Ayah 34:15اہل سبا اور ان کی خوشحالی کا ذکر کہ اللہ نے ان پر کتنے احسان کیے تھے
15 ۔ سبا کیا ہے ؟ سبا قحطانی نسل کی ایک مشہور شاخ ہے۔ سبا اپنے قبیلے کا جد اعلیٰ تھا اور اس کا نام عمر یا عبدالشمس بتایا جاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ سبا اسی کا لقب تھا۔ تورات کا بیان ہے کہ اس کا نام ہی سبا تھا۔ یہ شخص بہت ہی بہادر اور صاحب ہمت تھا اور اس نے زبردست فتوحات کے ذریعہ حکومت سبا کی بنیاد ڈالی۔ سبا کا زمانہ عروج محققین کے نزدیک تقریبا 1100 ق م سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ تقریباً 1000 ق م میں اس کی حکومت و طاقت اور عروج کا ذکر دائود (علیہ السلام) کی زبور میں موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
” اے خدا بادشاہ کو اپنی عدالتیں عطا کر اور بادشاہ کے بیٹے کو اپنے صداقت دے وہ تیرے لوگوں میں صداقت سے حکم کرے گا… ترسیس اور جزیروں کے سلاطین نذریں دیں گے اور سبا اور سبا کے بادشاہ ہدیئے گزاریں گے… وہ جیتا رہے گا سبا کا سونا اسے دیا جائے گا ، اس کے حق میں سدا دعا ہوگی۔ “ (زبور 72 ، سلیمان کا زبور)
چنانچہ دائود (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی اور 950 ق م میں ملکہ سبا نے حاضر ہو کر سبا کا سونا اور جو ہرات نذر گزارے بلکہ مسلمان ہو کر حکومت سباہی کو حضرت سلیمان کے زیر فرمان کردیا۔ سبا کی حکومت کا اصل مرکز عرب کے جنوبی حصہ میں یمن کے مشرقی علاقہ میں تھا اور دارالحکومت کا نام مارب تھا اس کو شہر سبا بھی کہتے تھے اور آہستہ آہستہ اس کا دائرہ وسیع ہو کر مغرب میں حضر موت تک وسیع ہوگیا تھا اور دوسری جانب افریقہ تک اس کا اثر پہنچ چکا تھا چناچہ حبشہ میں اذنیہ کا علاقہ سبا کے ماتحت تھا جس پر معافر ایک سبائی گورنر حکومت کرتا تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ معین حکومت زوال پذیر تھی اور سبا نے یمن اور اطراف یمن میں اپنے مشہور قلعے تعمیر کرلیے تھے اور معین کے قلع کھنڈر کی صورت میں بدلتے جا رہے تھے۔ سبا کی مختلف شاخیں تھیں اور عرصہ دراز کے بعد ان میں سے متعدد شاخوں نے یمن کو مرکز حکومت بنا کر عظیم الشان تمدن اور حکومت کی بنیادیں قائم کرلی تھیں ان میں سے ح میرا اور تبابعہ مشہور حکمران شاخیں تھیں اور ان سے قبل سبا کے حکمران مملوک سبا کے لقب سے مشہور ہیں اور مملوک سبا کا آخری دور حکومت 550 بتایا جاتا ہے۔ (معجم البلدان دائرۃ المعارف ذکر سبا)
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ کرب میں مستقل دریا ناپید ہیں اکثر بارش کے پانی پر گزارا ہے اور کہیں کہیں پہاڑی چشمے بھی ہیں۔ بارش کا پانی ہو یا پہاڑی چشموں کا تمام پانی بہہ کر وادی کے ریگستان میں جذب ہو کر ضائع ہوجاتا تھا۔ قوم سبا نے اس پانی کو کام میں لانے اور باغات وزراعت کو سربز و شاداب بنانے کے لئے یمن کے اقطاع وامصار میں ایک سو سے زائد بند باندھے تھے اور ان کی وجہ سے ملک سر سبز وبہاستان بنا ہوا تھا ، انہی بندوں میں سے سب سے بڑا بند اور نہایت ہی عظیم الشان بند ” سدمارب “ تھا جو دارالحکومت مارب میں بنایا گیا تھا۔ اس ” سد “ کے متعلق قدیم وجدید مورخین اور سیاحوں نے جو حالات لکھے ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ سبا کو فن انجینئری اور ہندسہ میں بہت بڑا کمال حاصل تھا۔
مارب کے جنوب میں داہنے بائیں دو پہاڑ ہیں جو کوہ ابلق کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان بہت طویل و عریض وادی ہے جس کو وادی ازنیہ کہتے ہیں جب پانی برستایا پہاڑی چشموں سے بہہ کر نکلتا تو وادی دریا بن جاتی۔ سبا نے یہ دیکھ کر 800 ق م میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان بند باندھنا شروع کیا اور ایک عرصہ تک اس کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا۔ بعض مورخین عرب نے اس بند کو دو میل مربع بتایا اور سید سلیمان ندوی (رح) نے ارض القرٓن میں ایک یورپین سیاح کے حوالہ سے بیان کیا کہ یہ ایک سو پچاس فٹ لامبی اور پچاس فٹ چوڑی دیوار ہے جس کا بہت بڑا حصہ اس وقت منہدم ہوچکا ہے اور تقریباً ایک تہائی اب بھی باقی ہے اور وہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ اس سیاح نے اس کا بہت عمدہ نقشہ تیار کرکے اپنے مضمون کے ساتھ شائع کیا ہے جو فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل میں چھپا ہے اور جس کو انہوں نے ارض القرآن میں بھی نقل کیا ہے۔ مورخین عرب یہ بھی کہتے ہیں کہ سبا نے اس کو اس طرح تعمیر کیا تھا کہ پانی کو روکنے کے بعد موسوں کے اختلاف کے پیش نظر آبیاری کے لئے پانی کے اوپر نیچے تین درجے قائم کردیئے تھے اور ہر درجہ میں تیس تیس کھڑکیاں رکھی تھیں جن کے ذریعہ پانی کو کھولا اور بند کیا جاتا تھا اور پھر ان کے نیچے ایک بہت بڑاحوض بنایا گیا تھا اس کے دائیں اور بائیں بڑے بڑے آہنی پھاٹک تھے جن کے ذریعہ حوض کا پانی تقسیم ہو کر مارب کے دنوں جانب نہروں ، گولوں اور راج با ہوں کے ذریعہ حسب ضرورت کام میں لایا جاتا تھا اس عظیم الشان بند کی وجہ سے تقریباً تین سو مربع میل تک داہنے اور بائیں چھواروں کے نخلستان ، میووں اور پھلوں کے حسین و جمیل باغ ، خوشبوئوں کے کھیت اور مرغزار ، دارچینی ، عود اور مختلف قسم کے خوشبودار درختوں کے گنجان باغات اس کثرت سے ہوگئے تھے کہ تمام علاقہ چنستان اور فردوس بنا ہوا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ج 2 ص 158)
یمن کی طبعی خصوصیت کے لحاظ سے خوشبوئوں ، پھلوں اور پھولوں کے درختوں کی کثرت مارب کے بند کی وجہ سے اس میں عظیم الشان اضافہ اور ترقی تجارت کاروبار اور معدنیات کی کثرت کی وجہ سے سونا ، چاندی اور جواہرات کی بہتات نے قوم سبا میں اس درجہ خوش بحیشی ، رفاہت اور فارغ البالی اور اطمینان پیدا کردیا تھا کہ وہ ہر وقت مسرت و شادمانی کے ساتھ رب العزت کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتے اور شب وروز طمانیت اور سرفہ الحالی میں زندگی بسر کرتے تھے اور ملک کے بہار ستانوں اور چمنستانوں کی وجہ سے آپ و ہوا میں اس درجہ اعتدال تھا کہ سبا کے لوگ مکھیوں اور پسووں جیسے ایذرساں کیڑوں سے پاک و محفوظ تھے چناچہ سبا کے معاصر مورخ اہل سبا کی اس رشک پیدا کرنے والی زندگی کے حالات اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ” عرب کے انتہائی حد پر سمندر (بحرہند وعرب) کے پہلو میں سبا کے لوگ ہیں جن کا دارالحکومت مارب (Mariaba) ہے یہ قطعہ ملک مصر کے زیریں پڑا ہے گرمیوں میں بارش ہوتی ہے اور دریا جاری ہوتے ہیں جو میدانوں اور نالیوں میں جاکر خشک ہوجاتے ہیں اس سبب سے زمین اس قدر سرسبز و شاداب ہے کہ تخم ریزی وہاں ایک سال میں دو بار ہوتی ہے۔ حضر موت سے سباء کے ملک تک چالیس رواز کا راستہ ہے اور معین سے سوداگر ستر دن میں ایلہ (عقبہ) پہنچتے ہیں ، حضرت موت ، معین اور سبا کے ملک خوش وخرم ہیں اور ہیکلوں اور شاہی عمارتوں سے آراستہ ہیں مورخین کہتے ہیں کہ :
” سبا کا بادشاہ اور اس کا ایوان مارب میں ہے جو ایک پر اشجار پہاڑ پر زنانہ خوش حالی (عیش و عشرت میں واقع ہے) میووں کی کثرت کے سبب سے لوگ سست اور ناکارہ ہوگئے ہیں ، خوشبودار درختوں کی جڑوں میں لیٹے رہتے ہیں ۔ جلانے کی لکڑی کے بدلے دار چینی اور خوشبودار لکڑی جلاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا پیشہ زراعت ہے اور کچھ ملکی اور غیر ملکی مسالوں کی تجارت کرتے ہیں یہ مسالے مقابل کے حبشی ساحل سے لے جاتے ہیں جہاں سبا کے لوگ چمڑے کی کشتیوں میں بیٹھ کر دریا کے پارچلے جاتے ہیں۔ قرب و جوار کے قبائل سبا سے تجارتی اسباب خریدتے ہیں اور وہ اپنے ہمسایوں کو دیتے ہیں اور اس طرح دست بدست وہ شام اور جزیرہ تک پہنچتے ہیں “۔ (ارض القرآن ج 2 ص 252 ، 253)
غرض یمن کی طبعی خصوصیات کے علاوہ جو اس ملک کی شادابی اور معتدل آپ وہوا کے لئے قدرتی وسائل کی شکل میں موجود تھیں ملک کے اندر اس ” بندآب “ نے ہمہ قسم کی راحت اور عیش و عشرت کی زندگی کے لئے سامان فراہم کردیئے تھے اور ان سب چیزوں پر یہ مستزاد تھا کہ یمن سے شام تک جس مشہور شاہراہ ” امام مبین “ پر اہل سبا کے تجارتی قافلوں کی آمدورفت تھی اس کے بھی دونوں جانب حسین وخوبصورت بلسان اور دار چینی کے خوشبودار درختوں کا سایہ تھا اور قریب قریب فاصلہ سے حکومت سبا نے ان کے سفر کو آرام دہ بنانے کے لئے کاروان سرائے بنا رکھی تھیں جو شام کے علاقہ تک ان کو اس آرام کے ساتھ پہنچاتی تھیں کہ خنک پانی اور میووں اور پھلوں کی افراط یہ بھی محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ وہ اپنے وطن میں ہیں یا دشوار گزار سفر میں حتیٰ کہ جب خوش گزار سایہ اور فرخت بخش ہوائیں ان کے کارواں ان کارواں سرائوں میں ٹھہرتا میوے اور تازہ پھل کھاتا اور سردومیٹھا پانی پیتا ہوا حجاز وشام تک آمدورفت رکھتا تو ہمسایہ قومیں رشک کرتیں اور ان پر نگاہیں اٹھاتیں اور حیرت وتعجب کے ساتھ ان کی اس عیش و عشرت تر انگشت بدنداں ہوجاتی تھیں جیسا کہ ابھی آپ ان کے معاصر مورخین کی زبان سے سن چکے ہیں کہ وہ کن الف اس کے ساتھ ان کی اس خوش حالی کا تذکرہ کر رہے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بحد ارزاں کردیا تھا۔ ان تاریخی تصریحات کے پیش نظر آپ قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھیں جس کی تفسیر میں ہم نے ان کا یہ حال تحریر کیا ہے اور زیر نظر آیت کا ترجمہ ایک بار دیکھیں ، فرمایا :
” اہل سبا کے لئے ان کی آبادی میں ایک نشانی تھی دو باغ دائیں اور بائیں ، اپنے پروردگار کا عطا کیا ہوا رزق کھائو اور اس کا شکر ادا کرو (تمہارا ) کتنا پاکیزہ شہر ہے اور (کیسا) بخشنے والا پروردگار ہے “۔
Ayah 34:16اہل سبا کی روگردانی کا ذکر اور تندوتیز سیلاب کی کارستانیوں کا بیان
16 ۔ اہل سبا ایک عرصہ تک تو اس جنت ارضی کو اللہ رب العزت کی عظیم الشان آیت ونعمت ہی سمجھتے رہے لیکن تمول خوش حالی نے آہستہ آہستہ ان میں بھی وہی اخلاق رویہ پیدا کردیئے جو ان کی پیش روگزشتہ متکبر اور مغرور قوموں میں پائے جاتے تھے اور یہ یہاں تک بڑھے کہ انہوں نے دین حق کو بھی خیر باد کہہ دیا اور کفر وشرک کی زندگی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یکے بعد دیگرے تیرہ نبی ورسول بھیجے مگر انہوں نے مطلق توجہ نہ دی اور اپنی موجود خوش عیشی کو دائمی وراثت سمجھ کر شرک وکفر کی بدمستیوں میں مبتلا رہے۔ (البدایہ والنہایہ ج 2) آخر تاریخ نے خود کو دہرایا اور ان کا انجام بھی وہی ہوا جو گزشتہ زمانہ میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نافرمانی قوموں کو نکل چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دو قسم کے عذاب مسلط کردیئے جن کی بدولت ان کے جنت مثال باغات برباد ہوگئے اور ان کی جگہ جنگلی بیریاں ، خاردار درخت اور پیلو کی جھاڑیاں اگ کر یہ شہادت دینے اور عبرت کی کہانی سنانے لگیں کہ اللہ رب کریم کی پیہم نافرمانی اور سرکشی کرنے والی اقوام کا یہ حشر ہوتا ہے۔ پہلی سزا یہ ہوئی کہ وہ ” بند “ جس کی تعمیر پر ان کو بیحد ناز تھا اور جس کی بدولت ان کے دارالحکومت کے دونوں جانب تین سو مربع میل تک خوبصورت اور حسین باغات اور سرسبز و شاداب کھیتوں اور فصلوں سے یمن گلزار بنا ہوتا تھا وہ حکم الٰہی سے ٹوٹ گیا اور اچانک اس کا پنی زبردست سیلاب بن کر وادی میں پھیل گیا اور مارب اور اس کے تمام حصہ زمین پر جن میں یہ فرحت بخش باغات تھے پانی چھا گیا اور ان سب کو غرق آب کرکے برباد کرڈالا اور پھر جب پانی آہستہ آہستہ خشک ہوگیا تو اس پورے علاقے میں باغوں کی جگہ پہاڑوں کے دونوں کناروں سے وادی کے دونوں جانب جھائو کے درختوں کے جھنڈ ، جنگی بیریوں کے جھاندو اور پیلو کے درختوں نے لے لی جن کا پھل بدذائقہ کسیلاپن لئے ہوئے ہوتا ہے۔ اللہ کے اس عذاب کو اہل مارب اور قوم سبا کی کوئی طاقت وسطوت نہ روک سکی اور بند باندھنے میں جس انجینئری اور علم ہندسہ کی مہارت فن کا جو ثبوب انہوں نے دیا تھا وہ اس کی شکستگی کے وقت سب ناکارہ ہو کر رہ گیا اور اہل سبا کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہا کہ اپنے وطن مالوف اور بلدہ طیبہ مارب اور نواح مارب کو چھوڑ کر منتشر ہوجائیں۔ قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے اس عبرت ناک واقعہ کی طرف نشاندہی کی ہے اور بیدار قلب انسان کو نصیحت کا یہ سبق سنایا ہے بشرطیکہ کوئی یادرکھنے والا بھی ہو ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے اس کو مردوں کی بخشش کے لئے مختص کردیا ہے اور زندوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہیں رہنے دیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم نہ دین کے رہے اور نہ دنیا کے اور ایسے منکروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھی یہی سزارکھی ہے جس میں آج ہم من حیث القوم مبتلا ہیں اللہ ہم کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے کہ وہی ہے جو مردوں سے زندہ پیدا کردیتا ہے۔
Ayah 34:17اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کفر کی سزا دی اس طرح جس طرح وہ سزا دیا کرتا ہے
17 ۔ ایک طرف تو ان کے انعامات کا ذکر تھا اور ان کی اس حالت کا جب خوشحالی سے وقت گزار رہے تھے اور باغوں اور میووں میں سرمست تھے کہ انہوں نے ان انعامات الٰہی کا شکر ادا کرنے کی بجائے ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں لگانا شروع کردیں اور ایسے مفرور ہوئے کہ یہ انعامات کرنے والا ان کو کبھی بھول کر بھی یاد نہ آیا۔ ایک مدت تک ان سے درگزر کی گئی اور قانون الٰہی کے مطابق ان کو ڈھیل دی گئی لیکن انہوں نے اس ڈھیل سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور ہم چوما دیگر نیست کی ڈینگیں مارتے ہی رہے پھر اللہ تعالیٰ کو اپنی سنت کے مطابق عذاب میں گھیر دیا اور ان پر ” سیل عرم “ نام کا ایک سیلاب آیا جس نے ان کی حالت کو بدل کر رکھ دیا ان کی کثیر آبادی سیلاب کی نذر ہوگئی اور جو بچ گئے وہ اپنا ملک اور اپنا علاقہ ہی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اس طرح مختلف مقامات پر تتر بتر ہوئے کہ ان کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ گیا اور وہ جہاں گئے وہیں کہ آبادی میں جذب ہو کر رہ گئے اس طرح نہ ان کا وطن باقی رہا اور نہ وقار یہاں تک کہ اس قوم کا نام ہی اس دنیا سے مٹ گیا اور وہ ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گئے اور جس طرح زندہ قومیں مرجاتی ہیں اس طرح وہ بھی اب زندہ قوم کی بجائے مردہ قوم ہوگئے اور بدقسمتی سے آج یہی حالت ہماری ہوئی چلی جارہی ہے۔
Ayah 34:18اہل سبا کو ان کے گزشتہ ایام کی یاد دلائی جارہی ہے
18 ۔ گزشتہ آیات میں اہل سبا کی جس خوش حالی کا ذکر کیا گیا تھا ان کی ہلاکت کے بعد اس کو دہرایا جارہا ہے کہ وہ وقت کیسا وقت تھا جب یہ لوگ آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے اس وقت اس علاقہ کی چہل پہل کا یہ حال تھا کہ یمن سے لے کر شام تک بلکہ فلسطین تک سارا راستہ آباد تھا جگہ جگہ پررونق بستیاں آباد تھیں ، ایک شہر سے نکلتے تو دوسرے شہر کے اونچے مکانوں کی منڈیریں نظر آنے لگتیں ، ابھی ایک شہر کی چہل پہل ختم نہ ہوتی کہ دوسرے شہر کی دلچسپیاں مسافروں کی توجہ کا مرکز بن جاتیں یہ اس لئے کہ سفر کی منزلیں انہوں نے مقرر کردی تھیں تاکہ کوئی شب باشی کے لئے ٹھہرنا چاہے تو ٹھہرے ، کوئی دوپہر کو قیلولہ کرنا چاہے تو کرے اور پھر ہر جگہ ہر طرح کا سامان راحت میسر تھا اور اس طرح جگہ جگہ شاندار ہوٹل اپنے مہمانوں کے انتظار میں ہوتے اس لئے کہ اس شاہراہ پر سفر کے لئے ضروری نہیں کہ دن کا اجالا ہی ہو رات ہو یا دن ہر مسافر بےخوف وخطرامن وسلامتی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکتا تھا کہ جب اور جس وقت وہ چاہے اس کو آرام مہیا ہوسکتا تھا اور پھر لٹنے لٹانے کا بھی کوئی خطرہ نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود جب ان کو اس انعام الٰہی کی طرف کوئی توجہ دلاتا تو وہ بگڑ جاتے اور فوراً بول اٹھتے کہ یہ سفر تو ہم کو بالکل پسند نہیں ہے بھلا وہ سفر بھی کوئی سفر ہے جس میں سفر کی صعوبتیں نہ ہوں اور یہ جو ہم کو انعامات جتائے جاتے ہیں تو کیا ان سرائوں کو اللہ نے آکر آباد کیا ہے اس طرح کی وہ بےجوڑ باتیں کرتے اور جو منہ میں آتا کہہ دیتے گویا ان کو اپنی خوشحالی راس نہ رہی۔
Ayah 34:19اہل سبا نے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے کہا اے رب ! ہماری مسافتوں کو دور کر
19 ۔ انسان کو جب عقل ماری جاتی ہے تو وہ عجیب طرح کی حرکتیں کرنے لگتا ہے کسی کو اپنی خوشحالی پسند نہ ہو اور وہ اپنے رب سے بدحالی مانگنا شروع کردے ایسا ممکن نہیں نظر آتا لیکن بلا شبہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کے انعامات سے وافر حصہ پالیتا ہے اور پھر وہ یہ بھی سمجھتا کہ یہ میرے اللہ کا مجھ پر احسان ہے اور میں اس قابل نہیں تھا بلکہ وہ اترانے لگتا ہے اور اپنی خوشحالی پر پھولا نہیں سماتا تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے یہ کسی نے عطا نہیں کیا بلکہ میری عقل و دانائی اور میری اسکیموں کے نتیجہ میں مجھے ملا ہے اور یہ سارا میرا کمال ہے تو انجام کار وہ زوال کا شکارہوجاتا ہے اور اسی کو کہا جاتا ہے کہ فلاں کو اپنی خوشحالی راس نہ آئی اور وہ اپنے آپے سے باہر نکل گیا یہی حال ان اہل سبا کا تھا انہوں نے ان نعمتوں پر رب ذوالجلال والا کرام کا شکر ادا کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کی طرح ناک بھوں چڑھا کر یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ انسان سفر کے ارادے سے گھر سے نکلے تو یہ بھی نہ معلوم ہو کہ وہ حالت سفر میں ہے یا اپنے گھر میں وہ بھی کیا خوش نصیب انسان ہے جو ہمت مردانہ کے ساتھ سفر کی ہمہ قسم کی تکالیف اٹھائے ، پانی اور خوردونوش کے لئے آزار اور دکھ سہنے اور اسباب راحت و آرام کے مہیا نہ ہونے کی وجہ سے لذت سفر کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ اے کاش ! ہمارا سفر بھی ایسا ہی ہوجائے کہ ہم یہ محسوس کریں کہ وطن سے کسی دور دراز کا سفر کرنے نکلے ہیں اور ہم دوری منزل کی تکالیف سہتے ہوئے حضر وسفر میں امتیاز نہ کرسکیں ۔ بدبخت اور ناسپاس گزارانسانوں کی یہ ناشکری تھی جس کی نمنائوں اور آرزئوں میں مضطرب ہو کر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو وہ دعوت دے رہے تھے اور اس کے انجام بد سے غافل ہوچکے تھے۔ سبا نے جب اس طرح کفران نعمت کی تکمیل کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو دوسری سزا یہ دی کہ یمن سے شام تک ان کی تمام ان آبادیوں کو ویران کردیا جو نزدیک نزدیک مسلسل چھوٹے چھوٹے قصبوں ، گائوں ، کارواں سرائوں اور تجارتی منڈیوں کی صورت میں آباد اور ان کی راحت و آرام کی کفیل تھیں اور سفر کی ہر قسم کی صعوبتوں سے ان کو محفوظ رکھتی تھیں اور اس طرح اس پورے علاقے میں خاک اڑنے لگی اور یمن سے شام تک نو آبادیوں کا یہ سلسلہ ویرانہ میں تبدیل ہو کر رہ گیا جیسا کہ قرآن کریم کی زیر نظر آیت ہم کو بتارہی ہے ۔ قرآن کریم کے لفظوں پر غور کرو کہ وہ کس طرح اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں فرمایا { فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق } ” یعنی ہم نے ان کو ایک افسانہ بنادیا اور ہم نے ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کردیا “۔
اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر کرنے کی بجائے انہوں نے نافرمانی کو اپنا وطیرہ بنالیا وہ قم جو فارغ البالی اور خوش حالی کے باعث آفاق عالم میں رشک وحید کی نگاہوں سے دیکھی جاتی تھی جس کا آفتاب اقبال بڑی بلندی پر چمک رہا تھا جب ہم نے اسے پکڑا تو اسے داستان پارینہ بنا کر رکھ دیا اب محض ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں ، اس قوم کا نام ونشان تک مٹ گیا اور ان کی جمعیت کو ہم نے اس طرح تتر بتر کردیا کہ جب کوئی جماعت یا قبیلہ منتشر ہوتا ہے تو اہل عرب بطور مثال کہتے ہیں کہ اس قبیلہ کے لوگ اس طرح بکھر گئے جس طرح سبا کی قوم کو مختلف راستوں نے ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لئے جدا کردیا۔ بلا شبہ قرآن کریم نے جب اہل عرب کو سبا اور { سیل العرم } کا یہ واقعہ سنایا تو اس وقت یمن کا ہر متنفس اس حقیقت کا بہ چشم خود مشاہدہ کررہا تھا اور وہ تمام خاندان بھی جو حجاز ، شام عمان ، نجد میں اس حادثہ کی بدولت پناہ گزیں ہوگئے تھے اپنے آباء و اجداد کے اس مرکز کی حالت زار کو دیکھ اور سن رہے تھے حتیٰ کہ ہمدانی جو کہ چوتھی صدی ہجری کا سیاح مورخ ہے اپنی کتاب اکلیل میں یمن کے اس حصہ کے متعلق اپنی عینی شہادت پیش کرتا ہے کہ قرآن کریم نے { جنتان عن یمین و شمال } کہہ کر جن باغوں کا ذکر کیا ہے بلا شبہ آج ان کی جگہ اس قدر کثرت سے پیلو کے درخت موجود ہیں کہ اتنی کثرت کے ساتھ اور کہیں نہیں پائے جاتے اور انہی درختوں کے ساتھ جھائو اور کہیں کہیں جنگلی بیر کے جھاندے بھی نظر آتے ہیں اور دیدہ بینا اور گوش حق نیوش کو یہ کہہ کر سبا کی عبرت زاد داستان سناتے رہتے ہیں ؎
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو
{ ان فی ذلک لا یت لکل صبار شکور } ” بلا شبہ اس میں ہر صبر وشکر کرنے والے کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ “ ان کی تباہی کی درد بھری داستان سے وہی لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو صبر وشکر کی صفات سے پوری طرح متصف ہوں جو لوگ ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں ان کے سامنے جو کچھ بیان کرتے رہو ان کی بلا سے آخر بھینس کے سامنے بین بجانے سے کیا بھینس وجد میں آجائے گی ؟
Ayah 34:20اہل سبا کے سارے شیاطین نے اپنا خیال سچ کردکھایا
20 ۔ اہل سبا بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کے متعلق شیطان نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ غور کرو کہ شیطان کا وعدہ کیا تھا ؟ شیطان کا وعدہ تھا کہ { فبعزتک لا غوینھم اجمعین } (82:38) { ولا تجداکثرھم شاکرین } (17:7) ” مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا اور تو اکثران میں سے شکر گزار نہیں پائے گا “۔ شاید اس وقت اس کو یقین نہ ہوگا کہ میں اپنے دعویٰ میں پورا اتروں گا لیکن جب اہل سبا اور ان جیسے دوسرے لوگوں نے اس کی انگیخت پر ضلالت وگمراہی پر چلنا شروع کردیا اور ناشکری کی گویا انتہا کردی تو اب اس کا وہ وعدہ بلا شبہ درست ہوگیا۔ اہل سبا نے مل کر اس کی تابعداری کا جو اپنی گردن میں ڈال لیا بچے تو صرف وہی بچے جن کے سینوں میں ایمان کی کوئی رتی موجود تھی۔
Ayah 34:21اہل سبا سے ایمان رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو اللہ نے الگ الگ کردیا
21 ۔ فرمایا غور کرو کہ شیطان کے ہاتھ میں کوئی ڈنڈا تو نہ تھا کہ وہ بزرور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہانک کر اپنی طرف لے گیا اور نہ ہی اس کے اس کوئی ایسا لشکر تھا جس نے ان کی راہ روک لی اور ان سے جنگ کرکے ان کو اور ان کے رب کو شکست دے کر بزور اسیر کرکے لے گئے ، ہرگز نہیں فرمایا ہم نے ایسا غلبہ تو شیطان کو دیا ہی نہیں معاملہ یہ ہے کہ یہ جو ابلیس وآدم کا سوانگ ہم نے رچایا ہے محض اس لئے ہے کہ ہم ظاہر کردیں کہ کون شخص ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے اور اپنے اندر کے شیطان قوت بہیمیہ پر قابو پاکر اپنی قوت ملکیہ سے کام لیتا ہے اور کون ہے جو اپنی اندرونی طاقت وقوت ملکیہ کو کام میں نہ لا کر اپنی قوت بہیمیہ کو اپنے اوپر قابوپانے دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو ایسا کرتا ہے وہ وہی ہے جس کو قیامت کے آنے اور اپنے رب حقیقی کے سامنے حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ اسی نے تو { اغوی } کھانے کی قسم کھائی تھی اور { اغوی } کہتے ہی اس کو ہیں جس میں صرف ورغلایا یا پھسلایا جائے اور { مغوی } خود جانے اور ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوجائے اور اپنی مرضی اور رضا کرے جس پر اس کو کسی نے آمادہ کیا ہو غور کرو کہ شیطان تو پہلے روز سے یہی کرتا آیا ہے ، یہی کررہا ہے اور یہی کرے گا بلا شبہ وہ گدگداتا ہے لیکن اگر اس وقت جب اس نے گدیدایا تھا اس کی سر میں دو لگادی جاتیں تو وہ دوبارہ اتنی جلدی تو نہ کرتا تعجب ہے کہ گدگدانے والے کو قصور وار قرار دیا جائے لیکن وہ صاحب جو صرف اس کے ایک چوکے سے وقار ومتانت کو بالائے طاق رکھ کر گل کھلانے لگے یہ بےقصور ٹھہرے ، نہیں اور ہرگز نہیں تار ہلانے والے کا تو آخر کام ہے کہ وہ تار ہلائے۔ ڈگڈگی بجانے والے کا کام ہے کہ وہ ڈگڈی بجائے۔ بانسری بجانے والے کو اختیار ہے کہ وہ بانسری بجائے۔ بین بجانا جس کا کام ہے وہ بہرحال بین بجائے گا لیکن ان ساری دل فریب آوازوں پر رقص کرنے والے کو بھی اختیار تھا کہ وہ چاہے تو اپنے کانوں میں انگلیاں اور چاہے تو روئی دے کر اپنے منہ دھیان اپنا کام کرتا رہے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ آخر پھر یہ سارا سوانگ رچایا کیوں ؟ اور یہ پھاہی انسان کے لئے تیار کیوں کی ؟ تو اس کی وضاحت پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی ہے کہ انسان کے اندر دو قوتیں ودیعت کی گئیں ایک گناہ اور غلطی کرنے پر ابھارتی ہے اور دوسری اس کی نفی کرتی ہے اگرچہ یہ دونوں قوتیں جو بالکل آپس میں متضاد ہیں اکٹھی نہ کی جاتیں تو امتحان ممکن ہی نہ تھا جو کہ مقصود اصل ہے اور اگر امتحان مقصود نہ ہوتا تو اس سارے بکھیڑے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ امتحان ہوگا تو معلوم ہوگا کہ جو مقصود اصل ہے اس میں یہ شخص کامیاب ہے یا ناکام ہے۔ پھر علم الٰہی میں تو پہلے ہی موجود ہے کہ کون فیل ہے اور کون پاس لیکن صرف علم الٰہی پر سزا جزا تو مرتب نہیں ہوسکتی وہ تو اسی وقت مرتب ہوسکتی ہے جس کے متعلق علم ہے کہ اس کو فیل ہونا ہے اور جس کے متعلق علم ہے کہ اس نے پاس ہونا ہے اس کو بھی معلوم ہو کہ میں فیل ہوا ہوں یا پاس ہوا ہوں ؟ صرف علم الٰہی پر اگر اس کو فیل یا پاس کردیا جائے اور فیل وپ اس ہونے والے کو علم ہی نہ ہو تو یہ ظلم ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی جائز نہیں اور انسانوں کے ہاں بھی اس نے جائز نہیں رکھا اگرچہ انسان بعض اوقات ایسا سمجھ لیتے ہوں اور انسانوں میں بھی وہ انسان جن کو علامہ اور حضرت العلام کے خطابات سے پکارا جاتا ہو جیسا کہ خضر کے قتل کرنے والے بچے کے متعلق انہوں نے ہم کو باور کرادیا ہے کہ اجی حضرت اس نے بڑے ہو کر گناہ کرنے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بنا پر اس کو قتل کرنے کی سزا دلوادی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی سزا کو ظلم قرار دیا بلکہ واضح کردیا کہ میرے علم میں جس نے کوئی برا کام کرنا ہے یا اچھا کرنا ہے وہ جب تک وہ برایا اچھا کر نہ لے مر ہی نہیں سکتا کیونکہ میرا علم کامل علم ہے بہرحال انسان کا امتحان کرنے کے لئے یہ سوانگ رچایا گیا اور یہ سوانگ رچایا تب ہی انسان ، انسان بنا اب اگر انسان ہی یہ کہے کہ آخر یہ سوانگ رچایا کیوں گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پوچھتا ہے انسان کو آخر انسان بنایا ہی کیوں گیا ؟ تو جواب اس کا پھر وہی ہوگا کہ اس لئے کہ اس کا امتحان لیا جائے پھر اس سوال کرنے سے حاصل کیا ہو ؟ اگر یہ گورکھ دھندا ہے تو بہرحال اس گورکھ دھندے کا نام حضرت انسان ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر نگہبان ہے اور ہر وقت اور ہر آن ہر ایک کو دیکھ رہا ہے کہ کون کیا کررہا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے انسانی تفہیم کے لئے اپنے نگہبان فرشتے اور کراماً کا تبین وغیرہ سے انسان کی تفہیم کرائی تاکہ وہ ایک بات کو اس انداز سے سمجھ لے جس انداز سے اس کو سمجھ سکتا ہے۔ اس آیت سے مضمون اہل سبا کی طرف سے مشرکین مکہ کی طرف منتقل ہوتا نظر آتا ہے۔
Ayah 34:22مشرکین مکہ سے کہا جارہا ہے کہ جن کو تم حاجت روا سمجھتے ہو بھلا پکار کر دیکھو
22 ۔ جس طرح ہر نبی ورسول نے آکر اپنی قوم کو پہلا سبق جو دیا وہ توحید ہی کا تھا کیونکہ ہر قوم نے سب سے پہلے شرک ہی کا ارتکاب کیا اور پھر ان میں آہستہ آہستہ تمام امراض پیدا ہوگئے جو اس ام الامراض سے پیدا ہوتے ہیں اور یہی بیماری مکہ والوں کو بھی لاحق تھی کہ باوجود اللہ کو ماننے اور ہرچیز کا خالق ومالک سمجھنے کے پھر غیروں کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور اپنے قوی بزرگوں کے بت بنا کر ان کی یادگار قائم کرتے تھے گویا بالکل یہی صورت مکہ والوں کی تھی جو اس وقت ہماری اکثریت اور سواد اعظم کی ہے اگر کوئی فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے بزرگوں کے نقش ونگار کی طرح ان کے بت گھڑ لیے تھے اور آج ہماری اکثریت ان گھڑے بت جو ایک مٹی کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی نہیں بعض نے اس مٹی کے ڈھیر کو اسی طرح رہنے دیا ہے اور بعض نے اسکو چونے ، سیمنٹ سے پختہ کردیا ہے بلا شبہ وہ بھی ان بتوں کو نہیں بلکہ صاحبان بت کو اپنے حاجت رواوغیرہ سمجھتے تھے اور ہمارے ہاں اکثریت بھی ان قبروں کو نہیں بلکہ صاحبان قبر کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتی ہے اور یہی شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دیجئے کہ جن جن لوگوں کو تم اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو ذرا ان کو بلا کر دیکھو کہ کیا وہ تمہاری پکار کو سنتے اور تمہاری مشکل کو آسان کرنے کے لئے پہنچتے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ ایک بار نہیں سو بار ان کو لادیکھو اور زندگی بھر پکارتے رہو وہ کبھی بھی تمہارے پاس تمہاری حاجت کو پورا کرنے کے لئے نہیں آئیں گے ، کیوں ؟ اس لئے کہ دکھائی نہ دے کہ پاس ہونے والی صرف ایک ہی ذات ہے اور اس کو اللہ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جو موجود ہو کر بھی نظر نہ آئے۔ رہے فرشتے تو وہ صرف طاقتیں اور قوتیں ہیں جن کے اپنے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے نہ وہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں بلکہ وہ تو صرف اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں جوان کے ذمہ لگائی گئی ہے۔ فرمایا کہ نہ تو وہ تمہاری بات کو سنتے ہیں اور نہ ہی تم کو کسی مصیبت میں پڑے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی وہ آسمانوں اور زمین میں ایک ذرہ بھر بھی کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں سے کسی ایک چیز ہی میں ان کی کوئی شرکت موجود ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کا ظہیر و مددگار ہے پھر وہ تمہاری سنیں گے تو کیسے اور تمہاری مدد کریں گے تو کیسے اور تمہارے پاس وہ حاضر ہوں گے تو کیونکر۔ گویا یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیتیں مشرکین کے ہر طرح کے شرک کی نفی کرتی ہیں خواہ وہ مشرک اس دور کے ہوں جس دور میں قرآن کریم نازل ہورہا تھا اور خواہ وہ مشرک اس دور کے ہوں جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یا کسی آنے والے دور سے ان کا تعلق ہو گویا دور کے بدلنے سے شرک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی شخصیت کے بلدنے سے کوئی شرک میں تبدیلی واقع ہوگی۔ کوئی شخص لات و منات اور عزیٰ کو شریک ٹھہرائے تو مشرک ہے اور کوئی شخص سیدنا علی ؓ ، سیدنا حسین ؓ ، عبدالقادر جیلانی (رح) ، علی ہجویری (رح) ، صابر کلیری (رح) ، شہباز قلندر (رح) ، سلطان باہو (رح) یا کسی بھی پیرومرشد کو شریک ٹھہرائے تو مشرک ہے ۔ بات واضح ہے کہ شخصیت بدل جانے سے شرک میں کوئی فرق نہیں پڑتا نہ نام بدلنے سے ، قریش جن ناموں کا استعمال کرتے تھے وہ بھی اس دور کے نیک لوگ ہی تھے۔
Ayah 34:23۔ اس وقت کے مشرک بھی کہتے تھے اور آج کے مشرک بھی بادل نخواستہ مان لیتے ہیں کہ چلو مان لیا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی کسی چیز میں شرکت نہیں رکھتے لیکن سفارش کرنے کے لئے آخر کسی چیز میں شریک ہونا ضروری بھی کب ہے ؟ اگر وہ ان چیزوں میں خدا کے شریک نہیں ہیں تو اتنا تو ہے کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے ہیں اور وہ اپنے اس پیار کے تعلق کے باعث ہماری سفارش تو کریں گے اور ان شفاعت کے باعث ہم نجات پاجائیں گے کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ لکڑی کے ساتھ لوہا بھی ترنے لگتا ہے بلا شبہ لکڑی کے ساتھ لوہا بھی تیرتا ہے لیکن آخر اس لکڑی اور لوہے میں سے مکلف کون ہے ؟ اگر نہیں تو اس جگہ بات مکلف کی ہے آپ غیر مکلف کے ساتھ غیر مکلف کی مثال کیوں دیتے ہیں حالانکہ جس طرح اللہ کے یہ سارے نیک بندے مکلف تھے اسی طرح اس دور کے لوگ ہوں یا آج کے بہرحال ان کو مکلف ہونا لازم ہے اور مکلفین کے متعلق لکڑی کے سنگ لوہے کے تیرنے کی مثال اس لئے صادق نہیں ہے کہ قرآن نے خود اس کی وضاحت فرمادی ہے جہاں ارشاد فرمایا ہے کہ { تلک……………………… یعملون } (البقرہ 141 , 134:2) ” یہ سارے نیک لوگ ایک جماعت تھے اور ان سب نیک لوگوں کی یہ جماعت گزر چکی اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے کمایا ہے اور ان کے متعلق تم کو نہیں پوچھا جائے گا “۔ اور اسی طرح تمہارے متعلق اس سے بھی سوال نہیں ہوگا۔ تم اپنی مثال پر نظرثانی کرو تمہاری مثال صحیح نہیں ہے۔ اس طرح ان سفارش کرنے والوں کے اس نظریہ کی تردید کی جارہی ہے اور ان کو بتایا جارہا ہے کہ تمہارا یہ خیال بھی سراسر ہذیان ہے کہ قیامت کے روز جس کا جی چاہے وہ سفارش کے لئے کھڑا ہوجائے بلکہ سفارش بھی تو صرف وہی آدمی کرسکے گا جس کو رب ذوالجلال والا کرام سفارش کی اجازت دے گا اور صرف ان لوگوں کی سفارش بھی ہوگی جن کی سفارش کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جائے گی اور ظاہر ہے کہ یہ وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کو زیر غور رکھا جائے گا کہ آیا ان کے پاس کیا جائے یافیل ہی رہنے دیا جائے۔ بلا شبہ یہ وہ لوگ ہیں جو کافر تو نہیں لیکن اپنے اچھے اعمال اس قدر نہیں رکھتے تھے کہ ان کو پاس کردیا جائے اعمال کے غلط ملط ہونے کے باعث ان کے فیصلے کو روک دیا گای ہے پھر وہ لوگ جن کی موت ہی کفر اور شرک پر ہوئی وہ سفارش کے مستحق کیونکر ہوئے کیونکہ ان کے متعلق تو پہلے ہی فیصلہ ہوچکا اور فیصلہ ہوچکنے کے بعد کون مائی کا لعل ہے جس کو اتنی بڑی سفارش کی جرات ہو کہ اذان الٰہی بھی نہ ہو اور وہ سفارش کے آداب بھی سمجھتے ہیں اگر ان کو اجازت ہوگی تو یقینا سفارس کریں گے لیکن کس کی ؟ صرف ان کی جن کے متعلق سفارش کرلینے کا حکم ملے گا اور قانون الٰہی اجازت دے گا ورنہ کسی کی کیا مجال کی وہ سفارش کرسکے۔ زیر نظر آیت کے اگلے ٹکڑے کے بہت سے مفہوم بیان کیے گئے ہیں لیکن ہمیں قیامت کی ہولناکیوں کے متعلق کہنا ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔
قیامت کی ہولناکیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں وہ دن ہے کہ بڑے بڑے لوگ ایک بار تو بہرحال سب کے سب ہی گھبراجائیں گے پھر فطرت انسانی کے مطابق کہ انسان جب یکدم گھبرا جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کے حواس درست ہونے لگتے ہیں اور دیر کے بعد اس کے حواس درست ہوتے ہیں تو وہ پوچھتا ہے کہ کیا ہوا ؟ فرمایا کہ وہ دن اتنا ہولناک ہوگا کہ کیا شافع اور کیا مشفوع سب گھبراجائیں گے پھر جب ان کی گھبراہٹ دور ہوگی تو بعض کی طرف سے یہ پوچھا جائے گا ، بتائو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ { ماذاقال ربکم } کہنے والے مشفوع ہی ہوسکتے ہیں اور { الحق } کہنے والے شافع ہوں گے اور مراد { الحق } سے اذن شفاعت ہی ہوسکتا ہے ۔ یہاں تک بات پہنچی تو سمجھو کہ اب اجازت مل گئی اور پھر یقینا ان کی سفارش کو قبولیت بھی بخشی جائے گی کیونکہ اب اس کے قبول ہونے میں رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے اشارہ مل گیا ہے اور واقعی اس کی شان سب سے اعلیٰ وارفع ہے اور سارے بڑوں سے بھی بہت بڑا ہے۔
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 34:24تفسیر : ان سے پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین میں رزق دینے والا کون ہے ؟
24 ۔ قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے بات اتنے میں مکمل تھی کہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ لیکن یہ فرما کر کہ آسمانوں اور زمین میں سے تم کو کون روزی دیتا ہے ؟ سائنس کے ان سارے ضابطوں کی طرف اشارہ کردیا جو ایک مدت مدید کے بعد واضح ہوئے اور ابھی نہ معلوم کتنے ہیں جن کو سائنس معلوم نہیں کرسکی اور کس کس چیز کا سائنس اقرار کرے گی ہمیں افسوس ہے کہ علماء کرام سائنس دانوں کے خلاف کیوں زہر اگلتے ہیں حالانکہ علماء کا حق تھا کہ وہ ان کی توجہ اس طرح مبذول کراتے کہ تم دنیا کی تلاش میں ایسے گم ہوئے کہ اس دنیا کا نظام بنانے اور چلانے والے ہی کو بھول گئے اور سمجھ بیٹھے کہ شاید یہ نظام خود بخود ہی تیار ہوگیا اور خود بخود ہی چل رہا ہے کتنے سادہ ہو تم کو ایک چیز کی دریافت کرتے کرتے دوسری چیز کو جو اس دریافت ہونے والی سے بھی زیادہ قیمتی تھی اس کو گم کردیا تم کو سمجھدار کون کہے گا ؟ تو شاید ان کی عقل ٹھکانے آتی لیکن افسوس کہ ایک بھولنے والے طبقہ کو علماء کرام نے بالکل ہی بھلا دیا اور ان کی عقل کو مزید ٹیڑھا کردیا بہرحال یہ رونا تو روتے آرہے ہیں اور روتے رہیں گے خواہ دونوں ہی فریق ہماری نہ سنیں بہرحال ہمارا کام کہنا ہے سنانا نہیں اس لئے ہم اپنا فرض پورا کریں گے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے ہماری بلا سے۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ قرآن کریم نے رزق دینے کے ساتھ آسمانوں اور زمین دونوں کا ذکر کرکے اس پورے نظام کی طرف اشارہ کردیا جس نظام کے تحت یہ رزق کی تقسیم جاری وساری ہے اور کفار سے پوچھا جارہا ہے کہ تمہارے رزق کا بہم پہنچانے والا کون ہے ؟ کون ہے جو بادلوں کے مشکیزے میٹھے اور صاف پانی سے بھر کر ہوائوں کے کندھوں پر لاد کر لاتا ہے اور تمہارے کھیتوں پر لاد کر برسادیتا ہے غور کرو کہ کتنی حکمتوں کا مالک ہے وہ جو برساتا ہے انڈیل نہیں دیتا۔ پھر غور کرو کہ یہ سورج کی کرنیں اور چاند کی شعاعیں کس کے حکم سے ہرچیز کی مناسب نشو ونما کررہی ہیں اور ان کو رنگ اور ذائقہ سے معطر کررہی ہیں ؟ کون ہے جو یہ تمام انتظامات نہایت حسن و خوبی سے انجام دے رہا ہے تمہارے کھانے کے لئے طرح طرح کے اجناس ، طرح طرح کی سبزیاں اور پھل تیار کررہا ہے ؟ کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اس لئے اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمادیا کہ اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عالی صفات تو ہے۔
آپ ذرا اوپر قرآن کریم کے متن پر نظر ڈالیں یہ { قل اللہ } کے آگے { وانا } سے پہلے ایک چھوٹا سا ” لا “ پڑا ہے عبارت کے اندر آنے کا مطلب صاف واضح ہے کہ یہاں قرآن کریم کی عبارت پڑھنے والا کہیں وقف نہ کرجائے حالانکہ یہاں وقف کرنے کے لئے فطرت کہہ رہی ہے کہ ضرور وقف کرو اور اس کو روکنے کے لئے اس میں ” لا “ لایا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کسی حال میں بھی درست نہیں ہم نے اس سلسلہ میں بہت کم بات کی ہے لیکن یہ جگہ چند کھٹکا پیدا کرنے والی جگہوں میں سے ایک ہے اس لئے عرض کرنا پڑا اگر اس جگہ ” لا “ کی جگہ ” ط “ جو { قل } کے پیچھے بھی نظر آرہی ہے اس جگہ پر ڈال دی جائے تو یہ عین فطرت کے مطابق ہوتا اور قرآن کریم کی آیت کا مفہوم زیادہ واضح اور زیادہ صاف ہوجاتا ہے چونکہ یہ اوقاف بعد میں لگائے گئے اور بعد میں آنے والوں نے یہ زحمت ہی نہ کی کہ اس پر غور کریں اس لئے کہ کسی بات پر غور کرنا ہماری قوم پر ویسے ہی حرام کردیا گیا۔ میں چاہتا تھا کہ اس ” لا “ کو ہٹا کر اس کی جگہ ” ط “ ڈال دوں لیکن میں نے اس کو اسی طرح رہنے دیا اور اس طرح ہٹا دیا کہ میری طرف سے ہٹ بھی جائے اور اپنی جگہ پر پڑا بھی رہے تاکہ علماء تلاوت اس پر مزید غور کرلیں کیونکہ یہ چیز رسم الخط سے تعلق نہیں رکھتی اور قرآن کریم میں اس سے کوئی کمی یا بیشی نہیں لازم آتی اور یہ بات بھی اس جگہ ضمناً بیان کردی ہے۔ عرض کیا جارہا تھا کہ قرآن کریم نے ایک سوال اٹھایا اور خود ہی اس کا جواب بھی فراہم کردیا اور بعد میں یہ اعجاز قرآنی میں سے ایک اعجاز ہے کہ جو جواب اس نے دیا اس کی بجائے کوئی دوسرا جواب ممکن ہی نہ تھا کہ دیا جاسکے۔
قرآن کریم کی آیت کے آنے والے ٹکڑے نے اپنے اعجاز کو مزید دوبالا کردیا فرمایا یہاں تک تو بات صاف ہے کہ ہمارا اور تمہارا روزی دینے والا صرف اور صرف ایک ہے اور یہ کہ روزی دینے والا وہی ہے جو اس روزی کا پیدا کرنے والا ہے اب رہی یہ بات کہ تم دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو اور ہم توحید الٰہی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس اختلاف کے باوجود ہم لڑائی لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس کا فیصلہ بھی ہم اسی رب ذوالجلال والاکرام ہی پر چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم یا تم دونوں فریقوں میں ہدایت پر کون ہے اور گمراہی پر کون ؟ یہ اس لئے فرمایا کہ دونوں کی راہیں الگ الگ ہیں ، دونوں کا عقیدہ الگ لگ ہے اور یہ واضح ہے کہ ہم دونوں تو صحیح نہیں ہوسکتے لازماً اگر ہم راہ راست پر ہیں تو تم گمراہ ہو اور اگر تم راہ راست پر ہو تو ہم گمراہ ہیں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ توحید کے ماننے والے اور شرک پر اصرار کرنے والے دونوں ہی راہ حق پر چل رہے ہوں جیسا کہ آج کل کے ہمارے پاپولر لوگ کہتے ہیں کہ جہاں کوئی لگا ہے وہ صحیح ہے کسی کو غلط کہنے کی ضرورت ہی آخر کیا ہے ؟ گویا ان کا اپنا کوئی مافی الضمیر نہیں ہے بلکہ وہ صرف دوسروں ہی کو صحیح کہنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ فرمایا بات صرف یہ ہے کہ ہم جھگڑا نہیں چاہتے دلائل تمہارے سامنے ہیں اور فیصلہ تم خود کرلو کہ دلائل کس کی تائید کرتے ہیں اور سمجھ لو کہ عقل سلیم کا فیصلہ کس کے حق میں ہے اور یہ بھی کہ خود تمہارے دل کیا گواہی دیتے ہیں گویا قیاس اختیاری کی یہ بہترین مثال ہے کہ جھگڑنے کا آخر فائدہ کیا اس لئے کہ تم اگر حق کو حق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو آخر ایک دن موجود ہے جب حق نکھر کر سامنے آجائے گا اس وقت تک تم چلنے رہو موت دنوں کا کام تمام کردے گی اور اس کے بعد فیصلے کا دن بھی یقینا آئے گا اگرچہ فیصلہ ہوچکنیکے بعد تو جو کچھ ہونا ہے وہ ہوچکے گا صرف اتنا ہے کہ بات واضح ہوجائے گی اور اسی وضاحت کو سب دیکھ لیں گے اور آنے والی آیت نے اس مضمون کی مزید وضاحت کردی ہے اور ہر طرح کا ابہام ختم کردیا ہے۔
Ayah 34:25آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہمارے گناہوں سے تم کو اور تمہارے اعمال سے ہم کو نہیں پوچھا جائے گا
25 ۔ اسلام کی راہ کتنی صاف اور ستھری ہے ذرا غور کرو کہ یہ حکم دینے والا کون ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی تو ہے پھر حق کو ماننے والے اور حق سے انکار کرنے والے سب ہی اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اگر وہ اپنی مخلوق کو کوئی بات بزور بازو منوانا چاہے تو وہ سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے اور اس کو منواتے کوئی دیر بھی نہیں لگتی لیکن وہ کسی کو بزور منوانے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر ایک انسان کی تفہیم کرانے کی اس نے حکمت اپنائی ہے اور اسی حکمت کے تحت اس نے انبیاء کرام اور رسل عظام کا سلسلہ جاری کیا تھا اور اسی کی خاطر اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے ہر جاننے والے فرد کے ذمہ لازم کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تفہیم کرائے لیکن جب خاصم مخاصمت پر اتر آئے تو وہ اپنے بندوں کو خواہ مخواہ جھگڑنے کی تلقین نہیں کرتا بلکہ اس نے بتایا ہے کہ خاصم کو چھپ کرانے کے لئے سب سے بہتر اور سب سے اچھا طریقہ تو یہی ہے کہ اس کو سات سلام کرو اور اگر وہ تمہارے اعمال کو جرم قرار کے لئے دیتا ہے تو تم اس کے اعمال کو اعمال ہی قرار دے کر یہ کہہ دو کہ بابا معاف کرو اگر بات سمجھ میں نہیں اتی تو ہمارے جرم ہمارا ہی نقصان کریں گے اور تمہارے اعمال کا نفع ونقصان بھی تم ہی کو ہوگا لہٰذا تم اپنی راہ چلتے رہو اور ہماری راہ ہم کو چلنے دو کیونکہ ہر شخص اپنے گناہوں کا بوجھ خود ہی اٹھائے گا۔ وقت ہے اگر سمجھنے کی کوشش کرو گے تو تمہارا فائدہ ہے اگر بچوں کی طرح بضد ہی رہو گے تو کل پچھتاوا بھی تم ہی کو ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ بات عقائد کے اختلاف کی ہے جس کا تعلق اسلام اور کفر سے ہے نظریات کی بحث پر تو الجھائو کسی حال میں بھی مناسب نہیں کیونکہ نظریات ان کو کہا جاتا ہے جن باتوں میں وسعت موجود ہو اور ایک دوسرے کے خلاف نظریہ رکھنے سے بھی عقائد پر کوئی اثر نہ پڑے گا گویا تفہیمات میں صواب اور خطا کی بات ہو لیکن افسوس کہ اس وقت ہم ایک تو نظریات اور عقائد کے فرق ہی کو نہیں سمجھتے دوسرے اگر عقائد کا اختلاف ہو تو پھر ہم برداشت کرجاتے ہیں لیکن نظریات کی جنگ تو کبھی ختم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ ہمارے کفر واسلام کا دارومدار ہی فروعات پر رہ گیا ہے اور اصولوں سے ہم واقف ہی نہیں رہے۔ پھر عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں خواص کے ہاں بھی یہی لڑائیاں چلی آرہی ہے اور کوئی بھی دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور ہمارے ہاں یہ گمراہی یہود سے منتقل ہوئی ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ اس بیماری کا شکار رہے ہیں۔
Ayah 34:26اپنے پروردگار کے ہاں ہم سب کو جمع ہونا ہے وہ ہمارا فیصلہ فرمادے گا
26 ۔ گزشتہ آیت میں حق و باطل کے فیصلے کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ فریقین جب اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں اور کوئی بھی دوسرے کی دلیل کو دلیل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کی وضاحت کیونکر ممکن ہے ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ جب حالات ایسے ہوں تو مخالف فریق کو کہہ دو کہ تم سمجھتے ہو کہ ہم مجرم ہیں اور جرم کر رہے ہیں اگر بات ایسی ہے تو ہم جو جرم کر رہے ہیں اس کے ہم جواب دہ ہیں اور تم جو عمل کر رہے ہو کرتے رہو کہ تم خود ہی ان کے جواب دہ ہو اور اب ذرا نظر آیت میں مزید فرمادیا کہ آخر ہم اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہونا ہے اور ہمارا رب اصل حقیقت سے بھی مکمل طور پر باخبر ہے پھر وہاں جاکر نہ صرف اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ ہم میں اور تم میں حق پر کون تھا اور باطل پر کون بلکہ اس دن اس حقیقت کا فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے کے لئے کیا کچھ کیا اور تم نے اپنی ضد میں آکر ہماری مخالفت میں کیا زور صرف کیا اور اس طرح بات اس دن واضح کرنے کے لئے کیا کچھ کیا اور تم نے اپنی ضد میں آکر ہماری مخالفت میں کیا زور صرف کیا اور اس طرح بات اس دن واضح ہوجائے گی اگرچہ اس وضاحت سے تمہارا کچھ بھی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ کا اصل وقت ہی گزر چکا ہوگا۔
Ayah 34:27جن لوگوں کو تم نے میرے شریک ٹھہرایا تھا ذرا مجھے بھی دکھائو کہ وہ کون ہیں ؟
27 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ سے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے کہ اے میرے رسول ! ان میرے ساتھ شریک ٹھہرنے والوں سے پوچھ دیکھو کہ ذرا مجھے بھی وہ دکھا تو دو جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جن کے بھروسہ پر تم نے اتنا بڑا خطرہ مول لیا ہے ذرا مجھے بھی دکھائو تاکہ میں بھی ان کو دیکھوں کہ ان میں سے کون اتنا زور آور ہے کہ رب ذوالجلال والا کرام کے سامنے وہ تمہارا حمایتی بن کر کھڑا ہوجائے گا اور پھر تم کو اس کی گرفت سے بچالے گا اس وقت اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو مخاطب کرکے یہ فرمایا کہ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کیونکہ انہوں نے کچھ اور ہی لوگوں کو یہ حیثیت دے رکھی تھی لیکن اس وقت کیا کہا جائے جب مسلمان کہلانے والوں نے آپ ﷺ ہی کو اتنا زور آور سمجھ لیا اور آپ ﷺ کے متعلق کہنے لگے کہ ؎
پکڑے خدا چھڑائے محمد ﷺ
محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا
ان مشرکوں کے متعلق تو اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے پیغمبر ان سے ذرا پوچھو ! لیکن ان مشرکوں سے اللہ ہی پوچھے گا کہ تم نے یہ اودھم کیوں مچائی اور اسلام کا دعویٰ کرکے شرک کا شکار تم کیسے ہوگئے اور اللہ العزیز والحکیم کو یہ ثانوی حیثیت تم نے کیسے دے دی اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ؟
Ayah 34:28اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو پوری انسانیت کے لئے بشیرونذیر بنایا ہے
28 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ آپ ﷺ کو پوری انسانیت کی طرف نبی ورسول بنا کر بھیجا گیا جو آپ ﷺ کی بعثت سے لے کرتا قیامت آنے والے ہیں اور اس کی مزید وضاحت آپ ﷺ کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہونے کی نفی کرکے ختم نبوت کا اعلان کرادیا۔ فی نفسیہ سارے نبیوں اور رسولوں کی بعثت پر ایمان لانا شرط ہے لیکن یہ امان مجمل کہا جاسکتا ہے کہ جس کے متعلق معلوم بھی نہیں کہ وہ نبی یارسول تھا اور اس پر کیا پیغام اترا اس ایمان میں سب کے سب نبی ورسول برابر ہیں لیکن آپ ﷺ سے قبل جتنے رسول آئے وہ خاندانوں ، برادریوں اور قوموں کی طرف مبعوث کیے گئے اگرچہ ان کی نبوت و رسالت ان قوموں ، خاندانوں اور برادریوں میں محدود رہی لیکن قرآن کریم نے ہم کو ہدایت دی کہ ان سب کی نبوت و رسالت کا اقرار کرو تو ہم نے سب کا اقرار کیا لیکن آپ کے بعد کسی آنے والے پر ایمان لازم نہ ٹھہرایا گیا خواہ وہ کوئی نیا ہو یا پرانا اس لئے اب کسی آنے والے کا تعلق خواہ وہ عیسیٰ ابن میرم ہوں ، مسیح موعود ہوں ، مہدی وہادی ہوں ، آسمان پر جاکر اترنے والے ہوں ، زمین میں داخل ہو کر نکلنے والے ہو ، کسی سرنگ میں غائی ہونے والے اور پھر کسی وقت وہاں سے نکل آنے والے ہوں ، کسی ستارہ پر اترنے والے ہوں یا ماں کے بطن سے پیدا ہو کر آنے والے ہوں ، نبی اعظم وآخر ﷺ کے بعد اس کسی آنے والے کو ایمانیات میں شمار نہیں کیا جاسکتا خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو کسی جگہ اور کسی مکان میں آنے والا ہو۔
جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اس وقت تک اب نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کی تسلیم ہوگی کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کو پوری انسانیت کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا تھا اور اب رہتی دنیا تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ ہی بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی اب کوئی ظلی ، بروزی ، تشریعی غیر تشریعی ، اختیاری غیر اختیاری ایسا نہیں آئے گا جس کا تعلق برائے راست ایمانیات کے ساتھ ہو یعنی اس پر ایمان لانا ضروری ہو وہ مسیح موعود ہو یا مسیح دجال ہو اور اسی طرح قرآن کریم کے بعد کوئی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر نہیں آئے گا خواہ وہ کسی زبان میں ہو۔ جس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ اپنی ذات کیلئے نبی ورسول ہیں اپنے اہل و عیال اور خاندان اور برادری کے بھی نبی ورسول ہیں ، اسی طرح اہل مکہ اور اہل وطن کے بھی رسول ہیں اور اسی طرح اس وقت کی تمام قوموں کی طرف بھی آپ ﷺ رسول ہیں اور مختصر یہ کہ تمام انسانوں کی طرف آپ ﷺ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے آپ ﷺ رسول ہیں۔ یہ بات قرآن کریم نے متعدد بار بیان فرمائی ہے جس میں کسی طرح کا کوئی ابہام موجود نہیں جیسا کو زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 19 جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 158 جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 107 ، جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 1 میں پوری وضاحت سے بیان کردی گئی ہے اور اسی طرح خود نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشادات میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعثت واناوالساعۃ کھاتین یعین اصبعین (بخاری ومسلم) ” میری بعثت اور قیامت دونوں اس طرح ہیں “ اور یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی دوانگلیاں اٹھائیں تاکہ سامعین اچھی طرح سمجھ جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا بعثت الی الاحمر والا سود (مسند احمد عن ابوموسیٰ اشعری ؓ ” میں کالوں اور گوروں سب کی طرف بھیجا گیا ہوں “۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اما انا فاسلت الی الناس کلھم عامۃ وکان من قبلی انما یرسل الی قومہ (مسند احمد عن عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ ” میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرے ہیں وہ اپنی قوم ہی کی طرف بھیجے جاتے تھے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ (بخاری ومسلم عن جابر بن عبداللہ) ” پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ “ بلا شبہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا آنے والا نہیں آئے گا جس پر ایمان لانا ضروری ہو ویسے اللہ تعالیٰ اپنے دین اسلام کی تبلیغ وتشریح کرنے والے ہزاروں لوگوں کو بھیج چکا ، بھیج رہا ہے اور رہتی دنیا تک بھیجتا رہے گا لیکن کوئی نامزد ہو کر آپ ﷺ کے بعد نہ آیا ، نہ آیا ہے اور نہ ہی آئے گا۔ رہی یہ بات کہ آنے والوں کے آنے کا ذکر احادیث میں کیوں کیا گیا ؟ تو جواب واضح ہے کہ علامات قیامت کے تحت جو نظریات اور عقائد لوگوں کے ہاں پھیلنے تھے ان کا ذکر وحی غیر متلو کے طور پر فراست نبوی نے بیان کیا اور ان سارے فتنوں کی نشاندہی کی جن میں سے اکثر وبیشتر ظاہر ہوگئے اور ابھی مزید ہو رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب تک وہ متعین وقت آ نہیں جاتا ہوتے ہی رہیں گے۔ بلا شبہ علامات قیامت اور ان فتنوں کا باب بہت وسیع ہے لیکن علامات اور وہ شے اصل جس کی علامات بتائی گئی ہوں ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس فرق کو تو بچے بھی سمجھتے ہیں اور یہ بھی کی علامات زیر بحث آنے والی چیز نہیں نہ ان کا تعلق عقیدہ اور ایمان سے ہے بلکہ ان کا تعلق صرف تنذیر سے ہے تاکہ انسان ڈر کر اپنی اصلاح کی طرف رغبت کرے اور اس کا یقین پختہ ہو کہ جب اس دنیا کا شروع ہے تو یقینا ختم بھی ہے اور جب ہم انسان دنیا میں امتحان کے لئے آئے ہیں تو یقینا اس کا نتیجہ بھی لازم ہے اور نتیجہ کے لئے ایک دن مقرر ہے اور اسی کا نام قیامت ہے جس کا آنا یقینیات سے ہے اور اس یقین کا تعلق ہمارے ایمان سے ہے وغیرہ۔