Ayah 36:75وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے یہ لوگ خود ہی ان کا لشکر بنے ہوئے ہیں :
75۔ ان معبود بنائے گئے لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اللہ کے نیک بندے تھے ظاہر ہے کہ دونوں سے ایک جیسا سلوک تو نہیں کیا جاسکتا لیکن ایک معاملہ میں تو یہ سب کے سب برابر ہیں ‘ وہ معاملہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ اللہ کے نیک بندے ہوں یا دوسرے معبودان باطل ان کی مدد کرنے سے تو سب کے سب قاصر ہیں کیونکہ مرنے کے بعد جب ایک آدمی اس دنیا سے دوسری دنیا کو منتقل ہوگیا تو وہ کسی کی مدد کیا کرے گا کیونکہ مرنیکے بعد لوگوں کی حاجت براریوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے ان کو موت دی کہ مرنے کے بعد وہ مثالی جسموں سے ان لوگوں کی مدد کریں جو ان کے ناموں کی ملا جپتے ہیں پھر نیک لوگ تو یہ بات قطعا پسند ہی نہیں کرتے کہ یہ لوگ ان کی قبروں کو پکا کرکے اور ان پر روضے تعمیر کرکے لوگوں کی حاجت روائیوں کے لیے ان کے ہاں حاضر ہوں اور جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں وہ بھی اب لاچار ہیں ہاں ! یہ زندہ لوگ جو ان کی پرستش کی کوشش کر کے اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں یہی ان مرنے والوں کا لاؤ لشکر ہیں اور ان کے لیے حاضر باش لشکر کی طرح تیار کھڑے ہیں اور جب چاہتے ہیں ناچ ناچ کر اور بھنگڑے ڈال کر شیطان کو خوش کر رہے ہیں اور ان کی بارگاہیں بنا کر اور روضے سجا کر اور ان کی قبروں کو غسل دے دے کر اپنے آپ کو اور اپنے حواریوں کو دوزخ کی آگ کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ ہاں ! بلاشبہ مشرک اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ سے نجات حاصل نہیں کرسکتے بشرطیکہ وہ توبہ کرکے اپنی اصلاح نہ کرلیں خواہ وہ کون ہوں اور خواہ وہ کیسے ہوں اور خواہ وہ کہاں ہو۔ ہاں ہاں ! خواہ وزیراعلی ہوں یا وزیراعظم ہوں یا وہ کسی ملک کے صدر ہوں یا کسی بہت بڑی جماعت کے لیڈر ہوں ہاں ہاں ! سبز پگڑی والے ہوں ‘ کالی پگڑی والے ہوں یا سفید پگڑی والے ہوں یا دھاری دار پگڑی اپنا نشان رکھتے ہوں ۔ ہاں ! قبر خواہ کسی کی ہو بہرحال قبر ہی ہے وہ علی ہجویری (رح) کی ہو یا صابر کلیری (رح) کی ہو ‘ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی ہو یا مجدد الف ثانی (رح) کی ہو لاریب یہ اللہ کے نیک بندے تھے ‘ اولیاء کرام تھے ‘ نیک اور بزرگ تھے لیکن جب تک زندہ رہے اپنی اپنی طاقت اور اپنے اپنے علم کے مطابق لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے رہے لیکن حاجت روا اور مشکل کشا تو نہ وہ زندگی میں تھے اور نہ ہی مرنے کے بعد ان کو اس کام پر لگایا گیا بلاشبہ ان کی قبریں زندوں کو موت کی خبر دے رہی ہیں اور پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہاں جو بھی آیا مرنے ہی کے لیے آیا ہے اور یہ بھی کہ کسی آنے والے کی مرضی کے مطابق اس کو نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی کسی جانے والے کو اس کی مرضی کے مطابق لے جایا گیا ہے اور یہ کہ ان سب کا دنیا میں لانے والا اور دنیا سے لے جانے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی ہے وہی ان سب کا بھی حاجت روا اور مشکل کشا تھا اور وہی سارے انسانوں کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اور چونکہ وہ سب کا خالق ہے اس لیے سب کی روزی کا اس نے بندوبست کردیا ہے اور وہ خود کھانے سونے ‘ خود جسم رکھنے سے پاک ہے ہر ایک چیز کو کھلی آنکھ سے دیکھ رہا ہے حالانکہ وہ آنکھ نہیں رکھتا اور وہ سب کی سن رہا ہے حالانکہ وہ کان نہیں رکھتا ۔ لا ضدلہ ولا ندلہ لا مثل لہ ولا مثال لہ ۔
Ayah 36:76اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو ان کی بات غمگین نہ کرے ان کا ظاہر و باطن ہمارے علم میں ہے :
76۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان مکہ والوں کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں ان کی کوئی بات بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے ‘ ہم ان کی خفیہ سازشوں سے بھی خوب واقف ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کر رہے ہیں اس سے بھی اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں ‘ کوئی بات بھی ہم سے ان کی پوشیدہ نہیں ہے ۔ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور ہم جس کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں اس کو کوئی نہیں جو کسی طرح کی بھی گزند پہنچا سکے اور یہ کہ ہم ایسے ظالموں سے انتقام لینا بھی جانتے ہیں ۔
Ayah 36:77انسان اپنی پیدائش پر غور نہیں کرتا اور جھگڑنے کی کوشش کرتا ہے :
77۔ ہر وہ انسان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا وہ مخاطب کیا جا رہا ہے خواہ وہ کون ہے ‘ کیسا ہے اور کہاں ہے کہ اگر وہ اپنے مادہ تخلیق اور طریقہ اعضاء پر غور کرتا تو یقینا سرکشی اور بغاوت کی راہ اختیار نہ کرتا کہ آخر وہ اتنا اتراتا کس بل بوتے پر ہے ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند ہی سے تو پیدا کیا ہے اور وہ بوند بھی ایسی کہ جس نے اس کے سارے جسم کو ناپاک کردیا اور جسم کا جو حصہ استعمال کیا گیا اس کا نام شرمگاہ رکھا گیا پھر یہ اس شرمگاہ سے پیدا ہو کر اتنا بےشرم کیوں ہوگیا کہ اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگا جس پروردگار نے اس کی پیدائش کے لیے ایسا طریقہ مقرر کردیا اور پھر پیدا کرنے کے بعد اس کے رزق کا ہر لحاظ سے بندوبست کردیا پھر اس کو صحت ‘ جوانی ‘ عزت اور دولت بخشی لیکن اس کے باوجود وہ شکر گزار اور اطاعت گزار بندہ بننے کی بجائے ہم ہی سے الجھنے لگا اور ہمارا ہی انکار کرنے لگا اور ہمارے لیے وہ ایک مناظرانہ انداز اختیار کرنے لگا مثل ہے کہ بلی نے شیر پڑھایا اور بلی ہی کو وہ کھانے آیا جس نے خالق حقیقی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کرے گا ‘ کہاوت ہے کہ جو ماں کا نہیں وہ ماسی کا کیا ہوگا ۔
Ayah 36:78اپنی پیدائش کو فراموش کرکے ہمارے لیے مثالیں گھڑنے لگا :
78۔ انسان کو اس کی پیدائش بار بار کیوں یاد کرائی جا رہی ہے ؟ اس لیے کہ کہاوت ہے کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ انسان کو اپنی پیدائش کے مرحلوں پر غور کر کے شرما جانا چاہئے کہ اس کی حقیقت اور اصلیت کیا ہے اور جو رویہ اس نے اختیار کر رکھا ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑے اونچے درجے کی شے ہے حالانکہ وہ جو کچھ ہے وہ اس کو بھی معلوم ہے کیا وہ نطفے سے پیدا ہو کر ایسا جھگڑالو بن گیا ہے کہ وہ رب کریم ہی کے لیے مثالیں بیان کرنے لگا ہے وہ ایک ہڈی کو اٹھا کر جو ایک مدت اس زمین کے اندر رہ کر بوسیدہ ہوچکی ہے اور دو انگلیوں کی مدد سے وہ بھربھری بنائی جا رہی ہے وہ اس ہڈی کو اپنی دو انگلیوں کے ساتھ پکڑ کر اس کو مسلتا ہے اور زبان سے کہتا ہے کہ کیا اللہ اس بھربھری مٹی کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور جب وہ ایسا کر رہا تھا اس وقت اس کی اپنی پیدائش اس کی آنکھوں میں کیوں نہ گھوم گئی ، یہ بھربھری مٹی تو پھر بھی آخر ایک چیز ہے وہ قطرہ ناپاک جس میں ایک چپک کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا کیا اس سے بھی یہ بھربھری ہڈی ناکارہ چیز ہے ؟ جو نظر آتی ہے ‘ دکھائی دیتی ہے اور کبھی اس میں زندگی موجود تھی ‘ اس آب وہوا اور زمین کی نمی نے مل کر اس کو اس طرح کردیا لیکن اس کے باوجود وہ ایک نظر آنے والی اور دیکھی جانے والی ایسی چیز ہے جس کو ہاتھ میں پکڑنے اور مسلنے اور بھربھری بنانے میں کسی طرح کی کوئی ناپاکی نہیں آئی اس بھربھری کرنے والے کی ہئیت وحالت میں کچھ تغیر پیدا نہیں ہوا اس پر تو اس کو اعتراض ہے کہ اس سے انسان کی پیدائش کیونکر ہوگی اور اپنی پیدائش پر اس نے غور نہیں کیا کہ وہ ایک جنس کی دو اصناف کی شرمگاہوں کے ملنے سے کس طرح پیدا ہوگیا ؟ اس میں زندگی جیسی عزیز چیز کہاں سے پیدا ہوگئی ؟ پھر جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو آلائش سے کس طرح لتھڑا پڑا تھا ‘ اس کو ایک ناپاک کیچڑ کی دلدل سے اٹھا کر دایہ نے نہلا دھلا کر صاف ستھرا کیا پھر اس کی شرمگاہ ہی کا خیال کرکے اس کی جنس کا تعین کیا گیا کہ وہ صنف نازک سے تعلق رکھنا ہے یا صنف مذکر سے اور علاوہ ازیں اس کی پہچان کا کوئی ذریعہ بظاہرموجود نہ تھا لیکن لیکن باتیں بناتے وقت وہ ان ساری باتوں کو بھول جاتا ہے اور پھر الٹے سیدھے سوال کرنا شروع کردیتا ہے کہ ” خدا ہوتا تو کہیں نظر آتا ‘ اتنے بڑے کارخانہ حیات کو صرف اور صرف ایک ہی ہستی چلا رہی ہے بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے یہ قیامت کی دھمکیاں کیا ہیں ؟ قیامت ویامت کچھ نہیں ہے ‘ یہ خواہ مخواہ کے ڈھکوسلے ہیں جو ملاؤں نے گھڑ رکھے ہیں بھلا ان بھربھری ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ “ یہ شوخ چشمی اور زبان درازی اور تکبر ونخوت اور پیشاب کا راستہ ان کی آپس میں کوئی نسبت ؟ تو کہاں کا مسافر اور کدھر الجھ رہا ہے ۔
Ayah 36:79کون زندہ کرے گا ؟ وہی جس نے تجھے پہلی بار زندہ کیا تھا :
79۔ نہایت شوخی کے ساتھ سر کے بال گردن کے زور سے جھٹک کر سوال کرنے والے کو آپ اس طرح جواب دے دیں کہ اس کو وہی زندہ کرے گا جس نے اس کو پہلی بار زندہ کیا تھا وہی خلاق علیم ہے جس کی قوت تخلیق کا یہ عالم ہے کہ آسمان و زمین اور پھر آسمان و زمین کے اجرام فلکی وسماوی اور زمینی مخلوق کو ایک ہی حکم (کن) سے تخلیق کردیا ۔ وہی اب بھی اس کو زندہ کردے گا غور تو کرو کہ عدم سے ہست میں لانا مشکل ہے یا نیست کو ہست سے ؟ پہلی بار کسی چیز کو بنانا مشکل ہوتا ہے یا بنی ہوئی چیز کی مثل بنانا مشکل ہوتا ہے ؟ وہ بدیع وفاطر ہے پہلی بار جو نقشہ اس نے بنایا وہی نقشہ خوب بنایا اور اب اسی خوب کو مٹا کر اس کی مثل بنانا یا اس مثل کو مٹا کر خوب بنانا یا خوب سے خوب تر بنانا ان میں سے خود ہی سمجھ لو کہ آسان ہے کیا ہے اور مشکل کیا ؟ تعجب ہے تم پر کہ مشکل کو مانتے ہو اور آسان سے انکار کرتے ہو تف ہے تمہاری عقل پر یا تمہاری اس ہٹ دھرمی پر جو تم کرتے ہی چلے جا رہے ہو تم کو کیا معلوم ہے کہ اس کے ہاں تمہارے کتنے خاکے موجود ہیں اور ان میں سے جس کے ساتھ وہ چاہے تمہاری روح کا الحاق جوڑ دے تو وہ تم نہیں ہو گے تو آخر اور کون ہوگا تمہارا فوٹو تم ہو تمہاری خواب کا اشارہ بھی تم ہی ہو اور تمہارا خاکہ تم نہیں ہو آخر کیوں ؟ ہاں جواب دو سوچتے کیا ہو ؟ سمجھ لو کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام تمہاری پہلی تخلیق سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور تمہاری دوسری تخلیق بھی اس پر کوئی مشکل امر نہیں ہاں ! وہی تم جو شادی خانہ آبادی کے وقت تھے ‘ ہاں ! وہی تم جو آج دس بچوں کے باپ ہونے کے بعد ہو ۔ اگر تم کو ان سارے تم ‘ تم میں سے کوئی تم بھی تمہارے پہلے تم کے ساتھ رکھ دیا جائے تو تم بھی تم کو نہ پہچان سکو اور باتیں کرتے وقت نہیں بلکہ باتیں بناتے وقت تمہاری نظر کسی تم پر بھی نہیں رہی کتنی جلدی بھول جانے والے ہو تم اور پھر بھی جھگڑتے ہو تم معلوم ہوتا ہے کہ ع شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔
Ayah 36:80اللہ وہ ذات ہے جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کردی :
80۔ گزشتہ آیتوں میں بیان کیا گیا مضمون بھی کوئی مشکل نہیں تھا بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتا تھا لیکن تاہم ان میں کچھ ایسے اسرار و رموز تھے کہ شاید تم میں ان کے سمجھنے کی اہلیت نہ ہو جن کے باعث کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس نظام عالم میں کہنگی کے آثار کہیں نظر نہیں آتے ‘ ابھی تو جوانی ہی کا عالم نظر آتا ہے اور معلوم نہیں کہ اس کا بڑھاپا کب ہوگا اور اگر یہ دھرتی بوڑھی ہوگئی ہو سکتا ہے کہ آسمان نے ابھی مزید شادی رچانا ہو اس لیے ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن یہ تو ایک بالکل موٹی سی بات ہے کہ پانی اور آگ میں طبعی تضاد ہے آگ کا بس چلے تو پانی کو بخارات بنا کر اڑا دیتی ہے اور اگر اس دھکتی ہوئی آگ پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے تو وہ بجھ جاتی ہے ۔ اس طبعی تضاد کے باوجود اس نے سبز درختوں میں آگ اور پانی کو یکجا کردیا ہے یہی گیلی لکڑی جب کاٹ کر اس سے آگ جلائی جاتی ہے تو اس سے آگ کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں ، بیان کیا جاتا ہے کہ عرب میں دو درخت ایسے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ایک کو ” المرخ “ اور دوسرے کو ” الغفار “ کہتے ہیں اگر ان کی سرسبز و شاداب ٹہنیاں کاٹی جائیں جن سے رطوبت بہہ رہی ہو اور پھر ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رگڑا جائے تو اس سے آگ بھڑک اٹھتی ہے جس ذات نے اس طرح کا نظام پیدا کردیا ہے کہ ایک بات ایک جگہ محال نظر آتی ہے اور دوسری جگہ وہ بالکل محال اور عام سی بات معلوم ہوتی ہے تو اس کی قدرتوں کا آخر کون اندازہ کرسکتا ہے ، زندی میں ہر روز ایسی باتوں سے تم کو سابقہ پڑتا ہے اور پھر بھی تم نہ سمجھو تو ایسے نادانوں کو اللہ ہی سمجھا سکتا ہے ، اس کی قدرت کے اندازے ہر لحاظ سے فٹ اور قابل تحسین ہیں ۔ وللہ الحمد۔
Ayah 36:81جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے کیا وہ قادر نہیں کہ ان کی مانند بنائے :
81۔ چونکہ دوسری جگہ ارشاد الہی ہے کہ قیامت کے روز اس زمین اور آسمانوں سب کو بدل دیا جائے گا نہ یہ زمین ہوگی اور نہ یہ اس وقت کے آسمان تو یہ بات منکرین قیامت کو اور بھی اچنبھا محسوس ہوئی اور یک نہ شد دوشد کے مصداق ہوگئے ، پہلی بات سے منکر تھے کہ قیامت آئے گی اور انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان سے حساب کتاب لیا جائے گا ، یہ عقیدہ ان کے گلے میں ایسا پھنسا کہ گلے سے اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اور پھر جب انہوں نے یہ بات سنی کہ ان آسمانوں اور اس زمین کو بھی بدل دیا جائے گا تو وہ مزید بوکھلا گئے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پہلی بار پیدا کیا اور اس میں انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پہاڑ ‘ دریا اور اسی طرح کے سارے نشیب و فراز بنائے اور جب تک انسانیت کا اس دھرتی پر بسنا اس ذات کے علم میں تھا ان ساری چیزوں کو موجود رکھا اور اب جب قیامت آچکی اور ہرچیز کی موت واقع ہوگئی اور اس کے بعد انسانوں کا اس دنیا سے تعلق منقطع کرکے ایک دوسری دنیا سے جوڑا جا رہا ہے تو آخر اب ان آسمانوں اور زمین اور زمین کے نشیب و فراز ‘ پہاڑ اور دریا اور اسی طرح اجرام فلکی کی آخر ضرورت کیا رہی ؟ اس لیے ظاہر ہے کہ یہ سارا نظام ہی بدل دیا گیا اور نئے نظام میں اس خالق کل نے جس چیز کو جس طرح چاہا بنا دیا اور اس طرح اس بنانے میں آخر استحالہ کیا ہے ؟ کیا جس نے پہلی بار ان انسانوں اور زمین کو بنایا تھا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ جس طرح چاہے دوسری بار کی پیدائش کو پیدا کر دے کیونکہ اب جو کچھ بھی وہ بنائے گا وہ تو مثل ہی ہوگا انسان ہوں گے تو وہ پہلے انسانوں کی مثل ہوں گے اور زمین و آسمان ہوں گے تو وہ پہلے زمین و آسمان کی مثل ہوگا انسان ہوں گے تو وہ پہلے انسانوں کی مثل ہوں گے اور زمین و آسمان ہوں گے تو وہ پہلے زمین و آسمان کی مثل ہوں گے پھر وہ جو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے وہ ان چیزوں کا بھی خالق تھا تو ان چیزوں کو جن کو اس نے دوبارہ ان کی مثل پیدا کیا ہے یہ پیدائش تو اور بھی آسان اور آسان سے آسان تر ہوگی اگرچہ اس کے لیے کوئی چیز بھی مشکل نہیں ہے تاہم انسانوں کی تفہیم کے لیے بھی تو اس کا پیدا کرنا مزید آسان کہنا چاہئے اور انسانوں کو سمجھنا چاہئے ۔
تمہاری عقل درست ہوتی اور تمہاری قسمت یاور ہوتی تو تم جو کچھ سوچتے اس کائنات کی ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ‘ اس کائنات کے ایک ذرہ سے لے کر آسمانوں ‘ زمینوں ‘ اجرام فلکی اور زمینی ایشیاء ‘ دریا ‘ پہاڑ ‘ زمین کے اندر کے دفینے اتنی چیزیں تھیں کہ تم ساری عمر سوچتے رہتے اور سوال پر سوال کرتے جاتے تو تم کو ہر سوال پر ایک ایجاد حاصل ہوتی اور تم اللہ کی نیابت کا حق ادا کرتے لیکن افسوس کہ تمہاری عقل ایسی ٹیڑھی تھی کہ تم نے سیدھا سوچنے کی بجائے جب سوچا الٹا اور معکوس ہی سوچا معلوم ہوا کہ یا تو تمہاری عقل کا قصور تھا اور یا پھر تمہاری قسمت یاور نہ تھی تم نے جب سوچا پروردگار ہی کے ساتھ ٹانگ اڑائی اور اس کے متعلق سوچنا شروع کیا کہ وہ کیسے کرے گا اور اس کو کیونکر سر انجام دے کا کائنات کی چیزوں کے بارے میں تم کو سوچنے کی کبھی توفیق نہ ہوئی آؤ تم کو بتاؤں کہ وہ کیا ہے اور تم کو کیوں حق نہیں کہ اس کے بارے میں فکر کرو ۔ وہ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا جن کی بلندی ‘ وسعت اور گہرائیوں کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا کیا ایسی قادر وقیوم ہستی کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی مشکل بات ہے ؟ اس کی دوسری تخلیقات کے سامنے تمہاری آخر حیثیت ہی کیا ہے ذرا پہاڑ کے ساتھ سرجوڑ کر کھڑے ہو تو تمہیں اپنی قامت کی درازی کا پتہ چل جائے ‘ ذرا ہاتھی کے ساتھ اپنا وزن تو کرو اگر اس کا ایک پاؤں بھی تم سے بھاری نہ رہا تو بات کرنا ‘ ذرا ہرن کے ساتھ دوڑ تو لگاؤ دیکھیں کون آگے نکلتا ہے ‘ اگر تم زیادہ ہی پیٹو ہو تو ایک بھینس کے ساتھ کھانے ہی میں مقابلہ کرکے دکھاؤ ۔ یہ قیامت ‘ یہ طاقت اور یہ حیثیت اور پھر اس کے باوجود ایسی خرمستیاں کہ براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی قدرت پر حرف گیری اور وہی پرانے دیوانوں کی وہم پرستیاں شرم کرو اور سمجھنے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرو وہ ذات تو نہایت ہی پاک ومنزہ ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا مکمل اقتدار ہے اور اس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
اجل لگائے ہوئے گھات ہر کسی پر ہے
بہ ہوش باش کہ عالم روا روی پر ہے ۔ :
Ayah 36:82رب کریم جب کسی چیز کے لیے ارادہ کرتا ہے تو حکم کرتا ہے تو وہ ہوجاتا ہے :
82۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق یہ لفظ قرآن کریم میں جتنی بار بھی استعمال ہوا ہے اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ کوئی مرئی زبان رکھتا ہے اور کسی خاص طرح کی زبان استعمال کرکے عربی ‘ اردو یا فارسی میں کچھ کلمہ کہتا ہے جس کو عربی میں (کن) سے تعبیر کیا گیا ہے اور پھر وہ چیز حاضر ہوجاتی ہے نہیں ! اللہ رب ذوالجلال والاکرام کسی کلمہ کا محتاج نہیں اور نہ ہی وہ کوئی خاص زبان بولتا ہے کہ اس زبان میں (کن) کہتا ہے بلکہ یہ ایک تفہیم کا طریقہ ہے اور اس کے لیے الفاظ ہم بول رہے ہیں اس کے ہاں کسی چیز کے موجود کرنے کے لیے جو حکم ہے اس کے لیے کلمہ کن استعمال ہوا ہے ۔ آپ یوں سمجھیں کہ اس دنیا میں جو کچھ بنا ہے اور جو کچھ بن رہا ہے اور جو کچھ قیامت تک بنے گا سب اس کے کلمہ (کن) سے تعبیر ہے آپ ‘ میں اور دنیا کے سارے انسان اس کے کلمہ (کن) سے پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ بھی جو مخلوق پیدا ہوگی وہ سب اس کے کلمہ (کن) کے تحت پیدا ہوگی ۔ اس لیے ہمارے ہاں مفسرین نے جو اس کلمہ (کن) اور (فیکون) سے کام لیا ہے وہ انہی کا کمال ہے ورنہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے کلمہ (کن) کے سوا کسی چیز کا وجود میں آنا ممکن ہی نہیں نہ کبھی تھا ‘ نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا ۔
اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة آل عمران کی آیت 47 ‘ سورة الانعام کی آیت 73 اور سورة مریم کی آیت 35 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 36:83پاک ہے وہ ذات کہ اس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ‘ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے :
83۔ پاک ہے وہ ذات جس کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی کہا جاتا ہے بلاشبہ وہ ہر نقص اور ہر عیب سے پاک ہے ‘ ہر خامی اور کمزوری سے پاک ہے ‘ ہر شریک اور ضد سے پاک ہے ‘ اس کا علم ہرچیز پر محیط ‘ اس کی قدرت ہمہ گیر ‘ اس کا حکم ہر ادنی واعلی پر جاری وساری اور ہرچیز اس کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے اور جو کچھ ہے اس کے تابع فرمان ہے بلاشبہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘ اس نے جو قانون بنائے ہیں اپنی مرضی اور اپنے ارادہ سے بنائے ہیں وہ کسی سے مشورہ کا محتاج نہیں جو کچھ اس نے کیا ‘ وہ کچھ وہ کر رہا ہے اور جو کچھ وہ کرے گا سب اسی کے حکم و ارادہ سے ہے ۔ وہی ہر ایک چیز کا مالک حقیقی اور اصل ہے اس کی قدرت کاملہ کے تحت ہرچیز ہے ‘ خیر اور شر کا وہی خالق ہے ‘ جن اصولوں کا اس نے اعلان کردیا ہے ان کی کبھی وہ خلاف ورزی نہیں کرتا کہ وہ سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے نہ خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے ‘ اسی کے ہاتھ میں خلق ہے اور اسی کے ہاتھ میں امر ہے ‘ اس کے سوا کوئی خالق نہیں کہ کسی چیز کو وہ پیدا کرسکے اور کوئی رازق نہیں کہ وہ کسی کو روزی دے سکے ، ہر ایک چیز کو ہر اچھے اور برے کو ‘ ہر بادشاہ اور حقیر کو ‘ ہر نبی ورسول کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ‘ اسی کے حکم کی ہرچیز تابع ہے ۔ ھو الاول ولاخر والظاہر والباطن وھو بکل شیء علیم ۔
الحمد للہ اسی مضمون پر سورة یس ختم ہو رہی ہے ۔
عبدالکریم اثری :
0 ا ۔ ستمبر 1997 ء بعد از نماز عصر :