37. Surah As-Saaffaat
الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsعروۃ الوثقٰی
وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader
اور ہم نے اس پر اور اسحاق (علیہم السلام) پر برکتیں نازل کی تھیں اور ان دونوں کی نسل میں نیکو کار بھی ہیں اور وہ بھی جو اپنے پر ظلم کرنے والے ہیں
ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور دونوں کی نسل سے نیک لوگ پیدا کیے :
113۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی برکتوں کا ذکر تو گزشتہ آیات میں تفصیل سے گزر چکا ہے اور اسحاق (علیہ السلام) پر بھی برکت نازل کی ان کو یعقوب جیسا فرزند عطا کیا اور نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ ان سے چلایا اور انکی اولاد میں بڑے بڑے جلیل القدر نبی ورسول پیدا ہوئے اگرچہ سارے کے سارے بھی نبی ورسول نہ تھے تاہم کچھ نبی ورسول تھے اور کچھ ان کی نبوت و رسالت کی تصدیق کرنے والے ۔ ہاں ! کچھ ان میں ایسے بھی تھے جو اپنی ہی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے اور ان کا ظلم بھی اظہر من الشمس تھا اور نیکوں سے برے اور بروں سے نیک اور صالح پیدا ہوتے آئے ہیں اور ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ اس جگہ اسحاق (علیہ السلام) کا بالکل مختصر ذکر کرکے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اس نرینہ اولاد کا ذکر ختم کیا جا رہا ہے تاہم ہم اس جگہ ان دونوں نبیوں کا مختصر ذکر کریں گے ۔
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت :
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کے وقت تک اولاد سے محروم تھے ۔ ہجرت کے بعد جب آپ اپنے خاندان اور وطن سے کٹ کر بالکل الگ تھلگ ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا کی جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین ، رب ھب لی من الصلحین ، فبشرنہ بغلام حلیم ، (الصفت 37 : 99 ‘ 101) ” ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہی میرے راہنمائی کرے گا اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما دے جو صالحین میں سے ہو ‘ ہم نے اس کی (دعا کو قبول کرتے ہوئے) ایک بیٹے کی بشارت دی جو حلیم و بردبار ہوگا “ اس وقت تک آپ کے گھر کا مالک ایک خانہ زاد الیعزر دمشقی تھا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا منظور کرتے ہوئے آپ کو بیٹے کی بشارت سنائی اور آپ کو تسلی دی ، آپ کے اس بیٹے سے مراد سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ہی ہیں چناچہ تورات میں بھی ہے کہ :
” ابراہیم نے کہا اے خداوند خدا تو مجھ کو کیا دے گا ۔ میں تو بےاولاد ہوجاتا ہوں اور میرے گھر کا مختار الیعزر ہے پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تو نے مجھے فرزند نہ دیا اور دیکھ میرا خانہ زاد میرا وارث ہوگا تب اللہ کا کلام اس پر اترا اور اس نے کہا کہ یہ تیرا وارث نہیں ہونے کا بلکہ جو تیری صلب سے پیدا ہو وہی تیرا وارث ہوگا ۔ “ (پیدائش 15 : 2 ‘ 4)
” اور یہ دعا اس طرح قبول ہوئی کہ آپ کی چھوٹی بی بی حضرت حاجرہ ؓ حاملہ ہوئیں جیسا کہ تورات میں ہے کہ ” وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئیں ۔ “ (پیدائش 16 : 4)
جب سیدہ سارہ کو پتہ چلا تو اسے بتقاضائے بشریت ہاجرہ سے رشک پیدا ہوا اور اس نے ہاجرہ سے رقابت شروع کردی جو ایک فطری چیز تھی لیکن تورات نے اس کو بہت بڑھاچڑھا کر بیان کیا اور ہاجرہ کو ” سری کی لونڈی “ کہہ کر مخاطب کیا حالانکہ نہ تو وہ سارہ کی لونڈی تھی اور نہ ہی ابراہیم (علیہ السلام) کی ‘ سیدہ ہاجرہ مصر کی شہزادتی تھیں جو مصر کے بادشاہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے نکاح میں دے دی تھیں ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا تھا ۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں یہ مبشر بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا اور اس کا ذکر تورات میں بھی اس طرح کیا گیا ہے :
اور ہاجرہ ابرام کے لیے بیٹا جنی اور ابرام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ جنی اسمعیل رکھا اور جب ابرام کے لیے ہاجرہ سے اسمعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا ۔ “ (پیدائش 16 : 15 ‘ 16)
آپ کو معلوم ہے کہ سیدہ سارہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلی بیوی اور رشتہ میں چچا زاد تھیں اس خاندانی رشتہ کے لحاظ سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بھی یقینا ان کو چاہتے ہوں گے اس رشتہ داری اور چاہت کے باعث سیدھا سادہ سیدہ ہاجرہ پر فوقیت رکھتی تھی لیکن اب جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سیدہ ہاجرہ سے ہوئی تو اولاد کی وجہ سے ایک فطری لگاؤ اسمعیل اور اس کی والدہ ماجدہ کی طرف ہوا جو سیدہ سارہ پر یقینا شاق گزرا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیدہ سارہ اور سیدہ ہاجرہ کے درمیان رقابت بڑھ گئی اور سوکنوں کے درمیان ایک فطری رقابت پہلے ہی موجود ہوتی ہے جو کہیں پوشیدہ رہتی ہے اور کہیں پوشیدہ رہتی ہیں اور کہیں ظاہر ہوجاتی ہے خواہ وہ کم ظاہر ہو یا زیادہ اور یہ باتیں ایسی ہیں جن کا آج بھی تجربہ ہوتا رہتا ہے اور فطری تقاضے ہمیشہ ایک ہی جیسے رہتے ہیں بہرحال وقت گزرتا گیا اور اسمعیل (علیہ السلام) بھی وقت کے ساتھ فطرت انسانی کے مطابق بڑھتے رہے اسمعیل (علیہ السلام) تیرہ چودہ سے اٹھارہ سال تک کے ہوئے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سیدہ سارہ سے اولاد ہونے کی خوشخبری بھی سنا دی اور اس خوشخبری کے نتیجہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے جن کا ذکر بھی اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد آنے والا ہے ۔
اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہوتے ہی وہ رقابت جو سیدہ سارہ (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ (علیہ السلام) کے درمیان پہلے سے موجود تھی وہ مزید بڑھنا شروع ہوگئی اور اسی رقابت کے نتیجہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں بشارتیں سنائیں اور اس وطن سے دور کسی دوسرے وطن میں اسمعیل (علیہ السلام) کو آباد کرنے کا خیال سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا ہوا جس کی تائید سیدہ ہاجرہ بھی کرتی رہی اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ ہاجرہ کی تقویت کے لیے یقینا ان کو براہ راست اس طرح کے خوابات بھی دکھائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کو اس وطن سے دور کسی دوسرے وطن میں آباد کرنے کیلے تیار ہوں ۔ مختصر یہ کہ یہ سلسلہ جاری رہا تا آنکہ وہ وقت آگیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسمعیل (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ سیدہ ہاجرہ کو ساتھ لے کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے اور انہی بشارات کے باعث سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے قریب آباد کردیا جس کی تفصیل ابھی آگے آئے گی ۔
اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر تو اسحاق (علیہ السلام) کی سرگزشت میں آئے گا اس وقت سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے لیے خصوصی دعائیں کرنے لگے جس کا ذکر تورات نے اس طرح کیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا سے کہا کہ کاش اسمعیل تیرے حضور جیتا رہے ۔ “ (پیدائش 17 : 18) اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا اس طرح جواب دیا کہ اسمعیل (علیہ السلام) کے حق میں میں نے تیری سنی ‘ دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اس کو بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اس کو بڑی قوم بناؤں گا ۔ “ (پیدائش 17 : 20)
خیال رہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) ” اسمع “ اور ” ایل “ دو لفظوں سے مرکب ہے عبرانی میں ” ایل “ اللہ کے مرادف ہے اور عربی میں جو ” اسمع “ ہے وہ عبرانی میں ” شماع “ ہے جس کے معنی میں ” سن “ چونکہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت کے بارہ میں اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سنی اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ہاجرہ دونوں کو فرشتہ سے بشارت ملی اس لیے ان کا یہ نام رکھا گیا اور عبرانی میں اس کا تلفظ بلاشبہ ” شماع ایل “ ہے ۔ جس طرح سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی بشارات دونوں کو ملتی رہیں اور انہی بشارات کے نتیجہ میں اللہ نے اسمعیل جیسا فرزند عطا کیا اور پھر یہ بشارات اسمعیل (علیہ السلام) کو اس وطن سے دور دوسرے وطن میں آباد کرنے کی بھی بشارات ملتی رہی جس کے نتیجہ میں اسمعیل (علیہ السلام) کو انجام کار ایک دور دراز وطن میں جہاں آپ سے پہلے قبلہ اول موجود تھا اگرچہ وہ منہدم ہو کر بےنشان ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں بشارات کے باعث اپنے مشیت کے فیصلے کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں بات ڈال دی کہ اسمعیل (علیہ السلام) کو اس جگہ لا کر آباد کریں اور ماں بیٹے کو دور دراز ایک دوسرے وطن میں آباد کرکے بیت اللہ کی بنیادوں کو از سر نو اٹھائیں اور قیامت تک کے لیے بیت اللہ اور اسمعیل (علیہ السلام) کی نسل در نسل کا جوڑ جوڑ دیں ۔
وادی غیر ذی ذرع اور ہاجرہ واسمعیل (علیہ السلام) :
جیسا کہ ہم نے اوپر سیدہ سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بڑی بیوی تھیں جو قدیم سے گھر کی مالکہ تھیں اور ان کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کے عقد میں ہاجرہ آئیں اور قدرت الہی کی کرشمہ سازی کے ہاجرہ کے بطن سے اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد بھی عطا کردی اور یہ بات سیدہ سارہ پر بیحد شاق گزری تاہم وقت گزرتا رہا اور سارہ کے لیے اسمعیل (علیہ السلام) گویا سوہان روح بنے رہے لیکن جب سیدہ سارہ کے ہاں اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوگئے تو سارہ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اصرار شروع کردیا کہ ہاجرہ اور اس کا بیٹا اسمعیل میری نگاہ کے سامنے نہ رہیں ان کو علیحدہ کسی دوسری جگہ آباد کیا جائے ۔ اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ مطلع کیا گیا کہ تم ہاجرہ اور اسمعیل (علیہ السلام) کو ایک دوسری جگہ آباد کر دو گویا مصلحت اس میں ہے کہ سارہ جو کچھ کہتی ہے اس کو مان لو تورات نے اس کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ ” اور سرہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے جنی تھی ٹھٹھے مارتا ہے تب اس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ اس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اسحاق کے ساتھ وارث نہ ہوگا ۔ پھر اپنے بیٹے کی خاطر یہ بات ابراہیم کی نظر میں نہایت بری معلوم ہوئی خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ بات اس لڑکے اور تیری لونڈی کی بابت تیری نظر میں بری نہ معلوم ہو ہر ایک بات کے حق میں جو سرہ نے تجھے کیں اس کی آواز پر کان رکھ کیونکہ تیری نسل اسحاق سے کہلائے گی اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی ایک قوم پیدا کروں گا اس لیے کہ وہ تیری نسل ہے ۔ “ (پیدائش 21 : 9 تا 13)
تورات کے بیانات کے مطابق جب اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس وقت سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سن رشد کو پہنچ چکے تھے بعض بیانات کے مطابق آپ کی عمر 13 برس ‘ بعض کے مطابق 15 ‘ 16 برس اور بعض کے مطابق 18 برس ہوتی ہے تاہم سب بیانات کو ملانے سے یہ تفہیم یقینی ہے کہ آپ بالغ یا قریب البلوغت تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ ہاجرہ کو اس وادی غیر ذرع میں آباد کرنے کے لئے لائے اور اس جگہ لا کر آباد کردیا اور یہاں لا کر آباد کرنے کا انحصار انہی بشارات پر ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ دونوں کو دی گئی تھیں ان خوابات کی بشارات کو تورات میں بھی بیان کیا گیا ہے اور کتب احادیث میں بھی ہم اس جگہ بخاری شریف کی روایات کو ملخص پیش کرتے ہیں ۔
بخاری شریف کی روایات کا ترجمہ اس طرح ہے :
ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ اور اس کے شیرخوار بچہ اسمعیل کو لے کر چلے اور جہاں آج کعبہ ہے اس جگہ ایک بڑے درخت کے نیچے زمزم کے موجودہ مقام سے بالائی حصہ پر ان کو چھوڑ گئے ‘ وہ جگہ ویران اور غیر آباد تھی اور پانی کا بھی نام ونشان نہ تھا اس لیے ابراہیم نے ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور بھی ان کے پاس چھوڑ دیں اور پھر منہ پھیر کر روانہ ہوگئے ‘ ہاجرہ ان کے پیچھے پیچھے یہ کہتی ہوئی چلیں اے ابراہیم تم ہم کو ایسی وادی میں کہاں چھوڑ کر چل دیئے جہاں نہ آدمی ہے نہ آدم زاد اور نہ کوئی مونس وغم خار ‘ ہاجرہ برابر یہ کہتی جاتی تھیں مگر ابراہیم (علیہ السلام) خاموش چلے آرہے تھے ‘
آخر ہاجرہ نے دریافت کیا ‘ کیا تیرے خدا نے تجھ کو یہ حکم دیا ہے ؟ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” ہاں ! یہ خدا کے حکم سے ہے “ ہاجرہ نے جب یہ سنا تو کہنے لگیں ‘ اگر یہ خدا کا حکم ہے تو بلاشبہ وہ ہم کو ضائع اور برباد نہیں کرے گا اور پھر واپس لوٹ آئیں ‘ ابراہیم (علیہ السلام) چلتے چلتے جب ایک ٹیلہ پر ایسی جگہ پہنچے کہ ان کے اہل و عیال نگاہ سے اوجھل ہوگئے تو اس جانب جہاں کعبہ ہے رخ کیا اور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی :
(آیت) ” رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِندَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُونَ (ابراہیم : 37)
” اے اہم سب کے پروردگار (تو دیکھ رہا ہے کہ) ایک ایسے میدان میں جہاں کھیتی کا نام ونشان نہیں ‘ میں نے اپنی بعض اولاد تیرے محترم گھر کے پاس لاکر بسائی ہے کہ نماز قائم رکھیں (تاکہ یہ محترم گھر عبادت گزارن توحید سے خالی نہ رہے) پس تو (اپنے فضل و کرم سے) ایسا کر کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوجائیں اور ان کے لیے زمین کی پیداوار سے سامان رزق مہیا کر دے تاکہ تیرے شکر گزار ہوں ۔
ہاجرہ چند روز تک مشکیزہ سے پانی اور خورجی سے کھجوریں کھاتی اور اسمعیل کو دودھ پلاتی رہیں ‘ لیکن وہ وقت بھی آگیا کہ پانی رہا نہ کھجوریں تب وہ سخت پریشان ہوئیں ‘ چونکہ وہ بھوکی پیاسی تھیں اس لیے دودھ بھی نہ اترتا تھا اور بچہ بھی بھوکا پیاسا رہا ‘ جب حالت دگرگوں ہونے لگی اور بچہ بےتاب ہونے لگا تو ہاجرہ ‘ اسمعیل کو چھوڑ کر دور جا بیٹھیں تاکہ اس حالت زار میں اس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھیں ‘ کچھ سوچ کر قریب کی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ نظر آجائے یا پانی نظر آجائے مگر کچھ نظر نہ آیا ‘ پھر بچہ کی محبت میں دوڑ کر وادی میں آگئیں ‘ اس کے بعد دوسری جانب کی پہاڑی مروہ پر چڑھ گئیں ‘ اور وہاں بھی جب کچھ نظر نہ آیا تو پھر تیزی سے لوٹ کر وادی میں بچہ کے پاس آگئیں اور اس طرح سات مرتبہ کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس مقام پر پہنچ کر فرمایا کہ یہی وہ ” سعی بین الصفا والمروہ “ ہے جو حج میں لوگ کرتے ہیں ‘ آخر میں جب وہ مروہ پر تھیں تو کانوں میں ایک آواز آئی ‘ چونکیں اور دل میں کہنے لگیں کہ کوئی پکارتا ہے ‘ کان لگایا تو پھر آواز آئی ‘ ہاجرہ کہنے لگیں اگر تم مدد کرسکتے ہو تو سامنے آؤ تمہاری آواز سنی گئی ‘ دیکھا تو خدا کا فرشتہ (جبرئیل) ہے ‘ فرشتہ نے اپنا پیر (یا ایڑی) اس جگہ ماری جہاں زمزم ہے ‘ اس جگہ سے پانی ابلنے لگا ‘ ہاجرہ نے یہ دیکھا تو پانی کے چاروں طرف باڑھ بنانے لگیں مگر پانی برابر ابلتا رہا ‘ اس جگہ پہنچ کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ام اسمعیل پر رحم کرے ‘ اگر وہ زمزم کو اس طرح نہ روکتیں اور اس کے چار جانب باڑھ نہ لگاتیں تو آج وہ زبردست چشمہ ہوتا ۔ ہاجرہ نے پانی پیا اور پھر اسمعیل کو دودھ پلایا ‘ فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا خوف اور غم نہ کر ‘ اللہ تعالیٰ تجھ کو اور اس بچہ کو ضائع نہ کرے گا ‘ یہ مقام ” بیت اللہ “ ہے جس کی تعمیر اس بچہ (اسمعیل) اور اس کے باپ ابراہیم کی قسمت میں مقدر ہوچکی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ اس خاندان کو ہلاک نہیں کرے گا ‘ بیت اللہ کی یہ جگہ قریب کی زمین سے نمایاں تھی مگر پانی کا سیلاب داہنے بائیں اس حصہ کو برابر کرتا جا رہا تھا ‘ اسی دوران میں بنی جرہم کا ایک قبیلہ اس وادی کے قریب آکر ٹھہرا دیکھا تو تھوڑا سے فاصلہ پر پرند اڑ رہے ہیں ‘ جرہم نے کہا یہ پانی کی علامت ہے ‘ وہاں ضرور پانی موجود ہے ‘ جرہم نے بھی قیام کی اجازت مانگی ‘ ہاجرہ نے فرمایا قیام کرسکتے ہو ‘ لیکن پانی میں ملکیت کے حصہ دار نہیں ہو سکتے ‘ جرہم نے یہ بات بخوشی منظور کرلی اور وہیں مقیم ہوگئے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاجرہ خود بھی باہمی انس ورفاقت کے لیے یہ چاہتی تھیں کہ کوئی یہاں آکر مقیم ہو ‘ اس لئے انہوں نے مسرت کے ساتھ بنی جرہم کو قیام کی اجازت دے دی ۔ جرہم نے آدمی بھیج کر اپنے باقی ماندہ اہل خاندان کو بھی بلالیا اور یہاں مکانات بنا کر رہنے سہنے لگے ‘ ان ہی میں اسمعیل بھی رہتے اور کھیلتے اور ان سے ان کی زبان سیکھتے ‘ جب اسمعیل بڑے ہوگئے تو ان کا طرز وانداز اور ان کی خوبصورتی بنی جرہم کو بہت بھائی اور انہوں نے اپنے خاندان کی لڑکی سے ان کی شادی کردی ‘ اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہاجرہ کا انتقال ہوگیا ‘ ابراہیم برابر اپنے اہل و عیال کو دیکھنے آتے رہتے تھے ‘ ایک مرتبہ تشریف لائے تو اسمعیل گھر پر نہ تھے ان کی اہلیہ سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ روزی کی تلاش میں باہر گئے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا گزران کی کیا حالت ہے ؟ وہ کہنے لگی ‘ سخت مصیبت و پریشانی میں ہیں اور سخت دکھ اور تکلیف میں ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سن کر فرمایا : اسمعیل سے میرا سلام کہہ دینا اور کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کردو ‘ اسمعیل (علیہ السلام) واپس آئے تو ابراہیم (علیہ السلام) کے نور نبوت کے اثرات پائے پوچھا کوئی شخص یہاں آیا تھا ‘ بی بی نے سارا قصہ سنایا اور پیغام بھی ‘ اسمعیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ میرے باپ ابراہیم تھے اور ان کا یہ مشورہ ہے کہ میں تجھ کو طلاق دے دوں ‘ لہذا میں تجھ کو جدا کرتا ہوں ۔
اسمعیل (علیہ السلام) نے پھر دوسری شادی کرلی ‘ ایک مرتبہ ابراہیم (علیہ السلام) پھر اسمعیل (علیہ السلام) کی غیبت میں آئے اور اسی طرح ان کی بی بی سے سوالات کئے بی بی نے کہا کہ خدا کا شکر و احسان ہے ‘ اچھی طرح گزر رہی ہے دریافت کیا کھانے کو کیا ملتا ہے ؟ اسمعیل (علیہ السلام) کی بی بی نے جواب دیا ‘ گوشت ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اور پینے کو ؟ اس نے جواب دیا پانی ‘ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی :
اللہم بارک لھم فی اللحم والمائ :
اللہ تعالیٰ ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔
اور چلتے ہوئے پیغام دے گئے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو محفوظ رکھنا ‘ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) آئے تو ان کی بی بی نے تمام واقعہ دہرایا اور پیغام بھی سنایا ‘ اسمعیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) تھے اور ان کا پیغام یہ ہے کہ تو میری زندگی بھر رفیقہ حیات رہے ۔
پھر جب تک اللہ کو منظور تھا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ملک میں ٹھہرے رہے اس کے بعد تیسری بار مکہ میں آئے تو اسمعیل (علیہ السلام) اس وقت زمزم کے پاس ایک درخت کے نیچے اپنے تیر درست کر رہے تھے ۔ جب انہوں نے اپنے والد ماجد کو دیکھا تو فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور اتنی مدت کے بعد مل کر جو باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے کرتا ہے وہ سب کچھ کیا اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) بیٹے سے اس طرح مخاطب ہوئے کہ اے بیٹا ! اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے تو بیٹے نے عرض کی کہ اے ابو جان ! اللہ تعالیٰ نے جو حکم آپ کو دیا ہے فورا بجا لائیں ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا آپ میری اعانت کریں گے ؟ انہوں نے بھی آپ کو جواب دیا کہ ضرور کروں گا اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس مقام پر ایک گھر آباد کروں اور یہ کہتے ہوئے ایک اونچے ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا ۔ اسی وقت دونوں باپ بیٹا نے مل کر اس گھر یعنی بیت اللہ کی بنیاد اٹھائی وہ اس طرح کی اسمعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے جاتے تھے اور ابراہیم ان پتھروں کو جوڑتے جاتے تھے اور جب دیواریں اونچی ہوگئیں تو اسمعیل ایک بہت بڑا پتھر اٹھا لائے اور اس کو بیت اللہ کی چنی ہوئی دیوار کے ساتھ رکھ دیا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) اس پر کھڑے ہو کر دیوار اٹھاتے تھے اور اسمعیل (علیہ السلام) باقاعدہ پتھر اٹھا کر لاتے جا رہے تھے اور دونوں باپ بیٹا مل کر یوں کہہ رہے تھے کہ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔
(بخاری کتاب الرؤیا ‘ کتاب الانبیاء ‘ بروایت ابن عباس ؓ
بخاری شریف کا اصل متن بھی ساتھ ہی ملاحظہ فرما لیں :
3364۔ حدثنا عبداللہ بن محمد حدثنا عبدالرزاق اخبرنا معمر عن ایوب السختیانی وکثیر بن کثیر بن المطلب بن ابی وداعۃ ۔ یزید احدھما علی الاخر۔ عن سعید بن جبیر قال ابن عباس : (اول ما اتخذ النساء المنطق من قبل ام اسماعیل اتخذت منطقا لتعفی اثرھا علی سارۃ ‘ ثم جاء بھا ابراھیم وبابنھا اسماعیل ، وھی ترضعہ ۔ حتی وضعھما عند البیت عند دوحۃ فوق زمزم فی اعلی المسجد ، ولیس بمکۃ یومئذ احد ، ولیس بھا ماء فوضعھما ھنالک ، ووضع عندھما جرابا فیہ تمر وسقاء فیہ ماء ، ثم قفی ابراھیم منطلقا ، فتبعتہ ام اسماعیل فقالت : یا ابراھیم این تذھب وتترکنا بھذا الوادی الذی لیس فیہ انس ولا شیء ، فقالت لہ ذلک مرارا ، وجعل لا یلتفت الیھا فقالت لہ : اللہ الذی امرک بھذا ؟ قال : نعم ، قالت : اذن لایضیعنا ، ثم رجعت ، فانطلق ابراھیم حتی اذا کان عند الثنیۃ حیث لا یرونہ استقبل بوجھہ البیت ثم دعا بھؤلاء الکلمات ورفع یدیہ فقال : (ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ۔ حتی بلغ ۔ یشکرون ) وجعلت ام اسماعیل ترجع اسماعیل وتشرب من ذلک الماء ، حتی اذا نفد ما فی السقاء عطشت وعطش ابنھا وجعلت تنظر الیہ یتلوی ۔ او قال : یتلبط ۔۔۔۔ فانطلقت کراھیۃ ان تنظر الیہ ، فوجدت الصفا اقرب جبل فی الارض یلیھا ، فقامت علیہ ، ثم استقبلت الوادی تنظر ھل تری احدا ، فلم تراحدا ، فھبطت من الصفا ، حتی اذا بلغت الوادی رفعت طرف درعھا ثم سعت سعی الانسان المجھود حتی جاوزت الوادی ، ثم اتت المروۃ فقامت علیھا ونظرت ھل تری احدا ، فلم تراحدا ، ففعلت ذلک سبع مرات ، قال ابن عباس قال النبی : (فذلک سعی الناس بینھما) فلما اشرفت علی المروۃ سمعت صوتا فقالت : صہ ۔۔۔۔ ترید نفسھا ۔۔۔۔ ثم تسمعت ایضا فقالت : قد اسمعت ان کان عندک غواث ، فاذاھی بالملک عند موضع زمزم ، فبحث بصقبہ ۔۔۔۔۔۔ او قال بجناھہ ۔۔۔۔۔۔ حتی طھر الماء ، فجعلت تحوضہ وتقول بیدھا ھکذا وجعلت تعرف من الماء فی سقائھا وھو یغور بعد ما تفرف ، قال ابن عباس قال النبی ﷺ : (یرحم اللہ ام اسماعیل لو ترکت زمزم۔۔۔۔۔ او قال ؛ لولم تغرف من الماء ۔۔۔۔ لکانت زمزم عینامعینا) قال : فشربت وارضعت ولدھا ، فقال لھا الملک : لا تخافوا الضیعۃ ، فان ھا ھنا بیت اللہ یبنی ھذا الغلام اوبوہ ، فان اللہ لا یضیع اھلہ ، وکان البیت مرتفعا من الارض کالرابیۃ ، تاتیہ السیول فتاخذ عن یمینہ وشمالہ ، ، فکانت کذالک حتی مرت بھم رفقۃ من جرھم ۔۔۔۔ او اھل بیت من جرھم ۔۔۔۔ مقبلین من طریق کداء فنزلوا فی اسفل مکۃ ، فراوا طائرا عائفا ، فقالوا : ان ھذا الطائر لیدور علی مائ ، لعھدنا بھذا لوادی وما فیہ مائ ، فارسلوا ، جریا اوجربین فاذا ھم بالماء ، فرجعوا فاخبروھم بالماء ، فاقبلوا ۔۔۔۔ قال وام اسماعیل عند الماء ۔۔۔۔۔ فقالوا : اتاذنین لنا ان ننزل عندک ؟ فقالت : نعم ، ولکن لا حق لکم فی الماء ، قالوا : نعم قال ابن عباس قال النبی ﷺ : (فالفی ذلک ام اسماعیل وھی تحب الانس) ، فنزلوا ، وارسلوا الی اھلیھم فنزلوا معھم ، حتی اذا کان بھا اھل ابیات منھم ، وشب الغلام و تعلم العربیۃ منھم ، وانفسھم اعجبھم حین شب ، فلما ادرک زوجوہ امراۃ منھم ، وماتت ام اسماعیل فجاء ابراھیم بعد ما تزوج اسماعیل یطالع ترکتہ ، فلم یجد اسماعیل ، فسال امراتہ عنہ فقالت : خرج یبتغی لنا ، ثم سالھا عن عیشھم وھیتھم فقالت : نحن بشر ، نحن فی ضیق وشدۃ فشکت الیہ ، قال : فاذا جاء زوجک فاقرئی (علیہ السلام) وقولی لیہ یغیر عتبۃ بابہ ، فلما جاء اسماعیل کانہ انس شیئا فقال : ھل جاء کم من احد ؟ فقالت : نعم ، جاء نا شیخ کذا وکذا فسالنا عن فاخبرتہ ، وسالنی کیف عیشنا ، فاخبرتہ انا فی جھد وشدۃ ، قال : فھل اوصاک بشیء ؟ قالت : نعم ، امرنی ان اقرا علیک السلام ، ویقول غیر عتبۃ بابک ، قال : ذاک ابی قد امرنی ان افارقک ، الحقی باھلک فطلقھا ، وتزوج منھم اخری ، فلبث عنھم ابراھیم ما شاء اللہ ثم اتاھم بعد لم یجدہ ، فدخل علی امراتہ فسالھا فقالت : خرج یبتغی لنا ، قال : کیف انتم ؟ وسالھا عن عبثھم وھیئتھم فقالت نحن بخیر وسعۃ ، واثتت علی اللہ عزوجل ، فقال : ما طعامکم ؟ قالت : اللحم ، قال فما شرابکم ؟ قالت : الماء ، قال اللھم بارک لھم فی اللھم والماء ، قال النبی ﷺ : (ولم یکن لھم یومئذ حب) ولو کان لھم دعا لھم فیہ قال : فھما لابخلو علیھما احد بغیر مکۃ الا لم یوافقاہ ، قال : فاذا جاء زوجک فاقرئی (علیہ السلام) ، ومریۃ یثبت عتبۃ بابہ ، فلما جاء اسماعیل قال : ھم اتاکم من احد ؟ قالت : نعم ، اتانا شیخ حسن الھیئۃ ، ؛۔۔۔ اثنت علیہ ۔۔۔۔ فسالنی عنک فاخبرتہ ، فسالنی ، کیف عیثنا فاخبرتہ انا بخیر ، قال : فاوصاک بشیء ؟ قالت : نعم ھو یقرا علیک السلام ، ویامرک ان تثبت عتبۃ بابک قال : ذاک ابی ، وانت العتبۃ ، امرنی ان امسکک ، ثم لبث عنھم ما شاء اللہ ثم جاء بعد ذلک واسماعیل یبری نبلالہ تحت دوحۃ قریبا من زمزم فلما راہ قال الیہ فصنعا کما یصنع الوالد بالولد والولد بالوالد ، ثم قال : یا اسماعیل ، ان اللہ امرنی بامر ، قال : فاصنع ما امرک ربک قال : وتعیننی ؟ قال : واعینک قال : فان اللہ امرنی ان ابنی ھاھنا بیتا ۔۔۔۔ واشار الی اکمۃ مرتفعۃ علی ما حولھا ۔۔۔۔۔ قال : فعند ذلک رفعا القواعد من البیت ، فجعل اسماعیل یاتی بالحجارۃ وابراھیم یبنی ، حتی اذا ارتفع البناء جاء بھذا الحجر فوضعہ لہ ، فقال علیہ وھو یبنی واسماعیل یناولہ الحجارۃ ، وھما یقولان : ( ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم) قال : فجعلا یبنیان حتی یدوراحول البیت وھما یقولان : ( ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم) ۔
ترجمہ اور متن دونوں کو آپ نے دیکھ لیا بلاشبہ یہ روایت سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے واقعات کا ملخص ہے لیکن امام بخاری (رح) نے اس کو کتاب الرؤیا میں بیان کرکے اس کی اصلیت اور حقیقت کی طرف مکمل طور پر اشارہ کردیا ہے کہ اس میں ان بشارات کا حصہ بھی بیان کیا گیا ہے جو بشارات ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ ؓ کو اس ہجرت سے بہت پہلے دی جانے لگی تھیں جن بشارات کے نتیجہ میں سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو اس جگہ لا کر بسایا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس میں اس اصل خواب کا ذکر نہیں آیا جو ابراہیم (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا دکھایا گیا تھا ۔ اگر اس روایت میں ان بشارات کا ذکر کرنا مقصود اصل نہ ہوتا تو اس میں اس کا ذکر ضروری تھا جو اصل مقصود بیان تھا ۔ پھر یہ بھی کہ ہم سب مسلمان سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو ” ذبیح اللہ “ کہتے اور مانتے ہیں اگرچہ یہود اس کا انکار کرتے ہیں اور اس کی جگہ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ کہتے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود نہیں پھر اگر ہم مسلمانوں کے نزدیک بھی سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح نہیں ہوئے تو آخر ہم مسلمانوں کے پاس اس کا جواز کیا ہے کہ اسمعیل ” ذبیح اللہ “ ہیں ؟
ہمارے نزدیک سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے ذبیح اللہ ہونے کی یہی حقیقت ہے کہ ان کو اصل وطن سے دور ایک غیر ذی زرع وادی میں آباد کرنا اور وہ کردیا گیا لہذا سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح اللہ ہوگئے کیونکہ ذبح کرنے کا مفہوم اصل اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نزدیک یہی تھا نہ کہ چھری کے ساتھ ذبح کرکے پھینک دینا جو ایک طرح کا ظلم کہلاتا ہے نہ کہ ایثار وقربانی ، لیکن افسوس کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی طرف کم ہی توجہ دی اور حقیقت کو سمجھنے کی مطلق کوشش نہ کی یہود کی روایات کے مطابق انہوں نے وہی کچھ سمجھا جو یہود نے اسحاق (علیہ السلام) کے ذبح ہونے کے متعلق سمجھا اور بیان کیا جو قرآن کریم اور احادیث رسول نے بیان کیا اس کے مفہوم کو بھی یہود کے سمجھے ہوئے بیان پر منطبق کیا گیا حالانکہ یہود نامسعود نے جو کچھ بیان کیا وہ سراسر اختراع اور جھوٹ تھا جس کی کوئی حقیقت نہ تھی کیونکہ اسحاق (علیہ السلام) اپنے آبائی وطن اور آبائی اموال ومتاع کے مالک قرار پائے اور اس رستہ میں کوئی جلا وطنی ان کے حصہ میں نہ آئی ، جس کو ذبیح ہونے کا نتیجہ قرار دیا جائے ، بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی عقل وفکر سے کام لینا ممنوع قرار دیا گیا اور ان سنی سنائی باتوں کی طرف زیادہ دھیان دیا گیا جو عام لوگ ایک دوسرے سے قصہ وکہانی کے طور پر بیان کرتے آئے ہیں کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔
قرآن کریم کے بیان کے مطابق سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) اس غیر ذی زرع وادی میں ذبیح ہو کر آئے نہ کہ ذبح ہونے کے لئے اگرچہ ہمارے مفسرین وشارحین کی اکثریت نے یہی تسلیم کیا کہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) مکہ میں ذبح ہونے کے لئے آئے لیکن کتاب وسنت میں ایسا کوئی اشارہ تک بھی نہیں پایا جاتا بلکہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) مکہ میں یعنی اس غیر ذری وادی میں ذبیح ہو کر آئے تھے اور آپ کے ذبیح ہونے کی یہی تعبیر تھی جو ابراھیم (علیہ السلام) کو بتائی اور سمجھائی گئی تھی جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا (آیت) ” فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری “۔ پھر جب پہنچا وہ (اسمعیل) اس سن کو کہ باپ کے ساتھ دوڑے بھاگے (چلے پھرے اور اس کے کام کاج میں اس کا شریک کار ہو) تو باپ نے کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں ‘ دیکھو تم کیا سمجھتے ہو۔ “
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ مبشر لڑکا ہے جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کرلیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کے ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور خوشخبری میں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری سنائی گئی تھی اور حلم وحلم دونوں لازم وملزوم ہیں ۔ قرآن کریم کی عبارت بول بول کر کہہ رہی ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے پوچھا تھا کہ بتاؤ تم اس معاملہ کے متعلق کیا سمجھتے ہو تو ایک تو اس وقت تک ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ بیٹا ” معہ “ آپ کے ساتھ یا آپ کے پاس تھا اور دوسری بات یہ کہ وہ اتنا سمجھ دار ہوچکا تھا کہ ایسے حساس مسئلہ کے متعلق آپ اس سے پوچھ رہے ہیں کہ میں نے تو یہ یہ خواب دیکھا ہے آپ بتائیں کہ آپ اس کے متعلق کیا سمجھتے ہیں ؟ اور پھر بیٹے نے نہایت حلم وبردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” یابت افعل ما تؤمر) (اے ابو جان ! جو آپ کو حکم کیا گیا ہے کر گزرو۔ “ (آیت) ” ستجدنی ان شاء اللہ من الصبرین “۔ ” مجھے انشاء اللہ آپ صابر پائیں گے ۔ “ بلاشبہ باپ نے ظاہری کیف کو پورا کیا یا ابھی اس کیف کا ارادہ ہی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال کر کھول دیا کہ اس سے اصل مراد ہی ہے جس کے متعلق بار بار آپ کو اشارات دیئے گئے ہیں کہ اس ہونہار بیٹے کو اس جگہ سے اٹھا کر فلاں فلاں علاقہ میں آباد کرو اور ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اشارات دیئے گئے ہیں کہ اس ہونہار بیٹے کو اس جگہ سے اٹھا کر فلاں فلاں علاقہ میں آباد کرو اور ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اشارات پر جو خواب میں ایک بار نہیں بار بار کیے گئے تھے اپنے مبشر بیٹے کو اپنے سے جدا کر کے اس غیر ذی زرع وادی میں آباد کردیا اور بیٹا بھی نہایت صبر وثبات کے ساتھ باپ کی بات مان گیا اور بغیر کسی حیل وحجت دیار غیر میں آباد ہونے کے لئے تن تنہا تیار ہوگیا اور اس طرح عملی طور پر صابر بن کر صرف اپنے باپ ہی کو نہیں پوری دنیا کو دکھا دیا کہ صبر کیا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے ۔
سورة صافات کی ان آیات کا ایک بار دوبارہ مطالعہ کرو اور دیکھو قرآن کریم نے یکے بعد دیگرے کس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو دو بیٹوں کی خوشخبری سنائی ایک بیٹے کی خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ فبشرنہ بغلام حلیم اور پھر اس بیٹے کے متعلق نہایت صفائی کے ساتھ بیان فرمایا کہ (آیت) ” فلما بلغ معہ السعی “ ” پس جب وہ مبشر بیٹا باپ کے ساتھ بھاگنے دوڑنے لگا اور اس کے ساتھ کام کام میں مصروف ہونے لگا “ اگر اس نوزائیدہ بچے کو پیدا ہوتے ہی یہاں سے اٹھا کر اس کی ماں کے ساتھ کسی دوسری جگہ آباد کردیا ہوتا تو قرآن کریم (آیت) ” فلما بلغ معہ السعی “ کے الفاظ ہرگز ہرگز نہ بولتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے سچ اور صحیح اور ہر حال میں درست ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا اگر ابراہیم (علیہ السلام) اس بیٹے کو اس وقت تک جدا کرچکے ہوتے تو کبھی اتنی صفائی کے ساتھ یہ الفاظ نہ بولے جاتے بلکہ یہ کہا جاتا کہ جب بیٹا ماں کی معیت میں چلنے پھرنے اور کام کاج کرنے لگا ۔ قرآن کریم تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ایسا خلاف واقع کلام تو انسان کا بھی ہوگا تو اس کو سفید جھوٹ قرار دیا جائے گا کہ جب میاں بیوی میں اتنا بعد ہو اور بچہ ماں کے ساتھ رہ رہا ہو اور کوئی باپ یہ کہہ دے کہ بچہ میرے ساتھ رہ رہا ہے تو یہ جھوٹ نہیں ہوگا تو آخر اور کیا ہوگا ؟ اس جگہ جو صورت حال پیدا ہوگئی تھی اگر ایسی صورت میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنی زوجہ محترمہ ہاجرہ ؓ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہیں کو وطن سے اتنا دور چھوڑ دیتے اور اس کم سنی میں اسمعیل (علیہ السلام) بھی والدہ کی معیت میں ہوتے تو قرآن کریم کے کبھی الفاظ یہ نہ ہوتے جو اس وقت بیان ہوئے ہیں کہ بیٹا باپ کے ساتھ دوڑنے ‘ بھاگنے اور کام کاج کرنے لگا ۔ ہاں ! اسمعیل (علیہ السلام) کے علاوہ صرف اسمعیل (علیہ السلام) کی والدہ کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جدا کیا ہوتا اور اسمعیل (علیہ السلام) والد کے ساتھ نہ ہوتے تو بھی یہ جملہ درست تسلیم کیا جاسکتا تھا لیکن یہ بات دنیا جاتنی ہے کہ اس جدائی میں بیٹا ماں کے ساتھ تھا نہ کہ باپ کے ساتھ بلکہ ہاجرہ ؓ کو صرف اسمعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہونے کی حیثیت سے اسمعیل کے ساتھ رکھا گیا تھا اگر اسمعیل (علیہ السلام) پیدا نہ ہوتے یا ہاجرہ کے بیٹے نہ ہوتے تو یقینا سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ کو کبھی جدا نہ کرتے اس جدائی کا باعث ہی جب اسمعیل (علیہ السلام) ہیں تو یہ بات کیسے مان لی جائے کہ اسمعیل کے ذبیح ہونے کا واقعہ اس جدائی کے بعد کا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ سورة صافات کی ان آیات میں جن دو بیٹوں کی بشارت دی گئی ہے ان میں سے پہلے بیٹے کا نام مذکور نہیں اور دوسرے کا نام اسحاق مذکور ہے اس لیے لامحالہ پہلی بشارت میں اسمعیل ہی مراد ہوں گے اس سے بھی نص آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسحاق کی پیدائش تک اسمعیل (علیہ السلام) باپ ہی کے زیر سایہ رہ رہے تھے اور وہ یقینا سند رشد کو بھی پہنچ چکے تھے فی نفسہ مضمون پر غور کرنے سے یہ بات سورج سے بھی زیادہ واضح نظر آنے لگتی ہے ۔ خدا لگتی کہو اور اندھی تقلید نہ کرو ایک بار آیات پر غور کرلو یقینا آپ بھی اس نتیجہ پر پہنچیں گے جس نتیجہ پر ہم پہنچے ہیں بشرطیکہ آپ قرآن کریم کی آیات کریمات پر غور وفکر کرنے کو حرام نہیں سمجھتے :
دوسری بات جو اس سلسلہ میں پورے عزم وجزم اور وثوق سے کہی جاسکتی ہے وہ سورة ابراہیم (علیہ السلام) کی آیت میں بیان کی گئی جہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کو اس غیر ذی زرع وادی میں بساتے وقت رب کریم سے دعا مانگتے ہوئے ارشاد فرمائی تھی (ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم) (ابراہیم : 14 : 37) ” اے رب ہمارے میں اپنی اولاد میں سے بعض کو اس بےآب وگیاہ وادی میں بساتا ہوں جو تیرے حرمت والے گھر کے قریب ہے ۔ “ قرآن کریم کے الفاظ (اسکنت من ذریتی) پر غور کرو کہ کس صفائی کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ جب اسمعیل (علیہ السلام) کو اس جگہ آباد کیا گیا اس وقت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے اور اولاد بھی موجود تھی اور اس بات پوری دنیا کی تاریخ ‘ قرآن کریم کے مفسرین اور علمائے اسلام متفق ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی سب سے پہلی اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کے بعد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت اسحاق (علیہ السلام) بھی سیدہ سارہ کے بطن پیدا ہوچکے تھے اور اسمعیل (علیہ السلام) کو اس جگہ آباد کیا گیا اس وقت آپ کی عمر عزیز 13 سال سے زیادہ اٹھارہ ‘ بیس ‘ سال تک کی بیان کی جاتی ہے جو بلوغت کی عمر یا کم از کم قریب البلوغت ضرور نکل آتی تھی اور اس وقت کسی صورت بھی آپ کو دودھ پیتا بچہ نہیں قرار دیا جاسکتا اس لیے یہ روایات صحیحہ میں جو دودھ پیتے بچہ کا ذکر آیا ہے وہ انہی بشارات کے باعث آیا ہے جو بشارات آپ کی پیدائش کے جلد ہی بعد روئیا صادقہ میں دی گئی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری (رح) کی نظر عمیق نے ایسی روایات کو کتاب الرؤیا اور اس کے بعد ضرورت کے موافق کتاب الانبیاء میں بیان کیا ہے اور کتاب التفسیر میں ان کو ذکر نہیں کیا ، پھر اس کی مزید وضاحت قرآن کریم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا میں کردی گئی ہے جس دعا کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے جو سورة ابراہیم میں بیان ہوئی ہے کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی وھب علی الکبر اسمعیل واسحق ان ربی لسمیع الدعا) (ابراہیم 14 : 39) ” شکر ہے اس رب کریم کا جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسمعیل اور اسحاق جیسے بیٹے دیئے بلاشبہ میرا رب ضرور ہی دعاؤں کو سننے والا ہے ۔ “ ان الفاظ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) کے بیت اللہ کے قریب مکہ مکرمہ میں آنے کے وقت اسحاق پیدا ہوچکے تھے پھر جب خود قرآن کریم بعض کی بعض تفسیر ہے تو اس تفسیر کو چھوڑ کر ہم کوئی دوسری تفسیر کیسے اختیار کرسکتے ہیں اور نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان قرآن کریم کی وضاحت کے خلاف ممکن ہی نہیں پھر کوئی دوسرا خواہ اس کے بیان کرنے والا کوئی ہو اور کون ہو اور کہاں ہو اس کی کیا وقت ہے اس لیے ابن عباس ؓ کی بیان کردہ بات کو ہم انہی اشارات پر محمول کرتے ہیں جو سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت سے ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ ؓ کو رؤیا صادقہ میں کیے گئے تھے اور انہی رؤیا کے نتیجہ میں سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو اس غیر ذی زرع وادی میں بسایا گیا ۔ اس بیان کی مزید وضاحت بھی کی جاسکتی ہے اور احادیث کے الفاظ اور جملوں میں بحث کے نتایج سے بھی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بحث تاریخ کا موضوع ہے نہ کہ تفسیر کا اور یہ بھی کہ جب بغیر کسی تنقید اور بغیر کسی قسم کے ابہام کے قرآن کریم خود اس کی وضاحت کر رہا ہے تو اس کو چھوڑ کر دائیں بائیں پھرنے کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ تضاد تورات کے بیان میں تھا آپ خود تورات پیدائش کے باب 21 کو پڑھ کر دیکھ لیں اور وہی تضاد وہاں سے اٹھا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہاں بیان کردیا اور بجائے اس کے کہ وہ تورات کی تحریف کا ذکر کرتے اس تضاد کو قرآن کریم کی تفسیر کے طور پر بیان کردیا اور بخاری کی روایات سے غلط استدلال کرکے غلط نتیجہ نکال کر قوم کے سامنے رکھا اور قوم نے اس تحریر پر تحریر کرتے اور حوالہ پر حوالہ دیتے وقت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی اور اس طرح مکھی پر مکھی مارتے چلے گئے اور بعد میں آنے والوں میں اگر کسی نے غور وفکر کرکے کسی چیز کے متعلق وضاحت کرنا چاہی تو اس کے گرد سب جمع ہوگئے کہ فلاں نے بھی یہ لکھا اور فلاں فلاں بھی یہ کہہ گئے آپ کون ہیں ان کی تغلیط کرنے والے اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کلام اللہ کی کی جا رہی ہے جو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل ہوا ہے اس لیے آپ ﷺ کا بیان قرآن کریم کے خلاف ممکن ہی نہیں اور جو دلیل پیش کی گئی ہے اس دلیل کا دلیل سے جواب مناسب ہے نہ کہ فلاں اور فلاں کی بحث سے کیونکہ کلام اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کسی کی کیا وقعت ہے خواہ وہ کون ہے ‘ کیسا ہے اور کہاں ہے ۔
ایک بوڑھے باپ نے جو تقدیس اور نیکی سے بھرا ہوا تھا اپنے ایک معصوم کم سن بچہ اور عزیز بیوی کو چند روٹیاں اور پانی کا مشکیزہ دے کر گھر سے نکال دیا اور فاران کے بےآب وگیاہ بیابان میں چھوڑ دیا اور پھر کبھی اس کے دیکھنے کے لیے مضطرب نہ ہوا “ یہ بظاہر تورات کی تصویر ہے اس کے مقابلہ میں اسلام کا بیان یہ ہے کہ ” ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ رب کریم کے حکم سے اپنے عزیز بیٹے کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نام کی اولین عبادت گاہ کعبہ کی خدمت گزاری کے لئے شہر مکہ میں آکر بسایا جو عربہ (بیابان) میں واقع تھا ۔ رہی بخاری شریف کی روایت تو اس کے متعلق ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ ایک عرصہ تک کی بشارات کا بیان ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ ام اسمعیل کو رؤیا صادقہ میں دی جاتی رہیں اور انہی کی روشنی میں ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ متفقہ طور پر اپنی اولاد میں سے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو وہاں سے لے جا کر بسانے کے لیے تیار ہوگئے اور انجام کار لا بسایا اور ضرورت کے مطابق ان کی خبر گیری بھی کرتے رہے اور اپنے بیٹے کو ہدایات بھی جاری کرتے رہے اور انجام کار اس سے مل کر بیت اللہ کی تعمیر کا کام مکمل کیا اور باپ بیٹے میں باقاعدہ ہم آہنگی پائی گئی اور اللہ نے آپ کے بیٹے کو ایسا حلیم الطبع بنایا تھا کہ باپ کے منہ سے جب کوئی بات نکلی فورا اس کے لئے تیار ہوگیا اور ایک لمحہ کے لیے بھی دیر نہ کی اور رہتی دنیا تک کے لوگوں کے لیے وہ نشانات چھوڑے جو بلاشبہ ان ہی کا حصہ تھا اور وہی اس کو کر پائے ۔ اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید ۔
جہاں اسمعیل (علیہ السلام) کو لا کر بسایا گیا وہاں بیت اللہ پہلے موجود تھا :
جن بشارات کا اوپر ہم نے بار بار ذکر کیا ہے انہی بشارات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اس مقام کی نشاندہی کی گئی تھی حالانکہ یہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کی رہائش گاہ سے سینکڑوں میل دور تھا اور بےآب وگیاہ ہونے کا مطلب ایسا علاقہ ہے جہاں کھیتی باڑی نہ ہوتی ہو اور وہ میدانی علاقہ نہ ہو اور بلاشبہ یہ علاقہ اس وقت بھی ایسا ہی تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے لیکن آبادی وہاں اس وقت بھی تھی اور اب بھی اگرچہ اس وقت بہت کم ہوگی اور آج کل بہت ہی زیادہ ہے تاہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا ہی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس جگہ کے قریب اللہ تعالیٰ کا مشہور گھر بیت اللہ وہاں موجود تھا اگرچہ وہاں کے رہنے والے اس کو بھول چکے ہوں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا میں یہ بھی فرمایا تھا کہ (ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم) (14 : 37) یہ دعا جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیارے اور لاڈلے بیٹے کو یہاں آباد کرتے ہوئے مانگی اس کے ایک ایک فقرہ پر غور کرو کہ کس والہانہ انداز میں مانگی گئی اور یہ کہ اس والہانہ انداز کو اللہ نے کس طرح قبولیت بخشی کہ جوں جوں وقت گزرتا گیا اس دعا کا اثر بڑھتا ہی چلا گیا اور آج جو حالت اس خطہ ارضی کی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس وقت اگر سارا عرب مکہ کی طرف متوجہ ہوا تھا تو اب پوری دنیا کے لوگ اس طرف کھچے چلے آرہے ہیں ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
ہمیں تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین اور علمائے اسلام کی اکثریت نے اس دعا کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد کی دعا قرار دیا حالانکہ دعا کے الفاظ خود اس بات کی شہادت پیش کر رہے ہیں کہ یہ بیت اللہ کی تعمیر کے بعد کی دعا نہیں بلکہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو یہاں بساتے وقت دعا مانگی گئی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اور بیوی کو گھر سے نکال باہر نہیں کیا تھا بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اس علاقہ میں لا کر بسایا تھا اور اس آبادہ سے آپ کا مدعا اور ماحصل یہی تھا کہ اللہ کے گھر کو آباد کیا جائے اور توحید الہی کا ایسا پودا لگایا جائے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صدا بہار رہے اور اپنے پھل سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستفید کرتا رہے ۔ لیکن چونکہ اس دعا کو اسمعیل (علیہ السلام) کے وہاں سے لے جا کر بسانے کے وقت کی قرار دیا جائے تو تورات کے بیان کی تغلیط ہوتی تھی لہذا علماء اسلام نے اور مفسرین عظام نے تورات کے بیان کی تصدیق ہوجائے حالانکہ تورات کے بیان کو غلط قرار دینے کے لیے ان آیات کریمات کو نازل کیا گیا کہ تورات میں لوگوں نے کس طرح تحریف کی شدہ کہنے کی بجائے قرآن کریم کی دعا کا وقت تبدیل کردیا تاکہ تورات کے بیان کی تصدیق ہوجائے حالانکہ تورات کے بیان کو غلط قرار دینے کے لیے ان آیات کریمات کو نازل کیا گیا اور بتایا گیا کہ تورات میں لوگوں نے کس طرح تحریف کی اور حق کو مسخ کردیا ۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ابراہیم (علیہ السلام) کے والد جنہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے وطن سے اس توحید کی تعلیم کے باعث نکال دیا تھا ابھی زندہ تھے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا آخری فقرہ یا آخری آیت اس کی وضاحت پیش کر رہی ہے کہ ” اے اللہ ! مجھے اور میرے والدین کو اور اس دن معاف کر دیجئو جبکہ حساب قائم ہوگا “ اور ظاہر ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے والد وفات پا گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعا کرنے سے منع کردیا کہ ان کی ہدایت کا دروازہ اب بند ہوچکا ہے اور ان کا خاتمہ بال ایمان نہیں ہوا ۔
اتنی وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسمعیل (علیہ السلام) اس سرزمین مکہ میں کس سن میں یعنی کتنی عمر میں پہنچائے گئے تو یہ اس کی ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا قرآن کریم نے دوسرے واقعات کی کبھی تاریخیں بیان کی ہیں اور یہاں کوئی تاریخ نہیں بیان کی ؟ اگر کہیں بھی قرآن کریم تاریخ کا تعین نہیں کرتا بلکہ عام طریقہ سے واقعہ کو بیان کردیتا ہے جس سے خود بخود تاریخ کا تعین نکل آتا ہے یا کم از کم زمانہ معلوم ہوجاتا ہے تو قرآن کریم نے یہی طریقہ اس جگہ اختیار کیا ہے پھر اس ایک جگہ کسی کو تسلی نہ ہوئی ہو تو اس کا علاج کسی کے پاس آخر کیا ہے ؟ اگر کسی نے ایک بات کو نہ ماننے کی قسم کھائی ہو تو اس کو منوانے کی کیا صورت ہے ؟
تورات نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) اور گھر کے دوسرے سارے مردوں کے ختنہ کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے جو مرد غلام اور خانہ زاد تھے خواہ وہ کتنے تھے ہمیں اس کی توثیق وتردید کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ کوئی بحث طلب معاملہ ہے ‘ لڑکے ہوں یا لڑکیاں دونوں کا ختنہ جائز ہے اور صحیح ہے جس کا تعلق انسانی صحت وصفائی سے ہے اور بعض نے مردوں کے لیے ضروری اور عورتوں کے لیے غیر ضروری کہا ہے ۔ رسم اسلام میں بہرحال دونوں کا ختنہ جائز اور درست ہے اور رواج کی ایک اپنی حیثیت ہے ، حقیقت بہرحال حقیقت ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے حقیقت کبھی بدلا نہیں کرتی ۔
ذبیح کون ہوا اور ذبیح کرنے کا اصل مطلب کیا ؟ :
’ ذبح “ کے اصل معنی کسی جاندار چیز کا گلا کاٹنے کے ہیں اور یہ لفظ عام کاٹنے یا قتل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے اور دراصل جہاں لفظ استعمال ہوتا ہے خود اپنا مفہوم ومطلب معین کرلیتا ہے ، فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تو قرآن کریم نے اکثر اس کا ذکر کیا تو ذبح ہی کا لفظ استعمال کیا لیکن کسی مقام پر (آیت) ” یقتلون “ کا لفظ بھی بول دیا تاکہ اس سے معلوم ہوجائے کہ ذبح کا مطلب اس جگہ قتل کرنا ہے جو ظلما اس نے روا رکھا تھا ۔ اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خواب کا ذکر ہے وہ ایک بار دیکھا یا بار بار بہرحال یہ دیکھا کہ وہ اپنے فرزند ارجمند کا گلا کاٹ رہے ہیں ظاہر ہے کہ اس خواب کا مطلب ومفہوم کچھ اور ہی ہوگا قتل کرنا تو نہیں ہو سکتا اور نہ ہی گلا کاٹنے سے فی الواقع گلا کاٹ دینا مراد ہو سکتا ہے کیونکہ اسمعیل کوئی کھانے کی چیز بھی نہیں اور کوئی اس نے ایسی حرکت بھی نہیں کی یقینا ایسا دیکھ کر ابراہیم ششدر ہوئے ہوں گے اور ایسا ہونا فطری امر ہے لیکن اس کا مفہوم کیا ہو سکتا ہے ؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہوگا کیونکہ آپ نے جو خواب میں دیکھا وہ یہ نہیں تھا کہ آپ نے اپنے بیٹے کو ذبح کردیا ہے بلکہ جو دیکھا وہ یہ تھا کہ آپ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں آپ نے اپنی اس حیرانی کا ذکر بیٹے کے سامنے کیا بیٹا پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی پیش گوئی کے مطابق حلیم الطبع تھا اس نے اسی وقت سرتسلیم خم کردیا اور ذرا سی جھجھک محسوس نہ کی کہ اس ذبح کرنے کا مطلب کیا ہے اور کیا نہیں ؟ فرمایا کہ اے ابو جو آپ کو حکم ملا ہے کر گزرئیے میں ہر لمحہ اس کام کے لیے تیار ہوں جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے کیونکہ زیادہ سے زیادہ مشکل انسان کے لیے جان دینا ہی ہو سکتا ہے اور میرے لیے اس کو قربان کرنا اس لیے مشکل نہیں کہ اس کو بچانا میرے اختیار کی بات نہیں اور نہ ہی میری جان میری اپنی بنائی یا تخلیق کی ہوئی ہے پھر جان دینے والا جان لینے کی بات کرے تو اس میں آخر احسان کیا ہے دی گئی چیز تو پہلے ہی دینے والے کی طرف سے مستعار ہوتی ہے اور مانگے کی چیز واپس نہ کرنا بہت بڑی خیانت اور بددیانتی ہے بحمد اللہ امین ہوں اور امانت کو واپس لوٹا دینا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں آپ دلگیر نہ ہوں جو آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کے لیے تیار ہوں میں پہلے ہی اللہ کے فضل و کرم سے تیار ہوں ۔
جب دونوں باپ بیٹا اللہ تعالیٰ کے مطیع وفرمانبردار ہوگئے باپ بیٹے کو قربان کرنے کے لیے اور بیٹا حکم الہی کے مطابق قربان ہونے کے لیے سرتسلیم خم ہوگئے تو ابھی ذبح کی کیف بھی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی وضاحت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے آگئی کہ اے ابراہیم ! آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی اختیار کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہی ، ہم کو تیرے بیٹے کا ذبح کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ ایک کھلی آزمائش کرنا چاہتے تھے اور وہ بلاشبہ ہوگئی اور اب ہم نے ایک بھاری قربانی اس کا فدیہ دیا ۔ یہ قربانی کیا تھی ؟ مفسرین کے خیال میں وہ قربانی جو بکرے ‘ چھترے اور گائے ‘ اونٹ کی دی جاتی ہے لیکن ہمارے خیال میں اس سے بڑی قربانی اس کے بدلہ میں جو دی گئی وہ مکہ مکرمہ میں جو ایک غیر ذی زرع وادی تھی وہاں اس کو آباد کرنا تھا جو اس نے بسر وچشم قبول کرلیا اور اپنے وطن سے دور رہ کر اور اپنی ناز وشان کی گزری ہوئی زندگی کو رضائے الہی کے لیے جو کھوں میں ڈال کر دنیا والوں پر ثابت کردیا کہ رضائے الہی کے لیے سرتسلیم خم کردینے والوں پر کوئی بات بھی بھاری ثابت نہیں ہوتی اور یہی ابراہیم (علیہ السلام) کے خواب کی صحیح تعبیر تھی جو سمجھ میں نہیں آرہی تھی جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے سمجھا نہ دی ، یہی وہ ذبح عظیم ہے جو یکبارگی ذبح ہو کر زندگی کا خاتمہ کردینے سے سو بار بڑی قربانی تھی جو ایک مدت تک جاری وساری رہی اور اس ایک قربانی نے کتنی قربانیوں کو جنم دیا اور آنے والوں کے لیے ایک اسوہ حسنہ قائم کردیا ۔ اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید ۔
اتنی وضاحت کے بعد بھی ابھی کیا یہ سوال حل نہیں ہوا کہ ذبیح کون ہوا ؟ کیوں نہیں بات تو روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ ذبیح سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ہوئے لیکن چونکہ یہود اس بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے لہذا ان کی دیکھا دیکھی بعض علمائے اسلام نے بھی اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ قرار دیا ۔ بعض لوگوں کو ایک بات پر ہاتھ رکھ کر دکھایا جائے تو بھی وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کوئی نہ کوئی توجہیہ نکال ہی لیتے ہیں تاکہ ٹانگ اڑائی جاسکے ان لوگوں نے بھی اس کی توجیہہ بیان کی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں کہاں ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) ذبح ہوئے اور اگر ایسا سوال کرنے والوں سے پوچھ لیا جائے کہ یہ کہاں ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) ذبیح ہوئے تو فورا جزبر ہوجاتے ہیں حالانکہ اگر قرآن کریم نے کسی کا نام نہیں لیا تو واقعہ کا تذکرہ تو اس طرح کیا ہے کہ ذبیح اسمعیل (علیہ السلام) ثابت ہوجاتے ہیں مثلا سورة صافات میں ابراہیم (علیہ السلام) کے دو صاحبزادوں کی بشارت کا ذکر ہے جو یکے بعد دیگرے ہے پہلے لڑکے کا نام لیا گیا اور اس کو صرف (غلام حلیم) اس کے ذبح عظیم کے واقعہ کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے بعد دوسرے لڑکے کی بشارت کا ذکر نام لے کر کیا ہے کہ (آیت) ” وبشرنہ باسحاق “ اور یہ طے شدہ بات ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ان دونوں صاحبزادوں میں اسمعیل (علیہ السلام) بڑے اور اسحاق (علیہ السلام) چھوٹے ہیں اور جب چھوٹے لڑکے کا نام لے کر ذکر کردیا ہے تو بڑے کا ذکر خود بخود واضح ہوجاتا ہے اور پھر قرآن کریم ہی اسمعیل (علیہ السلام) کو ذبیح نہیں کہتا تورات بھی اسمعیل (علیہ السلام) ہی کو ذبیح قرار دیتی ہے کیونکہ تورات میں ” اکلوتے بیٹے “ کی قربانی کا ذکر بار بار آیا ہے اور ظاہر ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے اکلوتے بیٹے تھے اگرچہ بعض جگہ تورات میں اکلوتے بیٹے کے ساتھ اسحاق کا نام بھی لگایا گیا لیکن اسحاق (علیہ السلام) کو اکلوتا بیٹا کسی صورت بھی نہیں کہا جاسکتا اس طرح سورة الصافات کی آیت وبارکنا علیہ وعلی اسحاق “۔ میں علیہ کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اس ذبیح بیٹے ہی کی طرف راجع ہو سکتی ہے کیونکہ آگے علی اسحاق کے الفاظ میں اسحاق کی وضاحت تو خود قرآن کریم نے کردی ہے جس سے بات بالکل صاف ہوجاتی ہے اور کسی طرح کا کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کیونکہ علیہ کی ضمیر کا مرجع اسحاق (علیہ السلام) کے علاوہ ہی ہو سکتا ہے اور وہ اسمعیل (علیہ السلام) ہی ہیں اور وہی ہو سکتے ہیں ۔
سیدنا اسحاق (علیہ السلام) اور بنائے کعبہ :
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اگرچہ مستقل طور پر فلسطین ہی میں آباد تھے تاہم برابر مکہ آتے رہتے تھے کیونکہ اس جگہ آپ نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اس کے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کو آباد کیا تھا اسی اثناء میں ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے حکم ہوا کہ کعبۃ اللہ کی تعمیر کی جائے کعبۃ اللہ اگرچہ پہلے موجو دتھا اور یہ بات ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سے قبل کتنی بار رؤیا صادقہ میں بتائی جا چکی تھی اور دراصل بیت اللہ ہی سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی اس جگہ آبادی کا سبب بنا تھا جیسا کہ پیچھے آپ ذکر پڑھ چکے ہیں تاہم بیت اللہ منہدم ہوچکا تھا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا تھا کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی جائے لیکن انہی بنیادوں پر جن پر اس سے قبل بنایا گیا تھا ، ان بنیادوں کی نشاندہی وحی الہی نے کردی اور آپ نے اس نشاندہی کے مطابق بیت اللہ کو از سر نو تعمیر کرنا شروع کردیا ، سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کو بھی اپنے ساتھ ہی اس میں شریک کیا جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) معماری کا کام کرتے رہے اور سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) پتھر اور گارا دیتے رہے دونوں نے مل کر بیت اللہ کو تعمیر کردیا جس کا ذکر عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ آیات 124 تا 134 ‘ عروۃ الوثقی ‘ جدل دوم سورة آل عمران آیت 96 ‘ 97 میں تفصیل کے ساتھ کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
ماحصل اس وضاحت کا یہ ہے کہ اس بنا سے پہلے تمام کائنات اور تمام دنیا کے گوشہ گوشہ میں بتوں ‘ ستاروں اور بہت چیزوں کی پرستش کے لیے ہیکل اور مندر موجود تھے اور انہی کے ناموں پر بڑی بڑی تعمیرات کی جاتی تھیں ۔ مصریوں کے ہاں سورج دیوتا ‘ از دریس ‘ ایزیس ‘ حوریس اور دیوتا بعل سب ہی کے نام پر ہیکل اور مندر تھے ۔ اشوریوں نے بعل دیوتا کا ہیکل بنایا اور ابوالہول کا مجسمہ بنا کر اس کی جسمانی عظمت کا مظاہرہ کرایا کنعانیوں نے مشہور قلعہ بعلبک میں اسی بعل کا مشہور ہیکل بنایا تھا جو آج تک یادگار چلا آتا ہے ، غرہ کے باشندے ” اجون “ مچھلی دیبی کے مندر پر چڑھاوے چڑھاتے تھے جس کی شکل انسان کی اور جسم مچھلی کا بنایا گیا تھا ، عمونیوں نے سورج دیوتا کے ساتھ عشت رون (قمر) کی دیبی بنا کر پوجا اور اس کے لیے عظیم الشان ہیکل تیار کیے ، فارس نے آگ کی تقدیس کا اعلان کرکے آتشکدے تیار کیے اور اس مقصد کے لیے بڑی بڑی عمارات بنائیں ، رومیوں نے مسیح اور کنواری مریم کے بت اور شبیہیں بنا کر کلیساؤں کو زینت دی اور ہندوؤں نے مہاتمابدھ ‘ شری رام چندر اور پاربتی دیوی کے ناموں سے ہزاروں بتوں کی پرستش کے لیے بڑے بڑے شاندار اور عظیم الشان منادر تیار کیے ہر دوار ‘ پر یاگ ‘ کاشی ‘ پوری ‘ ٹیکسلا ‘ سانچی اور پودہ گیا جیسے مذہبی مقامات اس کی زندہ شہادتیں آج تک موجود ہیں مگر ان کے برعکس صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام جو احد وصمد ہے خالص اس کی پرستش کے لیے اس کی یکتائی کے اقرار میں سرنیاز جھکانے کے لیے یعنی توحید الہی کی سربلندی کے اظہار کے لیے دنیا کے بت کدوں میں پہلا گھر جو ” خدا کا گھر “ کہلایا وہ یہی ” بیت اللہ “ ہے ۔
دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
وہ دنیا میں گھر سب سے پہلے خدا کا خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا :
یہی وہ تعمیر ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ ابراہیم جیسا موحد اول جلیل القدر نبی پیغمبر اور بعد میں آنے والے نبیوں اور رسولوں کا جد اول بنفس نفیس اس کا معمار تھا اور اسمعیل جیسا نبی وذبیح وذبیح اس کا مزدور باپ بیٹا برابر اس کی تعمیر میں مصروف ہیں اور جب اس کی دیواریں اوپر اٹھتی ہیں اور بزرگ باپ کا ہاتھ اوپر کی تعمیر تک نہیں پہنچتا تو قدرت کی ہدایت کے مطابق ایک بہت بڑے پتھر کو باڑھ (جسے آج کل کی زبان میں ہمارے ہاں ” گو “ کہتے ہیں) بنایا جاتا ہے جس کو بیٹا سہارا دیتا ہے اور باپ اس کے اوپر چڑھ کر تعمیر کرتا ہے اور یہی وہ یادگار ہے جس کو قرآن کریم نے مقام ابراہیم کے نام سے موسوم کیا ہے اور جب تعمیر اس حد پر پہنچی جہاں حجر اسود نصب ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتہ جبریل نے ان کی راہنمائی کی اور حجر اسود کو ایک پہاڑی سے نکال لینے کی ہدایت کی کہ اس کو ایک کونے میں لگادیا جائے تاکہ طواف کرنے والے اس جگہ سے اپنے طواف کی ابتدا کریں گویا یہ پتھر بطور نشان لگایا گیا جس کو بعد میں جنت سے لایا ہوا پتھر کہا گیا اور یہ بات محض اس کے تقدس کو بحال رکھنے کے لیے کہی گئی ۔
بحمد اللہ بیت اللہ تعمیر ہوگیا جو خالصتا اللہ تعالیٰ ہی کی ہدایت و راہنمائی میں تیار ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو بتایا کہ ملت ابراہیمی کے لیے (قبلہ) اور ہمارے سامنے جھکنے کا ایک نشان ہے اس لیے اس کو توحید الہی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے پھر ابراہیم واسمعیل نے اللہ تعالیٰ سے والہانہ دعائیں مانگ مانگ کر اس مرکز کو عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کی یک جہتی کے لیے مقرر کردیا اور جو کچھ کیا اللہ تعالیٰ کی رضا ومرضی سے کیا تاکہ پوری دنیا کے موحدین اپنی والہانہ محبت کے اظہار کے لیے اس ایک اور صرف ایک مرکز پر اکٹھے ہوں اور باقی تمام مراکز کو سات سلام کہہ دیں پھر اس اصل مقام کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مساجد کا نظام قائم کیا گیا تاکہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کے لیے ان مساجد میں جمع ہو کر نظام قیام صلوۃ کو جاری رکھ سکیں ۔ قرآن کریم نے بیت اللہ کی تعمیر ‘ تعمیر کے وقت دونوں باپ بیٹے کی مناجات ‘ اقامت صلوۃ اور مناسک حج کی ادائیگی کے لیے شوق و تمنا کے اظہار اور بیت اللہ کے مرکز توحید ہونے کے اعلان کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے اور نئے نئے اسلوب اور طرز ادا سے اس کی عظمت اور جلالت وجبروت کو درج ذلیل آیات میں واضح فرمایا ہے :
(آیت) ” إِنَّ أَوَّلَ بَیْْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ (96) فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّـنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَن دَخَلَہُ کَانَ آمِناً وَلِلّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً وَمَن کَفَرَ فَإِنَّ اللہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ (آل عمران 3 : 97 ‘ 96)
(آیت) ” وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ (125) وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَہْلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُم بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن کَفَرَ فَأُمَتِّعُہُ قَلِیْلاً ثُمَّ أَضْطَرُّہُ إِلَی عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (126) وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْْتِ وَإِسْمَاعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (127) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (128) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ إِنَّکَ أَنتَ العَزِیْزُ الحَکِیْمُ (البقرہ : 125 تا 128)
(آیت) ” وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْْتِ أَن لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْْئاً وَطَہِّرْ بَیْْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْقَائِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ (26) وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (27) لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْأَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِیْرَ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَہُمْ وَلْیُوفُوا نُذُورَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوا بِالْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ (29) ذَلِکَ وَمَن یُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّہِ فَہُوَ خَیْْرٌ لَّہُ عِندَ رَبِّہِ وَأُحِلَّتْ لَکُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (30) حُنَفَاء لِلَّہِ غَیْْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ وَمَن یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاء فَتَخْطَفُہُ الطَّیْْرُ أَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ (31) ذَلِکَ وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّہِ فَإِنَّہَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ (32) لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَا إِلَی الْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ (الحج 22 : 25 تا 33)
(آیت) ” وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَائِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (36) لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ (الحج : 22 : 36 تا 37)
اوپر درج شدہ آیات کریمات کا ترجمہ بھی ایک نظر دیکھ لیں :
بلاشبہ پہلا گھر جو انسان کے لیے (خدا پرستی کا معبود مرکز) بنایا گیا وہ یہی (عبادت گاہ) ہے جو مکہ میں ہے ۔ برکت والا اور تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اس میں (دین حق کی) روشن نشانیاں ہیں ازاں جملہ مقام ابراہیم ہے جو کوئی اس کی حدود میں داخل ہوا وہ امن و حفاظت میں آگیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے یہ بات ضروری ہوگئی کہ اگر اس تک پہنچنے کی استطاعت پائیں تو اس گھر کا حج کریں ۔ اس پر بھی جو کوئی انکار کرے اور (اس گھر کی پاکیزگی وفضیلت کا اعتراف نہ کرے اور حج کرنے کی طاقت کے باوجود حج نہ کرے) تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام دنیا کے لوگوں سے بےنیاز ہے (وہ اپنے کاموں کے لیے کسی فرد اور قوم کا محتاج نہیں ہے) (آل عمران 3 : 96 ‘ 97) اور دیکھا جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے اس گھر کو انسانوں کی گرد آوری کا مرکز اور امن و حرمت کا مقام ٹھہرا دیا اور حکم دیا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ہمیشہ کے لیے) نماز کی جگہ بنا لی جائے اور ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو حکم دیا تھا کہ ہمارے نام پر جو گھر بنایا گیا ہے اسے طواف کرنے والوں ‘ عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے (ہمیشہ) پاک رکھا جائے (اور ظلم ومعصیت کی گندگیوں سے آلودہ نہ کیا جائے ) اور پھر جب ایسا ہوا تھا کہ ابراہیم نے خدا کے حضور دعا مانگی تھی اے پروردگار ! اس جگہ کو امن وامان کا ایک شہر بنا دے اور اپنے فضل و کرم سے ایسا کر کہ یہاں کے بسنے والوں میں جو لوگ تجھ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں ان کے رزق کے لیے ہر طرح کی پیداوار مہیا ہوجائے اس پر ارشاد الہی ہوا تھا کہ (تمہاری دعا قبول کی گئی اور یہاں کے باشندوں میں سے) جو کوئی کفر کا شیوہ اختیار کرے گا سو اسے بھی ہم (سروسامان رزق سے) فائدہ اٹھانے دیں گے البتہ یہ فائدہ اٹھانا بہت تھوڑا ہوگا ‘ کیوں کہ بالآخر اسے (پاداش عمل میں) چار وناچار دوزخ میں جانا ہے اور (جو بدبخت نعمت کی راہ چھوڑ کر عذاب کی راہ اختیار کرلے تو کیا ہی بری اس کی راہ ہے ‘ اور) کیا ہی برا اس کا ٹھکانا ہے ! اور (پھر دیکھو ‘ وہ کیسا عظیم الشان اور انقلاب انگیز وقت تھا) جب ابراہیم خانہ کعبہ کی بنیادیں چن رہا تھا ‘ اور اسمعیل بھی اس کے ساتھ شریک تھا (ان کے ہاتھ تو پتھر چن رہے تھے ‘ اور دل و زبان پر یہ دعا طاری تھی ! ) ” اے پروردگار ! (ہم تیرے دو عاجز بندے تیرے مقدس نام پر اس گھر کی بنیاد رکھ رہے ہیں) ہمارا یہ عمل تیرے حضور قبول ہو ! بلاشبہ تو ہی ہے جو دعاؤں کا سننے والا اور (مصالح عالم کا) جاننے والا ہے ۔ اے پروردگار (اپنے فضل و کرم سے) ہمیں ایسی توفیق دے کہ ہم سچے مسلم (یعنی تیرے حکموں کے فرمانبردار) ہوجائیں اور ہماری نسل میں سے بھی ایک ایسی امت پیدا کر دے جو تیرے حکموں کی فرمانبردار ہو ! خدایا ہماری عبادت کے (سچے) طور طریقے بتا دے ‘ اور ہمارے قصوروں سے درگزر کر ‘ بلاشبہ تیری ہی ذات ہے جو رحمت سے درگزر کرنے والی ہے اور جس کی رحیمانہ درگزر کی کوئی انتہاء نہیں ! اور خدایا (اپنے فضل و کرم سے) ایسا کی جو کہ اس بستی کے بسنے والوں میں تیرا ایک رسول معبوث ہو جو انہی میں سے ہو ‘ وہ تیری آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سنائے کتاب اور حکمت کی انہیں تعلیم دے ‘ اور (اپنی پیغمبرانہ تربیت سے ان کے دلوں کو مانجھ دے ‘ اے پروردگار ! بلاشبہ تیری ہی ذات ہے جو حکمت والی اور سب پر غالب ہے ۔ “
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی دی ‘ (اور حکم دیا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر ‘ اور میرا یہ گھر ان لوگوں کے لئے پاک رکھ جو طواف کرنے والے ہوں ‘ عبادت میں سرگرم رہنے والے ہوں ‘ رکوع و سجود میں جھکنے والے ہوں اور (حکم دیا کہ) ” لوگوں میں حج کا اعلان پکار دے ‘ لوگ تیرے پاس دنیا کی تمام دور دراز راہوں سے آیا کریں گے پاپیادہ اور ہر طرح کی سواریوں پر جو (مشقت سفر سے) تھی کی ہوئی ہوں گی ‘ وہ اس لیے آئیں گے کہ اپنے فائدہ پانے کی جگہ میں حاضر ہوجائیں اور ہم نے جو پالتوچوپائے ان کے لئے مہیا کردیئے ہیں ‘ ان کی قربانی کرتے ہوئے مقررہ دنوں میں اللہ کا نام لیں ‘ پس قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ پھر قربانی کے بعد وہ اپنے جسم و لباس کا میل کچیل دور کردیں (یعنی احرام اتار دیں) نیز اپنی نذریں پوری کریں اور اس خانہ قدیم (یعنی خانہ کعبہ) کے گرد پھیرے پھیر لیں ۔ “ تو دیکھو (حج کی) بات یوں ہوئی اور جو کوئی اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمتوں کی عظمت مانے ‘ تو اس کے لیے پروردگار کے حضور بڑی ہی بہتری ہے ‘ اور (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) ان جانوروں کو چھوڑ کر جن کا حکم قرآن میں سنا دیا گیا ہے تمام چارپائے تمہارے لیے حلال کئے گئے ہیں پس چاہئے کہ بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہو ‘ نیز جھوٹ بولنے سے ، صرف اللہ ہی کے ہو کر رہو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ جس کسی نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو اس کا حال ایسا سمجھو جیسے بلندی سے اچانک نیچے گر پڑا ‘ جو چیز اس طرح گرے گی ‘ اسے یا تو کوئی پرندہ اچک لے گا یا ہوا کا جھونکا کسی دور دراز گوشہ میں لے جا کر پھینک دے گا ! (حقیقت حال) یہ ہے ‘ پس (یاد رکھو) جس کسی نے اللہ کی نشانیوں کی عظمت مانی ‘ تو اس نے ایسی بات مانی جو فی الحقیقت دلوں کی پرہیزگار کی باتوں میں سے ہے ‘ ان (چارپایوں) میں ایک مقرر وقت تک تمہارے لئے طرح طرح کے) فائدے ہیں ۔ پھر اس خانہ قدیم تک پہنچا کر (ان کی قربانی کرنی ہے)
اور (دیکھو) قربانی کے یہ اونٹ (جنہیں دور دور سے حج کے موقع پر لایا جاتا ہے ‘ تو ہم نے اسے ان چیزوں میں سے ٹھہرا دیا ہے جو تمہارے لئے اللہ کی (عبادت کی) نشانیوں میں سے ہیں ‘ اس میں تمہارے لئے بہتری کی بات ہے ‘ پس چاہے کہ انہیں قطار در قطار ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام یاد کرو ‘ پھر جب وہ کسی پہلو پر گر پڑیں (یعنی ذبح ہوجائیں) تو ان کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ اور فقیروں اور زائروں کو بھی کھلاؤ ‘ اس طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ (احسان الہی کے) شکر گزار ہو یاد رکھو اللہ تک ان قربانیوں کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے نہ خون ‘ اس کے حضور جو کچھ پہنچ سکتا ہے وہ تو صرف تمہارا تقوی ہے (یعنی تمہارے دل کی نیکی ہے) ان جانوروں کو اس طرح تمہارے لئے مسخر کردیا کہ اللہ کی راہنمائی پر اس کے شکر گزار ہو اور اس کے نام کی بڑائی کا آوازہ بلند کرو اور نیک کرداروں کے لیے (قبولیت حق کی) خوشخبری ہے ۔
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد واحفاد :
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد واحفاد کا تذکرہ قرآن کریم میں نہیں آیا اور نہ ہی احادیث میں ان کا کوئی تذکرہ پایا جاتا ہے ۔ آپ کی اولاد واحفاد کے متعلق جو کچھ میسر ہوتا ہے وہ تو رات ہی کے اوراق سے ہوتا ہے اور تورات نے آپ کی اولاد کے ناموں کا علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے لہذا تورات کے قول کے مطابق اسمعیل (علیہ السلام) کے بارہ لڑکے تھے جو بارہ سردار کہلائے اور عرب کے مستعربہ قوم کے مستقل قبائل کے اجداد قبیلہ بنے اور ایک لڑکی کا نام بھی لیا جاتا ہے جو بعض اقوال میں بشامہ ہے اور بعض میں محلاۃ اگر ان کا تذکرہ دیکھنا ہو تو تورات پیدائش 25 : 12 تا 16 کو ملاحظہ کریں ۔ بیٹوں کی کل تعداد 12 ذکر کی گئی ہے اور آپ کے دو بڑے بیٹے نابت یا نبایوت اور قیدار بہت مشہور ہوئے اور ان دونوں کا تذکرہ تورات میں کثرت سے پایا جاتا ہے اور عرب مؤرخین بھی ان ناموں کا اکثر ذکر کرتے ہیں اور یہی وہ نابت ہیں جن کی اولاد اصحاب الجر کہلائی اور یہی وہ قیدار ہیں جن کی اولاد در اولاد اصحاب الرس کے نام سے معروف ہوئی اور قیدارہی کی اولاد مکہ مکرمہ میں بھی آباد رہی اور انہوں نے اپنے باپ اسمعیل (علیہ السلام) کی طرح اس مقدس گھر (بیت اللہ) کے حقوق کو ہمیشہ پورا کیا ، قیدار کی اولاد ہی میں 37 پشت کے بعد عدنان کے بعد اس قوم پر بنی جرھم کا قبیلہ غالب آگیا اگرچہ وہ ان کے ننہال ہی ہوا کرتے تھے تاہم بنو جرہم نے ان کو مکہ سے نکال دیا کیونکہ ان لوگوں نے اب تک بنو جرہم کی بت پرستی میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن قصی نے جو عدنان دوم میں پندرہویں پشت میں ہیں پھر مکہ پر قبضہ حاصل کرلیا اور اس نے مکہ میں مشترکہ حکومت کی بنیاد ڈالی ۔ قصی کے بعد اد کا بیٹا عبد مناف جس کا اصل نام مغیرہ تھا اور عبد مناف کا فرزند ہاشم جس کا اصل نام عمرو اور ہاشم کا فرزند ارجمند عبدالمطلب تھا جس کا اصل نام شیبہ تھا اور عبدالمطلب ہی ہمارے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا جد امجد تھا جو عبداللہ کا باپ تھا اور عبداللہ نبی کریم ﷺ کے باپ یعنی والد ماجد کا اسم گرامی ہے ۔
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی عمر ‘ وفات اور مدفن :
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد واحفاد نے بہت نام پیدا کیا اور بہت ہی بڑھے اور پھولے اور اسمعیل (علیہ السلام) کی موجودگی ہی میں ان کا سلسلہ بہت پھیل گیا تھا جو حجاز ‘ شام ‘ عراق ‘ فلسطین اور مصر تک پھیلتے چلے گئے تھے ، تورات کے بیان کے مطابق اسمعیل (علیہ السلام) نے 136 سال عمر پائی اور اس طرح بحمد اللہ عمر دراز پانے کے بعد وفات پائی اور تورات ہی کے بیان کے مطابق آپ اپنی آخری عمر میں واپس فلسطین چلے گئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی تھی اور وہیں دفن ہوئے ۔ (پیدائش باب 25) لیکن عرب مؤرخین اس کی تصریح کرتے ہیں کہ اسمعیل (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ ہاجرہ بیت اللہ کے قریب حرم کے اندر مدفون ہیں ۔ (طبری ج اول) یہی بات قرین قیاس ہے اور اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہی علام الغیوب ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم اس سرگزشت کو ختم کر رہے ہیں ۔ اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید ۔
سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت :
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) اور سیدنا اسحاق (علیہ السلام) دونوں علاتی بھائی اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند ارجمند ہیں ۔ دونوں بھائی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں بڑھاپے میں پیدا ہوئے ۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سے سیدنا اسحاق (علیہ السلام) 13 سال سے 18 سال عمر میں چھوٹے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر اسمعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت بھی ابراہیم (علیہ السلام) بوڑھے تھے تو سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت تو بہت ہی بوڑھے ہوچکے تھے ، بعض بزرگوں نے سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کو بڑا اور اسمعیل (علیہ السلام) کو چھوٹا تحریر کیا ہے اور ایسا تحریر کرنے والوں ہی میں میرے شیخ حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی (رح) بھی ہیں لیکن جو استدلال آپ نے سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے ہونے کے لیے کیا ہے وہ صحیح نہیں معلوم ہوتا اور اپنے رائے انہی لوگوں کے ساتھ ہے جن لوگوں نے اسمعیل (علیہ السلام) کو بڑا اور سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کو چھوٹا تحریر کیا ہے ۔ بلاشبہ قرآن کریم نے جس جگہ (آیت) ” غلام علیم “ ذکر کیا ہے وہاں مراد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) ہیں اور جہاں (آیت) ” غلام علیم “ بیان کیا ہے مراد اسمعیل (علیہ السلام) ہی لیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ آپ کے دونوں بیٹے ہی مبشر ہیں لیکن جب ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی طلب کے لیے دعا کی اور آپ کی دعا کو قبولیت بخشتے ہوئے خوشخبری سنائی گئی کہ آپ کی دعا قبول ہے اور آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی جاتی ہے وہ بیٹا (آیت) ” غلام علیم “ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔ اس کا ذکر سورة الصافات میں ہے کہ آپ نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں درخواست کی اور یہ درخواست آبائی وطن سے ہجرت کر آنے کے بعد کی جیسا کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین “ (الصفت 37 : 99) ” اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا “ رب کی طرف جانے والا ہوں اس سے مراد ہے کہ میں جلدی ہجرت کرکے اس مقام کی طرف جانے والا ہوں جس مقام کی طرف ہجرت کرنے کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ پھر جب آپ ہجرت کرکے اس مقام میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین (37 : 100) ” اے میرے رب ! مجھے اولاد عطا فرما جو نیکو کاروں میں سے ہو “ ظاہر ہے کہ ابھی تک آپ کے ہاں اولاد نہیں تھی تب ہی آپ نے اولاد کی طلب کی تو آپ کی طلب کا آپ کو جواب دیا گیا کہ (آیت) ” فبشرنہ بغلم حلیم “۔ (37 : 101) ” سو ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی “ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہی وہ لڑکا (آیت) ” غلام حلیم “ ہے اور غلام حلیم ہی اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اور آپ کے انہیں بیٹے کو ذبیح اللہ کہا گیا ہے اور یہی وہ پہلے بیٹے ہیں اور پہلے ہونے کے باعث بڑے بھی ہیں ۔ اسحاق (علیہ السلام) چونکہ اسمعیل (علیہ السلام) سے بھی 13 سے 18 سال عمر میں چھوٹے ہیں اور جتنے آپ چھوٹے ہیں اتنے ہی ابراہیم (علیہ السلام) آپ کی پیدائش کے وقت مزید بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب بحمد اللہ آپ کو اولاد دی جا چکی ہے اس لیے مزید اولاد کے لیے آپ نے کوئی دعا بھی نہیں کی لیکن اس بچے کی خوشخبری دینے والے جب آئے تو آنے والوں نے خود ہی ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ خوف نہ کھائیں ہم نے کھانا اس لیے نہیں کھایا کہ ہم کھانا کھایا ہی نہیں کرتے ہم تو آئے ہیں کہ (آیت) ” بشروہ بغلام علیم “۔ (الزاریات 51 : 28) ” اسے ایک صاحب علم لڑکے کی خوشخبری دی “ تو اس کی بی بی جو دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی تھی آگے آئی اور اپنے منہ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہنے لگی کہ میں تو بوڑھیا بانجھ ہوں میرے اولاد کیسے ؟ تو آنے والوں نے اس کو جواب دیا کہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے وہ حکمت والا ہے ‘ علم والا ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ آنے والوں نے خود ہی لڑکے کی خوشخبری سنائی اور کہا کہ (آیت) ” انا نبشرک بغلام علیم “۔ (الحجر 15 : 53) ” بلاشبہ ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنانے کے لیے آئے ہیں “ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” تم مجھے اس بات کی خوشخبری دیتے ہو حالانکہ اب مجھ پر بڑھاپا طاری ہوچکا ہے اب کونسی امید باقی رہ گئی ہے کہ ایسی خوشخبری مجھے سنانے لگے ہو تو انہوں نے کہا ہم نے تمہیں سچائی کے ساتھ خوشخبری سنائی ہے پس تم کو ناامید نہیں ہونا چاہئے ۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ آنے والے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے ہیں تو انہوں نے دیکھا کہ آپ کی بی بی سارہ کھڑی ہیں اور وہ آنے والوں کو دیکھ کر خوش ہو رہی ہیں تو آنے والوں نے ان کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی (آیت) ” فبشرنھا باسحق “ ۔ تو اس نے ان کی خوشخبری سن کر فورا جواب سنایا کہ (آیت) ” ء الدوانا وعجوز وھذا بعلی شیخا “۔ (ھود 11 : 72) ہاں ! میرے اولاد ہو حالانکہ میں تو بوڑھی ہوچکی ہوں اور یہ میرا شوہر بھی بوڑھا ہوچکا ہے ؟ تو آنے والوں نے کہا کہ اس میں تعجب کی بات کیا ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام تم کو سنایا جا رہا ہے اور جب وہ رحمت کرنے پر آتا ہے تو اسی طرح کردیتا ہے ۔
(بقیہ تفسیر اگلی آیت میں)