Ayah 36:44لیکن آخر ڈھیل پر ڈھیل کب تک دی جائے گی اور کب تک اس سے فائدہ اٹھائیں گے :
44۔ یہ چار دن کی زندگی جو ان کو ادھار دی گئی جس کا انحصار خالصتا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہے کہ جب تک وہ کسی کو یہ مہلت دیئے رکھے کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کسی قوم کے لیے کتنی مہلت رکھی گئی ہے اور اس مہلت کے اندر ان کی کتنی نسلیں در نسلیں جاری رہیں گی ، ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات بہت جلدی کرتے ہیں کہ جلد جلد ہو تاکہ اس کا کھڑاک ہم بھی سنیں لیکن یہ اتنے نادان ہیں کہ ان کو معلوم ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات بہت جلدی کرتے ہیں کہ جلد جلد ہو تاکہ اس کا کھڑاک ہم بھی سنیں لیکن یہ اتنے نادان ہیں کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ جس کھڑاک کے بعد مہلت ختم ہوجائے وہ کھڑاک سننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتا اور نہ سننے والوں کے لیے پھر وہی کھڑاک کا مطالبہ جاری رہتا ہے اس لئے ان کو چاہئے کہ اتنی جلدی نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس دی گئی مہلت سے فائدہ حاصل کریں اگر اجتماعی کھڑاک کو انہوں نے نہ سنا تو انفرادی کھڑاک کی مہلت بھی کوئی اتنی زیادہ نہیں ہے ۔ وما علینا الا البلغ المبین ۔
Ayah 36:45مخاطبین سے کہا جارہا ہے کہ گزشتہ سے نہیں تو موجودہ حالات ہی سے سبق حاصل کرو :
45۔ گزشتہ ساری قوموں سے یہ بات ہوتی چلی آرہی ہے اور اس وقت بھی موجودہ قوموں سے بدستور کی جا رہی ہے اور خصوصا اس میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کو از راہ نصیحت کہا جا رہا ہے کہ اب تو ہوش کرو ‘ بہت مدت سو لیا تم نے اب تو سنھبل جاؤ ساری عمر گناہوں میں اور فسق وفجور میں ‘ لڈو اور پانسہ میں گزاری ‘ تم درباروں اور خانقاہوں کی راکھ چھانتے رہے تم دنیا کے وڈیروں اور اترانے والوں کے لئے وقف رہے ‘ تم پیروں اور فقیروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہے اب تو ہوش میں آؤ اور دیکھو کہ ان مداریوں نے آج تک تمہارا بھی کوئی فائدہ کیا یا تم سے اپنی ہی پٹاریاں بھرواتے رہے ہاں ہاں ! اپنے گزشتہ حالات ‘ اپنے آباء و اجداد کی تاریخ اور اپنے موجودہ دور کے ان ڈگڈگی بجانے والوں کی ڈگڈگی پر کان نہ دھرو یہی ایک ایسی صورت ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ فگن ہو۔ لیکن کیا پہلے باز آئے تھے کہ یہ لوگ باز آئیں گے۔
Ayah 36:46ان کے پاس جتنی نشانیاں آئیں ان سے ہمیشہ منہ ہی پھیرا اور مزید کا تقاضا کیا :
46۔ ان کا طریقہ پیچھے سے یہی چلتا آرہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آئی تو انہوں نے اس کو دیکھتے ہی اس سے منہ پھیرلیا اور روگردانی کرنے لگے اور نئے ماحول کے نئے تقاضوں کی رٹ انہوں نے لگائی ان کی اس ناجائز اور بیوقوفانہ رٹ نے نہ تو پچھلوں کو کوئی فائدہ دیا اور نہ ہی ان کو کوئی فائدہ ہوگا ‘ پچھلوں نے اپنی دی گئی مہلت کو ضائع کیا اور یہ لوگ اپنی مہلت کو ضائع کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے مثل ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں کو نہیں مانتے ۔ “
Ayah 36:47ان کو جب راہ الہی میں خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں :
47۔ سرمایہ داری اور غربت ومفلسی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ آج تک جتنے سرمایہ داروں کا ذکر قرآن وحدیث میں کیا گیا چند معدودے انسانوں کے سوا اکثریت نے غربت ومفلسی کو کبھی برداشت نہیں کیا اور نہ ہی ان کی انسانیت کا احترام کرنے کی کوشش کی بلکہ ہمیشہ غریبوں اور مفلسوں کو مزید غریب اور مفلس بنانے کا کام کیا ۔ ان کے لیڈروں نے ہمیشہ یہی اعلان کیا کہ ہم غربت ومفلسی کو ختم کرنے کے لیے آئے ہیں تو انہوں نے نتیجۃ غریبوں اور مفلسوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری جب کوئی غریب ہی نہ رہے گا تو ان کے خیال میں اس طرح غربت اور مفلسی ختم ہوجائے گی لیکن اس سلسلہ میں آج تک جتنی کوششیں ہوئیں ناکام ہی ہوئیں ، ان کو جب بھی کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے کچھ خرچ کرو تاکہ مفلسوں اور ناداروں کی مفلسی اور ناداری ختم ہوجائے تو انہوں نے اس دعوت کا ہمیشہ مذاق اڑایا ہے کہ تم ان بھک منگوں اور ناداروں کے لیے ہم سے رزق کیوں مانگتے ہو اگر اللہ ان کو دینا چاہتا تو خود ہی دے دیتا اور یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی ان کو نہ دینا چاہتا ہو تو تم اور ہم کون ہیں رزق عطا کرنے والے ۔ اس طرح مذاق کرکے ان کو ٹال دیا اور زور دار الفاظ سے انہوں نے کہا کہ اگر اللہ ان کو دینا یا کھلانا چاہتا تو کیا وہ نہیں دے سکتا تھا اور نہیں کھلا سکتا تھا کہ اس کی جگہ ہم ان کو دیں ‘ اگر اللہ ہی چاہتا تو ان کو یوں محتاج نہ کرتا اور جب اس نے ان کو بھوکا رکھنا چاہا تو اس کی مرضی کے خلاف آخر ہم کریں گے تو کیوں ؟ عجیب ہو تم کہ ایک طرف تو اللہ کے احکام بجا لانے کی دعوت دیتے ہو اور دوسری طرف اس کے فعل کو ناپسند کرتے ہو اس کے خلاف کر رہے ہو ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم بہک گئے ہو اور تمہاری عقل میں فتور آگیا ہے ۔
ذرا غور کرو کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کی کتنی صحیح عکاسی کی گئی ہے پہلے بھی اس کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی حال ہے اگر فرق ہے تو وہ صرف اتنا ہے کہ پہلے چند لوگ اس زہریلی ذہنیت کے مالک ہوتے تھے اور آج اس مادی ترقی کے دور میں ان کی تعداد بہت ہی بڑھ گئی ہے ‘ پہلے ان کی نظروں میں اپنی تعداد کے کم ہونے کی وجہ سے ذرا جھکاؤ آجاتا تھا لیکن اب ان میں احسان ومروت کی کوئی جھلک ہی باقی نظر نہیں آتی ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ اب ان کی بھی اقلیت نہیں رہی اور نہایت ہی ڈھیٹ ہوچکے ہیں اور یوں بھی کہا جاتا ہے کہ حیا آنکھوں میں ہوتی ہے اور جب انسان کسی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے تو حیا خود بخود عنقا ہوجاتی ہے ۔ کتنی سیدھی بات ان سے کی گئی کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تاکہ اس مال کے خرچ کرنے سے تمہاری آخرت سنور جائے اور جس طرح تم کو اس دنیا میں دیا گیا اسی طرح تم کو آخرت کی زندگی میں دیا جائے تاکہ تمہارا بھلا ہو گویا رب کریم نے یہ بخشش تم پر تمہارے ہی فائدہ کے لیے کی لیکن تم نے اس کا کتنا الٹا جواب دیا کہ اس کی بخشش سے کچھ فائدہ ہی حاصل نہ کرسکے گزشتہ لوگوں کی داستانوں کو نگاہ میں رکھو اور خود ہی فیصلہ کرلو کہ یہ جواب تم نے کس دل سے دیا کیا ایسا دل ایک مسلمان کا دل ہو سکتا ہے ؟ لیکن جب دولت واقتدار کا نشہ انسان کو چڑھ جاتا ہے تو اس کو کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہی حالت ان کی ہے کہ وہ الٹا ان لوگوں کو جو ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نصیحت کرتے ہیں کہہ رہے ہیں کہ تم ہم کو اس طرح کی نصیحت کر کے اپنی گمراہی کا اعلان کر رہے ہو اس لئے ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ تم بہک گئے ہو اور تمہاری عقل میں فتور آگیا ہے ۔ اس طرح کے اعتراضات اور انہی سیدھی باتوں کو اس دور کے مترفین بھی اکثر کرتے ہی رہتے ہیں اس لیے اس کی زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ۔
Ayah 36:48وہ کہتے ہیں کہ وہ وعدہ کب آئے گا ؟ ایک بات کرو اگر تم سچے ہو :
48۔ یہ سوال بھی ان کا کوئی نیا سوال نہیں بلکہ یہ وہی سوال ہے جو اس سے پہلے ساری قومیں کرتی رہیں اور اپنے اپنے نبی سے یہ مطالبہ جاری رکھا کہ تم جو ہم کو ایک برے دن کے عذاب سے ڈراتے ہو تو وہ برے دن کا عذاب اور برا دن آخر آئے گا کب ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کا جواب جلدی فراہم کرو اور اس سوال سے ان کا مدعا ؟ بلاشبہ ان کا مدعا اصلاح کا نہیں تھا بلکہ وہ مذاقا اس طرح پوچھا کرتے تھے اور ان لوگوں نے بھی یہ بطور مذاق ہی سوال کیا ہے گویا یہ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ الجھنا چاہتے ہیں اور اسلام اپنے ماننے والوں کو الجھنے سے روکتا اور منع کرتا ہے ۔ ماننا نہ ماننا انسان کی اپنی مرضی کی بات ہے ہادی کے ذمہ صرف ہدایت کو پہنچایا ہے ان کے اس سوال کا بار بار یہ جواب دیا گیا کہ اس کا متعین دن تو اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے میں اس کی نشاندہی نہیں کرسکتا ہاں ! اتنی بات ضرور کہتا ہوں کہ تمہاری انفرادی موت ہی ہر ایک انسان کی قیامت کا دن ہے اور پھر کیا تم کو اپنی موت پر یقین نہیں ہے کہ وہ آئے گی یا نہیں ؟ آئے گی اور پھر جب تم کو موت پر یقین ہے تو تمہاری بحث سے مراد کیا ہے اگر تم کو تمہاری موت کا دن بتا دیا جائے تو غور کرو کہ تم پر کیا گزرے گی ؟ تم اس طرح سوال اٹھا کر سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اپنی جہالت کا کھلا ثبوت دے رہے ہو اور ایسے جاہلوں سے نمٹنا ہم کو خوب آتا ہے ۔
Ayah 36:49دراصل یہ لوگ اس چیلنج کا انتظار کر رہے ہیں جس چیلنج کی نذر پہلے لوگ ہوئے :
49۔ وہ جس گھڑی کے انتظار میں ہیں اسی کے انتظار میں ان کا کام تمام ہوجائے گا اور پھر ان کو اس دنیا میں آنے کا موقع قطعا نہیں دیا جائے گا اس کے بعد جب وہ گھڑی آئے گی تو ان کو لائن حاضر کرلیا جائے گا ۔ رہی یہ بات کہ وہ گھڑی کیوں نہیں بتا دی جاتی تو اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کے آنے کا وقت ہم نے نہ تو اناؤنس کیا ہے اور نہ ہی اس کو اناؤنس کیا جائے گا کیونکہ اس کے اچانک آنے کا اعلان ہماری طرف سے پہلے کیا جا چکا ہے اور ہمارے ہاں ایک بات دو دو طریقوں سے نہیں کی جاتی ۔ ہاں ! ان کو یہ بات پہلے بھی بتائی گئی اور دوبارہ سہ بارہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک چیخ ہوگی جو نہایت گرجدار ہوگی اور اس کی مہیب آواز سے ہی سب کا کام تمام ہوجائے گی اور اس طرح ان کو اچانک پکڑ لیا جائے گا کہ وہ آپس میں کسی معاملہ میں جھگڑ رہے ہوں گے تو جھگڑتے جھگڑتے ہی وہ ان کو آنے کا اور اس کے لیے جو قرنا پھونکی جائے گی وہ پھونکنے والے فرشتے کی منہ میں دی جا چکی ہے اور وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے اس حکم کے انتظار میں کھڑا ہے اور اس وقت تک کھڑا رہے گا جب تک کہ وہ آ نہیں جاتی تاکہ حکم ملتے ہی وہ سائرن بجا دے ۔
Ayah 36:50اس وقت نہ تو ان کو کوئی وصیت کا موقعہ ملے گا اور نہ ہی وہ اپنے لوگوں میں جاسکیں گے :
50۔ اچانک اس طرح کی افراتفری پھیل جائے گی کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کدھر کو جانا ہے گویا اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس عالم میں نہ تو ان میں سے کوئی کسی کی وصیت کرسکے گا اور نہ ہی وہ اپنے اپنے لوگوں میں واپس جاسکیں گے اور جہاں وہ ہوں گے اس جگہ ان کو وہ چیخ دبوچ لے گی اور وہیں بلکہ اسی جگہ پر وہ ڈھیر ہوجائیں گے ۔
Ayah 36:51دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ہر انسان رب کریم کے سامنے حاضر کرلیا جائے گا :
51۔ دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے جو آواز پیدا ہوگی جس کو صیحہ سے موسوم کیا گیا ہے بعض جگہ یہ آواز قرنا وصور ہی کی مذکور ہے اگرچہ یہ ساری باتیں تفہیم انسانی ہی کے لیے ہیں جن کی حقیقت اللہ رب کریم ہی جانتا ہے کہ اصل میں کیا ہوگی بحث تو ماحصل سے ہے اور ماحصل یہ ہے کہ ساری کائنات کا نظام بدل جائے گا ‘ نہ زمین یہ زمین ہوگی اور نہ آسمان یہ آسمان رہیں گے اور اسی طرح اجرام فلکی وسماوی کی حیثیت بھی بدل دی جائے گی اور سب کا سب ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گا انسان وحیوان ‘ نباتات و جمادات بلکہ ہر ایک چیز کو ہلاک وفنا کردیا جائے گا ۔ زمین صاف چٹیل زمین کی طرح بنا دی جائے گی اور اس کے بعد دوسری گھنٹی ‘ پھونک ‘ نفخ ‘ صور ‘ قرنا جو کچھ بھی کہو واقع ہوگی تو ہر طرف انسان ہی انسان پھیلتے ہوئے نظر آئیں گے اور یہ وہ سارے انسان ہوں گے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر تاقیام قیامت پیدا ہوئے ہوں گے اپنے اپنے دور کی ساری امتیں اکٹھی ہوجائیں گی اور تیزی سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف چلنے لگیں گے اس حاضری کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے اور ماحصل سب کا فقط حاضری ہے اور بیان کا اصل مدعا انسان کو اپنے اعمال کے نتیجہ سے دوچار کرنا ہے جو یقینی اور اصلی چیز ہے حالت اس کی اس وقت کچھ بھی ہو کیونکہ مقصود بیان حالت نہیں بلکہ نتیجہ اعمال ہے اور اس کی تفہیم کے لئے آسان طریقہ سے بیان جو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کامیاب ہونے والوں کے دائیں ہاتھ میں نتیجہ ہوگا اور ناکام ہونے والوں کے بائیں ہاتھ میں اور اسی پہچان سے سب کو اپنے رزلٹ سے واقفیت ہوجائے گی اور ایسا ممکن نہیں ہے کہ جس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ بائیں کی بجائے دائیں میں پکڑ لے کیونکہ اس وقت انسانی اعضا پر انسان کا اپنا کنٹرول نہیں رہے گا بلکہ اس پر پورا کنٹرول اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کا ہوگا اور اسی کے کنٹرول سے ان سب کی حرکات ہوں گی جس کی وضاحت دوسری جگہ انسان کے اپنے ہاتھ ‘ پاؤں اور جلدوں تک کی گواہی کا ذکر کرکے سمجھایا گیا ہے اور یہ چیز کوئی مشکل نہیں بلکہ اس طرح سمجھ لیجئے کہ انسان کی اپنی حرکات و سکنات جن کو وہ کرچکا ہے وہ اس طرح محفوظ ہوگی کہ وہی حرکات و سکنات اس کے سامنے ہوں گے جن کو وہ دیکھ رہا ہوگا جس طرح ویڈیو کی ریل ایک بھر دی جائے تو جس کی ریل بھری جا رہی ہے اس کی حرکات و سکنات اس میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور اب اس ریل کو ٹیوی پر یہ خود بھی دیکھ ہے یا اس کو بھی دکھائی جاسکتی ہیں وہ سب حرکات و سکنات اس کی ہیں لیکن اس وقت وہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ بھی رہا ہے اور اس کی ہر حرکت اس کے اپنے جسم اور زبان اور ہاتھ پر گواہی دے رہی ہوتی ہے ایسا ہی منظر اس کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کو وہ خود بھی دیکھے گا اور اس کے ساتھ دوسرے سارے لوگ بھی گویا صرف الفاظ ہی محفوظ نہیں کیے جا رہے بلکہ اس کی حرکات و سکنات اور چہرے کا اتار اور چڑھاؤ سب کچھ دیکھا جا رہا ہوگا ۔
Ayah 36:52وہ کہیں گے ہائے افسوس ہم کو ہماری خواب گاہوں سے ہم کو کون اٹھالایا :
52۔ یہ کہنے والے کون ہیں ؟ وہی جو قیامت کے واقع ہونے سے انکاری تھے جب ان کو لا کر میدان حشر میں کھڑا کردیا جائے گا اور وہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوں گے تو ان کی جو حالت ہوگی اس کا ذکر اس جگہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کو دیکھتے ہی اپنا سر پیٹ لیں گے اور کہیں گے یہ تو وہی دن ہے جس کی ہم کو اطلاع دی جاتی رہی اور ہم اس کا مسلسل انکار کیے جاتے رہے ۔ ہائے افسوس ہم کو ادھر کون لے آیا ؟ کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے جگا دیا اور اب ہمارا کیا ہوگا اور کہاں ہم کو لے جایا جائے گا اس طرح گزشتہ خیالات کے تحت ہی وہ زبان کھولتے ہوں گے اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی ‘ ان کی آنکھوں کی پٹی اتر چکی ہوگی اور دلوں کے زنگ بھی دور کیے جا چکے ہوں گے اور اس طرح کانوں کے بوجھ بھی نکل چکے ہوں گے اور اب خود بخود ہی اقرار کرتے ہوں گے کہ یہ تو وہی دن ہے جس کی خبر ہم کو ہمارے رسولوں نے دی تھی اور ہم نے ان کو صاف صاف جھٹلا دیا تھا اور ان ہی کو الزام دیا تھا کہ تم ان ساری باتوں کو اپنے پاس سے گھڑ کر بیان کر رہے ہو ۔ ہم کو آج پتہ چلا کہ یہ وعدہ تو رب الرحمن کا تھا اور ہم سے جو کچھ رسولوں نے کہا تھا وہ تو بالکل صحیح اور سچا تھا گویا اب وہ اپنے نفسوں ہی کے اندر اس طرح کی یہ ساری بحث کر رہے ہیں گویا خود ہی سننے والے ہیں اور خود ہی سنانے والے بھی ، فطرت انسانی کے عین مطابق اس کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ اب بھی جب دنیوی زندگی کے حالات میں ایک ہونے والا واقعہ ہوجاتا ہے اور اس کے معرض وجود میں آنے سے پہلے انسان کو یقین نہیں آتا کہ کیا ایسا بھی ہوجائے گا تو وہ تخلیہ کے اندر اپنے آپ کو مخاطب کرکے اس طرح کی باتیں کرتا ہے اور گزشتہ اوقات کی یادیں جب اس کو ستاتی ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر یہ سب کچھ اپنے جی سے کہتا رہتا ہے ۔
Ayah 36:53بس ایک ہی آواز سے وہ سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے :
53۔ گھنٹی ایک ہی ہے اور ایک ہی طرح بجتی ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ یہ سکول کھلنے کی گھنٹی ہے یا سکول بند ہونے کی ، ایک سائرن بجے گا تو وجو اس سائرن کے بعد ہونے والا ہے وہ خود بخود ہوتا چلا جائے گا نہ تو احداث ومراقد سے ان کو اپنے اختیار سے اٹھنا ہے کہ جس کا جی چاہا وہ اٹھا اور جس کا جی نہ چاہا وہ سویا رہا چلو زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ اس کی غیر حاضری ہوجائے گی نہیں ! یہ اختیار اور بس کا معاملہ ہی نہیں جس طرح اس دنیا میں موت بھی کسی انسان کی اختیاری چیز نہیں ہے اسی طرح وہاں اٹھایا جانا بھی اختیاری نہیں ہوگا بلکہ ایک آواز پیدا ہوگی اور اس کے ساتھ ہی جو کچھ ہونا ہے وہ طے شدہ نظام کے تحت ہوجائے گا اسی طے شدہ نظام کے مطابق وہ حاضری بھی ہے جس حاضری کا اس جگہ ذکر ہو رہا ہے کہ ایک آواز بلند ہوگی تو وہ رب کریم کی بارگاہ کی طرف دوڑنے لگیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب حاضر ہوجائیں گے اور کسی کے اختیار ہی میں نہ ہوگا کہ وہ وہاں حاضر نہ ہو ۔
Ayah 36:54کسی کے ساتھ ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں ہوگا اور کیے کا پورا پورا بدلہ ملے گا :
54۔ یہ دن تو دنیا میں ایک دوسرے پر کیے گئے مظالم کے بدلہ کا ہوگا اور پھر ظاہر ہے کہ جب کسی ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملتا ہے تو دیکھنے والوں کو جن کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو کس چیز کی سزا مل رہی ہے تو وہی کچھ کہیں گے جو دیکھیں گے اور مال سے تو ہر ایک آگاہ نہیں ہوتا اس لئے عام ضابطے کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ وہاں کے مناظر سے یہ نہ سمجھا جائے کہ شاید کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہورہی ہے ‘ نہیں ! ہرگز نہیں جس کے کان پکڑا کر جوتے لگائے جا رہے ہوں یا جس کو الٹا لٹکایا گیا ہو یا جس کے ساتھ جو بھی کیا جا رہا ہوگا وہ اس کے کئے کے بدلہ میں کیا جا رہا ہوگا ۔ اس کو دیکھ کر ہی نمبر ایک کے متعلق یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ یہ کسی معاملہ کا مجرم ہے جس کو اس طرح کی سزا دی جا رہی ہے کیونکہ وہاں کسی کے ساتھ زیادتی کئے جانے کا کوئی سوال نہیں ہے کہ وہ دنیا کی پولیس چوکی نہیں ہے اور نہ ہی اس جگہ کا کوئی تھا نہ اور حوالات ہے وہاں عین انصاف کے ساتھ جو کسی نے کیا ہے اسی واردات کے مطابق اس کی ایف آئی آر تو درج ہوگی اور اس کے مطابق اتنی سزا اور اسی قسم کی سزا جس قسم کا جرم ‘ کسی چھوٹے بڑے کے ساتھ نہ زیادتی ہوگی اور نہ ہی کسی کا لحاظ کیا جائے گا اور کوئی نہیں جو وہاں تھا نہ میں حاضر ہو کر کسی کی سفارش کر دے یا تھا نہ دار کو کوئی وزیر اعلی رو در رو دو چار سنا دے پہلے تو کسی کو جرات ہی نہیں ہوگی اور اگر کسی نے جرات کی تو وہ منہ کی کھائے گا اور پہلے ہی کیا ذلیل تھا کہ مزید ہوگا تاکیدا کہا جا رہا ہے کہ سب کو بدلہ ان کے اعمال کے مطابق ہی دیا جائے گا ۔
Ayah 36:55جنت میں داخل ہونے والے میووں میں خوش ہوں گے :
55۔ (شغل) وہی چیز ہے جو انسان کو کسی حالت میں مشغول کردیتی ہے فرمایا جا رہا ہے کہ جنت کی اجازت ملنے والوں کو اتنی خوشی ہوگی کہ وہ جنت کے میووں سے مشغول ہوجائیں گے اور یہ میوے اور پھل ان کی چاہت کے مطابق ہوں گے اور اس وقت کسی کی کیا چاہت ہوگی اس وقت اس کے متعلق جو کہا جائے گا وہ بطور تفہیم یا بطور عقل وفہم ہی کہا جائے گا اور یہ بھی کہ اس خوشی کے عالم میں عین ممکن ہے کہ سب سے پہلے انسان ان لوگوں کی طرف نظر پھراتا ہے جو اس کے جاننے والوں اور رشتہ داروں میں سے ہوں گے کیونکہ ایسی حالت میں یہ خوشی بھی ساری خوشیوں سے بڑھ کر ہے کہ بعض اوقات کسی عزیز کے پاس ہونے کی خبر ہی اس کی خوشی کی سب بڑی چیز ہوتی ہے اور اس سے اس کی تکان دور ہوجاتی ہے اور اس سے اس کی بھوک وپیاس بجھ جاتی ہے بہرحال اہل جنت اس وقت جنت کے اندر اپنی مطلوبہ چیزوں اور اپنے مطلوب پھلوں اور میووں میں مشغول ہوں گے اور ان کی اس مصروفیت میں کوئی لغو بات نہیں ہوگی ۔
Ayah 36:56وہ بھی اور ان کی ازواج بھی آمنے سامنے تکیے لگائے ہوئے ہوں گے :
56۔ دنیوی زندگی میں انسان کے لیے جو مزا اور جو لطف اپنے بال بچوں اور اہل و عیال میں رہ کر محسوس ہوتا ہے وہ کسی دوسری جگہ اس کو نصیب نہیں ہو سکتا ۔ ماں ‘ باپ ‘ چچا ‘ تایا ‘ ماموں ‘ پھوپھی اور اسی طرح کے سارے اعزہ و اقرباء کا ایک مقام ہے لیکن جو بات کسی انسان کو اپنی زوجہ محترمہ اور زوجہ محترمہ کو اپنے زوج محترم کے ساتھ ملتی ہے اور جو سکون اس جگہ نصیب ہوتا ہے وہ کسی دوسری مجلس میں نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ جو کھلا پن اور اوپن ماحول اور کسی طرح کی حرکت میں کوئی حجاب نہ ہونا اور ہر لحاظ سے سکون و آرام زوجین کو ایک دوسرے سے حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسری جگہ ممکن ہی نہیں ہاں ! دنیا کی کثافتوں اور ماحول کی پیچیدگیوں میں پھر اس کے خلاف ممکن ہے لیکن کسی پاکیزہ زندگی میں اس کے بدلہ کی اور کوئی چیز نہیں ہے تعجب ہے کہ ایک آدمی دیار غیر میں دولت کے ڈھیروں سے کھیل رہا ہو اور آرام و آسائش کی ساری سہولتیں اس کو میسر ہوں حتی کہ گرل فرینڈ کی ہمدردیاں بھی اس کو حاصل ہوں پھر بھی جو بات ‘ جو لطف اس کو اپنے ملک ‘ اپنے ماحول اور اپنے لوگوں اور اپنی منکوحہ اور بال بچوں میں نصیب ہو سکتا ہے وہ کسی دوسرے ماحول میں نصیب نہیں ہو سکتا ۔ بلاشبہ آدمی تفریح کے مقامات اور دوستوں اور عزیزوں کے ہاں بھی اگر ماحول اچھا ہو تو خوشی محسوس کرتا ہے لیکن اس کی ساری گھٹنیں وہیں دور ہوتی ہیں جہاں اس کے پہلو میں ایک دوسرا دل بھی دھڑکتا نظر آئے اور پھر دونوں ہی دلوں کے اندر ایک خاص کشش بھی موجود ہو اور وہ کشش زوجین کے سکون کی ہو اور وہ سکون انسان کے پہلو میں موجود ہو تو اس صورت حال کو نہ قلم تحریر کرسکتا ہے اور نہ ہی زبان بیان کرسکتی ہے اور بلاشبہ دل کی باتیں دل ہی پر القاء ہوتی ہیں اور اس کا لطف وہی محسوس کرسکتے ہیں جن دلوں کے اندر ایک دوسرے کی طلب رکھی گئی ہے ۔
Ayah 36:57ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور وہ بھی جو وہ مانگیں گے :
57۔ (ادعا) اس مانگنے کو نہیں کہتے جس کے لیے کہیں درخواستیں دینی پڑیں اور منظوری حاصل کرنی پڑے ۔ (ادعا) وہ مانگنا ہے کہ طلب پیدا ہوئی اور جس چیز کی طلب پیدا ہوئی تو وہ اسی وقت حاضر ہوگئی ، زیر نظر آیت ہمیں بتا رہی ہے کہ ان کی خواہش میں جو چیز آئے گی ان کو حاضر کردی جائے اور جو وہ مانگیں گے وہ پیش کیا جائے گا اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ بعض اوقات انسان کی طلب اس میں خوشی محسوس کرتی ہے کہ کوئی اس کو پیش کرنے والا ہو اور کوئی ایسا مقام بھی ہوتا ہے کہ اس کی خواہش میں ہوتا ہے کہ اس تنہائی کے عالم میں کوئی بھی دوسرا پاس نہ ہو بس ہو تو وہی جس کی اس کو اس وقت طلب ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ جیسی اس کی طلب ہوگی ویسا ہی اس کو پیش کردیا جائے گا کسی کے پیش کرنے کی خواہش ہے تو فرشتے حاضر ہیں اور اگر صرف چیز کی طلب ہے تو وہ ارادہ کے اندر آنے کے ساتھ حاضر ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اس جگہ ہرچیز میں پاکیزگی ہی پاکیزگی ہوگی وہاں گند کے مٹکے اور پیشاب کے ٹھوٹھے نہیں ہوں گے اور نہ ہی مخمور کردینے والی شراب ہوگی بلاشبہ وہاں پاکیزگی اور طہارت کے سوا کچھ مطلوب نہ ہوگا اور جو کچھ ہوگا اس کو ہم اس وقت بھی جانتے ہیں کہ کیا ہوگا ۔
ہمیں معلوم ہے ‘ ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے ‘ وہ ہم کو دیکھتا ہوگا ۔
Ayah 36:58ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی کی صدائیں ہوں گی جو رب رحیم کی طرف سے ہوں گی :
58۔ وہاں کی ساری خوشیاں اور ساری راحتیں بجا لیکن رب کریم غفور رحیم جو اصل محبوب ہے جس کی رضا جو ئیوں کے لیے دنیا میں جو کیا وہی کیا کہ اس کا دیدار نصیب ہوجائے جس کی خاطر دنیا کی ہر مصیبت کو آسانی سے برداش کیا گیا وہ وہاں براہ راست خطاب کرتا ہوا دکھایا جائے گا تو اس وقت بلاشبہ ساری مسرتوں اور عزت افزائیوں کی انتہا ہوجائے گی اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ یعنی اہل جنت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح چودہویں کی رات کے چاند کو دیکھا جاتا ہے کہ کسی دیکھنے والے کو کوئی دیکھنے کے لیے اہتمام نہیں کرنا پڑتا بلکہ جہاں اور جس جگہ عالم دنیا میں کھلی فضا کے اندر ہو دیکھ سکتا ہے ‘ انسان کے اپنے بنائے ہوئے پردے ہی اس کے راستے میں حائل ہوں تو ہوں رب کریم کا بنایا ہوا کوئی بھی پردہ ایسا نہیں جو چودہویں کے چاند کو دیکھنے سے باز رکھے یہ وہ انعام ہے جس کے مقابلہ کا اور کوئی انعام نہیں ہوگا ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 36:59یہ وہ دن ہے کہ مجرموں کو ان پاکبازوں سے بالکل الگ کردیا جائے گا :
59۔ اہل جنت کے ہاتھ میں تو جنت کے انعامات ہوں گے اور وہ جتنے جتنے حصے کے مالک اور وارث قرار پائیں گے وہ ان انعامات میں بہت خوش وخرم ہوں گے لیکن مجرموں کو تو ان اہل جنت سے الگ کردیا جائے گا اس لیے کہ مجرم تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکیں گے ہاں ! ان کی آنکھیں ان کا ضرور نظارہ کرتی ہوں گی لیکن اہل جہنم کے سارے گروہوں کو بھی الگ الگ کردیا جائے گا تاکہ جو کوئی جس حصہ جہنم میں سزا پانے کے قابل ہوگا اس حصہ میں اس کو ڈالا جاسکے اور یہ بھی کہ اہل جہنم میں سے وہ بھی ہیں جن کو ایک مدت عذاب میں مبتلا رکھنے کے بعد نکالا جائے گا لہذا ان سب کو الگ الگ کردیا جائے گا اور جو جس حصہ جہنم کے قابل ہوگا اسی حصہ کے ساتھ جمع ہوگا اور اس طرح ان کو الگ الگ جس حصہ جہنم کے وہ اہل ہوں گے اس حصہ جہنم میں ان کو داخل کردیا جائے گا اور وہ اس میں نہایت کربناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔
Ayah 36:60ان کو مخاطب کیا جائے گا جو مشرکوں کے گروہ ہوں گے اور ایک دوزخ میں ہوں گے :
60۔ اہل دوزخ میں سے اس طبقہ کے لوگوں کو مخاطب کیا جا رہا ہے جس طبقہ میں سب طرح کے مشرک جمع ہوں گے اور ان کو مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ اے اولاد آدم ! تم سے اس بات کا پختہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ شیطان کی عبادت مت کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، ظاہر ہے کہ مشرکوں کی بھی کئی اقسام ہیں بعض وہ ہیں جو سورج ‘ چاند اور ستاروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان اجرام فلکی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان میں وہ بھی ہیں جو درختوں ‘ پتھروں ‘ پانیوں اور جانوروں کی پرستش کرنے والے ہوں گے اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے نیک بندوں کے بت بنا کر پوجنے والے تھے اور ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے بزعم خویش فرشتوں اور نبیوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے کر ان کی پرستش کی یا اللہ کا شریک ٹھہرایا اور وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں ہی پر اکتفا کیا اور ان کے اندر دفن کی گئی شخصیتوں کو اپنے معبود اور حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیا اور ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے دور کے پیروں اور بزرگوں ‘ بادشاہوں اور ان کے وزیروں ‘ مشیروں کو ہی اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر انہی کی خوشنودی اور محبت میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کو بالکل بھلا دیا تھا ان سارے مشرکوں کا اصل استاد اور راہنما چونکہ شیطان ہی ہے اس لیے ان سب کو مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے شیطان کی عبادت کیوں شروع کردی تھی اور اس ایک ہی خطاب میں ان مشرکوں کی ساری جماعتیں داخل کردی جائیں گی کیونکہ اس ابدی دشمن نے ان سب کو ان راہوں پر ڈالا تھا اور یہ وہی شیطان ہے چونکہ ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا گیا ہے جس کی قوت بہیمیہ یا برائی کی قوت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے آج وہ کتنا خوش ہے اگرچہ دوزخ کا ایندھن ہے کیونکہ وہ جیت گیا ہے اور جیتنے کی خوشی میں اس کو آگ بھی قبول ہے کہ اس نے اپنے مد مقابل انسان کو اکثریت حاصل کرکے ہرا دیا ہے ، تف ہے اس عقل پر جس نے ہار جیت کا معیار اکثریت کو قرار دیا اور تف ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اس معیار کو قبول کیا کیونکہ یہ معیار ہی شیطان کا ٹھہرایا ہوا ہے ۔
Ayah 36:61تم کو کہا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو کہ یہی سیدھی راہ ہے :
61۔ حالانکہ تم سب کو کہا گیا تھا کہ شیطان کے کہنے میں نہ آنا کہ یہ تمہارا ابدی دشمن ہے اور صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اسی کو اپنا حاجت روا مشکل کشا اور ہر جگہ حاضر وناظر اور مددگار سمجھنا کیونکہ اس نے تمہاری بقا اور نشو ونما کے لیے سارے سامان کا بندوبست کردیا ہے اور اس امتحان میں جو زندگی کے دن تم کو دیئے گئے ہیں وہ اس طرح گزارنا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا لیکن تم نے وہی کیا جس سے تم کو منع کیا گیا تھا ۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ وہ گویا براہ راست ان مشرکوں سے مخاطب ہے کہ میں نے کہا تھا کہ یہ میری راہ ہے اور یہی سیدھی راہ ہے ۔
Ayah 36:62تمہاری اکثریت کو اس نے گمراہ کردیا کیا تم نے عقل سے کام نہ لیا ؟
62۔ تعجب ہے تم پر کہ تم میں سے تمہاری اکثریت کو اس نے گمراہ کردیا کیا تم کو عقل نہیں دی گئی تھی ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو عقل سے محروم کردیا گیا ہوتا اس لیے تم اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام غافل ہو کر غیروں کیطرف جھک جاتے تو تم کو کوئی عذر نہ ہوتا لیکن تم کو اللہ نے عقل عطا کی تھی اور اس عقل سے تم اپنی دنیا کے سارے کام چلاتے رہے اور پھر تم کو اللہ نے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ مطلع بھی کردیا لیکن اس کے باوجود تم ان کے دشمن ہوگئے اور شیطان کے مددگار بنے اور وہی تم کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوا اور تمہاری مت اس نے کس طرح مار دی ۔ زیر نظر آیت میں بھی اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا کہ تعجب ہے کہ عقل تم کو دی گئی لیکن اس کے باوجود تم اس کے دھوکے میں آگئے اور علاوہ ازیں بھی بہت سی آیات میں یہی مضمون بیان کیا گیا اور بعض جگہ دوزخ میں جانے والوں نے خود اس بات کا اقرار کیا کہا گر ہم عقل وفکر سے کام لیتے تو آج ہم دوزخ کے اہل کیوں ہوتے ۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” وقالوا لوکنا نسمع اور نعقل ما کنا فی اصحب السعیر “۔ (الملک 67 : 10) ” اہل دوزخ کہیں گے کہ کاش ہم رسولوں کی بات سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے ۔ “ یہ تو ان لوگوں کا بیان ہے جنہوں نے عقل سے کام نہیں لیا اور جو عقل سے کام نہ لینے کے وعظ کرتے رہے اور لوگوں کو منع کرتے رہے اور ببانگ دہل کہتے رہے کہ لوگو ! دین اسلام میں عقل سے کام لینا گناہ ہے ‘ دین کی باتیں عقل سے نہیں سمجھی جاسکتی ‘ ان کا حال کیا ہوگا ؟ قرآن کریم نے دوسری جگہ وضاحت فرما دی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو دوزخ کے ایندھن کے طور پر کام آئیں گے کیونکہ انسانیت کا سارا انحصار عقل پر ہے اگر عقل سے کام نہ لیا جائے تو پھر انسان حیوانوں سے بھی بدتر ہوجائے عقل ہی کے باعث انسان مکلف قرار پایا پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ علماء کرام کو عقل سے کیوں بیر ہے حالانکہ عقل سے کام نہ لے کر اہل دوزخ دوزخ کے اہل ہوگئے اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ان عقل کے اندھوں کو اللہ عقل سے کام لینے کی توفیق دے ۔
Ayah 36:63یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا رہا تھا :
63۔ اہل دوزخ سے کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عقل وفکر دی اور تم کو ہر ممکن باور کرایا کہ عقل وفکر تم کو اس لیے دی گئی کہ تم اس کو استعمال کرو اور حق وناحق کو سمجھو اور اگر تم نے عقل سے کام نہ لیا اور حق وناحق کو سمجھنے کی کوشش نہ کی بلکہ دوسروں کی تقلید پر انحصار کیا اور جو کسی نے کہا بغیر عقل وفکر سے کام لیے اس کو مان لیا تو تمہارا یہی حال ہوگا کہ انجام کار تم کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا پھر تم نے وہی کیا جس سے تم کو منع کیا گیا تھا اور آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور اپنے جسم پر آزما لو یہی ہے وہ دوزخ جس کا تم کو وعدہ دیا گیا تھا
Ayah 36:64آج تم اپنے کفر کے باعث اس میں جھونک دیئے گئے ہو :
64۔ آج جو تم اس میں سسکیاں بھرتے ہو اور چیختے چلاتے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟ کیا ہم نے تم کو ایسے ہی پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا ہے ؟ کیا یہ پھانسی کا پھندا تمہارے گلے میں اس لیے ڈالا گیا ہے کہ اس میں وہ فٹ ہو رہا تھا یا اس لیے کہ تم اس کے مستحق ٹھہرے ؟ ہاں ! آج کے دن نہایت عدل و انصاف کے ساتھ وہی کچھ اس کدیا گیا جس کا وہ مستحق قرار پایا تھا ۔ اس لیے تم کو بھی تمہارے کفر ہی کے باعث اس میں ڈالا گیا ہے ۔
Ayah 36:65مجرموں کے اپنے اعضاء ہم سے باتیں کر ہم سے باتیں کر رہے ہیں اور ان کے مونہوں پر مہر لگ چکی ہے :
65۔ ہاتھوں کی باتیں اور پاؤں کی گواہی آج کسی فرد سے پوشیدہ نہیں رہی بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جنہوں نے ہمارے ایمان بالغیب کو ایمان بالشہادہ میں بدل دیا ‘ ان کا مقصد اس ایجاد سے تھا وہ ان کو مبارک ہو ہم کو تو معلوم ہوگیا کہ انسان کے منہ پر کس طرح مہر لگائی جاتی ہے اور پھر کیونکر اس کے ہاتھ اس پر گواہی دیتے ہیں اور پاؤں کس طرح شہادت پیش کرتے ہیں اور اس طرح ہمارا ایمان انہوں نے تازہ کردیا ایک نقب زن کو نقب زنی کرتے ہوئے جب انہوں نے دکھا دیا اور ہماری آنکھوں نے اس کو نقب لگاتے دیکھ لیا تو وہ نقب کس سے لگا رہا تھا بلاشبہ وہ اس کے ہاتھ ہی تھے ، وہ ڈاکہ ڈالنے کے لیے رات کے اندھیرے یا دن کے اجالے میں جب نکلا تو ہم نے اس کے پاؤں کو خود اپنی آنکھوں سے چلتے ہوئے دیکھ لیا پھر جب اس نے کلاشنکوف نکالی اور ایک کی کنپٹی پر رکھ کر چابیاں مانگیں ‘ سیف کھولی اور نقدی اور زیورات لے کر بھاگا تو اس کے پاؤں اس بات کی شہادت پیش کر رہے تھے اور ہم نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اس نے ہم سے کچھ نہیں کہا ہم اس سے بالکل مخاطب نہیں ہوئے اور اس نے ہم کو کچھ نہیں بتایا لیکن اس کے ہاتھوں اور پاؤں نے ہم کو وہ سب کچھ بتا دیا جو ہم جاننا چاہتے تھے اور آج ہمارا ایمان بالغیب ‘ ایمان بالشہادہ میں تبدیل ہوگیا اس کا موجد کافر تھا یا کافر کا بچہ ہم اس کے لیے دعا گو ہیں کہ ہم ناکاروں کو اس نے وہ سب کچھ سمجھا دیا جس کے لیے ہم مضطرب تھے ، سچ ہے کہ سب مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ جس سے چاہے وہ کام لے لے جس کے کرنے کا حق اس نے جن لوگوں کو دیا تھا جب وہ اس سے آنکھیں بند کرلیں ، بلاشبہ یہ کام ہم مسلمانوں کا تھا لیکن ہم نے اس سے آنکھیں بند کرلی تو اس نے ان سے کام لے لیا جو اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے ۔
Ayah 36:66اگر ہم ان کی آنکھیں مٹا دیں تو یہ راستہ تلاش کریں بھی تو کس طرح پائیں گے ؟ :
66۔ دنیا میں وہ سب کچھ کرتے رہے اور ان کو اتنی مدت ڈھیل دی گئی تو وہ اس لیے نہیں کہ ان تک ہمارے ہاتھ نہیں پہنچ سکتے تھے کیوں نہیں ‘ ہم نے جو ان کو مہلت دی تھی وہ محض اس لیے تھی کہ ہم نے ان کو پکڑنے کے لیے ایک دن مقرر کردیا ہوا تھا ۔ اگر ہم چاہتے تو اس وقت بھی پکڑ سکتے تھے اور ایسے شکنجے میں کس سکتے تھے کہ یہ ساری زندگی اس سے پیچھا نہ چھڑا سکتے فرمایا یوں سمجھ لو کہ اگر ہم ان کی آنکھوں کو اس طرح اچک لیتے کہ وہ نہ راستہ دیکھ سکتے اور نہ ہی ان ڈاکوں اور چوریوں کے لیے نکل سکتے لیکن اس طرح اگر ان کو مجبور ومعذور کردیا جاتا تو آج وہ اس نتیجہ گاہ میں اس امتحان کا رزلٹ سننے کے لیے کیونکر بھیجے جاسکتے تھے اور اس ناکامی سے وہ کیونکر دوچار ہوتے ؟ کیونکہ نہ ہی ان کو راستہ نظر آتا اور نہ ہی وہ چوری اور ڈاکہ زنی کے مرتکب ہوتے ۔
Ayah 36:67اگر ہم چاہیں تو ان کو اس مقام پر جہاں وہ آرام کر رہے ہیں پکڑلیں :
67۔ ہمارے قانون میں ان سب کو نیک وبد سمجھ کر آزادی دی جاچکی ہے وہ چاہیں اپنی مرضی سے جو کریں ہم ان کو بزور پابند نہیں کریں گے اور اس اعلان کے بعد پھر ان کو بزور روک دیں ایسا نہیں ہو سکتا ہاں ! اگر ہماری طرف سے یہ ڈھیل نہ دی گئی ہوتی تو وہ دوسری بات تھی ، اگر ہماری مشیت کا فیصلہ یہ ہوتا کہ ہم چاہتے ان کو مسخ کردیں تو جس جگہ موجود تھے وہیں ان کو پکڑ کر اسی زمین کے اندر ان کو دھنسا دیتے یا زمین کو شق کر کے زمین کے اندر دھنسا دیتے ۔
اس طرح کہ نہ وہ آگے جاسکتے اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتے اور اسی جگہ پر ان کو ڈھیر کردیا جاتا ۔ لیکن جب ہم نے ان کو ڈھیل دے دی تو کیا ڈھیل دینے کا فیصلہ تمہاری خاطر واپس لے لیا جائے اور ان کو مشیت کے مطابق وہ کچھ نہ کرنے دیا جائے جو نہ کرنا چاہتے ہیں تو اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم انہی کو دیکھ لو جن کو ہماری مشیت نے یہ ڈھیل نہیں دی کیا ایسوں کی کوئی کمی ہے ۔
Ayah 36:68ایسے بھی ہیں جن کو اتنی لمبی عمر دے دی گئی کہ اب گناہ ان کو چھوڑ گئے ہیں :
68۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے زمانہ کے بہت بڑے رسہ گیر تھے ‘ پہلوان تھے ‘ اٹھارہ ہاتھ چھلانگ لگاتے تھے لیکن آج ان کی طویل عمری نے ان کو ساری قوتوں سے ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے اور جو وہ کیا کرتے تھے اس کی داستان گوئی کے قابل بھی نہیں رہے آنکھیں دیکھنے سے اور کان سننے سے ‘ پاؤں چلنے سے جواب دے چکے ہیں اور منہ ان کے اس طرح سی دیئے گئے ہیں کہ طلب و احتیاج کے لیے بھی وہ نہیں کھلتے کیا انکی اس حالت کو دیکھ کر بھی ان کے دیکھنے والوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جو انسان اپنے قوی پر بھی قابو نہیں رکھ سکتا اس کی حقیقت ہی آخر کیا ہے ؟ پھر اس کا اترانا اور اکڑنا کیا ہوا ؟ معلوم رہے کہ پیچھے جزا وسزا کا ذکر چلا آرہا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قانون کی وضاحت فرما دی کہ جب کسی کو اتنی لمبی عمر ملتی ہے تو آخر اس کے اعضا اس کو جواب دے دیتے ہیں بعینہ یہ صورت واقع ہوجاتی ہے کہ جب ہم کسی قوم کو زیادہ وقت دے دیتے ہیں تو اس کا مزاج اس قدر فاسد ہوجاتا ہے کہ اس کے اعضاء کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور انجام کار اس قوم کو اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے قوموں کا یہ عروج وزوال چلتا آیا ہے ‘ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ کو یہ قانون چلائے رکھنا ہے لیکن لوگ اکثر قرآن کریم کا مطالعہ اس بات کو مدنظر رکھ کر نہیں کرتے ، پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ زیر نظر سورت میں بھی بعض قوموں کے تکذیب کرنے کا ذکر موجود ہے تو اس کے پیش نظر اللہ نے اپنا قانون بھی بتا دیا ہے کہ جو قوم دنیا میں لمبی عمر پاتی ہے اور ترقی کرتی ہے آخر اس پر قانون قدرت کے مطابق وہ زمانہ آتا ہے کہ قوت کے بجائے ضعف پیدا ہو کر زوال کی حالت نمودار ہوجاتی ہے اور اس طرح یہ توجہ دلائی ہے کہ قوم کی حالت کو انسان کی حالت پر قیاس کرلو یا گزشتہ قوموں کے حالات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ قومیں اس دنیا میں بڑا بڑا اقبال حاصل کرکے اور ایک لمبے زمانہ تک عروج پاکر آخر کار مٹ گئیں تو پھر آخر قرآن کریم کی مخالفت کرنے والے کہاں باقی رہ سکتے ہیں اور اگر اس پر استدلال کرکے یہ کہا جائے کہ پھر اسلام پر بھی زوال آسکتا تھا تو یہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اسلام کسی ایک قوم کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ ساری قوموں کو ذم کرلینے والا دین ہے اور اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی جلد سوم سورة مائدہ کی آیت 69 ‘ جلد ششم سورة الحج کی آیت 17 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
(نکس) کی اصل ن ک س ہے سرنگوں یا سر جھکانے والے کو کہتے ہیں (نکس) سست اور کمزور آدمی کو کہا جاتا ہے (ننکسہ فی الخلق) ضعف پیری کے باعث جھک جانے والے لوگ جو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بھی مشکل ہی سے پہنچ سکتے ہیں یا بالکل نہیں پہنچ سکتے بلکہ ایک ہی جگہ پر پڑے رہنے والے ہوتے ہیں مراد بوڑھے اور کمزور لوگوں ہی سے ہے جو اچھے بھلے طاقت ور رہنے کے باوجود اب ناکارہ ہوچکے ہیں اور یہ ناکارہ ہونا ان مشیت ایزدی ہی کے مطابق ہے ۔
Ayah 36:69ہم نے اپنے رسول کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی شعر اس کے لائق ہے :
69۔ شاعرانہ تخیل ہونا ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم مبالغہ آمیزانہ تخیل ہے اور مبالغہ کسی بات میں بھی ہو وہ حقیقت نہیں ہو سکتی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ شاعر اور مبالغہ گویا لازم وملزوم ہیں ۔ شاعر خواہ کتنا ہی پاکیزہ خیال ومقالہ ہو آخر شاعر تو ہے اور یہی وجہ ہے کہ شاعر مبالغہ آرائی سے رہ نہیں سکتا خواہ وہ کیسا ہی پاکیزہ خیال کیوں نہ ہو ۔ یہ تخیل کہ بظاہر ہر قانون جسے لمبی عمر ملتی ہے وہ بناوٹ میں اوندھا بھی ہوتا ہے یعنی ضعف کے بعد قوت اور قوت کے بعد ضعف ایک شاعرانہ تخیل معلوم ہوتا ہے ، یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا تو اس کا جواب پہلے ہی دے دیا جیسا کہ قرآن کریم کے معجزانہ کلام کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے سوالواں کا جواب خود ہی دے دیتا ہے اس طرح یہاں بھی جواب دے دیا گیا کہ اچھی طرح سن لو کہ یہ شاعرانہ تخیل نہیں یہ ایک نصیحت ہے تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اصول صحیح کو قبول کرلیں ۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا شاعر نہ ہونا اور شعر نہ جاننا ایک تاریخی حقیقت ہے اور اس کی بھی ضرورت تھی کہ اس کا رد کردیا جائے کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب شاعری کے لحاظ سے ایک نہایت عروج کی حالت میں تھے اور اس فن کے ماہر وہاں بہت موجود تھے لیکن آپ کی طبیعت کو شعر سے ادنی مناسبت بھی نہ تھی اس کی مکمل وضاحت ہم پیچھے جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 5 ‘ سورة الشعراء کی آیت 224 میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
فرمایا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے شایان شان ہی یہ نہ تھا کہ آپ ﷺ شعر کہیں کیونکہ شعر میں مبالغہ آرائی لازم ہے یا کم از کم یہ کہ لازم سمجھ لی گئی ہے کیونکہ اکثریت کا یہی حال ہے ۔ پھر قرآن کریم کیا ہے ؟ فرمایا سراسر نصیحت ہے اور اپنی بات کو کھول کر اور واضح طور پر بیان کرتا ہے کوئی بات اس کی مبہم اور ناقص نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی شخص اس سے بےنیاز رہ سکتا ہے اور پھر پیش گوئی کے طور پر کتنا بڑا اعلان فرما دیا کہ قرآن کریم ہی وہ کتاب مانتے ہیں اور وہ بھی کثرت سے پڑھتے ہیں جو ان پر بظاہر ایمان لانے کی نفی کرتے ہیں اور آج یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جس انداز کے ساتھ اس کو غیر مسلم قوموں نے پڑھا ہے اس کو مسلم بھی نہیں پڑھ سکے کیونکہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت نے اس کو مردوں پر پڑھنے کے لیے خالص کرلیا ہے اور غیر مسلموں نے اس کو زندوں پر پڑھا ہے اور اس کی ابدی ہدایات سے بہت بڑا فائدہ انہوں نے حاصل کیا ہے اور لوگوں کو بھی پہنچایا ہے اور بلاشبہ یہ قرآن کریم کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو زندہ وتابندہ ہے اور تا قیامت زندہ وتابندہ رہے گا کہ وہ قول مبین ہے جو سمجھ کر پڑھے جانے کے قابل ہے اس لیے جو بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے گا سمجھ جائے گا ۔
Ayah 36:70زندوں کو ڈرانے کے لیے ہے اور کافروں پر حجت قائم کرنا ہے :
70۔ قرآن کریم زندوں کے لیے اتارا گیا ہے اور زندہ ہی اس سے ہدایت پاتے ہیں ۔ قرآن کریم نہ تو مردوں کے لیے اتارا گیا ہے کہ اس میں مردوں کی بخشش کا سامان ہو اور نہ ہی یہ مردہ دلوں کو ہدایت کرتا ہے بلاشبہ زندہ دلوں کو ہدایت کرتا ہے وہ بھی ان لوگوں کو جو اس کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں اور کافروں پر حجت قائم کرتا ہے کہ وہ بلاشبہ عذاب الہی کے مستحق ہیں اور یقینا ان کو عذاب دیا جائے گا ۔ افسوس کہ یہ آیت جس سورت میں بیان کی جا رہی ہے بدقسمتی سے علماء کرام کی اکثریت اسی سورت کو مردوں کے لیے مختص کرتی ہے اور ہر مرنے والے کی رسومات میں اس کی تلاوت لازم قرار دیتی ہے ، تف ہے ایسے علماء پر جن کے اپنے ہی دل مردہ ہوچکے ہیں ‘ انہوں نے پیٹ کے دوزخ کے ایندھن کے لیے کس چیز کو انتخاب کیا ۔ افسوس ہے ایسے کور باطنوں پر جنہوں نے مرنے والوں سے مراد مرے ہوئے لے لیا حالانکہ مرنے والا اپنی اصلاح توبہ تائب سے کرسکتا ہے اور مرا ہوا نہ خود اپنے لیے کچھ کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کے لیے ‘ خواہ وہ کوئی ہو ‘ خواہ وہ کون ہو اور خواہ وہ کہاں ہو۔
Ayah 36:71اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو اپنی خاص قدرت کے تحت انسانوں کے لیے پیدا کیا :
71۔ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے اور اصول تفسیر میں بھی اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ منہ اور اسی طرح کے دوسرے اعضاء کو بطور استعارہ بیان کیا گیا ہے تاکہ انسانوں کی تفہیم ہو سکے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات جس سے پاک ہے اور بلاشبہ اس کے ہاتھوں سے مراد اس کی قدرت ہے اور اس سے یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان ساری چیزوں کو اللہ رب کریم نے تخلیق کیا ہے اور ان کی تخلیق میں کسی بڑے چھوٹے ‘ نیک وبد اور نبی ورسول کا کوئی حصہ نہیں نہ براہ راست اور نہ باجازت کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام اللہ کے لیے مخصوص ہے کسی کو ان کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی اللہ کی ذات اپنی اجازت سے کسی کو شریک کرتی ہے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ جتنے جانور زمین میں چلتے پھرتے اور گھومتے نظر آتے ہیں سب اللہ رب کریم ہی کی قدرت کاملہ سے بنائے گئے ہیں اور پھر دنیا کے رواج کے مطابق یہ لوگوں کی ملکیت میں دے دیئے گئے ہیں سب کا اصل پیدا کرنے والا اور مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے لوگوں کو جو ملکیت عطا کی گئی ہے تو یہ محض فضل ربی ہے کسی انسان کے بس میں نہیں تھا کہ ان جانوروں کو وہ مطیع وفرمانبردار کرسکتا یہ اس کی رحمت خاص ہے کہ اس نے اتنے بڑے قوی ہیکل جانوروں کو ساڑھے پانچ ‘ چھ فٹ قد کے انسان کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور یہ جس طرح چاہتا ہے ان سے اپنی ضرورت کے کام لیتا ہے ۔
Ayah 36:72ان جانوروں میں کسی کو وہ بطور سواری اور کسی کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے :
72۔ سارے جانور تو انسان کے بس میں کردیئے گئے اب انسان کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ کن جانوروں پر اپنے بوجھ لادتا ہے اور کن جانوروں کو صرف اپنی سواری کے لیے خاص کرتا ہے اور کون سے جانور ہیں جن کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے گویا اس کو حلت و حرمت کا اصول سمجھا دیا گیا کہ کون سے جانور حرام ہیں اور کون سے حلال ؟ اب اس کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ کن جانوروں کو محض سواری کے لیے پسند کرتا ہے اور کن جانوروں کو اپنی سواری اور بوجھ لادنے کے کام میں لاتا ہے اور کون سے جانور ہیں جن پر سواری اور بوجھ لادنے کے علاوہ بطور خوراک بھی استعمال کرتا ہے اور کون کون سے جانور ہیں جو صرف خوراک استعمال کیے جاتے ہیں کہ ان کے گوشت پوست اور دوسری اشیاء کو اپنے استعمال میں لاتا ہے ۔
Ayah 36:73پھر ان جانوروں میں منافع بھی ہیں اور دودھ پینے کے لیے بھی عام ملتا ہے :
73۔ انسان ان جانوروں میں جس کو چاہتا ہے اپنے لیے انتخاب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو فروخت کرتا ہے اور اسی طرح خرید وفروخت میں اس کو منافع حاصل ہوتے ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ وہ فلاں فلاں جانور کو خرید سکتا ہے اور بیچ سکتا ہے اور فلاں کو بیچنے اور خریدنے کا اس کو حق نہیں الا یہ کہ وہ اس کی ملکیت میں ہو خریدنے سے یا صرف پالنے پوسنے سے اور پھر انہی جانوروں میں کتنے جانور ہیں جو اس کے دوسرے فائدوں کے علاوہ دودھ پینے اور بیچنے کے فوائد بھی ان سے حاصل کرتا ہے پھر افسوس کہ اس نے فائدہ حاصل کر کے اور ان کے میٹھے اور غذائیت سے بھرپور دودھ سے فائدہ پاکر بھی اس مالک حقیقی کا شکریہ ادا نہ کیا تو اس سے زیادہ کون ناشکرا ٹھہرا ۔ پھر تعجب پر تعجب یہ کہ بعض اوقات وہ اس منعم حقیقی کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے دوسروں کا شکریہ ادا کرنا شروع کردیتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑا کفران نعمت ہے ، بھینس نے جو بچہ جنا اس میں غیر اللہ کا حصہ ‘ اس بھینس نے دودھ دیا اس میں غیر اللہ کا حصہ کیوں ؟ اس لیے کہ اس بچہ کو پروان چڑھانے والا عبدالقادر جیلانی (رح) کو سمجھا اور دودھ کو صحیح رکھنے کا کام ” نورے شاہ “ نے ادا کیا اس طرح اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے دوسروں کا شکریہ ادا کرنے لگا بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا اس نے الٹا غیروں کو اللہ کا شریک بنانا شروع کردیا اور اس طرح گویا اس نے ناشکری کی حد کردی ۔
Ayah 36:74اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے لگا کہ شاید وہ اس کے مددگار ہیں :
74۔ ان ناشکرے اور ناقدر شناس انسانوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا اور اس طرح انہوں نے گویا ظلم کی حد کردی کہ جو اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے ان کو اپنے مددگار ٹھہرایا اور انسانوں کو ان کے درجہ سے اٹھا کر خدائی کے درجہ پر لا بٹھایا اور ایک دروازہ سے اٹھ کر در در کی ٹھوکریں کھائیں اور ہر ایک کو اپنی مدد کے لیے بلایا اور زور زور سے آوازیں دیں اور غیر اللہ کے نعرے بلند کیے لیکن جب ان کی پکڑ کر وقت آیا انمیں سے ایک بھی ایسا نہ اٹھا جو ان کی مدد کے لیے تیار ہوجاتا ، غور کرو کہ قرآن کریم کیا کہہ رہا ہے اور یہ سبز پگڑی والا کیا راگ الاپتا ہے ۔
” رنجیت سنگھ کے دور حکومت کی بات ہے کہ ایک نام نہاد مسلمان جو کرامات اولیاء کا منکر تھا شو مئی قسمت سے ایک شادی شدہ ہندوانی کو دل دے بیٹھا ۔ وہ ہندو اپنی بیوی کو میکے پہنچانے کے لیے گھر سے نکلا ادھر اس بدبخت عاشق پر شہوت نے غلبہ کیا چناچہ اس نے ان کا پیچھا کیا اور ایک سنسان مقام پر اس نے دونوں کو گھیر لیا وہ دونوں پیدل تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھا ، اس نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سواری کی پیش کش کی مگر ہندو نے انکار کردیا اس نے اصرار کیا کہ اچھا عورت ہی کو پیچھے بیٹھنے کی اجازت دے دو یہ بیچاری تھک جائے گی ، ہندو کو اس کی نیت پر شبہ ہوا اس لیے اس نے کہا کہ تم ضمانت دو کہ کسی قسم کی خیانت کے بغیر میری بیوی کو منزل مقصود پر اتار دو گے اس نے کہا اس جنگل میں ضامن کہاں سے لاؤ عورت فورا بولی کہ تم گیارہویں والے بڑے پیر صاحب کو مانتے ہو ‘ ان کو ضمانت دے دو وہ غوث پاک کے تصرفات کا تو قائل ہی نہ تھا مگر یہ سوچ کر کہ ہاں کہہ دینے میں کیا جاتا ہے اس نے ہاں کہہ دیا جونہی عورت گھوڑے پر سوار ہوئی اس ظالم نے تلوار سے ہندو کی گردن اڑا دی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر عورت کو لے کر ہوا ہوگیا ۔ عورت سہم گئی اور بار بار پیچھے دیکھتی جا رہی تھی ‘ اس نے کہا کہ پیچھے دیکھنے سے کیا فائدہ تمہارا شوہر تو اب واپس آ نہیں سکتا ‘ اس نے کہا میں تو بڑے پیر صاحب کو دیکھ رہی ہوں۔ اس پر اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہنے لگا بڑے پیر صاحب کو فوت ہوئے سو سال گزر گئے اب بھلا وہ کہاں سے آئیں گے ؟ اتنا کہنا تھا کہ اچانک دو بزرگ نمودار ہوئے ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر تلوار سے اس بدعقیدہ عاشق کا سر اڑا دیا اور پھر عورت کو مع گھوڑے کے وہاں لائے جہاں وہ ہندو کٹا پڑا تھا ، دونوں میں سے ایک بزرگ نے کٹا ہوا سردھڑ سے ملا کر کہا ” قم باذن اللہ “ اٹھ اللہ کے حکم سے ، وہ ہندو اسی وقت زندہ ہوگیا اور وہ دونوں بزرگ غائب ہوگئے اور یہ دونوں میاں بیوی اس گھوڑ پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف چلے گئے ۔
الامان قہر ہے یا غوث ! وہ تیکھا تیرا
مر کر بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا :
(الحقائق فی الحدائق)
لاریب مشرکوں نے کہانیاں اس طرح ترتیب دی ہیں اور اس شرک کو عام کرنے کے لیے ایسی مکاریوں سے کام لیا ہے کہ بڑے بڑے فراڈئیے بھی ان کے سمانے گٹھنے ٹیک گئے ہیں ، قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ کسی کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے سبز پگڑی والا کہتا ہے کہ بلاشبہ کسی کی مدد کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اس نے ساری طاقت وقوت ہمارے زندہ و مردہ پیروں میں تقسیم کردی ہے اور بلاشبہ اب اس کے ہاتھ خالی ہیں اور مدد کرسکتے ہیں تو یہی پیر و بزرگ کرسکتے ہیں ۔