37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے ؟ کیا اس وقت وہ (وہاں) موجود تھے ؟

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے ؟ کیا اس وقت وہ وہاں موجود تھے ؟ : 150۔ اس بات کے پیش نظر ان کو کہا جا رہا ہے کہ اتنی بری تقسیم تم نے کیسے کردی کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں اور پھر تم جو اتنے وثوق سے یہ دعوی کرتے ہو تو تمہارے پاس ضرور کوئی پکی دلیل ہوگی اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو پیدا فرمایا تو تم اس وقت وہاں موجود تھے اور تم نے دیکھا کہ یہ لڑکیاں ہیں یا کوئی تحریری ثبوت تم لوگ اپنے پاس رکھتے ہو ۔ اگر دونوں صورتوں میں کوئی بات بھی نہیں ہے کہ نہ تم فرشتوں کی آفرنیش کے وقت پاس تھے اور نہ ہی تمہارے پاس کوئی تحریری ثبوت موجود ہے تو یہ کتنی نادانی ہے کہ ایک غلط بات پر اس طرح اڑے ہوئے ہو اور جو تمہارے باپ دادا نے کہا ہے وہ تم بھی کہے چلے جا رہے ہو ۔
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن لو کہ یہ بہتان باندھ کر (اتہام کے طور پر) کہہ رہے ہیں

خوب سن لو کہ یہ لوگ بہتان باندھ کر کہہ رہے ہیں : 151۔ بہتان کیا ہے ؟ تہمت ‘ افتراء ‘ الزام اور عیب کو کہتے ہیں اور قرآن کریم کا لفظ جو اس جگہ استعمال ہوا ہے وہ (افک) ہے اور یہ وہی ہے جس کو ہمارے ہاں سفید جھوٹ کہتے ہیں یعنی وہ بات جو محض اپنے پاس سے بنا لی گئی ہو جب کہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو ۔ اس طرح ظاہر ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر خواہ مخواہ کی ایک تہمت اور افتراء ہے اور اس طرح اولاد بہرحال کمزوروں پر دلالت کرتی ہے اور کمزوری سے بڑی کون سا عیب ہو سکتا ہے اور پھر یہ عیب اللہ کے ذمہ لگانا سراسر ظلم و زیادتی نہیں تو اور کیا ہے ؟ لیکن جو نظریہ کوئی قوم اختیار کرتی ہے تو اس کو چھوڑنے کے لیے کب تیار ہوتی ہے ، یہی حالت اس وقت تھی اور یہی حالت اس وقت ہے ۔
Ayah 37:152

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

(کہ) اللہ صاحب اولاد ہے اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں

اللہ صاحب اولاد ہے ؟ اس نظریہ میں وہ سراسر جھوٹے ہیں : 152۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے خواہ وہ اولاد کی نسبت سے نرینہ اولاد قرار دے یا اناث کو اولاد تسلیم کرے وہ ایسا کہہ کر سراسر جھوٹ بولتا ہے اس لیے یہ لوگ جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے رہے ہیں سراسر جھوٹے ہیں ۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیوں کو پسند کیا تھا ؟

کیا اللہ نے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو پسند کیا تھا ؟ : 153۔ کیا تمہارے پاس اس نظریہ کے ثبوت میں کوئی دستاویز بھی موجود ہے ؟ اگر ہے تو چھپاؤ نہیں بلکہ اس کو پیش کرو تاکہ دوسرے لوگ بھی تمہارے ہم نوا بن جائیں ۔ لیکن جب کوئی دستاویز ہے ہی نہیں تو وہ پیش کیا کریں گے اپنی نادانی کے باعث ایک غلط نظریہ پر اڑے ہیں اور اڑے رہیں گے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو (جن کا سر ہے نہ پیر)

تم کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کرتے ہو جن کا سر ہے نہ پیر : 154۔ اتنے وثوق سے جو تم کہہ رہے ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا یہ کہ اللہ کے بیٹے ہیں اور یہ کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اس طرح سے مختلف نظریات تم رکھتے ہو کیا تمہارے پاس ان نظریات کی کوئی دلیل بھی ہے ؟ اس طرح کے نظریات کی ان کے پاس سب سے بڑی یہی دلیل تھی کہ یہ باتیں جو ہم کہتے ہیں ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ ہمارے آباء و اجداد کہتے چلے آرہے ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ جن کے آباء و اجداد نے اللہ کی اولاد قرار دی خواہ وہ ذکور ہو یا اناث انہوں نے اولاد ہی تسلیم کی جن کے آباء و اجداد نے کس کو بیٹا قرار دیا انہوں نے بیٹے ہی کی تصدیق کی اور اسی طرح جن کے آباء و اجداد نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کیا وہ اس نظریہ پر پکے ہوگئے اور یہ اتنی بڑی دلیل ہے کہ آج بڑے بڑے مولاناؤں ‘ علاموں ‘ مولویوں ‘ پیروں ‘ مرشدوں ‘ سجادہ نشینوں ‘ گدی نشینوں ‘ قاضیوں ‘ مفتیوں ‘ چوہدریوں اور سیاسی لیڈروں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہی ہے اور اسی دلیل کو وہ وقتا فوقتا پیش کرتے ہیں اور عوام کو اسی دلیل پر جمائے رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ ان سارے نادان داناؤں کو اس دلیل کی اہمیت معلوم ہے لیکن عوام کو بہکانے کے لیے وہ اس کو استعمال کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے جب تک عوام باشعور نہیں ہوجاتے ۔
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم (ذرا بھی) غور نہیں کرتے

کیا تم ذرا بھی غور وفکر نہیں کرتے ؟ : 155۔ یہ گزشتہ آیات میں جو عقائد ونظریات لوگوں نے بنا رکھے ہیں ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ کیا تم کو اتنی بھی سمجھ نہیں ہے کہ جب بات پر انسان کوئی دلیل عقلی ونقلی نہ رکھتا ہو وہ بات کبھی صحیح نہیں ہوتی خواہ وہ ہزارہا سال سے ہوتی آرہی ہے اور خواہ کون کر رہا ہو اور کہاں کر رہا ہو۔ رہی یہ بات کہ وہ نقلی دلیل کیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہو اس نے کسی بھی نبی ورسول پر اتاری ہو یا رسول نے فرمائی ہو اور یہ ثابت ہوجائے کہ فی الواقعہ رسول نے اس کو کہا ہے یا کیا ہے علاوہ ازیں کسی بات کو نقلی دلیل نہیں کہا جاسکتا جب کہ اس بات کا تعلق خالصتا دین سے ہو کیونکہ سارا زور لوگوں کا دین ہی کی باتوں پر ہوتا ہے اور انہی باتوں کو باپ دادا کے کرنے کی دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں دنیا کے معاملہ میں تو باپ دادا کی چند رسومات کے سوا باقی سارے کاموں میں آزادی کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور کوئی نہیں کہتا کہ ہم کو وہی کرنا ہے جو ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں دنیا کے معاملہ میں تو ہر اس بات کو جلد قبول کرجاتا ہے جو آسان اور سہل نظر آتی ہو۔
Ayah 37:156

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس اس (احمقانہ فیصلے) کی کوئی صریح دلیل ہے ؟

کیا تمہارے پاس اس احمقانہ فیصلہ کی کوئی دلیل ہے ؟ : 156۔ ان چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک ہی بات مختلف طریقوں سے دہرائی جا رہی ہے تاکہ بات ان کے ذہن نشین ہوجائے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ جب تک ایک بات انسان کے اپنے ذہن کو اپیل نہ کرے وہ توجہ نہیں دیتا غور کرو کہ صرف ایک ہی دن میں ایک انسان بیسیوں نہیں سینکڑوں چیزوں کو دیکھتا ہے جو اسے درس عبرت دے رہی ہوتی ہیں لیکن انسان کی سرسری نگاہ سے اس کو کچھ نصیحت حاصل نہیں ہوتی اور اگر انہی باتوں میں سے کسی ایک بات کو وہ بطور دیکھے یا کوئی دوسرا اس کی توجہ مبذول کرا دے تو وہ اس سے در اس عبرت حاصل کرلیتا ہے ، اس لیے آپ بھی تسلیم کریں گے کہ عام طور پر دیکھنے اور بغور دیکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے اسی لیے قرآن کریم میں ایک بار کو بار بار تصریف آیات کے تحت باوار کرایا جاتا ہے اور کسی جگہ ایک ہی بات کو مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے تاکہ سامع کے دل میں وہ بات اتر جائے ، یہی پیرایہ بیان میں اس جگہ بھی اختیار کیا گیا ہے جو مسلسل کتنی ہی آیات سے چلتا آرہا ہے ۔
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

پس اپنی نقلی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو ؟ : 157۔ ان عقائد ونظریات میں تم سچے ہو تو اپنی نقلی یا عقلی دلیل پیش کرو اگر تم رکھتے ہو ؟ میں تو تمہارے پاس قرآن کریم اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کررہا ہو اور ہر اس بات پر جو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں سو سو عقلی دلیلیں بھی پیش کرتا ہوں اس کائنات کے ایک ایک ذرہ سے لے کر بڑے بڑے فلکی اجرام سے استشہاد کرتا ہوں اور سب سے بڑھ کر تمہاری اپنی جانوں کے اندر کی شہادتیں پیش کرتا ہوں اگر تمہارے پاس بھی کوئی حکمت ہے ‘ کوئی کتاب ہے کوئی پیغام پہلی کتابوں کا ہے تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو ورنہ تسلیم کرلو کہ سچائی نام کی کوئی چیز تمہارے پاس موجود نہیں ہے ۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان بھی ایک رشتہ قائم کیا ہے حالانکہ جنات کو علم ہے کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کیے جائیں گے

انہوں نے جنوں اور اللہ کے درمیان بھی ایک رشتہ قائم کردیا ہے : 158۔ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ کفار عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے پھر جب ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کی کیسے بیٹیاں بناتے ہو تو ان کو کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے جنوں میں شادیاں کی اور وہاں سے اس کی بیٹیاں پیدا ہوگئیں اور پھر جب اس کا ثبوت ان سے طلب کیا گیا کہ یہ بات تو پہلی بات کی طرح بےثبوت ہے اس کی دلیل کیا ہے تو پھر کھسیانے ہو کر رہ گئے حالانکہ جن بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جیسے انسان اور دوسرے بیشمار مخلوق ہے پھر مخلوق اور خالق کا آپس میں کیسے رشتہ ہوگیا ۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے ان انسانوں سے فرمائی جو اللہ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ مانتے تھے کہ ” اللہ کے لیے جو تم اولاد قرار دیتے ہو تو اولاد ہونے کے لیے تو ضروری ہے کہ اس کی کوئی صاحبہ یعنی بیوی بھی ہو تو وہ کون ہے ؟ کون ہونے سے مراد یہ بھی نہیں کہ کسی عورت پر وہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ یہ اس کی بیوی ہے مطلب یہ ہے کہ کیا اللہ کی کوئی جنس ہے تاکہ اس کی جنس میں سے اس کی بیوی تسلیم کرلی جائے خواہ ہو یا نہ ہو اگر اس کی کوئی جنس ہی نہیں ہے تو کیا غیر جنس سے کسی مذکر کے لیے مادہ یا کسی مادہ کے لیے کوئی مذکر ہو سکتا ہے ؟ عقل کے اندھو ! کچھ تو غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو اور کسے کہہ رہے ہو ؟ یہ تو ان کی بات تھی جن کو سارے مسلمان نادان مانتے اور جانتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے داناؤں کی حالت ان نادانوں سے بھی گئی گزری ہے اور ہمارے حضرت العلام ‘ ہمارے سارے مذہبی رہنما ‘ پیرومرشد اور مفتیان شرع متین کی حالت بھی وہی ہے گویا ان کے عوام کالانعام اور ہمارے یہ اتنے بڑے علم کے دعوی رکھنے والے ایک ہی جیسے ہیں غور کرو کہ ہمارے ان سارے دعویداروں کا خیال ہے کی عیسیٰ کا باپ جبریل تھا پھر جب انہوں نے دیکھا کہ دوسری طرف مریم عیسیٰ کی ماں ہے اور مریم اور جبریل کی ایک جنس نہیں ہے تو بوکھلا گئے اور کہہ دیا کہ اس لیے تو ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے مانتے ہیں کہ جبریل اور مریم کی ایک جنس نہیں ہے لیکن اللہ قادر ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور پھر ہم مانتے ہیں کہ یہ اللہ نے کیا ہے تو اللہ کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ دو ناہم جنسوں کو آپس میں جوڑ دے گویا ان ظالموں نے وہ ظلم بھی روا رکھا جو مشرکین عرب اور یہود ونصاری بھی نہ روا رکھ سکے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق بغیر ماں باپ کے ، بغیر ماں کے بغیر باپ کے تسلیم لیکن جبکہ وہ فقط مخلوق ہو اور مخلوق کے لیے ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی باپ کوئی ماں یا کوئی ماں ‘ باپ ہو بلکہ اس کے لیے فقط خالق کا ہونا ضروری ہے اللہ کی اس مخلوق میں سے جو کسی کی ” ولد “ ہو گویا وہ مخلوق بھی اور ” ولد “ بھی تو لازم آئے گا کہ اس ” ولد “ کا کوئی ” والد “ بھی ہو اور پھر جب اس کا ” والد “ معلوم ہوگیا تو لازم ہوجائے گا کہ اس ” ولد “ کی کوئی ” والدہ “ بھی ہو گویا ایک لفظ ” ولد “ نے مزید دو چیزوں کی خود بخود تصدیق کردی کیونکہ کوئی ” ولد “ بغیر والد اور والدہ کے نہیں ہو سکتا یہاں تک اللہ جو پوری کائنات کا خالق ہے اس کو بھی کوئی والد قرار دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی جورو بتائے ورنہ اس کو جھوٹا تصور کیا جائے گا اور اس کی وضاحت سورة الانعام کی آیت 101 میں کردی گئی ہے اور سورة الانعام عروۃ الوثقی کی تیسری جلد میں ہے ، اس جگہ جنوں سے بعض مفسرین نے ملائکہ مراد لیے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری جوڑنے کا ذکر کیا ہے جن اگرچہ ہر چھپی چیز کو کہا جاسکتا ہے اس لحاظ سے فرشتوں پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے لیکن علمائے کرام کا دل ہو تو سب ٹھیک ورنہ صحیح بھی غلط کیونکہ دین کی ٹھیکہ داری ان کے پاس ہے آخر ان کو کون پوچھ سکتا ہے بہرحال کچھ تو جمود ٹوٹا اگرچہ ان ہی کی مرضی سے سہی ۔
Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں

اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں : 159۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور منزہ ہے جنس سے ‘ اولاد سے ‘ بیوی سے اس لیے اللہ بیزار ہے ان سے جنہوں نے جنوں اور اللہ کے درمیان رشتہ حسب ونسب قائم کر دکھایا اور اللہ بیزار ہے ‘ ان سے جنہوں نے جبریل ومریم کا جوڑ ملا کر عیسیٰ (علیہ السلام) آدھا فرشتہ اور آدھا انسان مانا اور اللہ بیزار ہے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ اور انسانوں کے مابین رشتہ داری بنا دی اور اپنے آپ کو یا اللہ کے دوسرے نیک بندوں کو اللہ کا بیٹا یا اللہ کے بیٹے بنایا حالانکہ بیٹے کے لیے لازم ہے کہ وہ باپ کی جنس سے ہو اور باپ کے لیے لازم ہے کہ وہ بیٹے کی جنس سے ہو ورنہ نہ بیٹا بیٹا ہو سکتا ہے اور نہ بنایا گیا باپ باپ ۔
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں

اللہ کے مخلص بندے اس طرح کی باتیں نہیں بناتے : 160۔ اللہ کے مخلص بندے ان ہرزہ سرائیوں کے قریب بھی نہیں بھٹکتے نہ تو وہ اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہیں جو اللہ کی الوہیت ہی کی منافی ہیں نہ ہی وہ جنوں اور اللہ کے درمیان اور نہ ہی جنوں اور فرشتوں کے درمیان اور نہ ہی وہ اللہ اور انسان کے درمیان اور نہ ہی وہ انسانوں اور فرشتوں کے درمیان رشتے جوڑتے ہیں اور نہ اس طرح کے نظریات و عقائد گھڑتے اور بیان کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کی باتیں تو صریح ظلم ہے اور ظلم کرنے والا ہر حال میں ظالم ہوتا ہے خواہ وہ کوئی ہو خواہ کہیں ہو اور خواہ وہ کیسا ہو اور لاریب اللہ نہ تو خود ظالم ہے اور نہ ہی کسی ظالم کو پسند کرتا ہے خواہ وہ کوئی ہو ‘ کیسا ہو اور کہاں ہو ؟
Ayah 37:161

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

پس بلاشبہ (اے کافرو ! ) تم اور جن کی تم پرستش کرتے ہو

نہیں تم اور تمہارے بناوٹی خدا جن کو تم نے خدا بنا رکھا ہے سب ایسے ہی ہیں : 161۔ فرمایا تم غیر اللہ کی عبادت کرنے والے ‘ غیر اللہ کو پکارنے والے اور وہ جن کو پکارتے اور سورتے ہو اور وہ تمہارے اس طرح پکارنے اور سورنے پر راضی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم کو حاجت روا ‘ مشکل کشا سمجھا جائے اور بزرگوں کو ایسا مانا تسلیم کیا جائے ان کا دین یہی ایمان یہی ‘ ان کا وعظ بھی یہی اور نصیحت بھی یہی تو تم جو بھی ہو ‘ جہاں بھی ہو اور جیسے بھی ہو بہرحال مشرک ہو۔
Ayah 37:162

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

کسی شخص کو (اللہ سے پھیر کر) فتنے میں نہیں ڈال سکتے

تم اور تمہارے معبود مل کر کسی کو فتنہ میں نہیں ڈال سکتے : 162۔ فرمایا تم خود خواہ کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسے ہو سب مل کر بھی کسی اللہ کے بندہ کو فتنہ میں نہیں مبتلا کرسکتے کیونکہ اللہ کے بندوں کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ نہایت غور وخوض سے کام کرتے ہیں اور فتنہ گروں کے فتنوں کو خوب اچھی طرح سمجھے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو بھی اندھے اور بہرے ہو کر نہیں پڑھتے ۔ (الفرقان 35 : 73)
Ayah 37:163

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

سوائے اس کے جس کو جہنم میں داخل ہونا ہے

سوائے ان لوگوں کے جن کو جہنم میں داخل ہونا ہے : 163۔ یہ گزشتہ آیت کے ساتھ پیوستہ ہے گویا فرمایا جا رہا ہے کہ تم اور تمہارے باطل معبود خواہ کتنی ہی کوشش کریں تم کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر ہاں ! وہ بدبخت جن کو دوزخ کا ایندھن بننا ہے ۔ گویا وہ آدمی جو شیطان کے بہکاوے میں آکر اور ان فتنہ گروں کے فتنہ میں مبتلا ہو کر رہ جائے وہ ایسا ہی ہے کہ بس جہنم کا ایندھن بن گیا خواہ وہ کوئی ہو کہاں ہو اور کیسا ہو کیونکہ ہمارے ہاں نسلوں ‘ ذاتوں دنیوی عزتوں ‘ مالوں خاندانوں اور عہدوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ ہمارے پاس سیرت ‘ کردار اور اخلاق ‘ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہی کو دیکھا جاتا ہے اور یہی چیز ہے جو آخرت میں کام آنے والی ہے ۔
Ayah 37:164

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور ہم میں سے ہر ایک کا مقام متعین ہے

ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام متعین ہے : 164۔ یہ فرشتوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں مگر اس کے لیے مقام متعین ہے اور کام بھی ہمارے سپرد ہے جو سپرد کردیا گیا ہے گویا ہم مخلوق ہیں اور جو جو ذمہ داری ہم کو سونپی گئی ہے اس کو ہم بغیر کسی حیل وحجت سرانجام دے رہے ہیں جیسا کہ قبل ازیں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ فرشتے ایک طاقتور قوت کا نام ہے جو طاقت وقوت بغیر کسی جسم عطائی کے دیکھی نہیں جاسکتی اور جس طرح ان کا نام متعین ہے ان کا کام بھی یقینا معین ومقرر ہے ۔
Ayah 37:165

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم تو صف بستہ کھڑے ہونے والے ہیں

اور یہ کہ ہم پرے باندھے کھڑے ہیں : 165۔ ہر وقت حکم ماننے کے لیے سرتسلیم خم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں لگے ہوئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ طاقت و قوت کا اور کام ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس کو تسخیر کردیا ہے اور جو کام انسان اس طاقت وقوت کی فطرت کے مطابق لینا چاہتا وہ دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور یہی ان کی حمد وتسبیح ہے اور اس بات کے وہ اقراری ہیں کہ ہم تو صف بستہ خدمت گار ہیں اور تسبیح خواں ہیں ۔ جس طرح اس کائنات کی ہرچیز انسان کے لیے تسخیر کی گئی ۔
Ayah 37:166

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور ہم سب تو اس کی پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں

اور یہ کہ ہم سب تو اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں : 166۔ یہ وہی بات انہوں نے کہی ہے جو آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کے ذکر کے وقت کی تھی اور اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ (نحن نسبح بحمدک ونقدلک “ ۔ (البقرہ 2 : 30) وضاحت اس کی وہی ہے جو عروۃ الوثقی جلد اول کی مذکورہ آیت میں گزر چکی اور انسانوں کی تفہیم کے لیے انسانوں کی زبان میں بات کی گئی کہ فطرت انسانی کی انسان کو تفہیم ہو سکے اور وہ اپنی حقیقت کو پہچان جائے لیکن بہت ہی کم ایسا ہوا کہ انسانوں نے اس کی تفہیم کی ہو ۔
Ayah 37:167

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ (کفار مکہ تو) کہا کرتے تھے

اور یہ لوگ قریش مکہ تو کہا کرتے تھے : 167۔ ذرا غور کیجئے کہ قریش مکہ نے یہ کب اور کہاں کہا تھا اور یہ کہ اس جگہ اس کا کہیں دور دور تک ذکر نہیں کہ یہ کہنے والے کون لوگ ہیں جن کو ہم نے قریش مکہ یا قرآن کریم کے پہلے مخاطبین مراد لیے ہیں اور اس وثوق سے اس کا نام لیا ہے کہ گویا ان کا ذکر اس جگہ ہوتا چلا آرہا ہے حالانکہ ذکر تو کیا یہاں تو اشارہ تک بھی موجود نہیں اور یہ مضمون فطرت انسانی کے عین مطابق ہے کہ آدمی بات کرتے کرتے درمیان میں کسی گزشتہ بات کا ذکر کردیتا ہے اور اس طرح ذکر کرتا ہے جیسے یہ ابھی ہوئی ہے حالانکہ اس کے درمیان ایک زمانہ حائل ہوتا ہے لیکن بات کرنے والا اور جس سے بات کی جا رہی ہوتی ہے وہ اس سے برابر کے جاننے والے ہوتے ہیں اور اس برابری کے باعث وہ اشارہ کنایہ سے بات کو سمجھ جاتے ہیں اور یہ صورت اس جگہ نہیں بلکہ جگہ جگہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے لیکن مفسرین اس کا تانا ملانے میں اپنی مرضی کے باعث کہیں سے اٹھا کر کہیں لگا دیتے ہیں ، یہ بات قریش مکہ نے کہاں کہی تھی اور کب کہی تھی اس کے لیے دیکھ عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 156 ‘ 157۔
Ayah 37:168

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

اگر ہمارے پاس اگلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی

اگر ہمارے پاس اگلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی : 168۔ یہ لوگ کیا کہتے تھے ؟ یہی کہ کاش ہمارے پاس وہ ذکر ہوتا جو گزشتہ قوموں کو ملا تھا تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے اس کی وضاحت پیچھے سورة فاطر کی آیت 32 میں وضاحت سے گزر چکی وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔ وہاں ان کا بیان تھا کہ ” یہ لوگ بڑی سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رد ہوتے “ یہ بات آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ لوگ برملا کہتے تھے اور خصوصا یہود ونصاری کی بگڑی ہوئی حالت کے پیش نظر یہ بیان دیا کرتے تھے لیکن جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا ۔
Ayah 37:169

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے

تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے : 169۔ یہ ان کی وہی بات ہے جس کا ذکر پیچھے سورة الانعام ‘ سورة فاطر کی آیت 42 میں ذکر کیا جا چکا ہے ۔ الفاظ میں اگرچہ کمی و زیادتی ہوگی لیکن بات بہرحال وہی ہے جو بیان کی جا چکی ۔
Ayah 37:170

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

پھر (کتاب آئی تو) اس سے منکر ہوگئے پس عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

پھر اس سے منکر ہوگئے بس عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا : 170۔ وی ذکر جس کی ان کو خواہش تھی جب ان کے پاس آگیا تو انہوں نے ہی نے سب سے پہلے اس کا انکار کیا اور اپنی کی گئی بات اور کہی ہوئی بات کا ذرا بھر احساس نہ کیا اور ابھی تک جو ہم نے ان کو اپنے قانون امہال کے تحت ڈھیل دے رکھی ہے جب اس کا وقت پورا ہوجائے گا تو یہ لوگ جان جائیں گے کہ اس کا نتیجہ کیا رہا لیکن اس وقت جب ان کو اس کے نتیجہ سے آگاہ کیا جائے گا تو ان کے کام کچھ نہیں آئے گا سوائے اس کے کہ ان پر ایک بات روشن ہوجائے گی اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے کہ ہم نے کیا کیا اور ہم سے کیا ہوا۔
Ayah 37:171

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمارے پیغام پہنچانے والے بندوں کے حق میں ہمارا پہلے ہی سے حکم ہوچکا ہے

بلاشبہ ہمارے پیغام پہنچانے والے بندوں کے حق میں ہمارا پہلے یہ حکم ہوچکا ہے : 171۔ یہ سنت اللہ کا بیان ہے جو سنت اللہ بیان ہوتی چلی آرہی ہے کہ پہلے ہم اپنے انبیاء ورسل کو بھیجتے ہیں وہ ہمارا پیغام پہنچاتے ہیں جب ان کے پیغام کو ٹھکرایا جاتا ہے تو ہم برداشت کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور ہمارے انبیاء ورسل ان کی ساری باتوں کو برداشت کرتے ہوئے ان کے کانوں تک میرا پیغام پہنچاتے رہتے ہیں اور پھر انجام کار وہ وقت آجاتا ہے کہ اس قوم کو اوپر نیچے کر کر رکھ دیا جاتا ہے ۔
Ayah 37:172

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ بلاشبہ ان کی مدد کی جائے گی

بلاشبہ پھر ہم انہی کی مدد کرتے ہیں : 172۔ اسی طرح قوم کو تہ وبالا کردینا ہی ہماری وہ مدد ہوتی ہے کس کا ہم نے سارے رسولوں سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ ہماری طرف سے تمہاری ضروری مدد کی جائے گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ہمارا محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بدستور اپنی سنت کے مطابق قائم ہے ۔
Ayah 37:173

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا

بلاشبہ ہمارا لشکر ہی قائم رہے گا : 173۔ اللہ کا لشکر کونسا لشکر ہے ؟ وہی جس کو دوسری جگہ حزب اللہ کہا ہے وہ اللہ کا لشکر ہے اور بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے صحیح معنوں میں فرمانبردار ہیں اور اس کا میابی سے مراد انجام کی کامیابی ہے کہ انجام انہی کے ہاتھ میں رہے گا اور انبیاء ورسل کی مختصر سرگزشتوں کا مطالعہ کرو تو تم پر روشن ہوجائے گا کہ فی الواقعہ انجام انبیاء ورسل اور ان کے ماننے والوں ہی کے ہاتھ میں رہا ۔ لیکن آج زمانہ کی قدریں بدل گئیں اور لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ جن لوگوں کو کوئی پوچھنے کے لیے تیار نہیں ہے یہ اپنے آپ کو کامیاب قرار دے رہے ہیں حالانکہ ان کی نظر اگر آخرت پر ہو اور یہ بھی کہ اس دنیا کی زندگی ہی کے انجام پر تو آج بھی ان پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ اس کی اصل حقیقت آج بھی بدستور قائم ہے ۔
Ayah 37:174

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

سو آپ ان سے کچھ عرصہ تک تعارض نہ کیجئے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کچھ عرصہ تک ان سے تعارض نہ کیجئے : 174۔ ہم نے جو ان کو اپنے قانون کے مطابق ڈھیل دے رکھی ہے اس کا تم لوگ انتظار کرو یہ بات نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے کہی جا رہی ہے ۔ تھک چکنے والوں کو ہمت بندھانے کے لیے بار بار یہ بات کہی جاتی ہے کہ خبردار بس منزل آنے والی ہے ہمت نہ ہارو ‘ مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم رہو بس اب چند قدم اور آگے چلو تو ماشاء اللہ ان کی ہمت بڑھ جاتی ہے اور پہلے سے زیادہ تیزگام ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 37:175

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور ان کو دیکھتے رہیے پھر عنقریب وہ (خود بھی) دیکھ لیں گے

ان کو دیکھتے رہیے پھر عنقریب وہ خود بھی دیکھ لیں گے : 175۔ ان کے حالات پر آپ کڑی نگاہ رکھیے اور چوکس وچوکنا ہو کر اپنا کام کیے جائیے ، تم بھی عمل کرتے رہو اور وہ بھی کر رہے ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کا جو عمل ہے اس کے مطابق اس کو نتیجہ نہ ملے آپ بےفکر رہیے عنقریب تم کو تمہارے کام کا اور ان کو ان کے کام کا نتیجہ ملے گا اور جب نتیجہ ان کے ہاتھ میں جائے گا تو وہ یقینا ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ان پر ان کی ایک ایک حرکت واضح ہوجائے گی پھر تم خوش ہوجاؤ گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماتم کناں ہوں گے اور ان کا ایک ایک یہ بات کہے گا کہ (آیت) ” اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین “۔ ” اے میرے رب ! تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے دے کہ میں صدقہ کرلو اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاؤں ۔ “ حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔
Ayah 37:176

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا پھر وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں

کیا پھر وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کرتے ہیں : 176۔ اگر ان کو کسی اچھائی کی امید ہوتی تو ان کا حق تھا کہ اس اچھائی اور بہتری کے لئے جتنی جلدی وہ کرسکتے تھے کرتے لیکن تعجب ہے ان کی عقل وفکر پر کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ، ان کو کیا کہا جائے یہی کہ یہ لوگ کتنے احمق ہیں کہ کس چیز کو حاصل کرنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ، پھر جب ہمارا عذاب آجائے گا تو ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی بلکہ ان کے تیور بدل جائیں گے لیکن انکے تیور بدلنے سے آخر کیا ہوگا ؟ یہی کہ ان کو بدلے ہوئے چہروں کے ساتھ دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا جس سے نکلنے کی کوشش کے باوجود وہ نہیں نکل سکیں گے اور نہ ہی ان کو نکالنے کے لیے کوئی آگے قدم بڑھائے گا ۔
Ayah 37:177

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

پھر جب (وہ عذاب) ان کے سامنے آئے گا تو جن کو ڈرایا جا چکا ہے ان کے لیے وہ بہت ہی بری صبح ہو گی

پھر عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی : 177۔ (بساحتھم) کی اصل س و ح ہے اس مادہ کا لفظ قرآن کریم میں اس جگہ ایک ہی بار استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ’ ان کا میدان “ ان کا صحن “ اور اس طرح جائے فراغ کو بھی کہتے ہیں ۔ کتنے نادان ہیں کہ انہوں نے اپنے ذہن و دماغ میں آپ ﷺ کی صداقت کا معیار یہ مقرر کرلیا ہے کہ اگر ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا تو آپ ﷺ سچے ‘ اگر نہ اترا تو پھر آپ ﷺ کی نبوت کو وہ تسلیم نہیں کریں گے لیکن وہ کتنے نادان ہیں اگر عذاب نازل ہوگیا اور انہیں اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق ہوگئی تو انہیں اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟ کیا عذاب آئے گا تو ان کو جھانک کرچلا جائے گا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اس کی لپیٹ میں ہوں گے اور وہ ان کو تہس نہس کرکے رکھ دے گا پھر جب وہی نہ رہے تو نبوت پر ایمان ان کے کس کام آئے گا ان کی شامت اعمال کہ انہوں نے اپنے لیے کیا معیار مقرر کیا ۔
Ayah 37:178

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور آپ ﷺ ان سے ایک وقت تک اعراض ہی کرتے رہیے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کچھ عرصہ تک تعارض نہ کیجئے : 178۔ یہ وہی آیت ہے جو ابھی آیت 174 گزر چکی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک ہی فقرہ بار بار محض تھکے ماندوں کی ہمت بندھانے کے لیے ہے تاکہ وہ کفار کی باتوں سے زیادہ تنگ نہ آئیں اور بددل نہ ہوں حوصلہ رکھیں اور ہمت نہ ہاریں اپنی تحریک کو سرد نہ ہونے دیں ایسا نہ ہو کہ ان کی ہوا اکھڑ جائے اس لیے کہ حوصلہ شکنی بزدلی کی علامت ہے اور بزدل انسان کو ڈبو دیتی ہے اس لیے کہ وہ قومی زندگی کے سراسر خلاف ہے ۔
Ayah 37:179

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہیے پھر عنقریب وہ (خود بھی) دیکھ لیں گے

آپ دیکھتے رہیے پھر عنقریب وہ خود بھی دیکھ لیں گے : 179۔ اوپر آیت 175 میں فرمایا تھا کہ ان کا خیال رکھئے ان کے حالات اپنی نگاہ میں رکھئے (وابصرھم) اور اس جگہ فرمایا (وابصر) دیکھتے رہیے یعنی اپنی حالت پر نظر رکھیے اور اپنے آپ کو نگاہ میں رکھیے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کیجئے عنقریب وہ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک عمل مسلسل جاری رہے اور اس کا نتیجہ سامنے نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے اللہ کے ہاں دیر ضرور ہے ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جو کچھ ہونا ہے جلد ہوجائے حالانکہ خیال تو یہ ہونا چاہئے کہ جو کچھ ہو وہ اچھا ہو اگرچہ دیر سے ہو لیکن دیرپا ہو۔
Ayah 37:180

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

آپ ﷺ کا رب بڑی عظمت والا رب ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں

آپ کا رب عظمت والا ہے اور پاک ہے اس سے جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں : 180۔ عظمت والا ہے اس لیے وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد وہ بےنیاز ہے سب کو اس کی احتیاج ہے اور اس کو کسی کی احتیاج نہیں ۔ وہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ ہی صفات میں ، وہ عظمت والا ہے ، دیکھتا ہے لیکن آنکھ نہیں رکھتا ، سنتا ہے لیکن کان نہیں رکھتا ، پکڑتا ہے لیکن ہاتھ نہیں رکھتا ، وہ عظمت والا ہے ہر جگہ موجود ہے کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ موجود نہ ہو ۔ ہر عیب سے پاک ہے ۔ اولاد سے پاک ، بیوی بچوں سے پاک ہے ، کھانے پینے سے پاک ، سونے اور اونگھنے سے پاک ہے ۔ وہ عظمت والا ہے ساری عزتوں کا وہ خود مالک ہے ، سب اچھی تعریفیں صرف اور صرف اسی کے لیے ہیں جو باتیں لوگوں نے اس کے ذمہ لگائی ہیں وہ ان سب باتوں سے پاک ہے لوگوں نے اس کے شریک ٹھہرائے وہ شریکوں سے پاک ہے ۔ لوگوں نے اس کی اولاد ٹھہرائی وہ اولاد سے پاک ہے ، سب اچھی تعریفیں اسی کے لیے ہیں وہی سب اچھی تعریفوں کا مالک ہے ۔
Ayah 37:181

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور سلام ہو تمام رسولوں پر

تمام رسولوں پر سلام ہو کہ وہ سلام کے مستحق ٹھہرے : 181۔ ہر نبی اور ہر رسول آدم (علیہ السلام) سے محمد رسول اللہ ﷺ تک معصوم تھے اس لیے کہ ان کی عصمت و حفاظت براہ راست اللہ رب کریم کے ہاتھ میں تھی گویا خاص قبضہ قدرت میں جس کے تحت رسالت ونبوت جاری کی گئی تھی بلاشبہ آدم رسول اللہ (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوا اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگیا اس لیے مسلمانوں پر لازم وضروری ہے کہ وہ جہاں کہیں اور جس کسی نے جس کسی رسول پر کوئی عیب اور داغ لگایا ہو اس کو صاف کریں اور ان کی زندگیوں کو سلام کا مستحق ٹھہرائیں اور جو شخص بھی اور جہاں بھی کوئی زبان عصمت انبیاء کے خلاف کھلے اس کو دندان شکن جواب دے کر بند کرے اور اپنی صلوۃ کا ان کو مستحق ٹھہرائے اور ان کے مناقب بیان کرنے میں بخل سے کام نہ لے بلکہ دل کھول کر ان کے مناقب بیان کرے اور تنقیص کرنے والوں کے نقص کو کھول کر رکھ دے ۔
Ayah 37:182

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

سب اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے : 182۔ تعریف کتنی اچھی ہو اور کسی کی ہو انسان ‘ حیوان کی یا جمادات ونباتات کی یا ان میں سے کسی ایک چیز کی بہرحال انجام اور اختتام اس کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی پر ہوتا ہے کیونکہ ہر خوبی اسی سے ہے اور اسی کے لیے ہے اگر کوئی انسان وحیوان خوبصورت ہے تو بنانے والا وہی ہے کوئی جمادات ونباتا خوبصورت ہے تو بنانے والا اور اگانے والا ہی ہے ۔ اگر اس سورت کی آخری ان تینوں آیتوں پر غور کیا جائے تو ساری سورت کے مضامین ان میں سمو گئے ہیں اور یہ تینوں آیتیں تمام مضامین پر حاوی ہیں اور یہ کہ ان تینوں آیتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید و رسالت اور آخرت کا ۔۔۔۔۔۔ ذکر آگیا ہے اور یہی پوری سورت کا محور ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مضمون ‘ ہر خطبے اور مجلس کا اختتام اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی حمد وثنا پر کرے اور صرف زبان سے اور الفاظ سے نہیں بلک دل کی گہرائیوں سے ، حدیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی ہر نماز ‘ ہر دعا انہیں الفاظ پر ختم ہوتی تھی اور مسلمانوں کو بھی اس کا ورد ضروری ہے اس لیے ہم بھی اس سورت کا خاتمہ انہی آیتوں پر کر رہے ہیں ۔ (سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین ، والحمد للہ رب العلمین) انہی الفاظ پر ہم سورة الصفت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔ عبد الکریم اثری : 21 ۔ ستمبر 1997 ء بعد از نماز ظہر :