37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 37:81

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا

بلاشبہ وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا : 81۔ بظاہر ذکر صرف نوح (علیہ السلام) ہی کا معلوم ہوتا ہے لیکن مراد اس سے وہ ساری جماعت ہے جو آپ کے ساتھ ایمان لائی اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئی اور جن کی اولاد اس دھرتی پر آباد ہے اور تا ابدالآباد جب تک نظام دنیا قائم ہے باقی رہے گی اور آج تک ان کے ایمان کی تعریف بیان کی گئی اور رہتی دنیا تک ان کے ایمان کی تعریف ہوتی رہے گی اس طرح نیک لوگوں کا نام اس دنیا میں بھی امتیازی حیثیت رکھتا ہے اور انشاء اللہ آخر میں بھی رکھے گا ۔
Ayah 37:82

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا ان لوگوں کو باقی رکھ لیا : 82۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بچے جن کو نوح (علیہ السلام) نے کشتی پر سوار کیا اور وہ کشتی پر سوار ہوگئے خواہ وہ اہل اولاد میں شامل تھے اور خواہ وہ صرف اہل ہی میں شامل تھے اولاد نہیں تھے کیونکہ حسب ونسب کے ساتھ جو تعلق اولاد کا ہے وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہے اور فرمانبرداری میں جو تعلق اہل وآل کو ہے وہ اولاد کو بھی حاصل نہیں ہے اور یاد رہے کہ اہل ہونے کے لیے اولاد ہونا ضروری نہیں ، نوح (علیہ السلام) کے حالات اور نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 577 میں ملاحظہ کریں ۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی (نوح) کی پیروی کرنے والوں میں تھا

ابراہیم (علیہ السلام) بھی نوح (علیہ السلام) کے گروہ ہی میں سے تھے : 83۔ وہ لوگ جو نوحعلیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے ان سب کو پیش نظر رکھ کر بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق اہل اور اولاد دونوں حیثیتوں سے نوح (علیہ السلام) سے خاص تھا اس لیے نوح (علیہ السلام) کے بعد نبوت و رسالت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے لازم قرار پائی تھی اور اس جگہ ذریت کو بااہل ہر حال میں تعلق نسل نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ضروری تھا اسی لیے زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی اور زیر نظر آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق نوح (علیہ السلام) کے ساتھ حسب ونسب کے لحاظ سے بھی تھا اور اہل وآل ہونے کی حیثیت سے بھی اور جب ابراہیم (علیہ السلام) اس دنیا میں تشریف لائے تو نبوت کے عہدہ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے لازم کردیا گیا جیسا کہ اس کا ذکر آگے آرہا ہے ۔
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ (ابراہیم ) اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آیا

جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے : 84۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آباواجداد کفر اور شرک میں ڈوبے ہوئے تھے آپ کے والد اپنی قوم کے پروہتوں میں سے ایک پروہت تھے ‘ بت گھڑتے بھی تھے ‘ بیچتے بھی تھے اور بزرگوں کی تعظیم میں بھی پیش پیش تھے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تو والد اور قوم کو سمجھانا شروع کیا کہ شرک کتنی بری چیز ہے کہ انسان کے سارے گناہوں کو صاف کیا جاسکتا ہے لیکن شرک ایک ایسی چیز ہے جو قابل معافی نہیں ہے مگر زندگی کے اندر کوئی توبہ کرکے معاف کرا لے یہ دوسری بات ہے زیر نظر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ آپ کو اسلام پسند ماحول میسر نہ آیا تھا تاہم ایک پکے اور سچے مسلم بن کر ظاہر ہوئے اور آتے ہی اپنی قوم اور اپنے والد ہی سے تبلیغ کا سلسلہ شروع کردیا لیکن والد کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھا اور قوم کے ساتھ بھی نہایت ہی ٹھوس موقف رکھتے ہوئے نہایت نرمی سے بات کی ۔
Ayah 37:85

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

اور جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو

اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو : 85۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے باپ اور قوم کو دیکھا کہ وہ کود ہی بت تراشتے اور خود ہی ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ‘ یہ کیا ہے ؟ جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ دراصل قوم کے تسلیم شدہ بزرگ تھے جب وہ مر گئے تو ان لوگوں نے ان کا تصور قائم کرنے کے لیے یہ بت تراشے ہیں کہ ان کو سامنے رکھنے سے ان بزرگوں کا تصور قائم ہوتا ہے تو فطری تقاضا کے مطابق ان کے اندر اللہ نے یہ صدا پیدا کردی کہ بھلا کبھی انسان کا کوئی انسان بھی حاجت روا اور مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا ہو سکتا ہے یا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مخلوق مخلوق ہی کو اپنا الہ اور معبود بنا لے اور خالق کو چھوڑ دے اور اللہ نے آپ کے دل میں یہ بات ڈالی اور آپ اس بات پر جم گئے جوں جوں غور کرتے گئے اللہ تعالیٰ کے پردے ہٹا دیئے اور بات آپ پر بالکل واضح ہوگئی کہ یہ سارا کاروبار ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی ہی چل رہا ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں تو آپ نے باپ اور قوم پر بات کو واضح کردینے کا فیصلہ کیا ۔
Ayah 37:86

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا تم جھوٹ باندھ کر اللہ کے سوا اور معبودوں کو چاہنے والے ہو ؟

کیا تم جھوٹ باندھ کر اللہ کے سوا اور معبودوں کو چاہنے والے ہو ؟ (رح) 86۔ آپ والد اور قوم کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دوٹوک الفاظ میں ان سے کہنے لگے کہ کیا تم جھوٹ گھڑتے ہو اور اللہ کے مقابلہ میں اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ کوئی مخلوق بھی کسی دوسری مخلوق کی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہو سکتی اور خالق کے لیے موت کہاں ؟ پھر جس نے تخلیق کیا ہے کیا اس نے تخلیق کرکے ایسے ہی چھوڑ دیا ہے اور مخلوق کا کوئی بندوبست نہیں کیا تو وہ خالق خالق کا ہے کا ہوا ۔ تعجب ہے کہ تم نے خود کسی کو بزعم خویش بزرگ مان لیا اور پھر خود ہی ان کے مرنے کے بعد ان کے بت تراشنے شروع کردیئے اور خود ہی ان کو پکارنے لگے نہ اللہ نے یہ فرمایا نہ اللہ کے نیک بندوں نے یہ کہا اور نہ ہی عقل سلیم اس کو گوارا کرتی ہے تم نے خود ہی اپنی خواہش کے مطابق ان کو معبود اور الہ مان لیا اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے ۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

پس تم نے رب العالمین کے متعلق کیا سمجھ رکھا ہے ؟

تم نے رب العالمین کے متعلق کیا سمجھ رکھا ہے ؟ : 87۔ تمہارے بزرگ ‘ اولیاء اور پیرومرشد تو تمہارے خدا ہوگئے اور اس کائنات میں کہیں تو وہ تمہارے شریک ہیں اور کہیں مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں انتظام وانصرام ہوگیا پھر آخر اللہ کے ذمہ کیا کام رہ گیا ؟ آخر کچھ تو بتاؤ کیا اللہ میاں آرام کررہا ہے یا ریٹائر ہوچکا ہے یا اس نے کوئی اور کاروبار شروع کر رکھا ہے اور تمہارا انتظام غیروں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے ۔ باقی معاملات تو تم نے اپنے اختراعی معبودوں کے ہاتھ میں دے دیئے پھر تم ہی کو بتا دینا چاہئے کہ اس معبود حقیقی کا کیا ہوا ؟ آپ نے اپنی قوم سے مختلف سوال کیے مگر کوئی نہ تھا جو زبان سے بول کر جواب دیتا ۔
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پس (ایک روز) اس نے ستاروں کی طرف نگاہ اٹھائی

پس ایک روز اس نے ستارروں کی طرف نگاہ اٹھائی : 88۔ گزشتہ باتیں انہوں نے اپنے والد اور قوم سے صرف ایک بار نہیں کیں بلکہ اکثر موقع بہ موقع ہوتی رہیں کبھی ایک بات ہوتی کبھی دوسری ‘ کبھی اشارہ میں اور کبھی تفصیل کے ساتھ ۔ پھر یہی نہیں کہ آپ کی قوم کے لوگ صرف بتوں اور قبروں ہی کی پرستش کرنے والے تھے نہیں ان میں ستارہ پرست ‘ سورج کی پوجا کرنے والے ‘ چاند کو پوجنے والے سب ہی قسم کے لوگ موجود تھے اور آپ وقتا فوقتا سب ہی کے خلاف تبلیغ کرتے رہتے تھے ، اس دفعہ جب انہوں نے اپنی قوم اور والد کو مخاطب کرکے بات کی تو ان کی دلچسپیوں کا ذکر کرنے کے بعد اور ان سے سوال کرنے کے بعد پھر رب العالمین کو آپ لوگوں کے کس کام کا رہنے دیا قوم کے ان لوگوں کا ذکر بھی کردیا جو ستاروں کی پرستش کرتے تھے اور یہ مضمون دراصل اسی تقریر کا حصہ ہے ۔ انبیاء ورسل کا یہ کمال تھا کہ تبلیغ کرتے رہتے تھے اور لوگوں کی الٹی سیدھی سن کر ان کو کوئی غلط جواب نہیں دیتے تھے بلکہ اس مجلس کو کچھ دیر کے لئے برخاست کردیتے تھے اور پھر موقع پا کر تبلیغ کے لیے شروع ہوجاتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ستاروں کے متعلق کسی وقت ان لوگوں سے جو ستاروں کی پرستش کرنے والے تھے مناظرانہ بات چیت ہوجاتی اور انہی باتوں میں کسی بات کی طرف اس جگہ اشارہ کردیا گیا ہو اور وہ لوگ بھی جب اپنے مذہبی اجتماع کرتے تو ابراہیم (علیہ السلام) کو دعوت دے دیتے کہ تم بھی بہت باتیں کرتے ہو آؤ ہمارے مناظرین کی باتیں بھی سنو بہرحال کسی اسی طرح کی مجلس ‘ جلسہ جلوس اور اجتماع کی آپ کو دعوت دی گئی جس کا ذکر اس جگہ نہیں لیکن پیچھے تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے ۔
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہا کہ میری طبیعت (تمہارے معبودوں کی نسبت) خراب ہے

قوم کے لوگوں کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : 89۔ آپ نے ان کو جواب دیا کہ میں اس وقت صحیح نہیں ہوں ورنہ جب پہلے ہی جاتا رہا ہوں تو اس دفعہ بھی مجھے جانے میں کچھ عذر نہ ہوتا رہی یہ بات کہ اس وقت جو آپ کی طبیعت پر بوجھ تھا وہ کیا تھا تو واقعات یہ بتاتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر بوجھ آپ کی طبیعت پر یہی تھا کہ ان لوگوں کو ہر لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کی اور نہایت نرم پالیسی اختیار کی گئی لیکن انہوں نے میری اس نرمی سے بہت ہی غلط فائدہ اٹھایا اب کوئی سخت اقدام کرنا ہی مفید ہو سکتا ہے صرف بات چیت کی پالیسی پر اکتفا مفید نظر نہیں آتا اس لیے آپ بلاشبہ اسی اضطراب میں تھے اور بلاشبہ اضطراب اور پریشانی ساری بیماریوں سے بڑھ کر ایک بیماری ہے ۔ افسوس کہ ہمارے بعض مفسرین نے ان دونوں آیتوں کے واقعات کو اکٹھا بیان کرنے کے باعث بہت دھوکا کھایا اور مضمون کو خلط ملط کر کے رکھ دیا اور اسلام کے اصولوں ہی سے انحراف کر گئے اس طرح اشارہ کردیا کہ آپ نے ستاروں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو محسوس کیا کہ میں تو بیمار رہنے والا ہوں گویا انسان کی صحت وبیماری کا تعلق اتنی بات کہہ کر ستاروں کے ساتھ جوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہوتے ہوتے ستاروں کے علوم اور ان کا انسانی زندگی کے ساتھ تعلق اور اس طرح کے دوسرے موضوعات شروع ہوگئے اور یہ بحث طول پکڑتے پکڑتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی حالانکہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ان بحثوں کی سخت تردید کی اور ایسی باتوں پر توجہ نہ دینے کا واضح بیان دیا لیکن لوگوں نے آج تک اس علم کو ذریعہ معاش بنایا ہوا ہے اور لوگوں کو ان کی وہم پرستی کے باعث خوب کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے ۔
Ayah 37:90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پس وہ لوگ بھی اس کو چھوڑ کر (ایک روز کہیں) چل دیئے

بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) کو چھوڑ کر اپنے جلسہ ومیلہ میں چلے گئے : 90۔ مختصر یہ کہ آپ کو دعوت دینے والے چلے گئے اور آپ جس غور وخوض میں تھے پیچھے رہ گئے آپ نے اپنی طیبعت کے انتباض کے بارے میں سوچا جتنا کہ سوچ سکتے تھے لیکن اس دفعہ ان کے دل نے ایک نہایت ہی اہم اقدام کرنے کا ارادہ کرلیا تاکہ اب جو کچھ ہونا ہے وہ ہو اور بات جس رخ بھی چلنا چاہتی ہے آگے بڑھے اور آگے چلے
Ayah 37:91

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پھر وہ ان کے بتوں میں جا گھسا (اور فطرت انسانی کے مطابق کہا) تم کو کیا ہے کہ تم کھاتے کیوں نہیں ہو ؟

آج ان بتوں پر جو قوم کے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے بنا رکھے تھے داخل ہوگئے : 91۔ آپ نے اپنے دل میں آج اس کا فیصلہ کرلیا کہ چلو جو ہونا ہے آج فراغت حاصل ہوگئی ہے تو ان کے سب سے بڑے بت خانہ کی طرف چلتے ہیں جس کے سب سے بڑے منتظم اعلی آپ ہی کے والد تھے ، انجام کار آپ وہاں داخل ہوگئے اور ان کو جیسے پر شاد پیش کیا اور فرمانے لگے کہ تم لوگوں کی مدد اور فریاد رسی کرسکتے ہو لیکن کھا نہیں سکتے ‘ آخر کیوں ؟ ہاں ! ہاں ! ذرا کھا کر ہی دکھاؤ تاکہ مجھے معلوم ہو کہ تمہاری روحیں تم سے الحاق رکھتی ہیں اور تم لوگوں کی باتیں سنتے اور ان کو جواب بھی دیتے ہو لیکن اس بات کا تو ان کو بھی اعتراف تھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ یہ پتھر اور مٹی کے بت جو ان کے سامنے گھڑے گئے ہیں کچھ کھا سکتے ہیں ؟
Ayah 37:92

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم بولتے نہیں ہو ؟

کہنے لگے کہ تم کو کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ہو ؟ : 92۔ فطرت انسانی بھی بڑی عجیب چیز ہے کہ بعض اوقات انسان جانوروں سے ‘ پتھروں سے اور بےارادہ چیزوں سے اس طرح باتیں کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی باارادہ اور باختیار چیز سے بات کرتا ہے اور دراصل وہ ایسا اس وقت کرتا ہے جب کسی نہایت افسوس اور دکھ میں مبتلا ہوتا ہے اور اپنے کرب وابتلا میں ایسی باتیں بےاختیار نکالتا جاتا ہے اور اس وقت اس طرح کی کیفیت آپ پر بھی طاری تھی اور آپ اپنی قوم کا دکھ ان بےجان چیزوں پر نکالے جا رہے تھے اور قرآن کریم نے بھی اس فطری حالت کو اس طرح بیان کردیا ہے اس سے بےجان چیزوں کے سننے نہ سننے کا مسئلہ خواہ مخواہ کی ایک بحث ہے جس کو اٹھانا ایک کج فہمی اور کج بحثی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
Ayah 37:93

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر اس نے داہنے ہاتھ سے پوری قوت کے ساتھ ان پر ضربیں لگائیں

پھر آپ نے داہنے ہاتھ سے پوری قوت کے ساتھ ضربیں لگائیں : 93۔ اس طرح اپنے ہی وہم میں باتیں کرتے کرتے آپ نے دل میں پختہ ارادہ کرلیا اور پوری قوت کے ساتھ ان پر ضربیں لگانا شروع کردیں ۔ آپ کے ہاتھ میں اس وقت یقینا کوئی ایسی چیز ضرور تھی جس سے پتھروں کو توڑا جاسکتا ہے چونکہ وہ پتھروں ہی سے گھڑے گئے تھے اور وہ جتنے تھے ان میں سے ایک بڑے کو چھوڑ کر سب کے سب فنا کردیئے کہ بت خانہ کے اندر ایک ڈھیر لگا دیا کسی کا بازو ‘ کسی کی ٹانگ اور کسی کا سر اور کسی کے سارے اعضاء کو توڑ پھوڑ دیا ، اس طرح سب پر ہاتھ صاف کر کے واپس آگئے کہ چلو اب جو ہو سو ہو اس طرح باپ بیٹے کی سرد جنگ اب پورے زور وشور سے آگ کی طرح پھیل گئی ۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

بعد ازیں قوم کے لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئے

ازیں بعد قوم کے لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئے : 94۔ قوم کے لوگ اپنے جلسہ ومیلہ سے جب واپس لوٹے اور بت خانہ کے مجاور اپنے بت خانہ میں داخل ہوئے تو ان کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خفیہ طور پر اپنی مجلس کی کہ اب قوم کو کیا کہنا ہے بہرحال ان کی مجلس کا فیصلہ یہی ہوا کہ یہ کارستانی ہو نہ ہو ابراہیم ہی کی ہے لیکن ابراہیم کچھ بھی ہو آخر ان کے ایک بہت بڑے پروہت کا بیٹا ہے اس لیے انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر یہی فیصلہ کیا ابراہیم کچھ بھی ہو آخر ان کے ایک بہت بڑے پروہت کا بیٹا ہے اس لیے انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر یہی فیصلہ کیا کہ اب جو کچھ بھی ہو ابراہیم کو پوری قوم کے سامنے بلانا چاہئے اس مشورہ کے بعد وہ ابراہیم کو قوم کے سامنے بلا لائے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے آتے ہی بجائے اس کے کہ وہ سوال کرتے ان سے پوچھ لیا کہ تم ان کی پرستش کرتے ہو جن کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو گویا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس طرح اس حقیقت کو واضح طور پر قبول کرلیا کہ ہاں ! یہ میرا کام ہے اور ظاہر ہی ہے کہ اس قوم میں میرا سوا اور ہے ہی کون جو اتنی بڑی ہمت کرسکے ۔ بڑے نادان ہو تم جو ایسے بےبس اور بےجان مجسموں کو پوجتے ہو اور جن کے یہ بت تراشے گئے ہیں اگر ان کو اتنی قدرت تھی کہ وہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکتے تھے تو پھر تم ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ صاحب ! ہم نے تو تمہاری یاد کرنے کے لیے تمہارے بت رکھے تھے لیکن تم اپنے ان مجسموں کی بھی حفاظت نہ کرسکے تو یہ تمہاری حفاظت کیا کریں گے اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے نظریہ کو قوم کے سامنے عملی طور پر رکھ دیا تاکہ کوئی شخص بھی اگر ان باتوں پر غور کرنے والا ہے تو غور وفکر کرکے اپنے آپ کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے اس لیے کہ ابھی وقت ہے ۔
Ayah 37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا کیا تم ان کی پرستش کرتے ہو جن کو تم (خود) تراشتے ہو

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ان کی پرستش کرتے ہو جن کو خود تراشتے ہو : 95۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے قوم کے لوگ جب آپ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو باتوں ہی باتوں میں خوب لاجواب کردیا کہ تعجب ہی نہیں تم پر افسوس بھی ہے کہ تم نے اپنے ہی ہاتھوں سے ان مجسموں کو گھڑ کر خود ہی ان کی پرستش شروع کردی اور اگر تم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان کی جن کے یہ بت بنا رکھے ہیں پرستش کرتے ہو تو بھی آخر ان کو ان اپنی شبیہوں کی حفاظت تو کرنا چاہئے تھی تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ چلو بت تو پتھر ہیں لیکن جن کے یہ تراشے گئے ہی وہ تو بہت پہنچ والے ہیں انہوں نے دیکھو فورا اس شخص کو ڈھیر کردیا جس نے ان کے مجسموں کے ساتھ ایسا عمل کیا ۔
Ayah 37:96

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

(حالانکہ) تم کو اور جو تم بناتے ہو سب کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے

حالانکہ تم کو اور جن کے تم نے یہ بت تراشے ہیں سب کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے : 96۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ تم میری بات کان کھول کر سن لو کہ دراصل پیدا کرنے والا تو تمہارا بھی وہی ہے جو ان کا پیدا کرنے والا ہے جن کے تم نے بت تراش رکھے ہیں اور یہ بھی کہ اس پروردگار عالم کے بنائے ہوئے ان ہاتھوں سے تم نے ان کے بت تراش لیے اور اس کی دی ہوئی عقل اور اس کی عطا کردہ طاقت سے تم نے ان کو تراشا اور بنایا اور پھر اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اس مخلوق کے پیچھے ہو لیے اور پھر وہ مخلوق بھی اپنے اپ کو بچا نہ سکی اور موت کا پیالہ منہ سے لگا لیا اور تم نے ان کے یہ تراشے تراش کر ان کا تصور قائم کیا اور اس پروردگار حقیقی کو چھوڑ دیا ۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی باتوں کو سنا لیکن کوئی جواب نہ دے سکے کیونکہ ان کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں لیکن آخر بگڑنا تو ان کو آتا تھا کیونکہ وہ پوری جماعت تھے اور جماعت کے سامنے ایک فرد کی آخر حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ۔
Ayah 37:97

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

(قوم کے لوگوں نے) کہا کہ اس (ابراہیم) کے لیے اس کو ایک بنیاد بناؤ پھر اس کو دہکتی [ ہوئی آگ میں ڈال دو

لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کے لیے اسی بات کو بنیاد بناؤ اور اس کو آگ میں ڈال دو : 97۔ جب قوم کے لوگوں کو کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے آپس میں طے کیا کہ جو ابراہیم کہہ رہا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں پوری قوم کے عقیدہ ونظریہ کو پامال کرنا ہے اس لیے اب اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر ابراہیم کے لیے ایک ایسی آگ جلاؤ جس میں وہ جل بھن کر رہ جائے لہذا انہوں نے اس مسئلہ کو کھڑا کرلیا اور ابراہیم کے لیے پورے علاقہ میں آگ لگا دی کہ ہر آدمی آپ کے خلاف بپھر گیا اور اس وقت آپ کا والد باوجود قوم کا پروہت ہونے کے آپ کو پتھر مار مار کر ہلاک کرنے کی دھمکی سنانے لگا کہ اس زمین کو چھوڑ دو ورنہ تمہارے خلاف ایسی سخت کارروائی ہوگی کہ تمہارا بیرہ بیرہ کردیا جائے گا اور تم کو وہ مار ماری جائے گی کہ آنے والی نسلیں بھی اس کو یاد رکھیں گی ۔ اس طرح آپ کے خلاف ایک ایسا الاؤ جلا دیا گیا جس سے نکلنا آپ کے لیے مشکل ہوگیا ۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

اُنہوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی اور ہم نے ان کو نیچا دکھایا

انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور اللہ نے ان کو نیچا دکھایا : 98۔ اس طرح انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف ایک چال چلی تاکہ اس کا کام تمام کردیں لیکن ان کی اس چال کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ناکام کردیا اور اس پر ایسا پانی ڈالا کہ کوئی شخص ابراہیم کا بال بھی بیکا نہ کرسکا ۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا کر خاک کردینے کے لیے آگ جلائی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایسا بجھایا کہ وہ بجائے نقصان کرنے کے سلامتی والی ثابت ہوئی اس لیے کہ اللہ نے اس آگ سے بال بال بچالیا ۔ قرآن کریم نے کتنی صفائی کے ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی خفیہ تدبیر کو قدرت الہی نے نیچا دکھا دیا اور جو وہ کرنا چاہتے تھے نہ کرسکے ۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور اس نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں ، وہ مجھے راہ دکھائے گا (اس طرح وہ ہجرت کر کے وہاں سے چلا گیا

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ مجھے راہ دکھائے گا : 99۔ وہ جس آگ میں پھینک کر ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کردینا چاہتے تھے اس آگ میں ابراہیم (علیہ السلام) ہلاک نہ ہوئے بلکہ سلامتی کے ساتھ بچ کر نکل آئے اور اس معاملہ میں قوم اور باپ کے مقابلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی برتری ثابت ہوگئی اور مشرکین کو اللہ نے نیچا دکھا دیا ۔ بلاشبہ اس واقعہ کو بیان کرنے سے اصل مقصود قریش کے لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ جن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر تم کو فخر ہے ان کا وہ طریقہ نہ تھا جو تم نے اختیار کر رکھا ہے بلکہ ان کا طریقہ وہ تھا جسے محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا ہے اور آپ ﷺ لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں اب اگر تم نے ان کو نیچا دکھانے کے لیے وہ چالیں چلیں جو ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے خلاف چلی تھیں تو آخر کار نیچا تم ہی دیکھو گے محمد رسول اللہ ﷺ کو نیچا تم نہیں دکھا سکتے کیونکہ جو کچھ تم محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہو یہ سب کچھ ابراہیم کے ساتھ اس کی قوم نے کیا تھا اور جس طرح اس کی قوم ابراہیم کا کچھ نقصان نہ کرسکی بلکہ جو کچھ انہوں نے نقصان کیا وہ اپنا ہی کیا بعینہ تم بھی وہی کچھ کر رہے ہو اور نتیجہ اس کا وہی نکلے گا جو ابراہیم کے وقت میں نکل چکا ہے ، انجام کار ابراہیم (علیہ السلام) نے وہاں سے ہجرت کی اور اس علاقہ کو فی سبیل اللہ چھوڑ دیا اور وہاں سے ہجرت کر آئے اور زیادہ سے زیادہ یہی کچھ یہاں بھی ہوگا کہ اگر آپ نے یہی رویہ روا رکھا تو محمد رسول اللہ ﷺ یہاں سے ہجرت کر جائیں گے لیکن جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے ابراہیم (علیہ السلام) کو بخریت نکال لیا تھا بالکل اسی طرح ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی بخیریت نکال لے جائیں گے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جو کچھ کہا گیا تھا وہی کچھ ہوا ۔ آیت 83 سے لے کر 99 آیت تک جو واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اس جگہ بیان کیا گیا وہ نہایت ہی اختصار سے بیان ہوا اس کی تفصیلات پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 74 تا 80 ‘ جلد پنجم سورة مریم کی آیت 40 تا 50 جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 51 تا 70 بیان کی جا چکی ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما

ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد اللہ رب کریم سے نیک اولاد کی دعا کی : 100۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کرنے کے بعد چلتے چلاتے کنعان کی طرف تشریف لے آئے ۔ سارہ ؓ کے ساتھ آپ کی شادی اپنے وطن میں ہی ہوچکی تھی جو آپ کی چچا زاد بھی تھیں اور دوران ہجرت اللہ نے مصر سے ایک اور بیوی عطا کردی جو مصر کی شہزادی تھیں جن کا نام بی بی ہاجرہ ؓ تھا اب دو بیویاں آپ کے پاس تھیں اور تیسری سے آپ نے وہاں پہنچ کر شادی کی جس کا نام قطورا تھا لیکن ابھی تک اولاد سے محروم تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد عطا کرنے کی اپیل کی کہ اے اللہ مجھے ایسی اولاد عطا فرما جو میری فرمانبردار بھی ہو اور تیرے احکام کی بھی پابند رہنے والی ہو تاکہ وطن چھوڑنے کی جو تکلیف مجھ کو ہوئی اس کا کچھ تو ازالہ ہو اور میری اس تبلیغ کا سلسلہ بھی میرے بعد تک برابر جاری وساری رہے ۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی

پھر ہم نے اس کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی : 101۔ اس بات کی وضاحت بھی ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں کہ جہاں بھی (آیت) ” غلام حلیم “ کی خوشخبری اللہ نے بیان فرمائی اس سے مراد سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جو سیدہ ہاجرہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے اور جہاں بھی (آیت) ” غلام علیم “ کی بشارت دی گئی اس سے مراد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) ہیں جو سیدہ سارہ ؓ کے بطن سے پیدا ہوئے اور قطورا سے آپ کی اولاد زیادہ پیدا ہوئی لیکن وہاں کسی کی خوشخبری پہلے نہیں سنائی گئی تھی ۔ اس جگہ چونکہ (آیت) ” غلام حلیم “۔ کا ذکر ہے اس لیے اس سے مراد سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ہی لیے گئے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ساری اولاد میں سے یہی بڑے ہیں ۔ اولاد کی خواہش ایک فطری امر ہے اور اولاد کا نیک اور صالح ہونا اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان ہے جس کو صالح اولاد اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے صالح اولاد مانگ کر دنیا اور دین کی گویا ساری بھلائیں مانگ لیں اور اللہ نے آپ کی دعا کو منظور فرمایا اور ایک بردبار بیٹے کی خوشخبری سنا دی اس طرح اللہ نے بیٹا بھی عطا کیا اور اس کی زندگی بھی رجسٹرڈ کردی کہ جب تک آپ کا بیٹا اپنی بردباری کی مثالیں دنیا میں قائم نہ کرلے گا اس وقت تک ہم اس کو زندہ رکھیں گے پھر بلاشبہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بردبار ہونے کا ثبوت ایک بار نہیں بار بار پیش کیا ۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر (وہ بیٹا) جب اس کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو اس نے کہا اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں پھر تو بھی غور کرلے کہ تیرا خیال کیا ہے ؟ (بیٹے نے) کہا جو کچھ آپ کو حکم ہوا ہے کر دیجئے آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے

اسمعیل (علیہ السلام) کے بردبار ہونے کا پہلا ثبوت جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا : 102۔ بڑی امنگوں کے بعد پیدا ہونے والا بیٹا جس کی بشارت اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سنائی تھی جب بلوغت کے قریب پہنچ گیا تو اس کی بردباری کا امتحان ساتھ ہی شروع ہوگیا ۔ ایک رات ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں کیونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے خواب بھی بمنزلہ وحی ہوتے ہیں اس لیے آپ سمجھ گئے کہ بیٹے کا امتحان شروع ہونے والا ہے بلکہ بیٹے کے ساتھ ہی میرا امتحان بھی ۔ قرآن کریم نے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی عمر تو نہیں بتائی کہ اس وقت کتنی تھی لیکن جو ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” فلما بلغ معہ السعی “۔ پھر جب بیٹا باپ کے ساتھ دوڑنے بھاگنے لگا اور چھوٹے موٹے کام میں شریک ہونے لگا اور ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہوا ‘ اپنی رائے پیش کرنے کے قابل ہوا اور عقل وفکر سے کام لینے لگا اور دین و دنیا کی سمجھ اس کو آگئی تو اس وقت آپ کو یہ خواب دکھائی دیا ۔ خواب دیکھ کر آپ اپنے بیٹے سے مخاطب ہوئے اور جو کچھ اشارہ ہوا تھا وہ من وعن بیٹے سے بیان کردیا ” ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھ کو ذبح کر رہا ہوں تو بھی اس بات پر غور کر کہ اس اشارہ کا مفہوم کیا ہے اور مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ “ اسماعیل (علیہ السلام) نے جواب دیا ” جو کچھ آپ کو حکم ہوا ہے کر دیجئے آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے ۔ “ یہ خواب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت دکھائی دیا جب سیدنا اسحاق کی پیدائش ہوئی اور اسحاق (علیہ السلام) اپنے بھائی سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سے تقریبا پندرہ سولہ سال ہی چھوٹے تھے ۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا تو (کیفیت خواب کے مطابق بیٹے کو) کنپٹی کے بل لٹایا

پس جب دونوں فرمانبردار ہوگئے تو باپ نے بیٹے کو کن پٹی کے بل لٹا دیا : 103۔ دونوں باپ بیٹا اللہ تعالیٰ کے مطیع وفرمانبردار ہوگئے ‘ باپ وہ کچھ کرنے پر تیار ہوگیا جس کا خواب میں اشارہ پایا تھا اور بیٹا وہ کچھ کرنے کے لیے حاضر باش ہوا تو باپ نے بیٹے کو کن پٹی کے بل لٹا دیا اور بیٹے نے بخوشی اس حالت کو قبول فرمایا ۔ غور کرو کہ جس اسلام کی دعوت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) دیا کرتے تھے اس کا عملی مظاہرہ اسمعیل (علیہ السلام) کی اس ادا سے زیادہ حسین اور دلکش پیش کیا جاسکتا ہے ۔ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا : یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی : بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی تعبیر یہی تھی کہ اسمعیل (علیہ السلام) کو شام سے دور ایک اونچے مقام پر لے جا کر جس کی نشاندہی بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو ہوئی منہ کے بل لٹادیا جائے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسا کرنے پر تل گئے اور اسمعیل (علیہ السلام) نے بھی بخوشی اس جدائی کو منظور کرلیا کہ اللہ کا حکم یہی ہے تو اللہ کے حکم کے لیے دونوں باپ بیٹا تیار ہیں اس حکم کے اندر کیا ہی راز پنہاں تھا بلاشبہ اس وقت یہ عمل کرنے والوں کو بھی معلوم نہ ہوگا کہ ایسا حکم ہم کو کیوں دیا جا رہا ہے لیکن بعد میں آنے والے وقت نے بتایا کہ اس میں دونوں باپ بیٹے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا ہی برکت رکھی تھی کہ ایک اسماعیل کو منہ کے بل لٹایا گیا کہ قوموں کی قومیں آج تک اسی طرح منہ کے بل لیٹتی چل جا رہی ہیں اور اسی طرح چلی جا رہی ہیں کہ ہر ایک طرف سے آنے والا والہانہ انداز میں ہزارہا روپیہ خرچ کر کے چلا آرہا ہے اور دنیا حیران ہے کہ اس جگہ ماجرا کیا ہے اور اس طرح اندھا دھند چلے جانے کا مدعا کیا ؟ ۔
Ayah 37:104

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ندا دی کہ اے ابراہیم (تو خوب رہا)

اور ہم نے اس کو ندا دی کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! شاباش ہے آپ کے لیے : 104۔ جو کچھ آپ نے خواب دیکھا اس کی جو تعبیر آپ کے دل میں اللہ نے ڈالی وہ وہی تھی جس کا ذکر اوپر کیا گیا کہ خواب جو کیف ذبح دکھائی گئی تھی بلاشبہ وہ کیف بھی آپ نے پوری کی اور اس کیف کی جو حقیقت تھی اس پر بھی جو انشراح آپ کو ہوا وہ وحی الہی کے مطابق تھا اور اس غیر ذی زرع وادی میں جہاں آبادی برائے نام اور پہاڑ ہی پہاڑ تھے اسمعیل (علیہ السلام) کو لابسایا گیا اور ابراہیم کے بیٹے نے اپنے باپ کی فرمانبرداری کے لیے ایسے مقام پر رہنا پسند کرلیا اس کا اجر آخرت میں جو ہوگا وہ آخرت ہی میں ہوگا لیکن جو دنیا میں شاباش ملی وہ بھی آپ ہی کا حصہ تھی کہ ایسی شاباش کسی دوسرے کو نصیب نہ ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دنیا سے گئے ہوئے ہزاروں سال گزر گئے لیکن یہ شاباش دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی جا رہی ہے اور مناسک حج کے پورا کرنے میں نسک کی سنت کو بھی بدستور پذیرائی حاصل ہے اور رہتی دنیا تک حاصل رہے گی ۔
Ayah 37:105

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں

آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں : 105۔ اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا اللہ سے بڑی چاہت سے مانگا ہوا بیٹا اپنے سے جدا کردیا اور یہ جدائی تو نے ہماری خاطر قبول کی اور اسمعیل (علیہ السلام) نے بھی اپنے خاندان سے الگ تھلک ہو کر اس غیر ذی زرع وادی میں رہائش اختیار کرکے ہماری فرمانبردای کا ثبوت دیا اور غریب الوطنی اختیار کرکے شیطان کا ٹھوٹھا توڑ دیا اس نے نہ معلوم باپ بیٹے کو کتنے بہکاوے دیئے اور کیا کیا وسوسہ اندازیاں کیں لیکن بحمد اللہ باپ بیٹے نے اس کی ایک نہ سنی ، غور کرو کہ آج کل کی طرح وہ زمانہ نہیں تھا کہ ضرورت ہوگی تو بیٹا باپ کو یا باپ بیٹے کو جب چاہے گا مل لے گا ۔ ٹیلیفون پر بات چیت ہوجائے گی ‘ خط اور پیغام پہنچا لیا جائے گا نہیں ان باتوں میں سے ایک بھی نہیں تھی اور سینکڑوں میل کی مسافت دونوں کے درمیان حائل ہوگئی لیکن رضائے الہی کے لیے ان کا سب کچھ حاضر تھا اور بلاشبہ سب کچھ ہی حاضر کردیا اور بیٹے نے اپنے حلم و بردبار ہونے کا عملی ثبوت پیش کردیا ، مفسرین نے جو تفسیر بیان کی اس میں یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کی قربانی پیش کردی لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں یہی منظر تھا کہ اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح نہ ہوا لہذا اس کو ذبح ہونے سے بچالیا گیا گویا اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح نہ ہوئے جب کہ ہمارے خیال کے مطابق بلاشبہ اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح ہوئے اور اسی لیے آپ ذبیح کہلائے اور آپ کا ذیبح ہونا یہی ہے کہ باپ کی فرمانبرداری میں وطن سے بےوطن ہوئے اور یہی آپ کا ذبیح ہونا تھا اس لیے یہ کہنا کہ آپ ذبح ہونے سے بچ گئے بالکل صحیح نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ذبیح ہوئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی منظور ہوگئی اور پھر جو اس کے نتائج نکلے وہ ساری دنیا نے دیکھے اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے کہ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح کی جزا دیتے ہیں ۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ایک آزمائش تھی بہت بڑی

بلاشبہ اس میں ایک بہت بڑی آزمائش تھی جو پوری ہوئی : 106۔ دنیا اپنی اولاد کو دوردراز کے سفروں اور دوسرے ملکوں میں روانہ کرتی ہے اور اس وقت ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دور دراز علاقوں میں چلے گئے ہیں لیکن وہ کیوں بھیجے گئے ہیں اور جانے والے کس شوق کے ساتھ جاتے ہیں ؟ سب کو معلوم ہے کہ دنیا کے مال کی خاطر کہ وہاں سے مال ملتا ہے اور وہ مال سب کے کام آتا ہے اور مال ہی کی خاطر جدائی برداشت کرلی جاتی ہے لیکن کہیں اللہ کی رضا کے لیے بھی ایسا ہوتا دیکھا ہے ؟ پھر اس کو آزمائش نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک عظیم قربانی (باپ کا بیٹے کو دور بسا دینے) کو اس کا فدیہ (بنا) دیا

ہم نے ایک عظیم قربانی کو اس کا فدیہ بنا دیا : 107۔ اس طرح اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو سنت خلیل قرار دے کرتا قیامت جاری کردیا کہ اس واقعہ کی یاد تازہ ہوتی رہے اور یہ بھی کہ اس قربانی کو مناسک حج میں لازم وضروری قرار دے دیا کہ اسماعیل کی آباد کردہ جگہ اور مقام کی طرف جو جائے گا وہ قربانی کا جانور ضرور قربان کرے گا اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری وساری رہے گا تاکہ باپ بیٹے کی فرمانبرداری کی یاد تازہ رہے اور لوگ قیامت تک اس خون بہا کر ادا کرتے ہی رہیں تاکہ ان کی محبت کا سب کو پتہ چلتا رہے ۔
Ayah 37:108

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد آنے والوں میں اس (کے ذکر خیر) کو باقی رکھا

ہم نے اس کے بعد آنے والوں کے لیے اس کا ذکر باقی رکھا : 108۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر آپ کے بعد کی ساری قوموں میں بدستور ہوتا آیا ہے اور نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے اور اس طرح ان کا ذکر تاقیام قیامت دنیا والوں میں چلتا ہی رہے گا ، بلاشبہ یہ پیش گوئی تھی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی اور آپ کا ذکر خیر جد انبیاء کے طور پر ہوتا چلا آیا ہے اور بدستور ہوتا رہے گا ۔
Ayah 37:109

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلام ہو ابراہیم (علیہ السلام) پر (کہ وہ سلام کا مستحق ٹھہرا)

سلام ہو ابراہیم پر کہ وہ سلام کا مستحق ٹھہرا : 109۔ سلام کے متعلق قبل ازیں بہت دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر سلام یہی ہے کہ ان کے تذکار میں جو لوگوں نے اپنے طرف سے قصے بیان کرتے ہوئے الزامات لگا دیئے ان کی سختی کے ساتھ تردید کی جائے اور حقائق کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ الزامات ایک ایک کرکے ختم ہوتے چلے جائیں اور انبیاء ورسل معصوم ہوتے ہیں ان کی عصمت پر حرف نہ آنے پائے ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تاریخ کو یہود نے بہت مسخ کیا ہے اور اپنی قومی بداعتدالیوں کو چھپانے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام کی زندگیوں کو داغ دار کرکے پیش کیا ہے تاکہ ان کو وہاں سے جواز حاصل ہو سکے ، قرآن کریم نے ان زوائد چیزوں کو بیان نہ کرکے گویا ان کی تردید کردی ہے اور صرف ان باتوں کو بیان کیا ہے جن کی کچھ حقیقت تھی اور ہمارے زندگی کے لئے اس میں سبق موجود تھا لیکن ہمارے مفسرین نے قصص کے ان حصوں کو تورات سے اٹھا کر تفسیر میں لا کر اس طرح رکھ دیا کہ آج وہ اسی طرح ہم کو اسلامی لٹریچر میں موجود ملتے ہیں اس لیے مسلمانوں کی اکثریت ان کو اسی طرح تسلیم کرتی چلی آرہی ہے ۔
Ayah 37:110

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم اپنے مخلص بندوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

ہم اپنے مخلص بندوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں : 110۔ یہ وہی آیت جو اس سورت کی آیت 80 کے طور پر بھی گزر چکی ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ وہاں سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر میں آئی تھی اور اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں آرہی ہے اور اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو محسنین کے لیے جزا مقرر کی ہے وہ اسی طرح بدستور جاری وساری ہے ‘ پہلے نیک بندوں کے لیے بھی اسی طرح تھی اور آئندہ نیک بندوں کو بھی ملتی رہے گی ، ہاں ! درجات کا فرق پہلے بھی تھا وہ آج بھی بدستور موجود ہے اور وہ جزا جو انبیاء ورسل کے لیے خاص تھی وہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے ساتھ ختم کردی گئی ۔
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ایک بندہ تھا : 111۔ (مؤمن) امن دینے والا ۔ انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی مؤمن ہے ۔ وہ بندے جن سے امن ظاہر ہو یا مجسمہ امن ہوں اور ان سے کسی طرح بھی امن کے منافی کوئی چیز نہ پائی جاتی ہو اور اصطلاح شرعی میں ایمان والا وہی ہوگا جس سے امن کے خلاف کوئی چیز موجود نہ ہو اور آج کل جن لوگوں نے اپنے نام کے ساتھ مومن کا لفظ لازم وضروری قرار دے لیا ہے وہ وہی ہیں جو مجسمہ شر اور برائی ہیں جن میں خیر نام کی چیز شاید ہی کہیں پائی جاتی ہو اور لوگوں کے دل دکھانا جن کا نصب العین ہے گویا انہوں نے مومن کے لفظ ہی کو ناپاک کر کے رکھ دیا ہے ، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی چور یا ڈاکو کو پیر جی اور گرو جی کہہ دے ۔ بہرحال اسلام کی نگاہ میں مومن کی تعریف آج بھی وہی ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی جس میں امن ہی امن رکھا گیا ہو اور بدامنی اور شرارت کی کوئی چیز اس میں موجود نہ ہو ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے جلیل القدر نبی ورسول ہیں اور ایسے رسول ہیں جن کی نسل کے ساتھ نبوت و رسالت خاص کردی گئی تھی لیکن ان ساری چیزوں کو چھوڑ کر ایمان والے بندوں میں ان کا شمار کرنا ایمان کی تشریح کی خود بخود وضاحت کر رہا ہے کہ وہ کتنی بڑی اہم چیز ہے ۔ اسمعیل (علیہ السلام) کی اس بشارت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک مبشر بیٹے کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا نام نامی اور اسم گرامی اسحاق (علیہ السلام) ہے ۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک (اور) بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی کہ وہ بھی نبی اور نیک بخت بندوں میں سے ہو گا

ہم نے اس کو ایک اور بیٹے اسحاق کی بشارت دی کہ وہ بھی نبی اور نیک ہوگا : 112۔ اسحاق (علیہ السلام) سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سے پندرہ سال چھوٹے ہیں اور سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کی بشارت کا ذکر سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے ، ان کی پیدائش کی خوشخبری اسی وقت دی گئی جب لوط (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور ساتھ ہی بیٹے کی عمر بھی رجسٹرڈ کردی اس لیے خبر دی گئی کہ براہ راست اسحاق (علیہ السلام) کی والدہ کو مخاطب کیا گیا اور اس کو بیٹے کی خبر دی اور ظاہر ہے کہ یہ سارہ ہی تھیں جو اسحاق (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھیں اور خوشخبری میں بتایا گیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک فرزند دے گا اور پھر آپ کے فرزند کے ہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب رکھنا اور اس طرح گویا اس مبشر بیٹے کی عمر بھی رجسٹر کردی کہ یہ بیٹا اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہوجائے اور جب اس کے اولاد ہو تو اس کا نام یعقوب رکھنا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ آپ کا یہ بیٹا بھی نیک اور صالح ہوگا اور اس کی اولاد یعنی یعقوب (علیہ السلام) بھی نیک اور صالح ہوں گے ۔