Ayah 34:49بلا شبہ حق آگیا اور باطل حق کا کبھی مقابلہ نہیں کرسکتا
49 ۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار دہرائی جاچکی ہے کہ حق اور باطل نہ تو آپس میں مل سکتے ہیں اور نہ باطل حق کو معدوم کرسکتا ہے ہاں ! حق کو چھپایا جاسکتا ہے کہ باطل اس طرح پھیل جائے کہ حق نظر ہی نہ آئے ۔ پھر جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ذمہ فرض ہی یہ ہے کہ وہ حق کو ظاہر کریں اور بلاشبہ وہ حق کو ظاہر کر بھی رہے ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آخر انجام کار باطل مٹ نہ جائے حالانکہ حق کے مقابلہ میں باطل نہیں ٹھہرسکتا لہٰذا جب بھی حق اور باطل کی ٹکر ہوگی تو حق چھائے گا اور باطل مٹ جائے گا۔ سورک کی عدم موجودگی کا اندھیرا ہے ، سورج بھی طلوع رہے اور اندھیرا بھی چھایا رہے یہ بات تو کسی حال میں بھی ممکن نہیں اور نہ ہی ہوسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ باطل مٹے گا تو کیسے اور حق پھیلے گا تو کیونکر ؟ تو اس کے لئے سنت اللہ یہی ہے کہ اہل باطل کے مٹنے سے باطل مٹے گا اور اہل حق کے کامیاب ہونے سے حق پھیلے گا اور ظاہر ہے کہ اہل باطل مٹیں گے تو اہل حق ہی پڑھیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ تعداد کے لحاظ سے جو اہل اسلام ہم کو بطور نام دکھائی دے رہے ہیں اگر یہ سب کے سب صحیح معنوں میں اہل اسلام ہوں تو گمراہی اور باطل مٹتا نظر آئے جب گمراہی اور باطل روز بروز بڑھ رہا ہو تو ہم کیسے مان لیں کہ اس وقت اہل اسلام صحیح معنوں میں اہل اسلام ہیں بلکہ یقین سے یہ کہنا پڑے گا کہ ہماری اکثریت صحیح معنوں میں اہل اسلام نہیں جن کو اہل اسلام کہا جاسکتا ہے اور بلا شبہ اس وقت کاغذی گھوڑوں کی بہتات ہے اور وہ اگر پر دار بھی ہوں تو آخر ان کے ہونے کا فائدہ ؟ اور ہماری اکثریت آج انہیں کاغذی گھوڑوں کی ہے۔ اس کی مزید وضاحت دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی ، جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 81 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 34:50معاندین سے کہہ دو کہ اچھا اگر میں گمراہ ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا ؟
50 ۔ مخالفین ومعاندین جب حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوں ان کو دلائل دے کر سمجھایا جائے تو ان دلائل کو وہ ٹھکرادیں اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہ ہوں اور کسی دلیل کو وہ دلیل نہ سمجھیں بلکہ اپنی دولت اور اولاد کے نشہ میں اس قدر چور ہوں کہ حقیقت کو وہ چاہیں جھٹلائیں اور چاہیں تو اس کا مذاق اڑائیں اور پھر صرف اس کا نہیں بلکہ اس کا بھی جو اس حقیقت کو تسلیم کرے تو ایسے پڑھے لکھے اور صاحب دولت وجاہ بیوقوفوں کو کیا کہا جاسکتا ہے ؟ یہی کہ بھائیو ! تم مجھے گمراہ اور ضال کہتے ہو ، ناقدر اور ناشناس سمجھتے ہو تو میں تم کو بہرحال علاوہ ازیں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ پھر میری گمراہی کا وبال بھی تو آخر مجھی پر ہوگا تمہارا تو کچھ نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی میں تم لوگوں کے نقصان میں راضی ہوں تم مجھے گمراہ سمجھتے ہو تو سمجھتے رہو لیکن میرے ساتھ الجھنے کی ضرورت نہیں میرے کاموں کا وبال بھی تو آخر مجھی پر پڑے گا۔ ہاں ! اگر میں ہدایت پر ہوں جیسا کہ میرا دعویٰ ہے اور بلاشبہ میں حق پر ہوں اور اس وحی الٰہی کی وجہ سے حق پر ہوں جو رب ذوالجلال والاکرام نے میری طرف کی ہے یعنی جو قرآن کریم مجھ پر نازل کیا جارہا ہے بلا شبہ وہ میری سعی و کوشش کو دیکھ رہا ہے اور تم لوگوں کی حالت پر بھی اس کی نگاہ ہے اور بلاشبہ وہ سب وہ سب کچھ سنتا ہے ، دیکھتا ہے اور کوئی چیز اس کی نگاہ سے غائی نہیں ہے اور ہر انسان کے لئے وہ اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں جابجا ملتی ہے بلکہ اس سورت کی آیت 35 , 34 میں یہ مضمون گزر چکا ہے اور ہم عروۃ الوثقی ، کی جلدچہارم سورة یونس کی آیت 106 میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں نے اس آیت سے اور اس جیسی دوسری آیات کریمات سے نبی اعظم وآخر ﷺ کے گمراہ ہونے کا امکان پیدا کرنے کی کوشش کی ہے قوم نے ان کو مفسر قرآن کیسے تسلیم کرلیا ہے اور ان کے اسلام پر وہ کیوں اور کیسے نازاں ہیں ؟ حالانکہ آدم سے لے کر محمدرسول اللہ ﷺ تک سارے نبی ورسول معصوم عن الخطا تھے کسی ایک کے لئے بھی یہ عقیدہ رکھنا سراسر بدعت اور گمراہی ہے اور ہر بدعت وگمراہی دوزخ تک پہنچا دینے والی ہے لہٰذا جن لوگوں نے زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات قرآنی سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے وہ کسی حال میں بھی جائز اور درست نہیں اور نہ ہی ایسی بات کا تصور کیا جاسکتا ہے اور بلا شبہ ایسی بات کہنے والا ، لکھنے والا بغیر کسی شک وشبہ کے خود ضال و گمراہ ہے خواہ وہ کیسا ہے اور خواہ وہ کون ہے ؟ خاکم بدہن اگر ہمارے ذہن وفکر میں بھی رسول اللہ ﷺ کے متعلق ایسی بات پیدا ہو۔ واللہ المستعان علی ما تصفون۔
Ayah 34:51کاش کہ تم دیکھو جب یہ گھبرائے ہوئے ہوں گے اور بچ کر نہ جاسکیں گے
51 ۔ فطرت انسانی ہے کہ جب وہ گھبراجاتا ہے تو اس کا ذہنی توازن صحیح نہیں رہتا اور اکثر گھبراتا بھی اسی وقت ہے جب اس کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پکڑا گیا تو بس دھرلیا گیا۔ زیر نظر آیت میں جو حالت بیان کی گئی ہے یہ اس وقت کی ہے جب منکرین قیامت کو قیامت کے لئے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا اور یہ مرحلہ دیکھتے ہی وہ گھبرا جائیں گے اور ان کے سامنے دنیوی زندگی کا پورا نقشہ کھنچ جائے گا جس طرح ان کے پاس انبیاء کرام اور رسل عظام آئے اور ان کو ہدیات کی راہ بتائی اور وہ اکڑ کر اور اترا کر ان سے الگ ہوگئے اور ان سے طرح طرح کے مطالبات شروع کردیئے اس طرح جب سارا نقشہ ان کی آنکھوں ہی آنکھوں میں گھوم جائے گا تو وہ گھبراجائیں گے اور ان کے دل اترے ہوں گے اور ان کا جی چاہے گا کہ وہ بھاگ جائیں لیکن بھاگ کر جائیں گے کہاں اور بھاگیں گے کہاں تو کدھر کو ؟ اسی کشمکش میں ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور پھر وہی کچھ ہوگا جس کا وہم ان کے اندر پیدا ہوچکا ہوگا۔
Ayah 34:52اب وہ ایمان کا اقرار کریں گے لیکن اتنی دور سے اب ایمان ان کو کہاں میسر آئے گا ؟
52 ۔ جب وہ عذاب کو اور خصوصاً اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور بھاگنا چاہیں گے تو بھاگ بھی نہ سکیں گے اور فوراً ہی پکڑ لیے جائیں گے اور اب ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا تو وہ ایمان کا اقرار کرنا شروع کردیں گے کہ ہم تو قیامت کے منکر ہی نہیں تھے ، رسولوں کو بھی ہم مانتے تھے اور قیامت کے دن کے بھی ہم قائل تھے اور اس طرح وہ سمجھیں گے کہ شاید اس کا اقرار کرکے وہ بچ جائیں گے اور اس طرح اللہ کو ، اس کے رسول کو اور ان فرشتوں کو جو اعمال لکھتے رہے تھے سب کی آنکھوں میں مرچیں چھڑک جائیں گے اور ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ اس طرح جھوٹ بول کر ہم مزید قابو آجائیں گے ، ان کے متعلق کہا جارہا ہے کہ اتنی مدت کے بولے ہوئے جھوٹ سے تم بچ نہ سکو تو اب تم اس تازہ جھوٹ سے کیسے بچ جائو گے وہ ایمان جس کا اب تم اقرار کر رہے ہو اس سے تو تم بہت دور نکل گئے جب ایمان لانے کا وقت تھا اس وقت تمہارے پاس اللہ کے رسول چل کر آئے ، تم کو اللہ کے دین کی دعوت دی اور تم نے ان کی خوب ہنسی اڑائی اور ان کو پاگل ومجنون تک کہا اور اب تم چرب زبانی سے لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونا چاہتے ہو۔ یہ اللہ کا قانون تو نہ ہوا خالہ جی کا گھر ہوا کہ جو چاہا اور جیسے چاہا کرلیا سوئی تو کھوئی گئی گھر میں تم تلاش کر رہے ہو سڑک پر محض اس کے لئے گھر میں اندھیرا ہے اور سڑک کے کنارے روشنی تو کیا اس گم کردہ سوئی کو تم پالو گے کتنے پاگل ہو تم کو ایمان کھویا گیا دنیا میں اور اب تم اس کو آخرت میں تلاش کر رہے ہو تو آخرت میں تم کو کہاں ملے گا۔ اب تو وقت بیت گیا اور چڑیاں کھیت چگ گئیں اور تم نے جہاں ایمان کو خیر باد کہا تھا وہ جگہ اتنی دور چلی گئی کہ اس کے واپس آنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ اس وقت ہم تم کو قیامت کی خبر سناتے تھے لیکن تم نے کان نہ دھرا اور برملا پکار پکار کر کہا کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ہوگی یہ دور از عقل باتیں ہیں جو عقل والوں کی سمجھ میں نہیں آسکتیں اس طرح تم خود تو عقل والے بنے اور دوسروں کو بیوقوف بنایا اور اب دوبارہ تم وہی چال چلنا چاہتے ہو بہرحال اب تو وقت بہت دور نکل چکا اور تمہاری ان تترتیریوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہاں ! جو چلے گئے وہ تو چلے گئے لیکن جو موجود ہیں ان کے سنبھلنے کا وقت ابھی ہے اگر اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمادے اور وہ سیدھی راہ چل پڑیں۔
Ayah 34:53قبل ازیں وہ کفر پر ڈٹے رہے اور دور سے یا وہو گوئیوں میں مصروف رہے
53 ۔ دوبارہ گزشتہ بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اب ان کو ایمان لانا یاد آیا اور جب ایمان لانے کا و قت تھا اس وقت کفر پر ڈٹے رہے اور جب ایمان لانے کا وقت نکل گیا اب ان کو ایمان لانا یاد آیا جو اس وقت کیا وہ بھی بےسود اور جو اب کر رہے ہیں وہ بھی بےسود کیا۔ انہوں نے زیاں کاری کی قسم اٹھائی ہے اور اس طرح اندھیرے میں تیر پھینک رہے ہیں بلا شبہ نشانہ پر نشانہ پھینک کر گم شدہ تیر کی تلاش کی جاسکتی ہے لیکن اس جگہ جب اور جہاں پہلا تیر پھینکا گیا نہ جگہ وہ رہی اور نہ بات قریب کی رہی اتنی مدت کے بعد نشانہ پر نشانہ ان کو یاد آیا اس طرح جس طرح پہلا خطا گیا یہ بھی چلا جائے گا جس سے ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور نتیجہ وہی رہے گا جو غیب میں پتھر مارنے اور آسمان پر تھوکنے کا ہوتا ہے۔
Ayah 34:54اب ان کے اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی
54 ۔ اب اسی طرح کی تتر تیزیاں اور چلاکیاں جو یہ کر رہے ہیں ان کا اصل مقصد اور مدعا تو ہی ہوسکتا ہے کہ جس کھڑکی میں وہ آگئے ہیں کسی نہ کسی طرح اس سے ان کی گلو خلاصی ہوجائے اور جان چھوٹ جائے لیکن اب
ع این خیال است ومحال است وجنوں
ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی اور گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آسکتا۔ ان کے ساتھ اب وہی کچھ ہوگا جو ان سے پہلے گروہوں کے ساتھ ہوچکا۔ وہ بھی ان ہی کے ساتھی تھے اور انہی کے ہم مشرب تھے جو کچھ انہوں نے کہا ان لوگوں نے کہا اور جو کچھ انہوں نے کیا وہی کچھ ان لوگوں نے کیا نہ قول وفعل میں ذرا برابر فرق رہا اور نہ ہی نتیجہ میں کوئی فرق رہے گا۔ ان کی دنیوی زندگی گزری تو وہ بھی شک میں اور ان کی یہ زندگی شروع ہونے والی ہے تو ابھی تک ان کا شک اسی طرح بدستور قائم ہے گویا یہ لوگ دنیا میں آئے تو شک میں اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو شک ہی میں مبتلا تھے پھر آخرت کی زندگی کے لئے ان کو حاضر کرلیا گیا تو اب بھی وہی شک ان کو بدستور قائم ہے اور اب زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ان کا شک رفع ہوجائے گا۔
غور سے سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ انسانی زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک کیفیت بےیقینی کی ہے ایسی صورت میں انسان نہ کسی مفید بات پر اتنا یقین رکھتا ہے کہ اس پر عمل کرکے اس سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ ہی کسی نقصان دہ بات کے نقصان پر اتنا یقین رکھتا ہے کہ عملاً اس سے بچ کر اس کے نقصان سے بچ جائے لہٰذا وہ ہر وقت شک اور گومگو کی کیفیت میں رہتا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ یہ کیفیت بذاتہ عذاب الیم سے کچھ نہیں ہے اس لئے کسی نے کہا ہے کہ ؎
سن رہے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بتر ہے بےیقینی
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس بےیقینی کے عالم سے نکالے اور پورے ایمان ویقین کے ساتھ ایسے اعمال کی توفیق عطا فرمائے جو ہم کو اس دنیا میں بھی فائدہ دیں اور ہماری آخرت کو بھی سنوار دیں تاکہ اللہ کے خاص فضل و کرم کے سہارے ہم دنیوی اور آخروی زندگی کی کامیابی سے ہم کنار ہوں۔ اسی مضمون پر ہم سورة سبا کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔