Ayah 37:114(پچھلی آیت کی بقیہ تفسیر)
بات بالکل واضح ہے کہ یہاں کوئی بچے کی طلب نہیں کی اور یہ طلب اس لیے نہیں کی کہ الحمد للہ اب اولاد ان کے پاس موجود ہے لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کی خوشخبری خود بخود ان کی سنائی جارہ ہے اور ظاہر ہے کہ اب ابراہیم (علیہ السلام) بھی پہلے زیادہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور آج آپ کو اولاد کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے اس لحاظ سے آپ کو تعجب ہو رہا ہے کہ اس بوڑھاپے میں اولاد جب کہ ہم دونوں ہی بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنے قانون کے مطابق خوشخبری سنا دے اس تعجب سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے پاس اس سے پہلے کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے جناب استاذی حافظ عنایت اللہ صاحب مرحوم ومغفور کا یہ استدلال صحیح اور درست نہیں ہے ، اس طرح آپ کا دوسرا استدلال کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کو ” یبنی “ چھوٹا بیٹا کہہ کر پکارا ہے کوئی وزن نہیں رکھتا اور تیسرا استدلال کہ اسحاق سحق سے ہے اگر اس کو استدلال کہا جاسکتا ہے تو اس کا تعلق عورت سے ہے نہ کہ مرد سے اور سارہ ؓ کے ہاں بلاشبہ یہ پہلا ہی فرزند ہے اور اس سے قبل کوئی فرزند اس کے موجود نہیں تھا ۔
تورات کے بیان کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) سو سال کے ہوئے تھے کہ ان کو اس بیٹے ” غلام علیم “ کی بشارت سنائی گئی جو سارہ کے بطن سے تھے چناچہ تحریر ہے کہ ” اور خدا نے ابراہام سے کہا کہ تیری جورو ساری جو ہے اس کو ساری نہ پکارنا اس کا نام سارہ ہوگا اور میں اس میں اسے برکت دوں گا اور اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا یقینا میں اسے برکت دوں گا کہ قومیں اس کی نسل سے ہوں گی اور عالم کے بادشاہ اس سے پیدا ہوں گے ، تب ابراہام سرنگوں ہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کہ کیا سو سال کے بڈھے سے کوئی بچہ ہوگا اور کیا سارہ کے جو نوے برس کی ہے اولاد ہوگی ؟ اور ابراہام نے خدا سے کہا کہ کاش اسمعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے ۔ تب خدان نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تو اس کا نام اضحاق رکھنا اور میں اس سے اور پھر اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا ۔ “ (پیدائش 17 : 15 تا 20)
قرآن کریم میں سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش اور خوشخبری کا ذکر سورة ہود ‘ سورة الحجر اور سورة الذاریات میں کیا گیا ہے ۔ آپ کا قرآنی نام بلاشبہ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) ہے لیکن تورات میں آپ کو اضحاق تحریر کیا ہے جو غالبا اضحاک ہوگا اس لیے بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ خدا کے فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سوبرس کی عمر میں اور سیدہ سارہ کو نوے برس کی عمر میں بیٹا ہونے کی بشارت دی تو وہ انہوں نے اچنبھا سمجھا تھا اور دونوں کو ہنسی آگئی تھی اس لیے اس کا یہ نام تجویز ہوا یا اس لیے یہ نام رکھا گیا کہ ان کی پیدائش سیدہ سارہ کی مسرت و شادمانی کا باعث ہوئی اس لیے یہ یضحک سے یضحق اور اس سے اضحاق ہوگیا لیکن اس کی حیثیت وہی ہے جو سیدی حافظ عنایت اللہ (رح) نے اسحاق سے استدلال کیا ہے ۔
تورات نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اس گھر کے سارے مردوں کے ختنہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک ہی روز ہوا جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر اسی برس کی تھی اس طرح سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے ختنہ کے متعلق تحریر کیا کہ اسحاق (علیہ السلام) آٹھ دن کے ہوئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انکا ختنہ کروا دیا ۔ (پیدائش 21 : 4)
سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی شادی اور اولاد در اولاد :
قرآن کریم سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی شادی یا شادیوں کا ذکر نہیں کیا اگرچہ آپ کی اولاد اور اولاد کی اولاد بھی ہے بعض کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ آپ کے ہاں نبوت کا سلسلہ مسلسل چلتا رہا اور بہت سے نبی ورسول اس سلسلہ میں پیدا ہوئے جن میں سے بعض کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے ، تورات میں آپ کی شادی کے بارے میں ایک طویل قصہ مذکور ہے ۔
جس کا ماحصل کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے کانہ زاد الیعزر دمشقی سے فرمایا کہ میں یہ طے کرچکا ہوں کہ اسحاق (علیہ السلام) کی شادی فلسطین کے ان کنعانی خاندانوں میں ہرگز نہ کروں گا بلکہ میری یہ خواہش ہے کہ اپنے خاندان اور باپ دادا کی نسل میں اس کا رشتہ کروں اس لیے تو سازوسامان لے کر جا اور فدان آرام میں میرے بھتیجے بتوئیل بن ناحور کو یہ پیغام دے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسحاق سے کردے اگر وہ راضی ہوجائے تو اس سے یہ بیھ کہہ دینا کہ میں اسحاق کو اپنے پاس سے جدا کرنا نہیں چاہتا لہذا لڑکی کو تیرے ساتھ رخصت کر دے ۔ الیعزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق فورا آرام کو روانہ ہوگیا جب آبادی کے قریب پہنچا تو اپنے اونٹ کو بٹھایا تاکہ حالات معلوم کرے الیعزر نے جس جگہ اونٹ بٹھایا تھا اس کے قریب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی بتوئیل کا خاندان آباد تھا ابھی یہ اس میں مشغول تھا کہ سامنے اسے ایک حسین لڑکی نظر آئی جو پانی کا گھڑابھر کر مکان کو لیے جا رہی تھی الیعزر نے اس سے پانی مانگا لڑکی نے اس کو بھی پانی پلایا اور اس کے اونٹ کو بھی اور پھر حال دریافت کیا الیعزر نے بتویل کا پتہ دریافت کیا لڑکی نے کہا کہ وہ میرے باپ ہیں اور الیعزر کو مہمان بنا کرلے گئے مکان پر پہنچ کر اپنے بھائی لابان کو اطلاع دی لابان نے الیعزر کی بیحد مدارات کی اور آمد کیوجہ دریافت کی الیعزر نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیغام سنایا لابان کو اس پیغام سے بیحد خوشی ہوئی اور اس نے بہت سازوسامان دے کر اپنی بہن رفقہ کو الیعزر کے ہمراہ رخصت کردیا اور اس طرح رفقہ اسحاق (علیہ السلام) کی بیوی ہوئی اور اس بیوی سے سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے توام دو لڑکے الترتیب عیسو اور یعقوب پیدا ہوئے یہ بیان تورات میں پیدائش باب 64 کا ہے اور اس میں بہت رطب ویابس بیان ہوا ہے اس لیے ہم اس کو حذف کرتے ہوئے صرف یہ بات عرض کریں گے اس طرح قرآن کریم کی یہ پیش گوئی کہ ” اے ابراہیم ہم نے آپ کو اسحاق جیسا فرزند عطا کیا اور اسحاق کے پیچھے یعقوب بھی “ پوری ہوئی اور یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں میں سے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت قرآن کریم نے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کی جو سورة یوسف میں بطور قصہ اور وہ بھی ایسا جس میں رہتی دنیا کے لوگوں کے بہت نشانیاں رکھ دی گئی ہیں ، بشرطیکہ ان نشانیوں سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہئے ، سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں عیسو اور یعقوب کا ذکر تورات میں بہت تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن اس قصہ میں رطب ویابس ہے اس لیے ہم اس کو بھی نظر انداز کرتے ہیں ۔ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی وفات کہاں اور کیسے ہوئے کچھ معلوم نہیں کیونکہ اس کا ذکر تورات نے بھی نہیں کیا اور تاریخ انبیاء بھی اس جگہ خاموش ہے اور غیر متعلق باتوں کو بیان کرکے وقت ضائع کرنے کا ماحصل کیا ہے اندریں صورت سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کو اس جگہ ختم کرتے ہیں ۔ اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید ۔
بلاشبہ ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا :
114۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دو بیٹوں کا مختصر ذکر کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں بھائیوں کے واقعات کی طرف اشارات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی پوری داستان بھی نظروں کے سامنے آجائے اور قدرت الہی کی اسکیم سے واقفیت حاصل ہوجائے کہ وہ ایک واقعہ کو ترتیب دینے کے لیے کیا کرتی ہے ؟ قوم بنی اسرائیل پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے اور فرعون ان کے بچوں کو قتل کرتا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھ کر ان سے اپنے گھروں کے کام کاج کروانے کے ساتھ ساتھ ان کی عصمت پر بھی ڈاکہ زنی کر رہا تھا ، قدرت الہی نے چاہا کہ قوم بنی اسرائیل کو جو اس وقت پوری طرح فرعون کے مظالم کا شکار تھے ان کو اٹھا کھڑے کرے اور فرعون کو اس کے مظالم کا بدلہ دنیا مین بھی چکھائے ، اس اسکیم کے تحت قدرت خداوندی کی کرشمہ سازیوں کو دیکھو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو بنی اسرائیل ہی کی قوم میں پیدا ہوئے کس ترتیب و ترکیب کے ساتھ فرعون کے محلات میں لا کر فرعون ہی سے ان کی پرورش شروع کرا دی اس کو اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ (ان کیدی متین) کہ بلاشبہ میری تدبیر سلجھی ہوئی ہے کہ الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوگئے اور ان کے جذبہ کو قومی جذبہ میں کسی طرح تبدیل کرنا شروع کیا اور جب وہ مکمل طور پر قومی جذبہ سے سرشار ہوگئے اور اپنے آدمی کی حمایت میں حکومت کے آدمی کو اس کی زیادتی کے باعث ایک مکہ رسید کردیا اور اس سے اس کا کام تمام ہوگیا تو یہ دیکھ کر کہ اب حکومت کو بھی احساس پیدا ہوگیا ہے کہ موسیٰ کا چونکہ تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور اس میں اپنی قوم کا جذبہ کام کرنے لگا ہے انہوں نے چاہا کہ اس کا کام ختم کیا جائے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ان کے عزم کے متعلق علم ہوا تو وہ مصر سے نکل کر چلتے چلاتے اور پھرتے پھراتے مدین پہنچ گئے ، آپ کا مدین کی طرف نکلنا آوارہ نہیں تھا بلکہ اس کے خاص وجوہ تھے وہ یہ کہ مدین کا علاقہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے خاندان کی شاخ سے آباد تھا کہ موسیٰ اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور مدین میں ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد بنو قطورا آباد تھے ، مدین میں آپ نے رہ کر شعیب کی مدد کی اور ان کی بیٹی سے شادی کی اور آٹھ یا دس سال کے بعد دوبارہ مصر کی طرف آرہے تھے کہ راستہ میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے آپ کو منتخب کرلیا اور پھر اس کے بعد آپ کی معاونت کے لیے ہارون (علیہ السلام) کو بھی آپ کا شریک کار بنا دیا اور اس طرح دونوں بھائی فرعون کے پاس پیغام الہی لے کر گئے اب فرعون کو دعوت پیش کی اور ایک لمبے عرصہ تک ان کی تفہیم کراتے رہے ‘ طرح طرح کے دلائل اس کے سامنے رکھے لیکن لاحاصل انجام کار بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکلے اور بنی اسرائیل بحر قلزم سے پار ہوگئے اور فرعون کو اور اس کے پورے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے قلزم ہی میں غرق کردیا اور اقتدار کی باگ ڈور بنی اسرائیل کے سپرد کردی گئی یہی وہ احسان تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر کیا گیا جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے ۔
Ayah 37:115ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک بڑی مصیبت سے نجات دی :
115۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو احسان کیا وہ یہی تھا کہ ان کی قوم کو صدیوں کی غلامی سے نجات دی اور ان کے لیے سمندر پایاب ہوگیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن فرعون کو اس کے لاؤ لشکر سمیت غرق کردیا پھر قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے آپ کو تورات عطا کی اور ان کی داستان ایک بار سن لینے کے بعد انسان کا جسم گرم ہوجانا ایک فطری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اسی طرح سرفراز فرمادیتا ہے کہ انسان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا اور اس کی سختی دور کرتے کوئی زیادہ دیر نہیں لگتی ۔
Ayah 37:116اور ان سب کی مدد کی تو وہی غالب رہے :
116۔ اور ہم نے ان سب کی مدد کی یعنی گزشتہ واقعات جو بتائے گئے نوح (علیہ السلام) سے لے کر جن نبیوں کا ذکر کیا گیا سب کی مدد کو مجموعی طور پر بیان فرمادیا کہ پھر ایسا ہوا کہ وہی غالب رہے اور جو ان کے غالب آنے کی ترتیب ہم نے کی اسی ترتیب سے وہ غالب آئے اور یہ بھی کہ ان جمع کے صیغوں سے پوری قوم بنی اسرائیل مراد لی گئی ہو۔
Ayah 37:117ہم نے ان دونوں کو ایک واضح کتاب دی :
117۔ اس جگہ دونوں سے مراد ہی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) ہیں اور ان کو جو کتاب دی گئی وہ تورات ہے اگرچہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر ہی نازل ہوئی تاہم ہارون (علیہ السلام) بھی آپ کے برابر کے شریک کار تھے اس لیے دونوں کا ذکر کردیا گیا ، قبل ازیں بہت دفعہ یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ہماری انسانوں ہی کی زبان کے مطابق نازل ہوا ہے جس طرح ہم باتیں کرتے ہوئے کبھی ایک فرد کو کبھی پوری قوم کو مخاطب کرتے ہیں اور کبھی کسی جان پہچان والے کا نام تمہاری بات ‘ تمہارا کام ‘ تمہارا حال کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اسی طرح غائب کو حاضر اور حاضر کو غائب کے صیغوں سے یاد کرتے ہیں ۔ قرآن کریم بھی بعینہ اسی طرح مخاطب کرتا ہے کبھی بات سب کی آگئی اور ایک کی یا دو کی کبھی دو کو مخاطب کیا اور کبھی سب کو لیکن اس سے کبھی ہم نے بحث نہیں کی کیونکہ اہل زبان اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے پہچانتے ہیں اہل زبان ہر جگہ لغت کے پابند نہیں ہوتے ہاں ! لغت اہل زبان کی پابند ہوتی ہے کیونکہ فطری چیز اہل زبان ہیں نہ کہ لغت ، لغت تو ایک اختراعی چیز ہے لیکن کم علم لوگ ہمیشہ اپنی لغوی معلومات پر ہی جھگڑتے رہتے ہیں اور اس حقیقت کی طرف وہ دھیان ہی نہیں دیتے ۔
Ayah 37:118اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی :
118۔ فرعون مصر کے اقتدار کا مالک تھا اس نے ایکبار نہیں بار بار اسکیمیں لڑائیں کہ کسی نہ کسی طرح ان دونوں قومی لیڈروں کو ٹھکانے لگا دیا جائے لیکن جب اس نے اس طرح کی کوئی اسکیم اختیار کی ہم نے اس کے دفاع کی سیدھی راہ اپنے رسولوں کو بتا دی جس سے اس کی ہر اسکیم فیل ہوگئی یہاں تک کہ ہم نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کے سارے لشکروں کو ڈبو کر رکھ دیا ۔
Ayah 37:119ہم نے ان کے بعد آنے والوں میں ان کے ذکر کو باقی رکھا :
119۔ گزشتہ سارے نبیوں کے تذکار اور خصوصا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہم نے باقی رکھا تاکہ بعد میں آنے والے ان واقعات کو سن کر ان سے فائدہ حاصل کریں اور اس سے ان کی راہنمائی کا کام چلتا رہے بشرطیکہ بعد میں آنے والوں میں کوئی اس سے سبق حاصل کرنا چاہے ، حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس سے سبق حاصل کرتے ہیں زیادہ تر قومیں ایک یا دو نسل چل سکیں اور کم تھیں جو تین چار پشت تک اقتدار میں رہیں اور بہت کم تھیں جن قوموں نے تین چار سو سال عمر پائی اور پانچ چھ پشت تک برابر چلتی رہیں صرف اسلام کے زیر نگیں بعض علاقے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ سے چلتے آرہے ہیں کہ وہ اسلام کی دسترس میں رہے اگرچہ ان علاقوں میں بھی بعض اوقات ایسے حکمران آئے جو من حیث القوم تو مسلمان کہلائے لیکن اعمال کے باعث وہ بھی اس اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے رہے تاہم مسلمانوں کی عملداری ہی ان کی خصوصیت رہی ہے ۔
Ayah 37:120موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر سلام ہو :
120۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سلام کے مستحق ٹھہرے اور آخر میں سب مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ ان دونوں نبیوں اور رسولوں پر جو کمزوریاں ان کے ماننے والوں نے منسوب کی ہیں انمیں سے ایک ایک کا دندان شکن جواب دیا جائے اور عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی حفاظت مسلمانوں کے ایمان کا فی الحقیقت جزء ہے چونکہ ہر نبی ورسول معصوم تھا اس لیے ان کی عصمت کے خلاف جو کچھ بیان ہوا سارے کا سارا اختراعی ہے جو ان کے ذمہ لگایا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی کالی ہانڈیاں چھپانے کے لیے ان کی زندگیوں کو بھی داغ دار کردیا اور افسوس کہ وہیں سے اہل اسلام نے بھی ایسا مواد اسلام میں جمع کردیا حالانکہ یہ سراسر زیادتی تھی جو محض یہود کی نقالی میں اختیار کرلی گئی ۔
Ayah 37:121ہم اپنے مخلص بندوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں :
121۔ یہ جملہ وہی ہے جو سب داستانوں کے بعد جن کی داستان بیان کی گئی ان کی تعریف میں کہا گیا اس لیے کہ بحمد اللہ یہ سارے بندے محسنین تھے اور یہ بھی کہ محسنین کا اجر اب بھی بند نہیں ہے اور محسن ہونا صرف انبیاء ہی کے لیے خاص نہیں اس لیے کہ احساس کرنے والے عام انسان بھی ہوتے ہیں اس وقت بھی ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے محسنین کو بدلہ اس دنیا میں بھی دیا گیا اور ہر دور میں دیا جائے گا ۔
Ayah 37:122دونوں ہی ہمارے مومن بندوں میں سے تھے :
122۔ یہ آیت بھی آیت 111 ہی ہے اور حاشیہ 111 میں مومن کی جو تشریح کی گئی ہے وہی اس جگہ دیکھ لی جائے ۔
Ayah 37:123بلاشبہ الیاس (علیہ السلام) بھی رسولوں ہی میں سے تھے :
123۔ الیاس (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے بعد پیدا ہوئے اور کہا گیا ہے کہ ان کا حسب ونسب ہارون (علیہ السلام) سے تھا ، بلاشبہ بعض مفسرین نے الیاس اور ادریس (علیہ السلام) ایک ہی شخصیت کے دو نام بتائے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ قرآن کریم نے الیاس کا ذکر دو جگہ پر کیا ہے سورة الانعام آیت 85 میں اور سورة الصفت کی زیر نظر آیت میں پھر الانعام میں تو محض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی فہرست میں آپ کے نام ذکر کا آیا ہے اس کے علاوہ کچھ بیان نہیں ہوا اور اس جگہ دوسرے نبیوں کی طرح نام کے ساتھ آپ کی قوم اور اس کے مختصر حالات ذکر کیے گئے ہیں جن سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ الیاس (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) الگ الگ اللہ کے نبی ہونے کی حیثیت سے بیان ہوئے ہیں اور یہی صحیح ہے ۔
Ayah 37:124جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
124۔ الیاس (علیہ السلام) کی قوم مشہور بت بعل کی پرستار اور توحید سے بیزار ‘ شرک میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول نے ان کو سمجھایا اور راہ ہدایت دکھائی ‘ صنم پرستی اور کو اکب پرستی کے خلاف وعظ وپند کرتے ہوئے توحید خالص کی جانب دعوت دی ، بعل دیوتا مشرق میں آباد سامی اقوام کا مشہور اور سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا یہ بت دراصل زحل یا مشتری کا مثنی سمجھا جاتا تھا ، فینقی ‘ کنعانی اور مدیانی قبائل خاص طور پر اس کی پرستش کرتے تھے اس لیے بعل کی پرستش عہد قدیم سے چلی آتی تھی اور موآبی اور مدیانی قبائل خاص طو پر اس کو پوجتے چلے آتے تھے چناچہ شام کا مشہور شہر بعلبک بھی اس کے نام سے منسوب تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مدین میں اس کے پرستاروں سے واسطہ پڑتا تھا بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حجاز کا مشہور بت ہبل بھی یہی بعل ہے ۔ بعل دیوتا کی عظمت کا یہ حال تھا کہ وہ مختلف مربیانہ عطاء ونوال کی وجہ سے مختلف ناموں کے ساتھ موسوم تھا ۔ الیاس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید الہی کا درس دیا اور فرمایا کہ اے میری قوم تم ڈرتے نہیں ۔
Ayah 37:125کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو :
125۔ الیاس (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ میری قوم تم بعل کو پکارتے ہو اور اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا ٹھہراتے ہو اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو جو سب کا پیدا کرنے والا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اس دنیا میں جتنے نیک سے نیک اور اچھے سے اچھے انسان پیدا ہوئے کیا وہ سب کے سب اسی رب العالمین کی مخلوق نہیں ؟ کیا اس کے خالق ہونے سے کسی کو انکار ہے یا کوئی ہے جو اس کو اپنا خالق نہ مانتا ہو ؟
Ayah 37:126اللہ ہی تمہارا اور تم سب سے پہلوں کا پروردگار ہے :
126۔ تمہارا پروردگار بھی اللہ ہے اور تمہارے باپ دادوں سب کا پھر تم اس رب کریم کو چھوڑ کر دوسروں معبودوں کے کیوں گرویدہ ہو کیا جس رب نے تم کو پیدا کیا ہے وہ تمہاری حاجات کو پورا نہیں کرسکتا اور تمہارے نفع ونقصان کا وہ مالک نہیں ہے حالانکہ تم خود سب سے بڑا اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہو کیا وہ سب سے بڑا تمہارے اس سیکنڈ خدا کا کام پورا نہیں کرتا ؟ آخر اس میں تمہاری دلیل کیا ہے ؟ کیا باپ دادوں کا ایک کام کیے جانا بھی اس کی دلیل ہے جب کہ وہ اللہ کی طرف کوئی دلیل نہ رکھتے ہوں ۔
Ayah 37:127قوم نے اس کو جھٹلایا اور یقینا وہ پکڑے گئے :
127۔ قوم نے الیاس (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور شرک چھوڑنے پر رضا مند نہ ہوئے ، قرآن کریم کی اس آیت سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم کے لوگوں نے الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انجام کار وہ عذاب الہی میں گرفتار ہوگئے لیکن اس بات کی قرآن کریم میں تفصیل نہیں ہے اور ہی کوئی اشارہ ملتا ہے کہ ان پر کیسا عذاب آیا اور ان کا کیا حال ہوا آیا وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے یا کسی قحط سالی یا زلزلہ کی نذر ہوئے اور احادیث میں بھی اس جملہ کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی اور تاریخ بھی اس سلسہ میں بالکل خاموش ہے ۔ اس جگہ اس کی وجہ کیا ہے جان لینا چاہئے کہ اس کیوجہ محض یہ ہے کہ عرب اس وقت الیاس (علیہ السلام) اور اس قوم کے سب سے بڑے دیوتا کے متعلق جانتے تھے کہ اس کا نام کیا ہے اور اس سے زیادہ ان کی معلومات نہیں تھیں اور ان سے اس سلسلہ میں کوئی بات کرنا کسی طرح بھی مفید طلب نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جس چیز کی قوم کو واقفیت ہی ہو اس کے متعلق کوئی بات کہنا بھینس کے سامنے بیان بجانے کے مترادف ہوتا ہے اس لیے قرآن کریم نے اس کی تفصیل نہیں بیان کی اور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی دوسری اقوام بھی نام کے سوا کوئی واقفیت نہ رکھتی تھی اب سوال تو ان بھائیوں سے ہے کہ جو ایک خواہ مخواہ کا سوال پیدا کرلیتے ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا مثلا یہ کہ ہر آدمی سوال کرے گا کہ صاحب اس کی وجہ کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن مریم کہا گیا ہے ؟ کیا اللہ میاں کو بات کرنے کا ڈھنگ ہی نہیں تھا ، یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ فلاں عیسیٰ کا باپ ہے ؟ باقی نبیوں کا ذکر تو اس طرح کیا فلاں کو اس طرح کیوں بیان کیا ؟ ان کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ بہت سے نبیوں کی قوموں کا ذکر تو بڑی تفصیل سے کیا لیکن الیاس (علیہ السلام) ‘ ادریس وغیرہ کا ذکر کیوں اتنا مختصر کیا ؟ کیا ان کے متعلق اللہ کی معلومات کم تھیں ؟ جن انبیاء کی زندگی مبہم تھی اس کو تو مزید واضح کرنا چاہیے تھا پھر آخر کیوں نہ کیا گیا ؟ یہ سب کچھ مع شے زائد ان مذہبی ٹھیکہ داروں سے پوچھو لیا جائے جو لا یعنی سوالوں میں قوم کو الجھا کر اپنا الو سیدھا کرنے کے عادی ہیں جن کے پاس ڈگریوں کے انبار ہیں لیکن عقل وفکر سے وہ بالکل کورے ہیں جن پر بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی طرح محض کتابیں لاد دی گئی ہیں اور وہ ان کا بوجھ اٹھا کر نہایت خوش ہیں جنہوں نے علم کو کتابوں میں بند کر کے کتابیں سنبھال دی ہیں اور جو دنیا کے دوسرے جاہل لوگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہی وہ بھی کہہ اور کر رہے ہیں اور جو ظالم قوم کو عقل وفکر سے دور ہی رکھنا چاہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے غیر مسلم قوموں سے کچھ رشوت کھالی ہے اور وہ انہی کی ترجمانی کر رہے ہیں ۔ جو قوم کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے چکر سے باہر نہیں نکلنے دینا چاہتے اور بدقسمتی سے وہ رسومات بھی ایسی ہیں جن کو لوگوں نے مذہبی رسومات قرار دے لیا ہے حالانکہ اسلام کا ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں فقط ان رسومات میں ان کے حلوے مانڈے کا بندوبست کیا گیا ہے اور حلوے کی موت ہی مرنا چاہتے ہیں ، اس لیے وہ اس طرح کے سوالوں میں قوم کو الجھا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں ، ہم تو یہی جانتے ہیں کہ جس نبی ورسول کا جتنا ذکر اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے کیا اتنا ذکر ہی قوم کے لیے کفایت کرتا ہے اور زیادہ کی ان کو ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کی ضرورت کی چیز ہی ان کو بتانا تھی اور وہ صرف یہ تھی کہ جس قوم نے بھی اپنے زمانہ کے نبی ورسول کی بات نہ مانی اور اپنی بات اور باپ دادا کی تقلید پر ڈٹی رہی اس نے انجام کار شکست کھائی اور ایک روز اس کو عذاب میں ضرور مبتلا کیا گیا خواہ عذاب کس طرح کا آیا خواہ نبی نے وہاں سے ہجرت کی یا وہیں رکھ کر اس کو بچالیا گیا ۔
Ayah 37:128چند بندے اللہ کے ایسے بھی تھے جنہوں نے الیاس (علیہ السلام) کی تصدیق کی :
128۔ وہ خالص بندے کتنے تھے اور کون تھے ؟ کوئی ذکر نہیں اور اس ذکر کی ضرورت بھی نہیں ۔ دراصل بتانا یہی مقصود ہے جو عذاب بھی ان پر آیا وہ عذاب اس قسم کا تھا جو خاص کر کے ان لوگوں کو ہی دیا گیا جنہوں نے الیاس (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی خواہ وہاں سے ہجرت کرائی گئی یا اس جگہ کسی محفوظ مقام پر ان کو پہنچا دیا گیا یا جو صورت بھی ان کے بچانے کی اللہ نے مقرر کی تھی بہرحال ان کو بچالیا گیا اور باقی سب کا جنازہ نکال دیا گیا۔
Ayah 37:129الیاس (علیہ السلام) کے بعد آنے والوں کے لیے ہم نے اس کا ذکر باقی رکھا :
129۔ یہ اسی سنت اللہ کا اعلان ہے جس کا اعلان ہر نبی کی سرگزشت کے بعد اس سورت میں کیا گیا کہ اس نبی (علیہ السلام) کا ذکر ہم نے اس کے بعد آنے والی قوموں کی نصیحت کے لیے باقی رکھا تاکہ بعد میں آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرکے قوم اس دنیا میں پمپ نہ سکی کہ اس کا خاتمہ کردیا گیا اور یہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ پر نبوت ختم کردی گئی اور ساری اقوام عالم کو ایک قوم میں داخل ہونے کی دعوت دی گئی اور انشاء اللہ العزیز اسی دعوت پر اس دنیا کا خاتمہ کر کے اس کی صفوں کو لپیٹ دیا جائے گا اور اب مخالفین کو قیامت کے روز لائن حاضر کر کے ان سے پوچھ لیا جائے گا کہ تم کو سیدھی راہ بتانے والے آوازیں بھی دیتے رہے لیکن تم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ڈگر پر چلتے رہے اب تم سب بھی گزشتہ قوموں کے ساتھ ذرا اس نافرمانی کا مزہ چکھو۔
Ayah 37:130الیاس (علیہ السلام) پر سلام ہو کہ وہ سلام کا مستحق ٹھہرا :
130۔ الیاس (علیہ السلام) کے لیے گزشتہ قوموں کے رسولوں اور نبیوں کی طرح سلام ہو بلاشبہ وہ سلام کا مستحق ہے جس طرح سارے نبی اور رسول سلام کے مستحق ٹھہرے اور سلام کا مستحق ٹھہرنا کیا ہے ؟ اس کے متعلق ہم نے پیچھے نوح (علیہ السلام) کے ذکر میں وضاحت کردی ہے جو اس سورت کی آیت 76 میں گزر چکی ہے اس کی تفصیل وہیں سے معلوم کرلی جائے ۔
Ayah 37:131ہم مخلص بندوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں :
131۔ یہ آیت بھی گزشتہ نبیوں کے واقعات کے آخری جملوں میں آچکی ہے اور اس کو بار بار اسی لیے بیان کیا جا رہا ہے کہ تصریف آیات کے ذریعہ یہ نصیحت سارے انسانوں کے گوش گزار کردی جائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں میں داخل ہونے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں بلاشبہ نبوت و رسالت تو محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کردی گئی اور اس کے ساتھ ہی اخلاص و احسان بھی ختم ہوا جو انبیاء ورسل کے لیے خاص رکھا گیا تھا لیکن وہ احسان واخلاص جو ساری امتوں کے لیے خاص تھا وہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے لیے رہتی دنیا تک جاری وساری رہے گا محسنین و مخلصین بندے ہر دور میں موجود رہے ‘ اب بھی موجود ہیں اور رہتی دنیا تک موجود رہیں گے لیکن ان کے اخلاص و احسان کا تعلق انہی سے خاص ہے اور یہ ایمانیات کا مسئلہ نہیں کیونکہ ایمانیات میں صرف نبوت و رسالت داخل ہے اور بس اسی لیے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص جہاں سے بھی اور جیسے بھی دعوی نبوت کرے گا وہ خارج از اسلام تصور ہوگا اور رہے مخلصین امت تو ان کا بدلہ بھی اللہ رب کریم کے ہاں محفوظ ہے اس لیے وہ مزدوری لے کر اس کا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچاتے اور جن لوگوں نے اللہ کے دین کے پیغامات کو مزدوری لے کر سنانے کا دعوی کیا ہے وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہیں اور ان شاء اللہ العزیز آخرت میں بھی ہوں گے ۔
Ayah 37:132بلاشبہ الیاس بھی ہمارے مومن بندوں میں سے تھا :
132۔ مومن بندوں میں ہونے کی وضاحت بھی ہم نے پیچھے آیت 111 میں کردی ہے اس لیے اس کے لیے محولہ آیت کی تفسیر ایک بار بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔
Ayah 37:133اور لوط (علیہ السلام) بھی ہمارے رسولوں میں سے ایک تھا :
133۔ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور بعض روایات کے مطابق چچا زاد بھائی ، آپ کے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی اور ایک ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) شام میں مقیم ہوگئے اور اردن کے قریب جہاں آج کل بحرمیت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں اور انہی بستیوں کی طرف لوط (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے پیغامات کی مخالفت کی اور انجام کار تباہ وبرباد ہوئے اور ان بسیتوں کی جگہ اس طرح شق ہوگئی کہ وہ جگہ ہی سمندر میں تبدیل ہوگئی اور آج تک وہ بدستور سمندر نظر آرہا ہے ۔ (البستانی ج 9 ص 537)
Ayah 37:134اللہ تعالیٰ نے لوط کو اور آپ کے لوگوں کو بچالیا اور باقی سب کو غرق کردیا :
134۔ لوط (علیہ السلام) نے جب سدوم میں آکر قیام کیا تو دیکھا کہ اس جگہ کے باشندے فواحش اور معصیتوں میں اس قدر مبتلا ہیں کہ الامان والحفیظ دنیا کی کوئی برائی ایسی نہیں تھی جو ان میں موجود نہ ہو اور کوئی خوبی ایسی نہیں تھی جو ان میں پائی جاتی ہو ۔ دنیا کی سرکش ‘ متمرد اور بداخلاق اور بداطوار قوم کے دوسرے عیوب و فواحش کے علاوہ یہ قوم ایک خبیث عمل کی موجد تھی وہ یہ کہ اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عورتوں کی بجائے امرد لڑکوں سے اختلاط رکھتے تھے دنیا کی قوموں میں اس عمل بد کا اس وقت تک قطعا کوئی رواج نہ تھا یہی بدبخت قوم ہے جس نے اس ناپاک عمل میں پہل کی اور اس عمل کو ” سدومیت “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے لیکن پڑھے لکھے بیوقوف آج بھی اس فعل کو ” لواطت “ کا نام دیتے ہیں حالانکہ یہ نام صحیح نہیں ہے ۔ پھر اس سے زیادہ شرارت ‘ خباثت اور بےحیائی یہ تھی کہ وہ اپنی بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے اور علی الاعلان فخر ومباہات کے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے اور اس سے بڑھ کر اجتماعی مجلسیں بھی ان کی قائم ہوتی تھیں ۔ لوط (علیہ السلام) نے ان کو ان کی بےحیائیوں اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی اور حسن خطابت ‘ لطافت اور نرمی کے ساتھ جو ممکن طریقے سمجھانے کے تھے ان کو سمجھایا اور مؤعظت ونصیحت کی لیکن قوم نے آپ کی ایک نہ مانی بلکہ ان پر الٹا ہی اثر پڑا ، قوم کے لوگ مذاقا لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو (آیت) ” انھم اناس یتطھرون “۔ (الاعراف) ” بیشک یہ پاک لوگ ہیں “ کہتے تھے اور طنز کا فقرہ لوط (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی دہرانا شروع کردیتے اور انجام کار انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نکال دو اپنی بستی سے ان پاکباز لوگوں کو ‘ ان کا ہماری بستی میں آخر کیا کام ؟ جب وہ کھلے طور پر عذاب کا مطالبہ کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر لوط (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا اور ان بستیوں پر بارش ‘ زلزلہ اور سخت چیخ کا ایک ایسا عذاب بھیج دیا جس سے ان بستیوں کا نام ونشان ہی ختم کر کے رکھ دیا ۔
Ayah 37:135سیدنا لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے سے انکار کیا :
135۔ اور اس طرح آپ کی بی بی بھی آپ کے ساتھ ہجرت پر آمادہ نہ ہوئی لہذا وہ بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ ہی غرق کردی گئی ، جس کا ذکر پیچھے سورة ہو وہیں بتفصیل گزر چکا ہے ۔
Ayah 37:136دوسرے سارے لوگوں کو تہس نہس کردیا گیا :
136۔ لوط (علیہ السلام) پیغمبرانہ وعظ ونصیحت سے ان کو ڈراتے رہے لیکن قوم کے لوگوں کے تاریک دلوں پر ان کے کہنے کا مطلق اثر نہ ہوا اور وہ اپنی بداخلاقیوں پر اسی طرح قائم رہے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو یہاں تک غیرت دلائی کہ تم اس بات کو نہیں سوچتے کہ میں رات دن اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت وپیغام کے لیے تمہارے ساتھ حیران و سرگرداں ہوں کہ کبھی میں نے تم سے اس سعی و کوشش کا کوئی ثمرہ طلب کیا ؟ کیا کوئی اجرت مانگی ؟ کسی نذر ونیاز کا طالب ہوا ؟ میرے پیش نظر تو تمہاری دینی ودنیوی سعادت و فلاح کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے مگر تم ہو کہ اس کی مطلق توجہ نہیں کرتے مگر ان کے تاریک دلوں پر مطلق اثر نہ ہوا اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اخراج اور سنگساری کی دھمکیاں دیتے رہے جب نوبت یہاں تک پہنچی اور انکی سیاہ بختی نے کسی طرح اخلاقی زندگی پر آمادہ نہ ہونے دیا تب ان کو بھی وہی کچھ پیش آیا جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بنائے ہوئے قانون جزا کا یقینی اور حتمی فیصلہ ہے یعنی بدکرداریوں پر اصرار کی سز بربادی وہلاکت ، آخر عذاب الہی کا وہ وقت آہی پہنچا لوط (علیہ السلام) کو بستی چھوڑ جانے کا حکم ہوا آپ پہلی رات ہی بستی چھوڑ گئے ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کردیا اور آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہہ وبالا کردیا اور پھر آبادی کا تختہ زمین کے اندر دھنسنا شروع ہوا اور صبح تک بسیتوں کی جگہ سمندر نے لے لی اور اس طرح ان کو تہس نہس کردیا گیا ۔
Ayah 37:137تم ان کی بستیوں کے کنارے سے اب بھی کئی صبح کو گزرتے ہو :
137۔ یہ بات قریش کے سرداروں سے کہی جارہی ہے کہ تم لوگ شام و فلسطین کی طرف شب وروز سفر کرتے ہو تم کو ان راستوں سے تجارتے کے لیے گزرنا پڑتا ہے اور یہ بستیاں تمہارے راستے میں واقع ہیں اور ان بستیوں کی بجائے اب بحر میت کیا ہے ؟ کیا تم کو وہاں سے گزرتے وقت کبھی خیال نہیں گزرا کہ کبھی یہ لوگ بھی اسی طرح آباد تھے جس طرح ہم اہل مکہ اپنے گھروں میں آباد ہیں اور اسی طرح کاروبار کرتے تھے جس طرح ہم اپنے کاروبار میں مصروف ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ لاریب تم اپنے سفروں میں صبح وشام اسی جگہ سے گزرتے ہو۔
Ayah 37:138کیا تم اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ تمہارے خیال کبھی اس طرح گیا ہو ؟
138۔ آخر تمہارا صبح وشام وہاں سے گزر ہوتا ہے یعنی اکثر تم اس جگہ سے گزرتے رہتے ہو اور عقل مند انسان تو وہی ہوتا ہے جو اس معاملہ میں کچھ سوجھ بوجھ رکھتا ہو اور کبھی غور وفکر کرتا ہو کہ ہماری یہ صورت حال آخر کیوں ہے اور ہم صرف اور صرف دنیا ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں اور اپنی موت کے متعلق اور موت کے بعد کی زندگی کے متعلق کبھی غور نہیں کیا کہ جو بداعتدالیاں ہم کر رہے ہیں ان بداعتدالیوں کے باعث ہم پر بھی اس کا عذاب آسکتا ہے اور یہ کہ جب اس کا عذاب آجاتا ہے تو کوئی نہیں جو اس کو روک سکے اور کوئی نہیں جو اس سے بچا سکے اور لوط (علیہ السلام) کے حالات ‘ ان کی سرگزشت میں جو عروۃ الوثقی کی جلد چہارم کے ص 627 پر بیان ہوئی ہے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 37:139بلاشبہ یونس (علیہ السلام) بھی ہمارے رسولوں میں سے ایک تھے :
139۔ یونس (علیہ السلام) کا ذکر اس جگہ تیسری بار آیا ہے قبل ازیں سورة یونس اور سورة الانبیاء میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور سورة یونس میں آپ کی مختصر سرگزشت بھی گزر چکی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 499 تفصیل کے لیے تو سرگزشت کا مطالعہ ضروری ہے اور زیر نظر آیت میں بھی مختصر سا بیان موجود ہے ، یونس (علیہ السلام) نے نبوت سے پہلے بھی اپنی قوم کو سمجھانے کی بیحد کوشش کی لیکن جو قومیں نبیوں اور رسولوں کی دعوت پر ایمان لانے والی نہ ہوں وہ دوسروں کی بات سننے کے لیے کب تیار ہوتی ہیں یونس (علیہ السلام) نے قوم کے طعنوں سے تنگ آکر اپنے ملک سے نکل جانا پسند کیا ۔ جب وہ اپنے ملک سے نکلے تو ظاہر ہے کہ آپ کی منزل تو کوئی موجود ہی نہ تھی ‘ دریائے فرات کی طرف نکلے تو ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے ‘ آپ کو جو جگہ ملی وہ بلاشبہ غیر محفوظ تھی لیکن بہرحال جس کسی طریقہ سے بیٹھ سکے کشتی کے کنارہ پر بیٹھ گئے پھر کیا ہوا کہ جب کشتی چل پڑی تو آپ تو آپ اسی مقام پر کھڑے ہو کر توحید الہی بیان کرنے لگے لیکن آپ نے توحید بیان کرنے کا ایک نہایت منفردانہ طریقہ اختیار کیا کہ بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کو مخاطب کر کے کوئی بات کرتے آپ براہ راست اپنی ذات کو مخاطب کرکے بیان کرنے لگے اور آپ کا یہ منفردانہ ڈھنگ ایسا تھا کہ توحید کا درس سب لوگوں نے نہایت متوجہ ہو کر سنا اور آپ کو محفوظ جگہ بھی دی اور جب کشتی دوسرے کنارہ پر جالگی تو سب لوگ اپنی اپنی منزل کو رواں دواں ہوئے لیکن آپ کی منزل ہی کیا تھی کہ کسی طرف کو جاتے ، دریا کے کنارے کنارے چلنے لگے اور مسافرت میں غریب الوطنی کا زیادہ وقت نہیں گزرا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے لیے پسند کرلیا اور انتخاب ہونے کے بعد آپ کو واپس اسی قوم کی طرف جانے کا حکم ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف قبل ‘ نبوت ہی ہجرت کا مزہ چکھ لینے کے بعد حکم الہی کے مطابق نینوی کی طرف واپس چلے آئے ۔
Ayah 37:140گھر سے اضطراب کی حالت میں نکل کر جب وہ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے :
140۔ یہ آپ کا گھر سے نکلنا نبوت سے پہلے کا ہے اگرچہ ہمارے مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اس وقت آپ نبی ہوچکے تھے اور نبوت کا پیغام قوم کو پہنچا چکے تھے اور قوم نے آپ کی مخالفت کی اور یہ مخالفت ایک عرصہ تک جاری رہی انجام کار اللہ تعالیٰ نے ہجرت کا اشارہ کیا لیکن ابھی واضح وقت کا تعین نہ ہوا تھا کہ آپ بستی والوں کو الٹی میٹم دے کر نکل پڑے لیکن بستی والے آپ کے نکلنے کے بعد بہت پریشان ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے لگے ‘ گڑگڑانے لگے رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا گڑگڑانا اور رونا منظور کرلیا اور عذاب ان سے اس وقت ٹال دیا ۔ بلاشبہ آپ کی بستی سے عذاب ٹالا گیا اور ان کو ایک وقت اللہ نے اپنے قانون امہال کے تحت مہلت دی لیکن آپ کی یہ تبلیغ اور قوم کو توحید کا وعظ قبل از نبوت تھا ہمارے خیال میں یہی بات صحیح ہے اور تفصیل اس کی سورة یونس میں آپ کی مختصر سرگزشت میں بیان کردی گئی ہے جو عروۃ الوثقی جلد چہارم کے ص 499 سے شروع ہو رہی ہے ۔
Ayah 37:141کشتی میں وہ شامل تو ہوگیا لیکن دھکیل جان والوں میں اس کو جگہ ملی :
141۔ اس آیت کا ترجمہ ہماری مودودی صاحب (رح) نے جو رقم فرمایا وہ یہ ہے کہ ” پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی “ ضیاء القرآن میں پیرکرم شاہ صاحب فرماتے ہیں ” پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوئے اور دھکیلے ہوؤں میں ہوگئے “ تفسیر ماجدی میں عبدالماجد دریابادی (رح) ارشاد فرماتے ہیں کہ ” پھر وہ بھی شریک قرعہ ہوئے تو وہ مجرم قرار پائے “ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ” پھر قرعہ ڈلوایا تو نکلا خطاوار “ احمد رضا خاں بریلوی کے ترجمہ قرآن میں ہے کہ ” تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا “ شاہ رفع الدین صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ” پس قرعہ ڈالا پس ہوگیا دھکیلے گیوں سے “ اور نواب وحید الدین (رح) ترجمہ کرتے ہیں کہ ” پھر قرعہ ڈالا (تین بار یونس کے نام پر نکلا) وہ ہار گیا ۔ “ محمد علی لاہوری (رح) نے ترجمہ کیا ہے کہ ” سو اس نے قرعہ ڈالا پھر وہ منسوب ہوا “ ہم نے اس کے معنی شریک ہونے کے لیے ہے چناچہ کوئی کتاب لغت کی ایسی نہیں جس میں (سھیم) کے معنی شریک کے نہ لیے گئے ہوں اور لا لہ شریک ولا سھیم کے الفاظ حدیث میں ہیں اور عام بول چال میں بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ (سھیم) حصہ دار ۔ شریک (فیروزاللغات) گزشتہ آیت میں (ابق) کا لفظ بھی آیا ہے جس کے معنی غلام کے بھاگ جانے کے لیے جاتے ہیں اور اس جگہ بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بھاگ جانے کے لیے گئے ہیں حالانکہ قرآن کریم نے دوسری جگہ خود اس کے معنی (ذھب) کے کردیئے ہیں یعنی وہ گیا اور پھر (المدحضین) کا لفظ زیادہ دھکیلے جانے والے ثابت کرتا ہے نہ کہ ایک ، پھر اس کے ساتھ کسی نے بھی دوسرے کسی دھکیلے جانے کا ذکر نہیں کیا ۔ دراصل تورات کی عبارت ان باتوں کا اشارہ کرتی ہے اور اس سے یہ تصور لے کر اس جگہ بیان کردیا ہے حالانکہ اس کی وضاحت صاف صاف بیان کی جارہی ہے کہ وہ کشتی میں سوار تو ہوا لیکن کشتی کے کنارہ پر دھکیلے جانے والوں میں ہوا گویا آپ کو ایک نہایت ہی خطرناک جگہ کشتی میں ملی وہ کشتی کے کنارے پر بیٹھنے والے ہوئے اور وہاں بمشکل بیٹھ سکے ، لیکن وہ جگہ بہت ہی غیر محفوظ تھی کہ ذرا دھکا لگا اور سیدھا دریا میں گیا اور (دحض) زلق کے معنوں میں عام طور پر بیان ہوتا ہے ۔
Ayah 37:142مچھلی اس کو لقمہ بنا لیتی اور وہ ملامت کیے گئے لوگوں میں ہوتا :
142۔ اگر وہ پھسلتا تو سیدھا مچھلی کے منہ میں چلا جاتا ۔ مچھلی اسم جنس ہے یعنی اگر وہ پھسل کر دریا میں گرتا تو مچھلیاں اس کو کھا جاتیں اور وہ قیامت تک کے لیے وہیں رہتا ‘ چیز کھائی اور ہضم ہوئی پھر قیامت تک مچھلی کو کیا زندہ ہی رکھا جاتا ؟ ظاہر ہے کہ اس بیان کا مطلب فقط یہ ہے کہ اگر مچھلیاں یا مچھلی اس کو نگل جاتی تو پھر وہ کہاں کنارے پر جاتا وہ تو دریا ہی میں ختم ہوگیا ہوتا اور اس کا حشر ونشر یہیں سے ہوتا جیسا کہ سمندر میں کھائی گئی نعشوں کا ہوگا ۔
Ayah 37:143اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا :
143۔ آپ کی تسبیح کیا تھی ؟ وہی توحید الہی کا درست جو آپ نے اہل کشتی کو دیا اور جس کے لیے ایک منفرد رنگ ڈھنگ اختیار کیا گیا کہ مخاطب تو اپنی ذات کو کیا گیا اور بات اہل کشتی کو سنائی گئی اور ایسا پیارا نظارہ قائم ہوا کہ اہل کشتی نے آپ کو محفوظ جگہ بھی عطا کی اور آپ کی اور آپ کی باتیں بھی سنیں ، آپ کی اس تسبیح کا ذکر سورة الانبیاء کی آیت 87 میں وضاحت کے ساتھ کیا گیا ہے جو آپ نے کفر وشرک کے گھپ اندھیروں میں بیان فرمائی اور آپ نے ان گھپ اندھیروں کی نسبت اپنی ذات کے ساتھ کی تاکہ کسی دوسرے کا دل بھی نہ دکھے اور بات بھی لوگوں کے کانوں تک ٹھیک ٹھیک پہنچ جائے اور وہی کچھ ہوا جو آپ کرنا چاہتے تھے ، بات کس طرح صاف ہوگئی کہ اگر آپ تسبیح نہ کرتے تو مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے ہوتے چونکہ آپ نے ایسے نازک موقع پر بھی تسبیح وتہلیل کو نہ چھورا اور بحمد اللہ آپ کو محفوظ مقام مل گیا ، غور طلب بات یہ ہے کہ جب کشتی کے کنارے بہت لوگ دھکیل دیئے گئے تھے تو پھر یہ خطرہ آپ ہی کے لیے خاص کیوں اور باقی لوگ جو کنارہ پر تھے ان کو یہ خطرہ کیوں نہ لاحق ہوتا ؟ اس لیے کہ وعظ وبیان تو آپ نے شروع کیا تھا اور وہ بھی کھڑے ہو کر ‘ جگہ بھی غیر محفوظ ہو اور آدمی بھی بجائے بیٹھنے کے کھڑا ہو اور اس کا دھیان بھی اپنی حفاظت کے لیے اپنی ذات کے اندر نہ ہو تو خطرہ کس کے لیے چاہئے تھا اس کے لیے جو کھڑا ہے اور اس کے لیے خطرہ تھا جو اپنی حالت سے بیخبر ہو کر وعظ ودرس میں مشغول ہے اور اللہ کی تحمید و تقدیس لوگوں کے سامنے بیان کررہا ہے ۔ فافھم فتدبر۔
Ayah 37:144وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتا اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں :
144۔ حالات کے تقاضا کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ دریا میں گر جاتا تو پھر وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہی کہاں تھی ؟ پھر تو قیامت تک وہیں رہتا اور وہیں سے اس کا حشر ونشر ہوتا ۔ اس واقع میں ہمارے لیے کتنی نشانیاں تھیں اگر ہم ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ۔ مثلا یہ کہ اللہ کے بندے جس حال میں بھی ہوں ان کو قوم کا درد اسی طرح کھائے جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے بھی بیخبر ہوجاتے ہیں اور خصوصا جب ان کی بات کوئی خوشی سے سنتا ہے تو وہ اپنے آپ سے ہی بیخبر ہوجاتے ہیں اور ان کو کچھ یاد نہیں رہتا اور وہ دن رات تبلیغ میں لگے رہتے ہیں اور کسی اجر و مزدوری کا مطالبہ بھی وہ نہیں کرتے ۔ یہ کہ وہ اپنے مستقبل اور حال سے بیخبر ہو کر اللہ کے دین کا کام کرتے ہیں ۔ اور انبیاء کرام میں ایسے انبیاء بھی تھے تو زمین ‘ مکان اور گھر بار کی زندگی سے بالکل آزاد تھے ‘ جہاں سے جائز اور حلال ملا کھالیا اور جہاں رات آئی سو گئے اور اللہ کے دین کے کام ہی کو اوڑھنا بچھونا بنایا اور یہی فکر ان کو دامن گیر رہی ، اور نبی ہونے والی شخصیت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ پہلے وہ نبی ورسول بنایا جائے تب ہی تبلیغ اور درس ووعظ کا کام شروع کرے ‘ نہیں وہ نبوت سے پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو کر کام کرتے ہیں ۔ یہ کہ وہ چبھنے والی باتوں کو خود ہی اپنی طرف منسوب کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو وہ چبھنے نہ پائیں ۔ یہ کہ کوئی نبی ورسول بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتا اور کوئی لغزش ہوجائے تو فورا تائب ہوتا ہے اور اللہ کے سامنے گڑگڑانے کے لیے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اسی طرح اپنے مالک حقیقی کے سامنے اپنی بھول اور غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور جب تک اس کی معافی کا اعلان نہیں ہوتا بدستور اسی حالت میں پڑا رہتا ہے اور کسی بھی ہونے والے نبی اور رسول کی نبوت و رسالت سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوا الا یہ کہ وہ پہلی زندگی میں نبی ورسول نہیں ہوتا اس لیے جو وعظ ودرس کرتا ہے اس کی نسبت عام حقائق کی طرف دیتا ہے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت نہیں دیتا یعنی یہ نہیں کہتا کہ مجھے اللہ نے یہ بات کہنے کا حکم دیا ہے ۔ ان حقائق کے پیش نظر یونس (علیہ السلام) کی اس زندگی اور اس وعظ ودرس کو دیکھیں گے تو ایک ایک چیز اس پر منطبق ہوتی دکھائی دے گی ، یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اپنے اندر بہت بڑے بڑے خلا رکھتے ہیں اور سالوں کی زندگی کو اس طرح بیان کیا جا رہا ہے جیسے ابھی ابھی ہی ساتھ ساتھ یہ سب کچھ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
Ayah 37:145پس ہم نے اس کو ایک کھلے میدان میں لا ڈالا ‘ اس حال میں کہ وہ سقیم تھا :
145۔ یہ حالت اس کشتی کے اترنے کی بیان کی جارہی ہے کہ انجام کار کشتی کنارے لگ اور لوگ اپنی اپنی منزل کو چلے گئے اور اس کھلے میدان میں اس اللہ کے ایک بندے کے سوا کوئی بھی نہ رہا اور اسی حالت کے پیش نظر ڈال دینا یا پھینکنا کے الفاظ استعمال ہوئے کیونکہ وہ سارے لوگوں سے الگ تھلگ ہوگیا جہاں اس کا کوئی بھی پرسان حال نہ رہا تھا اور ایسے حالات میں اس کے لیے وہ حالت نہایت دکھ دہ تھی کہ رات بھی اور اکیلا پن بھی اور دریا کا کنارہ بھی پھر اس سے زیادہ تکلیف کی حالت انسان کے لیے اور کون سی ہو سکتی ہے اس لیے اس کو سقیم کہا گیا ۔
Ayah 37:146ہم نے اس کے لیے بیل دار پودے اگائے :
146۔ انسان جہاں بھی جائے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہر جگہ موجود ہیں ، یونس (علیہ السلام) بھی چلتے چلاتے جہاں قیام پذیر ہوئے وہاں خضردات ونباتات کی بہتات تھی اور یونس (علیہ السلام) کی خاطر اللہ نے ان چیزوں میں مزید اضافہ فرما دیا ۔ بقطین ہر قسم کی بیلوں کو کہا جاتا ہے جیسے کدو ‘ گھیا ‘ انگور ‘ داکھ ‘ کریلا ‘ پیٹھا ‘ خربوزہ ‘ تربوز اور ایسے پھلوں کو بھی کہا جاتا ہے جو سارا سال نہیں بلکہ اپنے اپنے موسموں میں ہوتے ہیں اور اکثر بیلیں اور موسمی پھل سردیوں کی بنسبت گرمیوں میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) جب نبوت سے قبل نینوی سے نکلے تو موسم گرما تھا جس سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی ہجرت کے لیے نکلیں گے تو موسم گرما ہی کا ہوگا ۔
Ayah 37:147ہم نے اس کو لاکھ لوگوں کی بستی کی طرف بھیجا بلکہ وہ اس سے زیادہ ہی تھے :
147۔ یونس (علیہ السلام) جب دریا کو پار کر کے پھرتے پھراتے کسی ایسے مقام پر ٹھہر گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ٹھہرانے کا بندوبست کیا ہوا تھا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکلنا ہوا اور مصر سے نکل کر پھرتے پھراتے مدین میں پہنچنا تو رب کو منظور تھا اور اس کے لیے ایسے حالات کو پیدا کردیا یہی یونس (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا اتفاق دیکھئے کہ یہ دونوں ہی سفر ان ہونے والے نبیوں کو نبوت سے قبل پیش آئے اور اس معاملہ میں ان دونوں کو کیسا توافق ثابت ہوگیا تو وہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور اس بستی کی طرف اللہ تعالیٰ نے جانے کا حکم صادر فرمایا جس بستی سے وہ نکل کر آئے اور اس بستی کے تعارف میں جو الفاظ بولے گئے کہ وہ (مائۃ الف اویزیدون) تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ان کی صحیح گنتی نہ ہوسکی ۔ استغفر اللہ ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بستی کے متعلق اس وقت یہی بات معروف تھی کہ یہ ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی آبادی پر مشتمل ہے اور ان اوقات میں کسی بستی کا اتنا بڑا ہونا اس کی عظمت کو ظاہر کرتا تھا اور اس علاقے میں وہ اسی طرح متعارف تھی اور عرف جس طرح ایک بار ہوجاتا ہے اسی طرح چلتا رہتا ہے کسی زمانہ میں لکھ پتی ہونا بہت بات ہوتی تھی اور جس بستی میں کوئی آدمی لکھ پتی رہتا تھا اس کا نام ہی ” لکھ پت “ ہوگیا اب زمانہ کروڑ پتیوں اور عرب پتیوں کا ہے بلکہ اس سے بھی اوپر نکل گیا ہے تاہم ” لکھ پت “ کو لکھ پت ہی کہا جائے گا اور اسی طرح کی شناخت اس بستی کی بھی قائم ہوگئی تھی اور جو کسی کا تعارف ہوجائے اس تعارف سے اس کی شناخت ہوتی ہے اور اسی تعارف سے اس کو یاد کیا جاتا ہے کسی کا نام بگاڑنے کی سخت ممانعت اسلام میں کی گئی ہے لیکن جن لوگوں کے نام بگاڑے جا چکے تھے اور عرف ان کا وہ نام ہی ہوئے ان کو انہی ناموں سے یاد کیا جاتا رہا بلکہ بعض نام معنوں کے لحاظ سے کوئی اتنے اچھے نام نہیں ہیں لیکن اسلام میں وہ نام بہت مبارک تھے کیونکہ جن لوگوں نے وہ نام تھے وہ بلاشبہ مبارک ہوگئے اور وہ نام آج تک اسی طرح بدستور چلے آرہے ہیں بلکہ ان ناموں کو متبرک خیال کیا جاتا ہے اگرچہ معنوں کے لحاظ سے وہ اتنے اچھے نام نہیں ہیں ۔
Ayah 37:148پس اس قوم کے لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ایک وقت تک فائدہ دے دیا :
148۔ اس آیت میں یونس (علیہ السلام) کی قوم کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ ہم نے یونس (علیہ السلام) کے وہاں سے نکل جانے کے بعد ان کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے ان کو ایک وقت تک اس دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دی تھی اور یہ اس لیے ہوا کہ ہمارا فیصلہ عذاب ابھی صادر نہیں ہوا تھا کہ وہ ایمان لے آئے اور توبہ کے وقت کے اندر ہی توبہ کرلی اور یہ فائدہ اس طرح کا فائدہ تھا جس طرح کا فائدہ دنیا کے سارے انسانوں کو دیا جا رہا ہے جو اچھے ہیں ان کو بھی اور جو اچھے نہیں ہیں ان کو بھی کیونکہ قانون امہال کے تحت ہم کسی قوم کو بھی اس کی برائیوں کے پیش نظر فورا نہیں پکڑ لیتے بلکہ بڑی بڑی لمبی مہلت ان کو دے دیتے ہیں یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت کے متعلق ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ سورة یونس میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔ لوگ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ معجزات سے انکار کے لیے یہ اس طرح کی باتیں تحریر کرتے ہیں چونکہ مچھلی کے پیٹ میں جانا اور وہاں سے صحیح سالم نکل آنا معجزہ تھا اس لیے اس سے انکار کی خاطر اس طرح کی تاویل کی گئی ، حاش اللہ کہ کوئی ایسی بات ہو ‘ ہم خود ایک عرصہ تک ماں کے پیٹ میں رہے اور اب بھی لوگوں کو دیکھ رہے ہیں نہ کبھی انکار کیا نہ انکار کی گنجائش حالانکہ یہ بھی قدرت کا ایک معجزہ ہے اور کم از کم اس معجزہ سے بڑا ہے جس معجزہ کی طرف آپ ہماری توجہ دلانا چاہتے ہیں پھر اس طرح آج کئی ایک کہاوتیں بھی بیان کی جارہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ آنے ولے کل میں کوئی قوم اس طرح کے تجربات پیش کر دے کہ بہت بڑے بڑے دریائی جانور جو اپنی غذا کے لیے صحیح سالم چیزیں نکل جایا کرتے ہیں وہ ان جانوروں کے سامنے اپنے آپ کو پیش کردیں اور وہ ان کو نگل جائیں اور اس کے بعد وہ ان کو اندر ہی پکڑ لیں کہ ان پر فائر کھول دیں یا کوئی زہر ایجاد کرکے ان کے جسم میں لگا کر اپنی جان بھی بچائیں اور ان جانوروں کا شکار بھی کر کے دکھادیں تو بہرحال نہ ان تجربوں میں کوئی حیرت ہوگی نہ یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے نگل لینے کی وجہ سے ہم نے ایسی بات کی ہے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کے ایک واضح حکم کے خلاف کرنا اور وہ بھی سمجھ سوچ کر ایک پیغمبر ونبی کی عصمت کے لیے ایک ایسا داغ ہے جو کبھی بھی صحیح ثابت نہیں ہو سکتا اور اگر یہ واقعہ ہی نبوت سے پہلے کا ہو تو وہ مضمون ایک ہونے والے نبی ورسول کی زندگی پر نہایت فٹ آتا ہے جو ہم نے بیان کیا ہے اور الفاظ کا توڑ موڑ محض اس لیے نظر آتا ہے کہ جس طرح ان کو پہلے توڑا موڑا گیا اس کے خلاف ہے اور وہ چونکہ ایک مدت پہلے توڑا موڑا گیا تھا جو ہماری تحریرات میں آچکا ہے اس لیے یہ نیا جامہ آپ کو پسند نہ آئے یہ دوسری بات ہے بہرحال ہم مصر بھی نہیں ہیں جو بات آپ کو پسند آئے وہ تسلیم کریں نظریات کے فرق سے کوئی کفر لازم نہیں آتا اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی کے لیے جس سے سبق ملتا ہے وہ یہی ہے جو ہم نے عرض کیا ہے اگر آپ غور کریں گے تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ خالی الذہن ہو کر غور کریں اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہمارا حامی وناصر ہو اور اب مضمون قریش مکہ کی حالت کی طرف منتقل ہوا چاہتا ہے اگر آپ پر شاق نہ گزرے ۔
Ayah 37:149اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے پوچھئے کیا ان کے لیے بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں :
149۔ مشرکین کے گروہوں کی نوعیت الگ تھی اور ہے ۔ عرب میں ایک گروہ مشرکین وہ بھی تھا جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتا تھا اور اپنے تخیل میں وہ سارے مشرکین سے اپنے آپ کو اللہ کے بہت قریب سمجھتا تھا ، وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمارے زمانہ کی طرح وہ لوگ بھی بیٹی کی سفارش کو سب سفارشوں سے بڑی سفارش خیال کرتے تھے اور ان کا تخیل یہ تھا کہ اللہ کی ان بیٹیوں کو اپنی حاجتوں اور مشکلوں کے وقت اور اگر آخرت ہے تو اس منزلوں کو آسان کرانے کے جو کام ہم کو یہ اللہ کی بیٹیاں دیں گی وہ اللہ کی نرینہ اولاد نہیں دے سکے گی اس لیے وہ لوگ اپنے آپ کو بہت سمجھتے تھے خصوصا ان کے مقابلہ میں جو عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے ، ایک طرف تو ان کا یہ تخیل تھا اور دوسری طرف وہ بیٹی ہونے کے معاملہ کو اتنا برا خیال کرتے تھے کہ جس آدمی کے بیٹی آجاتی وہ لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا اور شرم کے مارے پانی پانی ہوجاتا ، قرآن کریم نے ان کی اس حالت کو سورة النحل کی آیت 58 میں وضاحت سے بیان کیا ہے سورة النحل عروۃ الوثقی کی پانچویں جلد میں موجود ہے اور سورة الزخرف کی آیت 17 میں بھی آ رہا ہے اور سورة الزخرف آٹھویں جلد میں ہے اور بعض لوگ ایسے قسی القلب بھی تھے جو بیٹیوں کو زندہ ہی گاڑ دیا کرتے تھے اور اس فعل کو وہ نہایت بہادری خیال کرتے تھے ۔