33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم تفسیر : خالق اور مخلوق کا واضح فرق رسول بلا شبہ مخلوق ہی ہوتے تھے۔ 1) یہ سورة الاحزاب کی پہلی آیت ہے جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے۔ الفاظ بتا رہے ہیں کہ حالات کی سنگینی نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو کسی نہایت گہری سوچ میں مبتلا کردیا تھا اور وہ سوچ بلاشبہ کا دبائو ہی ہوسکتی تھی کیونکہ معاشرے کا دبائہ ایک ایسی وزنی چیز ہے جس کا بوجھ اٹھانا آسان کام نہیں بلکہ ایک نہایت ہی مشکل ترین کام ہے کیونکہ اس میں اپنے اور بیگانے سب برابر کے شریک ہوتے ہیں اور ایسے مواقع پر جاکر بات واضح ہوتی ہے کہ خالق بہرحال خالق ہے اور مخلوق بہرحال مخلوق ، خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو ؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے ذرا تفصیل کرنا ہوگی تب ہی بات سمجھ میں آسکے گی۔ جنگ احد میں جو تکلیف مسلمانوں کو پہنچی اور جس طرح فتح ہوچکنے کے بعد شکست میں تبدیل ہوئی اس کی وضاحت آپ پیچھے سورة آل عمران کی آیت 121 کے تحت پڑھ آئے ہیں۔ ان حالات میں واضح ہے کہ مشرکین عرب ، یہود اور منافقین کی ہمتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور انہیں امید بندھ گئی تھی کہ وہ اب اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہوسکتا ہے جو احد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے۔ جنگ احد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلہ بنی اسد نے مدینہ طیبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور آپ ﷺ کو ان کی روک تھام کے لئے سریہ ابو سلمہ بھیجنا پڑا پھر صفر 4 ھ میں قبائل عضل اور قارہ نے آپ ﷺ سے چند آدمی تبلیغ کے لئے طلب کیے اور ان کو لے کر قتل کردیا اور دو کو پکڑ کر مدینہ لے گئے انہی دو پکڑے جانے والوں میں خبیب بن عدی بھی تھے جن کو مکہ لے جاکر انہوں نے فروخت کیا اور بعد میں ان کو عبرت انگیز طریقے سے قتل کیا گیا اور اسی طرح کا ایک واقعہ چالیس حفاظ کے ساتھ بھی پیش آیا 4 ہجری میں مدینے کے ایک یہودی قبیلہ بنو نضیر نے بدعہدی کرتے ہوئے نبی اعظم وآخر ﷺ کو قتل کردینے کی سازش کی جس سے آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا پھر 4 ہجری ہی میں بنی غطفان کے دو قبیلوں بنو ثعلبہ اور بنومحارب نے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں اور ان کی روک تھام کے لئے رسول اللہ ﷺ کو خود غزوہ پر جانا پڑا۔ یہود کی سازشوں کا حال بھی آپ پیچھے پڑھ چکے انہیں انہی سازشوں کے کے باعث مدینہ اور مضافات مدینہ سے نکل جانا پڑا اور وہ مدینہ سے نکل کر خیبر پہنچے تو انہوں نے ایک نہایت عظیم الشان سازش شروع کی۔ ان کے رئوسا میں سے سلام بن ابی الحقیق ، حئی بن اخطب ، کنانہ بن الربیع وغیرہ مل کر مکہ گئے اور قریش کے سرداروں سے ملاقات کی اور ان کو کہا کہ اگر آپ ہمارا ساتھ دیں تو اسلام کا ستیصال کیا جاسکتا ہے۔ اندھے کو کیا چاہیے ؟ دو آنکھیں قریش مکہ تو ہمیشہ ہی اس سعادت اور کار خیر کے لئے تیار تھے اور ان کے نزدیک اس سے زیادہ اور بھلائی کیا ہوسکتی تھی لہٰذا وہ تو اس کے لئے پہلے ہی تیار تھے ان کو آمادہ کرنے کے بعد وہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے اور ان کو لالچ دیا کہ خیبر کا نصف محاصل ان کو ہمیشہ دیا کریں گے۔ بنو اسد غطفان کے حلیف تھے غطفان نے ان کو مکہ بھیجا کہ تم بھی فوجیں لے کر آئو۔ قبیلہ بنو سلیم سے قریش کی قرابت تھی اس تعلق سے انہوں نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ بنوسعد کا قبیلہ یہود کا حلیف تھا اسی بنا پر یہود نے ان کو بھی آمادہ کیا۔ مختصر یہ کہ تمام قبائل عرب نے مل کر ایک لشکر جرار تیار کیا اور مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوئے۔ فتح الباری میں تصریح ہے کہ ان کی تعداد دس ہزار تھی۔ (طبقات ابن سعد ج 2 قسم اول فتح الباری ج 7 ص 301) نبی اعظم وآخر ﷺ نے یہ خبریں سنیں تو صحابہ سے مشورہ کیا ۔ صحابہ میں سے سلمان فارسی ؓ ایرانی ہونے کے ناطے سے خندق کے طریقہ سے واقف تھے انہوں نے رائے دی کہ کھلے میدان میں نکل کر مقابلہ کرنا مصلحت نہیں ہے اس لئے ایک محفوظ مقام پر لشکر جمع کیا جائے اور اس کے گرد اگر خندق کھود دی جائے۔ تمام لوگوں نے اس رائے کو پسند کیا اور خندق کھودنے کے آلات مہیا کئے گئے۔ مدینہ میں تین جانب مکانات اور نخلستان کا سلسلہ تھا جو شہر کو پناہ کا کام دیتا تھا۔ صرف شامی رخ کھلا ہوا تھا ، نبی اعظم وآخر ﷺ نے تین ہزار صحابہ کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر اس مقام پر خندق کی تیاریاں شروع کیں۔ یہ ذی قعدہ 5 ھ کی 8؍تاریخ تھی ، نبی کریم ﷺ نے حدود خود قائم کیے اور داغ بیل ڈال کر دس دس آدمیوں پردس دس گز زمین تقسیم کی ، خندق کا عمق پانچ گزرکھا تھا اور یہ خندق بیس دن میں تیس ہزار متبرک ہاتھوں سے انجام پائی۔ جب مسجد نبوی بن رہی تھی تو نبی کریم ﷺ مزدوروں کی صورت میں تھے اور آج اس خندق کو کھودے جانے پر بھی یہی منظر دیکھنے میں آرہا تھا کہ جاڑے کی راتیں ہیں اور تین تین دن کا فاقہ ہے ، مہاجرین و انصاری اپنی پیٹھوں پر مٹی لاد لاد کر باہر پھینکتے جا رہے ہیں اور جوش محبت میں ہم آواز ہو کر کہتے ہیں ؎ نحن الذی بایعوا محمدا علی الجھاد ما بقینا ابدا ہم تو پیغمبر محمد ﷺ سے یہ بیعت کرچکے جان جب تک ہے ہم لڑیں گے کافروں سے ہم سد نبی اعظم وآخر ﷺ ان لوگوں کے جواب میں جو یہ شعر پڑھتے تھے اور بلند آواز سے مل کر پڑھتے تھے ان کو اس طرح جواب دیتے تھے ؎ اللھم انہ لا خرح الا خیر الاخرۃ فبارک فی الانصار والمھاجرۃ فائدہ جو کچھ ہے وہ آخرت کا ہے فائدہ کردے انصار اور باہر والوں میں برکت اے خدا (بخاری کتاب المغازف ، باب غزوہ خندق) خود نبی اعظم وآخر ﷺ بھی مٹی پھینکنے والوں میں شامل ہیں اور شکم مبارک پر مٹی اور گرد اٹ گئی ہے اور اسی حالت میں یہ رجززبان پر ہے۔ واللہ لو لا اللہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلنا سکینۃ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا ان الالی قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنۃ ابینا اس رجز کو آپ اپنی زبان میں یوں ادا کرسکتے ہیں کہ ؎ تو ہدایت گر نہ کرتا تو کہاں ملتی نجات کیسے پڑھتے ہم نمازیں کیسے دیتے ہم زکوٰۃ اب اتار ہم پہ تسلی اے شہ عالی صفات پائوں جما دے ہمارے دے لڑای میں ثبات بے سبب ہم پر یہ دشمن ظلم سے چڑھ آئے ہیں جب وہ بہکائیں ہمیں سنتے نہیں ہم ان کی بات ” ابینا “ کا لفظ جب آتا تھا تو آواز زیادہ بلند ہوجاتی تھی اور مکرر کہتے تھے۔ (صحیح بخاری ، غزوہ احزاب) پتھر کھودتے اتفاقاً ایک سخت چٹان آگئی کسی کی ضرت کام نہیں دیتی تھی اس جگہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، تین دن کا فاقہ تھا اور پیٹ پر ایک کی بجائے تین پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے لوہے کا کدال مارا اور چٹان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ (صحیح بخاری ، غزوہ احزاب) سلع کی پہاڑی کو پشت پر رکھ کر صف آرائی کی گئی ، مستورات شہر کے محفوظ قلعوں میں بھیج دی گئی تھیں اور چونکہ بنو قریظہ کے حملہ کا اندیشہ تھا اس لئے حضرت سلمہ ؓ بن اسلم دو صد آدمیوں کے ساتھ متعین کیے گئے کہ ادھر سے حملہ نہ ہونے پائے۔ بنو قریظہ کے یہود اب تک الگ تھے لیکن بنو نضیر نے ان کو ملالینے کی کوشش کی ، حئی بن اخطب ام المومنین سدیہ صفیہ کا باپ خود قریظہ کے سردار کعب بن اسعد کے پاس گیا ، اس نے نے ملنے سے انکار کردیا ، اس نے کہا کہ میں فوجوں کا سیلاب بےکراں لایا ہوں ، قریش اور تمام عرب امنڈ آیا ہے اور سب کے سب کا نطریہ اتحاد محمد ﷺ کام خون ہے کیونکہ سب اس کے پیاسے ہیں ، یہ موقع ہاتھ سے جانے دینے کے قابل نہیں ، اب یقینا اسلام اور اہل اسلام کا خاتمہ ہے۔ کعب اب بھی راضی نہ ہوا ، اس نے کہا میں نے محمد ﷺ کو صادق الوعد پایا ہے ، اس سے عہدشکنی کرنا خلاف مروت ہے ، اس طرح حئی کا جادو بہرحال چل گیا اور اس نے بنو قریظہ کو ساتھ ملالیا۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے تحقیق اور اتمام حجت کے لئے سعد بن معاذ ؓ اور حضرت سعد بن عبادہ کو بھیجا اور ان سے فرمایا : کہ اگر درحقیقت بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے تو وہاں سے آکر اس خبر کو مبہم لفظوں میں بیان کرنا کہ لوگوں میں بےدلی نہ پھیلنے پائے ، ان دونوں صاحبوں نے بنو قریظہ کو معاہدہ یاد دلایا تو انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ محمد ﷺ کون ہے اور معاہدہ کیا ہے ؟ مختصر یہ کہ بنو قریظہ نے اس ٹڈی دل فوج میں مزید اضافہ کردیا۔ قریش ، یہود اور قبائل عرب کی دس ہزار فوجیں تین حصوں میں تقسیم ہو کر مدینہ کہ تینوں اطراف سے اس زور وشور سے حملہ آور ہوئیں کہ مدینہ کی زمین ہلا کر رکھ دی گئی۔ اس معرکہ کی تصویر آگے سورت کے اندرآنے والی ہے وہاں مزید ذکر کیا جائے گا۔ اس جگہ صرف یہ بتانے کے لئے کہ یہ وہ حالات تھے جن حالات میں زید بن حارثہ کے زینب بنت جحش کو طلاق دینے کا واقعہ رونما ہوا جب کہ زید ایک غلام متصور ہوتے تھے اور زینب قریش میں سے ایک اونچے گھرانے کی عورت تھیں جو نبی کریم ﷺ کی حقیقی پھوپھی کی بیٹی بھی تھیں اور خود رسول اللہ ﷺ نے نہایت زور لگا کر شادی بھی کرائی تھی پھر اس کے باوجود زید بھی محمدرسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا اس پر طرہ یہ کہ جب طلاق واقع ہوگئی اور آپ جنگ احزاب کے اس محاصرہ سے فارغ ہوگئے کہ معاصرین تقریباً ایک مہینہ محاصرہ کرنے کے بعد ناکام واپس ہونا شروع ہوگئے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی کہ زینب کو نکاح کا پیغام بھیج دو تاکہ عدت کے بعد آپ ﷺ اس کو اپنے نکاح میں لے آئیں۔ آپ ﷺ کو جب یہ حکم موصول ہوا تو فطرت انسانی کے مطابق آپ ﷺ کے دل میں ایک نہایت ہی حساس قسم کا خطرہ پیدا ہوا وہ یہ کہ اندرون ملک حالت خراب ہے۔ زید نے طلاق دے کر قریش مکہ کے خاندان میں ایک خاص قسم کا مسئلہ پیدا کردیا ہے ادھر معاشرہ کے اندر زید بن محمد کے نام سے زید کو پکارا جاتا ہے اور اس طرح گویا ایک متبنیٰ بیٹے کی بیوی کے ساتھ شادی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنی حقیقی بہو کے ساتھ شادی کرنے کا دعویٰ کردے تو گویا بیرون شہر تو پہلے ہی آگ لگی ہوئی تھی اب اندرون شہر بھی آگ لگ جائے گی اور اس طرح چوطرفہ آگ لگ گئی تو حالات کا کیا بنے گا ؟ یہ اور اسی طرح کے خیالات کا دل میں پیدا ہونا ایک فطری امر تھا بلا شبہ اس طرح کے خطرہ کا دل میں پیدا ہونا حقیقت تھی اور بعد کے حالات نے ثابت بھی کردیا کہ اس طرح کا خطرہ محسوس کرنا فی الواقع صحیح اور درست تھا لیکن عنداللہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر جو متنبی کو جو حقیقی بیٹے کے مقام پر لاکھڑا کیا گیا تھا اس کا رفع کرنا بھی نہایت ضروری تھا اور اگر یہ نکاح نہ کرایا جاتا تو ان دونوں باتوں کو اس قدر اہمیت دی جاچکی تھی کہ ان کے ختم ہونے کی اور کوئی صورت موجود نہ تھی اور ان دونوں باتوں سے جو آنے والے زمانہ میں نہایت ہی خطرناک قسم کے الزامات پیدا ہوسکتے تھے ان کا قلع قمع کرنا بھی ضروریات دین میں سے تھا اس لئے منشاء ایزدی یہی تھا کہ یہ نکاح کرایا جائے۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے یہ فرمایا گیا ہے کہ کفاروں اور منافقوں کے اس طرح کے پروپیگنڈے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے جو کچھ اس کا رد عمل ہوگا اس لئے اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ ان ظاہری بتوں کو توڑنے سے پہلے جن کے توڑنے کا وقت بھی قریب آتا چلاجارہا ہے ان دلوں کے اندر کے بتوں کو مسمار کردیا جائے تاکہ یہ دلوں کی زمین پاک وصاف ہو اور ایمان کا جو بیج ان دلوں میں بویا جارہا ہے وہ صحیح طریقہ سے نشو ونما حاصل کرے۔ ان موہوم رشتوں کا جو تقدس لوگوں کے دلوں میں قائم ہوچکا ہے اس کو ایک ہی وار کرکے ختم کردیا لہٰذا آپ ﷺ کو آگے بڑھ کر اللہ کے حکم کے مطابق اپنے متنبی کی بیوی سے نکاح کرلینا چاہیے ، اس سے ایک طرف اس خاندان کا زخم ختم ہوجائے گا جو زید کے طلاق دینے کی وجہ سے لگا ہے اور دوسری طرف آنے والے سارے خطرات کا ازالہ ہوجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور ہم جو آپ ﷺ پر نبوت کے ختم کردینے کا اہم اعلان کرنے والا ہیں اس اعلان کے لئے یہ ثابت کردینا بھی نہایت ضروری ہے اور اس کے ثبوت کا اس سے زیادہ آسان اور بہتر حل اور کوئی نہیں ہوسکتا اگرچہ بظاہر یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ غور کرو کہ اس آیت نے دین کے لئے جتنے مصلحت اندیش پیدا ہونے والے تھے ان سب کا خاتمہ کرکے رکھ دیا کہ دین ان واضح اور صاف باتوں کا نام ہے جن کے لئے کسی مصلحت کی کوئی ضرورت نہیں صرف دین کے لئے ایک مصلحت ہزاروں مصلحتوں پر بھاری اور حاوی ہے کہ دین کے معاملہ میں موہوم خطروں سے ڈر کر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے اور نہ اس خوف سے کہ لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے اور دین کا کام رک جائے گا اس طرح کی مصلحت دین کے معاملہ میں کبھی قابل برداشت نہیں ہوسکتی کیونکہ دین کا معاملہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور ہر آدمی کا ذاتی معاملہ ہے نہ تو انسان کو خود مجبور ہونا چاہیے اور نہ ہی دوسروں کو مجبور کرنا چاہیے جو بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے کہ یہ اسلام کی ہے تو اس پر بےدھڑک عمل کرنا چاہیے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہیے ، اسلام کے داعی کا اول فرض ہی ہے کہ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اس کے سوا اور کچھ نہ ہو اگر لوگوں کی رضا کا طالب ہوا تو سمجھ لو کہ وہ مشرک ہوگیا اور جو خود مشرک ہے وہ اسلام کی دعوت کیا خاک دے گا ؟ کاش کہ یہ اصول ہمارے مصلحت اندیش علماء اسلام کو بھی ازبر ہوتا اور آج وہ اس طرح کی مصلحتوں سے کام نہ لیتے جن مصلحتوں سے وہ کام لے رہے ہیں اور انہی مصلحتوں سے کام لینے کے باعث وہ کلی طور پر دین اسلام ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سوائے اس نام کے جو وہ اسلام کا استعمال کر رہے ہیں ان کے پاس اسلام کی ایک چیز بھی اب موجود نہیں رہی اگرچہ وہ بزعم خویش اپنی اپنی جماعتوں کے امیر اور قائدورہنما ہی کیوں نہ کہلواتے ہوں اس وقت دنیا میں جتنی قومیں آباد ہیں ان میں سے کسی قوم کے لیڈر کو لے لو جس سے آپ واقف ہوں اور اپنے ان مذہبی راہنمائوں میں سے اس راہنما کو لے لو جس کو تم اپناراہنما سمجھتے ہو اور خالی الذہن ہو کر دونوں کے کردار ، دونوں کے عمل کو دیکھتے چلے جائو بلکہ ایک ایک چیز اور ایک ایک بات کو نوٹ کرتے چلے جائو یقینا عمل وکردار کے لحاظ سے نمبر اس کو زیادہ ملیں گے جو موجودہ اسلام کا داعی و راہنما نہیں لیکن بلا شک وشبہ علامہ ، مولانا ، حضرت العلام ، فقیہ العصر ، محدث العصر ، مفتی ، قاضی ، حافظ ، پروفیسر جیسے ناموں کے سوا کوئی چیز آپ کو راہنمایان اسلام میں نہیں ملے گی ہاں ! یقینا جن موجودہ دور کے راہنمایان اسلام کے ناموں کے ساتھ یہ لاحقے اور سابقے استعمال ہوتے ہیں کیا وہ میری اس بات کو سچ کہیں گے ہرگز نہیں وہ تو سنتے ہی جھوٹ جھوٹ کا نعرہ بلند کریں گے کیونکہ انہوں نے سچ کا نام ہی اب جھوٹ رکھ لیا ہے اور جھوٹ کو وہ سچ کہتے ہیں۔ جہاں پوری دنیا میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس وقت حالات کیا سے کیا ہوگئے اور نئی نئی ایجادات نے لوگوں کو مبہوت کرکے رکھ دیا تو کیا ان کا حق نہیں تھا کہ وہ بھی جدت سے کام لیتے اور دقیانوسی نہ کہلواتے ؟ انہوں نے بھی ترقی کی اور ناموں کے الٹ پھیر سے اپنا الو سیدھا کرلیا۔ جب دنیا میں ہر آدمی اپنا ہی الو سیدھا کرنے پر لگا ہوا ہے تو کیا ان کو اس بات کا حق نہیں تھا ؟ انہوں نے بھی اپنا حق استعمال کیا اور کفرو اوہام کا نام سچ رکھ دیا اور حق وسچ کا نام کذب ودروغ اور اس طرح معمولی الٹ پھیر سے پورے دین اسلام کا نقشہ بدل دیا۔ بہرحال راہنمایان اسلام اور پیشوایان دین چاہیں جو کہیں اور کریں ، اسلام کبھی وقتی مصلحت کو دیکھ کر اپنی دعوت نہیں دیتا بلکہ وہ ہر حال میں اپنی دعوت کو جاری رکھتا ہے اور وہ اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ صرف زبانی دعوت دینے کی بجائے عملی دعوت دینے کا طریقہ اختیار کرو اور زمانہ کے زیر وبم پر نظر نہ رکھو ، رضائے الٰہی کے طالب رہو اور یاد رکھو کہ زمانہ کے اتار چڑھائو کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی تبدیل نہیں ہوتی وہ جو پہلے تھی وہ اب ہے اور جو اب ہے وہ رہتی دنیا تک رہے گی۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو کتاب تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جا رہی ہے اس کی پیروی کرتے رہیے بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے

تفسیر :2 قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ بار بار نبی کریم ﷺ ہی کو مخاطب کرکے بات کرتا ہے اگرچہ وہ بات ہر ایک مسلمان کو سمجھانا مقصود اصل ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہی اصول پیش نظر تھا اور زیر نظر آیت میں بھی یہی بات پیش نظر رکھ کر بات کی جارہی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ اگر ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم پر عمل کرکے بدنامی کا خطرہ مول لے گا اور اپنی ذاتی عزت پر دشمنوں کے حملے صبر کے ساتھ برداشت کرے گا تو اللہ رب العزت سے اس کی یہ وفادار انہ خدمت چھپی نہیں رہے گی۔ اس نے جو کچھ کیا محض اللہ کی رضا کے لئے کیا اور اس چیز کی اتباع کی جو اس کی طرف نازل کی گئی یعنی قرآن کریم کیونکہ اس کا نازل کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ تم تمام انسانوں کے اور خصوصاً تمام مسلمانوں کے اعمال کو جانتا ہے ، کوئی چیز اور کوئی بات ایسی نہیں جو اس کے علم میں موجود نہ ہو اور ظاہر ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے اعمال سے واقف ہے تو کیا وہ منافقوں اور فکاروں کے اعمال وکردار سے ناواقف ہے ؟ نہیں ! اس کو ان کی بھی ایک ایک حرکت کا علم ہے کیونکہ وہ سارے انسانوں کے اعمال سے باخبر ہے اور کوئی چیز بھی اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ سب کام بنا دینے کے لیے کافی ہے

اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو ، وہی سب کا کارساز اور نگہبان حقیقی ہے 3) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام آیا ہے اس کے مطابق عمل کرنا ہے اور یہی اصل الاصول ہے ، لوگوں کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو صاحب حکم حکم دے رہا ہے ان لوگوں کی حالت سے وہ ہر حال میں باخبر ہے ، وہ مخالفت کریں گے اور کس قدر مخالفت کریں گے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ ہاں ! آپ کی جو مخالفت کرتا ہے آپ اس کی بھی مخالفت برائے مخالفت نہ کریں گے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ ہاں ! آپ کی جو مخالفت کرتا ہے آپ اس کی بھی مخالفت برائے مخالفت نہ کریں بلکہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتے ہوئے اپنا کام کیے چلے جائیں جب آدمی کو یقین ہوجائے کہ یہ کام یا یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس کو بالکل مطمئن رہنا چاہیے کہ ساری خیروبرکت اور ہر طرح کی مصلحت اس حکم کی تعمیل میں ہے۔ خیال رہے کہ تعمیل حکم میں مصلحت سمجھنے اور مصلحت کے مطابق تعمیل حکم کرنے میں بہت بڑا فرق ہے بالکل ایسا ہی جیسے زمین و آسمان میں فرق ہے۔ حکم تو یہ ہے کہ تعمیل حکم میں مصلحت سمجھو لیکن ہمارے علمائے اسلام اور مذہبی پیشوایان اور راہنمایان مصلحت کے مطابق عمل کرتے ہیں اور یہی ان کی قوم کو تلقین ہے اسی لئے ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سچ کا نام جھوٹ اور جھوٹ کا نام سچ رکھ لیا ہے اور اسی الٹ پھیر کے تحت ان کا سارا کام چل رہا ہے کاش کہ وہ اس حرکت سے باز آجائیں اور اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیل ارشاد کریں اور اس کی قوم کو تلقین کریں لاریب اللہ ہر ایک انسان کے لئے بالکل کافی ہے ، بندہ کو چاہیے کہ وہ اپنے سارے معاملات اسی کے سپرد کردے اور اسی کی راہنمائی پر بھروسہ کرے اور اس کی مدد کو کافی و وافی سمجھے بلا شبہ اس کی راہنمائی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائج بد سے دو چار نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لئے ہر کام اور ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے کیونکہ وہ خیر کل ہے۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) اللہ نے کسی انسان کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور تمہاری بیویوں کو جن کو (اپنی بیوقوفی کے باعث) تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو (جن کو تم کسی بھی وجہ سے بیٹا بنا لیتے ہو) تمہارا بیٹا بنایا ہے ، یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ حق بات کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے

انسانوں کی بیک وقت دو حالتیں ممکن نہیں اور نہ ہی کوئی دو دل رکھتا ہے 4) ” اللہ تعالیٰ نے کسی مرد کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے “۔ اس کا نہ تو یہ مطلب ہے کہ بعض عورتوں کے پہلو میں دو دل ہوتے ہیں اور نہ ہی دل سے مراد اس جگہ وہ گوشت کالوتھڑا ہے جس کو ہماری زبان میں دل اور عربی زبان میں قلب کہتے ہیں۔ صاف اور سیدھا مطلب تو اس کا یہی ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مومن اور کافر ، سچا اور جھوٹا ، برا اور اچھا ، نیک عمل اور بد عمل ، صحیح اور غلط نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان ، سچائی ، اچھائی ، نیک عمل اور صحیح ہونا قلب کے فعل ہیں او اسی طرح کفر ، جھوٹ ، برائی ، بد عملی اور غلط ہونا بھی قلب کے افعال ہیں اور ایک دل میں بیک وقت دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں اور انسان کے پہلو میں دو دل نہیں ہیں کہ ایک دل میں ایمان ، سچائی ، اچھائی ، نیک عمل کی رو چل رہی ہو اور دوسرے میں کفر ، جھوٹ ، برائی اور بد عملی کی رو چل رہی ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ کیوں کہا گیا اس لئے کہ قریش مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بیک وقت الصادق اور الامین بھی مانتے تھے اور بعثت ونبوت کے دعویٰ میں جھوٹا بھی تسلیم کرتے تھے۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ تمہاری کیوں عقل ماری گئی ہے اور تم کیسے بہک گئے ہو کہ ایک آدمی کی بیک وقت بھی کبھی دو حالتیں ممکن ہیں ؟ ہرگز نہیں اگر وہ سچا ہے تو اس کا مطلب خود بخود یہ ہوتا ہے کہ وہ جھوٹا نہیں ہے لیکن تمہاری حالت بڑی عجیب ہے کہ تم ایک طرف محمد بن عبداللہ کہہ کر اس کو الصادق اور الامین کے نام سے یاد کرتے ہو اور دوسری طرف اس کو محمد رسول اللہ ماننے کے لئے اس لئے تیار نہیں کہ وہ رسول اللہ کہہ کر جھوٹ بول رہا ہے۔ تعجب ہے تم پر کہ ایک شخص کسی انسان کے حق میں تو کوئی جھوٹ بات کہنے کے لئے تیار نہ ہو لیکن وہ اللہ کے معاملہ میں جھوٹ بولنے والا ہو ، تمہارا یہ دوغلہ پن خود بخود تمہاری اپنی حالت کی وضاحت کررہا ہے اور یاد رکھو کہ تم لوگ اگر ایک سچے مومن کو کافر کہہ دو گے تو کیا وہ تمہارے کافر کہنے سے کافر ہوجائے گا ہرگز نہیں حقیقت حقیقت ہی ہے وہ کبھی تمہارے کہنے سے نہیں بدل جائے گی۔ افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس بات کو بیان نہیں کیا بلکہ انہوں نے کچھ اور ہی مطالب اور مفہوم بیان کئے ہیں اور بعض نے تو ایسی باتیں بیان کی ہیں جن باتوں کی اس جگہ مطلق ضرورت نہ تھی اور نہ ہی اس سے اس کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔ بعض اوقات بات کرتے کرتے کسی کے متعلق یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اجی اس کی کیا بات کرتے ہیں وہ تو ایک نہیں دوزبانیں رکھتا ہے تو اس کا مطلب کوئی شخص بھی خواہ وہ کتنا ہی سادہ اور تھوڑی سمجھ کا ہو کبھی یہ نہیں سمجھے گا کہ شاید اس کے منہ میں گوشت کا وہ ٹکڑا جس کو زبان کہتے ہیں دو ہوں گے بلکہ ہر آدمی جانتا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتا یا یہ کہ وہ کسی کو کچھ کہہ دیتا ہے اور کسی کو کچھ۔ اسی طرح وہ زبان اور عمل کا پکا آدمی نہیں ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں لفظی بحث زیادہ چلتی ہے اور مفہوم پر نگاہ کم ہی لوگوں کی پڑتی ہے اور اس بات نے معاملہ اس قدر خراب کردیا ہے کہ ہم لفظوں کو چھوڑ کر کبھی مفہوم کی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے پھر عوام تو خیر پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں خواص بھی لفظوں کو چھوڑ کر ان کے مفہوم کی طرف آنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے حالانکہ سب اس بات کو جانتے ، مانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان استعارات میں جو مفہوم بند ہوتا ہے وہ عام گفتگو میں ادا نہیں کیا جاسکتا اور اس کی ادائیگی کے لئے استعارہ اور اشارہ کی زبان استعمال کرنا ہی ادب کے زیادہ قریب ہوتا ہے اگر کوئی کہہ دے کہ ” فلاں آدمی مدت سے آگ میں پڑا ہے اور اس کی کسی نے خبر نہیں لی “۔ ” وہ تو بات کرتا ہے تو آدمی جل بھن کر رہ جاتا ہے “۔ ” فلاں آدمی تو مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ سونا بن جاتی ہے “۔ اشارہ میں نے کردیا ہے غور کرتے جائو گے تو قرآن کریم اپنا مفہوم ہم پر واضح کرتا جائے گا بشرطیکہ تم باپ دادا کی طرف سے ملاں ، مولوی اور علامہ نہیں ہو اور اپنی روزی کمانے میں دوسروں پر انحصار نہیں رکھتے ہو کہ پکی پکائی آئے گی تو ہم کھالیں گے اس لئے کہ ان کی مت تو اسی طرح ماری جاچکی ہے کہ ان کا دین و ایمان فقط ان کی غرض کی تکمیل کا نام ہے او یہ سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جاہلیت میں عرب لوگ ایسے شخص کو جو زیادہ ذہن وفطین ہو اس کے متعلق کہتے تھے کہ اس کے سینے میں دو دل ہیں اور زیر نظر آیت میں ان کے اس نظریہ کی تردید کی گئی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس بات کو زیادہ پسند کیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس بات کو پسند کرنے میں ان کا فائدہ تھا اور اپنے فائدہ کی بات تو ہمیشہ انسان کو پسند آتی ہے۔ آپ بھی غور وفکر کریں ، پھر جو رائے آپ کو پسند آئے اس کو مان لیں دوسری کو چھوڑ دیں۔ ہاں ! اکثریت کی بات ہمیشہ پسند کی جاتی ہے اگرچہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اکثر غلط ہوتی ہے { بل اکثرھم لایومنون } (البقرہ 100:25) عروۃ الوثقی ، کی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 116 کے تحت ہم نے قرآن کریم سے 85 آیات کریمات درج کی ہیں جن کا واضح مطلب یہ ہے کہ اکثریت ہمیشہ غلط ہوتی ہے حالانکہ اکثر لوگ اکثریت کو صحیح سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اب اللہ کی بات صحیح ہوگی یا لوگوں کی ؟ فیصلہ خود کرلیں ہمارا فیصلہ تو یہی ہے کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کسی کی بات صحیح نہیں ہوسکتی خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو۔ ” اللہ نے تمہاری بیویوں کو جن کو تم ماں کہہ اٹھے ہو تمہاری مائیں نہیں بنادیا “۔ یہ بھی عربوں کے ہاں رواج تھا کہ ان میں سے کوئی شخص جب اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتایا کہہ دیتا کہ تیری پیٹھ یا کسی عضو کا نام لے کر کہ وہ ایسا ہے جیسا میری ماں کا تو اس لغوبات کے کہہ دینے سے وہ فی الواقع اب اس کو ماں کی طرح حرام جانتا اور اس لغو بات کے کہنے کے بعد کبھی اس کی بیوی نہیں بناسکتا۔ اس طلاق کو ظہار کا نام دیتے تھے۔ قرآن کریم میں اس کی پوری وضاحت سو رہ المجادلہ میں کی گئی ہے ملاحظہ ہو غروۃ الوثقی جلد ہشتم سورة المجادلہ کی آیت 6 کی تفسیر۔ زیر نظر آیت میں بھی اس بات کی تردید کردی کہ بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ فی الواقع ماں نہیں ہوجاتی لیکن ایسی غلط بات کہنے والے کو کچھ سز اضرور ملنی چاہیے کہ اس نے ایسے ابدی حرام رشتے سے اس کی نسبت کیوں دی اور بیوی کو ماں کہہ دیا تو آخر کیوں ؟ اچھا اگر کہہ دیا ہے تو جس نے کہا ہے اس پر سزا ہے یا تو اب اس کو چھوڑ دے یعنی طلاق دے دے اور اگر پھر بیوی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تو پہلے بکواس کی سزا کو قبول کرے اور جو سزا اس کو سنائی گئی ہے اس کو برداشت کرے اور آئندہ ایسی حرکت سے باز آئے ، سزا کی وضاحت سورة المجادلہ میں کردی گئی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ” اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنادیا۔ “ اس جگہ اصل مقصودبیان یہی تیسری بات ہے پہلی دونوں باتیں اس آخری بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لئے بیان کی گئی ہیں تاکہ پوری وضاحت ہوجائے اور کوئی بات مبہم نہ رہے۔ تمثیل کے پیرایہ میں یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ زبان میں جو مجاز مستعمل رہتے ہیں انہیں لفظی معنی میں واقعیت پر مبنی سمجھنے لگنا جہل ونادانی ہے… لیکن ہمارے علماء اور مفسرین اس بات کی طرف دھیان نہیں دیتے اور اکثر لفظوں کی بحث کو اٹھا کر بات کو کچھ سے کچھ بنادیتے ہیں… خیال رہے کہ اس جگہ کوئی تشریح الابدان (اناٹومی) کا مسئلہ نہیں بیان کیا گیا اور نہ ہی قرآن کریم کا یہ موضوع ہے انسان میں جو بظاہر دیکھا گیا ہے وہ یہی ہے کہ دل ایک ہوتا ہے لیکن اگر کہیں یہ ثابت بھی کردیا جائے کہ وہ ایک سے زیادہ ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں تو اس سے قرآن کریم کی اس آیت پر کچھ اثر نہیں ہوگا۔ قرآن کریم نے یہ کلیہ نہیں بیان کیا بلکہ اکثر کہہ کر بیان کررہا ہے اور وہ بھی تشریحی جسمانی سے ہٹ کر بالکل سیاق کے مطابق کلام کررہا ہے کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت خود ہی کردی ہے کہ رحموں میں کبھی کمی بیشی بھی ہوتی رہتی ہے اور وہ اس کمی بیشی سے اچھی طرح واقف ہے اور بلا شبہ یہ بات مشاہدہ میں بھی آتی رہتی ہے اس کی وضاحت دیکھنا مطلوب ہو تو عروہ الوثقی جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 8 کی تفسیر دیکھیں۔ ” یہ سب باتیں تمہارے منہ کی ہیں اور اللہ حق بات کہتا ہے “۔ اس نے کیا ہی شان دار بات کہہ دی کاش کہ اس کو کوئی سمجھنے والا بھی ہو فرمایا یہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو خواہ وہ دو دل والی بات ہے یا بیوی کو ماں کہہ دینے والی اور یا کسی کے بیٹے کو متنبی بنانے والی بلا شبہ تم بھی یہ بات صرف منہ کی حد تک کہہ رہے ہو اور اندر سے حقیقت تم بھی اچھی طرح جانتے ہو اور مانتے ہو کہ اس طرح کہنے سے نہ تو دو دل ہوجائیں گے اور نہ ہی بیوی ماں ہوجاتی ہے اور نہ ہی متنبی بیٹا ہوجاتا ہے اور اسی طرح کبھی بھی کوئی حقیقت نہیں بدلا کرتی ہے بلکہ ہر حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے ، ماں وہی ہے جس نے جنا ہے اور بیٹا وہی ہے جو قانون الٰہی کے مطابق کسی کے ہاں پیدا ہوا ہے اور اسی بیٹے پر وہ احکام لازم آتے ہیں جو حقیقی اور صلبی بیٹا ہوتا ہے کسی کو بیٹا کہنے سے وہ کبھی اس کا بیٹا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ بات کو صاف اور واضح کردینا چاہتا ہے اس لئے کہ وہ صاف بات کو پسند کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سیدھی راہ نہیں دکھائے ، بتائے اور سمجھائے گا تو آخر کون ہے جو اس سے بڑھ کر سیدھی بات بتانے والا ہے۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم (متبنیٰ بیٹوں) کو ان کے باپوں (کے ناموں) سے پکارا کرو یہی اللہ کے نزدیک درست بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دوست ہیں اور جو بات تم غلطی سے کر بیٹھے تو اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن جو تم دل کے ارادہ سے کہو ، اللہ بخشنے والا پیار کرنے والا ہے

سیدھی بات کو سیدھی طرح مان لو اور اولاد کی نسبت ان کے باپوں کی طرح کرو 5) ” لوگو ! تم اولاد کو ان کے باپوں ہی کے ناموں سے پکارا کرو یہی اللہ کے نزدیک درست بات ہے “۔ باپوں سے اس جگہ مراد اصل والدین ہیں کہ اگر تم کو معلوم ہے کہ فلاں فلاں بیٹا ہے تو اس کی طرف اس کی نسبت کرنا چاہیے۔ گویا کسی کو کسی بچے یا بچی کو لے کر تم نے اس کی پرورش کردی اور اس کو اپنی اولاد بنا لیا ہے اور اولاد کی سی محبت و پیار اس سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرسکتے ہو لیکن اس اولاد کی نسبت اپنی طرف مت کرو اپنے آپ کو ان کا کفیل کہہ سکتے ہو اور اس طرح اگر کوئی دوسرا نام رکھنا چاہتے ہو تو رکھ لو لیکن ان کی نسبت ان کے اصل باپوں ہی سے کرو اپنی طرف منسوب مت کرو۔ یہ حکم عام ہے اور اس میں انسانی زندگی کے لئے بہت ہی بھلائی اور خیر رکھی گئی ہے اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھتے ہو تو اس کو ہرگز ہرگز مت بھلائو اور کسی حال میں بھی حق داروں کا حق ضائع نہ کرو حق داروں کا حق ادا نہ کرنا یہ کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ خوبی کی بات یہی ہے کہ حق کو حق رہنے دینا چاہیے۔ اس جگہ ایک خاص حکم کو عام بیان کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس خاص حکم کو عام بنایا گیا ہے یعنی اگرچہ اس مسئلہ کا تعلق صرف نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہے لیکن ہم اس خاص سے عام حکم کا بیان کر رہے ہیں تاکہ آج سے رہتی دنیا تک لوگ اس کو قانون کے طور پر تسلیم کرلیں اور آئندہ کوئی شخص کبھی کسی دوسرے کو اپنا بیٹا نہ کہے بلکہ جس کا وہ ہے اسی کا بیان کرے گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ آج کے بعد تم کبھی بھول کر بھی زید کو زید بن محمد نہ کہو بلکہ زید بن حارثہ کہو اور یہ حکم نازل ہونے کے بعد بلا شبہ ایسا ہی ہوا چناچہ بخاری ’ مسلم ‘ نسائی وغیرہ میں ہے کہ زید بن حارثہ کو پہلے سب لوگ زید بن محمد ﷺ کہتے تھے لیکن یہ آیت نازل ہونے کے بعد انہیں زید بن حارثہ کہنے لگے اور یہ بھی کہ اس آیت کے نزول کے بعد یہ بات حرام قرار دی گئی کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنانسب منسوب نہ کرے۔ (عن عبداللہ بن عمر ؓ بلکہ احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا من ادعی الی غیر ابیہ فالجنۃ علیہ حرام (بخاری ، مسلم ، ابودائود ، عن سعد بن ابی وقاص ؓ ” جس شخص نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا درآنحالیکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔ “ لیکن اس حرمت کو شاید لوگوں نے حرام نہیں سمجھا اور نہ ہی سب کچھ جاننے کے باوجود علماء اسلام نے کبھی اس کی وضاحت قوم کو بتائی ہے۔ افسوس کہ آج بیہ بڑے بڑے دیندار گھروں میں جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے اولاد کو لے لیتے ہیں ان کو اپنی اولاد کے طور پر کاغذات میں درج کراتے ہیں مثلاً کمیٹی میں ، یونین کونسل میں ، سکول اور کالج میں اور اس متنبی کو اپنا وارث قراردے کر اپنی جائیداد اس کو دے دیتے ہیں جو کسی حال میں بھی جائز اور صحیح نہیں ہے۔ صحیح اور حق بات یہ ہے کہ ان بچوں کو ان کے اصل والدین کی طرف ہی نسبت دی جائے اور پرورش وتعلیم وتربیت کے علاوہ میراث کا مسئلہ بدستور اسی طرح رہے جس طرح قانون قدرت کے اندر موجود ہے۔ ہاں ! تیسرا حصہ مال کی انسان وصیت کرسکتا ہے اگر مرنے والا چاہے تو اس طرح اس کے نام وصیت جاری کراسکتا ہے اور زندگی ہی میں اس کو ہبہ بھی کرسکتا ہے لیکن اصل وارثوں کو محروم کرنا کسی حال میں بھی جائز اور درست نہیں۔ آیت کے الفاظ پر غور کرو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جس طرح متنبی بنانے والے کو یہ ہدایت ہے اسی طرح متنبی بنائے گئے آدمی کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے ایسی صورت اختیار کرگیا ہے تو متنبی ہونے والے کو بھی چاہیے کہ جب شعور آئے اور عقل وفکر پختہ ہو یا خصوصاً مسئلہ معلوم ہوجائے تو فوراً توبہ کرے اور اپنی ولدیت تبدیل کرکے وہ بنوائے جو فی الواقع اس کی ولدیت ہے اور تیسرا حصہ اگر چاہے تو رکھ کر باقی ساری جائیداد اور وراثت اصل وارثوں تک پہنچا دے تاکہ اس گناہ سے خود بھی بچے اور مرنے والے کو بھی بچائے کہ جو غلطی اس سے ہوئی اس کا ازالہ کردینے سے یقینا اس کو فائدہ ہوگا بشرطیکہ اس نے غلطی کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔ خیال رہے کہ حقوق کبھی زائل نہیں ہوتے لیکن اکثر لوگ ان کی پروا نہیں کرتے اور جس کو مال مل جاتا ہے اس نے حق اور ناحق کو کبھی نہیں دیکھا ، الا ماشاء اللہ۔ ” اگر تم کو معلوم ہی نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ “ قرآن کریم کے الفاظ پر ٹھنڈے دل سے غور کرو ، ارشاد الٰہی ہے کہ { فان لم تعلمو اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم } یہ نہیں فرمایا کہ جن کے باپوں کے متعلق تم کو معلوم نہ ہو ان کو انہی کے ناموں کے ساتھ منسوب رہنے دو جن کے ساتھ وہ منسوب ہوچکے ہیں اور نہ ہی یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو ان کو بغیر باپ کے مان لو کہ ان کے باپ نہیں ہوں گے اللہ قادر وقدیر اور مالک وملیک ہے ممکن ہے کہ اس نے ان کو بغیر باپوں ہی کے پیدا کردیا ہو اور نہ یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی مائوں سے پوچھو کہ ان کے باپ کون ہیں اور اگر مائیں بھی موجود نہ ہو اور تم ان کو جانتے اور نہ یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی مائوں سے پوچھو کہ ان کے باپ کون ہیں اور اگر مائیں بھی موجود نہ ہو اور تم ان کو جانتے بھی نہ ہو تو مان لو کہ یہ بغیر ماں اور باپ کے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس طرح قادر ہے کہ وہ چاہے بغیر باپ کے پیدا کردے اسی طرح اگر وہ چاہے وہ بغیر ماں اور باپ کے بھی پیدا کردے اور ایسے تو بلا شبہ اس نے پہلے بھی پیدا کیے ہیں جو انسان اول تھے۔ کیونکہ قرآن کریم نے خود ہی انسانی پیدائش کے ضابطہ کا اعلان کیا ہے اور اس میں کوئی استثناء بھی نہیں فرمائی اور وہ یہی چاہتا ہے ، اس کے ضابطہ میں نہ تو کبھی فرق آیا ہے اور نہ آئندہ جب تک یہ نظام قائم ہے اس ضابطہ میں فرق آنے کا کوئی امکان ہے ہاں جب یہ ضابطہ ہی نہ رہے گا اور اس سارے نظام کو بدل دیا جائے گا تو وہ دوسری بات ہے فی الحال جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ جن کے باپوں کا تم کو معلوم نہیں وہ تمہایر دینی بھائی یا انسانی بھائی تو ہیں چاہے ان کے ماں اور باپ دونوں کا کچھ معلوم نہ ہو بہرحال وہ دنیا میں اس ضابطہ کے عین مطابق آئے ہیں ہاں ! اگر کسی کا کوئی جائز باپ نہیں تو بلا شبہ ناجائز باپ ہوگا لیکن اس جائز یا ناجائز باپ کی بحث کا اس بچے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کا جواب دہ پیدا کیا گیا ہے اپنے حسب ونسب کا جوابدہ نہیں اور بلا شبہ اولاد اپنے ماں باپ کے عمل سے ہے اور پرستش ہمہشو عمل سے نہیں بلکہ عامل سے ہوتی ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ بعض بڑے بڑے علم اور عقل وفہم والے لوگ بھی عقل وفکر سے کیوں گورے ہو بیٹھے ہیں اور یہ ضد کرنا شروع کردیتے ہیں کہ فلاں کے باپ کا نام بتائو ورنہ تسلیم کرلو کہ اس کا کوئی باپ نہیں ہے حالانکہ یہ نظریہ ایسا ہے جس کا سر ہے نہ پیر اور سراسر ضد اور ہٹ دھرمی ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور اس ہٹ دھرمی کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے حالانکہ اکثریت ہمیشہ غلط ہوتی ہے دلائل کے مقابلہ میں اکثریت لاتے ہیں اگرچہ اس کو بڑی شے سمجھ لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت جو کچھ کہے وہ غلط ہے لہٰذا اکثریت اگر ایک صحیح بات مانتی ہو تو وہ اکثریت کے ماننے سے غلط ہوجائے گی۔ نہیں ! ہرگز نہیں مطلب یہ ہے کہ جب اقلیت کے پاس دلائل ہوں لیکن اس کے مقابلہ میں اکثریت کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اس کے باوجود اکثریت محض اکثریت ہونے کے باعث اپنا آپ منوانا چاہے تو اس ورطہ پر کبھی اکثریت صحیح نہیں ہوگی بلکہ اس کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود غلط ہی سمجھا جائے گا کیونکہ دلائل کے سامنے اکثریت کوئی چیز نہیں ہے حالانکہ یہی ہوتا آیا ہے ، ہورہا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ہوتا رہے گا کہ اکثریت کو دلائل کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کیونکہ وہ اکثریت ہونے کے نشہ میں دلائل کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے کبھی تیار ہی نہیں ہوتی حالانکہ یہ نظریہ سوفی صدی غلط اور تحکم محض ہے۔ ” جو بات تم غلطی سے کربیٹھے تو اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن جو کچھ تم دل کے ارادہ سے کرو “۔ وہ بلا شبہ گناہ ہے۔ خطا کب تک خطا ہے جب تک معلوم نہ ہو اور جب معلوم ہوجائے وہ خطا نہیں رہتی تاہم جو حطاء ہوگیا اس پر تاسف اور افسوس کی ضرورت نہیں اور نہ ہی شک میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے مثلاً ایک آدمی نے روزہ رکھا اور وہ بھول گیا کہ میں روزہ سے ہوں اور بھول کر وہ کھانے یا پینے لگا اور اس نے سیر ہو کر کھایا پیا اور اس کو کھانے یا پینے کے دوران بھی یاد نہ آیا لیکن جب وہ کھانے پینے سے فارغ ہوگیا تو معاً اس کو یاد آگیا یا کسی نے اس کو یاد دلادیا تو کھائیے پئے کو نہ تو الٹنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کے روزے میں کوئی فرق آیا ہے لیکن اگر اس نے کوئی چیز منہ میں رکھی اور یاد آگیا کہ میرا تو روزہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ کھاتا ہی رہا تو اب اس کھانے سے خواہ اس نے ایک ہی لقمہ کھایا تھا روزہ جاتارہا کیونکہ اس کے فرائض میں یہ چیز بھی کو جبھی اس کو یاد آیا تھا وہ اس کو تھوک دیتا اور جو اندر چلا گیا تھا اس پر وہم نہ کرتا بلکہ یہ سمجھتا کہ روزہ دار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو یہ چیز کھلانا تھی سو وہ کھلا دی کیونکہ جو اس نے کھایا وہ بھول کر کھایا اس لئے شریعت کے مطابق اس نے نہیں کھایا یا یوں کہہ لو کہ اس کو اللہ نے کھلایا کیونکہ بھول جانا انسان کی اختیاری بات نہیں اور غیر اختیاری بات پر گرفت نہیں ہوتی بلا شبہ گناہ اس میں ہے کہ انسان عیاشی شروع کرلے اور اپنے آپ کو کسی ضابطہ کا پابند خا ال نہ کرے اور اس طرح جو اس کے جی میں آئے اس کو کرنے لگے بلا شبہ یہ ظلم اور گناہ ہے جو کسی حال میں معاف نہیں الا یہ کہ اس طرح کے ظلم اور گناہ سے توبہ کرکے اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کر کے گناہ معاف کرالے اگر وہ حقوق العباد سے بھی ہے تو جس بندہ کے متعلق ہے اس سے بھی معافی طلب کرنا ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے بھی اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر گناہوں کو بخشنے والا اور معاف کرنے والا اور کون ہے ؟