37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قطار در قطار صف باندھنے والوں (کے رب ) کی قسم

قطار در قطار صف باندھنے والوں کے رب کی قسم : 1۔ (صفت) صافۃ کی جمع ہے جس کے معنی صرف باندھنے والی جماعت کے ہیں اور (صف) کے معنی قطار باندھنے کے ہیں جس کی جمع (صفوف) ہے ۔ کسی شے کو جیسے آدمیوں کو یا درختوں کو ایک خط مستوی پر کر دو تو اس کو صف کہیں گے ۔ مراد اس سے فرشتے بھی لیے گئے ہیں اور صف باندھنے والے نمازی بھی اور مجاہدین بھی ایک وقت تھا کہ صفیں باندھ کر جنگ کرتے تھے اس لیے مجاہدین کی جماعتیں بھی مراد لی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک یا سب ہی معنی درست لیے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ استعارات ہیں اور اگر قسم کھانا ہی مراد لیا جائے تو اس میں رب کا لفظ محذوف تسلیم کرکے صف باندھنے والوں کی رب کی قسم ہی کہا جائے گا کہ قسم ہر حال میں رب کریم ہی کی درست اور جائز ہے اور محذوف کلام میں جائز اور درست ہے ۔
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر جھڑک کر ڈانٹنے والوں (کے رب ) کی قسم

جھڑک کر ڈانٹنے والوں کے رب کی قسم : 2۔ زجر توبیخ کے الفاظ عام طور پر زبان زد خاص وعام ہیں اور زجر یعنی روک ‘ ڈانٹ ڈپٹ ‘ دھمکی ‘ تنبیہہ ‘ جھڑکی اور ملامت وغیرہ گزشتہ آیت کی طرح مراد اس سے فرشتے بھی لیے گئے ہیں جو روکنے اور ڈانٹنے والے ہیں اور وہ جماعتیں بھی جو روکتی ہیں اور اگر اس کو بطور قسم تسلیم کیا جائے تو رب کا لفظ محذوف تسلیم کر کے یہی کہنا ہوگا کہ جھڑک کر ڈانٹنے والوں کے رب کی قسم ۔
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ( قرآن کریم کی) تلاوت کرنے والوں (کے رب ) کی قسم

قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں کے رب کی قسم : 3۔ (تالیت) کی اصل ت ل و ہے اور تالی کے معنی تلاوت کرنے والا یا پیروی کرنے والا مراد ہو سکتا ہے اور تلاوت کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ تلاوت قرآن کریم ہی مراد ہو سکتی ہے یعنی تلاوت قرآن کریم کرنے والی جماعتیں اور اگر قسم مراد ہے تو ضابطہ کے مطابق (رب) کا لفظ محذوف تسلیم کر کے تلاوت قرآن کریم کرنے والوں کے رب کی قسم کہا جائے گا جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا اور جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا گیا ہے بعض مفسرین نے اس سے مراد فرشتوں کی جماعتیں لی ہیں لیکن فرشتوں کی بجائے انسانوں ہی کی جماعتیں مراد لینا زیادہ قرین قیاس اور زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور قسم سے مراد بات کو پختہ کرنا ہے اور جس کی قسم کھائی جائے اس کو بطور گواہ پیش کرنا مراد ہے اور یہ طریقہ بیان اسی وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کوئی اہم بات کی جا رہی ہو اور اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر ہی قسم کھائی جاتی ہے ۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بلاشبہ تم سب کا معبود ایک (اللہ ہی) ہے

بلاشبہ تم سب کا معبود ایک (اللہ تعالیٰ ) ہی ہے : 4۔ یہ بات تو پہلے کئی بار بیان کی جا چکی ہے کہ مکی سورتوں کا اصل موضوع توحید الہی ہے اور یہ سورت بھی مکی ہے اور اس جگہ توحید کا بیان کرنا ہی اصل مقصود ہے اس لیے اس کو مؤکد کرنے کے لیے تین قسمیں کھائیں ہیں تاکہ اس کی اہمیت سننے والوں کے ذہن میں نقش ہوجائے اور بات کو پوری طرح متوجہ ہو کر سنے اور اس کے لیے ہمہ تن گوش ہوجائے اور آنے والی بات کو بگوش ہوش سنے اور جو ذمہ داری اس پر ڈالی جا رہی ہے اس کو اٹھانے کے لیے تیار ہوجائے اور اس کے بعد جو بات کی گئی ہے وہ بلاشبہ نہایت اہم ہے جس کو سن کر اس وقت مکہ کے لوگ بھی ناخوش ہوئے اور اس وقت بھی مشرک گروہ ایسی باتوں سے چڑ ہی کھاتے ہیں بہرحال کوئی ناخوش ہو یا خوش رہے ‘ چڑ کھائے یا دم بخود ہوجائے توحید الہی کا بیان ہوتا آیا ہے ‘ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ اس جگہ بھی ہو رہا ہے کہ لوگو ! تم سب کا معبود والہ حاجت روا اور مشکل کشا ‘ دکھ درد دور کرنے والا ۔ روزی اور رزق پہنچانے والا ‘ خالق ومالک ایک اور صرف ایک ہی ہے کہ وہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور دنیا کی ہرچیز اس کے وحدہ لاشریک لہ ہونے کی دلیل پیش کر رہی ہے ۔ برگ درختاں سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتر یست معرفت پروردگار۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

(وہی) پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کا جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور وہی مشرقوں کا رب ہے

5۔ صفات الہی بھی یہی ہیں اور دلائل توحید بھی یہی وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جو صفتوں سے متصف ہے وہی الہ و معبود ہے ‘ وہی ان آسمانوں کا بنانے والا اور بلند کرنے والا ہے ‘ اسی نے یہ سارے اجرام فلکی بنائے اور ان کا نظام چلایا ہے ‘ وہی زمین کو بچھانے والا اور اس میں پہاڑ ‘ دریا اور بیحد و حساب مخلوق پیدا کرنے والا ہے اور ان آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ اس خلا میں ہے اس کا رب واحد ہے اور مشرقوں اور مغربوں کا رب بھی وہی ہے اس جگہ (مشارق) کا ایک لفظ بول کر سورج کے طلوع ہونے کے اختلاف کو ذکر کردیا ہے جس میں دن کے کم وبیش ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور بتا دیا ہے کہ اس سارے نظام کا چلانے والا اور ہرچیز کا بنانے والا ایک ہی رب کریم ہے اور دوسری جگہ (مشارق) کے ساتھ (مغارب) کا لفظ بھی لایا گیا ہے اور اس جگہ اس کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایک چیز کا ذکر دوسری چیز کی تصدیق خود کردیتا ہے اور جو چیزیں لازم وملزوم ہیں ان کا لزوم خود اس پر دال ہوتا ہے مثلا اگر یہ تسلیم ہوجائے کہ زید والد ہے تو اس سے دو چیزیں خود بخود لازم ہوجاتی ہیں ایک یہ کہ زید کا کوئی ولد ہے اور دوسری یہ کہ زید کی بیوی ہے یا تھی ، ہندہ والدہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ کوئی ہندہ کی اولاد ہو اور یہ کہ ہندہ شادی شدہ ہو اور کوئی اس کا خاوند ہے یا تھا ۔ اسی طرح (مشارق) کا لفظ خود تمہارے رب کی تصدیق کر رہا ہے اگر قرآن کریم نے اس کی وضاحت بیان کردی ہے تو یہ گویا سونے پر سہاگہ ہے ۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بلاشبہ ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی آرائش سے مزین کیا

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی آرائش سے مزین کردیا : 6۔ (السماء الدنیا) کے الفاظ سے یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ آسمان ایک سے زیادہ ہیں اور دوسری بات یہ کہ وہ اوپر نیچے ہیں اور یہ بھی کہ آسمان سے اوپر جایا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ یہ سیارے ہوں یا ستارے جو ہم کو نظر آتے ہیں وہ اس فضائی نیلگوں چیز سے نیچے ہیں اور جو مشیت اور حقیقت بھی رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ ایک فائدہ اس خلا کو خوبصورت کرنے کا بھی پیش کر رہے ہیں جس کو ہر آنکھ دیکھ رہی ہے وہ آنکھ عالم کی ہو یا جاہل کی اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آرائش وزبائش ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور علم الافلاک اپنی جگہ ایک مستقل علم اور مستقل نظام ہے اور یہ بھی کہ اس دنیا کی ہرچیز انسانی زندگی کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتی ہے ۔
Ayah 37:7

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے (ان کی) حفاظت کی

ہر سرکش شیطان سے ان کی حفاظت کردی گئی ہے : 7۔ ایک شیطان تو وہ طاقت وقوت ہے جو سراسر شیطنت ہی شیطنت ہے قرآن کریم نے کہیں اس کو (ابلیس) کے نام سے یاد کیا ہے اور کہیں شیطان کہا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس کا تعلق جنوں سے اور پھر جنات کی کئی ایک اقسام ہیں ایک قسم وہ بھی ہے جو مکلف ہے اور ان مکلفین جن کا تعلق نسل انسانی سے بھی ہے لیکن ان کی پوشیدگی اور شیطنت کے ورطہ پر ان کو جن سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ وہ شیطان جو ایک طاقت قوت ہے اس کا اوپر جانا اور آسمانوں کی طرف بڑھنا تو مسلم ہے لیکن ان مکلفین جنات کا آسمانوں کی طرف سفر کرنا اور ان بلندیوں کو چیرنے کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے کہ یہ اگر ان بلندیوں کی طرف بڑھتے ہیں تو سو بار بڑھیں ‘ یہ ان خلائی ستاروں ‘ سیاروں اور اجرام فلکی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرسکیں گے ان کو ان شیطانوں کی دسترس سے محفوظ کردیا گیا ہے دوسری جگہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ کوئی اس طرح کی حرکت کریں گے جو ناشائستہ ہوگی تو ان کے لیے ایسے آگ کے انگارے مقرر کردیئے گئے ہیں جو ان کو ایسی حرکتوں سے باز رکھیں گے اور ان کا قصہ پاک کردیں گے ۔ (شیطان مارد) کیا ہیں ؟ (مارد) اسم فاعل مفرد مذکر مودۃ جمع سرکش آدمی یا شیطان جو ہر خیر سے خالی ہو عرب ” غصن امرد “ اس ٹہنی کو کہتے ہیں جو پتوں سے خالی ہو اور (رجل امرد) وہ آدمی ہے جس کی داڑھی مونچھ نہ ہو ۔ ایسے انسان جن میں بھلائی نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو (شیطان مارد) کہلاتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص اس فضا میں فوائد حاصل کرنے کی غرض وغایت سے جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس ایسے آلات ہیں تو سو بسم اللہ وہ ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے اپنی نفسی شرارتوں سے بچتے اور بچاتے جہاں تک پہنچ سکتا ہے پہنچے کوئی مانع نہیں لیکن اگر کوئی ان میں سے کسی چیز کو چھیڑنے کی غرض سے فضا میں داخل ہوتا ہے تو فضاء میں ہی وہ بھسم ہو کر رہ جائے گا اور وہ اپنی اس شرارت سے نظام الہی میں کسی طرح کی بھی گڑبڑ پیدا نہیں کرسکے گا کیونکہ ان فضائی اجرام کو ان مردودوں کی شرارتوں سے محفوظ کردیا گیا ہے ۔
Ayah 37:8

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی کوئی بات بھی نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے ان پر (انگارے) پھینکے جاتے ہیں (یعنی دھتکارے جاتے ہیں)

ملاء اعلی تک یہ رسائی نہیں رکھتے کیونکہ وہ محفوظ ہیں اور ان پر آگ پھینکی جائے گی : 8۔ اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں اور قوتیں جن کو (ملاء اعلی) کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ان تک ان شیطان مارد کی رسائی ممکن ہی نہیں اگر اس طرف یہ جانے کی کوشش کریں گے تو ان کے لیے آگ کے شعلے ہر وقت تیار ہیں ذرا اس طرف انہوں نے دیکھا تو آگ کے شعلے نے ان کو آلیا اس لیے ان کے قریب نہ جانا ان کی فطرت میں داخل ہے ایسی خطرناک چیز کی طرف بڑھنا اس لیے بھی ممکن نہیں کہ فطرت کی روک ہی اس طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے اور یہ بھی کہ اجرام فلکی کا آپس میں کچھ اس طرح کا نظام باندھ دیا گیا ہے کہ کسی ایک کو چھیڑنے سے سب کی طرف سے اس چھیڑنے والے پر مار پڑنے کا خطرہ ہے اور اس پر ہر طرف سے پتھراؤ کیا جائے گا یہ چیزیں وہ ہیں جن کے متعلق ابھی تک شہادتیں آنا شروع نہیں ہوئیں کیونکہ انسانوں کی رسائی ابھی وہاں تک نہیں ہوئی جہاں پہنچ کر ان کو ایسے حالات سے دوچار ہونا ہے گویا یہ ایسی بات کی خبر ہے جو اس ترقی اور ایجادات اور خلائی سفر شروع ہونے کے اور بعض سیاروں تک پہنچ جانے کی خبروں کے باوجود وہ مقام نہیں آیا جس کی وضاحت اس جگہ کی گئی ہے لیکن ایسے مقامات بہرحال موجود ہیں اگرچہ وہ ابھی مشاہدہ میں نہ آئے ہوں کہ جن کے چھیڑتے ہی چومکھی آگ برسنے لگے گی جو چھیڑنے والے کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

(ان کو) بھگانے کے لیے اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے

ان کو بھگانے کے لیے اور یہ چھیڑ خانی کرنے والوں کے لئے دائمی عذاب ہے : 9۔ (دحورا) کا مادہ د ح ر ہے اور دحور کے معنی بھگانا ‘ ہانکنا ‘ دھتکارنا اور دور کرنا کے ہیں اور اس کا تعلق گزشتہ آیت میں لفظ جانب سے ہے گویا کہ ہر طرف سے ان کو بھگانے ‘ ہانکنے ‘ دھتکارنے اور دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ نازک ترین مقامات ہیں جن پر ان اجرام فلکی کا آپس میں تعلق جوڑ دیا گیا ہے اور اسی تعلق کی بنا پر ان کے اندر یہ باقاعدگی قائم کی گئی ہے اگرچہ وہ ہماری دسترس سے تاحال باہر ہے اور نظروں سے تو پہلے ہی اوجھل ہے کہ اتنی دور کی چیز کو یہ آنکھ دیکھ ہی کب سکتی ہے ان آیات کریمات کے مضمون کے اندر بہت بڑی وسعت ہے اور یقینا کبھی نہ کبھی کوئی ایسی دھماکہ خیز خبر آپ کو ضرور سنائی جائے گی کہ اگر اس نظام کو اس جگہ سے چھیڑا جائے تو پھر یہ درہم برہم ہوجائے گا اور پھر یہ بھی کہ فلاں نے اس کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ ایسا ایسا ہوا اور یہ سب کچھ وہ نقشہ جات ہی بتائیں گے جو وہاں سے لیے جائیں گے ‘ چھیڑنے والے کا اتا پتا یقینا نہیں ملے گا ، فرمایا یہ تو عالم دنیا میں ہی ان کے ساتھ ہوگا رہا عالم آخرت تو اس میں بھی ایسے شرارتیوں کے لیے ایسا عذاب تیار کیا گیا ہے جو ان پر جم جائے گا اور کبھی ان سے الگ نہیں ہوگا ۔ (واصب) اسم فاعل واحد مذکر مرفوع ‘ جم جانے والا ‘ قائم رہنے والا ‘ جاودانی اور لازوال اس لیے ہم نے اس کو دائمی عذاب سے تعبیر کیا ہے ۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر (ہاں ! ) جو (شیطان) کچھ اچک کر کوئی خبر لے بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

ہاں ! اگر کوئی چیز وہاں اچک کرلے آئے تو اس پر شہاب ثاقب ضرور پڑیں گے : 10۔ (خطف الخطفۃ) ہاں جو کوئی چیز اچک لے ، اچک لینا دو طرح سے ہے ایک تو یہ کہ اس مقام سے فی الواقعہ کوئی چیز یا کوئی خبر اٹھا کرلے آنا جیسے چیل چوزے کو اچک کرلے جاتی ہے اور ایک یہ کہ وہاں کی خبروں میں سے کسی خبر کو سن کر بھاگ آنا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ پر دوسری قسم ہی مراد لی جاسکتی ہے کہ وہاں کے متعلق اندازہ لگانے والے کچھ اندازہ لگا کر کچھ بیان کردیں اور اس طرح جھوٹ سچ ملا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ کسی وقت ایسا ہونا معرض وجود میں آجائے اس سے بہرحال اس ترقی کی طرف اشارات ملتے ہیں جو زمین کی معلومات سے بڑھ کر آسمان یا اجرام فلکی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بلاشبہ اس ترقی کا ہونا ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں اکیسویں صدی کے پہلے سال نہایت اہم نظر آتے ہیں اور ہوائیں اس طرف چل رہی ہیں کہ شاید کچھ نئے نئے انکشافات مزید ہونے والے ہیں اور انسانی جانوں کا اجتماعی ضیاع بھی انہی لزومات میں سے ایک لازمہ ہے اور صحیح حقیقت حال اللہ ہی کو معلوم ہے ، یہ صحیح ہے کہ گزشتہ استعارات میں سے بعض بالکل مسترد ہوچکے ہیں اور اکثر وبیشتر ایسے ہیں کہ ان کو مشاہدات نے استعارات نہیں رہنے دیا بلکہ روز روشن کی طرح واضھ کردیا ہے اس لیے ناگزیر ہے کہ وہ پوشیدہ راز جو ابھی تک استعارات کے رنگ میں بھی پیش نہیں کیے جا رہے تھے ان کو استعارات کے رنگ میں لانا آسان ہوچکا ہے اور مکی سورتوں میں ان کی بہت بہتات ہے اور فی الحال ان پوشیدہ رازوں کو استعارات ہی کے جامعہ میں بیان کیا جائے گا اور یہ استعارات ان پہلے استعارات کی جگہ لیں گے جو استعارات گزشتہ انبیاء کرام کے لیے بولے گئے تھے غور کرو کہ اب عیسیٰ (علیہ السلام) کے استعارات مردوں کو زندہ کرنا ‘ اندھوں کو بینا کرنا ‘ کوڑھیوں کو درست کرنا ‘ مہد وکہل میں باتیں کرنا ‘ حال کے کھانوں کی خبر دینا اور گڑھوں میں چھپا رکھا ہوا بتا دینا کے استعارات کب استعارات رہ گئے ہیں ان کی حقیقت تو بالکل صاف نظر آنے لگی ہے ‘ موسیٰ کی لاٹھی کا سانپ اور ید بیضا کا راز کھل کر سامنے آگیا ہے اور باقی سات نشانیاں اب ” کھوتے چڑھی بات “ ہے اس لیے ضروری ہے کہ اب محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی قدسی کے پوشیدہ رازوں کو استعارات کا جامہ پہننا ہے اور ترقی کے نئے دور شروع ہونا ہیں اور نئے دروازے کھلنا ناگزیر ہیں تاہم آسمان بابا اور بوڑھی زمین کی عمروں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور خصوصا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ایک دن کے استعارہ کو دیکھتے ہوئے کہ اس کی لمبائی ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے جتنی جلدی بھی ہم کرلیں گے اس کے لیے انسانی نسلیں درکار ہیں اور اس کو اتنی جلدی پر محمول کرکے غلطی نہیں کرنا چاہئے بلکہ مدت تعین کرنے میں اللہ رب کریم کے دن کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا ۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

پس آپ ان (کافروں) سے پوچھیے کہ ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا جن کو ہم پیدا کرچکے ہیں ؟ بلاشبہ ان کو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا

کیا ان کافروں کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا دوسری مخلوق کی جوان کو نظر آرہی ہے : 11۔ زمین و آسمان جیسی مہیب جو سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کھارہی ہے اور جو اجرام فلکی سے پر ہیں اور ایک گیند کی مانند نظر آرہے ہیں ان کی پیدائش زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے یا اس چھ پونے چھ فٹ قد کے ایک انسان کی جس کا سب کچھ دوسری چیزوں کے مقابلہ میں مختصر ہے ، پھر جس خلاق وعلیم نے علام الغیوب اور ستار العیوب نے اتنی بڑی بڑی چیزیں بنائی ہیں وہ ان انسانوں کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ انسان نہیں بنا سکتا یا ان آسمانوں اور زمینوں کو فنا کرکے نئے آسمان اور زمین معرض وجود میں نہیں لاسکتا ۔ آخر کیوں ؟ جبکہ اس نے اپنی قدرت کاملہ سے انسان کو ایک بار اس چپکنے والے مٹی کے مادہ سے بنا کھڑا کیا ہے اور اس کائنات کو اس کی تسخیر میں دے دیا گیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے اس کی چیزوں کو اوپر نیچے کر کے ایجادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دے اور اللہ رب کریم کے سربستہ رازوں کو اپنی عقل وفکر کے ذریعہ کھولتا چلا جائے لیکن افسوس کہ ہمیں ملائیت نے ایسا ڈرایا کہ ہم کپکپاتے ہی رہے اور غیروں نے ان سے خوب استفادہ کیا ۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

ہاں ! آپ ﷺ کو تعجب ہوتا ہے کہ وہ (حق کا کیوں) مذاق اڑاتے ہیں ؟

آپ کو تعجب ہوتا ہے کہ وہ لوگ کیسے مذاق اڑا رہے ہیں : 12۔ یہ کلام اہی کے ان سربستہ رازوں سے واقف نہیں اور ان کو اپنے سطحی علم سے حقیقت نظر نہیں آتی کیونکہ یہ لوگ وہم و گمان کی بنا پر ابھی کہانت ‘ سحر ‘ جنون سایہ اور جنات کے اثر اور زیادہ سے زیادہ پیروں فقیروں کی مار لگ جانے سے باہر نہیں نکل سکے اور ظاہر ہے کہ ان کو اس فکر کے تحت بات کرنا ہے جو ان کی گدیوں میں موجود ہے اور آج اگر انکو اپنے علوم پر فخر ہے تو بھی منوں علم رکھنے کے باوجود ابھی ان کے پاس عقل وفکر کا ایک تولہ بھی موجود نہیں اس معاملہ میں بالکل کورے ہیں ، آپ کی باتوں کو سن کر وہ ہنسی نہیں اڑائیں گے تو آخر کیا کریں گے بھی کیا ۔ ان کے پاس تو وہ چیز موجود نہیں اور آپ سے نہ حاصل کرنے کی انہوں نے سوگند کھائی ہے اور عقل کا استعمال حرام سمجھتے ہیں کیونکہ یہی ان کی دینداری کا سب سے بڑا نشان ہے ۔
Ayah 37:13

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے

جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو ان کو قبول نہیں کرتے : 13۔ ایسے شپرہ چشم ہیں کہ اندھیرے کی طرف قدم اٹھاتے ہیں اور روشنی کی طرف دیکھنے کا نام نہیں لیتے بلکہ اس سے دور بھاگتے ہیں اور جو بھی ان کو نصیحت کرتا ہے تو اس کی نصیحت کو نصیحت ماننے سے انکاری ہیں پھر اس سے کیونکر وہ نصیحت حاصل کریں گے یہ وہی ہیں جو چلتی کا نام گاڑی رکھتے ہیں اور پھر مل کر اتنا زور سے اس کا گاڑی ‘ گاڑی کہتے ہیں کہ دوسرے خود بخود اس کا گاڑی کہنا شروع کردیتے ہیں اور اسی اکثریت کے بل بوتے پر وہ اپنی گاڑی ہانکے چلے جا رہے ہیں ۔
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں ؟

جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں : 14۔ یہ کائنات نشانات سے بھری پڑی ہے اور ان کی جب بھی کسی نشانی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ لوگ توجہ دلانے والے کو بھی اور اس نشانی کو بھی اپنے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں اگر آپ کو معلوم کرنا ہو کہ وہ اللہ کی آیات کو نشانہ کس طرح بناتے ہیں اور ان کو نشانی ماننے سے کیسے انکاری ہیں تو زیر نظر جلد میں سورة الروم کی آیات 20 تا 27 کا مطالعہ کریں اور مرضی کی تفسیر کو دیکھیں ، قرآن کریم جو فی نفسہ نشانی ہی نشانی ہے بلکہ اتنا بڑا نشان ہے کہ اتنا بڑا نشان کسی نبی ورسول کو بھی نہ دیا گیا تو اس کو انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہو ابتایا پھر جب ان کو کہا گیا کہ اگر یہ محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑ لیا ہے تو تم بھی ایک اسی طرح کا قرآن گھڑ کرلے آؤ تو منہ بسورتے اور بڑبڑاتے ہوئے دور ہوگئے ، ان کے سامنے خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بطور نشانی پیش کیا گیا تو انہوں نے اس نشانی کو جادوگر ‘ ساحر ‘ سحر زدہ ‘ کاہن ‘ شاعر اور مجنون قرار دے دیا اور محمد کی بجائے مذمم کہنا شروع کردیا ۔ نعوذ باللہ ۔
Ayah 37:15

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

اور قرآن کریم کو انہوں نے صریح جادو قرار دیا : 15۔ جب انہوں نے قرآن کریم کو محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا کلام قرار دیا تو ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اچھا تم بھی ایک ایسا ہی کلام گھڑ کر پیش کر دو اور تم سارے مل جاؤ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا جس کو چاہو ساتھ ملا لو اور سارے مل کر ایسا کلام لے آؤ تاکہ اس بات کا فیصلہ ہوجائے کہ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا ہے نہیں تو انہوں نے اس قرآن کریم کو سحر قرار دے دیا اور پہلے نظریہ سے فورا ہٹ گئے ۔
Ayah 37:16

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

کیا ہم مر ‘ مٹ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ : 16۔ ان کو کہا گیا کہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم کو مارے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا کہ تمہارے اعمال تم کو دکھائے اور ان کے نتیجہ سے تم کو دوچار کیا جائے تو وہ تعجب سے کہنے لگے کہ ہیں یہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ نہیں نہیں ‘ ایسا کون کرے گا ؟ اور کون ہے جو ہم کو دوبارہ زندگی عطا کر دے گا ؟ ان کے اس تعجب کو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے اور ان کے اس تعجب کو طرح طرح کی مثالیں دے کر دور کرنے کی کوشش کی ہیں لیکن انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث کبھی اس کا اقرار نہیں کیا بلکہ اس کو ایک جادو اور سحر قرار دیا ۔
Ayah 37:17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ؟

پھر تعجب پر مزید تعجب سے پوچھا کہ کیا ہمارے باپ دادوں کو بھی ؟ : 17۔ ان سے کہا گیا کہ ہاں ! کیوں نہیں یقینا تم کو بھی تمہارے باپ دادوں کو بھی اور پھر ان کے باپ دادوں کو بھی اور پھر صرف انہی کو نہیں تمہارے پچھلوں کو بھی اور پہلوں کو بھی اور اس کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا ہے اور پھر یہ بھی کہ تم کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا اور وہاں تم کو پیپ پینے کو اور تھوہر کھانے کو ملے گا اور اس سے تم کو پیٹ بھرنا ہوں گے اس طرح کی باتیں یہ سنتے سنتے بوکھلا گئے لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہی رہے ۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے ہاں ! اور تم ذلیل (اور رسوا) بھی ہو گے

آپ کہہ دیجئے کہ ہاں ! اور تم ذلیل بھی ہو گے : 18۔ یہاں بھی ان کو یہی جواب دیا جا رہا ہے کہ کیوں نہیں تم کو اور تمہارے باپ دادوں سب کو اٹھایا جائے گا اور پھر یہی نہیں کہ صرف اٹھایا جائے گا بلکہ تمہیں ذلیل و خوار بھی کیا جائے گا اور آخرت خواہی تو تمہارے لیے اسی انکار کے باعث ہو سکتی ہے جو تم مسلسل کیے جا رہے ہو اور اس دنیا میں بھی تمہارا ذلیل ہونا ہم کو یقینی نظر آرہا ہے کیونکہ یہ عین سنت اللہ کے مطابق ہے اور سنت اللہ کے خلاف ممکن نہیں ۔
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

پس وہ (قیامت) تو بس ایک ڈانٹ ہوگی پس ناگہاں وہ دیکھنے لگیں گے

پس وہ ایک سخت ڈانٹ ہوگی کہ ناگہاں وہ دیکھنے لگیں گے : 19۔ قیامت جس کے آنے سے وہ انکار کیے جا رہے ہیں اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ ایک سخت ڈانٹ ‘ دھمکی اور جھڑکی ہوگی لیکن اتنی شدید ہوگی کہ دل دھل جائیں گے اور ان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور وہ جہاں اور جیسے ہوں گے کان کھڑے کریں گے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کہنے لگیں گے ۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے ہائے ہماری بدنصیبی یہ تو جزاء کا دن ہے

ہائے ہماری بدنصیبی یہ تو وہی جزا وسزا کا دن ہے : 20۔ ہائے افسوس یہ تو ایسا لگتا ہے کہ ہم اس دن کی زد میں ہیں جس کو جزا وسزا کا دن کہا جاتا تھا گویا ایک نہ ماننے والی اور نہ تسلیم کرنے والی چیز کو ایسے وقت مان لیں گے اور تسلیم کرلیں گے جب کہ اس کے ماننے اور تسلیم کرنے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں نے جوتے بھی کھائے اور پیاز بھی ۔
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(کافروں کو جواباً کہا جائے گا ، ہاں ! ) یہی وہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

ہاں ! یہ وہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے : 21۔ گزشتہ آیت میں جو انہوں نے تسلیم کیا تھا وہ تسلیم کرنا شک ہی کے ساتھ تسلیم کرنا تھا زیر نظر آیت میں ان کا شک دور کیا جا رہا ہے کہ ہاں ! یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور طرح طرح سے اس کو جھٹلاتے اور خبر دینے والے کو نشانہ تضحیک بناتے تھے اور مذاق اڑاتے اڑاتے بس ہی نہیں کرتے تھے ۔
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(حکم ہوگا) گھیر لاؤ ان ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو اور ان کے معبودوں کو

کہا جائے گا گھیر لاؤ ان ظالموں کو ان کے ہم مشربوں کو اور ان کے معبودوں کو : 22۔ حکم ہوگا کہ ان سب کالی بھیڑوں کو اکٹھا کرلو اگرچہ ان میں بڑی بڑے سردار ‘ سیاسی لیڈر اور مذہبی پیشوا ‘ پیرو مرشد اور بڑی بڑی پگڑیوں والے ہوں گے ان سارے کے سارے دستار بندوں کو بلا امیتاز کہ وہ سبز پگڑیوں والے ہیں ‘ کالی پگڑیوں والے ‘ سفید پگڑیوں والے ‘ نسواری پگڑیوں والے اور دھاری دار پگڑیوں والے جنہوں نے دنیا جہان کو لوٹنے کے لیے یہ سارے سوانگ رچائے تھے اکٹھا کرلیا جائے گا اور ان ساری قسموں کے جو بڑے بڑے سرغنے ہوں گے ان کو بھی اور حکم ہوگا کہ جن جن کو انہوں نے اپنے معبود بنایا ہوا تھا اور ان کے سارے ہم نشینوں کو بھی فورا اکٹھا کرلو اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے فرشتے ان سب کو میدان حشر کی طرف ہانک کر لا رہے ہوں گے یہاں تک کہ ان سب کو اکٹھا کردیا جائے گا ۔
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

(سب کو) اللہ کے سوا پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر ڈال دو

اللہ تعالیٰ کے سوا ان سب کو اکٹھا کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا : 23۔ یہ کون معبود ہیں ؟ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہ معبود تو اللہ کے نیک بندوں کو بھی بنایا گیا ‘ فرشتوں ‘ نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو بھی معبود تسلیم کیا گیا ۔ لاریب تسلیم کیا گیا لیکن ان میں سے آخر کس کس نے اپنے معبود ہونے کا اقرار واعتراف کیا تھا سوائے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا تھا بات تو دعویداروں کی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کو اس میں سے مستثنی کردیا اور واضح کردیا کہ یہ جن باطل معبودوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے خود اپنے معبود ہونے کا اعلان کیا تھا یا ان لوگوں کے اس فعل پر بغلیں بجا رہے تھے فرمایا اللہ رب کریم کے سوا سب کو جہنم کی راہ کی طرف دھکیل کرلے چلو۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو ذرا ٹھہرائے رکھو ان سے (کچھ) پوچھ گچھ کی جائے گی

کہا جائے گا ان کو ذرا ٹھہرنے دو تاکہ ان سے سوال کیا جاسکے : 24۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے ان سب کو اکٹھا کر کے دوزخ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا اور ان میں سے ایک بھی نہیں ہوگا جو اپنی سرداری اور مذہبی پیشوائی کے نشہ میں انکار کرے ۔ جب یہ سب کے سب اکٹھے کردیئے جائیں گے تو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا ٹھہرنے دو تاکہ ان سے باز پرس کرلی جائے ، غور کرو کہ یہ لوگ کہاں کھڑے ہوں گے ؟ دوزخ کے دروازے پر اور ان کی رسوائی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ہی ٹھہرایا جا رہا ہے تاکہ سارے لوگوں کو ان کے کفر کی اور ان کارستانیوں کی اطلاع ہوجائے اور سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی عظمت کے دنیا میں دن کے بجتے تھے اور ان کو لوگ جھک جھک کر سلام کیا کر کرتے تھے اور اب ان سے کیا پوچھا جانے والا ہے ؟
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

تم کو کیا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ 25۔ تم وہی تو ہو کہ ایک گروہ تم میں سے اس دن کی ملاقات کا سرے سے منکر تھا اور ایک گروہ مانتا تھا لیکن سمجھتا تھا کہ ہمارے حمایتی اور ہمارے پیر و بزرگ ہمارے مذہبی پیشوا ہم کو اس کٹھن منزل سے نکال لیں گے اور تم میں وہ بھی ہیں جو اس طرح اپنے مریدوں ‘ حواریوں اور چیلوں کو وعدہ دیا کرتے تھے آخر وجہ کیا ہے کہ تم اس وقت ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ، آخر بات کیا ہے کہ تم جواب نہیں دیتے ۔
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ اس دن وہ سب (سرجھکائے) فرمانبردار (کھڑے) ہوں گے

اس دن تو ان میں سے ہر ایک فرمانبردار کھڑا نظر آرہا ہے : 26۔ آج یہ لوگ سرتسلیم خم کیے کھڑے ہیں یہ کون ہیں ؟ وہی جو دنیا میں بات بات پر برہم ہوتے تھے اور راہ حق کی طرف اگر ان کو نصیحت کی جاتی تو اکڑنے لگتے تھے ہاں ! وہی سردار ‘ وہی سیاسی لیڈر ‘ وہی مذہبی پیشوا اور وہی مرشدین آج تو نظر اٹھا کر دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں آخر کیا ان کو سانپ سونگھ گیا ہے ؟ اس طرح جب ان کو بہت ہی کچھ کہا جائے گا تو وہ ایک سرد آہ بھریں گے اور مخاطبین سے ہٹ کر بات کریں گے ۔
Ayah 37:27

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے

ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے : 27۔ بعض بعض پر سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے آپس میں سوال و جواب شروع کردیں گے اور اس طرح اس کے بعض کی وضاحت بعض کے قول سے خود بخود ہوتی جائے گی کیونکہ بات خود بتا دے گی یہ پیر صاحب بول رہے ہیں یا مرید صاحب یہ سیاسی لیڈر کا ارشاد ہے یا ووٹر کی بات ہے یہ متکبر آدمی ہے یا کمزور کی طرف سے بات جاری ہے ۔
Ayah 37:28

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

وہ (اپنے پیروں سے) کہیں گے کہ تم ہی تھے جو ہمارے پاس دا ہنی طرف سے آیا کرتے تھے

وہ کہیں گے کہ تم ہی تھے جو ہمارے پاس داہنی طرف سے آیا کرتے تھے : 28۔ معلوم ہوگیا کہ بولنے والے صاحب مرید ہیں ‘ حواری اور ووٹر ہیں جو اپنے پیروں ‘ سرداروں اور سیاسی لیڈروں کی طرف دیکھ کر ان سے بات کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو ہمارے پاس نہایت شان و شوکت سے آیا کرتے تھے اور دعو وں سے ہم کو یقین دلاتے تھے آخرت ہمارے گھر کی کھیتی ہے تم ہمارے مرید ہو تم کو آخر کون پوچھ سکتا ہے گویا سارے ماتحت اپنے سرداروں کو کہیں گے کہ تم بڑی شان و شوکت اور کروفر سے ہمارے پاس آتے تھے اور ہمیں اسلام سے ہٹا کر کبھی مساوات کی دعوت دیتے تھے ‘ کبھی تہذیب جدید کے نام پر عریاں ہونے کے مشورے دیتے تھے اور تم ہی تو وہ ہو کہ ہم سے کہا کرتے تھے کہ تم آنکھیں بند کر کے ہمارے پیچھے پیچھے چلے آؤ ہم دونوں جہانوں میں تمہارے ذمہ دار ہیں اور آج تم ہمارے ساتھ آنکھ ملانے کے لیے تیار ہی نہیں ہو۔
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

(پیر) کہیں گے بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے

سردار کہیں گے کہ تم تو خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے : 29۔ سردار اور و ڈیرے ان کی باتیں سنیں گے اور آخر کار بول ہی اٹھیں گے کہ یار تم ایمان ہی کب لائے تھے جو ہم تم کو ایمان سے ہٹاتے رہے اور تم کو اس طرح کی دعوت دیتے رہے جیسا کہ اس وقت تم کہہ رہے ہو اور یہ بھی کہ تم خود ہی ہماری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر صبح وشام ہمارے ہاں حاضری دینے کے لیے آتے تھے اور اس وقت بھی تم خود ہی اپنی طرف سے باتیں بنا بنا کر ہم کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ تم کو ہمارے پاس سے کچھ گرا پڑا ملتا رہے اور ہم تمہارے دنیوی کاموں میں تمہاری پشت پناہی کرتے رہیں ۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور (پیر مریدوں سے کہیں گے کہ) ہمارا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں در حقیقت تم خود سرکش لوگ تھے

ہمارا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں اور تم خود ہی سرکش تھے : 30۔ تم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ تم کو پکڑ دھکڑ کر اپنے پاس نہیں لاتے تھے بلکہ تم کو بہت خواہش ہوتی تھی کہ اپنے کام وام سے فارغ ہو کر چوکی بھرنے کے لیے جلدی چلیں اور سارا دن آنے والی شام کا انتظار کیا کرتے تھے کہ جلدی آئے اور ہم چل کر مجلس میں بیٹھیں اور اگر ہم کبھی لیٹ ہوجاتے تو تم ہمارے گھر کا چکر لگاتے اور جب تک ہم بیٹھک میں آکر بیٹھ نہ جاتے تم لوگوں کو چین ہی نہ آتا تھا ہم تو خیر جو کچھ تھے وہ تھے ہی تم خود ہی سرکش اور خود سر تھے کہ کسی نیک مجلس کے قریب بھی نہ بھٹکتے تھے ہم کبھی رسما نماز کے لیے چلے بھی جاتے تو تم حقہ بھرنے کے بہانے لان ہی میں پڑے رہتے تھے تمہارا دل کسی نیک کام کی طرف مائل ہی کب تھا جو آج ہم کو مطعون کر رہے ہو ۔
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

پس ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ہم کو بہرحال مزہ چکھنا ہے

ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ہم کو بہرحال دوزخ کا مزہ چکھنا ہے : 31۔ اب جب ہمارے رب کا عذاب ہم پر لازم ہوگیا اور ہمیں اپنے کیے کی سزا ملنے لگی تو تم حیلے بہانے تراشنے لگے ہو ان حیلوں بہانوں کا آخر فائدہ اب تو ہم ہوں یا تم سب جال میں پھنسے ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ نہ ہمارا ہی دل اس دن کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تم تصدیق کرنے کے لیے تیار تھے اب جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ تو یہی ہے کہ نہ تو ہم ہی اس عذاب سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہی تم کو کوئی سہولت حاصل ہو سکتی ہے اس وقت جو کچھ ہم کو چکھنا ہے سب ہی کو چکھنا ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بہانہ تراشی مفید نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

پس ہم نے تم کو گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے

چلو ہم نے تم کو گمراہ کیا تو ہم خود بھی تو گمراہ تھے : 32۔ زیادہ سے زیادہ تم یہی ثابت کرنا چاہتے ہو کہ ہم نے تک کو گمراہ کیا اگر بات ایسی ہی ہے تو آخر ہم خود کب سیدھی راہ چل رہے تھے کہ تم کو الٹی راہ پر لگا دیا جیسے ہم گمراہ تھے ویسا ہی تم کو بھی گمراہ کیا اگر ہمارے سر آئی ہے تو ہم جھیل جائیں گے اگر کوئی سہولت تم کو اس طرح میسر آسکتی ہے تو تم حاصل کرلو لیکن اب ہم کو تو یقین آگیا ہے کہ یہاں کوئی اندھیر کھاتا نہیں کہ ہمارے کہنے پر تم کو عذاب دیا جائے یا تمہارے کہنے پر ہم کو ، گناہ میں دونوں فریق شامل ہیں اور عذاب دونوں ہی فریقوں کو ہوگا نہ ہمارے کام ہماری بزرگی اور ہماری بڑائی آئے گی اور نہ تم کو اپنی کمزوری اس وقت کوئی فائدہ دے گی اس لیے اب اس بحث وتمحیث کا کوئی فائدہ ؟
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

غرض وہ (سب) اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے

اس روز وہ سب عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے : 33۔ بلاشبہ آج یہ سب کے سب ہمارے عذاب میں برابر کے حصہ دار ہیں اس طرح لیڈروں نے جو ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا وہ اپنی جگہ اس لیے صحیح تھا کہ اگر وہ لوگ دنیا میں ان کے قریب نہ جاتے اگر پھر بھی وہ لوگ ان کو اپنے ظلم وتشدد کا نشانہ بناتے تو کم از کم اس وقت کے عذاب اور تکلیف کو برداشت کرکے آج کی عیش کو لوٹ لیتے یہ نہیں تو ان جیسے کتنے ہی تھے جو باوجود کمزور ہونے کے اپنے سرداروں اور پیروں اور مرشدوں کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہوگئے اور دنیا میں تو ان کے ساتھ جو ہوا وہ ہوا آخرت کی مسرت تو ان کو نصیب ہوگئی ۔
Ayah 37:34

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں : 34۔ آج ہم مجرموں کے درمیان برابری ہی کا سلوک کریں گے اور ہمارے ہاں چھوٹے بڑے کا کوئی لحاظ نہیں ہوگا ۔ ہمارا نہ تو کسی سے کسی قسم کا کوئی بیر ہے اور نہ ہی ہم کسی کے پیار کے مارے ہیں کہ اب جو وہ کہے ہم کو کرنا پڑے ہمارے ہاں اصل مساوات ہے یہاں سب کے لیے ایک جیسا کڑوا ہے اور ایک جیسا میٹھا اور جو کچھ دیا جائے گا اس لیے نہیں کہ کسی کو ہم میٹھا ہی دیں گے اور کسی کو کڑوا یہ اعمال پر ہے کہ کون میٹھے کا مستحق قرار پاتا ہے اور کون کڑوے پر گزران کرتا ہے یہاں تو ” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی “۔
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کا تو یہ حال تھا کہ جب ان کو کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ لوگ تکبر کیا کرتے تھے

ان کا حال تو یہ تھا کہ جب کہا جاتا کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے ۔ 35۔ ہاں : بلاشبہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام توحید لے کر آتے تھے اور ان کے ہاں آکر کلمہ توحید کی صدا بلند کرتے تھے تو یہ و ڈیرے تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے تھے اور ان کے ھواری کلمہ طیبہ کی صدا کو روکنے کے لیے ان کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے اور ان کو ڈرا دھمکا کر وہاں سے بھگا دیتے تھے اور یہی حال ان وڈیروں کا تھا کہ وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے کہ ہمارے گماشتے نے ان کی خوب خبر لی ان مشرکوں کو اگر یہ کہا جاتا کہ شرک کرنا چھوڑ دو اور صرف ایک الہ کو مانو اور لا الہ الا اللہ کہو تو یہ لوگ اکڑنے اور اترانے لگتے تھے کیا ایک شاعر اور مجنون کے کہنے پر ہم بھی ایسا ہی کہنا شروع کردیں اور اپنے باپ دادا کے طریقے کو چھوڑ دیں بھلا یہ بھی کبھی ہو سکتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ آج کے مشرک بھی ان کو مشرک سمجھتے اور گردانتے ہیں اور خود سارے وہی کام کرتے ہیں جو وہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ تو بتوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور ہم تو نبیوں ‘ رسولوں اور پیروں بزرگوں کے نام لیوا ہیں اس لیے ان میں تو شرک تھا لیکن ہم میں شرک کہاں سے آگیا یہ ایسا دھوکا ہے جس میں خود مبتلا ہیں اور دوسروں کو مبتلا رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ بات کئی بار کہی جا چکی ہے کہ پرستش ہمیشہ صاحب بت کی ہوتی بت کی کوئی بھی پرستش نہیں کرتا اس طرح دوسری طرف پرستش صاحب قبر کی ہوتی ہے قبر کی کوئی بھی پرستش نہیں کرتا اور پرستش صاحب کی ہو تو بھی شرک ہے اور اگر صاحب قبر کی ہو تو بھی شرک ہے اس طرح عبادت کسی جن ‘ بھوت اور فرشتہ کی کی جائے تو شرک ہے اور اگر کسی نبی ورسول اور کسی پیروبزرگ کی جائے تو بھی شرک ہے شرک ہونے میں کوئی فرق نہیں نام اور شخصیت بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا جو غیر اللہ ہے وہ غیر اللہ ہی ہے خواہ ایرا غیرا ہو یا نتھو خیرا پیرہو ‘ بزرگ ہو یا نبی ورسول ہو ۔ انسانوں کی درجات بندی انسانوں ہی میں رکھ کر کی جاسکتی ہے اللہ کے ساتھ مقابلہ میں نہیں الوہیت میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانوں میں تقسیم کی جاسکتی ہو وہ انسان خواہ کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسا ہو ۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں گے

مشرکین کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون اور شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں : 36۔ مشرکوں کو اگر کہا جاتا کہ جن لوگوں کو تم نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے ‘ دنیا اور دین کے کام سنوارنے والے بنا رکھا ہے اس سے باز آجاؤ الوہیت صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لائق ہے کوئی زندہ انسان یا کسی مردہ انسان کا بت یا قبر یا شبیہہ یا تصور الوہیت کے معاملہ میں کام نہیں آسکتا تو مشرکین جزبز ہونے لگتے اور کہتے کہ ایک تو ہمارے باپ دادا ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے چلے آ رہے ہیں کیا وہ سارے غلط ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے بہت پسند کیا ہوا ہے اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش چل سکتی ہے اللہ کسی کو پکڑ لے تو یہ چھڑوا سکتے ہیں اللہ ہی نے ان کو یہ طاقت عطا کی ہے کیا اللہ کسی کو یہ طاقت نہیں عطا کرسکتا ؟ یہ کہنا تو کلمہ کفر ہے پھر جب اس نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنی حکومت ان میں تقسیم کی ہوئی ہے اور حکومت الہیہ کے یہ کارندے ہیں یہ جس سے راضی ہوں گے خدا اس سے راضی اور یہ جس سے ناراض ہوتے ہیں خدا ان سے ناراض ہوتا ہے یہ اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں اللہ ان کی بات کو نہیں موڑتا اگر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہی عقیدہ مشرکین مکہ کا تھا اور یہی اس وقت موجودہ مشرکین کا ہے ہاں ! ناموں کا فرق ہے اس وقت کے معبود والہ بنائے جانے والے اس وقت کے لوگوں کی نظروں میں وہ اولیاء کرام اور بزرگ تھے اور جو ان میں جتنا بڑا بزرگ ہوتا اس کے مرنے کے بعد اس کے بت بنا کر محفوظ کرلیتے اور ان بتوں کے سامنے اپنی نذریں گزارتے اور آج کل بزرگ الگ ہیں اور جن کو یہ لوگ بہت بڑا بزرگ سمجھتے ہیں ان کی قبریں بناتے اور قبروں پر نذریں گزارتے ہیں اور بت ہو یا قبر فی نفسہ اس کی کوئی پرستش و پوجا نہیں کرتا حاجت روا اور مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے دنیا وآخرت میں کام آنے والا ان کے لیے ان کا بت یعنی صاحب تھا اور ان کا صاحب قبر ہے اور یہی شرک ہے اور شرک چھوڑنے کے لیے نہ اس وقت کے مشرک تیار تھے اور نہ ہی آج کے مشرک تیار ہیں فرمایا مشرکوں کو اگر کہا جاتا ہے کہ شرک کرنا چھوڑ دو ‘ صرف ایک اللہ کو مانو اور کہو لا الہ الا اللہ تو اس سچی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے وہ اکڑنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم اس شاعر اور مجنون کے کہنے سے اپنے ان بزرگوں اور پیروں اور مرشدوں کو چھوڑ دیں بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ، ہاں اس وقت کے مشرک لا الہ الا اللہ کہنے کو تیار نہیں ہوتے تھے کیوں ؟ اس لیے کہ وہ لا الہ الا اللہ کے معنی سمجھتے تھے اور آج کے مشرک چونکہ لا الہ الا اللہ کے معنی نہیں جانتے اس لیے یہ لا الہ الا اللہ بھی پڑھتے ہیں اور شرک بھی کیے جاتے ہیں اور اس وقت کے مشرک شرک سے روکنے والوں کو شاعر اور مجنون کہتے تھے آج کے مشرک شرک سے روکنے والوں کو وہابی ‘ غیر مقلد وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں گویا اس وقت کے مشرکوں اور اس وقت کے مشرکوں کا کام تو ایک ہی ہے البتہ ناموں کا ضرور فرق ہے ۔
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

بلکہ وہ تو دین حق لے کر آیا ہے اور وہ سارے پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے

حالانکہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ دین حق لے کر آئے اور سارے نبیوں کے تصدیق کرتے ہیں : 37۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے حق لے کر نازل ہوئے ہیں سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلامورسل کے سردار اور خاتم النبیین بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں اور اپنے سے پہلے نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر قرار دیتے ہیں جو آپ سے پہلے تشریف لائے اور اسی طرح کسی ایک نبی کا ماننا اور تسلیم کرنا بھی کفر سمجھتے ہیں جو آپ کے بعد آئے ، آپ ﷺ سے پہلے جتنے نبی آئے ان سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا کہ اپنے بعد میں آنے والے نبی کی تصدیق کا اعلان کرو اور آپ ﷺ سے یہ حکم فرمایا کہ اپنے سے پہلے رسولوں کے آنے کا اقرار کرو اور جو بھی بعد میں آئے اس کا انکار کرو اور پھر اس کا تعلق اتنا پختہ کردیا کہ اس کو عقیدہ تسلیم کرلو کہ عقائد اسلامی میں اس کو شمار کردیا ۔
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بلاشبہ تم کو (اپنے تکبر کے باعث) دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہے

آپ کا کام مجرموں کو عذاب الیم کی خبر پہنانا بھی تھا : 38۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا کام جہاں تبشیر تھا وہاں تنذیر بھی تھا کہ ان لوگوں کو جو شرک سے باز نہیں آتے اور دوسرے کاموں کو نہیں چھوڑتے ان کو عذاب دردناک کی خبر پہنچانا بھی تھا کہ اے مجرمو ! تم ضرور دردناک عذاب دیئے جاؤ گے اگر تم شرک اور کفر وفسق سے باز نہ آئے اور بلاشبہ آپ ﷺ نے اس کام کو خوب سرانجام دیا اور پھر آپ ﷺ نے ہر کان تک یہ بات پہنچا دی ۔
Ayah 37:39

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسا کہ تم عمل کیا کرتے تھے

آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ لوگو ! تم کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے تم اعمال کرو گے : 39۔ آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ عمل اور اس کا نتیجہ لازم وملزوم ہیں جیسا تمہارا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ ہوگا اور وہی عمل صحیح شمار ہوگا جو ان حدود وقیود کے اندر رہ کر کیا جائے گا جو اسلام نے مقرر کردی ہیں اور یہ کہ شرک سے بڑی کوئی برائی نہیں اس لیے مشرک کو اگر وہ شرک پر ہی مر گیا تو یقینا دوزخ رسید کردیا جائے گا اور مرنے کے بعد اس کے جتنے نیک اعمال ہوں گے ان کو بھی ضائع کردیا جائے گا اور قیامت کے روز اس کو اس کا کوئی عوض نہیں چکایا جائے گا بلکہ دنیوی زندی ہی میں اس کو اس کا اجر وصول ہوجائے گا کہ اس کے شرک کے باوجود دنیا میں اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا ۔
Ayah 37:40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر (ہاں ! ) جو اللہ کے مخلص بندے ہیں

اللہ کے خالص بندوں کو اس سے مستثنی کردیا جائے گا : 40۔ مگر ہاں ! اللہ کے وہ بندے جو نیک کام کرتے اور شرک کے قریب نہیں جاتے ان کو دوزخ سے الگ کردیا جائے گا اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ بھی کم از کم دس گنا اور زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں کہ کتنا بڑھا کردیا جائے گا کیونکہ اللہ کے بندے خود بھی شرک کے قریب نہیں جاتے اور ان لوگوں کو بھی حتی المقدور روکتے اور منع کرتے ہیں اس لیے بلاشبہ وہ دوسروں کو منع کرنے کا اجر بھی پائیں گے ۔