہو۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے اس چیز کو جو تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے حق جانتے ہیں اور (سمجھتے ہیں کہ) وہ زبردست خوبیوں والے رب کی طرف پہنچنے کا ٹھیک (اور سیدھا) راستہ بتاتی ہے

علم والے جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ ﷺ کی طرف نازل ہوا ہے وہ بلا شبہ حق ہے 6 ۔ قرآن کریم کو بغور پڑھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کو جو ضابطے اہل لغات نے تجویز کیے ہیں قرآن کریم کی زبان اور طرز بیان اکثر اس سے انکار کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اہل لغات اس میں اپنے علم کے تیر تکے چلاتے ہی رہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کا طرز بیان ایسا بہترین ہے کہ وہ غیب میں بات کرتے کرتے حاضر کی طرف اور حاضر میں بات کرتے کرتے غیب کی طرف واحد متکلم میں بات کرتے کرتے جمع متکلم اور جمع متکلم میں بات کرتے کرتے واحد متکلم کی طرف کلام منتقل کردیتا ہے اسی طرح دیکھنے کو جاننے اور علم رکھنے اور علم رکھنے اور جاننے کو دیکھنے اسی طرح ظاہر کرنے کو جاننے اور جاننے کو ظاہر کرنے کے الفاظ بولتا رہتا ہے پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضمیر مذکر کی ہو اور وہ مونث کی استعمال کردے اور مونث کی ہو تو وہ مذکر کی بیان کردے لیکن اس کا ایسا کرنا بغیر کسی وجہ کے نہیں ہوتا اس کی خاص وجہ ہوتی ہے اور ان وجوہ کو اہل لغت سے زیانہ اہل زبان سمجھتے ہیں اور اہل زبان اور اہل لغت میں بہت بڑا فرق ہے بلا شبہ ایک زبان نئے سرے سے سیکھنے کے لئے ان قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے لیکن اہل زبان کے لئے ان قیود کی پابندی کوئی لازم اور ضروری نہیں ہوتی پھر یہ بات صرف عربی ہی کے لئے نہیں بلکہ ہر زبان کی یہی حالت ہے اس طرح ہر زبان میں زمانہ کے بدلتے ہوئے رنگ بھی ایک حد تک تبدیلی لاتے رہتے ہیں اور اہل زبان رکی جگہ ڑ اورڑ کی جگہ ر۔ ت کی جگہ ث اور ث کی جگہ ت اور اسی طرح بہت سے دوسرے حروف کے تلفظ میں بھی فرق کرتے رہتے ہیں اور لغت ان کو پابند نہیں کرسکتی بلکہ جب آمنا سامنا ہوتا ہے تو لغت مار کھاجاتی ہے کیونکہ وہ ایک اختراعی اور بنائی ہوئی چیز ہوتی ہے جو اصل کا مقابلہ نہیں کرسکتی یہ بات اس لئے کرنا پڑی کہ اس جگہ { یری } بمعنی یعلم آیا ہے یعنی جانتے ہیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے علمائے یہودہی سے کیونکہ تورات میں وہ آخر الزمان نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق پیش گوئیاں پڑھ چکے تھے اور انہی پیش گوئیوں کے باعث وہ آپ ﷺ کو پہچانتے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہورہا ہے یعنی قرآن کریم اس کی تعلیم ہی حق ہے کیونکہ وہ ان کی اصل تعلیم کے مطابق تھا جو تورات میں ان کو دی گئی تھی لیکن بعد میں تورات کی تفسیر کرنے والوں نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا پھر ستم یہ ہوا کہ انہوں نے اصل تورات اور اس کی تفسیر کو اس طرح ملادیا اور ملا کر ترجمہ کردیا کہ اصل کتاب کا ان کو پتہ ہی نہ رہا کہ وہ کدھر چلی گئی جس کی اصل وجہ یہ بھی تھی کہ اس کی حفاظت کی ضمانت اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے نہ دی تھی۔ مختصر یہ کہ علمائے یہود اس حقیقت کو پہچان چکے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ تمام شانوں میں تعریف و ستائش کے مستحق اور غالب آنے والے کی طرف سے اس کا نزول ہوا ہے۔ (روح المعانی)
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور منکرین حق کہتے ہیں کہ (اے لوگو ! ) ہم تم کو ایک شخْص کا پتہ بتائیں جو تم کو یہ بتاتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو پھر نئے سرے سے پیدا کیے جاؤ گے

7 ۔ اسلام نے جتنے عقائد بتائے ہیں ان میں سے کسی عقیدہ کا انکار کرنے والے کو اسلام کی زبان میں کافر کہا جاتا ہے کیونکہ عقائد اسلام ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح منسلک اور پیوست ہیں کہ ایک کا انکار سب کا انکار متصور ہوتا ہے اس جگہ جن لوگوں کو کافر کہا جارہا ہے ان کا امتیازی کفر یہی ہے کہ وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس شخص کے متعلق تعجب کرتے ہیں جو ان کو قیامت کے آنے کے بارے میں صاف صاف لفظوں میں بتاتا ہے کہ قیامت آئے گی اور تم سب کو دوبارہ زندہ کرکے رب ذوالجلال والا کرام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہاں تمہاری اس دنیوی زندگی کا رزلٹ تمہارے سامنے پیش کردیا ججائے گا اس لئے وہ کام نہ کرو جن کے کرنے سے اس روز تم فیل قرار دیئے جائو اور پھر فیل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں پھینک دیئے جائو وہ یہ بات سنتے تو ازارہ مذاق دوسرے لوگوں کو کہتے کہ یارو ! ہم تم کو ایک ایسے شخص کا پتہ نہ بتائیں جو تم کو یہ بتاتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو پھر نئے سرے سے پیدا کئے جائو گے “۔ { مزقتم } جمع مذکر حاضر ماضی مجہول تم ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائو گے اس کا اصل مادہ م ز ق ہے جس کے معنی پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ہیں { ممزق } مصدر میمی بروزن اسم مفعول باب تفعیل معنی وہی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنا ، ریزہ ریزہ کرنا ، کس کو برا سمجھنا ، عیب لگانا ، طعن کرنا کے معنوں میں بھی آتا ہے دراصل اس میں بھی پھٹنے اور پارہ پارہ ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ انسان جب برا جانتا ، عیب لگاتا یا طعن کرتا ہے تو اس کی حالت اسی طرح کی ہوجاتی ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ جب ان کو قیامت کے روز سے ڈراتے تو وہ از تعجب یہ بات اپنے دوستوں اور یاروں سے اس طرح کرتے جیسے کوئی اچنبھے کی بات ہے جس کو ان ہونی بات کہتے ہیں اور نہ معلوم وہ بات کہتے وقت اور کیا کیا صلواتیں سناتے ہوں گے کیونکہ یہ فطرت انسانی ہے کہ جب اس کو اس کے اپنے نظریہ کے خلاف کوئی بات سنائی جاتی ہے تو وہ اس طرح کی صلواتیں بہرحال سناتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ میرا نظریہ کتنا غلط ہے ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ ماحول میں وہ بات اور کوئی کہتا نظر نہیں آتا اس وجہ سے ان کو وہ بات سن کر تعجب ہوتا ہے کہ اس آدمی نے کیا کہہ دیا مثلاً کوئی سن لے کہ فلاں آدمی عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ مانتا ہے باوجود اس کے کہ دنیا میں کوئی شخص بےباپ کہلانے کے لئے تیار نہیں بلکہ جس کو کوئی آدمی ایسی بات کہہ دے وہ مارنے کو آتا ہے اگر یقین نہ آئے تو کسی کو کہہ کر دیکھ لو ، تجربہ کرلو لیکن جب ہی کسی نے یہ کہا کہ یار فلاں آدمی تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ کو مانتا ہے تو لوگ صلواتیں دیں گے اور اسی وقت برا بھلا کہنا شروع کردیں گے کیوں ؟ اس لئے کہ پورے ماحول میں ایسی بات کہنے والا کوئی اور نہیں ہوگا اور اگر کوئی مانتا یا تسلیم کرتا ہے تو وہ چونکہ نام نہیں لیتا اس لئے لوگوں کو تعجب ہوتا ہے حالانکہ نسل انسانی کے ساتھ تعلق رکھنے والے انسان کے لئے باپ نہ ماننا تعجب کی بات ہے نہ کہ باپ ماننا کوئی تعجب کی بات ہے پھر کوئی شخص خواہ وہ کوئی ہو اپنے لئے یہ جملہ پسند نہیں کرتا اگر بےباپ ہونا کوئی اتناہی متبرک معاملہ ہے تو کم از کم اس کو برداشت تو کرلینا چاہیے اس کو گالی تو نہ سمجھنا چاہیے کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کسی کے ولد ہیں تب ہی انہوں نے اپنے آپ کو ولد مانا اور تسلیم کیا ہے قرآن کریم نے ان کو ” ولد “ کہا ہے اور جو ” ولد “ ہے اس کے لئے ” والد “ اور ” والدہ “ دونوں شرط ہیں اور یہ بات بھی صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے۔ جب لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تسلیم کی ، کسی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا ولد قرار دیا ، کسی نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور کسی نے عزیر کو اللہ کا بیٹا کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ لوگو ! { انی یکون لہ ولد } تم اللہ تعالیٰ کی اولاد کیوں اور کیسے قرار دیتے ہو { ولم تکن لہ صاحبۃ } ” اور اس کے لئے کوئی بی بی نہیں ہے “ اور تم بھی اس کے لئے کوئی بیوی تسلیم نہیں کرتے پھر جب اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی نہیں ہے تو اس کی اولاد کیونکر ہوگئی واضح ہوگیا کہ کوئی شخص ” ولد “ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ کوئی اس کا ” والد “ بھی ہو اور اس کے والد کے لئے کوئی بیوی بھی جو اس ” ولد “ کی ماں ہو۔ رب ذوالجلال والا کرام جو خود سارے معجزات کا فاعل حقیقی تسلیم کیا جاتا ہے جب اس کو کوئی قوم ، کوئی گروہ ، کوئی شخص کسی کا باپ مان لے تو وہ خودبھی اس کی تردید کے لئے یہی ارشاد فرمائے کہ جب تم نے مجھے کسی کا باپ تسلیم کیا ہے اور کوئی میری اولاد قرار دے لی ہے تو تمہارے ذمہ لازم ہے کہ تم میری بیوی بتائو یعنی تسلیم کرو کہ ہاں ! اللہ میاں بھی جورو رکھتا ہے جب تم اپنے عقیدہ میں میرے لئے کوئی جورو نہیں مانتے تو بغیر جورو کے اولاد کیسے ؟ غور کرو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ لوگوں پر تعجب کررہا ہے اور دوسری طرف لوگ اس شخص پر تعجب کر رہے ہیں جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا والد کہہ دیا ہے حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ تو وہ سارے تعجب کرنے والے خود بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ پھر تعجب تو ان پر ہونا چاہیے تھا جو باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو تسلیم کرنے کے والد سے انکار کرتے ہیں لیکن چونکہ لوگوں نے یہ نظریہ قائم کرلیا ہے اس لئے وہ الٹا ان لوگوں پر تعجب کر رہے ہیں جو باپ کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس یہی دلیل ہزار دلیل کے برابر ہے کہ جس کی ماں ہو اس کا باپ بھی ہونا ضروری ہے جیسا کہ کسی کا باپ ہو تو اس کی ماں ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی ، جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 101 کے تحت کرچکے ہیں۔ { ولم تکن لہ صاحبۃ } اور نہیں اس کے لئے کوئی بیوی کیوں ؟ اس لئے کہ بیوی کا ہونا جنس سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں ہے اور دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے جنس کا ہونا تسلیم کرے جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرائے وہ بھی اس کے شریکوں کو اس کی جنس تسلیم نہیں کرتے پھر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دی وہ بھی اس کی کوئی جنس تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود وہ اپنا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اور پھر ان میں جو لوگ ذرا سمجھدار ہیں وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کی اولاد اس کی جنس سے تو نہیں ہے لیکن اس نے کسی دوسرے کی اولاد کو اولاد بنالیا ہے اس لئے وہ کہتے تھے کہ { اتخذ اللہ ولدا } کہ اللہ نے اولاد پکڑی ہے لیکن دوسری جگہ اللہ نے ان کو بھی جواب دے دیا ہے کہ اس کو آخر اولاد پکڑنے کی ضرورت کیا ہے ؟ مثال ذرا لمبی ہوگئی بات یہ ہورہی تھی کہ منکرین قیامت جب نبی اعظم وآخر ﷺ سے وقوع قیامت کے بات سنتے تو بڑا تعجب کرتے اور کہتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی مرے اور مرنے کے بعد وہ ریزہ ریزہ ہوجائے ، زمین اس کی ہڈیوں تک کو کھا جائے اور پھر اس کو اٹھا کر کھڑا کردے ، نہیں ! ہرگز نہیں کوئی قیامت ویامت نہیں ہوگی اور پھر جب کہیں ادھر ادھر جاتے تو ناواقف لوگوں کو یہ تعجب کی بات بتاتے کہ یارو ہمارے ہاں ایک آدمی ہے نہ معلوم اس کو کیا ہوگیا ہے اور اس کو کس کی مار لگ گئی اور اس کو اس طرح کا جنون ہوگیا ہے کہ ہم سے کہتا ہے کہ لوگو ! تم کو مرنے کے بعد دوبارہزندہ کردیا جائے گا اور تمہارے ان افعال کی جو تم اس دنیا میں کر رہے ہو جزاء یا سزا دی جائے گی اور لوگ بھی ان کی یہ بات سن کر تعجب کرتے کہ عجیب ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے حالانکہ اس کو تو ہم سے کوئی بھی نہیں جانتا نہ ہمارے باپ دادا نے کبھی ایسی بات کہی تھی ، ہو نہ ہو بہرحال وہ کوئی پاگل ہی ہوگا ؟
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا وہ شخص اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے یا اس کو جنون ہے (در اصل بات یہ ہے کہ) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ عذاب میں (مبتلا) ہیں اور گمراہی میں بہت دور جا پڑے ہیں

یہ کہنے والا خواہ وہ کوئی بھی ہو بہرحالوہ کوئی دیوانہ ہی ہوسکتا ہے 8 ۔ اس طرح وہ تعجب اور حیرانی سے ایک قدم اور آگے بڑھتے اور بڑے ترنگ سے بات کہہ دیتے کہ اگر فی الواقع کوئی ایسا شخص ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ ہی کہتا ہے یا پھر وہ کوئی دیوانہ ہی ہوگا۔ قیامت کی اطلاع دینے والا کون ہے ؟ نبی اعظم وآخر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہی تو ہیں جن سے بڑھ کر کوئی سچا ماں نے جنا ہی نہیں جن سے زیادہ کوئی اللہ والا ہو ہی نہیں سکتا تو انہوں نے جب ایک قوم کے نظریہ کے خلاف بات کہہ دی حالانکہ وہ بات اپنی جگہ کتنی ہی سچی تھی لیکن سننے والوں نے اس کو برداشت نہ کیا اور ایک نہایت سچی بات کو قوم کی قوم نے جھوٹ کہہ دیا ممکن ہے کہ ان کے عوام اس سے ناواقف ہوں لیکن خواص تو بہرحال جانتے تھے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے خواص نے ان کو جواب دیا کہ یارو ایسی بات نہ کہو کہ وہ کوئی دیوانہ ہے بلکہ یہ تو ایک مذہبی عقیدہ یا نظریہ ہے ، نہیں بالکل نہیں کہا ، کیوں ؟ اس لئے کہ آج تک انہوں نے قوم کو یہ باور ہی نہ کرایا اور آج وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی ہاں میں ہاں کیسے ملادیں نہیں ! نہیں وہ تو قوم ہی کی ترجمانی کریں گے اور قوم کے لوگوں کو اسی عقیدہ پر پکا کریں گے لوگو ! قیامت ویامت کچھ نہیں ہوگی ، دیکھو مدت سے یہ لوگ کہتے چلے آئے ہیں اور ہر دور میں ایسے سر پھرے ہوتے رہتے ہیں جو قوم میں انتشار پھیلانے اور قوم کو ان ہونی باتوں کی دعوت دیتے رہے ہیں ان کی بات تو بالکل سننی ہی نہیں چاہیے بس چپ بھلی اور یقینا ان کے مذہبی پروہتوں نے بھی ان کو یہی جواب سناایا ہوگا اسی لئے تو وہ دھڑلے سے کہنے لگے کہ ہو نہ ہو یہ کوئی دیوانہ اور پاگل ہے اور اس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے اور یہ مرض جنون میں مبتلا ہوگیا ہے اس لئے ہی تو یہ خلاف عقل باتیں کرتا ہے اور پھر جس طرح جنون کے مرض والا ایک چیز پر مصر ہوجاتا ہے اسی طرح یہ بھی اصرار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس الزام کا خود جواب دے رہا ہے کہ پاگلو ! عقل کا نام تم نے جنون رکھ دیا ہے۔ میرا رسول محمدرسول اللہ ﷺ نہ تو دیوانہ ہے اور نہ ہی مجھ پر کوئی جھوٹ بول رہا ہے بلکہ وہ تو ایک نہایت واضح ، غیر مبہم اور سچی بات کہہ رہا ہے اور تم لوگ خود پاگل ودیوانے ہو اور ایک صاحب عقل ، صاحب وحی انسان کو دیوانہ کہہ رہے ہو حالانکہ قیامت کی حقیقت کو جھٹلا کر تم خود کفر کے مرتکب ہو رہے ہو اور ایسے کافروں کے لئے تو میں نے بہت سخت عذاب تیار کررکھا ہے اور آج کی اس گمراہی میں مبتلا لوگوں کے لئے تو میں نے عذاب تیار کررکھا ہے اور اس مقصد کے لئے تو آخرت قائم کرنے کا ہم نے پروگرام بنایا ہے جس کو تم جھٹلا رہے ہو گویا اپنے آپ کو آخرت کے عذاب کے لئے تیار کر رہے ہو اور یقینا تم کو دوزخ کا ایندھن بنایا جائے گا اور تمہارے ان مذہبی پروہتوں کو دوہری سزادی جائے گی۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کا اعلان کیا ہے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس چیز کی طرف نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں اور زمین سے آگے کی طرف سے اور پیچھے کی طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہے اگر ہم چاہیں تو ان کو انہی کی زمین (ملک) میں دھنسا دیں (مصائب میں مبتلا کردیں) یا آسمان سے (بادل کا) ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں بلاشبہ اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہر آدمی کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ آسمان و زمین میں پابند کیے گئے ہیں۔ 9 ۔ قیامت کے آنے سے تعجب کرنے والوں کو کیا یہ نظر نہیں آتا کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان گھرے ہوئے ہیں اور آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا بھی وہی ہے جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر معبوث کیا اور ان پر اپنا پیغام نازل کیا ہے اس پیغام کو رسول پڑھ کر سنا رہا ہے جس کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس لئے ان مذاق اڑانے والوں کو اگر وہ چاہے تو زمین میں دھنسا دے اور چاہے آسمان سے کوئی چیز گرا کر ان کو تہس نہس کر دے اس کے لئے آخر مشکل ہی کیا ہے۔ تعجب تو ان لوگوں پر ہے جو چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں اور اگر یہ بھاگ کر جانا بھی چاہیں تو نہیں جاسکتے اس لئے کہ اس نظام عالم سے باہر نکلنا تو ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے اور اس نظام عالم میں وہ جہاں بھی جائیں گے اسی رب ذوالجلال والا کرام کی حکومت ہوگی اور اسی کا نظام ہوگا جیسا کہ سورة رحمن کی آیت 33 میں اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرمادی ہے۔ اگر ان کی ان کٹ حجتیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے تو یہ محض اس کی قدرت و حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ایسے نادانوں کو بھی وہ مہلت دے دیتا ہے اور بلاشبہ اس طرح کے ڈھیٹ لوگوں کے ساتھ ہی وہ اللہ کے نیک اور صالح بندے بھی ہیں جن کے دل ہر وقت رب ذوالجلال والا کرام کی طرف رجوع رہتے ہیں اور ان لوگوں کی باتیں سن کر وہ مزید رجوع الی اللہ ہوجاتے ہیں۔