38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

صا ... د۔ قرآن (کریم کے رب کی قسم) جو نصیحت والا ہے

ص حروف مقطعات میں سے ہے اور وائو کو قسمیہ کہا گیا ہے : صاد۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے اور سورت کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے ۔ (والقران) میں وائو قسمیہ کہی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ قسم کسی بات کو پکا اور پختہ کرنے کے لیے اٹھائی جاتی ہے اور انسانوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ قسم اٹھائیں تو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اٹھائیں اور غیر اللہ کی قسم صحیح نہیں ہے اور عربوں کے رواج کے مطابق وائو کے آگے اللہ یا رب کا لفظ محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس ذات کی قسم جس ذات نے قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گویا رب قرآن کی قسم جس نے قرآن کریم کو نازل کیا جو سراپا نصیحت ہے اور بلاشبہ اس کے نصیحت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ (واقعہ یہ ہے کہ) کافر غرور اور مخالفت میں مبتلا ہیں

بلکہ کافر اور مخالفت میں مبتلا ہیں : 2۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے جب تعلیمات اسلام قوم کے سامنے پیش کیں تو انہوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کے ٹھکرانے کا اصل باعث ان کی عزت اور ان کا وقار تھا جو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں سمجھتے تھے۔ بلاشبہ اعلان نبوت سے پہلے آپ نے تجارت کی اور تجارت میں اللہ نے برکت بھی بہت عطا فرمائی لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کی شادی سیدہ خدیجہ سے ہوگئی خدیجہ مکہ کی ایک مالدار خاتون تھیں شادی کے بعد اگر آپ تجارت کی طرف زیادہ رغبت دیتے تو دنیا کے مال سے مالا مال ہوجاتے لیکن جونہی شادی کی تو عائلی زندگی اختیار کرنے کے باوجود آپ نے دنیا اور دنیا کی چیزوں کی طرف رغبت نہیں کی بلکہ اس دنیا کی جتنی رغبت پہلے موجود تھی اس میں بھی کمی آگئی اور آپ غور و فکر میں لگ گئے۔ بلاشبہ آپ کے ہاں اولاد بھی ہوتی رہی لیکن آپ کا زیادہ وقت تفکر و تدبر میں گزرنے لگا اسی وجہ سے دولت میں اضافہ نہ کرسکے بلکہ اس میں روز بروز کمی ہی آئی اور جب آپ نے بعثت کا دعویٰ کیا تو بڑے مالدار لوگ اس خبط میں مبتلا ہوگئے کہ مال و دولت میں ہم زیادہ ، خاندان میں ہماری پوزیشن زیادہ بہتر ، دنیا والے لوگ پوچھنے بلانے والے ہم کو اور یہ اعزاز محمد بن عبداللہ کو آخر کیوں ؟ اسی چاہت عزو جاہ نے ان کو مخالفت پر کمر بستہ کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ اور طائف کے جتنے و ڈیرے تھے وہ سارے کے سارے آپ کے مخالف ہوگئے اور اپنی دنیوی عزت ہی ان کو سب سے زیادہ آڑے آئی پھر جب تحریک اسلامی ان کے رسم و رواج کے بھی خلاف تھی تو ان کو ایک بلحاظ دنیا معقول بہانہ مل گیا اور اس طرح انہوں نے مخالفت کرنے کا پکا ارادہ کرلیا پھر جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بالارادہ مخالف ہوجائے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے تو ہر حال میں مخالفت کرنا ہے حق و ناحق تو اس کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں رہتی پھر خصوصا جہالت کی اس مخالفت کا کوئی علاج نہیں ہے اور اس وقت اس بات کی تفہیم اس لیے کوئی مشکل امر نہیں کہ فی زماننا ہماری مذہبی مخالفتیں اور سیاسی مخالفتیں اسی جہالت کے باعث قائم ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے حالانکہ ہم سب مسلمان کہلاتے ہیں۔ ان کی مخالفت کفر اور اسلام کی مخالفت تھی لیکن ہماری مخالفت اسلام اور اسلام ہی کی چل رہی ہے ۔ اللہ ہمیں ان مخالفتوں کے بوجھ سے نکال دے اور سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا پھر انہوں نے فریاد کی لیکن (اب) رہائی کا وقت کہاں ؟

کتنی ہی جماعتیں تھیں جن کو ہم ہلاک کرچکے حالانکہ وہ بےوقت فریاد کرتے رہے : 3 : آپ کے ذریعہ سے کفار مکہ کو سرزنش کی جارہی ہے کہ تم سے پہلے بھی کتنے لوگ تھے جو مے دو سالہ سے مست تھے اور ہمارے بندوں سے ناحق عداوت رکھتے تھے لیکن ان پر جب ہمارا عذاب آیا تو ان کے سارے نشے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ان کو ساری دشمنیاں بھول گئیں اور عذاب کو دیکھ کر وہ چیخے اور چلائے اور فریادیں کیں یہاں تک کہ فرعون جیسا سرکش کہ جب پانی کے چند گھونٹ اندر گئے تو بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے لگا لیکن ہماری سنت نہ تو آج تک بدلی اور نہ ہی بدلنے کا کوئی امکان ہے انہوں نے بھی مہلت اسی وقت طلب کی جب مہلت کا وقت گزر گیا اور اگر قریش مکہ نے بیو وہی کیا جو پہلے کرچکے تو ظاہر ہے کہ ان کا حال بھی یقینا وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہوا الا یہ کہ گزشتہ قوموں اور بستیوں کی طرف انبیاء ورسل آئے تھے اس لیے اس علاقہ ، قوم اور بستی کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اور اب کے امت پوری انسانیت قرار دے دی گئی ہے اس لیے جہاں جہاں زیادہ بداعتدالیاں ہوں گی وہاں وہاں چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جائیں گے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں اور پھر انجام کار ایک روز قیامت کبریٰ قائم ہوجائے گی اور ازیں بعد سارے کے سارے لوگ اپنے اپنے کیے کا جواب پیش کریں گے پھر وہ بھی ہیں جو پاس ہو کر باغات نعیم میں اور اللہ کی رضامندیوں میں ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جن کو جہنم رسید کردیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب چکھیں گے ۔ بہر حال توبہ گناہوں کو کھا جاتی ہے بشرطیکہ وہ وقت پر میسر آجائے وقت گزرنے کے بعد توبہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ وہی صورت ہوتی ہے جس کو لوگ پیاز کھانے اور جوتے بھی ساتھ ہی کھانے سے تعبیر کرتے ہیں اور قبل ازیں بھی بہت ایسے تھے جن کے ساتھ ایسا ہوا اور اب بھی ہیں اور ہوتے ہی رہیں گے۔ زیر نظر آیت کی ترکیب میں بھی بہت کچھ کلام کیا گیا ہے لیکن یہ خبط عام قارئین کرام کے بس کا نہیں ہے۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) اس بات پر حیرت کرنے لگے کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کفار کہنے لگے کہ یہ شخص جادوگر ہے

ان کو بہت حیرت ہوئی کہ ان میں سے ایک ڈرانے والا آگیا ، کافروں نے جادو گر قرار دیا 4۔ جو تعجب قریش مکہ کو ہوا وہ تقریبا دنیا کی ساری قوموں کو ہوا یہی وجہ ہے کہ بعض نے اس وقت جب انبیاء و رسل آئے ان کو انسان دیکھ کر بنی ورسول ماننے سے انکار کردیا اور برملا کہا کہ بھلا انسان بھی کبھی نبی ورسول ہو سکتا ہے اور آج کل کے لوگوں کو چونکہ رسول ونبی سامنے نظر نہیں آتے اس لیے وہ ان کو نبی ورسول تو مانتے ہیں لیکن ان کی بشریت سے وہ بھی انکاری ہیں۔ قریش مکہ کو بھی اسی بات نے تعجب میں ڈالا کہ عجیب بات ہے کہ ہم ہی میں سے ایک آدمی کو نبی ورسول بنا دیا گیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ حقیقت فقط یہ ہے کہ نہ تو وہ نبی ہے اور نہ رسول صرف اور صرف ایک جادوگر ہے جو جھوٹ گھڑتا ہے اور بیان کرتا ہے۔ غور کرو کہ قریش مکہ کے کفار بھی جادو کو جھوٹ مانتے اور تصور کرتے ہیں لیکن آج ہمارے بڑے بڑے علامہ حضرات اور مفتیانِ شرع بھی جادو کو ایک حقیقت تصور کرتے ہیں گویا ان ساری ڈگریوں کے باوجود پھر جاہل کے جاہل ہی ہیں یا یہ کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے جاہلوں کو جاہل رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا الو سیدھا رہے اور جادو کرتے اور کراتے رہیں پھر اس پر مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ سارے مکاتب فکر کیا اہل توحید اور کیا شرک پسند سب کے سب اس بیماری میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ ان فراڈیوں کے فراڈ سے قوم کو بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے تمام معبودوں کی جگہ ایک معبود بنا دیا یقینا یہ بڑی تعجب کی بات ہے

سارے معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود بھی تعجب کی بات ہے 5۔ مکہ والوں نے تقریبا 360 بت تو صرف بیت اللہ کے اندر لا رکھے تھے جن میں سے بعض وہ بھی تھے جو سارے گروہوں کے ساجھی تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو قبائل اور گروہوں سے تعلق رکھتے تھے اور بعض محض اشخاص کے پھر ان کی تاریخ بڑی لمبی ہے خصوصا پانچ تن کا ذکر نوح (علیہ السلام) سے چلا آرہا تھا اور یہ قریش مکہ کے ہاں بھی اسی طرح مبارک سمجھے جاتے تھے جس طرح نوح (علیہ السلام) کے زمانہ یعنی ود ، سواع ، یغوث ، یعقوق اور نسر علاوہ ازیں لات ، مناۃ اور عزیٰ بھی بڑے معبودانِ خاص میں سے تھے۔ پہلے پانچ کی تفصیل تو سورة نوح ہی میں آئے گی اور یہ آخری تین کی وضاحت اس طرح ہے کہ لات کا استھان طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے اس حد تک معتقد تھے کہ جب ابرہا ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ کو توڑنے کے لیے مکہ پر چڑھائی کرنے جا رہا تھا اس وقت ان لوگوں نے محض اپنے اسی معبود کے آستانے کو بچانے کی خاطر اس ظالم کو مکہ کا راستہ بتانے کے لیے بدرقے فراہم کیے تاکہ وہ لات کو ہاتھ نہ لگائے حالانکہ تمام اہل عرب کی طرح ثقیف کے لوگ بھی یہ جانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔ لات کے معنوں میں بلاشبہ اہل علم کے درمیان اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ اللہ کی تانیث ہے گو یجا اصل لفظ اللہ تھا جس اللات کردیا گیا اور بعض کے نزدیک یہ لوی یلوی سے مشتق ہے جس کے معنی مڑنے اور کسی کی طرف جھکنے کے ہیں۔ چونکہ مشرکین عبادت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کے آگے جھکتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے اس کو اللات کہا جانے لگا۔ ابن عباس ؓ اس کا الات بتشدید تاء پڑھتے ہیں اور اسے لت یلت سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی متھنے اور لتھیڑنے کے ہیں ان کا اور مجاہد کا بیان ہے کہ یہ دراصل ایک شخص تھا جو طائف کے قریب ایک چٹان پر رہتا تھا اور حج کے لیے جانے والوں کو ستو پلاتا تھا اور کھانا کھلاتا تھا جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اسی چٹان پر استھان بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ جس کو ایک شخص کہا گیا اور اصل میں وہ امراۃ یعنی عورت ہو کیونکہ قرآن کریم میں اس کو تین دیوی کے طور پر بیان کیا گیا ہے نہ کہ دیوتائوں کے طور پر تا ہم یہ تو تسلیم ہے کہ بت آخر انسانوں ، حیوانوں اور جانوروں ہی کہ شکل کے بنائے گئے تھے اور اب بھی جو لوگ بناتے ہیں انہیں چیزوں کے بناتے ہیں ان میں زیادہ تر انسانوں ہی کے بت بنائے جاتے ہیں اگرچہ یہ سب کچھ تخیل ہی تخیل ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ عزیٰ عزت سے ہے اور اس کے معنی عزت والی کے ہیں۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر واقع تھا۔ اور اس وقت بنی ہاشم کے حلیف قبیلہ بنی شیبان کے لوگ اس کے مجاور تھے اور دوسرے قبائل کے لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر نذریں چڑھاتے اور اس کے لیے قربانیاں کرتے تھے کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی ھدی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔ ابن ہشام کی روایت ہے کہ ابو احیمہ جب مرنے لگا تو ابو لہب اس کی عیادت کے لیے گیا ، دیکھا کہ وہ رو رہا ہے۔ ابو لہب نے کہا کیوں روتے ہو ابو احیمہ ؟ کیا تم کو موت سے ڈر آرہا ہے ؟ حالانکہ موت تو سب کو آئے گی۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں موت سے ڈر کر نہیں روتا بلکہ مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میرے بعد عزی کی پوجا کیسے ہوگی ؟ ابو لہب بولا اس کی پوجا نہ تمہاری زندگی میں تمہاری خاطر ہوتی تھی اور نہ تمہارے بعد اسے چھوڑا جائے گا۔ ابو احیمہ نے کہا اب مجھے اطمینان ہوگیا کہ میرے بعد میری جگہ کوئی سنبھالنے والا ہے۔ مناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر تھا اور خاص طور پر خزاعہ اور اوی اور خزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔ اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور اس پر نذر کی قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منی سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے مناۃ کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند کردی جاتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ اسلام نے آکر ان میں سے ایک ایک کی تردید کی لیکن بدقسمتی سے آج کوئی گائوں ، قصبہ ، شہر ایسا نہیں جہاں یہ کام نہ ہو رہے ہوں۔ فرق ہے تو فقط یہ ہے کہ ان مقامات پر روضے اور گنبد بنا لیے گئے ہیں گویا بتوں کی جگہ ان مٹی کے ڈھیروں نے لے لی ہے جن کو پتھر اور اور چونے سے پکا کردیا گیا اور ان کے اوپر ایک گنبد نما عمارت بنا دی گئی ان جگہوں پر ساری جاہلی رسومات ادا کی جاتی ہیں اور بڑے بڑے جاہل جیسے وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ ، اسمبلیوں کے اسپیکر ، اور اس ملک عزیز کے صدر اور ان کے اعوان و انصار سب ان رسومات میں شریک ہوتے ہیں اور اس ملک عزیز کے کئی ایک قبروں کو عطر گلاب سے غسل دیا جاتا ہے اور ان پر غلاف چڑھائے جاتے ہیں اور اب تو بعض روضوں اور خانقاہوں کا باقاعدہ حج اور طواف بھی ادا کیا جاتا ہے۔ ملک عرب کی اقوام کے ان معبودوں کی تعداد دگئی گئی تھی لیکن اس ملک پاکستان میں ان گنت معبود بنائے جا چکے ہیں اگرچہ لات ، مناۃ ، عزیٰ ، ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کے مقابلہ میں اتنے ہیں یا اس سے زیادہ چند ایک اور ہوں گے۔ اسی طرح مشرکیں مکہ کو تعجب تھا کہ ” کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی تعجب کی بات ہے “ لیکن بحمد اللہ ہمارے ان سارے مشرکوں کو اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کو ایک مانتے اور لا الٰہ الا اللہ کی صدائیں بلند کرتے ہیں اور ان ساری شخصیتوں کو معبود بھی بنائے جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ان کی مادری زبان عربی تھی وہ لوگ لا الٰہ الا اللہ کے معنی بھی سمجھتے اور قرآن کریم کی زبان کو سمجھتے تھے کہ وہ ہم کو کیا کہتا ہے اور ہمارے ہاں لا الٰہ الا اللہ محض رسما پڑھا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اس کے معنی و مفہوم نہیں جانتے اور وہ مخصوص لوگ جو جانتے ہیں وہ دوسروں کو بتانے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ ان کی دکانداری خراب ہوتی ہے اگر لوگ اس کے معنی سمجھ جائیں تو پھر ان کی کوئی وقعت نہیں رہتی اس لیے وہ اس طرف سے بالکل آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے اور ہم خود اس مسئلے پر براہ راست غور کریں اور ان اجارہ داریوں سے اسی وقت ہم نجات پا سکتے ہیں۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور ان کے سردار یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر قائم رہو ، یہ بات ضرور کسی غرض کے لیے کہی جا رہی ہے

قریش کے سرداروں نے کہا کہ اپنے معبودوں پر قائم رہو ، کہنے والے کی کوئی خاص غرض ہے 6 : قریش کے سرداروں نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کی بعثت کے پہلے دو تین سال تو شغل بنائے رکھا اور ان کے مختلف نام رکھے اور یہی کہتے رہے کہ وہ محمد تھا لیکن مذمم۔ اس کو کسی کی مار لگ گئی۔ بیچارے پر کسی نے جادو کر دا ہے لیکن جب آہستہ آہستہ آپ کی تحریک چل نکلی اور معدودے چند آدمی ایمان لے آئے تو ان کو فکر لاحق ہوئی اور کبھی جب آپس میں مل بیٹھتے تو مجلس میں آپ کا ذکر مختلف پیرایوں میں ہوتا اور اپنی اپنی رائے دے کر بات ختم ہوجاتی اور کوئی اہم قدم انہوں نے نہ اٹھایا کبھی کبھار آپ کے چچا ابو طالب سے آپ کی شکایت کرتے لیکن سرے را ہے لیکن جب حضرت عمر فاروق ؓ باسلام ہوئے تو کفار کے گھر صف ماتم بچھ گئی اور ان کی پریشانی اور اضطراب کی حد نہ رہی۔ ولید بن مغیرہ نے سردارانِ قریش کو مشورہ کے لیے طلب کیا۔ اکابر قوم اکٹھے ہوئے اور اب حالات کی سنگییم پر تبادلہ خیال کرنے لگا۔ ولید عمر میں سب سے بڑا اتھا اس نے مشورہ دیا کہ چلو ابو طالب کے پس چلیں خصوصا اب اس کے پاس جانا لازم ہوچکا ہے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائے کہ وہ ہمارے معبدوں کو جو برملا برا بھلا کہتا ہے وہ اس سے باز آجائے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان کی ذات گرامی اور وہ قریش کے معبودوں کو برا بھلا کہیں یہ بات کہاں تک صحیح ہو سکتی ہے ؟ بات سو فی صدی غلط ہے لیکن کیوں اور کیسے ؟ آپ نے کبھی کسی کے معبود کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ کسی کے معبود کو برا بھلا کہنے سے اسلام نے شروع سے منع کردیا تھا بات دراصل یہ تھی کہ آپ جب یہ ارشاد فرماتے کہ یہ تمہارے معبود حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہیں۔ تمہاری بگڑی یہ نہیں بنا سکتے ، تمہارے نفع و نقصان کے مالک یہ نہیں ہیں ، تمہیں اولاد یہ نہیں دے سکتے ، بارش ان کے کنٹرول میں نہیں ہے ، دھوپ یہ نہیں لاسکتے ، ہوا پر ان کا کنٹرول نہیں اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرماتے کہ تمہارے یہ سارے کام صرف اور صرف رب العالمین کے قبصہ میں ہیں تو انہیں باتوں کو وہ گالیاں سمجھتے تھے اور یہی نہیں کہ وہ سمجھتے تھے بلکہ آج بھی مسلمانوں میں سے مشرک فرقے وہابیوں کو گستاخ اولیاء کرام اور نبیوں ، رسولوں کے منکر خیال کرتے ہیں جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ ایک اللہ کو حاضر و ناضر ، عالم الغیب اور نفع و نقصان پہنچانے والا تصور کرتے ہیں پھر جب ان وہابیوں کو ان حقائق کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جن حقائق کو ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں مثلا جب ان کو کہا جاتا ہے کہ خالق صرف اللہ ہے کوئی دوسرا خالق نہیں ہو سکتا اس لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو قرآن کریم میں (اخلق) کا لفظ آیا ہے تو اس کے معنی پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں نام کے زندوں کو جو فی الحقیقت دلوں کے مردہ ہیں زندہ کرنا مراد ہے تو وہ وہی کچھ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ان کو حال کے مشرکوں نے کہا تھا گویا جو روڑا ان پر پھینکا گیا تھا وہی روڑا اٹھا کر آگے پھینک دیتے ہیں اور جو زیادتی ان کے ساتھ روا رکھی گئی تھی وہی زیادتی وہ دوسروں سے جائز اور روا رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اکابر قریش ابو طالب کے پاس جمع ہوئے اور اپنی آمد کی غرض وغایت اس سے بیان کی۔ ابو طالب نے بھی اپنے بھتیجے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو بلوا بھیجا کہ یہ سردارانِ قریش آپ کی یہ شکایت لے کر آئے ہیں اور قبل ازیں بھی یہ مجھے کہہ چکے ہیں آپ ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ آپ نے جواب دیا اے چچا جان ! میں اپنی قوم کو اس بات کی دعوت نہ دوں جس میں ان کی خیرو فلاح ہے۔ ابو طالب نے پوچھا وہ کونسی دعوت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں انہیں ایک کلمہ کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو عرب وعجم میں ان کی فرمانروائی ہوگئی۔ ابو جہل نے جب آپ کی یہ بات سنی تو بولا کہ تیرے باپ کی قسم وہ کونسا ایسا کلمہ ہے جس کے متعلق آپ ایسی بات کہتے ہیں ، ایسا ایک کلمہ کیا ہم دس کلمے پڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ تو نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے فرمایا ” اتقولون لا الٰہ الا اللہ “ کیا تم لا الٰہ الا اللہ کہتے ہو۔ یہ سنتے ہی قریش کے سردار بڑے غضبناک ہو کر وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اجعل الا لھۃ الھا واحدا کیا اس نے بہت سے معبودوں کی جگہ صرف ایک کو معبود بنا لیا ہے۔ اتنی ساری ضرورتوں کے لیے کیا ایک ہی اللہ کافی و وافی ہے بلاشبہ یہ تو بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ عجاب للبیغ فیا لعجب بہت ہی تعجب میں ڈالنے والی بات ہے بھلا کوئی شخص ایسی بات کو کیسے قبول کرسکتا ہے ؟ ایسی بات جو سارے عرب کے آباء و اجداد کے کہنے کے خلاف ہے یہ کہتے ہوئے وہ اٹھے اور چل دیئے اور آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ اس جگہ سے نکلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ ہو نہ ہو اس میں کوئی اس کا ذاتی مدعا ہے۔ وہ ان کی بات سن کر گویا صرف متعجب ہی نہ ہوئے بلکہ گھبرا بھی گئے ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے معبودوں کے جھوٹ کا تخت ڈولتا ہوا نظر آنے لگا اور فورا خود ہی اس مجلس سے اٹھ بھاگے اور اپنے عوام کو بھی انہوں نے بڑے مشفقانہ اور تحکمانہ انداز میں ہدایت کی کہ یہاں سے نکلو ان کی چکنی چپڑی باتیں مت سنو اور اپنے عقیدہ پر سختی سے قائم رہو۔ یہ دعوت خواہ مخواہ کی دعوت ہے ، یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے کے اور اوپر سے کچھ دعوت دی جا رہی ہے اور اندر سے اس کا مقصد کچھ اور ہے۔ محمد ﷺ کے سیاسی عزائم ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح حکومت مجھ کو مل جائے اور میرا تسلط قائم ہوجائے ، اس کا صداقت و حقانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی دوسرا میرا شریک نہ ہو بلکہ میں اکیلا ہی حکومت کروں اور علاوہ ازیں اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

اور یہ بات تو ہم نے پچھلے مذاہب میں بھی نہیں سنی ، ضرور یہ تو ایک گھڑی ہوئی بات ہے

اس نے ایک ایسی اسکیم لڑائی ہے جس کی گزشتہ جماعتوں میں مثال نہیں ملتی 7 : مطلب یہ ہے کہ اس کی یہ اسکیم جو اس نے سوچی ہے اس سے پہلے کسی کو بھی نہیں سوچھی آج تک اس طرح کی دعوت کسی نے پیش نہیں کی۔ کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں لیکن ہم نے جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کو کون نہیں مانتا اور اس کی ذات واحد کو کون واحد نہیں کہتا لیکن اللہ ایک ہے کہ یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہی نہ رہا کیا یہ سارے لوگ اس کے پیدا کردہ نہیں ہیں ؟ کیا کبھی اس کے پیارے اور محبوب بھی من دون اللہ کی زد میں آتے ہیں اور ان کو ” من دون “ کہا جاتا ہے یہ استھان کیا ہیں ؟ یہ ان بزرگوں کی یاد ہی تو ہیں جن کو اللہ نے اختیار دے رکھا تھا اور وہ اپنے پیارے بندوں کی بھی نہیں مانے گا تو آخر اور کس کی مانے گا جو کچھ محمد ﷺ بیان کر رہا ہے یہ تو ایک سراسر گھڑی ہوئی بات ہے جس کا نہ تو کوئی سر ہے اور نہ ہی پری ہے۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم میں سے اس پر نصیحت اتاری گئی ہے ؟ بلکہ وہ میری وحی کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

کیا نبوت کے لیے اللہ نے اس کو پسند کیا ہے اور مال واولاد میں ہم کو 8۔ ہر جماعت کے اندر ایک قسم کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بہت اقسام کے لوگ ہوتے ہیں اور کسی نبی ورسول سے پوری قوم کا ایک ہی طرح کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ قسم قسم کے اختلاف ہوتے تھے لیکن ہر قسم کے لوگوں کو اختلاف تو ہوتا ہی تھا اس لیے یہ مختلف قسم کے اختلاف رکھنے والے آپس میں مل بیٹھتے اور اپنے زمانہ کے نبی ورسول سے مل کر اختلاف کرتے یہی صورت انبیاء کرام کو پیش آئی اور یہی صورت آج بھی لوگوں کو در پیش ہے بہرحال ان مختلف اختلافات میں سے ایک قسم کا اختلاف یہ بھی تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ قوم کے و ڈیرے تھے جن کی بات چیت اس دور میں چلتی تھی انہوں نے مل کر آپس میں مشورہ کر کے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ اچھا اگر نبوت اللہ کو دینا ہی تھی تو کیا للہ کو سارے وڈیروں میں سے کوئی ایک بھی پسند نہ آیا اور سب کو چھوڑ کر محمد ﷺ کو اللہ نے پسند کرلیا حالانکہ ہم سب یہاں موجود ہیں جن کی بات چیت چلتی ہے اور لوگ ہم کو پوچھتے ہیں اور کوئی کام مکہ میں اور طائف میں ہمارے مشورہ کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ مکہ اور طائف کا نام ہم نے خواہ مخواہ نہیں لیا بلکہ قرآن ِ کریم نے خود دوسری جگہ وضاحت پیش کی ہے ، چناچہ ارشاد ہے کہ (وقالوا۔۔۔۔ ) (الذخرف 43 : 31) ” اور کہنے لگے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن کریم کسی ایسے آدمی پر جو ان دو شہروں میں بڑا ہے۔ “ (القریتین) سے مراد مکہ اور طائف ہے اور مطلب یہ ہے کہ مکہ اور طائف دو بڑی بڑی بستیاں ہیں اور ان دونوں بستیوں میں بڑے برے لوگ رہتے ہیں اگر نبوت اللہ کو دینا ہی تھی تو ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی کو اللہ عطا کرتا تاکہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہوتے اور کوئی اس کی بات کو سن بھی لیتا اور یہی بات زیر نظر آیت میں کہی گئی ہے۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام یہ لوگ میرے ذکر کے معاملہ میں شک میں مبتلا ہیں یعنی ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ فی الواقعہ یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے اور معلوم ہے کہ یہ اس شک میں کیوں مبتلا ہیں ؟ فرمایا وہ اس طرح کی باتیں اس لیے بنا رہے ہیں کہ ہمارے عذاب کا کوڑا ابھی تک ان کی پشت پر نہیں لگا اور مثل ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جب اللہ کی بےآواز لاٹھی ان پر چلے گی تو ان کا سارا خمار اتر جائے گا۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس آپ کے زبردست (اور) بخشش کرنے والے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ؟

کیا اللہ کی بخشش و رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں 9 : مال و دولت ، عزت واقتدار ، برادری ، خاندان اور اولاد جس طرح اللہ کی رحمت ہے بالکل اسی طرح آزمائش خداوندی بھی ہے اسی لیے قرآن کریم نے اس ساری چیزوں کو اللہ کے انعامات سے بھی تعبیر کیا ہے اور فتنہ و آزمائش سے بھی ، اس پر دنیاوی عیش و عشرت اور خوشحالیوں کو قا اس کرلو لیکن نبوت ور سالت جب تک جاری تھی تو وہ اللہ تعالیٰ کی سراسر رحمت اور شفقت ہی تھی اس کو فتنہ و آزمائش نہیں کہا جاسکتا ہے اس لیے یہ وہ رحمت و عنایت تھی جو رحمت ہی رحمت تھی۔ زیر نظر آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے کہ رحمت کے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہر ہے کہ جو مالک ہے وہی اس کا بانٹنے والا بھی ہے جس کو چاہے اور جس وقت چاہے وہ عطا کر دے جس طرح اس نے ان ساری رحمتوں کو تقسیم کرنے اور بانٹنے کے اصول مقرر کردیئے ہیں وہ بھی اس کے مقررہ کردہ اصول ہیں پھر وہ کون ہیں جو اس پر اعتراض کریں ؟ اس میں دراصل ان لوگوں کی سرزنش کی جارہی ہے جن لوگوں نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا تھا کہ ہم اتنے اتنے بڑے مالداروں اور وڈیروں کی موجودگی میں نبوت اللہ نے محمد ﷺ کو دے دی ہے یہ بات ہم کیسے مان لیں اگر نبوت اللہ نے کسی انسان کو دینا ہی تھی تو ہم بڑے لوگوں میں سے کسی کو دیتا جن کی بات پر کوئی کان دھرنے والا بھی ہوتا۔ زیر نظر آیت گویا ان معترضین کے اعتراض کا جواب ہے۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس پر ان کی حکومت ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ان کو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمان پر) چڑھ جائیں ، (اور وحی الٰہی کو روک دیں)

آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کیا اس پر ان کی حکومت ہے ؟ 10۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے نبوت و رسالت وہ نعمت اور وہ انعام تھا جو اس دنیا کے انعامات میں سے سب سے بڑھ کر تھا اور ظاہر ہے کہ ہر انعام کا مستحق ایک طرح کا انسان نہیں ہوتا بلکہ جو شخص جس انعام کا مستحق ہوتا ہے وہی انعام اس کو دیا جاتا ہے۔ ہاں ! یہ بات کہ وہ اس انعام کا مستحق کیوں ہے ؟ یہ انعام بانٹنے والے جو اصول اس کے لیے مقرر کیے ہیں ان اصولوں کے تحت ہی انسان اس کا مستحق ہوتا ہے اور نبوت و رسالت کے سوا باقی انعامات انسان کی آزمائش کے طور پر دیئے جاتے ہیں گویا دوسرے سارے انعامات میں اس آزمائش بھی ایک استحقاق ہے پھر نبوت و رسالت کے لیے بھی ضروری تھا کہ اس کے لیے کوئی اس کا مستحق ہو۔ کیا ان معترضین کے پاس آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا اختیار و حکومت ہے جس کے بل بوتے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس دنیا کے اختیارات تو ہمارے پاس ہیں اور یہ محمد کو رسول بنا کر اس دنیا میں کس نے بھیج دیا ہے اور کیسے بھیج دیا ہے ؟ نبوت کا مقام تو بہت اونچا ہے ہم نے تو ان لوگوں کو معمولی چیزوں کے دینے اور چھیننے کا بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ اگر یہ لوگ بزعم خویش کوئی قوت و طاقت اور اختیار رکھتے ہیں تو اسے کام میں لا کر عرش تک رسائی حاصل کریں اور وہاں قبضہ جما کر بیٹھ جائیں اور اس کائنات کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اس طرح لوگوں کو دکھا دین کہ ان سارے انعامات پر حق ہمارا ہے اور ہمارے سوا کون ہے جس نے محمد ﷺ کو نبی ورسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ یہ کرسکتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور آج ہی اپنا کام شروع کریں۔ (فلیرتقوا) کا اصل مادہ ر ق ی ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں الاسباب کی اصل س ب ب ہے جس کے معنی تعلق کے ہیں راستہ چونکہ منزل مقصود تک پہنچنے کا تعلق ہے اس لیے اس کو بیان کیا گیا یعنی آسمان کی طرف راستے یہ جانتے ہیں تو پھر ادھر بیٹھ کر باتیں کیوں بناتے ہیں اٹھیں اور آسمانوں پر چڑھ جائیں کیونکہ یہ راہیں تو ان کو معلوم ہی ہیں اسی لیے تو وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ محمد ﷺ کو نبی ورسول کیسے بنا دیا گیا ؟
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

(دوسری) جماعتوں میں سے یہ بھی (کفار مکہ کا) ایک ہزیمت خوردہ لشکر ہے

دوسری جماعتوں میں سے یہ بھی ایک ہزیمت خوردہ لشکر ہے 11۔ یہ ایک پیش گوئی ہے جو تقریبا سات آٹھ سال پہلے بیان کردی گئی اور جب یہ بیان کی گئی اس وقت مسلمانوں کی ایک مختصر سی جماعت مکہ کے اندر ہی پٹ رہی تھی اور ابھی تک اس کے جسم میں جان بھی نہیں ڈالی گئی تھی۔ قرآن کریم میں اس طرح کی بیسیوں سے بھی متجاوز آیات بینات بیان کی گئی ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے مفسرین نے ان آیتوں کی طرف مطلق التفات نہ کیا اور بالکل خاموشی کے ساتھ گزر گئے اور آیات بینات کا اطلاق قرآن کریم کے ان استعارات و اشارات پر کردیا جن کے اندر مضمون نہایت کثرت سے بھر دیا گیا تھا اور اپنی طرف سے ان کا نام معجزات رکھا اس بات کو اس قدر پھیلایا اور اصل معجزات کو اس طرح دبا دیا گیا کہ ان کو معجزات کہنا بھی آج آسان نہ رہا کیونکہ جب اس کو معجزہ قرار دیا جائے گا تو لوگوں کی نظر تفاسیر کی کتب اور ان مذہبی ٹھیکہ داروں کی طرف اٹھے گی اور یہ سب اس معاملہ میں خاموشی دکھائی دیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ سننے والا بوکھلا کر رہ جائے گا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ایک بات کا ایسے وقت میں اعلان کرنا جب کہ اس بات کے پورا ہونے کی بظاہر کوئی شکل نظر نہ آتی ہو لیکن وہ اپنے وقت پر حرف بہ حرف پوری ہوجائے تو کیا اس سے بڑا کوئی اور معجزہ بھی ہوگا ؟ حالانکہ معجزہ کی تعریف میں سر فہرست یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ وہ نبی و رسول کی طرف سے ہو اور تحدی یعنی چیلنج کے بعد ہو۔ اب غور کیجیے کہ اس سے بڑھ کر کیا تحدی ہوگی کہ جب مسلمان معدودے چند آدمی ہیں اور پورے علاقہ کے اندر وہ پٹ رہے ہیں ، لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کے قائد کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ” جماعتوں میں سے یہ بھی (کفارِ مکہ) ایک ہزیمت خوردہ لشکر ثابت ہوگا۔ “ اس کا جواب ان کو بدر کے میدان میں دیا گیا اور فتح مکہ میں اس جماعت کا بالکل خاتمہ کردیا گیا لیکن افسوس کی بات بات پر معجزہ کی رٹ لگانے والے یہ جانتے ہی نہیں کہ معجزہ کہتے کسے ہیں ؟ آگے آنے والی آیات کریمات پر مزید غور کرو تو بات انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی اور تحدی کے بعد نتیجہ کیا رہا ہے۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور میخوں والے فرعون نے (رسولوں کی) تکذیب کی تھی

کفارِ مکہ سے پہلے قوم نوح ، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے تکذیب کی 12۔ اوپر جو پیش گوئی بیان کی گئی اس کی شہادت کے لیے بیان کیا جارہا ہے کہ اے قریش مکہ آپ لوگوں سے پہلے کتنی جماعتیں آئیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت اپنے رسولوں اور نبیوں کی تکذیب کی اور ہم نے ان کو اپنے قانون ِ امہال کے مطابق ایک مدت تک ڈھیل دیئے رکھی لیکن انہوں نے ہماری اس ڈھیل کو بھی نشانہ تضحیک بنایا اور انجام کار ہم نے ہر تکذیب کرنے والی قوم کے نبی و رسول سے اسی طرح چیلنج کرا دیا کہ اے قوم کے لوگوں فلاں وقت تک فائدہ اٹھا لو جو تم اٹھا سکتے ہو اور اپنی ان حرکتوں سے باز آجائو اگر تم باز نہ آئے تو اس طرح کا عذاب تم پر مسلط کردیا جائے گا اور پھر جب وہ باز نہ آئے تو ہم نے اس عذاب کا وقت مقرر کردیا اور پھر عین اسی وقت پر اس قوم کو عذاب میں مبتلا کردیا اور ان کو اس دنیا سے اس طرح نستز و نابود کردیا کہ گویا وہ کبھی یہاں بسے ہی نہیں تھے اگر تم کو ہماری اس بات کی شہادت کی ضرورت ہو تو قوم نوح ، عاد قوم ، میخوں والے فرعون ( فرعون کی حکومت کی پختگی کی طرف اشارہ ہے اور اس کے لائو لشکر کی اکثریت کی طرف) اور اس طرح کی اور کتنی ہی جماعتیں گزر چیئ ہیں ان کی مختصر داستان پڑھ کر دیکھو کہ ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہی ہماری سنت ہے اور اسی سنت کے مطابق تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جائے گا اگر تم باز نہ آئے۔ اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 33 ، 34 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور قوم لوط اور بَن کے رہنے والے یہی وہ بڑے بڑے گروہ ہیں (جو انکار کرتے رہے)

ثمود قوم اور قوم لوط اور بن کے رہنے والے بڑے بڑے گروہ 13۔ ثمود قوم ، عاد قوم کے بعد برسر اقتدار آئی اور ہود (علیہ السلام) اس قوم کے نبی تھے اور بن والے شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہیں جو بنو قطورا کی شاخ سے ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے تھے ان سارے گروہوں کا ذکر بھی اسی سلسلہ میں کیا جارہا ہے تاکہ تم لوگ ان گروہوں کی تاریخ کو دیکھو اور تم کو پتہ چلے کہ جن لوگوں نے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی ان کا انجام کیا ہوا اور ان کی ہوا کسی طرح اکھڑی اور ان کے اقتدار کے غبارے کس طرح پھٹ گئے۔
Ayah 38:14

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرے عذاب کا فیصلہ ثابت ہو گیا

14۔ ان مذکورہ تمام گروہوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی اور مخالفت میں وہ حد سے بہت آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جسمانی اذیت کا باعث بھی ہوئے اور بہت سے ایسے بھی تھے جن کو انہوں نے قتل ہی کردیا اور پھر انجام کار ان کو ان کے ان افعال کی پاداش میں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا اس لیے کہ ان کا مٹانا لازم ہوگیا تھا۔
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں ذرا دم لینے کی گنجائش نہیں

یہ لوگ تو صرف ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی ذرا بھی گنجائش نہیں 15۔ زیر نظر آیت کا مضمون ان گزشتہ جماعتوں کے ساتھ بھی مل سکتا ہے اور قریش مکہ کی جماعت کے ساتھ بھی اگر گزشتہ قوموں کے ساتھ اس کو ملایا جائے تو مطلب یہ ہے کہ ان جماعتوں اور گروہوں کے سارے لوگ اس بات کے منتظر رہے کہ وہ عذاب جس کا ان کے نبی نے ذکر کیا ہے کب آتا ہے ؟ گویا ان لوگوں کو موعود عذاب کے آنے کی کوئی امید نہ تھی اور اپنے نبی و رسول کی زبان کو اید آوارہ ہی سمجھے تھے لیکن جب موعود وقت آیا اور عذاب کے ایک دھماکے نے ان کو آلیا جس کے وہ منتظر تھے تو ان کو ایک معمولی وقفہ بھی نہ دیا گیا اور اس دھماکے یا چیخ نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور اگر اس مضمون کا تعلق اس جماعت کیس اتھ قائم کیا جائے جس جماعت کو نبی اعظم و آخر ﷺ نے مخاطب کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ یعنی قریش مکہ اور مخالفین و معاندین محمد رسول اللہ ﷺ کس بات کا انتظار کرتے ہیں صرف اس بات کا کہ اچانک ایک دھماکہ یا ایک سخت چیخ اٹھے اور ان کو پل بھر بھی مہلت نہ دے کہ ان کو بھسم کر کے رکھ دے۔ (فواق) کا مادہو ق ہے اس سے افاقہ ہے جس کا استعمال بیماری کے بعد قوت رجوع کرنے پر ہوتا ہے کسی کے متوالا ہونے کے بعد انسان فہم و ادراک کی طرف رجوع کرے تو اس پر بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور عرب اس کا استعمال دودھ دوہنے پر کرتے ہیں وہ اس طرح کہ دودھ کے تھن کو دوہنے سے جب ایک بار دودھ نکلتا ہے تو دوبارہ اس کو دوہنے کے لیے جو وقفہ آتا ہے وہ وقفہ بھی اس سے مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اتنا کم وقت بھی ان کو مہلت نہیں دی جائے گئی جیسا کہ عربوں کے ہاں یہ محاورہ عام ہے کہ ما اقام عندی فواق ناقۃ جس سے مراد بہت تھوڑی دیر ٹھہرنا ہے۔ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے لیکن یہ بات کوئی بحث کی نہیں کیونکہ اس سے مراد فقط تھوڑی سے تھوڑی مدت ہے اور کچھ نہیں۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ یوم حساب سے قبل ہم کو یہیں دے دے

وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمارا عذاب کا حصہ ہم کو یوم حساب سے پہلے ہی دے دے 16۔ جب پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کو حساب کے دن یعنی قیامت کے عذاب سے ڈرایا کہ ضد سے تمہارا نقصان ہوگا اور تم قیامت کے روز عذاب کی لپیٹ میں آ جائو گے تو وہ مخالفت کے باعث اکڑ کر اور اترا کر کہنے لگے قیامت تو کب آئے گی اور کب نہیں آئے گی اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ عذاب ہم کو جلد از جلد اسی جگہ دے دیا جائے اور یہ بات انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے کہی آپ کو سنا کر کہی گویا مذاق ہی مذاق کے انداز میں وہ حد سے متجاوز ہو کر اپنی بےعقلی اور کوتاہ اندیشی کا ثبوت اس طرح پیش کرنے لگے کہ کھلے بندوں عذاب مانگنے لگ گئے کہ ہمارے حصہ کا عذاب ہم کو اس دنیا ہی کی زندگی میں دے دے یا یہ کہ ہمارے حساب کتاب میں جو ہمارے اعمال لکھے جا چکے ہیں جلد ہمارے سامنے پیش کر دے اور اس طرح جو کچھ انہوں نے کہا یعنی جو بھی ان کی مراد تھی وہ بہر حال مذاق اور استہزاء تھی نہ کہ خوف اور ڈر کی وجہ سے اور آنے والی آیت نے اس کی خود وضاحت کردی ہے۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اور آپ ﷺ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو بڑا صاحب قوت تھا اور بلاشبہ وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا

آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے دائود کی سر گزشت پڑھئے 17۔ یہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی باتوں کو سن کر فی الحال خاموش رہیں اور صبر و ثبات سے اپنا کام کرتے جائیں اور ہمارے پیغمبر داودعلیہ السلام کی سر گزشت کو بغور دیکھیں اور پڑھیں کہ اس نے طاقت جمع کرنے کے لیے کیا کیا محنت کی اور کتنے بڑے بڑے کام سر انجام دیئے بلاشبہ وہ صاحب طاقت و قوت تھا اور اس نے جو طاقت و قوت حاصل کی تھی ہمارے قانون کے مطابق اپنے ہاتھوں سے محنت اور کام کرکے حاصل کی تھی بلاشبہ وہ ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا اواب اوب سے ہے جس کے معنی کسی صاحب ارادہ کے ارادہ کے ساتھ گناہوں کی طاقت و قوت رکھنے کے باوجود ان سے بچنے کے ہیں اور صاحب ارادہ ظاہر ہے کہ انسان کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو اس کے لیے مسخر کردیا جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے

18۔ پہاڑوں کی تسبیح معروف ہے اور ( الجبال ) سے مراد بڑے بڑے انسان بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ہماری زبان میں یہ لفظ انسانوں کے لیے عام طور پر بولا جاتا ہے کہ فلاں آدمی تو عزم و جزم کا پہاڑ ہے۔ بلاشبہ حسین عزم و ارادہ کے پہاڑ تھے۔ فلاں آدمی کا مقابلہ کرنا ہے تو پہاڑ سے ٹکر لینا ہے۔ چونکہ بڑے بڑے لوگ اکثر ادوار میں اور بہت سے انبیاء کرام اور رسل عظام کے مقابلہ میں مخالف ہی رہے ہیں اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ بڑے لوگوں میں سے کسی نے وقت کے نبی و رسول کی سچے دل سے اطاعت و فرمانبرداری کی ہو چونکہ دائود ععلیہ السلام کو اس میں خصوصیت حاصل تھی اور خصوصیت کے ساتے وہ بڑے لوگوں میں بھی ایک اہمیت و حیثیت رکھتے تھے اور صبح و شام آپ کے ساتھ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل میں شامل ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے تصور سے خالی نہیں تھے اور یہ بھی کہ ان بڑے لوگوں کا ساتھ ہونا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنا بھی دائود (علیہ السلام) کے کمالات میں سے ایک کمال تھا اس لیے اس کمال کے حاصل کرنے کی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو خصوصا ہدایت کی گئی اور آپ نے بھی اس ہدایت پر پوری دلجمعی کے ساتھ عمل کیا اور بلاشبہ کسی حکومت کو اسلامی قوانین کے مطابق چلانا بھی تسبیح و تہلیل کا یاک حصہ ہے اس لیے آپ کو حکومت دئیے جانے کی طرف بھی اس میں پورا پورا اشارہ موجود ہے اور دائود (علیہ السلام) کے نہج پر اس کو چلانا بھی ایک بہت بڑی صلاحیت و مہارت کا کام ہے اور اس کام میں دائود (علیہ السلام) نے بلاشبہ ایک خاص مقام پیدا کیا اور اس مقام کو حاصل کرنے کی رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے اور اس لحاظ سے گزشتہ پیش گوئی کی طرح یہ بھی ایک پیش گوئی ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی طرح آپ کو بھی حکومت دی جائے گی لیکن اس وقت جب اس کا وقت آئے گا۔
Ayah 38:19

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندے بھی اس کے ساتھ جمع ہو کر ، سب اس کے تابع فرمان تھے

اور پرندے بھی اس کے ساتھ تسبیح خواں تھے 19۔ اس کائنات کی کونسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح خواں نہیں ہے ؟ بلاشبہ ہرچیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح خواں ہے اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح خواں نہ ہو۔ قرآن کریم نے بھی اس چیز کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ (تسبح لہ السموات السبع والارض ومن فیھن) (بنی اسرائیل 17 : 44) ایک جگہ ارشاد فرمایا ( سبح للہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم) (الحدید : 1) (الحشر : 1) (الصف : 1) اگر گزشتہ آیت میں ( الجبال) سے مراد بڑے بڑے انسان مراد لیے جائیں تو اس جگہ ( الطیر) سے مراد وہ روحانی انسان بھی لیے جاسکتے ہیں جو مال و دولت اور اقتدار کے لحاظ سے چاہے بڑے نہ ہوں لیکن روحانی طور پر ان کا مقام بہت بلند ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ دونوں طرح کے انسان جاہ و جلال اور دنیاوی طور پر بڑے سیاستدان بھی آپ کے ساتھ تھے اور وہ روحانی انسان جو تقوی و ورع میں بےمثل تھے ان کی بھی کمی نہیں تھی اور پیش گوئی کے طور پر آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح دائود (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں دونوں طرح کے لوگ تھے اسی طرح نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے ساتھ بھی دونوں طرح کے لوگوں کی کثرت ہوگی اور بلاشبہ صحابہ کرام ؓ میں دونوں ہی طرح کے لوگوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

ہم نے اس کی حکومت کو بڑا استحکام دیا اور اس کو حکومت دی اور قول فیصل سکھایا

ہم نے دائود (علیہ السلام) کو مستحکم حکومت اور فصل الخطاب بھی دیا 20۔ دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبیوں میں سے ایک نبی اور اس زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے ایک بہت بڑے بادشاہ بھی تھے۔ آپ کی حکومت میں جہاں روحانی طور پر ترقی ہوئی وہاں مادی طور پر بھی اس دور کی حکومتوں کے مقابلہ میں بہت ترقی ہوئی آپ کے زمانہ میں آپ کے ملک کے اندر نئی نئی ایجادات میں لوہے کے کام کو خصوصا ترقی ہوئی لوہا تانبا وغیر صاف کرنے اور اس سے مختلف اور بڑی بڑی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے لگائے گئے اور اس طرح زرہیں اور دوسرے جنگی سامان تیار کیے گئے۔ ان ایجادات کے باعث آپ کی حکومت کو چار چاند لگ گئے اور اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئے اور آپ کی حکومت کو ایسا استحکام حاصل ہوا کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ آپ کی حکومت کی طرف حملہ کرنے کا اشارہ بھی کرسکے اور یہ استحکام بنی اسرائیل کی حکومت کو اس سے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کے سینہ کو اللہ تعالیٰ نے نور نبوت سے اس طرح بھر دیا تھا کہ آپ کو ایسی بےنظیر فصاحت و بلاغت بخشی کہ آپ کی گفتگو اور خطاب کے بعد کسی کو تکرار یا انکار کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی تھی۔ یہ ملکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر ودیعت کیا تھا کہ آپ اپنی تقریر میں اپنے موضوع کی ساری باتوں کو اس طرح کھول کر رکھ دیتے تھے کہ سب جھگڑے ختم ہوجاتے اور آپ کا بیان اس قدر صاف وسیع اور فصیح ہوتا تھا کہ حق و باطل بالکل الگ الگ ہو کر رہ جاتے اور بات کا کوئی پہلو بھی مبہم نہ چھوڑتے کہ سامع کسی ابہام کا اظہار کرسکے۔ فصل الخطاب : البیان الفاصل بین الحق والباطل۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور کیا آپ ﷺ کو اہل مقدمہ کی خبر پہنچی جب وہ دیوار پھاند کر (اندر) پہنچ گئے

اہل مقدمہ میں سے ایک مقدمہ ایسا بھی تھا جو فریقین دیوار پھاند کر اندر آگئے 12۔ زیر نظر آیت کی تفسیر میں بہت لمبی داستان بیان کی گئی ہے اور اس داستان کی تمہید میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہونے والے کون تھے یہ جو قضیہ انہوں نے پیش کیا اس کی حقیقت کیا تھی ؟ دائودعلیہ السلام کا اس قضیہ کے فیصلہ دینے کے بعد استغفار کرنا کیسا اور کیوں ہے ؟ ان سوالوں کا جواب آپ کو آیت 25 کی تفسیر میں میں ملے گا۔ زیر نظر آیت کی تمہید میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ کا معمول زندگی تھا کہ ایک روز حکومت کے کاروبار کو سرانجام دیتے ، مقدمات کا فیصلہ کرتے ، ایک روز اپنے گھر کے فرائض انجام دیتے اور تیسرا دن انہوں نے صرف عبادت کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا اور اس روز اپنی عبادت گاہ پر پاسبان مقرر کردیتے تاکہ لوگ ان کی عبادت میں مخل نہ ہوں۔ اس روز کسی کی مجال نہ ہوتی کہ اندر آنے کی جرات کرسکے ایک روز آپ اپنی عبادت میں مشغول تھے ایسے وقت میں آپ نے دیکھا کہ دو آدمی بغیر اجازت طلب کیے اندر گھس آئے ہیں اور آپ کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی اور آپ گھبرا گئے۔ آنے والے حضرات بھی آپ کی گھبراہٹ کو محسوس کر گئے اور فورا بولے کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم دو فریق ہیں جو اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ بہر حال زیر نظر آی میں یہ تفصیل تو بیان نہیں کی گئی کہ داؤد (علیہ السلام) نے اس طرح دنوں کی کوئی تقسیم کی ہوئی تھی یا ایک ہی دن میں تین قسم کے اوقات مقرر کیے گئے تھے تا ہم یہ بات ضرور ہے کہ دو آدمی یا دو گروہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ (ان کو دیکھ کر) گھبرا گیا انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم دو فریق ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہی ہمارے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کر دیجئے اور کوئی زیادتی نہ کیجئے اور ہم کو سیدھی راہ بتا دیجئے

دائود (علیہ السلام) پر جب وہ داخل ہوئے تو آپ گھبرا گئے 22۔ چونکہ داخل ہونے والے اچانک داخل ہوئے اور اجازت طلب نہیں کی تھی اندریں وجہ دائودعلیہ السلام نے جب ان کو دیکھا تو چونک گئے اور آپ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی جو ایک فطری بات ہے۔ آنے والے دو آدمی تھے یا دو گروہ بہر حال وہ بھی بھانپ گئے کہ دائود (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرا گئے ہیں اور چہرے کے تاثرات انسان کی ساری حالت کھول کر دیکھنے والے کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ تو وہ بول اٹھے کہ اے دائود (علیہ السلام) گھبرائو نہیں ہم داخل ہوئے ہیں اور ہمارے داخل ہونے کا مطلب محض ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانا ہے جو ہم دونوں کے درمیان ہوچکا ہے۔ اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ فرما دیں ایسا فیصلہ جس سے ہم دونوں میں سے کسی پر بھی زیادتی نہ ہوتا کہ ہم دونوں آپ کے فیصلہ کو مان کر تسلیم کر کے سیدھی راہ اختیار کرسکیں اور کوئی بھی ہم دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرنے پائے۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(قصہ اس طرح ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناویں دنبیاں ہیں ور میرے پاس ایک دنبی ہے ، اب یہ کہتا ہے کہ وہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور بات چیت میں مجھ کو دبا لیا ہے (اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا)

جھگڑا کیا ہے ؟ ایک نے اس کی وضاحت اس طرح کر دی 23۔ ایک نے دوسرے کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے خواہ حقیقی بھائی یا دینی ومذہبی یا انسانی ناطہ کے لحاظ سے بہر حال اس کے پاس نناویں دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ یہ مجھے کہتا ہے کہ یہ ایک دنبی بھی مجھے دے دے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا اور اس طرح میری دنبیوں کی تعداد بھی پوری سو ہوجائے گی اور تو اس دنبی کی حفاظت کے جھنجھٹ سے چھوٹ جائے گا کہ میرے لیے خواہ مخواہ یہ پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور یہ جب مجھ سے بات کرتا ہے تو اس طرح مجھ پر چھا جاتا ہے کہ مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے یہ تو بالکل حق ہے کہ مجھے اپنی دنبی اس کو دے ہی دینی چاہئے اور اسی طرح بار بار تقاضا کیے جاتا ہے اور ہر ایک سننے والا بھی یہ کہتا ہے کہ اس کا تقاضا صحیح اور درست ہے اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ؟ نیز یہ بھی کہ یہ بات کرتے وقت اس رعب سے بات کرتا ہے کہ میں رعب میں آ کر دب جاتا ہوں۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے کہا کہ تیری دنبی کو اپنی دنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تجھ پر زیادتی کی ہے اور اکثر شریک (کار) ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان کے جو اہل ایمان ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں اور داؤد کو خیال پیدا ہوا کہ ہم (اللہ) نے اس کو آزمایا ہے چناچہ وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا اور (اللہ کی طرف) رجوع کیا

دائود (علیہ السلام) نے اس کی بات سن کر کہا کہ وہ سراسر تجھ پر زیادتی کر رہا ہے 24۔ ایک نے اپنی بات بیان کی جو کی لیکن دوسرے نے کوئی جواب سوال کیا یا نہیں کیا ؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے نے اور کچھ نہیں تو پہلے بیان کرنے والے کے بیان کی تردید نہیں کی بلکہ اس کی تائید کی اور 5 یقینا کی کیونکہ دو فریق کے درمیان فیصلہ اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک دونوں اپنا اپنا موقف بیان نہ کردیں اور ظاہر ہے کہ پہلے کے بیان کی تصدیق بھی دوسرے کے موقف کی وضاحت کردیتی ہے کہ اس لیے آپ نے دوبارہ اس سے کچھ نہیں پوچھا اور اپنے فیصلہ کو اسی طرح قلمبند کرایا کہ اس دنبی مانگنے والے کی سراسر زیادتی ہے یہ اتنا حریص ہے کہ نناویں دنبیوں سے بھی اس کی حرص پوری نہیں ہوتی تو وہ اس طرح آپ کی دنبی پر پاتھ بڑھانا چاہتا ہے اور بجائے اس کے کہ اس کو تجھ پر رحم آتا اور اپنے پاس سے کچھ دو چار دس دنبیاں تجھ کو دے دیتا یہ وہ ایک دنبی بھی تجھ سے لے کر تجھ کو خوشحال کرنا چاہتا ہے بلاشبہ یہ سراسر ظلم ہے اور یہ صریح ظلم و ڈیرے اپنے چھوٹوں پر ہمیشہ روا رکھتے ہیں اور اکثر حصہ داروں کا یہی دستور چلا آ رہا ہے کہ بڑے حصے والا اپنے سے کم حصے والے اور کمزور کو ایک طریقہ اور خاص ڈھنگ سے اس کی کمزور پونجی سے بھی محروم کردیتا ہے ان بڑے بڑے زمینداروں اور بڑے بڑے محلات کے مالکوں کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں کہ ان بڑوں نے کتنے چھوٹوں کو ان کی تھوڑی تھوڑی زمین سے بھی محروم کردیا ہے اور ان بڑے بڑے محلات والوں نے اپنے محل اور حویلیاں تعمیر کرنے کے لیے کتنے چھوٹے چھوٹے مالکوں کو ان کی چھوٹی چھوٹی جھونپڑوں سے بھی محروم کردیا ہے تاکہ ان کے محلات اور حویلیوں کے کونے سیدھے ہوجائیں لیکن ان ظالموں کے ظلم کی جہاں داستانیں موجود ہیں وہاں ان اللہ والوں کے قصے بھی سننے میں آتے ہیں جنہوں نے اپنے کمزور بھائیوں کو اپنے پاس سے بہت کچھ دے کر اپنے برابر رکھنے کی کوششیں کی ہیں اور کمزوروں کو گرتے دیکھ کر ان کے دل پسیج گئے ہیں اور ان کو گرنے سے بچانے کی اپنی ساری کوشش کی ہے اور مروت و اخلاص کے تقاضوں کو ہر حال میں پورا کیا ہے اگرچہ وہ کم سہی تا ہم وہ بالک معدوم نہیں ہیں۔ دیوار پھاند کر اندر داخل ہونے والوں کی فرضی کہانی کا جواب آپ نے نہایت حوصلہ اور دلجمعی سے دے دیا اور ان کو بےوقت اندر بغیر اجازت کے داخل ہونے کی جو سزا دینی چاہیے تھی نہیں دی اگرچہ سرزنش ان کو کی گئی ہوگی تا ہم فیصلہ سنانے میں اس وقت کی معاشرتی براہیوں کا ذکر اس انداز میں آپنے کردیا کہ و ڈیرے سمجھیں یا نہ سمجھیں ان کی زیادتیوں کی پوری پوری نشاندہی کردی اور ان کی ظلم و زیاتی کی زندگی کا ایک باب کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جو آج بھی اسی طرح اپنی تصویر پیش کر رہا ہے جو اس وقت ان کی تصویر کشی کی تھی تا ہم بجائے اس کے کہ وہ ان کے اس فرضی مقدمہ کو سن کر ان کو سزا دیتے انہوں نے اس بات کو اہمیت دی کہ یہ گویا میری آزمائش ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رات گزارتا ہوں یا فارغ اوقات میں بالک غافل ہو کر پڑا رہتا ہوں جیسا کہ دنیا دار بادشاہوں اور وڈیروں کا حال ہے۔ دائود (علیہ السلام) یہ خیال کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور رب ِ ذوالجلال والاکرام کی طرف زیادہ توجہ کرنے میں مزید کوشش کرنے لگے اور اپنی عبادت کے اوقات میں مزید اضافہ کردیا اور بلاشبہ یہ ان کے بلند مقدر کی نشانی تھی کہ جاہلوں کے ساتھ الجھنے کی بجائے ان کی جہالت کو انہیں پر لوٹا دیا اور صبر و تحمل سے کام لے کر ہمارے لیے ایک ایسا اسوہ حسنہ چھوڑگئے جس پر عمل کر کے انسان دین و دنیا میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے اگر کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہے۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو (تسلی دیتے ہوئے) معاف کردیا اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس اعلیٰ مرتبہ اور نیک انجام ہے

ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپیں مغفرت و بخشش سے ڈھانپ لیا اور اس کو اعلی مقام عطا کیا۔ 25۔ دائود (علیہ السلام) کی اس علمی و عقلی دانش و فکر میں ہم نے مزید اضافہ کردیا اور اپنی مغفرت و بخشش میں اس کو لے لیے اور اس کے درجات تو ہمارے ہاں پہلے ہی بلند تھے کہ وہ ہمارے نبیوں اور رسولوں میں سے ایک نبی و رسول تھا لیکن اس کے بعد ہم نیء اس پر مزید نوازشات کیں اور اس کی حکومت و سطوت کو چار چاند دیئے اور ہر طرف اس کی ان مثالوں کا شہرہ ہونے لگا اور اس کی حکومت کی نیکی اور بزرگی چار سو پھیل گئی جس سے وہ اور بھی ہمارے نزدیک ہوگیا اور اس کا مقام پہلے کیا بلند تھا کہ اب ہوگیا۔ ہمارے مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ ضرور کوئی دائود (علیہ السلام) گناہ اور خطا کا کام ہوا ہے تب ہی تو وہ اس الحاح اور عاجزی سے اللہ رب کریم سے مغفرت طلب کر رہے ہیں اور اس بات کو بنیاد بنا کر پھر انہوں نے اور یاہ کا قصہ نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ دائود (علیہ السلام) اور یاہ کی بوای پر عاشق ہوگئے تھے اور ایک خاص حیلہ سے اور یاہ کو ایک جنگ میں مروا کر اس کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا حالانکہ آپ کے پاس پہلے بھی 99 بیویاں تھیں اس طرح آپ کی تفہیم کے لیے اللہ نے دو فرشتوں کو بھیج کر ان کو فرضی کہانی سنا کر راہ راست کی طرف دعوت دی تھی اس لیے جب وہ اس بات کو سمجھ گئے کہ دو فیصلہ کروانے والے دراصل میری ہی کہانی بیان کر رہے ہیں لٰہذا انہوں نے ان کو فیصلہ بھی سنایا اور اپنی اصلاح کے لیے اپنے اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کی اور اللہ نے آپ کا وہ گناہ بخش دیا جو اور یاہ کی بیوی کے ساتھ نکاح کر کے کیا تھا پھر اس قصہ کو تورات سے اٹھا کر اس جگہ من وعن لا رکھا ہے جس کو ہم اس لیے ذکر نہیں کر رہے کہ یہ ساری باتیں ہم نے دائود (علیہ السلام) کی سر گزشت میں عرض کردی ہیں اور ہماری تفہیم کے مطابق بلاشبہ یہ دیوار پھلانگ کر آنے والے فرشتے نہیں بلکہ انسان ہی تھے اور ان کے آنے کا مقصد دائود (علیہ السلام) کو غافل پا کر ٹھکانے لگانا تھا لیکن جب وہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو دائود (علیہ السلام) غافل سوئے ہوئے نہیں تھے بلکہ چوکس و چوکنا تھے اگرچہ عبادت الٰہی میں مصروف تھے آپ نے ان کو دیکھا تو خبردار کی آواز دی اور وہ سہم گئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک داستان گھڑ لی تاکہ اندر آنے کا کوئی جواز پیش کرسکیں اس طرح وہ اپنی اسکیم میں کامیاب نہ ہو سکے اور دائود (علیہ السلام) نے بھی ان کے بےوقت اور بغیر اجازت آنے کو ایک موضوع بنا کر ان کا پیچھا نہ کیا بلکہ ان کی جہالت سمجھ کر ان کی اس حرکت سے چشم پوشی اختیار کی اور اس بات کو ایک آزمائش سمجھ کر اپنی عبادت کے گھڑیوں میں مزید اضافہ کردیا اور دنیا جہاں کے بادشاہوں اور وڈیروں کو اپنے اسوہ حسنہ سے یہ سبق دیا کہ جاہلوں سے الجھنے کی بجائے ان کی جہالت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کو بحث کا موضوع نہ بنانا ہی ایک اچھا عمل ہے اور دوسروں کی جہالت سے اپنی عقل و دانش میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس وقت جب کوئی آدمی جاہلوں الجھنے کی بجائے وہاں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائے اور جہالت کا جواب جہالت سے نہیں بلکہ فہم وادراک سے دے اور جب یہ مہتہم بالشان کام کرچکے تو اپنے مولا کریم کے سامنے گڑ گڑائے کہ اے اللہ ! تو نے میری راہنمائی کی اور اس کی جہالت کا جواب جہالت کے ساتے دینے سے مجھے بچالیا اگر تیرا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں اس جہالت میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ اور یاہ کا قصہ اسرائیلیات سے ہی اس کا اسلامی روایات سے کوئی تعلق نہٰں اور ہمارے مفسرین نے اس کو تورات سے اٹھا کر جو اس جگہ بیان کیا تو ممکن ہے کہ ان کا خیال تورات کی تحریف کا اظہار کرنا ہی تھی یا کوئی اور باعث ہوا بہرحال اسلامی روایات اس سے بالکل پاک ہیں اور علمائے محققین نے اس کا کھل کر رد بھی کردیا ہے ہم نے ان ساری باتوں کی وضاحت دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت میں بیان کردی ہے اور دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة الانبیاء کی آیت 82 کے بعد۔