Ayah 34:10دائود (علیہ السلام) کو ہم نے فضیلت بخشی اور لوہے کے کام کا وہ ماہر ہوگیا
10 ۔ غور کرو کہ کہاں قیامت کے منکرین کی بات ہورہی تھی اور ان کو سرزنش کرتے کرتے کس ترتیب کے ساتھ رجوع الی اللہ اختیار کرنے والوں کا ذکر فرمادیا اور وہ رجوع الی اللہ کرنے والے کون لوگ ہیں وہی جو قیامت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ایسے اعمال کرتے ہیں جن کے صلہ کی امید وہ قیامت کے عقیدہ کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے ہیں اور یہ وابستگی ان کی حقیقی وابستگی ہے اس لئے وہ دنیوی زندگی کے لئے پوری دیانت داری کے ساتھ محنت ومشقت میں مصروف رہتے ہیں ، وہ میدان شیر ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں سے شکار کرکے کھانے کے عادی ہیں ، وہ لومڑیوں اور گیدڑوں کیطرح دوسروں کی ماری پر گزارہ کرنے والے نہیں ہیں۔ وہ اپنی آخرت کو سنوارتے ہیں تو اپنی دنیا کو بھی نہیں بگڑنے دیتے ، وہ اللہ سے طلب کرتے ہیں تو بھی دنیا کی طلب کے ساتھ آخرت کی طلب رکھتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں تویہی کہتے ہیں کہ ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دنیا میں بھی اچھا رزق ، اچھی بودوباش ، اچھے اخلاق و اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہماری آخرت کو بھی سنوار دے۔ بلا شبہ وہ اپنی دنیوی زندگی بھی دوسروں کے سہارے پر نہیں گزارتے اور اپنی آختر کو بھی بگڑنے نہیں دیتے ۔ دنیا کو سنوارتے ہیں تو آخرت کا خیال بھی ان کے دامن گیر رہتا ہے اور آخرت کے لئے کام کرتے ہیں تو دنیا کو بھی بھول نہیں جاتے کیونکہ وہ اس دنیا کے اندر ہی تو رہ رہے ہوتے ہیں۔ کاش کہ ہماری مذہبی راہنمائوں اور پیشوائوں نے بھی یہ بات سمجھ لی ہوتی اور اگر وہ سمجھ گئے تھے تو اس کے مطابق وہ عمل بھی کرتے ۔ کاش کہ وہ گیدڑ اور لومڑیاں بننے کی بجائے قوم کو شیربن کر دکھاتے۔
بہرحال ان رجوع الی اللہ اختیار کرنے والے بندوں کا ذکر اس جگہ چھیڑا گیا ہے تو سب سے پہلے سیدنا دائود (علیہ السلام) کا اسم گرامی ظاہر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے دائود پر اپنا فضل و کرم کیا تو ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ تم ہمارے رسول دائود (علیہ السلام) کے لئے رجوع ہوجائو اور جو کام وہ تم سے لے اس کو دو اور اسی طرح پرندوں کو بھی اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا ات کہ وہ اس سے بھی اپنی ضرورت کے کام لے ۔ اس جگہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں { بجبال اوبی معہ } ” اے پہاڑو تسبیح کہو اس کے ساتھ “ اور دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا کہ { وسخرنا مع دائود الجبال یسبحن } (79:21) ” اور مسخر کردیا ہم نے پہاڑوں کو دائود کے ساتھ کہ وہ تسبیح بیان کریں “۔ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی ، جلد 6 میں سورة الانبیاء کی آیت 79 کے تحت کرچکے ہیں اور سیدنا دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت میں بھی اس کا ذکر آچکا ہے۔ (ج 6 ص 144) اس جگہ دیکھنا تو یہ ہے کہ جس طرح ان تین چیزوں کے مسخر ہونے کا ذکر دائود (علیہ السلام) کے لئے بیان ہوا ہے اسی طرح کائنات کی ہرچیز کے مسخر ہونے کا ذکر بنی نوع انسان کے لئے ہے پھر جس طرح ان ساری چیزوں کا انسان کے لئے مسخر ہونا بیان ہوا لیکن اس سے نہ تو کسی کو تعجب ہوا اور نہ کسی نے اس کی ایسی تاویل کی جیسی تاویل دائود (علیہ السلام) کے لئے ان تین چیزوں کے مسخر ہونے کے لئے کی گئی مثلاً ارشاد الٰہی ہے کہ :
{ اللہ الذی………………… والنھار } (ابراہیم 33 , 32:14) ” یہ اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور اوپر سے پانی برسایا جس کی آبیاری سے طرح طرح کے پھل پیدا ہوتے ہیں کہ تمہارے لئے غذا کا سامان ہیں اور جہاز تمہارے لئے مسخر کردیئے کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلنے لگیں نیز دریا بھی تمہارے لئے مسخر کردیئے اسی طرح سورج اور چاند بھی مسخر کردیئے ہیں کہ ایک خاص دستور کے مطابق چلے جا رہے ہیں “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
{ وسخرلکم……………… یعقلون } (النحل 13:12) اور اس نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند مسخر کردیئے اور اس طرح ستارے بھی اس کے حکم سے تمہارے لئے مسخر ہوگئے ہیں یقینا اس بات میں ان لوگوں کے لئے بڑی ہی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
{ الم تران……………… بامرہ } (الحج 65:22) ” کیا تم نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ کس طرح اللہ نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی ہیں ، جہاز کو دیکھو کہ کس طرح وہ اس کے حکم سے سمندر میں تیرتا چلا جاتا ہے “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
{ الم ترو……………… باصنۃ } (لقمن 20:31) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مسخر کردیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور تم پر اپنی نعمتیں ظاہر اور باطن پوری کردی ہیں “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
{ ھوالذی…………… مقرنین } (الزخرف 13:43) ” پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس سواری کے جانور کو مسخر کردیا ہے حالانکہ ہم اس کو فرمانبردار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
{ اللہ الذی…………… جمیعا منہ } (الجاثیہ 13 , 12:45) ” اللہ وہ ذات ہے جس نے مسخر کردیا ہے واسطے تمہارے دریا کو کہ اس کے حکم کے ساتھ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور تم اس کا فضل اس میں تلاش کرتے ہو تاکہ تم شکرگزار ہوجائو اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سارا اپنی طرف سے “۔
یہ آیات کریمات اور ان جیسی کتنی ہی اور آیات ہیں جن میں بار بار تسخیر کائنات کا ذکر آیا ہے کہ ہم نے انسان کے لئے سب کچھ مسخر کردیا ہے اور ہرچیز اس کی فرمانبرداری کررہی ہے۔ سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، دریا اور جو کچھ زمین آسمان میں ہے سب کا سب ہم نے انسانوں کے لئے مسخر کردیا اور ہر ایک چیز ہمارے حکم سے انسان کی فرمانبرداری کر کررہی ہے یہاں تک کہ اس زمین کے وحوش ، چرند اور پرند سب کے سب انسان کے لئے فرمانبردار ہیں لیکن ہم روز مرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ ان ساری چیزوں کی فرمانبرداری کیا ہے اور کس طرح ہے کسی کو اس میں استحالہ نہیں ، کسی کو اس میں شک نہیں ، کوئی اس معاملہ میں تعجب نہیں کرتا۔ سب جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے یہی کہ اس کائنات کی ہرچیز انسان کے فائدے میں لگی ہوئی ہے جس طرح اس کو اللہ نے لگا دیا ہے ۔ سورج کا طلوع و غروب ہے تو انسان کے لئے ، دریا رواں دواں ہیں تو انسان کے لئے ، وہ کشتیاں جو ان دریائوں میں چلتی ہیں ان کا سارا سازو سامان تیار کیا ہے تو اللہ نے پھر ان کشتیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے تو جس نے اس کو ترتیب دیا ہے اس کو پیدا کیا ہے تو اللہ نے ، وہ عقل جس سے یہ کام لیا گیا ہے وہ عقل دی ہے تو اللہ نے ، اس لکڑی میں پانی کے اندر تیرنے کی قوت عطا کی ہے تو اللہ نے ، یہ لکڑی ایک خاص ترتیب کے ساتھ اپنے سے زیادہ وزن اٹھا کر پانی میں تیر سکتی ہے تو کاریگری اسی رب ذوالجلال والا کرام کی ہے جس نے اس لکڑی کو پیدا کیا اور لوہے کا ملاپ جوڑا ہے تو اللہ نے ، لوہے میں پانی کے اندر نہ گلنے ، سڑنے اور نہ ضائع ہونے کی صلاحیت رکھی ہے تو اللہ نے ، اس لئے اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ چونکہ اللہ ہی سے ہے پھر انسان کو بنایا ہے تو اللہ نے ، انسان کو عقل عطا کی ہے تو اللہ نے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی خداداد عقل کے ذریعہ سے اس کائنات کی بڑی بڑی مہیب چیزوں کو رام کیے ہوئے ہے اور یہی انسان کے لئے مسخر کرنے اور فرمانبردار کرنے کا مطلب ہے آج تک کسی نے یہ مطلب بیان نہیں کیا کہ انسان سورج کو حکم دیتا ہے تو وہ طلوع ہوتا ہے وہ حکم کرتا ہے تو غروب کردیتا ہے ، پہاڑوں کو حکم دیتا ہے تو گیت گانے لگتے ہیں حکم دیتا ہے تو وہ ناچنے لگتے ہیں ، دریا کو حکم دیتا ہے تو اس ملک سے باہر چلے جاتے ہیں حکم دیتا ہے تو چلنے لگتے ہیں حکم دیتا ہے تو رک جاتے ہیں ، کسی نے اس سے یہ نہیں سمجھا کہ وہ سواری کے جانور بلائے تو وہ تیار ہو کر اور اپنا سازو سامان پہن کر اس کے لئے تیار ہو کر حاضر ہوجاتی ہے حکم دیتا ہے تو وہ اس کے لئے اڑنے لگتی ہے حکم دیتا ہے تو وہ بیٹھ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتیں وہی کرے گا جو فاطر العقل ہوگا ورنہ ہر انسان چھوٹا ہو یا بڑا ، عالم ہو یا جاہل ، مسلمان ہو یا خیر مسلم سب جانتے ہیں کہ اس تسخیرکائنات کا مطلب کیا ہے لیکن جب دائود (علیہ السلام) کے لئے پہاڑوں کو مسخر کرنے کا ذکر آتا ہے تو یہاں آکر ایک نیا ہی مطلب اخذ کرلیاجاتا ہے قابل غور بات تو یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ رہا ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنا تو وہ بھی بلا شبہ جانتے ہیں کہ پہاڑوں ، دریائوں ، درختوں اور پرندوں کی تسبیح کیا ہے ؟ اور یہ بھی کہ بلا شبہ اس کائنات کی ہرچیز خواہ وہ جمادات ہیں یا حیوانات ہیں ، انسان ہیں یا جن ہیں ، درخت ہیں یا پہاڑ ہیں ، زمین ہے یا آسمان سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہیں اور وہ اپنی تسبیح کو اچھی طرح جانتے بھی ہیں ، سمجھتے بھی ہیں اور انسانوں میں جن کو اللہ نے عقل وفکر دی ہے وہ اس کا مفہوم ومطلب اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کی تسبیح کا مطلب کیا ہے اور قرآن کریم نے ان کی تسبیح کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے ان ساری اشیاء جاندار کو انسانوں ہی کی طرح امتیں قرار دیا ہے۔ انسان کو اللہ نے ان سے کام لینا سکھایا ہے اور انسان اس کائنات کی ہرچیز سے کام لیتا رہا ہے ، لے رہا ہے اور لیتا رہے گا جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ انسان اگر مسلمان ہوگا تو ان اشیاء سے کام لے گا ورنہ وہ ان سے کام نہیں لے سکے گا نہیں اور ہرگز نہیں پھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے کس طرح کام لیا جارہا ہے اور یہ کام لینے والے کون ہیں ؟ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جب دائود و سلمان کا ذکر آتا ہے تو اس ساری تسخیر کا رخ بالکل بدل جاتا ہے آخر کیوں ؟ اس لئے کہ غیر مسلم قومیں نہیں چاہتی تھیں کہ مسلمان اس کائنات کی ان چیزوں سے براہ راست مستفید ہوں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے مرہون منت رہیں اور اس کائنات کی تسخیر سے ہم ہی کام لیتے رہیں مسلمان قوم اس کے قریب نہ آئے انہوں نے خاص خاص انسانوں کے لئے اس تسخیر کرنے کا رخ اپنی مذہبی کتابوں میں بالکل ہی بدل دیا اور اس بدلے ہوئے مفہوم کو اپنی مذہبی کتابوں میں اس طرح بھر دیا کہ دونوں کی زبان ایک کردی اور کوئی فرق باقی نہ رہنے دیا ، مسلمان مفسرین کی اکثریت ان کی اس جال میں آطرح بھر دیا کہ دونوں کی زبان ایک کردی اور کوئی فرق باقی نہ رہنے دیا ، مسلمان مفسرین کی اکثریت ان کی اس جال میں آگئی ، ان کی کتابوں کے تراجم در تراجم دیکھ کر جو کچھ اس میں رطب ویا بس بیان ہوا تھا وہ اپنی تفاسیر میں لاکر بھر دیا۔ ان خرانٹ یہودونصاریٰ کی چال کو نہ سمجھ سکے پھر جب عربی کی تفاسیر میں یہ ساری چیزیں منتقل ہوگئیں تو اردو تراجم میں منتقل ہونا لازم تھا وہ تو تراجم میں منتقل ہو کر آگئیں اور ان کے لئے ٹھوس دلیل اس عربی کتاب نے مہیا کردی اور اس طرح جو چال ان لوگوں نے چلی تھی اس میں وہ کامیاب ہوگئے ہم نے اس قوم کو ان چیزوں کے تسخیر ہونے کا اصل مطلب نہ سمجھایا اور ان سے کام لینے کی ہمت ترک کردی اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کر جھومتے رہے کہ ہمارے پیغمبر دائود (علیہ السلام) لوہے کو ہاتھ لگاتے تھے تو وہ موم بن جاتا تھا حالانکہ اس سے تو بنا بنایا سارا کام خراب ہوجاتا اور دائود کوئی کام بھی نہیں کرسکتے ہوں گے جب کہ لوہا ان کے لئے لوہا ہی نہ رہا حالانکہ اس کا سیدھامفہوم اور مطلب تو یہ ہے کہ دیکھو دائود (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہونے کے ساتھ لوہے کا کام بھی کرتے تھے اور اتنے بڑے کاریگر تھے کہ انہوں نے یہ یہ چیزیں لوہے کی ایجاد کیں ، لوہے سے اس طرح کام لیا جس طرح دوسرے انسان لکڑی سے بھی نہیں لے سکتے ، انہوں نے اپنی خداداد عقل سے و ہے سے باریک سے باریک اور بہت ہیوی سے ہیوی چیزیں بنائیں ، وہ زرہیں بناتے رہے تاکہ لڑائی میں کام آئیں اور اس طرح لڑائی کے دوسرے آلات وہتھیار انہوں نے تیار کیے۔ پتھروں سے انہوں نے بڑے بڑے عجیب کام لیے دیواریں ، مکان ، ظروف بنانے کا فن ایجاد کیا ، فتوحات کرنے لگے تو ان کا راستہ پہاڑ ، دریا اور جنگل نہ روک سکے ، ان جنگی مہمات میں دور دراز کے سفروں میں وہ گھر گئے تو کئی کئی روز پرندوں کی خوراک سے انہوں نے کام لیا ان پرندوں کو پکڑنے ، ان کو بطور خوراک کام میں لانے کے لئے انہوں نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ، ان کے راستے میں کوئی چیز بھی ان کے راستے کو روک نہ سکی۔ مخالفین پر انہوں نے اس طرح دھاک بٹھا دی کہ ان کا نام سن کر وہ کانپ جاتے تھے لیکن اس سارے دنیاوی کروفر اور اتنی بڑی طاقتور حکومت رکھنے کے باوجود وہ اپنے رب ذوالجلال والاکرام کو بھول نہیں گئے تھے اپنی ذاتی محنت سے گزر اوقات کرتے رہے ، انہوں نے جتنی ترقی کی قوم کی خاطر اور قوم کے سارے لوگوں کو اس میں برابر کا شریک بنایا۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کو تسخیر کرکے صرف اپنی ذات ہی کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ پوری قوم کو اس میں شامل کیا۔ جتنے فوائد تھے سب کے سب قوم کے لئے اکٹھے کیے باوجود اتنے خزانوں کے مالک ہونے کے انہوں نے قومی خزانے کو اپنی ذات کے لئے ہمیشہ حرام سمجھا ، آپ کی حکومت اور مملکت میں کوئی بھوکا ننگا اور سوالی نظر نہیں آتا تھا ہر ایک کے روزینے مقرر تھے ، سارے انسانوں کے فطری حقوق کو آپ نے ادا کیا ، اپنی مملکت کی کسی چیز کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں بنایا۔
بلا شبہ دائود (علیہ السلام) نے یہی کچھ کیا ہم نے ایک فرضی بات نہیں کی بلکہ قرآن کریم ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے اس لئے ہم اس طرح کہہ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان چیزوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ایک بار حکومت میں جائز وناجائز ذرائع سے آجاتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ جو کچھ اس ملک میں باقی رہ گیا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے ہماری ملکیت قرار پائے معلوم نہیں آج ہم حکمران ہیں کل کون ہوگا اس لئے جتنی جلدی حاصل کرسکتے ہو اور جو کچھ حاصل کرسکتے ہو اور جیسے کچھ حاصل کرسکتے ہو اس کو حاصل کرلو آخر لاکھوں اور کروڑوں روپیہ بھی تو اقتدار حاصل کرنے کی خاطر خرچ کیا ہے اب لاکھوں کو کروڑوں اور کروڑوں کے ارب وکھرب نہ بنیں گے تو آنے والے کل میں ہمارا کیا ہوگا اس لئے مملکت کے پاس مملکت لنگ کے سوا کچھ بھی نہیں جو کچھ ہے سب ان لوگوں کے پاس ہے جو اس مملکت کو اپنی خاص ملکیت بنانا چاہتے ہیں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
گزشتہ انبیاء کرام اور صلحاء قوم کے ادوار کی ترقیوں کو ہم بیان کرتے ہیں تو اس طرح کہ وہ پھونک مارتے تھے تو چیز حاضر ہوجاتی تھی ، وہ اوپر کو ہاتھ کرتے تھے تو بارش برسناشروع ہوجاتی تھی اور ان پر وجد طاری ہوجاتا تھا ، وہ حکم دیتے تھے تو طیور ووحوش اکٹھے ہو کر ان کے گیت سنتے تھے اور وہ جب پوری لے میں آتے تھے تو پہاڑ ناچنے لگتے تھے اور ان پر وجد طاری ہوجاتا تھا۔ وہ حکم دیتے تھے تو ہوا حاضر ہوجاتی تھی اور وہ تخت پر بیٹھتے تھے تو ہوا اس تخت کو اٹھا کر اس جگہ پہنچادیتی تھی ، اس تخت کی چوڑائی اتنی تھی کہ اس پر گھوڑا سوار اتنے روز تک پھوڑا دوڑاتا تھا تو اس کا دوسرا کنارہ نہیں دیکھ سکتا تھا ، جب دھوپ ہوتی تھی تو پرندوں کو حکم دیتے تھے کہ اس تخت کے اوپر وہ اپنے پرو وں سے سایہ کردیں پھر پرندوں کی قسمیں اور ان کے پروں کیجوڑنے کے طریقے اور ان کی رفتار ان کی حاضری ان کی بول چال اور ان کے مقابلوں کی داستانیں بیان کرنے لگیں گے تو صفحات کے صفحات کالے کرتے جائیں گے اور پھر یہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لئے ایک دو نئی باتیں کہیں نہ کہیں سے نکال کر ساتھ لگا دیں گے اور بعد میں آنے والے سردھنیں گے اس طرح قرآن کریم کے بیان کرنے کو مقصد ہے وہ بالکل فوت ہو کر رہ جائے گا اللہ میں سمجھ کی توفیق دے۔
رہا پہاڑوں کا تسبیح کرنا تو اس میں بھی کوئی بات ایسی نہیں جو اچنبھے کی ہو اور جس پر کسی کے کان کھڑے ہوں آخر اس کائنات کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو اس کی تسبیح بیان نہ کرتی ہو ؟ ہرگز نہیں اس پوری کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا تسبیح خواں ہے خود قرآن کریم نے اس کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : { تسبح لہ………………… حلیما غفور } (بنی اسرائیل 44:17) ” ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں یہاں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد وثنا میں زمزمہ سنج نہ ہو مگر تم ان کی زمزمہ سنجیاں سمجھتے نہیں بلا شبہ وہ بڑا ہی بردبار ہے ، بڑا ہی بخشنے والا ہے “۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
{ سبح للہ………………… الحکیم } (الحدید 1:57) ” تسبیح بیان کرتے ہے واسطے اللہ تعالیٰ کے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے “۔
{ سبح ……………………… الحکیم } (الحشر 1:59) ” تسبیح بیان کرتے ہے واسطے اللہ تعالیٰ کے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے “۔
{ سبح ……………………… الحکیم } (الصف 1:61) ” تسبیح بیان کرتے ہے واسطے اللہ تعالیٰ کے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے “۔
{ یسبح للہ…………………… الحکیم } (الجمعہ 1:62) ” پاکیزگی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ بادشاہ بہت ہی پاک ہے غالب آنے والا حکمت والا ہے “۔
{ یسبح للہ………………… الحمد } (التغابن 1:64) ” پاکیزگی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کے لئے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب اچھی تعریفیں ہیں “۔
غور کرو کہ کس طرح بار بار ارشاد فرمایا گیا کہ اس کائنات کی ہرچیز اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی تسبیح خواہ ہے پھر پہاڑوں کی تسبیح پر آخر اس قدر تعجب کیوں ؟
ایک قابل غور بات یہ ہے کہ دائود (علیہ السلام) کے ساتھ جس طرح اس جگہ پہاڑوں اور پرندوں کا تسبیح کرنا بیان ہوا ہے اس طرح سورة الانبیاء میں بھی پہاڑوں کی تسخیر یعنی ان کو دائود (علیہ السلام) کے کام میں لگایا جانا اور اللہ کی تسبیح بیان کرنا ہے اور اسی طرح پرندوں کا ان کے کام میں لگائے جانے کا ذکر ہے البتہ اس جگہ لوہے کے نرم کرنے کا ذکر بھی ہے اور زر ہیں بنانے کا بھی اور سورة الانبیاء میں صرف زر ہیں بنانے کا ذکر ہے بلا شبہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کوئی باہم تعلق ضرور ہے اور وہ تعلق خود دونوں جگہ قرآن کریم نے اشارتاً بتا دیا ہے کہ کیا ہے اور کیسے ؟ ایسے کہ زرہیں بنانے کی غرض کیا ہے ؟ اس کی غرض ظاہر ہے کہ وہ جنگوں میں کام دیتی ہیں بلکہ اس وقت کا سب سے زیادہ اہم اوزار ہے اور یہی غرض ان زر ہوں کو خود قرآن کریم نے بیان کی ہے جہاں فرمایا گیا کہ { لتحصنکم من باسکم } (80:21) اور تاریخ ہم کو یہ بھی بتاتی ہے کہ دائود (علیہ السلام) کے وقت میں بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں بلکہ ان میں سے بعض کا ذکر قرآن کریم نے بھی کیا ہے جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 248 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ان جنگوں سے سلطنت اسرائیل بہت وسیع ہوئی اور وسیع ہونے کے ساتھ مستحکم بھی اس لئے جب زرہیں بنانے کا تعلق صاف طور پر ان فتوحات سے ہے تو لازماً دوسروں دونوں باتوں کا ذکر بھی انہیں سے ہے اس لئے ان تین باتوں کو دونوں جگہ اکٹھا بیان کیا گیا ہے۔ زر ہوں کا معاملہ تو واضح ہے کہ جنگوں میں ہے اور پرندوں کا تعلق جنگوں اور فتوحات سے دو طرح ہوسکتا ہے ایک یہ کہ پر ندجنگوں میں پیغام رسانی کا کام دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے ذکر میں بھی پرندوں کا ذکر خصوصاً کیا گیا ہے اور زیادہ تر قرین قیاس بھی یہی ہے کیونکہ ان کے ساتھ بہت سی تاریخی شہادتیں بھی ہیں کہ ان جانوروں اور خصوصاً کبوتروں سے یہ کام لیا جاتا تھا ایک دوسرے رنگ میں بھی عربوں کے ہاں پرندوں کا ذکر فتوحات میں آتا ہے اگرچہ یہ ذکر ان کی شان و شوکت کے لئے استعمال ہوتا تھا تو آج بھی ہمارے ہاں انہی معنوں میں مستعمل ہے کہ فلاں آدمی جب تلاوت کرتا ہے تو پرندے بھی پر باندھ کر اس کو سنتے ہیں وہ اس طرح مصروف ہوتا ہے کہ پرندے اس کے سر پر آکر بیٹھ جاتے ہیں بہرحال عرب اس کو اس طرح بیان کرتے ؎
اذا ماغدا بالجیش حلق فوقہ
عصائب طیر تھتدی بعصائب
یعنی جب وہ لشکر کے ساتھ نکلتا ہے تو اس کے اوپر پرندوں کے جھنڈ حلقہ باندھ لیتے ہیں جو ان لشکروں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور بائبل میں فوجوں کا پرندوں کو کھانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور بلاشبہ پرندے کھانے کے کام بھی آتے ہیں اس وقت بھی اور آج بھی اور یہ بھی مسخر کرنے کے ضمن میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس لشکر کی ایک ایک ضرورت پوری ہوتی ہے اور قوم بنی اسرائیل کا میدان تیہہ میں پرندوں کا کھانا بھی مشہور ومعروف بات ہے جس کو قرآن کریم نے من اور سلویٰ میں بیان کیا ہے چناچہ بیان کیا گیا ہے کہ ” تو اسرائیل کے پہاڑوں میں گھر جائے گا تو اور تیرا سارا لشکر اس گروہ سمیت جو تیرے ساتھ ہے اور میں تجھے ہر قسم کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کو خوراک کے لئے دوں گا “۔ (حزقی ایل 12:29) تیسری چیز پہاڑوں کی تسخیر اور تسبیح ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ویسے تو اس کائنات کی ہرچیز ہی اس کی تسبیح خواں ہے لیکن اس جگہ اگر ضرور کوئی خصوصیت ہے جس کے باعث اس کا ذکر کیا گیا ہے تو زر ہوں اور پرندوں کے تعلق کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے پہاڑوں کو مسخر ہونا اور ان کا تسبیح کرنا اس معنی میں ہے کہ وہاں پر دائود (علیہ السلام) کی حکومت قائم ہوگئی اور دائود (علیہ السلام) کے ساتھ ان پہاڑی قوموں نے تسبیح الٰہی بلند کی جو ظاہری اور باطنی دونوں رنگوں میں دائود (علیہ السلام) کے ساتھ ہوگئے اور فرمانبردار ہو کر دائود (علیہ السلام) ہی کا دین اور مذہب اختیار کرلیا اور ہر لحاظ سے دائود (علیہ السلام) کے ساتھ ہوگئے اور ظاہر ہے کہ ان معنوں میں ہر ایک چیز کا انسان کے لئے مسخر کئے جانا قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ یہ کائنات بلا شبہ سارے انسانوں کے لئے مسخر ہے لیکن اس سے فائدہ کون حاصل کرتے ہیں ؟ وہی جو اس کے لئے کوشش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دائود (علیہ السلام) نے ان کو مسخر کرنے کے لئے مزید کوشش کی اور انہوں نے ان کو مسخر کیا اور آپ نے ان سے دوسرے انسانوں کی نسبت زیادہ فائدہ اٹھایا کہ انہی لوگوں نے آپ کی حکومت کو مستحکم کیا اور آپ کے ساتھ شریک ہو کر جنگیں لڑیں اور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور اسی طرح آج بھی جو شخص ان چیزوں کی تسخیر کے لئے آئے بڑھتا ہے وہ بلا شبہ ان سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور وہ اس کو کام دیتی ہیں۔ پیچھے تسخیر کرنے کی اس رنگ میں وضاحت زیادہ نہیں کی گئی تھی اس لئے اس کی مزید تفصیل کردی تاکہ قارئین کرام کے ذہن میں مزید وسعت پیدا ہو اور وہ قرآن کریم پر براہ راست غور وفکر کرنے کی عادت ڈالیں کم از کم وہ لوگ جو اس کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ آئے آئیں اور اس جمود کو توڑ دیں جس نے ہماری قومی زندگی کو بالکل جامد کرکے رکھ دیا ہے اور مذہبی پیشوائوں کی زد سے قوم مسلم کو نکالنے کی پوری پوری ہمت کریں کیونکہ ان مذہبی ٹھیکہ داروں نے اپنے اپنے ٹھیکے بحال رکھنے کے لئے قوم کی عقلی اور فکری صلاحیت کو بالکل مائوف کرکے رکھ دیا ہے اور قرآن کریم ان کے ہاتھوں سے لے کر ان کے ہاتھ میں اپنی اپنی ٹھیکہ داری کی کتابیں دے دی ہیں اور پوری قوم کو باور کرادیا ہے کہ تم اپنی زندگی کے مسائل انہی کتابوں میں تلاش کرتے رہو اگر تلاش کرسکتے ہو ورنہ کسی مرض کا علاج ہی ہم سے پوچھ لیا کرو ہم تمہارے کام آتے ہیں اور تم ہمارے کام آیا کرو اس میں تمہاری خیر ہے اور سادہ لوح قوم ان کی متشرع شکل و صورت دیکھ کر ان پر اس قدر اندھا اعتماد کر بیٹھی ہے کہ وہ ان کے پھندے سے نکلنا محال سمجھتی ہے اور ان کے فتو وں کی زد سے ڈر کر ادھر ادھر دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فوم مسلم کے ہر فرد کو دین کی اتنی سمجھ عطا فرمادے کہ وہ اپنی دینی ضرورت کو اللہ اور اس کے رسول ہی سے پورا کرسکیں۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔
ایک تفسیر یہ ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اور دوسری تفسیر بھی ملاحظہ فرمالیں کہ ” پہاڑوں کو حکم ملا کہ جب میرا یہ عبد منیب دائود میری تسبیح میں مشغول ہو تو تم بھی صرف زبان حال سے نہیں بلکہ زبان قال سے اس کے ساتھ مل کر میری پاکی بیان کرو اور اے پرندو ! تم بھی میرے اس بندے دائود کے ساتھ مل کر تسبیع وتہلیل میں نغمہ سرا ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوش آوازی کی صفت سے متصف فرمایا تھا دل میں محبت الٰہی کے چشمے ابلتے تھے اور شوق چنگاریاں دھکتی تھیں جب آپ سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی شریں اور میٹھی آواز سے ذکر الٰہی میں مصروف ہوتے تو سارے ماحول پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی پہاڑوں کے پتھر ، چٹانیں اور سنگریزے سب تسبیح و تہلیل میں مصروف ہوجاتے پرندے بھی اڑنا بند کردیتے اور آپ کے ارد گرد حلقہ باندھ کر جمع ہوجاتے اور آپ کے ساتھ مل کر اپنے رب کی حمدوثنا کے گیت گاتے “۔ اس تفسیر کے پیش نظر آج بھی ہمارے ہاں کے بڑے صوفی منش لوگ پیروبزرگ اور شیوخ مرشدین راتوں کو روشنیاں بند کرکے حلقے بناتے اور ذکر وفکر کی ہو ہو اور حق حق کی زور دار آوازوں سے لوگوں کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ ان حلقوں کے درمیان جو صوفی ، شیخ اور مرشد ذکر شروع کرتے ہیں وہ دائود (علیہ السلام) کے قائم مقام اور جو لوگ ان کے گردا گرد حلقہ باندھتے ہیں وہ ان پہاڑوں ، چٹانوں اور سنگریزوں کے قائم مقام بن کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔ اب تمہاری مرضی ہے جس تفسیر کو چاہو صحیح اور جس کو چاہو غلط قرار دے دو ہم اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔ اب تمہاری مرضی ہے جس تفسیر کو چاہو صحیح اور جس کو چاہو غلط قرار دے دو ہم اپنا شوق پورا کر رہے ہیں اور تم بھی اپنا شوق پورا کرلو۔ وما علیناالا البلغ۔
Ayah 34:11اے دئواد کشادہ زرہیں بنائو ، حلقے جوڑنے میں اندازے کا خیال رکھو
11 ۔ لوہے کے نرم کرنے کے متعلق ایک تفسیر تو وہ ہے جو ہم نے اختیار کی ہے کہ آپ کو لوہا پگھلانے اور لوہے کی اشیاء میں سے سامان جنگ اور ضرورت کی دوسری چیزیں بنانے میں بہت مہارت حاصل تھی اور ہمارا یہ آپ کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بہ نفس نفیس دائود (علیہ السلام) ہی سارا کام کرتے تھے بلکہ ہماری مراد یہ ہے کہ آپ کے دور میں اس فن نے بہت ترقی کی چونکہ آپ خود اس فن کے ماہر تھے اور آپ نے اس میں بہت ہی دلچسپی لی اور دنیا میں اس قدر ترقی کی کہ کم از کم اس وقت کی دنیا میں اتنا کام کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوتا تھا اور آپ کے پاس بڑے بڑے ماہر کاریگر موجود تھے آپ چونکہ اپنے وقت میں اس علاقے کے حکمران تھے لہٰذا اس فن نے جتنی بھی ترقی کی وہ آپ ہی کی مرہون منت تھی اسی لئے آپ ہی کا نام لیا گیا بلکہ زیر نظر آیت میں آپ کے ساتھ آپ کے دوسرے ماہرین اور آل واولاد کو بھی شامل کرلیا گیا۔
زیر نظر آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اے دائود اور آل دائود آپ کو لوہا پگھلانے کا فن سکھا دیا گیا جس سے آپ لوگ بڑی آسانی سے پگھلا کر مختلف سانچوں میں ڈھال لیتے ہو ساتھ ہی تم کو زرہ سازی کا ہنر بھی سکھادیا گیا ہے اور اس ہنر کی ساری باریکیوں سے بھی تم کو باخبر کردیا ہے تمہارے لئے ضروری ہے کہ زرہیں تنگ اور چھوٹی نہ بنائو اور نہ ہی اتنی وزنی بنائو کہ ان کا اٹھانا جوانوں سے مشکل ہوجائے اور وہ ایسی بھی نہ ہوں جو جوانوں کے پورے جسم کی حفاظت نہ کرسکیں نیز اس بات کا بھی خیال رکھو اور صحیح انداز کے ساتھ ان کا بنائو جہاں سے اس کو باریک ہونا ضروری ہے باریک رکھو اور جہاں سے موٹا ہونے کی ضرورت ہے موٹا بنائو بڑے سلیقہ اور مہارت سے کام کرو تاکہ تمہارا بنایا ہوا مال جہاں بھی جائے پسند کیا جائے اور دوسرا کوئی اس کا آسانی کے ساتھ مقابلہ نہ کرسکے۔
اس طرح ہمارے لئے ان آیات میں بھی بیشمار سبق ہیں اگر سبق حاصل کرنا چاہیں یا ہمارے مذہبی پیشوا ہم کو سبق حاصل کرنے کی اجازت دیں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کسی بھی دستکاری میں قطعاً کوئی عیب نہ ہو آدمی اگر کارخانے اور فیکٹریاں نہیں لگا سکتا تو دستکاری تو بہرحال سیکھ سکتا ہے اور اگر وہ بحیثیت فن کسی فن کو بھی سیکھے گا تو ہمیں کرنے پر اللہ تعالیٰ اس کو کارخانے اور فیکٹریوں کی بھی توفیق دے دے گا۔ دوسرا سبق ہمارے لئے یہ ہے کہ جو پیشہ بھی اختیار کرے دیانت وامانت کا خوب خیال رکھے اور خوب محنت کرکے جس چیز کو بنانا شروع کیا ہے اس کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کرے اور خصوصاً صارف کا خیال رکھے اور خوب محنت کرکے جس چیز کو بنانا شروع کیا ہے اس کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کرے اور خصوصاً صارف کا خیال رکھے کہ اس کو چیز بہتر سے بہتر دستیاب ہو۔ جو چیز بنائے اس میں دو چیزوں کا بیک وقت خیال رکھے یہ کہ چیز ستھری اور نفیس ہو دوسری یہ کہ وہ نہایت پائیدار اور مضبوط ہو کہ جہاں اس کی بنائی ہوبی چثز جائے ہر لحاظ سے پسند کی جائے اور صارف اس کو حاصل کرنے کی خواہش کرے۔ ان آیات سے ہم کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مسلمان کو بےاحتیاطی سے کام کرنا ہرگز زیبا نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے ۔ اچھا اور مفید میٹریل استعمال کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی کہ دنیوی ترقی میں دوسری قوموں سے آگے بڑھنا قوم مسلم کے دنیو فرائض میں شامل ہے اس میں کوتاہی کرنا عنداللہ جرم ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ آلات جنگ میں اور اس وقت کی زبان میں اسلحہ تیار کرنے میں پورا زور خرچ کرنا چاہیے اور غیروں کی طرف سے کسی ایسی پابندی کو قبول نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دوسروں سے زیادہ بڑھ کر احتیاط ہمارے لئے ضروری ہے کیونکہ ایک جان کی قیمت جتنی اسلام میں سمجھی گئی ہے کسی دوسرے مذہب میں ہرگز نہیں سجھی گئی کیونکہ اسلام کے نزدیک کسی ایک جان کا ناجائز تلف کرنا پوری انسانی آبادی کے تلف کردینے کے برابر ہے اور اسی طرح ایک جان کے بچانے میں اتنا بڑا اجر ہے جتنا پوری انسانی آبادی کے بچانے میں ہوسکتا ہے۔ اس لئے اسلحہ کی تیاری میں اس کو سنبھالنے اور رکھنے میں اس کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں غفلت اسلام ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ کاش کہ ہم قرآن کریم کی بتائی ہوئی ان ہدایات پر چلتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں سے سبق سیکھتے تو ہمارے صنعت وحرفت کو چار چاند لگ جاتے ، ہر منڈی میں ہماری مصنوعات کی مانگ بڑھ جاتی۔ ہماری ہنر مندیوں اور فنی مہارت کی دھاک دوسرے ممالک میں بیٹھ جاتی اور ہماری معاشی حالت بھی سدھر جاتی ، ہم صرف خود کفیل ہی نہ ہوتے بلکہ دوسروں کے دست وبازو بھی بھنتے کسی کو ہمارے دروازے پر آنے کی خواہش ہوتی دوسرے ہماری خواہشوں اور ضرورتوں کا احترام بھی کرتے ۔ ہماری بات کی کوئی قدر بھی ہوتی۔ ہماری رضامندی سے کوئی خوش اور ہماری ناراضگی کا کسی کو احساس بھی ہوتا۔ ہمارے ملنے اور کسی کے ہاں جانے کی کسی کو چاہت بھی ہوتی۔ ہماری بات سننے اور اپنی بات سنانے کی کوئی ضرورت بھی سمجھتا۔ ہمارے بزرگوں کی اور ہمارے دین کی کسی کے ہاں قدر بھی ہوتی۔
اس وقت جو ہماری قومی حالت ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس پر جتنا رویا جائے اور جتنا ماتم کیا جائے کم ہے اوپر جو باتیں میں نے عرض کی ہیں کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ہے جس کو ہم نے اپنایا ہے ، کوئی ایک بھی ہے جس کا کبھی خیال کیا ہے۔ ہمارا کوئی مذہبی پیشوا اور دینی راہنما ہے جس میں ذاتی طور پر یہ اوصاف پائے گئے ہوں ، کوئی ایسا ہے جو ان باتوں کی تعلیم دے ، کوئی ہے جو ان باتوں کا خیال رکھے۔ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم غیروں سے اسلحہ حاصل کر کے اپنے خون پسینے کی کمائی ان کو پیش کر رہے ہیں اور پھر ان سے اسلحہ خرید کر اپنے بھائیوں کو مار رہے ہیں اور آپس ہی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے درپے ایسا لگتا ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں ہمیں غیرمسلموں سے نہیں بلکہ آپ ہی میں اس ” جہاد “ کو جاری رکھنا ہے۔ ہم خود مسلمان نہیں لیکن دوسروں کو مسلمان بنانے کی بہت فکر رکھتے ہیں۔ ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملنے کے لئے تیار نہیں لیکن غیر مسلموں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے بہت بےچین ہیں۔ ہم نے اسلام کی اکثر وبیشتر عادات وخصائل اسلامی ملکوں سے باہر غیر مسلموں کے ہاں مفت میں دے دی ہیں اور ان کی غیر اسلامی عادات وخصائل کو بہت مہنگا خرید کر اپنے ملکوں میں لے آئے ہیں ، اب ہمارے پاس صرف اور صرف خالی اسلام کا نام رہ گیا ہے اور غیروں کے پاس باقی سب کچھ ہے لیکن نام ان کو میسر نہیں ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ وہ نام کو لینے کے لئے تیار نہیں۔ آخر کیوں ؟ اس لئے کہ یہ نام اب اس قدر بدنام ہوچکا ہے اور ہم نے اس کو اس قدر بدنام کردیا ہے کہ اب اس کو کوئی مفت میں بھی لینے کے لئے تیار نہیں ہے اور ہم بھی اس کو رواجاً استعمال کر رہے ہیں وہ بھی صرف غیر مسلموں کو دکھانے کے لئے ورنہ حقیقت میں تو وہ ہم کو پسند نہیں ہے کہ آج ہم میں سے کوئی دیوبندی ہے ، کوئی بریلوی ، کوئی شعیہ ہے تو کوئی سنی ، کوئی وہابی ہے اور کوئی گلالی وہالی اور علاوہ ازیں بھی ہم بہت کچھ ہیں لیکن سارے غیر مسلم گروہ چونکہ ہم کو مسلمان اور ہمارے دین کو اسلام کہتی ہیں اس لئے ابھی تک ان کے سامنے ہم یہ تسلیم کرتے ہیں ورنہ وہ ناراض ہوجائیں گے تو ہمارا کیا بنے گا۔
بہرحال خیانت ہوگی اگر آپ کو دائود (علیہ السلام) کے لئے لوہا نرم کرنے کی دوسری تفسیر نہ بتائی جائے بلکہ یہ کہ اس کا نام نہ لیا جائے کیونکہ جانتے تو آپ پہلے ہی ہیں بہرحال اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ دائود (علیہ السلام) کے لئے ہم نے لوہا اس طرح نرم کردیا تھا کہ وہ ہاتھ لگاتے تھے تو وہ لوہا نہیں بلکہ آٹا یا موم معلوم ہوتا تھا اور وہ سارا دن بیٹھ کر جس طرح عورتیں اور بچے ہاتھوں سے سویاں بٹتے ہیں بس بالکل اسی طرح لوہے کو بٹ کر کڑیاں بناتے تھے اور پھر کڑیاں جوڑ کر زرہیں بتار کرتے تھے اور جب دائود (علیہ السلام) ہاتھ لگاتے تھے تو وہ موم یا آٹا کی طرح ہوتی تھیں اور جب دوسرے لوگ ہاتھ لگاتے تھے تو وہ لوہے کی ہوتی تھیں۔ تم سب کہ سبحان اللہ اور ایک زور سے نعرہ رسالت لگا کر اس باب کو بند کردیتے ہیں اب تمہاری مرضی چاہو وہ تفسیر پسند کرو اور چاہو تو یہ دوسری تفسیر پسند کرو کیونکہ دائود (علیہ السلام) جس طرح میرے نبی ورسول ہیں آپ کے بھی ہیں یا جس طرح ان کو میں نبی ورسول مانتا ہوں آپ بھی ان کو نبی ورسول مانتے ہیں چونکہ تعلق برابر کا ہے اس لئے آزادی بھی برابر کی ہونی چاہیے اگرچہ تم مجھ پر غصہ ہوگئے کہ یہ ہماری تفسیر کو کیوں نہیں مانتا کیونکہ آپ بہت زیادہ ہیں اس لئے آپ غصے ہوسکتے ہیں اور میں آپ کو سلام بلکہ سلام کہہ کر آگے بڑھ رہا ہوں اور سکی طرح کا کوئی غصہ نہیں کرتا میری صرف یہ گزارش ہے ؎
باتیں دونوں طرح کی ہیں سامنے آپ کے
گزارش ہے آپ سے یہی ماننا خوب جانچ کے
Ayah 34:12سلمان (علیہ السلام) کے لئے تسخیر ریاح کا ذکر
12 ۔ سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور سلیمان (علیہ السلام) نے بحمد للہ اپنے والد ماجد کی حکومت کو مزیدوسعت دی ، لوہے کی صنعت وحرفت کا جو کام دائود (علیہ السلام) نے شروع کیا تھا اس کو مزید آگے بڑھایا اور لوہا پگھلانے کی اتنی اتنی بڑی بھٹیاں تیار کیں کہ ان کی مثال آج اس ترقی کے دور میں بھی نہیں ملتی ہے۔ لوہے اور تانبے کو انہوں نے اس قدر پگھلایا کہ گویا لوہے اور تانبے کا ایک ایک چشمہ جاری کردیا ملک میں جس جگہ خام لوہا اور تانبا پایا جاتا تھا وہاں یہ بھٹیاں لگا کر اس کو گلایا اور پھر جہاں ان چیزوں کی ضرورت تھی وہاں تک اس کو اس حالت میں پہنچایا اور پھر اس جگہ جن چیزوں کی حکومت کو ضرورت تھی ان کو بنایا اور ملک کے اندر جو بڑے بڑے قوی ہیکل لوگ آوارہ گردیاں کرتے تھے ان کو پکڑ کر ان سے تعمیرات کا کام کرایا اور ان کو وہ گر سکھادیئے کہ انہوں نے آپ کے ملک کو چار چاندلگادیئے۔ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تسخیر ریاح کی واضحت عروۃ الوثقی جلد 6 ص 166 پر کردی ہے وضاحت کے لئے دیئے گئے حوالہ کی طرف مراجعت کریں۔
Ayah 34:13وہ قوی ہیکل لوگ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے وہ سب کچھ بناتے جن کی اس کو ضرورت ہوتی
13 ۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک میں اس وقت جو جو چیزیں تیار ہوتی تھیں ان کا مختصر ساذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان میں بڑے بڑے قلعے (محاریب وتماثیل) اور بہت بڑے بڑے لگن جیسے حوض ہوتے ہیں (جفان کالجواب) اور بہت بھاری بھاری دیگیں جو ایک ہی جگہ پر پڑی رہتی تھیں۔ (قدور رسیت) ادھر ادھر نہ ہوتی تھیں اور نہ ہی ان کو کرنے کی ضرورت تھی جن میں لشکروں کے لئے کھانا تیار ہوتا تھا۔ ان دو تین چیزوں کا ذکر کرکے پوری حکومت کے نظام کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ وہ کتنا مضبوط اور کتنا زیادہ تھا اور کس طرح اس کا انتظام چلانے کے لئے زبردست محنت کی گئی تھی اور اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا کہ سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کی طرح اللہ کے نبی ورسول تھے انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا اور اپنی حکومت کو اسلامی خطوط کے مطابق چلایا اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے بھی کبھی غافل نہ ہوئے جیسا کہ اکثر حکمران حکومت کی خماری میں کیا کرتے تھے اللہ نے ان کو اتنی بڑی سلطنت دی تھی اور سلطنت کے انتظام کے لئے بھی یہ سب کچھ مہیا کیا تھا آپ کی حکومت میں اتنے اصلاح کام ہوئے کہ ان کو شمار کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے اور خصوصاً وہ لوگ جو اکثر وبیشتر ملک کا امن وامان تباہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر حکومت کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور ان کے بڑے بڑے شیطان پناہ دینے والے ہوتے ہیں اور ان شیطانوں نے خصوصاً اپنی ضرورتوں کے لئے ان کو رکھا ہوتا ہے اور کوئی ان کو آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتا یہ جنگ کے چیر پھاڑ کرنے والے درندوں کی طرح ان کو ان شیطانوں اور بڑے بڑے سرداروں کی کمین گاہوں میں چھپے رہتے ہیں اور راتوں کو اپنی کمین گاہوں سے نکل کر بستیوں میں ہل چل مچا دیتے ہیں اور لوٹ مار سے اپنا وقت نکالتے ہیں ان سارے شیطانوں اور سرداروں کو اور ان کے محافظوں کو آپ نے اس طرح قابو کیا کہ ان میں سے ایک بھی نہ ہل پایا اور اگر کوئی اوپر نیچے کرتا تو ہم اس کو وہ ماردیتے کہ اس کو چھٹی کا دودھ یادآجاتا۔ مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ان کو بھی ڈھیل دے کر صرف جیلوں تک بند نہ رکھتے بلکہ ان کو فوراً فیصلہ سنا دیتے پھر ان کو لمبی لمبی قید میں ڈال کر اور سزائیں سناکر مختلف کاموں میں لگادیتے اور ان کو اس قدر مصروف رکھتے کہ ان کو کوئی نئی شرارت سوجھ ہی نہ سکتی اور نہ ہی آپس میں بیٹھ کر سارا سارا دن مشورے کرتے رہتے تھے اور نئی نئی تخریب کاریاں سوچتے۔ نہیں ہر گز نہیں ان کو اتنی فرصت ہی کب ملتی تھی اور ان کی ناکوں میں نکیل ڈال کر ان سے کام لیا جاتا تھا اور ان کے اوپر ایسے لوگ مقرر کیے گئے تھے جن کے سامنے وہ اوپر تک نہیں دیکھ سکتے تھے بلکہ نہایت محنت اور لگن سے کام میں لگے رہتے تھے۔
Ayah 34:14اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا خواہ وہ کون ہو اور کوئی ہو
14 ۔ دائود (علیہ السلام) نے حکومت کی جتنا عرصہ اللہ نے ان کو دیا اور ان کے بعد آپ کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) نے بھی حکومت کی جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملا تھا اور جتنی عمر ملی تھی اور ملک کے انتظام وانصرام میں آپ نے کوئی کوتاہی نہ کی بلکہ ہر کام مثالی طور پر کیا جس کی یادگاریں آج تک چلی آرہی ہیں لیکن آخر کار اس دنیا میں ہمیشگی کس کو ہے ؟ کسی کو بھی نہیں اور سب نے اپنی اپنی باری جانا ہے خواہ وہ کوئی ہے اور خواہ وہ کون ہے آخر کار جب آپ کے جانے کا وقت آیا تو اپنا جانشین مقرر کردیا اور حکومت کے سارے کارندوں اور اعوان وانصاری نے آپ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے آپ کے جانشین کو قبول کیا اور اس کو مقرر کرنے میں آپ کا پورا پورا ہاتھ بٹایا ، کسی بھی بڑی حکومت کے حکمران کے جانے کے ساتھ جو قدرتی خلا پیدا ہوتا ہے اس کو پورا کرنے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ اسی طرح کسی بڑے حکمران اور فاتح کے جانے سے جو سازشیں پھیلتی ہیں ان کا حتی المقدور پورا پورا خیال رکھا حتیٰ کہ وہ وقت آگیا جس کے لئے انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیونکہ کچھ معلوم نہیں کہ وہ کب آجائے مختصر یہ کہ آپ کے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کا جانشین بھی ایک وقت تک بالکل اسی طرح نظام چلاتا رہا جس طرح آپ چھوڑ کر گئے تھے لیکن کچھ سال گزرنے کے بعد اس میں وہ سستی آگئی جو اکثر آہی جایا کرتی ہے کہ وہ اندرون ملک سازش کا ایسا شکار ہوا کہ انجام کار اس کا تختہ الٹ دیا گیا اور ظاہر ہے کہ اس طرح سارے ہی لوگ زیر عتاب آئے جنہوں نے اس کی جانشینی کی کوشش کی تھی اور ان کے اعوان وانصار بنے تھے اس طرح ان سارے لوگوں کو اب محسوس ہوا کہ سلیمان کو حکومت بدل گئی یا یہ کہ گویا سلیمان (علیہ السلام) آج ہی اس دنیا سے رخصت ہوئے اسی طرح جس نے سازش کی تھی اس کو قرآن کریم نے { دابۃ الارض } اور جس حکومت کو اس نے گرایا تھا اس کو لاٹھی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی کہ گویا سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اس وقت تو نہ بدل جب انہوں نے وفات پائی لیکن اب اس سازش سے اس پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا گیا اور آپ کے جانشین اور اس کے اعوان وانصار پر سخت برا وقت آگیا جیسا کہ اکثر ایسا ہوتا آیا ہے ، ہورہا ہے اور ہوتا ہی رہے گا کہ اچھوں کے بعد برے اور بروں کے بعداچھے حکمران آجاتے ہیں۔ اسی طرح ملک کی حالت بھی بدلتی رہتی ہے ۔ سلیمان (علیہ السلام) کی وفات اور جانشینی کے مسئلہ کو ہم نے عروۃ الوثقی جلد 6 کے صفحہ 205 سے بیان کرنا شروع کیا ہے اور 210 تک بیان کرتے ہی گئے ہیں اگر خواہش ہو تو وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
اس جگہ سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر تین آیتوں آیت 12 سے 14 تک کیا گیا ہے۔ ان تینوں آیتوں پر ہم نے نہایت مختصر حاشیے دیئے ہیں اور وضاحت کے لئے آپ کو سورة الانبیاء کی طرف مراجعت کی دعوت دی ہے۔ امید ہے کہ آپ سورة الانبیاء پہلے بھی پڑھ آئے ہوں گے کسی وجہ سے نہیں پڑھا تو دوبارہ دعوت دے رہے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کا آپ ضرور مطالعہ کریں لیکن اس کے ساتھ ہی ہم چاہتے ہیں کہ اس جگہ جو کچھ ہمارے مفسرین نے بیان کیا ہے اس کا خلاصہ بھی آپ تک پہنچادیں تاکہ آپ آزادی کے ساتھ فیصلہ کرکے جو تسلیم کرنا چاہیں کریں ، بیان کیا گیا ہے کہ :
” حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی عنایات فرمائیں کہ آپ کے لئے ہوا کو مسخر کردیا (پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ سارے انسانوں کے لئے بھی ہوا کے مسخر کرنے کا ذکر گزر چکا ہے) جب آپ اپنی وسیع و عریض مملکت کے دورے پر جاتے تو آپ کے تخت کو ہوا اپنے کندھوں پر اٹھا کرلے جاتی اور وہ اس سرعت سے چلتی کہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتے۔ صبح کے وقت وہ اتنا سفر کرلیتے جتنا ایک گھوڑسوار سریع السیر گھوڑے پر ایک ماہ میں طے کرتا اور اس طرح شام کے وقت بھی۔ نیز اللہ نے آپ کے لئے ایک پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ جاری کردیا تاکہ وہ حسب منسا اس کو اپنے مصرف میں لائیں پھر ہوا کے علاوہ اللہ نے جنات کو بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنایا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ جن ہر وقت ان کی خدمت بجا لانے میں مصروف رہتے ، کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ اپنی ڈیوٹی میں ذرا غفلت یا پہلو تہی کرے اور سرتابی کرنے والوں کو آگ سے داغا جاتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے جو خدمات وو انجام دیتے تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ بڑے بڑے قلعے اور اونچی اونچی عبادت گاہیں اور رہنے کے لئے بہترین اور خوشنما محلات اور بڑے بڑے پتھر وغیرہ کے مجسمے تراشتے یا ڈھالتے تھے ( حالانکہ تمثیل کے معنی نقشے اور سیزیاں بھی ہوسکتے تھے ، اس لئے کہ مجسمے بنانے کی آپ کو کوئی ضرورت نہ تھی کہ آپ ایک جلیل القدر نبی ورسول تھے) اس طرح بڑے بڑے لگن جن میں کھانا ڈالا جاتا اور لوگ ان کے ارد گرد بیٹھ کر کھانا کھاتے اور وہ پانی کے حوضوں کی طرح کے تھے اور بڑی بڑی بھاری بھرکم دیگیں بناتے جو اپنی جسامت اور بوجھ کے باعث آسانی سے ادھر ادھر نہیں کی جاسکتی تھیں۔
چونکہ جناب غیب دانی کا دعویٰ کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے وہ انسانوں پر اپنا رعب بٹھاتے تھے اور انہیں طرح طرح کی باتیں بتاتے جن کا تعلق علوم غیب سے ہوتا اللہ تعالیٰ کی غیرت نے ان کا بھانڈا چورا ہے میں پھوڑ دیا وہ اس طرح کہ سلیمان (علیہ السلام) کو اس وقت موت سے ہمکنار کیا جب وہ عصا پر ٹیک لگائے مصروف عبادت تھے۔ آپ کی روح پرواز کرگئی لیکن آپ کا جسم مبارک عصا کے سہارے جوں کا توں کھڑارہا۔ جنات جو آپ کے حکم سے بڑے کٹھن اور مشقت طلب کاموں میں جتے ہوئے تھے اور اب کے خوف سے سستی نہ کرتے تھے وہ آپ کو کھڑا ہوا دیکھتے تو سمجھتے کہ آپ زندہ سلامت ہیں ، ذرا غفلت ہوئی تو کھال ادھیڑ دیں گے اس طرح بعض کے نزدیک سترہ سال ، بعض کے نزدیک تیرہ سال ، بعض کے نزدیک دس سال اور پیرکرم شاہ صاحب کے خیال میں پورا ایک سال گزر گیا۔ حکم الٰہی سے دیمک نے عصا کو چاٹنا شروع کردیا اور نیچے سے اوپر تک اس کو کھو کھلا کردیا جب وہ بالکل کھوکھلا ہوگیا اور آپ کا بوجھ نہ سہارا سکا تو ٹوٹ گیا اور آپ نیچے زمین پر آرہے تب جنات کو پتہ چلا کہ جس خوف سے انہوں نے اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا رکھا وہ تو عرصہ سے وفات پاچکا ہے تو اب ان کے دعویٰ کی ساری حقیقت فاش ہوگئی نیز وہ لوگ جو ان جنات کی غیب دانی کے دعویٰ کو سچا سمجھ رہے تھے انہیں بھی پتہ چل گیا کہ یہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔
جنات کے سرغرور کو خاک میں ملانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے شان نبوت کا مشاہدہ بھی کرادیا۔ عام انسان اگر لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو اور وہ اونگھ جائے تو اس کا توازن برقرار نہیں رہتا اور فوراً زمین پر گرپڑتا ہے پھر موت کے بعد چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے ، جس میں طرح طرح کے تغیرات رونما ہونے لگتے ہیں لیکن یہاں آپ سترہ ، تیرہ دس اور پیر کرم شاہ جی کے خیال میں ایک پورے سال تک ٹیک لگائے کھڑے رہے۔ چہرہ اسی طرح پھول کی طرح شگفتہ رہا ، بدن بالکل ترو وتازہ رہا ، تعفن اور بوسیدگی تو کجا لباس بھی ویسے ہی پاک وصاف رہا ، نہ موسم گرما کی حدت ، لو اور حبس نے جسد اطہر کا متاثر کیا اور نہ موسم سرما کا کوئی اثر ظاہر ہوا (لیکن کسی مفسر صاحب نے یہ نہ بتایا کہ وہ اپنے عزیز و اقارب اور انسان اعوان وانصار حکومت کے ساتھ مشورہ کرکے فوت ہوئے تھے کہ ذرا جنوں کے علم کا اندازہ لگانا ہے تم مجھے اسی طرح کھڑے رہنا دینا یا سارے بھی یہی سمجھتے رہے کہ عبادت میں مصروف ہیں اور اس طرح کبھی آپ کی بیوی ، بچوں نے بھی یاد نہ کیا کہ ابو کدھر گئے ؟ کیا سلیمان (علیہ السلام) کے وقت میں صرف آپ ہی عبادت کرتے تھے باقی لوگ بغیر عبادت ہی کے تھے ؟ آخر کسی انسان نے آپ کی کیوں خبر گیری نہ کی کچھ تو بتایا ہوتا تاکہ ہم کو یہ سوال نہ اٹھانا پڑتا۔ کہاوت ہے کہ کسی بچے نے دوسرے بچے کو تعجب میں ڈالنے کے لئے بیان کیا ہمارے دادا نے ایک بھینس پالی تھی جس کا ایک سینگ وہاں تھا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دوسرا وہاں جہاں سورج غروب ہوتا ہے تو اس بچے نے سن کر کہا کہ واہ یار یہ بھی تو نے کوئی بڑی بات کی آ میں تجھ کو بتائوں کہ ہمارے دادا نے ایک ڈھانگا (لمبا ڈنڈا) رکھا تھا جس سے بادل کو چوبادے کر بارش برسا لیتا تھا۔ یہ بات سن کر اس پہلے بچے نے جو دراصل دوسرے کو تعجب میں ڈالنا چاہتا تھا اس دوسرے سے پوچھا کہ پھر تم اس کو رکھتے کہاں تھے جو اتنا بڑا ڈھانگا (لمبا ڈنڈا ) تھا ؟ تو دوسرے نے فوراً جواب دیا کہ تمہاری بھینس کی کھرلی میں۔
یہ کہاوت اس لئے سنائی ہے کہ اوپر ہم نے بھی ایک سوال کیا ہے اگرچہ وہ بچوں ہی کی طرح سہی لیکن آخرا نہیں اس سے کیا ہے جنہوں نے بچوں کی سی بات ہم کو سنائی ہے۔ ہمارے اردو نویس مفسرین میں سے پیرکرم شاہ صاحب بھی موجود ہیں اللہ ان کی عمر نوح عطا فرمائے کسی کی رسائی ہو تو ان سے پوچھ کر ہم کو بتادے تاکہ اگر کوئی بچہ ہم سے پوچھ لے تو اس کو ہم بھی جواب دے سکیں کیونکہ ہماری تو مت ماری گئی ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کیا جواب دیا جائے تاکہ وہ پھر ہم سے کچھ نہ کہہ سکے۔ ویسے ہم نے سید مودودی (رح) کے ایک خاص مرید سے پوچھا تھا تو گالیاں کھائی تمہیں اور مار سے بچا کر انہوں نے ہم پر احسان کیا تھا۔