Ayah 37:41یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی مقرر و متعین ہے :
41۔ ان کا رزق معلوم یہی ہے کہ جو وہ خواہشیں کریں گے ان کو ان کی خواہشات کے مطابق رزق پیش کردیا جائے گا بلاشبہ انسان کی خواہشات اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور وہ زندگی بھی اس زندگی سے لاریب مختلف ہوگی اس لیے قرآن کریم نے جو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اس میں انہی چیزوں کا نام لیا گیا ہے جو چیزیں اس دنیوی زندگی میں ملنے سے آدمی خوش وخرم ہو کر ان کو لینے اور حاصل کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے لیکن کیا اس وقت انہی کے حاصل کرنے کی خواہش ہوگی اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے ہاں ! ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت اہل جنت کی جو خواہش ہوگی اس کو بغیر کسی روک ٹوک کے پورا کیا جائے گا اور جو کسی کی خواہش ہوگی وہ اس کو ملے گا اور اس کو رزق معلوم کہا گیا ہے ۔
Ayah 37:42پھل ان کو پیش کیے جائیں گے اور ان کی عزت افزائی ہوگی :
42۔ اس رزق معلوم کی مزید تشریح اس ایک ہی لفظ (فواکہ) نے کردی کہ وہ پھل ہوں گے اور پھل بھی وہ جن کو وہ لوگ اس وقت پسند کریں گے اور ان کی نہایت ہی عزت افزائی کی جائے گی گویا جو ان کی خواہش ہوگی اس کے مطابق انکو پھل ملیں گے اور جو چاہیں گے وہ پائیں گے اور جو کچھ ان کو پیش کیا جائے گا نہایت عزت واحترام کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور اعزاز واکرام کے ساتھ پیش کیا جائے گا گویا صورت حال یہ ہوگی کہ پیش کرنے والے وہ سب کچھ ان کے سامنے پیش کردیں گے جس کا ان کے دلوں میں ارادہ پیدا ہوگا ۔ ان پھلوں میں ہر طرح کے پھل آگئے وہ خشک ہوں یا تروتازہ ۔
Ayah 37:43بلاشبہ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے :
43۔ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے گویا وہ باغ جن کو قرآن کریم نے (جنۃ) کہا ہے وہ باغ کیا ہیں ؟ فرمایا وہ انعامات الہی کے باغات ہیں جو ان لوگوں کے حصے میں آئیں گے جو دنیا میں نیک کام کرتے رہے اور شرک کے قریب بھی نہ بھٹکے اور اصل مراد ان باغات سے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جن کو دیکھ کر اس وقت دلوں کو فرحت محسوس ہوگی اور آنکھیں ان کو دیکھنا چاہیں گی اور طبیعت میں انکی خواہش پیدا ہوگی ۔
Ayah 37:44وہ پلنگوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے :
44۔ پلنگوں اور چارپایوں پر بیٹھنا خصوصا جب وہ خوبصورت بھی ہوں اور نہایت خوبصورت بستر بھی ان پر بچھے ہوئے ہوں تو ایسی جگہ نہایت ہی لطف اندوز ہوتی ہے اور خصوصا دوست و احباب بھی موجود ہوں اور انسان کے عزیز و اقارب بھی تو اس کا نشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اہل جنت کے ذکر میں ان انعامات میں سے اس بات کا ذکر بھی کردیا کہ اہل جنت کو اس طرح جنت میں بٹھایا جائے گا ۔
Ayah 37:45ان پر شراب طہور کے ساغر بھر بھر کر پھرائے جائیں گے :
45۔ دوسری جگہ یہ آب خورے بھر بھر کر پھرانے والوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ وہ ایسے بچے ہوں گے جو دیکھنے میں نہایت ہی اچھے اور پیارے لگیں گے اور جنت میں وہ جنتیوں کو کھلانے پلانے میں مقرر ہوں گے اور ایسا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ساتھ ساتھ بڑھتے رہیں بلکہ وہ بچے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچے ہی رہیں گے اور کہنا بھی اس ورطہ سے ہے کہ دنیا میں انسان ان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور فطرت انسان کے تحت گویا ان کا بیان آنا بھی ضروری تھا اور جنت کے انعامات میں سے یہ انعام بھی اہل جنت کو میسر ہوگا ۔
Ayah 37:46وہ سفید رنگ ہوگی اور پینے والوں کے لیے لذت بخش ہوگی :
46۔ اس شراب طہور کی صفت واضح کی جارہی ہے کی سفید رنگ کی ہوگی مطلب یہ ہے کہ اس کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہوگا بلکہ جس برتن پر ڈالی جائے گی اس کا رنگ اختیار کرے گی یا یہ کہ سفید آبخوروں میں اس کا ڈالا جائے گا تو سفید رنگ میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی مگر یہ کہ اس کی سفیدی میں وہ مزید اضافہ کر دے اور یہ بھی کہ وہ پینے والوں کے لیے نہایت ہی لذیذ ہوگی جس کی لذت کا اندازہ اس دنیا میں نہیں لگایاجا سکتا ۔
Ayah 37:47اس کے پینے والوں کا نہ تو سر چکرائے گا اور نہ ہی وہ بہکیں گے :
47۔ (غول) اسم فعل اور مصدر جس کی اصل غ و ل ہی ہے صرف قرآن کریم میں اس جگہ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے اس مادہ کا کوئی اور لفظ قرآن کریم میں بیان نہیں کیا گیا ۔ اس کے معنی نشہ ‘ درد سر ‘ مستی ‘ طبیعت میں بگاڑ پیدا ہونا اچانک ہلاک کردینے کی صفت سے متصف ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی شراب میں اس طرح کی صفات پائی جاتی ہے کہ وہ بدمزہ نشہ دینے والی ‘ مستی پیدا کرنے والی اور طبیعت میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوتی ہے لیکن جنت کی شراب میں ایسی کوئی صفت نہیں پائی جائے گی جس سے غل غپاڑہ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے ۔ (ینزفون) کی اصل ن زہے کنوئیں میں سے سب پانی نکال لینا یا کنوئیں کا خشک ہوجانا ہے ۔ آنسوؤں کا خشک ہوجانا وغیرہ اور مست وبے ہوش ہوجانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس مادہ سے بھی قرآن کریم میں صرف یہی لفظ استعمال ہوا ہے البتہ اس کا استعمال دو بار ہوا ہے ایک اس جگہ اور دوسری بار سورة الواقعہ کی آیت 19 میں ۔
Ayah 37:48ان کے پاس بڑی آنکھوں والی ‘ نیچی نظریں رکھنے والی عورتیں ہوں گی :
48۔ عورت کے لیے مرد اور مرد کے لیے عورت تکمیل انسانیت کے لیے لازم وضروری ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے سکون و طمانیت کا باعث ہیں ، صنف نازک کے احترام کے لیے ادب کا تقاضا یہی ہے کہ مرد کے لیے عورت ایک غیر مترقبہ نعمت قرار دی جائے اور مرد کو محسوس بھی کرایا جائے کہ گویا عورت مرد کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے اور پھر یہ کہ عورت نیک خصال ہو اور صرف اور صرف اپنے ہی خاوند کو چاہنے والی ہو نظر کے لحاظ سے ‘ فکر کے لحاظ سے اور فطری تقاضوں کے لحاظ سے اور کسی دوسری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والی ہی نہ ہو تو فی الواقع یہ بات عورت کے لیے ایک بہت بڑی خوبی کی بات ہے اس لیے زیر نظر آیت میں جتنی عورتوں کی یہ صفت خصوصا اجاگر کی گئی ہے کہ وہ (قاصرات الطرف) یعنی کسی بھی دوسری طرف نظر اٹھا کر دیکھنے والی نہیں ہوں گی اور عورت کی یہ خوبی اس کی ذات کے لیے بھی بڑی خوبی ہے اور جس مر دکو ایسی عورت میسر آجائے اس کے لیے بھی یہ بہت بڑی نعمت ہے ۔ قرآن کریم نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی اس صفت خاص کا ذکر کیا ہے کہ وہ جھکی ہوئی نگاہوں والیاں ہوں گی جو اپنے خاوندوں کے بغیر کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی اور نہایت ہی شرم وحیا والی ہوں گی ۔ (عین) جمع ہے عیناء کی جس کے معنی ہیں موٹی موٹی آنکھوں والیاں جن کی آنکھوں کی سیاہی بہت زیادہ سیاہ اور آنکھوں کی سفیدی نہایت ہی سفید ہو اور آنکھ کا موٹا ہونا خوبصورت کی ایک علامت ہے اگرچہ اس سے بہت موٹا ہونا مراد ہے جو اعتدال سے زیادہ ہو اور خوبصورتی کے خلاف ہو ۔ اس سے یہ بات بھی خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے لیے بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں کو پسند کرنا اور چاہنا ایک بہت بڑا عیب ہے اور ایسی عورت کسی بھی مرد کے لیے خوبی کا باعث نہیں ہو سکتی ہاں وہ مرد کو دیوث بنا سکتی ہے جو ایک بہت بڑا عیب ہے ۔
Ayah 37:49آنکھیں ایسی ہیں جیسے محفوظ انڈے ہوتے ہیں :
49۔ یہ آنکھوں کی سفیدی کو ظاہر کرنے کے لیے استعارہ کیا گیا (بیض) انڈے کے ساتھ تشبیہہ اس لیے کہ میل کچیل سے محفوظ انڈے کا رنگ سفیدی اور بعض اوقات قدرے سرخی لیے ہوئے بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے اور خوبصورت لگتا ہے ۔ (مکنون) اسم مفعول واحد مذکر کن کنون چھپایا ہوا صاف اور محفوظ ایسے جیسے کسی سیپ کے اندر محفوظ ہیں ۔ بعض نے شترمرغ کے انڈے سے تشبیہہ دینا پسند کیا ہے ۔ صاف ستھری اور تروتازہ آنکھ دیکھنے والوں کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہے ۔ اوپر جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے کہ انسان اس دنیا میں انہی چیزوں کو دیکھ کر استعمال کرکے اپنی ملکیت میں رکھ کر حظ محسوس کرتا ہے اور اسی کے پیش نظر یہ سارا بیان ہے خواہ جنت کے انعامات ہوں یا دوزخ کے عذاب کا ذکر اس لیے یہ ایمان بالغیب سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جن کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔
Ayah 37:50اہل جنت کے ایک مکالمہ کا ذکر کرکے بات سمجھائی جا رہی ہے :
50۔ اہل جنت میں سے بولنے میں ایک صاحب پہل کریں گے اور دوسروں کو مخاطب ہو کر وہ کچھ کہنا چاہیں گے تاکہ سکوت کی مہر ٹوٹ پڑے اور ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کریں تاکہ جان پہچان ہو اس کی مثالیں اس دنیا میں بھی عام ملتی ہیں ایک ہی ملک کے اندر ایک آدھ دن کے فاصلے پر بسنے والے لوگ ایک دوسرے کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ جان پہچان پیدا ہو اور اس سے ایک دوسرے کے دل میں ایک دوسرے کی شناخت اور قدروقیمت پیدا ہوجائے تاکہ اکیلے پن کا احساس کم ہو ۔ اسی کے پیش نظر اہل جنت بھی ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں اور ایک پہل کرتا ہے ۔
Ayah 37:51ایک کہنے والا کہتا ہے کہ یار دنیا میں تیرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا :
51۔ اہل جنت میں سے ایک پہل کرتے ہوئے دوسروں سے مخاطب ہوتا ہے کہ دوستوں جب ہم دنیا میں رہتے تھے تو وہاں ایک میرا دوست ہوا کرتا تھا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بار غور کرو کہ اہل جنت میں سے ایک جنتی بول رہا ہے اور یہ وہ جنتی ہیں جو یا تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے والے ہیں یا اگر باقاعدہ حساب دے کر جنت میں داخل ہوئے تو بھی وہ ہیں جو براہ راست جنت میں داخل ہوگئے ۔ اس جنتی کے بیان سے جو (لی قرین) کہہ کر دے رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس اللہ کے بندے نے اپنے اس ساتھی کو جنت میں نہیں پایا اور اس کے متعلق اب بھی اس کے جذبات اچھے ہیں لیکن جو باتیں وہ اس کے متعلق کہہ رہا ہے وہ خود بتاتی ہیں کہ اس کے عقائد و اعمال اچھے نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ اس کو دوست رکھتا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان دنیوی زندگی میں غیر مسلموں اور بدعمل لوگوں اور بدعقیدہ لوگوں سے بھی دنیوی روابط رکھ سکتا ہے اور رواداری سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرسکتا ہے اور اسلام اس کی ممانعت نہیں کرتا جس چیز سے روکا گیا ہے وہ دلی راز اور قومی چیزیں ہیں جو من حیث القوم ایک قوم دوسری قوم سے اپنی ذاتی اور قومی راز رکھتی ہے اس سے مراد نجی جان پہچان کے تعلقات کی نفی نہیں کی گئی اور آج بدقسمتی سے یہ رواداری مذہبی گروہ بندیوں کے پیشواؤں اور راہنماؤں میں بھی نظر نہیں آتی اور وہ ایک دوسرے کو محض فکری اور نظری اختلاف کی وجہ سے برداشت نہیں کرسکتے اور سمجھتے ہیں کہ ان روابط سے ہم کو اسلام منع کرتا ہے بلکہ سختی سے روکتا ہے حالانکہ اسلام نہیں روکتا بلکہ اسلام کا بزور ٹھیکہ دار بن کر بیٹھ جانے والا اپنی ٹھیکہ داری کے بھرم میں روکتا ہے ، یہ قطعا غلط ہے کہ اسلام نے کبھی کوئی ہدایت اس طرح کی دی ہو اور کاش کہ آج کل کے مولوی ‘ پیرو مرشد بھی اس حقیقت کو سمجھ جاتے تاکہ وہ اسلام کی وسعت سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے دوسری قوموں کے سامنے اپنا کردار پیش کرسکتے اور اپنے اخلاق وکردار سے اپنے مسلم ہونے کا ثبوت پیش کردیتے حالانکہ رسول اکرم ﷺ کے رواداری کے یہ مراسم یہود ونصاری مشرکین ‘ صائبی اور منافقین تک سے موجود تھے لیکن ان مذہبی ٹھیکہ داروں نے ہم کو نہ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا رہنے دیا اور اس طرح انہوں نے ہمارا دین اور دنیا دونوں کو خراب کردیا ۔ اگر اس بات کی اتنی سختی سے ممانعت ہوتی تو وہ آخر اور کچھ نہیں تو اس جرم میں دوزخ پہنچا ہوا ہوتا وہ جنت میں آخر داخل ہی کیونکر ہوجاتا لیکن تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین میں سے کسی کی توجہ بھی اس طرف کیوں ملتفت نہ ہوئی اور کس سادگی سے وہ قرآن کریم کی ان آیات کو پڑھ کر اور ان کی تفسیر بیان کرکے آگے بڑھ گئے بہرحال ہم نے آپ کو اشارہ کردیا اب سمجھنا نہ سمجھنا قارئین کا اپناکام ہے ہم کسی کے اندر گھول کر ڈالنے کے مکلف نہیں ۔ ملائیت ہمیں اپنے عزیزوں اور دوستوں حتی کہ ماں باپ تک سے دنیاوی تعلقات منقطع کرنے کی تلقین کرتی نظر آتی ہے حالانکہ اسلام ان باتوں کا قطعا مخالف ہے ، اور اسلام نے کبھی ایسی باتوں کو اسلام کی باتیں نہیں کہا۔
Ayah 37:52وہ مجھے دنیا میں کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی قیامت پر یقین رکھنے والوں میں سے ہو :
52۔ اس سوال نے مزید وضاحت کردی کہ وہ جس ساتھی کا ذکر سنانا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی قیامت کے منکروں میں سے تھا جو قیامت پر یقین نہیں رکھتا تھا اب اس کے کفر میں کوئی شک باقی رہ گیا ؟ ظاہر ہے کہ جو شخص قیامت کے دن ہی سے منکر ہے وہ مسلمان کیسے ہو سکتا ہے اور یہ جنتی خود اپنے ساتھی سے یہ جملہ کہہ رہا ہے جس سے ہماری بات کی پوری پوری وضاحت ہوجاتی ہے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا وہ کہتا ہے کہ وہ میرا ساتھی دنیا میں مجھے کہا کرتا تھا کہ ” کیا تم قیامت پر ایمان لانے والوں میں سے ہو ۔ “
Ayah 37:53کیا جب ہم مر کر ہڈیاں ہوجائیں گے تو اس وقت ہم کو جزاء دی جائے گی ؟
53۔ وہ تعجب سے کہا کرتا تھا کہ یار تم عجیب ہو بھلا یہ بھی ممکن ہے جب ہم ہڈیاں اور مٹی ہوجائیں تو دوبارہ زندہ ہوجائیں اور پھر ہم کو اپنے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ بھی دیا جائے ایسا ہونا مجھے تو نظر نہیں آتا یعنی میں تو ایسا نہیں سمجھتا کہ کبھی ایسا ہوگا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔
Ayah 37:54کہنے والا کہے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ کہاں ہے ؟ :
54۔ یہ کہنے والا نہیں جنتیوں میں سے کوئی ایک ہے جو ان دونوں کو جانتا پہچانتا تھا یا یہ کوئی فرشتہ ہے بہرحال چونکہ اس کے دل میں ایک ایسی خواہش پیدا ہوئی ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے جنتیوں کے لیے ہر وہ چیز ہے جس کی وہ خواہش کریں گے تو ضروری ہے کہ اس اہل جنت کی خواہش بھی پوری کی جائے اس لیے ضروری تھا کہ اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو ۔ (مطلعون) اسم فاعل جمع مذکر مطلع مفرد اطلاع مصدر باب افتعال ط ل ع اصل مادہ اس کا مطتلعون تھا لیکن تاء افتعال کو طاء میں ادغام کردیا گیا اور اس کے معنی ہیں جھانک کر دیکھنے والے ۔
Ayah 37:55پس وہ جھانک کر دیکھے گا تو اس کو دوزخ کے وسط میں پائے گا :
55۔ اس وقت اتنی مسافقت کا سن کر کسی کے دل میں یہ خیال نہ جائے کی اتنی مسافت سے کوئی آخر کسی کو کیسے جھانک لے گا اب تو یہ چیز مشاہدہ میں آچکی ہے کہ دنیا کے دور دراز حصوں میں بھی کسی کو دیکھنا اور اس سے بات چیت کرنا کوئی مشکل نہیں رہا اور اس پر متعجب ہونے کی کوئی بات نہیں ہے لیکن جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت ابھی یہ بات بالکل ہی ایک نئی قسم کی تھی اور کیا کہنے ہیں ان لوگوں کے جو اس وقت اس بات پر یقین کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو یقینا ایسا ہوگا لیکن آج ہم اس دنیا میں اس کو مشاہدہ کر رہے ہیں اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے اس نظریہ کی جو ہمارے لیے بالکل علم غیب کا مسئلہ تھا انہوں نے ہم کو مشاہدہ کرا دیا اور ہمارے ایمان کو کتنی قوت فراہم ہوگئی کہ جو اللہ رب کریم نے فرمایا تھا وہ کس طرح حرف بہ حرف پورا ہوتا نظر آ رہا ہے ، قرآن کریم کے الفاظ اور اس کے ترجمہ پر غور کرو کہ ادھر اپنی جنت کی جگہ میں جھانک کر دیکھے گا تو ادھر دور دوزخ کے وسط میں اس کو پائے گا کہ وہ دوزخ کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا جل رہا ہے ۔
Ayah 37:56جنتی اس سے کہے گا کہ اللہ کی قسم تو تو مجھے ہلاک کر ہی چکا تھا :
56۔ گویا اس کا مدعا یہ ہے کہ اے دوست تو تو مجھے دنیا میں تعجب میں ڈال کر اس نظریہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا رہا اور میرا خوب مذاق اڑایا کرتا تھا اگر میں تیرے اس مذاق ہی مذاق کے جھانسے میں پھنس جاتا تو آج میرا بھی یہی حشر ہوتا تو تیرا ہو رہا ہے اور میں بھی اس جنت کی بجائے جس میں میرے رب نے اپنی خاص مہربانی سے مجھے پہنچا دیا ہے نہ پہنچ سکتا اور تیرے ساتھ اس عذاب میں گرفتار ہوتا جس میں تو گرفتار ہے :
Ayah 37:57اگر میرے رب کا خاص فضل مجھ پر نہ ہوتا تو آج میں بھی اسی قید میں بند ہوتا :
57۔ آپ کو معلوم ہے کہ دوسری جگہ ہم نے اس دوزخ کو اور دوزخ کی زندگی کو چوہوں کے پنجرے سے تشبیہہ دی ہے جس طرح پنجرے میں چوہا اپنی مرضی اور لالچ کے باعث پہنچ تو جاتا ہے لیکن وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے تو نکل نہیں سکتا یہی حال دوزخیوں کا ہے کہ داخل ہوتے وقت تو خود ہی بھاگ بھاگ کر دوزخ کی طرف دوڑتے چلے جا رہے ہیں بلکہ منع کرنے اور روکنے سے بھی نہیں رکتے لیکن جب اس میں پہنچ جائیں گے اور وہاں کے عذاب سے دوچار ہوں گے تو نکلنے کے لیے سرپیر ماریں گے لیکن لاحاصل کبھی نہیں نکل سکیں گے اور یہی بات جنتی اس دوزخ سے کہہ رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص فضل نہ ہوتا اور میں تیری باتوں کو سن سن کر تیری ہاں میں ہاں ملا دیتا اور اس نظریہ و عقیدہ کو چھوڑ دیتا اور تیری طرح آزادی کی زندگی گزارتا کہ اللہ کے دین کی پابندی نہ کرتا اور اللہ کے رسول کی باتوں کو ٹھکرا دیتا تو آج میں بھی وہیں حاضر کرلیا جاتا ۔
Ayah 37:58اب جتنی آپس میں کہیں گے کہ اب تو ہمارے لیے موت نہیں ہوگی :
58۔ یہ کلام اس جنتی اور دوزخی میں بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس کو مخاطب کرکے کہے گا کہ اب تو ہمارے لیے موت نہیں ہے کہ میں سمجھوں کہ شاید مرنے کے بعد ہم کبھی دوبارہ ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں اور تیرے لیے دوبارہ کوئی صورت جنت میں داخل ہونے کی نکل آئے اب تو ایسا ممکن نہیں لہذا جہاں اللہ نے مجھے اپنے خاص فضل و کرم سے پہنچایا میں وہیں رہوں گا اور تو اس طرح دوزخ میں جلتا رہے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مکالمہ ختم کر کے اب اہل جنت آپس ہی میں ایک دوسرے کو کہہ رہے ہوں کہ اب تو بحمد اللہ ہمارے لیے موت نہیں ہوگی اور ہم کو یہیں رہنا ہے جہاں ہم بفضلہ ومنہ پہنچ گئے ہیں ۔
Ayah 37:59ایک بار ہم کو مرنا تھا جو دنیوی زندگی کے بعد ہم مر چکے اب ہم کو عذاب نہیں ہوگا :
59۔ بلاشبہ ہم پہلے معدوم تھے اور اللہ نے ہم کو دنیا میں عدم سے وجود عطا کیا اور دنیا میں بھیج دیا اور پھر دنیاوی زندگی ہماری ختم کردی گئی اور اپنے وقت مقرر پر ہمیں یہاں لا کر آباد کردیا گیا اور بحمد اللہ ہماری آباد کاری اچھی جگہ ہوئی جہاں ہم خوش وخرم ہیں اور جو چاہتے ہیں میسر آتا ہے جو خواہش ہوتی ہے وہ پوری ہوجاتی ہے اور دنیا کجی موت تو ہماری ایک ہی موت تھی اب تو ہم کو موت نہیں آئے گی اور اس انعام واکرام کے چھن جانے کا تو اب کوئی خدشہ ہم کو نہیں رکھنا چاہئے اور نہ ہی اس بات کا ڈر اور خوف کہ معلوم نہیں کہ آنے والا کل ہمارے لیے کیسا ہوگا یہ فکر تو ہماری ختم ہوئی ۔
Ayah 37:60بلاشبہ اگر بات ایسی ہے تو ہم نے تو زبردست کامیابی حاصل کرلی :
60۔ الحمد للہ کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے کہ اب کسی قسم کا خطرہ باقی نہیں رہا کہ نہ معلوم آنے والے کل میں کیا ہوگا اور یہاں ہم کو کب تک رہنا ہوگا ؟ گویا دنیا کی زندگی کی طرح اس کھٹکے سے تو ہم آزاد ہوئے اور یہی وہ کامیابی ہے جس کو صحیح معنوں میں کامیابی کہا جاسکتا ہے اگر دنیا میں ہمارے پاس اس چند روزہ زندگی کے لیے سروسامان کی بہتات نہیں تھی تو اب تو بحمد اللہ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں رہی اور ہماری آخرت کی زندگی تو اللہ تعالیٰ نے نہایت کامیاب اور کامران زندگی بنا دی کہ اب یہاں نہ جورو کا غم ہے اور نہ اولاد کی کوئی فکر اور نہ ہی ان ذمہ داریوں کا کوئی جھنجھٹ اس لیے اب ہم اس کامیابی پر جتنی بھی خوشی کریں بجا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہ کہہ کر کہ کوئی محفل گیت وگانوں اور قوالیوں کی قائم کریں گے بلکہ قدرت الہی ہی کے گیت گائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح و تقدیس بیان کریں گے ۔
Ayah 37:61ایسی ہی کامیابی کے لیے محنت کرنے والوں کو محنت کرنا چاہئے :
61۔ دنیوی کامیابیوں کو حاصل کرنے سے اللہ رب العزت نے منع نہیں فرمایا بلکہ اخروی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے بھی دنیوی کامیابیاں ہی انسان کو مدد دیتی ہیں تو وہ آخرت کو سنوارنے کی محنت کرسکتا ہے بلکہ اللہ رب کریم نے تو انسان کو جو خاص دعا سکھائی ہے اس میں بھی یہ سکھایا ہے کہ (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار) ” اے ہمارے ہادی ! دنیوی زندگی کو بھی سنوار دے اور آخرت کی زندگی کو بھی اور ہمیں عذاب آگ سے نجات عطا فرما ۔ “ تاہم دنیا کی کامیابی ایک عارضی کامیابی ہے جس کو (فوز عظیم) نہیں کہا جاسکتا اور حقیقی اور اصلی کامیابی وہی کامیابی ہے جو آخرت کی کامیابی ہے کیونکہ وہ ابدی اور ہمیشہ کی کامیابی ہے اس لیے آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہوا عمل ہی اصل کہا جائے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے خواہ وہ دنیوی کامیابی ہو اور خواہ آخرت کی کامیابی عمل بہرحال درکار ہے اور ایسی اعمال جو آخرت کی زندگی کی بھلائی حاصل کرنے کے لیے کیے جائیں اور وہ دنیوی زندگی کی بھلائی میں بھی کام آئیں وہ ایسے اعمال ہوں گے جو انسان کے لیے نہایت ہی مفید ثابت ہوں گے کہ وہ ایک پنتھ اور دو کاج کے مصداق ہوں گے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ہم دعوت دیتے ہیں کہ اسلام نے ہم کو دنیوی زندگی میں وہی کام کرنے کا حکم دیا ہے جن سے ہماری دنیوی زندگی بھی درست ہو اور آخرت کی زندگی بھی سنور جائے اور انہیں کاموں سے منع کیا ہے جو ہماری آخرت کو برباد کرنے والے ہیں لہذا ہم اگر وہ کام کریں گے جن کے کرنے کا ہم کو اسلام نے حکم دیا ہے تو بلاشبہ ان سے ہماری دنیوی زندگی بھی بہتر ہوگی اور آخرت کی زندگی بھی ۔ اب آپ کو حق ہے کہ کسی قرآنی ” حکم “ کو یا کسی قرآنی ” نہی “ کو لے کر اس کا تجزیہ کریں انشاء اللہ جو اصول ہم نے بتایا ہے آپ اسی کے مطابق پائیں گے اور اسلام کی ایک بات بھی اس اصول کے خلاف نہیں ہوگی اگر کہیں خلاف نظر آیا تو یقینا وہ اسلام کی بات یعنی اسلام کا ” حکم “ ” یا ” نہی “ نہیں ہوگا اگرچہ یاروں نے اس کو سمجھ لیا ہو مثلا ابھی اوپر آپ نے پڑھا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ اسلامی رواداری کے مطابق نجی تعلقات درست رکھے جاسکتے ہیں اور اخلاقی وکرداری بھلائیوں سے اس کو مستفید کیا جاسکتا ہے اور اس طرح اس سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے دوسرے لفظوں میں اس سے نجی طور پر دوستی کی جاسکتی ہے قومی طور پر نہیں ۔ اب قرآن کریم نے جہاں بھی ہم کو اس سے روکا ہے اس سے مراد قومی دوستی ہے یعنی قومی دوستی سے منع کیا ہے نہ کہ نجی اور ذاتی حیثیت کے تعلقات سے منع کیا ہے لیکن اس فرق کو ہمارے مفسرین اور علماء اسلام نے ملحوظ خاطر نہیں رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم ایک ملت بیضا سے تعلق رکھنے والے بھی معلولی نظریات اختلاف کے باعث ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے ہیں حالانکہ یہ اسلامی تعلیم کے سخت خلاف ہے اور آج یہی نظریاتی فرق ہے جس نے مسلمانوں کو بیسیوں گروہ بندیوں میں تقسیم کردیا اور پھر ہر گروہ دوسرے گروہ سے برسر پیکار ہے اور علماء وقت ہیں کہ وہ اس کو اپنے اپنے فوائد کی خاطر مزید ہوا دے کر ایک دوسرے سے دور ہونے والوں کو مزید دور کرتے چلے جا رہے ہیں اور اس طرح اتنے بڑے ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو جرم ابو الکبائر کہا جاسکتا ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر قرآن کریم نے اس کو براہ راست شرک قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے سارے اہل توحید بھی اس شرک کی دلدل میں پھنسے نظر آتے ہیں اور تعصب کی پٹی اس طرح اپنی آنکھوں پر باندھ دی ہے کہ ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو ہماری آخرت کی کامیابی میں بھی ہمارے کام آئیں کیونکہ آخرت کی کامیابی ہی فوز عظیم ہے ۔
Ayah 37:62بھلا یہ مہمانی بہتر ہے یا زقوم کا درخت جو مجرموں کی غذا ہے :
62۔ آخرت کے آرام و آسائش کی کہانی بیان کرنے کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ جس مذکورہ مہمانی کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ مہمانی بہتر ہے یا وہ کھانا جو دوزخیوں کو پیش کیا جائے گا اور جس کھانے کو ” تھوہر “ کہا گیا ہے ۔ (الزقوم) کیا ہے ؟ بنجر زمین میں اگنے والا ایک پودا ہے جس کی شکل و صورت بھی بہت کریہہ ہے اور نہایت ہی بدمزہ اور کڑوا بھی ہے کہ گلے سے اتارنا اس کا نہایت مشکل ہوجاتا ہے اطباء اس کو بعض امراض میں دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن بعض زبانوں میں گھی اور گھجور کو ملا کر ایک مرکب تیار کرتے ہیں اور اس مرکب کو بھی زقوم ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں زیر نظر آیت اور کئی ایک دوسری آیات میں بھی اس کو دوزخیوں کے کھانے میں استعمال کرنے کا ذکر آیا ہے اس لیے مکہ والوں نے اس لفظ پر خوب بحث کی ہے اور اس کو مذاق کا نشانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور استہزاء اس مالیدہ کو تیار کرکے ایک دوسرے کو اس کھانے میں شریک کرکے ایک دوسرے سے پوچھا گیا ہے کہ اگر یہ دوزخ میں کھانے کو ملے گا تو ایسی دوزخ تو ہم کو ایک بار نہیں سو بار مبارک ہے جس میں اس طرح کی غذائیں ملیں گی لیکن ان کے ان مذاقوں کی حقیقت قیامت کے روز کھل کر ان کے سامنے آجائے گی جب ان کو الزقوم کا ملاحظہ کرایا جائے گا ۔
Ayah 37:63ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنا دیا :
63۔ ان مذاق اڑانے والوں کے مذاق کی حقیقت تو قیام ہی کے روز کھلے گی لیکن اس دنیا میں بھی اس درخت کو ان لوگوں کے لیے ایک آزمائش بنا کر رکھ دیا کیونکہ اس سے کافرو مشرک اپنے کفر اور شرک میں زیادہ مضبوط ہوگئے اور زقوم کو نشانہ تضحیک بنا کر اپنے کفر اور شرک کا واضح ثبوت دے دیا اور سب پر ان کی حقیقت کھل گئ اور قرآن کریم نے ظالم بیشتر جگہوں پر مشرکین ہی کو کہا ہے اور بلاشبہ شرک سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں ہے ۔
Ayah 37:64وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کے وسط سے نکلتا ہے :
64۔ دوزخ کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ وہ ایک ایسی چیز ہے جس میں عذاب دینے کے لیے لوگوں کو داخل کیا جائے گا گویا نہایت تکلیف دہ چیز کا تصور دلانے کے لیے دوزخ یا جہنم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ، اس درخت کی جڑوں کا دوزخ میں ہونے سے یہی مراد ہے کہ یہ درخت درختوں میں کوئی نہایت ہی برا درخت ہے لیکن مفسرین نے اس درخت کو دوزخ میں سے پیدا ہونے والا درخت قرار دیا ہے اور اگر ایسی بات ہے تو بھی اس کی برائی میں آخر کیا شک ہو سکتا ہے اور برائی سے مراد اس جگہ کریہہ ’ کڑوا اور بدمزہ ہی کہا جاسکتا ہے جس کا کھانا اور استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دوزخیوں کو کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس پر اس کی گزران ہوگی گویا ان کو لازما وہ کھانا پڑے گا ۔
Ayah 37:65شگوفے اس کے گویا شیطانوں کے سر ہیں :
65۔ شیطانوں کے سروں سے اس کی نسبت بھی محض اس کے زہریلے اور نہ کھائے جانے والے ہونے کے باعث ہی کی گئی ہے اور اس وقت جو دنیا میں اس نام کا درخت پایا جاتا ہے اگر اس کو دیکھا جائے اور پھر غور کیا جائے تو اس کے شگوفے فی الواقعہ سانپوں کے سروں سے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اس تشبیہہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس تھوہر سے اس درخت کی تشبیہہ دی گئی ہے اور سانپ کھانے والے لوگوں میں بھی سانپ کا سربہرحال نہیں کھایا جاتا کیونکہ اس میں نہایت ہی مہلک قسم کی زہر بھری ہوتی ہے اور اس وجہ سے اس کے ساتھ اس کو ملایا گیا ہے ۔
Ayah 37:66دوزخی اس کا کھائیں گے اور اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے :
66۔ گویا دوزخیوں کو یہ سزاء کھانا پڑے گا ورنہ ان کو کوئی ایسی سزا دی جائے گی جو اس قسم کے کھانے سے بری ہوگی اور عین ممکن ہے کہ اس کو مثل کے مطابق جوتے بھی کھانے ہوں اور تھوہر بھی جیسے مثل میں جوتے کھانے کے ساتھ پیاز کھانے کا ذکر ہے کہ کسی آدمی کو دو قسم کی سزا سنائی گئی کہ یا تو سو جوتا کھالو یا سوپیاز تو اس نے پیاز کو آسان سمجھ کر کھانا شروع کردیا مگر دس کی تعداد مشکل سے پوری کی اور پکارنے لگا کہ میں جوتے کھالیتا ہوں پیاز نہیں کھا سکتا بہرحال پھر جوتے لگانے والا آیا تو ابھی دس ہی جوتے کھائے تھے کہ پھر وہ چیخا اور چلایا کہ مجھے چھوڑ دو میں پیاز کھاؤں گا اور اس طرح کرتے کرتے وہ پیاز بھی کھا گیا اور جوتے بھی شاید ان کے ساتھ بھی کوئی اسی طرح کی بات ہوگی بہرحال غذا کے لیے ان کو یہی پیش کیا جائے گا اور پینے کے لیے پیپ ہوگی اس کا نام سن کر بھی آدمی غش کھانے لگتا ہے ۔
Ayah 37:67تھوہر کھانے کے بعد دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی بھی پینا ہوگا :
67۔ (شوبا) کا اصل ش و ب ہے جس کے معنی ملانے کے ہیں کوئی چیز کھا کر اوپر سے کچھ پی لیا جائے تو وہ بھی دونوں کا ملنا ہی ہوتا ہے اگرچہ ایک کے بعد دوسری ڈالی جائے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تھوہر کو کھولتے پانی میں ڈال کر اس کے کھانے کا حکم دیا جائے اور اس لحاظ سے بھی اس کی کڑواہٹ اور بدمزگی کے ساتھ مزید اضافہ ہی ہوگا اور ایک تکلیف کے ساتھ دوسری تکلیف گویا ملا دی جائے گی اور اس طرح ان کے عذاب میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور یہی مقصود اصل ہے کہ دوزخیوں کے عذاب میں اضافہ ہو سکتا ہے کمی ہونے کا وہاں کوئی تصور نہیں ہے ۔
Ayah 37:68پھر ان کو آگ کے انگاروں میں واپس کیا جائے گا :
68۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھوک اور پیاس لگے گی لیکن وہ بھوک ہڑتال بھی نہیں کرسکیں گے کیونکہ وہاں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اختیاری نہیں ہوگا بلکہ غیر اختیار طور پر ہر ایک کو کرنا ہی پڑے گا اور بغیر کیے کوئی چارہ کار نہیں ہوگا لہذا معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کے جس حصہ میں تھوہر اور کھولتا ہوا پانی ہوگا اس طرح ان کو لایا جائے گا اور پھر بزور وہاں سے یہ دو چیزیں ان کو کھلائی جائیں گی اور ان کو کھالینے کے بعد دوبارہ ان کو ہانک کر دوزخ کے کوئلوں کی طرف کردیا جائے گا جہاں ان کو خوب بھونا جائے گا اور اسی طرح اس دوزخ میں مسلسل عذاب دیئے جاتے رہیں گے ۔
Ayah 37:69جن کو اس طرح کا عذاب دیا جا رہا ہے یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آباء و اجداد کو گمراہ پایا :
69۔ ان دوزخیوں کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا اور ان کے دیکھا دیکھی انہوں نے بھی وہی کچھ کرنا شروع کردیا اور بلوغت ہونے کے بعد بھی اپنے نفع ونقصان پر غور نہ کیا ۔
Ayah 37:70چناچہ وہ بھی انہیں کے نقش قدم پر دوڑتے چلے جا رہے ہیں :
70۔ (یھرعون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول تیز دوڑتے ہوئے اندھا دھند دوڑتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے چلے جا رہے ہیں ۔ ان کی گمراہی کی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ انہوں نے عقل وہوش کے چراغ بجھا دیئے اور سوچنے سمجھنے کی قوت کو زائل کردیا اور اس سے کام ہی نہ لیا اور اپنے گمراہ اسلام کے نقش قدم پر چلتے رہے ۔ اور یہ بات اس لیے واضح کردی کہ آنے والے کل کو کوئی ایسا عذر بھی پیش نہ کرسکے کہ ہم کو تو معلوم ہی نہیں اس لیے ان کو پہلے ہی آگاہ کردیا ۔ لیکن موجودہ دور میں تو قرآن کریم کی تفہیم اور اور اس کے ترجمہ پر نظر ڈالنے سے قوم مسلم نے قسم کھالی ہے کہ نہیں دیکھیں گے اور نہ ہی اس کو سمجھیں گے بلکہ غیر فطری طریقہ سے اس کو مردوں کی بخشش کے لیے خاص کردیا تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری کہ زندوں کو اس کے سمجھنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ گویا یہ چیز ہی زندوں کے لیے نہیں ہے افسوس اس ملائیت پر جس نے ہماری مت بالکل ہی مار دی ۔
Ayah 37:71پہلوں کی اکثریت بھی اسی طرح گمراہ ہوتی رہی :
71۔ گزشتہ قوموں کی اکثریت اسی طرح گمراہ ہوتی رہی کہ انہوں نے کبھی غور وغوض نہ کیا اور وہی کچھ کرتے رہے جو ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے تھے بلکہ جب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام نے ان کو منع کیا اور روکا تو بھی وہ اپنی ضد پر قائم رہے اور انہوں نے واضح طور پر یہ جواب دیا کہ ہم تو وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے آرہے ہیں اور ہم اپنے بزرگوں کو چھوڑ کر آپ کی بات کیسے مان سکتے ہیں ؟ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی کی پہلی جلد سورة البقرہ کی آیت 170 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 37:72حالانکہ ان کی طرف ہم نے ڈرانے والے بھی بھیجے تھے :
72۔ جیسا کہ پیچھے سے اس کی وضاحت چلی آرہی ہے کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ چلا کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور تک جن نبیوں اور رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے سب کے حالات میں یہ بات پوری وضاحت سے ذکر کی گئی ہے کہ ہر نبی ورسول نے جب قوم کو توحید الہی کی دعوت دی اور شرک سے باز رہنے کا کہا تو قوم نے یہی کہا کہ تیرے کہنے پر ہم اپنے باپ دادا کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں حالانکہ ان کو یہ بھی کہا گیا کہ تمہارے باپ دادا کچھ بھی نہیں جانتے تھے لیکن انہوں نے اس بات کا بھی بہت برا منایا کہ تم نے یہ کیسے کہہ دیا کہ وہ کچھ نہیں جانتے تھے ، ہمارے آباء و اجداد ہوں اور وہ کچھ نہ جانیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ ہم تو وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے رہے اس لیے کہ وہ آپ سے زیادہ جانتے تھے اور یہ کہہ کر انہوں نے انبیاء ورسل کی طرف سے منہ پھیرلیا ۔
Ayah 37:73پھر آپ دیکھ لیجے کہ جن کو ڈرایا گیا ان کا انجام کیسا ہوا ؟ :
73۔ جن کو ڈرایا گیا ان کو آنے والے نبی ورسول نے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا لیکن قوم بجائے ڈرانے کے ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی اور ان کو جو منہ در آیا کہہ دیا اور ایک مدت تک یہی سلسلہ چلتا رہا حتی کہ وہ وقت آیا کہ وقت کے رسول اور نبی نے ڈرائے جانے والوں کو عذاب کا وقت بتایا اور خود بحکم الہی وہاں سے ہجرت کرلی اور لوگوں کو ان کے کیے کا بدلہ خوب چکھایا گیا یہاں تک کہ کسی کو کسی عذاب کے تحت اور کسی کو کسی عذاب کے تحت اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور وہی لوگ بچے جنہوں نے اپنے نبی و رسول کے ساتھ وہاں سے ہجرت کی ۔
Ayah 37:74سوائے ان کے جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے :
74۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو احکام الہی کی پابندی کرتے ہیں اور حق کے پیروکار ہوتے ہیں وہ اندھی تقلید نہیں کرتے ‘ نہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے آبائواجداد کیا کرتے ہیں وہ قرآن کریم پر غور وفکر کرتے ہیں اور یاد الہی میں دن رات بسر کرتے ہیں ‘ آسمان و زمین میں غور وفکر کرتے ہیں اور اگر ان کے آباء و اجداد سیدھی راہ پر نہ ہوں تو ان کی راہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کا احترام واکرام رکھنے کے باوجود ان کا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ ہر ممکن ان کی تفہیم کی جائز حد تک کوشش کرتے ہیں اور دنیوی زندگی میں ان کا تہ دل سے احترام کرتے ہوئے ان کا کہا مانتے اور ان کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں اور حق کے ساتھ سختی سے چمٹے رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی پیروی میں اپنے اوقات بسر کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔
Ayah 37:75ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا پس ہم خوب فریاد کو پہنچنے والے ہیں :
75۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) اور آپکی قوم کے حالات گزشتہ سورتوں میں سورة الاعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة الانبیاء اور شعرا میں بہت تفصیل سے گزر چکے ہیں اور سورة ہود میں نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بھی اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے اور اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ہم کو پکارا اور ہم اچھے جواب دینے والے ہیں یعنی ہم نے اس کی بات سنی اور اس کی فریاد سن کر اس کی فریاد رسی بھی کی کہ جب طوفان آیا تو صرف آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں ہی کو بچایا گیا باقی سب کو غرق کردیا گیا ۔
Ayah 37:76ہم نے نوح کو اور اس کے گھر والوں کو زبردست مصیبت سے نجات دی :
76۔ اہل سے مراد آپ پر ایمان لانے والے لوگ ہیں اور جو آپ پر ایمان نہ لائے خواہ وہ آپ کے کتنے ہی قریبی تھے لیکن وہ آپ کے اہل نہ رہے چناچہ قرآن کریم میں اس کی تفصیل دوسری جگہ کردی گئی ہے جب آپ نے اپنے بیٹے کو کشتی پر سوار ہونے کا کہا اور بیٹے نے اس کا جواب یہ دیا کہ بابا اپنا کام کرو میں آپ کی کشتی میں سوار نہیں ہوتا میں تو کسی پہاڑ پر چڑھ کر ہی اپنی جان بچا سکتا ہوں لیکن یہ بات ابھی اس کے منہ میں ہی تھی کہ ایک لہر اٹھی اور اس نے اس کے بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے غرق کر کے رکھ دیا پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے مالک حقیقی سے درخواست کی کہ (آیت) ” رب ان ابنی من اھلی “ اے اللہ بلاشبہ وہ تو میرا بیٹا تھا تو تو نے اس کو بھی ہلاک کردیا ؟ تو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب آیا کہ (آیت) ” ینوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح “۔ اے نوح بلاشبہ وہ تیرا اہل نہیں ہے اس لیے کہ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال اچھے نہیں وہ بلاشبہ وہ تیرا اہل نہیں ہے اس لیے کہ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال اچھے نہیں وہ بلاشبہ وہ تیرا اہل نہیں ہو سکتا اور یہی اہل اور اولاد میں فرق ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آل اور اہل میں کوئی فرق نہیں الا یہ کہ آل میں اولاد بھی شامل ہے اور اہل میں اولاد کا شامل ہونا ضروری نہیں کیونکہ بعض اوقات اولاد انسان کے لیے اہل نہیں ہوتی اور غیر اولاد ہوجاتی ہے ۔
Ayah 37:77ہم نے صرف اس کی ذریت ہی کو باقی رہنے دیا :
77۔ زیر نظر آیت میں زریت کا لفظ بھی اہل ہی کے لیے استعمال ہوا ہے نسل کے لحاظ سے ذریت کا لفظ استعمال نہیں ہوا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوئے تھے ان کے سوا باقی اور کوئی نہیں بچا تھا وہی اور صرف وہی بچے تھے باقی رہنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ باقی ہی نہیں رہے بلکہ اس وقت وہ لوگ بچ گئے اور بعد میں اپنے وقت پر مرے اور یقینا مرے اور یہی حالت بیان کرنے کے لیے اس جگہ (ذریتہ) کا لفظ استعمال ہوا اور ہمارے ہاں اس بات پر روحانی اولاد یا روحانی ذریت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔
Ayah 37:78ہم نے آنے والے لوگوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا :
78۔ کتنی قرنیں اور مدتیں گزر گئیں نوح (علیہ السلام) کو اس دنیا میں تشریف لائے ہوئے لیکن آپ کے بعد جتنی قومیں اس روئے زمین میں آئیں اور قیامت تک جو آئیں گی سب نے آپ کا ذکر کیا اور سب ہی آپ کا ذکر کریں گے اگرچہ اس ذکر میں وہ سارے نبی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں کیا گیا ہے کیونکہ سب کا ذکر اپنے اپنے مقام پر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت میں ان کا ذکر چھوڑا اور جب تک آپ کی امت اس روئے زمین پر موجود ہے اس وقت تک آپ کے ساتھ دوسرے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلامکا ذکر بھی بحمد اللہ جاری وساری رہے گا ۔
Ayah 37:79سارے جہان والوں میں نوح (علیہ السلام) پر سلام ہو :
79۔ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کردیا گیا کہ ہم نے آنے والی امتوں ‘ جماعتوں اور گروہوں میں آپ کی شہرت اور نیک نامی کو برقرار رکھا ہر قوم آپ کی ثناء خوا اور ہر امت نے آپ کی تعریف کی اور خصوصا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے جو آپ پر الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک ایک کا جواب دیا اور اس وقت اپنوں نے جو غلطی سے آپ پر الزامات ثابت کیے ان کا ازالہ بھی یقینا ہوا اور انشاء اللہ العزیز رہتی دنیا تک ہوتا رہے گا اور اسلام کے معنی ہی صحیح معنوں میں یہ ہیں کہ جو الزامات غیروں کی طرف سے لگائے گئے یا جو الزامات غلطی سے اپنوں نے آپ کے نام پر منسوب کردیئے ان سب کا دندان شکن جواب دیا جائے اور مدلل جواب ہو جو عقل انسانی قبول کرے اور غیر مبہم ہو۔
Ayah 37:80بلاشبہ ہم نیک بندوں کو اس طرح بدلہ دیا کرتے ہیں :
80۔ زیر نظر آیت کے مضمون پر غور کریں کہ یہ مضمون تقریبا جتنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلامکا اس سورت میں ذکر کیا گیا سب کے ساتھ موجود ہے اور یہ آیت خود بول بول کر کہہ رہی ہے کہ میرے اندر اتنی وسعت رکھ دی گئی کہ آج تک اور آج کے بعد رہتی دنیا تک جتنے محسنین آئے اور آئیں گے سب کے ساتھ میرا یہ وعدہ ہے کہ جو جو بھی نیک کام کرے گا اس کو اس کا عوض ومعاوضہ بھی دیا جائے گا جو اس کے مطابق ہی ہوگا جو اس کی نیکیاں ہوں گی اور اس معاملہ میں کسی کے ساتھ بھی کمی و زیادتی نہیں کی جائے گی اور یہ بدلہ صرف انبیاء ورسل کے ساتھ ہی خاص نہیں رکھا گیا بلکہ سارے محسنین کے ساتھ لازم ہے جو پہلے ہوئے اور جو بعد میں ہوں گے ہاں ! احسان کے اندر جو درجات قائم ہیں ان کا لحاظ تو بہرحال ضروری ہے کیونکہ انصاف تو ہر جگہ انصاف ہی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک نبی اور غیر نبی احسان کے درجہ میں بھی برابر نہیں ہوسکتے ، مطلب یہ ہے کہ جزا تو ہر محسن کے لیے ضروری ہے کہ خواہ وہ نبی ہو یا نہ ہو لیکن احسان کے درجہ میں مجموعی طور پر نبی اور غیر نبی برابر نہیں ہو سکتے ہاں کسی ایک حصہ احسان میں غیر نبی نبی پر بھی فوقیت حاصل کرسکتا ہے لیکن مجموعی طور پر نبی کا درجہ غیر نبی کے مقابلہ میں بہت ہی بلند اور ارفع واعلی ہے ۔