Ayah 34:29قیامت پر ایمان نہ رکھنے والے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی ؟
29 ۔ قیامت کب آئے گی ؟ پوچھنے والے کون ہیں ؟ وہی جو قیامت کے آنے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور جو انہوں نے سوال کیا ہے تو معلوم کرنے کے لئے نہیں بلکہ استہزاء اور مذاق کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں مطلب ان کا یہ ہے کہ قیامت آئے گی ؟ قیامت آئے گی ؟ ایک مدت سے ہم سن رہے ہیں اور آپ ہم کو بار بار اس سے ڈرا رہے ہیں ۔ ہم نے ایک بات آپ ﷺ کو نہیں مانی بلکہ بڑھ چڑھ کر تیری مخالفت کی ہے اور ابھی تک قیامت ویامت کے کوئی آثار بھی نہیں آئے آخر کوئی فیصلہ کن بات کرو کہ وہ آئے گی کب ؟ تاکہ ہم اس کا انتظار کریں اور جب پھر بھی وہ نہ آئے تو ہم آپ کو کچھ کہہ سن تو سکیں آپ ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا اور ہمارے درمیان ٹھیک فیصلہ کر دے گا آخر وہ وقت آئے گا کب ؟ اتنی مدت گزر چکی وہ وقت آپ لے کیوں نہیں آتے ؟ اگر تم سچے ہوتے تو یقینا وہ مدت کا آگیا ہوتا یا ہماری کہانی ختم ہوچکی ہوتی جیسا کہ تو ہم کو ہر روز کہتا ہے اور تیری یہ باتیں سن کر ہمارے کان تھک گئے اور آنکھیں دکھنے لگی ہیں۔
Ayah 34:30آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ اس کے آنے کا جو دن مقرر ہے وہ اس سے پہلے یا پیچھے نہیں ہوسکتی
30 ۔ منکرین قیامت کی یہ رٹ کہ وہ گھڑی آکیوں نہیں جاتی بڑی پرانی ہے اور تقریباً ساری قوموں نے اپنے رسولوں سے اس کا مطالبہ کیا ہے جتنی بار انہوں نے اس کا مطالبہ کیا اتنی ہی بار ان کو یہ بتایا گیا کہ اس دنیا کا اختتام ہی اس کے آنے کا دن ہے تم اس ضد میں نہ آئو جب اس کے آنے کے لئے شرط ہے کہ یہ نظام دنیا ختم کردیا جائے اور جب یہ نظام ختم ہوگا وہی دن قیامت کا دن ہوگا تو تم اس نظام کے ختم کرنے کے آخر کیوں درپے ہو اور پھر یہ بھی کہ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو سمجھ لو کہ اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ وہ دوبارہ تو اس دنیا میں نہیں آئے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت آئے گی تو تم نہیں ہوگے اور پھر تم موجود ہو اور قیامت آجائے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی بات نہ ہوئی کسی نتھو خیرے کی ہوئی اگر تم اس طرح بچوں کی سی ضد کر رہے ہو تو پھر تمہاری اس ضد سے قیامت آجائے گی اور جب وہ آئے گی تو گویا تم اس کو روک دو گے۔ ایک بار کان کھول کر سن لو کہ وہ تمہارے مطالبہ پر نہیں آئے گی بلکہ اپنے متعین وقت پر آئے گی اور جب آئے گی تو تمہارے اسے روکنے سے رک نہیں جائے گی۔ اسی طرح اس کے آنے کا ایک دن مقرر ہے اور جب تک وہ مقرر دن آ نہیں جاتا وہ نہیں آئے گی اور رہامقرر دن تو اس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اس میں تمہاری زندگی کا راز ہے لیکن تم نہ سمجھو تو میں دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمادے۔
Ayah 34:31کافر قرآن کی کتاب اللہ ماننے کے لئے تیار نہیں ، نہ ہی کسی پہلی کتاب کو کتاب اللہ مانتے ہیں
31 ۔ ایک بات ہوتی ہے کسی دلیل سے اور ایک ہوتی ہے محض ضد اور ہٹ دھرمی سے۔ اگر کوئی شخص دلیل کے ساتھ بات کرے تو اس کو دلیل کے ساتھ منوایا جاسکتا ہے اگر اس کی دی گئی دلیل صحیح نہ ہو تو اس کو صحیح دلیل دی جاسکتی ہے اور اس کی غلط دلیل کو صحیح دلیل کے ساتھ رد کیا جاسکتا ہے اس میں بلا شبہ ماننے یا منوانے کا پہلو موجود ہوتا ہے اور بات کرنا بھی کسی حد تک مفید ہوسکتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی دلیل موجود ہی نہیں صرف ایک آدمی ایک بات کہہ دے اور اس پر اڑ جائے اور ضد اور ہٹ دھرمی سے وہی بات کہتا جائے تو اس کے سامنے کوئی دلیل نہیں چل سکتی بلکہ ایسی جگہ کچھ بولنے سے خاموش رہنا ہی بہتر ہوتا ہے جن لوگوں کا زیر نظر آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں مانتے اور ساتھ وہ گزشتہ کتابوں یعنی تورات ، انجیل اور زبور کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہ تھیں تو کیا انہوں نے یہ بات کسی دلیل سے کی ہے ؟ پھر اگر ان کے سامنے دلیل رکھی جائے تو یہ مان لیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ان کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ آج تو تم کبروغرور کے ساتھ قرآن کریم کی صداقت سے انکار کر رہے ہو اور اپنی اس احمقانہ ضد کو دانشمندی قرار دے رہے ہو جب قیامت کے روز تم کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے لاکر کھڑا کردیا جائے گا اس طرح جب تم اس جگہ کھڑے ہو تو اس وقت تمہاری حالت کیا ہوگی ؟ بلا شبہ اس وقت تمہارا سارا خمار اترچکا ہوگا اور جس بات سے تم انکار کرتے تھے اس بات سے تم دوچار کردیئے جائو گے تو تم گویا مسکین بنے ، فرط ندامت سے ہونٹ کاٹو گے اور پھر جب غضب الٰہی کے بھڑکتے ہوئے شعلے دیکھو گے تو آپس میں الجھنا شروع کردو گے۔
شروع سے آج تک یہی نظام چل رہا ہے کہ دنیا میں ہمیشہ کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں اور کچھ طاقتور اور بڑے ہوتے ہیں اور یہی پوزیشن ان کی اس وقت ہوگی جب وہ پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کمزور لوگوں کو آپ عوام الناس کہہ لیں اور طاقتوروں کو لیڈروں ، سردار ، حاکم اور پیرومرشد اس وقت عوام الناس اپنے لیڈروں ، سرداروں ، پیروں ، مرشدوں اور حاکموں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے ” کم بختو ! تم ہی نے ہم کو بہکایا ہماری ساری مصیبتوں کے تم ہی ذمہ دار ہو تمہارے دن رات کے مکر اور خفیہ تدبیروں نے ہمارا ستیا اس کیا تم ہی نے ورغلا کر ہم کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اس طرح گویا جو کچھ ان کے منہ میں آئے گا وہ ان کو کہہ دیں گے کیوں ؟ اس لئے کہ جب جان پر بنی ہو تو بلی بھی شیر ہوتی ہے اور ان کے لیڈر ، سردار ، پیرو مرشد اور حاکم سب کے سب حیران و ششدر رہ جائیں گے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا کہ ان لوگوں کو ہو کیا گیا یہ تو آنکھیں بند کیے ہوئے ہمارے پیچھے چلے آرہے تھے اور یہ تو آج تک کسی ناصح کی بات کو سننے کے لئے بھی تیار نہ تھے کیا یہ وہی لوگ ہیں ؟
Ayah 34:32متکبرین ان کمزور بننے والوں کو پہچان کر بولیں گے تو کھری کھری ان کو سنائیں گے
32 ۔ انجام کار جب وہ ان کو پہچان لیں گے اور ان کو بھی معلوم ہوگا کہ ہیں تو وہی لوگ لیکن ان پر اسوقت حقیقت حال واضح ہوچکی ہے وہ وقت جب یہ لوگ آنکھیں بند کرکے ہمارے پیچھے جا رہے تھے ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا کہ ہم کو دھر لیا جائے گا وہ سہم کر بولیں گے کہ ہمارے پاس ایسی طاقت کہاں تھی جس سے ہم چند انسانوں نے تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کردیا تھا ؟ یہ تم نے کیسے کہہ دیا یا مان لیا کہ ہم نے تم کو آواز دی لیکن تم چاہتے تو ہماری آواز پر کان نہ دھرتے۔ تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ الٹ دیتے ، ہماری طاقت وقوت کا سرچشمہ تو اس وقت بھی تم ہی تھے۔ تم نذرانے اور ٹیکس ہم کو نہ دیتے تو ہم مفلس ہوتے ، تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری اور مرشدی ایک دن بھی نہ چل سکتی ، تم زندہ باد کے نعرے نہ مانتے تو کوئی ہمیں پوچھنے والا بھی نہ ہوتا تم ہی تو ہم سب کی فوج تھے ، پیروں کے مرید تھے تو تم ، حاکموں کی رعایا تھے تو تم ، لیڈروں کے ووٹر تھے تو تم ، سرداروں کے حواری تھے تو تم ، گروئوں کے چیلے تھے تو تم ، تم ہی تو ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے لڑتے رہے ، تم یہ کام نہ کرتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا۔ مانو یا نہ مانو حقیقت یہی ہے کہ تم اس طریقہ پر چلنے کے لئے تیار نہ تھے جو رسولوں اور اللہ کے نیک بندوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا۔ تم اپنی اغراض اور خواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ خوہش اور ہوا رسولوں اور اللہ کے نیک بندوں کی بتائی ہوئی راہ تقویٰ سے پوری نہ ہوتی تھی لیکن ہمارے سامنے حرام حلال سب موجود تھا نہ ہم پابندی کرتے تھے اور نہ ہی تم پر کوئی پابندی عائد کرتے تھے اس لئے تم نے ہمارے آرام وعیش کو دیکھا اور ہماری طرف لپک آئے اور ہم نے تم کو اپنی اغراض کے لئے قبول کرلیا تم ایسے پیروں کی تلاش میں تھے جو تمہیں ہر طرح کے گناہوں کی کھلی چھوٹ دیں اور تم سے کچھ نذرانے لے کر اللہ تے تم کو بخشوادینے کی خود ذمہ داری قبول کریں اور ذمہ داری لینے کا وعدہ کریں۔ تم خود ایسے صوفیوں اور مولویوں کے طلبگار تھے جو شیطانی کاموں سے تم کو نہ روکیں اور ہر شرک و بدعت اور تمہارے نفس کی ہر دل پسند چیز کو عین حق ثابت کردیں اور تمہارا دل خوش کریں وہ تم کو تمہاری خواہش کے مطابق مل گئے اس طرح جن جن جعل سازیوں کی تم کو ضرورت تھی وہ تمہاری طلب کے مطابق تم کو میسر آگئی کیونکہ جو تم چاہتے تھے وہ ان سے میسر آسکتا تھا اور جو وہ چاہتے تھے وہ تم سے ان کو میسر آسکتا تھا ، دونوں طرف معاملہ ایک ہی جیسا رہا اب یہ وقت آیا ہے تو تم پاک وصاف بننے کے لئے کھڑے ہوگئے ہو تو خود بددیانت تھے اور تم کو ایسے ہی بددیانت مل گئے اتنے حاجی تم بھی نہ بنو ، نرے مظلوم تم بھی نہیں اور ایسا ڈھونگ رچانے کی کوشش مت کرو اگر ہم بری الذمہ نہ ہوسکے تو تم بھی یقینا بری الذمہ قرار نہیں پائو گے۔
Ayah 34:33کمزور دوبارہ ان متکبرین کو جواب دینے کی مزید کوشش کریں گے
33 ۔ تم نے دیکھا کہ وڈیروں نے کمزوروں کو اپنے ساتھ برابر کا شریک ٹھہرالیا اور ان کی باتوں کا ترقی بہ ترقی جو ای دیا اور جواب دینے میں بھی انہوں نے باور کرانے کی پوری پوری کوشش کی کہ ہم پیرومرشد ، سردار اور حاکم تم محکوم ، حواری اور مرید تم نے اتنی جرات کیسے کی کہ ہمارے سامنے اتنے چڑھ کر بولنے لگے لیکن وہ بھی کیا کریں سامنے عذاب ان کو نظر آرہا ہے اس لئے ان کا دل بڑھ گیا ہے انہوں نے اپنے گمراہ کرنے والوں کی بات سنی اور دوبارہ ان کو جواب دینے لگے کہ تعجب ہے تم نے ہم کو اپنے ساتھ برابر کا شریک بنانے کی کوشش کی بلکہ ہم کو ساری مصیبت کا ذمہ دار بنادیا حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے اپنی چالبازیوں ، فریب کاریوں اور مکاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے جو اس وقت طلسم باندھ رکھا تھا اور رات دن لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھانسنے کی جو خفی تدبیریں بھی کرتے تھے ہم ان کا شکار ہوگئے گویا تم نے ہمارے سامنے دنیا پیش کی اور ہم اس پر فریفتہ ہوگئے تم نے ہماری کمزوری سے خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ہم کو بھی اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے تمہاری طرف لپکنا پڑا اور تمہاری اسکیموں نے ہماری مت مار دی گویا اس طرح دونوں طرف سے ایک دفعہ بھڑاس نکال کر دونوں طرف سے کچھ نرمی شروع ہوجائے گی اور ویسے بھی جو سامنے عذاب دکھائی دے رہا ہوگا اس کو دیکھ کر دونوں فریق ہی سہم جائیں گے اور دونوں فریقوں کو اپنے اپنے کفر اور انکار کی صورت واضح ہوجائے گی اور اس پہلی ملاقات کی پھوں پھاں کے بعد اپنے اعمال کی طرف دیکھنے اور غور کرنے لگیں گے کہ شاید کوئی یہاں سے نکلنے کی تدبیر کرسکیں لیکن نتیجہ دونوں ہی فریق اپنے اپنے کیے کے نتیجہ سے دو چار کردیئے جائیں گے اور بلا شبہ کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کے اس طرح کے بحث و مباحثہ کا ذکر اکثر جگہوں پر کیا ہے جس سے مراد دراصل زندوں کی تفہیم ہے تاکہ جو موجود ہیں ان کے سمجھنے کا ابھی وقت باقی ہے شاید یہی اس صورت حال سے بچ جائیں۔ اگر مزید وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی ، کی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 39 , 38 جلد چہارم میں سورة ابراہیم کی آیت 21 ، جلد ششم میں سورة القصص کی آیت 63 ، جلد ہفتم میں سورة الاحزاب کی آیت 68 , 66 ، سورة المومنوں میں آیت 47 , 48 اور سورة حم السجدہ کی آیت 29 ملاحظہ کریں اور خصوصاً پیروں اور مریدوں کی گفتگو کو سنناچا ہیں تو سورة البقرہ کی آیت 165 تا 167 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 34:34جب بھی کوئی نبی ورسول کسی قوم کے پاس آیا تو مترفین نے انکار کرنے میں پہل کی
34 ۔ جب تک نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری تھا اور انبیاء ورسل بستیوں ، خاندانوں اور قوموں کی طرف آتے تھے اس کا ذکر کیا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ان لوگوں یعنی مکہ والوں نے جو آپ ﷺ کو جھٹلایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں جب بھی کسی قوم وبستی کی طرف رسول آیا تو اس بستی کے بسنے والوں میں سب سے پہلے ان ہی لوگوں نے اس کا انکار کیا جو اس بستی کے کھاتے پیتے اور صاحب ثروت اور جاہ و جلال لوگ تھے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ ان ہی لوگوں کی زندگی کے سارے عیش و آرام میسر ہوتے تھے ، روپے پیسے کی ریل پیل ہوتی تھی ، وہ جس طرف سے گزرتے تھے لوگ ان کی تعظیم کے لئے اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تھے اور ان کو بھی اس چیز کی ضرورت ہوتی تھی اگرچہ غریبوں پر ظلم ہوتا تھا تو ان کی بلا سے ، اگر کسی کی آبرو لٹتی تھی تو ان کو کیا غم ، وہ تو محفوظ ہوتے تھے۔ اگر انبیاء کرام اور رسل عظام اور اللہ والوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا تو ان کو سکون آتا تھا کیونکہ یہی لوگ تھے جو ان کی نظروں میں کبھی نہیں جچتے تھے وہ تو خیر انبیا کرام کا زمانہ تھا اب اگرچہ نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تاہم قوم کے وڈیروں ، کھاتے پیتے لوگوں ، صاحب ثروت لوگوں اور حکومت کے جاہ و جلال رکھنے والوں کی عادت میں ایک ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کچھ اضافہ ہی ہوا ہے ، اب غریبوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو سو ہو ان لوگوں کی بلا سے بلکہ غریبوں کو تو نہ چھوڑنے کا انہوں نے فیصلہ کررکھا ہے ، عوام کو تو یہ بتایا ہے کہ ملک میں کوئی غریب نہیں رہے گا گویا سب امیر ہوجائیں گے لیکن حقیقت میں ان کا عہد یہی ہے کہ غریبوں کو بالکل ختم کردیا جائے اور کوئی غریب نظر نہ آئے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس ملک میں رہ کر آخر غریب کیوں رہے ؟ یہی سارے جرموں سے بڑا جرم ہے لیکن غریب آخر کرے کیا کہ غریب نہ رہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ، غریب ڈاکے ڈالے ، چوریاں کرے ، قتل و غارت کرے ، اس ملک کے وڈیروں کی کمین گاہ میں چلائے جائے ، ان کی حفاظت کرے اور غریبوں کو ختم کرے تاکہ دونوں کام یکساں ہوتے رہیں اور وہ ایک پنتھ دو کاج کا مصداق ہو اگر اور کچھ بھی نہیں کرسکتا تو دیکھو ملک میں کتنی تحریکیں ہیں جو جہاد کررہی ہیں کسی تحریک کے ساتھ شریک ہوجائے ، اگر اس میں کچھ صلاحیت ہے تو کم از کم اپنی ایک جماعت ہی بنالے ، کسی یونین میں شامل ہوجائے ، کسی سیاسی پارٹی کا عہدہ دار ہی بن جائے ، اگر کچھ دین کے علم واقفیت رکھتا ہے تو ایک اسلامی مدرسہ ہی کھول لے اور اگر لڑکیوں کا جامعہ تعمیر کرائے تو زیادہ سہولت ہی رہے گی کیونکہ آج کل لڑکیوں کی بہتاتا ہے اور انکا کوئی پرسان حال نہیں ہے اگر بالکل ناکارہ اور علم وفکر سے کورا ہے تو چلو گداگری کرے یہ سارے پیشے ایسے ہیں کہ ان کو اختیار کرنے والا کبھی غریب نہیں رہ سکتا ، غریب رہنا جرم اور پھر غریب کے ساتھ شریف رہنا دوسرا جرم ہے کم از کم اگر غریب ہے تو غریب ظالم تو بنے ، دیکھو اس ملک کے اندر کتنے کاروبار کھلے ہیں جن میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا اور آدمی غربت سے بھی نجات پاجاتا ہے۔
بہرحال انبیاء کرام اور رسل عظام کے دور میں بھی انہی وڈیروں اور صاحب ثروت لوگوں نے ان کی مخالفت میں پہل کی اور اپنے حواریوں ، مریدوں اور محکوموں کو ابھارا کہ ان لوگوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرو ، ان پر الزانم لگائو ، ان کی تحریک کو قتل کرنے کی کوشش کرو ، ان کو مارو اور کھل کر کہو کہ جو کچھ تم ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو ہمارے ہاں اس کی پرکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں ، ہم اس کا کھلے بندوں کا انکار کرتے ہیں ، تم کون ہو ہمارے باپ دادا کے دین کو غلط کہنے والے اور ہمارے بزرگوں کو برا بھلا کہنے والے ؟ ان کی نذر ونیاز اور ان کے منت چڑھاوا سے روکنے والے ؟ اس طرح جو ان کے منہ میں آتا ہے وہ ان وڈیروں اور صاحب دولت لوگوں کے بل بوتے ان کو کہہ دیتے تھے اور شرم وحیا نام کی چیز ان میں موجود ہی نہ تھی ۔ اس مضمون کو بھی قرآن کریم نے بار بار دہرایا ہے اگر وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی ، جلدسوم میں سورة الانعام کی آیت 123 ، سورة الاعراف کی آیت 90 , 88 , 75 , 66 جلد چہارم سورة ہود کی آیت 27 ، جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 16 ، جلد ششم سورة المومنون کی آیت 33 , 34 تا 47 , 46 , 38 جلد ہشتم سوروہ الزخرف کی آیت 23 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 34:35مشرفین نے انبیاء کرام کو اپنے مال و دولت اور اولاد سے ڈرانے کی کوشش کی
35 ۔ انبیاء کرام اور رسل عظام سے براہ راست مخاطب ہوتے اور کہتے کہ تم کون ہو ہم کو ڈرانے والے اور ہماری اصلاح کرنے والے دیکھو ہم اس بستی اور شہر میں رہ رہے ہیں اور اس کی ایک ایک چیز پر غور کرو ان عالی شان مکانوں ، حویلیوں ، کارخانوں ، فیکٹریوں ، زمینوں اور باغوں پر نظر ڈالو کیا ان میں کوئی تمہارا بھی حصہ ہے یہ سب کچھ ہمارا ہی تو ہے ہمارے ان نوجوانوں کو دیکھو جو روزانہ صبح اکھاڑے میں ہوتے ہیں ، ڈنڈ پیلتے اور کشتیاں کرتے ہیں اور پھر ہم سب میں سے ایک ایک کے دس دس بارہ بارہ ہیں آخر یہ کن لوگوں کی اولاد ہیں یہ سب کچھ تو ہمارے پاس ہے اور تم فقط ” اللہ ہو ، اللہ ہو “ اور یہ نہ کرو وہ نہ کرو بیٹھو تو اس طرح کھڑے ہو تو اس طرح ، چلو تو اس طرح ، ادھر نہ دیکھو ، نیچے نہ دیکھو الامان والحفیظ کیا کیا پابندیاں ہم پر عائد کرنا چاہتے ہو ہم نے تمہاری ایک ایک سنی ہے اور آج ہم یہ برداشت نہیں کرسکے تب بولے خبردار جو آئندہ تم نے ہمارے بچوں کو خصی بنانے کی کوشش کی تم کو بتا رہے ہیں کہ ہماری پرسکون زندگی میں بےاطمینانی کا زہر مت گھولو ورنہ تم کو اپنی بستی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا۔ کان کھول کر سن لو کہ ہم کو کوئی عذاب نہیں دے گا پہلے تو یہ قیامت ویامت کچھ ہے ہی نہیں یہ سب تمہاری وہم پرستی ہے اگر بالفرض قیامت ہوئی تھی اور آبھی گئی تو ہم قوم کے اکابرین ہیں ہم کو کون پوچھے گا پھر بھی اگر کوئی گزند پہنچے گی تو تم ہی کو پہنچے گی جن کے پاس رات کا ہے تو دن کا نہیں اور اگر دن کا ہے تو رات کے لئے کچھ نہیں۔ اگر تم لوگ اتنے ہی اللہ کے پیارے ہوتے تو تمہارے پاس کچھ تو ہوتا تم نرے ہی قلاش تو نہ ہوتے پھر سن لو اور کان کھول کر سن لو آئندہ ہمارے بچوں کو یہ عذاب کی دھمکیاں بالکل نہ سنانا اور نہ ہی ان کے بزدل بنانے کی کوشش کرنا ان باتوں کو اپنے ہی تک محدود رکھو اور اپنا کام کرو۔
Ayah 34:36روزی کا تنگ کرنا یا کشادہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے
36 ۔ گزشتہ آیت میں خوش حال لوگوں کا ذکر تھا جن کے پاس اللہ کا دیا ہوا مال اور اللہ کی عطا کردہ اولاد کی کثرت تھی لیکن انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کا احسان ماننے سے انکار کردیا تھا اور ان چیزوں پر اترانے لگے تھے اور انبیاء کرام کی محض اس لئے گستاخیاں کرتے کہ ان کے پاس ان دنوں چیزوں کی کثرت تھی اور جن لوگوں کے پاس دنیا کی ان چیزوں کی کثرت ہو وہ اس وقت بھی اور آج بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اگر ہے تو وہ لوگوں پر بہت راضی ہے اور اس کے راضی ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان کے پاس مال و دولت کی ریل پیل ہے اور اولاد کی بھی کوئی کمی نہیں ہے اور اس کے مقابلہ میں جو نبوت کا دعویٰ کیے ہوئے ہیں ان کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ ہی اتنی اولاد موجود ہے پھر وہ کیونکر یہ کہتے ہیں کہ اللہ ان پر راضی ہے اور ان کے غیروں پر ناراض ہے جس کو صاف نظر آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کن لوگوں پر خوش ہے ان کو جواب دیا جارہا ہے کہ رزق کی تنگی وفراخی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کے لئے قانون مشیت طے ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خوشی یا ناخوشی کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قانون کا تعلق ہے جس خاص قانون کے تحت رزق کی تقسیم اس نے کی ہے تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور نافرمانوں کے پاس بھی اس رزق اور دنیویں مال ومتاع کی کوئی کمی نہیں تھی بلکہ انبیاء کرام کے مقابلہ میں بلکہ سارے مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ ان چیزوں میں بہت آگے تھے اس کے باوجود جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ ان پر آئی تو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اور دنیوی زندگی کی ان ساری چیزوں کی فراوانی ان کے ذرا بھی کام نہ آئی۔ اس لئے آپ اس دعویٰ میں سچے نہیں کہ جس کے پاس دنیوی مال و دولت اور اولادوخاندان اور برادری زیادہ ہو ان پر اللہ راضی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حقیقت کو اکثر لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کی عقل وفکر میں آنے والی یہ چیز نہیں ہے۔
Ayah 34:37اللہ کے نزدیک مال و دولت نہیں بلکہ اچھے اعمال کی قدروقیمت ہے
37 ۔ گزشتہ آیت پر اگر غور کرو گے اور دور جدید کے متمول لوگوں اور اغنیاء وامراء کے کردار کو دیکھو گے تو تم پر واضح ہوجائے گا کہ وہ غلطی جو اس دور کے لوگوں کو لگی تھی آج ہمارے دور کے لوگوں کو بھی بدستور اسی طرح لگی ہوئی ہے جس طرح ان لوگوں کو لگی تھی ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ہلاک ہوگئے لیکن یہ غلط فہمی ان کی نہ گئی چلو وہ تو پکڑ لئے گئے اور پھر اس صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے جیسے وہ کبھی اس جگہ آباد ہی نہ ہوئے تھے لیکن افسوس تو ان موجودہ عقل کے اندھوں پر ہے جو اپنی آنکھوں سے ان کی داستانیں پڑھتے ہیں لیکن اس کے باوجود پھر وہی کہتے ہیں جو وہ کہتے تھے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ کرتے تھے۔ زیر نظر آیت میں ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے جو اس دور جدید میں ان چیزوں کی فراوانی رکھتے ہیں اور گزشتہ لوگوں کی طرح وہ بھی اسی غلطی کا شکار ہیں جس غلطی کا وہ شکار ہوئے تھے کہ لوگو ! تم یہ نہ سمجھو کہ اگر تمہارے پاس مال بکثرت ہوگا اور بچوں کی تعداد زیادہ ہوگی تو تم اللہ کے مقرب بندے بندجائو گے یہاں تو شرف پذیرائی صرف اور صرف اس کو بخشا جاتا ہے جس کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں ہو اور جو اپنے حسن عمل سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی فلاح و بہبود میں اضافہ کررہا ہو اور اپنی ذاتی خوش حال پر قومی خوش حالی کو سو بار ترجیح دیتا ہو۔ یہی وہ نیک بخت لوگ ہیں کہ ان کے اعمال حسنہ کا ان کو کئی گناہ اجر ملے گا اور وہ فردوس بریں کے بالا خانوں میں قیام کریں گے اور کسی قسم کا غم واندیشہ ان کو لاحق نہ ہوگا اور وہ اپنی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی نہایت ہی خوشحالی اور بےفکری سے گزاریں گے اور انعامات الٰہی کی فراوانی ان ہی لوگوں کے لئے ہوگی اور یہ لوگ کیا ہی خوش بخت ہوں گے جو جنت الفردوس کے وارث قرار دیئے جائیں گے۔
Ayah 34:38بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نیچا کرنے والے خود دوزخ کی گہرائیوں میں ہوں گے
38 ۔ زیر نظر آیت کا مضمون بھی بہت غور طلب ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی کتاب کی آیات کو ہر ادینے اور نیچا دکھانے کے کام میں دن رات مصروف ہیں۔ راتوں کو مجلسیں لگا کر بیٹھتے ہیں تو ان کی اسکیمیں یہی ہیں اور دن کو کہیں جمع ہوتے ہیں تو ان کی سوچ کا محور یہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر مت خرچ کرو یہ لوگ خود بخود بھاگ جائیں گے اور اتنی بات نہیں سمجھتے کہ اس زمین اور آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہے یہ سکیمیں سوچنے والے نہیں لیکن یہ احمق اتنی بات کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ گویا جن لوگوں پر اور جہاں یہ لوگ خرچ نہیں کرتے وہاں لوگ نہیں بستے بس انہیں کا دیا ہی کھا رہے ہیں کتنے کوتاہ بیں ہیں اور کیسی سطحی سوچ ہے ان لوگوں کی۔ یہ آیت پیچھے اسی سورت کی آیت 5 کے طور پر بھی گزر چکی ہے وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔ فرمایا عنقریب وہ دن آنے والا ہے کہ ان لوگوں کو جکڑ کر عذاب الٰہی میں جھونک دیا جائے گا اور پھر کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوگا اور وہ اس عذاب سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔
Ayah 34:39رزق کا کشادہ کرنا یا تنگ کردینا اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کے لئے اس نے قانون نافذ کردیا ہے
39 ۔ دنیا میں جتنے انسان موجود ہیں خواہ وہ کسی ملت اور کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں اللہ کی مانیں یا نہ مانیں ، نیک ہو یا بد بہرحال وہ اللہ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ان سب کا رزق دینے والا ہے اسی لئے اس نے ایسا قانون نہیں بنایا کہ جو اس کو مانے ، اس پر ایمان لائے ، اس کے احکام کو مانے اور ان کے مطابق زندگی گزارے اس کو تو وہ رزق دے اور جو اس کے حکموں کی نافرمانی کرے اور ان کے مطابق زندگی نہ گزارے ان کی روزی تنگ کردے۔ وہ ایسا نہیں کرتا اور ایسا نہ کرنا ہی اس کی مشیت کا فیصلہ ہے اور وہ کبھی اپنے فیصلے کے خلاف نہیں کرتا نہ ضد میں آکر اور نہ پیار اور محبت کی صورت میں۔ لیکن اپنی حالت پر غور کرکے لوگ اس بات کو کم ہی تسلیم کرتے ہیں بلکہ اکثر اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ جسے اللہ کشادہ رزق دے رہا ہے وہ اس کا محبوب ہے اور جسے تنگی کے ساتھ مل رہا ہے وہ اس کے غضب میں مبتلا ہے حالانکہ اگر ایسا کہنے والا شخص ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے صاف صاف نظر آجائے کہ اس کی یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ اگر دیکھے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ بعض اوقات بڑے بڑے ناپاک اور گھنائونے کردار کے لوگ نہایت خوشحال ہوتے ہیں اور بہت سے نیک اور شریف انسان حتیٰ کہ اللہ کے بہت ہی نیک بندے جن کے کردار کی خوبی کا ہر شخص معترف ہوتا ہے تنگ دستی میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ اب آخر کون صاحب عقل آدمی ان کو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو یہ پاکیزہ اخلاق کے لوگ ناپسند ہیں اور وہ شریر وخبیث لوگ ہی اسے بھلے لگتے ہیں۔ لیکن ایک شریف انسان نہایت محنت شاقہ سے سارا دن بلکہ رات کا بھی کثیر حصہ محنت ومشقت میں گزار کر بمشکل اپنے بچوں کے لئے روزی حاصل کرتا ہے اور وہ بھی اس لئے اتنی محنت کرتا ہے کہ صحیح اور جائز محنت کرکے رزق حاصل کرنا ہی درست ہے اور اس کے مقابلہ میں رات ہی رات میں امیر وکبیر بن جانا اور حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ اگر اس کی حقیقت اس کو معلوم ہوجائے تو وہ موت تو قبول کرے لیکن حلال و حرام میں تمیز نہ کرنا اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ اگر اس کی حقیقت اس کو معلوم ہوجائے تو وہ موت تو قبول کرے لیکن حلال و حرام میں تمیز کرنا کبھی نہ چھوڑے۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” جو کچھ تم خرچ کر رہے ہو اس کی جگہ وہ تم کو اور دے دیتا ہے کہ وہ سب رزاقوں سے بہتر رزاق ہے۔ کیونکہ اس ذات الٰہ کے سوا باقی رازق نقلی ، وقتی اور برائے نام ہی کے رزاق ہیں اور ان کی صورت بھی عارضی ہے مستقل نہیں۔ بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کی تقسیم کرنا ایک ایسی صفت ہے جس کی انسان کی طرح نسبت کی جاسکتی ہے اگرچہ وہ ادنیٰ درجہ ہی کی ہو اور عارضی ہی ہو۔ نیز اس ہی میں یہ وضاحت بھی کردی کہ وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ مزید عطا فرماتا ہے اور یہ بھی اس کے وعدوں میں سے ایک وعدہ ہے اگرچہ انسان اس کی لم اور حقیقت کو نہ سمجھتا ہو اور یہی صفت اس کی صحیح معنوں میں رزاقی کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ سب سے بہتر اور اچھا رزق دینے والا ہے اور لاریب اکثر انسان اسی حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ ایسا کیوں ہے کہ جو اس کی راہ میں زیادہ خرچ کرتا ہے وہ اس کو زیادہ عطا فرماتا ہے تاہم انسان کی سمجھ میں یہ بات بہت آسانی سے آتی ہے کہ اگر بنک ڈیپازٹ زیادہ ہوگا تو نفع زیادہ ملے گا اگر وہ یہ سمجھ لے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اللہ میاں کے بنک میں ملا جمع کرانا ہے تو اللہ سے زیادہ نفع دینے والا آخر اور کون ہوسکتا ہے لیکن الٹی مت کے لوگ اس سے یہ سمجھیں گے کہ لو دیکھو اب عبدالکریم کو اللہ سود بھی دینے لگا ہے لیکن ایسی بات وہی عقل کے کو تہ اور بیوقوف لوگ کہہ سکتے ہیں جو نفع کو سود اور سود کو نفع قرار دیتے ہوں اللہ کے ہاں سود اور نفع میں اتنا بڑا فرق ہے کہ وہ فرق آسمان و زمین کے فرق سے بھی زیادہ واضح اور صاف ہے کیونکہ نفع بیع وشریٰ سے تعلق رکھتا ہے اور ظلم و زیادتی سے اور دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہی فرق ہے جو حلال و حرام میں ہے کہ نفع حلال وطیب ہے اور سود حرام وخبیث ہے۔ زیر نظر آیت کا پہلا حصہ آیت 36 میں بھی گزر چکا ہے اس کو بھی ذرا دیکھ لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
Ayah 34:40اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرکے فرشتوں سے پوچھے گا کہ بتائو یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے ؟
40 ۔ فرشتے کیا ہیں ؟ اس بات کی وضاحت پیچھے اتنی بار ہوچکی کہ اب قارئین عروہ کو اس میں یقینا کوئی ابہام نہیں ہوگا بلکہ سب کو معلوم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں اور قوتیں ہیں جن میں شرموجود نہیں اور ان کا جب بھی اور جہاں بھی اور جیسا بھی جسم ووجود قائم ہوتا ہے وہ خیالی ہوتا ہے اور حکم الٰہی سے وہ سرتابی نہیں کرسکتیں بس ہر دور میں ان کے اس خیالی جسم کو لوگوں نے اپنے ہی خیال سے کوئی شکل دی ہے اور پھر کسی نے ان کو اللہ کی بیٹیاں ، کسی نے اللہ کے دوست اور کسی نے چھوٹے چھوٹے قد کے خوبصورت بچے تشکیل دے لیے اور بعض نے ان خیالی اجسام کے خیالی بت بھی سراش لئے پھر ان کی سارے گروہوں نے پرسش و پوجا بھی کی بعض نے ان کو انسان کے اندر حلول کرجانے سے تعبیر کیا اور ان کے کئی نام رکھے اور جس کے اندر وہ حلول کرتے ہیں اس کے مختلف نام بھی رکھے گئے پھر لوگ ان کو تسخیر کرکے قبضے میں لانے والے تسلیم کیے گئے اور بعض اوقات پیروں اور صوفیوں نے ان کا نام ” موکل “ بھی رکھا اور ان سے طرح طرح کے کام لینے کا دعویٰ بھی کیا۔ گویا ہر دور کے مشرکین نے فرشتوں کو دیوی ، دیوتا ، دیومالا ، دیوپری ، باہر والے اور سائے وغیرہ کے ناموں سے تعبیر کیا پھر انہوں نے ان کی پرستش شروع کردی اور بعض نے ان کو حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا۔ زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ہم قیامت کے روز ان فرشتوں کو اور ان کی عبادت کرنے والوں دونوں کو حاضر کرلیں گے اور پھر ان فرشتوں سے پوچھیں گے کہ کیا تم ان گروہوں کے معبود بنے ہوئے تھے ؟ دراصل مفہوم اس کا یہ ہے کہ کیا تم ان کی عبادت پر راضی تھے ؟ کیا تم نے کہا تھا کہ لوگو ! ہم تمہارے معبود ہیں ؟ تم نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ تم لوگ ہماری پرستش کیا کرو یا یہ کہ تم کو معلوم تھا کہ یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے ہیں ؟ اس جگہ تو صرف ان فرشتوں کو مخاطب کرکے پوچھنے کا ذکر ہے لیکن قرآن کریم کے بعض مقامات پر سارے انسانوں کو پوجنے کا ذکر بھی ہے کہ جس جس کی وہ پرستش کرتے تھے سب سے یہ دریافت کرلیا جائے گا جیسا کہ عروۃ الوثقی ، کی جلد ششم میں سورة الفرقان کی آیت 17 میں ہم وضاحت کر آئے ہیں بلکہ انبیاء کرام میں سے سب سے زیادہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پرستش کی گئی ہے اور ان کو الہٰ ، الٰہ کا تیسرا حصہ اور اللہ کا بیٹا وغیرہ قرار دیا گیا تو ان کا خصوصاً نام لے کر استفسار کرنے کا ذکر بھی عروۃ الوثقی ، جلد 3 سورة المائدہ کی آیت 146 , 145 میں وضاحت گزر چکی ہے تاہم زیر نظر آیت میں صرف فرشتوں سے یہ سوال کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 34:41فرشتوں کی طرف سے جواب دیا جائے گا کہ ہمارے رب ! وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے
41 ۔ فرمایا فرشتوں کی طرف سے اس سوال کا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ وہ کہیں گے اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے اور تو علام الغیوب ہے ہمارا تو تو ہی کار ساز تھا اور ہمارا تعلق تو تیری ہی ذات سے تھا۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ہم تو ان کے افعال سے بالکل بری الذمہ ہیں اس لئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ جنوں (شیطانوں) کی پرستش کرتے تھے اس لئے کہ زیادہ تر ان کا ایمان انہی لوگوں کے متعلق تھا اور جن بھی چونکہ ایک طاقت وقوت ہی کا نام ہے ، فرشتہ کی طرح اس کا جسم بھی خیالی ہے فرق ہے تو یہ کہ فرشتہ کو مجسمہ بھلائی اور جن کو مجسمہ برائی تصور کیا جاتا تھا اس لئے وہ عرض کریں گے کہ ان انسانوں کا تعلق دراصل انہیں جنوں سے تھا کیونکہ ان کی اکثریت انہی جنوں کے ساتھ عقیدت رکھتی تھی اور یہ جواب فرشتوں کی طرف سے دیا جائے گا ، معلوم ہوتا ہے کہ سو فی صد صحیح اور درست ہوگا کیونکہ اس وقت بھی ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ انسانوں کی اکثریت جنوں کی اس عقیدت کی قائل اور ان کے ساتھ اسی طرح تعلق رکھتی ہے اور ان کو تسخیر کرنے اور ان سے کام لینے کی داستانوں پر انسانوں کے سارے طبقات حتیٰ کہ بہت سے پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ جو بڑی بڑی ڈگریاں رکھتے ہیں اور مذہبی پیشوا ، سیاسی لیڈر سب کی اکثریت یہی سمجھتی ہے اور بیان کرتی ہے۔
بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور سمجھدار لوگ جان بوجھ کر دھوکہ دینے اور فریب کرنے سے باز نہیں آتے۔ زیر نظر آیت کے حاشیہ میں ہمارے سید مودودی (رح) بعض لوگوں پر ہٹ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ” یہ آیت صریح طور پر ان لوگوں کے خیال کی غلطی واضح کردیتی ہے جو ” جن “ کو پہاڑی علاقے کے باشندوں یا دہقانوں اور صحرائوں کے معنوں میں لیتے ہیں کیا کوئی صاحب عقل آدمی اس آیت کو پڑھ کر یہ تصور کرسکتا ہے کہ لوگ کو ہستانی اور صحرائی اور دیہاتی کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی پر ایمان لاتے تھے “۔ اس میں دھوکے اور فریب کی بات کیا ہے ؟ یہ کہ جن لوگوں نے کسی جگہ لفظ ” جن “ سے ایسی مراد لی ہے ان کے متعلق سید صاحب (رح) کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ صرف انہی لوگوں کو جن نہیں کہتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سینکڑوں چیزیں ایسی ہیں جن پر لفظ ” جن “ کا اطلاق ہوتا ہے ان میں ایسے ایسے لوگ بھی شامل ہیں اگر سید صاحب نے ان لوگوں کے نظریہ کا ذکر ضرور کرنا تھا تو دیانتداری سے کرنا چاہیے تھا ویسے سید صاحب (رح) کو یاد نہ رہا تو دوسری بات ہے لفظ ” جن “ کا اطلاق آپ نے بھی ” شیطان “ ” کیڑے مکوڑوں “ اور بعض ” موذی جانوروں “ پر کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ سید صاحب (رح) موجود نہیں ان کے حواریوں ، مریدوں ، اراکین و متفقین کو بھی یقینا علم ہوگا اگر نہیں تھا تو وہ ہم سے پوچھ لیں انشاء اللہ ہم بتادیں گے ویسے ہم نے عروۃ الوثقی ، میں کہیں اس کی وضاحت بھی کردی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اپناذاتی موقف کوئی آدمی بیان کرنا چاہے تو اس کو لاریب اجازت ہے اور کسی دوسرے کا موقف پیش کرنا چاہے تو بھی کرسکتا ہے لیکن دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ اور خصوصاً جو چور اپنے دل میں بھی موجود ہے کسی دوسرے کے دل میں بھی ہو تو اس کا اظہار برابر پر کرنا ہی دیانت ہے تاکہ کسی کو دھوکہ نہ لگے۔ میری بھی سید صاحب (رح) سے عقیدت ہے لیکن اندھی نہیں اور میں اندھی عقیدت کو ظلم سمجھتا ہوں۔
Ayah 34:42آج کوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا ، ظالموں کو عذاب جہنم چکھنا ہوگا
42 ۔ ” پس آج تم میں سے کوئی بھی کسی کو نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا “۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اور یہ بات قیامت کے روز ہوگی لیکن اس کی اطلاع بطور پیش گوئی پہلے ہی بیان کردی کہ تم جن جن لوگوں کو بھی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو ان کو الٰہ اور معبود قرار دیتے ہو خواہ وہ جن ہوں یا فرشتے ، خواہ وہ انسان ہیں یا اجرام سماوی ، خواہ وہ ولی ، پیروبزرگ ہیں یا انبیاء ورسل اس معاملہ میں سب کی حالت یکساں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ مقابلہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کیا جارہا ہے اور اللہ کے سامنے تو ہرچیز اس کی مخلوق ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو ؟ اور کسی بھی مخلوق کی خالق کا شریک قرار دینا ایک ہی جسا جرم اور ایک ہی جیسا شرک ہے فرمایا جارہا ہے کہ ان ظالموں کو ہم کہیں گے کہ جہنم میں داخل ہوجائو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا اور تم سب کی سزا دوزخ ہی ہے اندریں وجہ کہ تم سب کے سب جھوٹے ہو اور ہمارے ہاں ایسے کرتوتوں کی یہی سزا ہے اور جہالت کا نام کبھی علم نہیں ہوسکتا۔
Ayah 34:43نبی اعظم وآخر ﷺ پر الزام اور اس کا وضاحت سے جواب
43 ۔ ” اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ جن کی تمہارے باپ دادا پرستش کرتے تھے ان سے تم کو روک دے “۔ غور کرو کہ بات کہنے والے کون لوگ ہیں جو اس وقت مترفین ، سردار ، صاحب دولت و ثروت لوگ تھے اور ان کے سیاسی اور مذہبی پیشوا اور اسلام کی زبان میں ظالم اور مشرک لیکن انہوں نے بات کتنی سچی کہہ دی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان کتنا ہی برا ، ظالم اور مشرک کیوں نہ ہو لیکن وہ سچی بات بھی کہہ دیتا ہے اور جو بات کسی نے سچی کہی ہو اس کو ہر حال میں سچ ہی کہنا چاہیے اگرچہ وہ سچ بولنے والا وقت کا شیطان ہی کیوں نہ ہو یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ انہوں نے کوئی سا سچ بولا ہے جس کی یہ تعریف کی جارہی ہے ؟ سچ ان کا یہی ہے کہ ” جن کی تمہارے باپ دادا پرستش کرتے تھے ان سے تم کو یہ شخص روکتا ہے “۔ معلوم ہوا کہ ان کے باپ دادا جن کی پرستش کرتے تھے اسے نبی ﷺ نے روکا اور انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا اور بلا شبہ نبی ورسول کے آنے کا منشا ہی یہ ہے کہ ان کو غیر اللہ کی پرستش سے روکے لہٰذا یہ بات انہوں نے صاف صاف تسلیم کرلی اور سچی بات کوئی سچی ہی تسلیم کرے تو بلا شبہ یہ اس کی تعریف ہے اور اس کا ہم کو بھی اعتراف کرنا چاہیے اگر کوئی شخص سو جھوٹ کے ساتھ ایک سچ بول دے تو جس طرح اس کے سو جھوٹ کو ہم جھوٹ کہیں گے ایک سچ کو بھی سچ کہنا ہوگا اور اسی طرح اگر کو ئش شخص ہزار سچ بولے اور ایک جھوٹ تو جہاں اس کا ہزار سچ تسلیم کریں گے وہاں ایک جھوٹ کو بھی جھوٹ ہی کہیں گے۔ غور کرو کہ ایک طرف تو وہ ایک سچی بات کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ساتھ سو جھوٹ کا ایک جھوٹ بھی بول رہے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ { ماھذا الا افک مفتری } ” یہ قرآن کریم تو ایک گھڑا ہوا جھوٹ ہے “ اور پھر جب اس جھوٹ کا ان کو جواب دیا گیا جیسا کہ قرآن کریم نے ان سے بار بار مطالبہ کیا کہ تم بھی اس جیسا ایک قرآن گھڑ کرلے آئو چلو صرف دس سورتیں ہی لے آئو اچھا نہیں تو ایک سورت ہی چھوٹ سی گھڑ کرلے آئو اور پھر وہ دم بخود ہو کر رہ گئے اور کسی نے یہ ہمت نہ کی ، نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی اجتماعی طور پر بلکہ اس بات ہی کی طرف سے چشم پوشی کرلی اور ایک دوسرا الزام گھڑ لیا اور جب حق ان کافروں کے پاس آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ شاید انہوں نے اوپر سچ بولا تھا وہ بھی انہوں نے سچ سمجھ کر نہیں بولا بلکہ انہوں نے وہ جملہ بھی بطور الزام ہی بولا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ جو انہوں نے الزام لایا وہ تو فی نفسہٖ ایک سچی بات تھی جیسے آج کل ایک گروہ دوسرے کو مشرک اور بدعتی کہتا ہے تو وہ الزاماً ان کو ” وہابی “ کہتے ہیں اور اس طرح وہ ایک ایسی گالی نکالتے ہیں یا الزام لگاتے ہیں جو فی نفسہ سچ ہے کہ اللہ کرے کوئی اللہ والا ہوجائے تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے کیونکہ ” وہابی “ کے معنی ہیں ” وہاب “ والا اور وہاب اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے ناموں میں سے ایک نام ہے لیکن ایک بار انہوں نے بطور گالی ” وہابی “ کہہ دیا تو اب وہ کہتے ہی چلے جا رہے ہیں پھر جب انہوں نے معنی پر غور کیا تو وہ ایسے کہے ہوئے لفظ ” وہابی “ کو تو واپس نہ لے سکے لیکن انہوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ ” یہ لوگ عبدالوہاب نجدی کی روحانی اولاد ہیں اس لئے ہم ان کو وہابی کہتے ہیں “ اور اتفاق سے وہ بھی اللہ کا بندہ ایک پکا موحد تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق عرب میں ایک چو ردرروازے سے شرک داخل ہورہا تھا اور نہ صرف اس دروازے کو عارضی طور پر بند کردیا بلکہ اس پوری کی پوری چوکھٹ ہی کو اکھاڑ کر پھینک دیا اس لحاظ سے بھی ان کی یہ گالی اور الزام اپنے طور پر سچ ہی ثابت ہوا جس سے وہابیوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا صرف ان لوگوں نے سیدھی طرح ناک پکڑنے کی بجائے الٹی طرح ناک پکڑنے کی کوشش کی جس سے وہ خود ہی مشکل میں پڑے اور انہی کو تکلیف اٹھانا پڑی بہرحال ناک ان کی اپنی تھی چاہے وہ سیدھی طرح سے پکڑیں یا الٹی طرح سے ان کو کون کچھ کہہ سکتا ہے اس لئے وہ چاہیں جس طرح بھی کہتے رہیں ان کو ایسا کہنا مبارک ہو۔
Ayah 34:44ان کے پاس ہماری طرف سے نہ کتابیں آئی ہیں کہ ان کو پڑھتے اور نہ یہی کوئی ڈرانے والا
44 ۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کے پاس نہ تو ہم نے اس طرح کی کتابیں نازل کی ہیں کہ ان کو پڑھ کر اس طرح کی یہ باتیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے ان کے پاس کوئی ایسا ڈرانے والا بھیجا ہے کہ اس نے ان سے کوئی اس طرح بات کی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ان کے منہ میں آتا ہے یہ لوگ کہہ دیتے ہیں اور جہالت کی یہ نشانی ہے کہ اس نے کبھی سوچ سمجھ کر کچھ نہیں کہا اور نہ ہی کبھی سوچ سمجھ کر کچھ کیا ہے حالانکہ یہ ہدایت عام ہے کہ پہلے تولو پھر بولو اس طرح پہلے سوچو اور سمجھو پھر کرو لیکن جہالت چیز ہی ایسی ہے کہ اس کے ہر وقت بارہ ہی بجے رہتے ہیں۔
Ayah 34:45ہاں ! جھٹلانے والے ان سے پہلے بھی تھے اور یہ تو ابھی ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے
45 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ معبوث ہوئے تو آپ ﷺ کے پہلے مخاطبین بلا شبہ مکہ والے ہی تھے جو بعثت سے پہلے آپ ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے ناموں سے یاد کرتے تھے لیکن جب آپ ﷺ نے ان کو توحید الٰہی کا درس دینا شروع کیا تو وہ اس کو ایک دن بھی برداشت نہ کرسکے ، انہوں نے آپ ﷺ کی امانت ودیانت اور صدق وصفائی کا تو انکار نہ کیا اور نہ ہی کرسکتے تھے البتہ آپ ﷺ کی تعلیم کا کھلا انکار کردیا اس لئے ان کی تفہیم کے لئے بیان کیا جارہا ہے کہ تمہاری طرف تو میرا رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو خاتم المرسلین بھی ہے ایک بہت بڑی مدت کے بعد آیا ہے۔ کیونکہ میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اس جگہ کوئی نبی ورسول بھیجا ہی ہیں لیکن انبیائے کرام اور رسل عظام دوسری قوموں کی طرف آئے اور ان کی قوموں نے بھی ان کی دل کھول کر مخالفت کی اور انہیں واضح طور پر جھٹلایا اور ان کو ایک طرح سے نہیں بلکہ کئی ایک طرح سے جھٹلایا اور ان کو ستانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی اور انجام کار ہم نے ان جھٹلانے والوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ اے قریش مکہ ! تم یہ آج اکڑاکڑ کر اور اترا اترا کر میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرتے ہو تو آخر تمہاری حقیقت کیا ہے تم ابھی ان قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا تھا اس دنیا سے ان لوگوں کو اتنا وافر حصہ دیا گیا تھا اور ان کے ہاں کسی چیز کی کوئی کمی بھی موجود نہیں تھی لیکن ہمارے نبیوں اور رسولوں نے جب ان کو ہماری توحید کا سبق دیا تو وہ ان کے گلے میں پھنس گیا اور انہوں نے ایک مدت تک مخالفت کی اور مخالفت میں ایسے ڈٹے کہ مسلسل ڈٹے ہی رہے اس لئے کہ ان کے ملک بھی زیادہ وسیع تھے ، ان کی زمینیں بھی بڑی ہی زرخیز تھیں اور ان کی حکومتیں بھی اپنے ادوار میں بڑی ہی سخت تھیں لیکن جب انہوں نے مخالفت کی روش اختیار کی تو ہم نے انجام کار اپنا عذاب باری باری ان پر نازل کیا اور ان کے جھٹلانے کی داستانیں جس طرح آج تک زبان زد خاص وعام ہیں اسی طرح ان کی ہلاکت کی داستانیں بھی ہر جگہ پڑھی اور سنی جاتی ہیں ، کسی قوم کو اگر چورا چورا کیا تو کسی کو زمین نگل گئی ، کسی قوم پر ایسے پتھر برسائے کہ ان کی عمارتیں نظر آئیں اور نہ ہی ان کا کوئی نام ونشان باقی رہا۔ کسی کو پانی میں جو غرق کیا تو کسی قوم کی نعشیں اس طرح زمین پر پھیلا دیں کہ گویا کھجوروں کے تنے کاٹ کاٹ کر رکھے گئے ہیں۔ اس لئے تم بھی اچھی طرح سوچ لو کہ تم کس ورطے پر ہمارے رسول محمد الرسول خاتم النبیین کی مخالفت کر رہے ہو ۔ ہم تم کو ورارننگ دے رہے کہ سوچ لو کہ تم کس باغ کی مولی ہو اور تمہاری ان قوموں کے مقابلہ میں کیا حقیقت ہے ۔ لفظ { معشار } میں مفسرین نے مختلف معنی کرتے ہوئے دسویں حصہ سے لے کر ہزارویں حصہ تک بیان کیا ہے اور بعض لوگوں نے اس پر ہزارویں حصہ کو زیادہ موزوں سمجھا ہے لیکن یہ بحث لاحاصل ہے۔
Ayah 34:46اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کو دعوت دیں کہ دو دو اور ایک ایک ہوکرغور وفکر کرو
46 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر مکہ والوں نے مختلف طرح کے الزام لگائے مثلاً کہ قرآن کریم اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوتا بلکہ یہ خود اس کو گھڑ لیتا ہے۔ کچھ لوگ اس کے پاس آتے ہیں اور وہ اس طرح کی باتیں اس کو سکھاتے ہیں۔ اس کو معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے کیونکہ اس نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا ہے کہ کسی ایک کو بھی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھتا۔ اس کے ذہن میں کوئی فتور آگیا ہے اور اس کا جنوں کا سایہ ہوچکا ہے۔ دراصل یہ سحر زدہ ہے۔ نہیں ! یہ تو خود جادوگر ہے اور اس جادو ہی کے ذریعہ سے اس کا سارا معاملہ چل رہا ہے۔ یہ اور اسی طرح کے اور بہت سے الزامات انہوں نے لگائے حالانکہ یہ الزامات بھی آپس میں مختلف قسم کے س تھے جو ایک دوسرے کے متضاد تھے۔ غور کرو کہ کبھی ساحر اور سحر زدہ بھی دونوں ایک ہی جیسے ہوسکتے ہیں بہرحال ان سب لوگوں کو صرف اور صرف ایک ہی نصیحت کی جارہی ہے اور وہ نصیحت یہ ہے کہ تم سب ایک ایک یا زیادہ سے زیادہ دو دو ہو کر فقط اس ایک نقطہ پر غور کرو کہ کیا ایک مجنوں اور پاگل آدمی یا جو جو الزامات لگاتے ہو ان الزامات کا حامل انسان ایسا ہو سکتا ہے جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ کیا ایسا کہنے کی تمہارے پاس کوئی معقول وجہ ہے ؟ کیا تم نے ان کو مجنون کی طرح بےسروپاباتیں کرتے کبھی سنا ہے ؟ کیا دیوانوں کی طرح شور مچاتے ہنگامہ آرائی کرتے کبھی دیکھا ہے ؟ غور کرور کہ تم لوگوں نے ان کو کتنا تنگ کرنے کی کوشش کی ہاں ، ہاں ! غور کرلو کہ تم نے کتنی اذیتیں پہنچائیں لیکن اس کے باوجود کبھی وہ آپے سے باہر ہوئے ، بدزبانی کی ، کسی پر اینٹ روڑا پھینکا ؟ کیا انہوں نے آپ لوگوں سے کوئی ناشائستہ بات تک بھی کی ؟ کیا ان کا ہر کام کسی خاص معنی اور مفہوم سے تعلق نہیں رکھتا ؟ کیا تم بعثت سے پہلے آپ ہی کو امین اور صادق کہہ کر نہیں بلایا کرتے تھے ؟ آخر اب کوئی بات آپ ﷺ کی امانت ودیانت اور سچائی کے خلاف بھی دیکھی ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو آخر وہ کونسی تبدیلی آپ ﷺ میں آگئی کہ تم آپ ﷺ کے بارے میں اتنے اتنے الزامات لگا رہے ہو۔ ان سارے سوالوں پر تم اکیلے اکیلے غور کرو آپس میں یاروں ، دوستوں اور عزیزوں سے جو سمجھدار اور زیرک لوگ ہیں ان سے یہ تبادلہ فکر کرو لیکن جھگڑے کے لئے نہیں بلکہ غوروفکر کے لئے لیکن اللہ کے لئے تعصب ، ضد اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر محض حق وناحق سمجھنے کے لئے اگر تم ایمان ویقین کے ساتھ اس پر غور کرو گے تو یقینا تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ اس نبی ورسول میں ایک بھی بات ایسی نہیں پائی جاتی نہ اس کے پاس کوئی سیاسی نظریہ ہے اور نہ ہی کسی طرح کا وہ تم لوگوں سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور نہ ہی جو پیغام وہ سنا رہا ہے اس کا اپنا پیغام ، اپنی خواہش کی بات ہے بلکہ وہ تو تمہیں اللہ کے حکم کے ساتھ عذاب الٰہی سے بچانا چاہتا ہے اور اس کو ہر وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ کہیں تمہاری آخرت برباد نہ ہوجائے جس طرح تم اس دنیوی زندگی میں خوش وخرم ہو اسی طرح تمہاری آخرت بھی خوش وخرم گزرے اور تم لوگوں پر اللہ کے عذاب کی ایک چھینٹ بھی نہ گرے پھر سوچو تو سہی کہ جو شخص قوم کا بہی خواہ ہو اس کے متعلق اس طرح کا گمان ہے کیا درست ہے۔
Ayah 34:47آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں جو کچھ مزدوری تم سے طلب کررہا ہوں وہ تم ہی کو مبارک ہو
47 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے یہ جو اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچایا ہے تو کیا میں نے کوئی مزدوری تم سے طلب کی ہے ؟ اور اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے ان سے کہئے جو میں نے تم سے طلب کیا ہے وہ تم ہی کو مبارک ہو پھر اگر میں نے تم سے اس کا معاوضہ طلب نہیں کیا اور مجھے تمہارے معاوضہ کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ میرا اجر تو رب ذوالجلال والاکرام ہی کے ذمہ ہے میں تم سے آخر اس کا اجر کیوں مانگوں گا جب کہ میرا بھی رزق دینے والا وہی ہے جو تم کو رزق دینے والا ہے اور اس کا یہ پیغام میں تم کو پہنچا رہا ہوں اور میری روزی اسی کے ذمہ ہے اور بلا شبہ وہ مجھے عطا بھی کررہا ہے اور میں اس کی عطا پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتا ہوں اور وہ اس دنیا میں تم جیسی بےاندازہ مخلوق کو رزاق پہنچارہا ہے لیکن تعجب یہ ہے کہ ایک انسان کے سوا باقی ساری مخلوق اسی رازق پر قانع ہے اور وہ ہر ایک کو روزی بہم پہنچارہا ہے تو پھر مجھے آخر کیوں نہیں پہنچائے گا جو میں تم سے طلب کروں وہ بلا شبہ ہر ایک انسان کے ظاہر و باطن سے مکمل طور پر واقف ہے پھر اس ذات پر ایمان رکھتے ہوئے تم سے آخر طلب کروں گا تو کیوں ؟ جبکہ ایسی ناشائستہ بات مجھے ہرگز ہرگز پسند بھی نہیں ہے۔ یہ آیت پیچھے سورة الفرقان میں گزر چکی ہے جو عروۃ الوثقی ، جلد ششم میں ہے اور اس سورة کی آیت 57 میں اس کی وضاحت کی جاچکی ہے وہاں ہی سے ملاحظہ فرمالیں۔ ہاں ! اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” لوگو ! میرا اجر یہی ہے کہ تم درست ہوجائو اور اپنی اصلاح کرلو “۔
Ayah 34:48آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میرا رب مجھ پر حق القا کرتا ہے اور ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے
48 ۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر حق اتارا جارہا ہے اس لئے جو کچھ میں تم کو کہہ اور بتارہا ہوں وہ چونکہ وہی کچھ ہے جو مجھ پر اترا ہے پھر آخر وہ حق کیوں نہیں ہوگا ؟ رہے نہ ماننے والے اور مجھ پر طرح طرح کے الزام لگانے والے تو وہ نہ ماننا چاہیں تو بالکل نہ مانیں اور جو الزام لگاتے ہیں وہ لگاتے رہیں میں اس معاملہ میں ان کی مزاحمت آخر کیوں کروں گا جب کہ میں جانتا ہوں کہ وہ علام الغیوب ہے ، وہ میرے حق پہنچانے کو بھی جانتا ہے اور ان جھٹلانے والوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور جان رہا ہے لہٰذا وہ جو چاہے میں تو اس کی رضا پر ہر لحاظ سے راضی ہوں اور جو کچھ تم کو پہنچارہا ہوں وہ اس کے حکم سے پہنچا رہا ہوں ، میری ذاتی کوئی غرض نہیں اور نہ ہی کسی ذاتی غرض کے لئے میں اس کو پہنچا رہا ہوں۔