Ayah 36:27دیکھو میرے رب نے مجھے معاف فرمایا اور اپنے عزت والے بندوں میں داخل کردیا :
27۔ سبحان اللہ ! کس اخلاق کا مالک تھا یہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جن لوگوں نے اس کو ابھی ابھی قتل کیا اور اس کو بھری مجلس میں رسوا کرنے کے لئے ساری ہمت لگا دی اور وہ مرنے کے بعد بھی قوم کے درد سے اسی طرح لبریز ہے اور قوم کے لئے اپنے دل میں کوئی جذبہ انتقام نہیں رکھتا سچ ہے کہ جو ظرف کے اندر ڈالا گیا ہو وہی اس سے نکلتا ہے جب بھی نکلتا ہے ۔ آج ہمارے سیاسی اور مذہبی لیڈروں اور پیشواؤں میں سے کوئی ایسا میسر آسکتا ہے جس کے اندر قوم کا ایک ذرہ بھی درد پایا جاتا ہو لیکن ہمارے مقابلے میں جتنی اقوام اس صفحہ ہستی میں موجود ہیں ان میں سے ایک ایک کا تجزیہ کرکے دیکھو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ ان کی حالت بھی کبھی یہی تھی جو آج ہماری ہے لیکن تاہم ان کی یہ حالت نزول قرآن کریم سے پہلے کی ہے لیکن نزول قرآن کے بعد انہوں نے اس وقت قرآن کریم اور صاحب قرآن کی دل کھول کر مخالفت کی اور قرآن کریم کی طرف دھیان نہ دیا اور جب وہ قوم جو اس وقت موجود تھی اس دنیا سے رخصت ہوگئی اور ان کی نسل نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا تو انہوں نے اپنی حرکتوں کا جائزہ لیا تو وہی کچھ پایا جو قرآن کریم نے بیان کیا تھا ‘ ان کی قومی حمیت نے ان کو اسلام قبول کرنے سے تو باز رکھا لیکن اپنی کمزوریوں کو ایک حد تک دور کرنے کی سرتوڑ کوشش کی اور ان کے لیڈروں نے بغیر یہ بتائے کہ یہ تعلیمات قرآن کی ہیں انہی خطوط پر قوم کی تربیت کی کوشش کی اور آج وہ بہت حد تک اپنی ان کمزوریوں کو رفع کرچکے ۔ ان کے اس وقت کے لیڈروں نے اس کے سوا اپنی اخلاقی کمزوریوں کی طرف توجہ نہ دی تو آج وہ اخلاقی لحاظ سے ہم کو بہت پیچھے نظر آتے ہیں اگرچہ انہوں نے اپنی قومی کمزوریوں کو کافی حد تک درست کیا ہے ۔ بہرحال وہ اللہ کا بندہ جنت میں پہنچ کر بھی اپنی قوم کے نام پر جو پیغام پہنچا رہا ہے وہ یہی ہے کہ میری قوم کے لوگو ! میرے رب نے میری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے اپنی خاص رحمت سے مجھے بہت عزت دی ہے اور میری بہت ہی قدر کی گئی کہ مجھے ان لوگوں میں رکھا گیا جو بہت ہی عزت و تکریم والے ہیں خواہ وہ نیک بندے ہیں جو اس سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں یا وہ مکرم بندے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں لیکن پہلا احتمال ہی زیادہ صحیح اور زیادہ درست معلوم ہوتا ہے اس طرح اس اللہ کے بندے نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مرنے کے بعد بھی اس کا جذبہ خیر خواہی ماند نہ ہوا بلکہ پہلے سے سوایا ہی ہوا ہے اور یہ آیات اس بات پر بھی دال ہیں کہ انسان مرنے کے بعد نیست ونابود نہیں ہونا بلکہ اس کی روح ایک دوسرے قالب کے ساتھ جس کو مثالی جسم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے وابستہ ہوجاتی ہے اور چونکہ ثواب و عذاب کا تعلق روح کے ساتھ ہے اس لیے حقیقت یہی ہے کہ جس کو ہم موت کہتے ہیں وہ اس جسم کے ساتھ تعلق ہے اور اس جسم سے روح کے الحاق کا خاتمہ ہی موت ہے اور آسائش واذیت جو کچھ ہے اس کا تعلق صرف اور صرف روح سے ہے اگر روح نہ ہو تو جسم کے لئے کوئی آسائش واذیت نہیں ہے ۔
Ayah 36:28ازیں بعد ہم کو آسمان سے کوئی لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں پڑی :
28۔ اس اللہ کے بندے کو جس کے دل میں قوم کا درد سما چکا تھا انہوں نے ٹھکانے لگا دیا ‘ صحیح ہے لیکن کیا وہ ابھی تک زندہ چلے آرہے ہیں ؟ انجام کار ان کو بھی مرنا تھا اور وہ بھی مرے اور ہمیں ان کو مارنے کے لئے کوئی مخصوص لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد آنے والی آیت میں اس اللہ کے بندے کی شہادت کے بعد قوم کو غرق کرنے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان تین نبیوں کا ذکر جو ان آیات سے پہلے کیا گیا تھا اور دراصل لوگ جن کو قتل کرنے کے درپے تھے اور اس آنے والے نے ان کی حمایت میں بات کرنا شروع کی تھی اور پھر اس طرح باتوں ہی باتوں میں وہ آگے نکل گیا اور نبیوں کی بات بھی اس کے کھاتے میں پڑگئی قوم نے جب اس کا کام تمام کیا تو یقینا ان نبیوں کو بھی اس کے ساتھ ہی داخل جنت کردیا لیکن جو شخص اس منصب پر متعین نہیں تھا اس نے ان کے نصب العین کی پوری پوری وضاحت کردی اس لئے واقعہ میں بھی اس کی بات کو زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب انہوں نے اس بعد میں آنے والے کی باتیں سنیں تو وہ اس پر ٹوٹ پڑے اس لئے اس کی شہادت زیادہ اذیت ناک طریقے سے ہوئی اس لئے اس کے بیان پر اکتفا کیا گیا ورنہ سنت اللہ میں یہ بات طے ہے کہ عذاب الہی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام کے جھٹلائے جانے کے ساتھ خاص ہے ، ان تینوں نبیوں کو بھی انہوں نے قتل کردیا یا اس ایک ہی قتل پر یہ مجلس برخواست ہوگئی اور انبیاء کرام کو اس جگہ سے ہجرت کا حکم دے کر ان کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اس کی تفصیل اس جگہ بیان نہیں ہوئی اس لئے دل کی گواہی یہی ہے کہ ان تین نبیوں کو انہوں نے ان کے حمایتی کے ساتھ ہی قتل کردیا ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔
Ayah 36:29ایک گرجدار چیخ سنائی دی گئی اور ایک جھٹکے میں ان کو بجھے ہوئے کوئلے بنا دیا گیا :
29۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی شان جلال نے اپنا کام اس تیزی کے ساتھ کیا کہ ایک طرف ان کے مظالم کی داستان سنائی دی جو انہوں نے اللہ کے اس بندے پر ڈھائے اور دوسری طرف ان کا کام تمام کردیا گیا اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا اور چشم زدن میں وہ بجھے ہوئے کوئلوں کی طرح اپنے ہی احاطوں میں پڑے ہوئے نظر آئے مطلب یہ ہے کہ ان کے کئے کے انجام میں ان کو اچانک خاک کا ڈھیر بناکر رکھ دیا گیا اور سنت اللہ کے مطابق وہ نیست ونابود ہوگئے یہاں تک کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا اس طرح تین نبیوں کی دعوت کے نتیجہ میں جو ایک ایمان لایا اس نے نہ صرف اپنا نام ایمان لانے والی جماعتوں میں زندہ رکھا بلکہ اپنے مخالفین اور قاتلوں کو بھی ہلاک ہونے والی اس صفحہ ہستی سے مٹا دی جانے والی قوموں یا بستیوں میں داخل کرا دیا اور اس طرح اس کا واقعہ بھی ابدالاباد بیان کیے جانے والے ضروری ہے ایک تو یہ کہ وہ بےغرض اور کسی اجر یا مزدوری کے لالچ کے بغیر دین اسلام کا کام کرتا جائے دوسرا یہ کہ جس دعوت اور ہدایت کی طرف وہ اوروں کو بلا رہا ہے اس پر خود بھی عمل کرنے والا ہو ۔ اس کی اصل دعوت یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کا طلبگار ہے اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ سے ملا دینا چاہتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاریں جیسے کسی نے کہا ہے کہ :
کچھ اور مانگنا میرے مذہب میں کفر ہے لا اپنا ہاتھ دے میرے دست سوال میں :
اس جگہ آیات کریمات میں جو واقعہ اصحاب القریہ کا بیان کیا جا رہا تھا وہ ختم ہوگیا ۔ اس واقعہ میں جو نصیحت کی باتیں ہمارے لیے رکھی گئی تھیں ان کا انداز تفسیر میں بالکل ختم کرکے رکھ دیا گیا اس کی نشاندہی کے لئے اس کا اختصار پیش خدمت ہے ۔
اصحاب القریہ یا اصحاب یس کے قصہ کا اختصار اور نصائح :
قرآن کریم نے اس واقعہ کے متعلق جو کچھ ہم کو بتایا ہے وہ یہ ہے کہ ”
(1) گزشتہ زمانہ “ میں (2) ” ایک بستی “ میں کفر وشرک اور شروفساد کو دور کرنے اور رشد وہدایت کا سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو پیغمبروں کو مبعوث کیا انہوں نے اہل قریہ کو حق کی تلقین کی اور صراط مستقیم کی جانب دعوت دی لیکن بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تب اللہ تعالیٰ نے (3) ” ایک اور ہادی “ کا اضافہ کردیا اور وہ تین مل کر ایک جماعت ہوگئے اب ان تینوں نے ان کو یقین دلایا کہ بلاشبہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور ان کا مذاق اڑایا کہ تم بھی انسان اور ہم بھی انسان پھر تمہارے اندر کون سی عجیب بات ہے کہ تم پیغمبر بنا دیئے گئے ، یہ سب تمہار جھوٹ اور تمہاری سازش ہے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ ہم جھوٹے نہیں ‘ وہ دانا وبینا ہے اور اس بات کو خوب جانتا ہے مگر تم لوگ پھر بھی نہیں مانتے تو ہمارا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ خدا کا پیغام تم تک پہنچا دیں اور راہ حق تم پر واضح کردیں ۔ بستی والے کہنے لگے کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں کہ تم نے خواہ مخواہ ہمارے ہاں آکر گربڑ پیدا کردی اور اگر تم اس سے باز نہ آئے تو ہم تم تینوں کو مار ڈالے گئے یا سخت قسم کے عذاب میں مبتلا کردیں گے انہوں نے جواب دیا کہ اللہ رب العزت کی نافرمانی کرکے نحوست تو تم خود اپنے اوپر لا چکے ہو اس سے زیادہ نحوست اور کیا ہو سکتی ہے کہ تم نصیحت اور خیر خواہی تک کو قبول نہیں کرتے بلکہ اور زیادہ حد سے گزر جاتے ہو ؟ قوم کے لوگ ان کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے ہی والے تھے کہ بستی کے آخری کنارے پر ایک (4) ” نیک مرد “ رہتا تھا اس نے جب سنا کہ میری بستی والے اللہ کے رسولوں کو جھٹلا رہے ہیں اور طرح طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو عجلت کے ساتھ وہاں آپہنچا جس جگہ یہ گفتگو ہو رہی تھی اور آتے ہی اس نے جلدی سے قوم کو مخاطب کرکے کہا کہ اے میری قوم ! کے لوگو ! اللہ کے ان رسولوں کی پیروی کرو دیکھو یہ لوگ آپ سے کوئی اجرومزدوری تو طلب نہیں کرتے اور صرف رضائے الہی کے لئے تم کو دعوت دے رہے ہیں وہ اس طرح کی باتیں کرتے کرتے جذبہ اسلام سے سرشار ہوگیا اور کہنے لگا کہ مجھے بتاؤ آخر میں کیوں نہ اس ایک خدا کی پرستش کروں جس نے مجھ کو نیست سے ہست کیا اور مرنے کے بعد میں اور تم اس کی جانب لوٹ جانے والے ہیں تم جو ان برگزیدہ انسانوں کی تکذیب کر رہے تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا مجھے اللہ رب العزت کے سوا معبودان باطل کو اپنا الہ مان لینا چاہئے حالانکہ وہ ذات واحد جو بہت ہی مہربان اور نرم مزاج ہے اگر مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان میں سے ایک بھی نہیں ہے جو میری سفارش کر کے اس کے نقصان سے مجھ کو بچا سکے اگر تم میں کو اس راستے پر لانا چاہتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ میں تمہاری بات نہیں مان سکتا تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم ان انسانوں کی بات مانو بلاشبہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور ایک بار پھر یہ تم پر واضح کردیتا ہوں کہ میں تو اس ذات الہ پر ایمان لایا ہوں جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے قوم کے لوگوں نے اس کی بات سنی تو غیظ وغضب میں آگئی اور سب سے پہلے انہوں نے اس اللہ کے بندے پر ہاتھ صاف کیا اور اس کو شہید کردیا ۔
اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو یہاں تک بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کو جرات حق کی جزا میں جنت عطا کی اور جب اس نے آخری ٹھکانا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو وجد آفریں انداز میں کہنے لگا کہ کاش میری قوم کے لوگ جان سکتے کہ میرے پروردگار نے مجھ کو معاف فرماتے ہوئے جنت میں کیا کیا انعامات اور نعت کے غیر مترقبہ سے مجھے نوازا ہے اور میرا کیا اعزاز واکرام کیا ہے ‘ ادھر قوم نے اس کو ٹھکانے لگا دیا اور غالبا اسی طرح ان تین نبیوں کو بھی انہوں نے اس کے بعد قتل کردیا اور دوسری طرف اس بدکردار قوم کو ہلاک کردینے کی اطلاع دے دی کہ ہم نے ان کو ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے کسی لشکر کو نہیں اتارا بلکہ اس زمین سے پیدا ہونے والی ایک ہولناک آواز نے ان کا قصہ بھی تمام کردیا ۔ بلاشبہ ہمارے لئے جن کو یہ قصہ سنایا گیا ہے بیشمار نشانیاں اس میں موجود تھیں بشرطیکہ ہم غور وفکر کرتے ‘ تفصیل تو اس جگہ بیان نہیں کی جاسکتی چند باتوں کی طرف اشارہ دیا جاسکتا ہے ۔
1۔ ہدایت وضلالت کے معاملہ میں ہمیشہ سے اہل باطل کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوتے بلکہ کسی مافوق الفطرت ہستی کو رسول بنایا جاتا ہے ۔ قوم نوح سے قوم محمد رسول اللہ ﷺ تک جن جن نبیوں اور رسولوں کا ذکر کیا گیا سب کی قوموں نے سب سے پہلے جو سوال کیا وہ یہی تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ تم اللہ کے رسول ہو کیونکہ کسی بشر کا رسول ہونا محال ہے اور یہی بات ان رسولوں کو کہی گئی جو اس بستی کی طرف بھیجے گئے تھے ۔
2۔ جہاں اور جس جگہ بھی شر و فساد اور فتنہ وگمراہی کے جراثیم بہ کثرت پائے جاتے ہیں وہاں خیر وسعادت کی بھی کوئی کرن ضرور موجود ہوتی ہے جو کلمہ حق کی تائید میں جان کی بازی لگا دیتی ہے اس واقعہ سے بھی یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے ۔
3۔ حق و باطل کے معرکہ میں حق کی حقانیت اور باطل کی بطاعت کا جب کھلا مظاہرہ ہوتا ہے تو باطل ہمیشہ مشتعل ہوجاتا ہے اور حق کی روشن سے خیرہ ہو کر دلائل کی جگہ جنگ وجدل پر آمادہ ہوجاتا ہے مگر حق کے پرستار اس کی مطلق پروا نہیں کرتے بلکہ وفور جوش اور والہانہ شوق کے ساتھ حق پر جان قربان کردیتے ہیں اور اس قربانی کو وہ بہت آسان سمجھتے ہیں یہاں بھی یہ بات اظہر من الشمس دکھائی دیتی ہے ۔
4۔ دنیوی زندگی کے ساتھ جتنا دنیا پرست کو لگاؤ ہوتا ہے اتنا خدا پرست کو نہیں ہوتا اس لئے دنیا پرست سب کچھ لٹا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی زندگی محفوظ رہے لیکن خدا پرست انسان اپنے دین اور آخرت کی خاطر ایک جان لٹا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی زندگی محفوظ رہے لیکن خدا پرست انسان اپنے دین اور آخرت کی خاطر ایک جان کیا سو جانیں ہوں تو وہ بھی قربان کرسکتا ہے اور پھر اس سودے کو وہ کبھی مہنگا تصور نہیں کرتا ۔
5۔ قصص انبیاء ہوں یا عام قصہ قرآن کریم بیان کرے اس میں قصہ سننے والوں کے لئے نصائح ہی قصہ کا ماحصل ہوتی ہیں قرآن کریم کسی بھی قصہ کے تاریخی پہلو کو کم ہی بیان کرتا ہے بلکہ وہ سبق آموز باتوں پر زیادہ توجہ مبذول کراتا ہے لیکن ہمارے مفسرین تاریخی باتوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اور زیادہ تحقیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجہ اور مآل کی طرف بہت کم توجہ دلاتے ہیں یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے ۔
غیر ضروری قصص جن کی طرف قرآن نے توجہ نہ کی مفسرین نے انہی پر توجہ ڈالی :
1۔ زیر نظر قصہ اصحاب القریہ میں قرآن کریم نے کسی زمانہ کا تعین نہیں فرمایا کہ یہ کس دور یا کس قوم کا واقعہ ہے اور مفسرین نے اپنی تحقیق کا یہی اصل موضوع قرار دیا ہے اور اس واقعہ کا زمانہ تلاش کرنے میں سرتوڑ کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود کسی متفق قول پر اکٹھے نہیں ہوئے ۔
2۔ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کا نام لیا گیا ہے تاہم مفسرین نے اس کا نام انطاکیہ بتایا ہے اگرچہ اس کے خلاف بھی کہا گیا ہے پھر تجزیہ نگاروں نے اس کا تجزیہ کرنا شروع کردیا اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ انطاکیہ تو کسی صورت بھی نہیں ہو سکتا اور اس پر سب سے زیادہ اعتراض علامہ ابن کثیر (رح) کو ہے اور انہوں نے اس کی وضاحت میں کافی بحث کی ہے اور اس کو اسرائیلیات سے قرار دیا گیا ہے ۔
3۔ قرآن کریم میں بیان کیا ہے کہ پہلے دو انبیاء کو بھیجا گیا جب ان کو جھٹلا دیا گیا تو اللہ نے تیسرا نبی بھیج کر ان کو ایک جماعت بنادیا ۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ لوگ نبی نہیں تھے دراصل یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری تھے جن کو خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھیجا تھا پھر ان کی کرامات کا ذکر کرتے ہوئے مظہری نے بحوالہ بغوی اور وہب بن منبہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کئی ایک مردوں کو زندہ کیا ‘ اندھوں کو آنکھیں دیں اور اس سلسلہ میں بہت عجیب و غریب واقعات درج کیے گئے ہیں جو کسی دیوپری کی کہانی سے کم نہیں ہیں ۔
4۔ وہ جو ایک نیک مرد تھا اس کے متعلق وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ یہ شخص جذامی تھا اور ان کا مکان شہر کے سب سے آخری دروازہ پر تھا اور اپنے مفروضہ معبودوں سے دعائیں کرتا تھا کہ مجھے تندرست کردیں اور اس طرح دعائیں کرتے کرتے اس کو ستر سال گزر گئے ، یہ رسول اللہ شہر انطاکیہ میں اتفاقا اسی دروازہ سے داخل ہوئے تو اس شخص سے پہلے پہل ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس کو بت پرستی سے باز آنے اور ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی اس نے کہا کہ آپ کے پاس آپ کے دعوی کی کوئی دلیل وعلامت صحت بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! ہم اپنے رب سے دعا کریں گے وہ تمہیں تندرست کر دے گا اس نے کہا کیا عجیب بات کہتے ہو میں ستر سال سے اپنے معبودوں سے دعا مانگتا ہوں کچھ فائدہ نہیں ہوتا تمہارا رب کیسے ایک دن میں میری حالت بدل دے گا انہوں نے کہا کہ ہاں ! ہمارا رب ہرچیز پر قادر ہے اور جن کو تم نے خدا بنا رکھا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں یہ کسی کو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتے یہ سن کر یہ شخص ایمان لے آیا اور ان بزرگوں نے اس کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا تندرست کردیا کہ بیماری کا کوئی اثر ہی باقی نہ رہا ۔ اب تو اس کا ایمان پختہ ہوگیا اور اس نے عہد کیا کہ دن بھر میں جو کچھ کمائے گا اس کا آدھا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا جب ان رسولوں پر شہر کے لوگوں نے یلغار کی اور اس کی خبر اس کو ملی تو یہ دوڑ کر آیا اور اپنی قوم کو سمجھایا اور اپنے ایمان کا اعلان کردیا تو پوری قوم اس کی دشمن ہوگئی اور سب مل کر اس پر ٹوٹ پڑے ۔
ذرا غور کیجئے کہ وہ سبق جو اس قصہ سے امت محمدیہ کو سکھایا گیا تھا نہایت خوبصورتی سے کس طرح اس کا بیڑا غرق کردیا گیا اور ایمان باللہ جس کی اسلام میں اصل قدر و قیمت ہے کا کس طرح ستیاناس کردیا کہ اب اسلام کو پرکھنے کے وہی شعبدہ بازی دکھائیں جو دنیا میں راہب ‘ پنڈت ‘ پادری اور ذلیل و حقیر قسم کے پیرومرشد دکھایا کرتے ہیں تب جا کر اسلام کی حقانیت کا پتہ چلے اس طرح اس تفسیر کو صحیح تفسیر کے طور پر لوگوں میں متعارف کرایا گیا اور حقیقت کو اس طرح مستور کردیا کہ اس کا کہیں اتا پتا ہی نہ رہا ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھ کی توفیق دے اور عقل وفکر سے کام لینے کی سمجھ عطا فرمائے اور ہم اس قرآن کریم کو دیو مالا کی کہانیاں نہ بنائیں بلکہ اس کو اللہ کی کتاب جان کر اس کی وہ قدرت و قیمت پہچانیں جو اللہ کی کتاب کی ہونی چاہئے اور ان اسرائیلیات کو بیان کرنے باز آجائیں تاکہ قوم مسلم کی صحیح راہنمائی کرسکیں ۔ اللہم ارنا الحق حقا۔
Ayah 36:30افسوس ہے ان بندوں پر جو رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اور اڑا رہے ہیں :
30۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا تھا وہ اپنے اپنے وقت توحید الہی کا پرچار کرتے رہے لیکن جن لوگوں نے شرک کی زندگی کو اختیار کر رکھا تھا انہوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہمیشہ مخالفت کی اور ان کو ہر ممکن تنگ کیا اور ان کی رسالت سے کھلا انکار کیا اور ان سے نہایت برا سلوک کیا انجام کار اس طرح مخالفت کرنے والے ہلاک ہوئے لیکن بعد میں آنے والوں نے اگر رسولوں کو مانا تو ان کے متعلق اسی طرح کی کہانیاں منسوب کردیں جس طرح کی کہانیاں پہلے اپنے بزرگوں کے نام منسوب کیا کرتے تھے اور ان کو رسالت کے درجہ سے اٹھا کر الوہیت کے درجہ پر لا بٹھایا اور ہر ممکن یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ لوگ خدا تھے یا خدا کے بیٹے ، اس طرح رسولوں کی زندگی میں ان کو مذاق کا باعث بنانے والوں سے زیادہ بعد میں آنے والوں نے ان کی زندگیوں کو مذاق بنا دیا ۔ اسلام نے ان کی سختی کے ساتھ تردید کی لیکن انہوں نے اسلام کے نام کی طرف وہ کچھ منسوب کردیا کہ آج غیر مسلم سن کر بھی ہنستے ہیں کہ یہ وہ اسلام ہے جو کبھی توحید کا درس دینے کے لئے آیا تھا جس کے ماننے والوں نے انہی رسولوں کو خدائی کا مالک بنا دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 36:31ان کو معلوم نہیں ہے کہ مر کر جانے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے :
31۔ اس دار فانی سے ایک بار رخصت ہو کر جانے والے لوگ دوبارہ کبھی بھی اس دار فانی میں نہ آئے اور نہ ہی کبھی آئیں گے کتنی قرنیں بیت گئیں اور جو ایک بار یہاں سے رخصت ہو کر گئے کبھی واپس نہ آئے اور نہ ہی آئندہ کسی کے آنے کی کوئی امید ہے ‘ رہے لوگوں کے قصے اور کہانیاں اور کہاوتیں تو وہ پہلے بھی لوگ بیان کرتے رہے ‘ اب بھی کر رہے ہیں اور رہتی دنیا تک بیان کرتے ہی رہیں گے ، قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اور جو اس میں بیان ہوا ہے وہ لاریب سچ ہے ‘ ہمیں تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین ان آیات کریمات کو پڑھ کر ان کا مفہوم کیا بتاتے ہیں کیا ان اس سے صاف بھی کوئی بیان کرسکتا ہے جو زیر نظر آیت اور اس جیسی ان گنت آیات میں کیا گیا ہے اور اعلان الہی کتنا صاف ہے کہ ” کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ اب وہ ان کے پاس کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے “ لیکن اس کے باوجود ہمارے مفسرین نے ہزاروں کو دوبارہ زندہ کرکے لوٹے جانے کی داستانیں اور کہانیاں بیان کیں اس کی وضاحت کرتے وقت بات کو بالکل صاف کردیا کہ مرنے کے بعد صرف ایک بار پیدا ہونا ہے ‘ بار بار زندہ ہونا اور مرنا نہیں ہے ۔
Ayah 36:32یہ لوگ بھی ایک روز ہمارے سامنے حاضر ہوں گے جن کو اٹھائے جانے پر یقین ہی نہیں ہے :
32۔ اس دنیا سے رخصت ہونے والوں کو خواہ وہ آج سے ہزاروں سال پہلے کے لوگ ہوں یا ہم خود ہوں یا ہمارے بعد ہزاروں سالوں میں پیدا ہونے والے جتنے بھی آئیں گے اور جب تک قیامت کبری آ نہیں جاتی اس وقت تک سب کے سب لوگوں کو ایک ہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے حاضر کردیا جائے گا خواہ ان کو دوبارہ جی اٹھنے پر یقین ہی نہ ہو اور خواہ یہ بار بار زندہ کرنے والے اور مارنے والے ہوں ۔ لوگوں کے تخیل کا مسئلہ اپنا اپنا ہے اور قانون الہی کا اعلان ایک اور صرف ایک ہے کہ تم مردہ تھے اور تم کو زندہ کیا اور پھر اس زندگی کے بعد تم کو مرنا ہے اور اس کے بعد تم سب کی حاضری ایک ہی بار اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے ہوگی اور وہ اتنی ہی یقینی ہے جتنی کہ تمہاری زندگی ۔
Ayah 36:33دوبارہ زندگی پر دلائل پیش کیے جا رہے ہیں کہ وہ کیسے ہوگی ؟
33۔ اگر ان کو دوبارہ جی اٹھنے پر یقین نہیں آتا تو ان کے لئے اس بات میں نشانی موجود ہے کہ وہ اس زمین کی طرف نگاہ اٹھائیں جو مردہ ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تو پھر ہم اپنے قانون کے مطابق اس سڑی پڑی زمین پر بارش برسا کر اس کو زندہ کردیتے ہیں اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہری بھری ہوجاتی ہے اور اس میں سے انکے لئے طرح طرح کے غلہ جات ‘ سبزیاں ‘ ترکاریاں اور پھل پیدا کردیتے ہیں اس طرح اس آیت سے تکوینی آیات سے توحید الہی کے نشانات کا بیان دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے اور توحید اور قیامت کے منکرین کو دعوت دی جا رہی ہے کہ ان دلائل پر غور کرو اور یہ دلائل ایسے نہیں ہیں جو وقتی طور پر ہی بیان کیے جاسکیں اور وقت کے بعد یہ جواب صحیح نہ رہیں نہیں یہ دلائل ہمیشہ کے لئے ہیں اور جب تک یہ نظام قائم ہے اسی طرح پیش کیے جائیں گے اگر تم کسی زمانہ اور کسی جگہ پر بھی ہو تو ان پر غور کرنے سے یقین کا نور پیدا ہوگا اور روح کو اطمینان اور تسکین پیدا ہوگی اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا یہی دلیل بنجر اور مردہ زمین جس میں نباتاتی زندگی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی پھر اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے تو اس میں زندگی انگڑائیاں لینے لگتی ہے ‘ روئیدگی کی مردہ قوتیں اپنی ساری شوخیوں اور زیبائشوں کے ساتھ نمودار ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگ وبو کے چمن در چمن مسکرانے لگتے ہیں اور اس طرح ان کو دیکھنے والے بھی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کل کیا تھی اور آج کیا ہوگئی ۔
Ayah 36:34زمین میں ہم نے پھل ‘ کھجوریں ‘ انگور اور چشمے پیدا کردیئے :
34۔ غور کرنے والوں کے لئے ایک طرح کی نہیں بلکہ ہر ایک چیز میں کئی کئی طرح کی نشانیاں موجود ہیں ایک ہی زمین میں بیسیوں طرح کے میوے موجود ہیں ایک ہی پانی سے سب سیراب ہو رہے ہیں ‘ ایک طرح سے ان کی نلائی کی جا رہی ہے ‘ ایک ہی طرح کی کھاد دی جا رہی ہے لیکن سب کے پھل ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہیں اور ان پھلوں کے درختوں کی طرف تم دھیان کرکے دیکھو کہ کھجوریں بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں اور انگور کی بیلیں پھیلتے پھیلتے کہاں سے کہاں تک پھیلتی جا رہی ہیں اس طرح دوسرے پھلدار درختوں کو دھیان سے دیکھو کہ وہ اپنی اپنی جنس کے ساتھ کس طرح ہر ایک چیز میں مطابق رکھتے ہیں اور دوسری جنس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، پھر اسی زمین میں جو چشمے نکلتے ہیں ان کی طرف دیکھو کہ کس طرح وہ برابر بغیر کسی مشتری اور بغیر کسی ظاہری طاقت وقوت کے کس طرح بہتے ہی چلے جا رہے ہیں اور پھر ان چشموں میں ایسے بھی ہیں جو میٹھے اور ٹھنڈے پانی سے سے ابل رہے ہیں اور ایسے بھی ہیں جن کا پانی سخت گرم ہے ایسے جیسے کھولتا ہوا پانی ہوتا ہے اور ان میں ایسے بھی ہیں جو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈے ہیں کیا یہ سارا کچھ بغیر کسی نظم وضبط کے خود بخود ہی ایسا ہوتا چلا جا رہا ہے کیا کوئی نظام بغیر کسی ناظم کے بھی اس درستی کے ساتھ چل سکتا ہے ۔
Ayah 36:35کیا تم جن پھلوں کو کھاتے ہو ان کو تم نے بنایا ہے پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے :
35۔ پھر ان پھلوں کو ‘ ان سبزیوں اور ترکاریوں کو تم نے بنایا ہے ؟ تمہارے بزرگوں اور پیروں نے بنایا ہے ؟ تمہارے بادشاہوں اور وزیروں نے بنایا ہے ؟ آخر کچھ تو بتاؤ کہ تمہارا حصہ ان میں کتنا ہے اور کس طرح تم ان کے مالک بنائے گئے ہو ۔ ہاں ! غور کرو اور کرتے ہی چلے جاؤ انجام کار تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان سب کا بنانے والا ‘ اگانے والا اور ان کے اندر وٹامن کی طاقتیں اور قوتیں بھرنے والا ‘ پھر سب سے بڑھ کر ہر ایک دانے کے اندر اس کے جنسی عناصر ترتیب و ترکیب دینے والا اللہ ہی ہے ۔ پھر تم کتنے ناکارہ ‘ کتنے سطحی اور کتنے نادان ہو کہ اس مالک حقیقی کا شکر ادا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہو ۔
Ayah 36:36حیوانیات اور نباتیات کے متعلق ساری سائنس کو اس آیت میں بند کردیا گیا :
36۔ بیالوجی کا طالب علم اچھی طرح سمجھتا ہے کہ حیوانیات میں جانوروں کی ساخت اور ان کے مختلف اعضاء کی کارکردگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور نباتات میں پودوں کی ساخت اور ان کے مختلف حصوں کے افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے حیوانیات میں بھی بہت سی شاخیں بیان کی جاتی ہیں اور نباتات میں بھی ، زیر نظر آیت حیوانات اور نباتات کی ان ساری شاخوں پر محیط ہے کیونکہ اصل نظریہ کا نام پہلی آیت دیتی ہے اور اس سلسلہ کی جتنی شاخیں اس وقت تک دریافت ہوئی ہیں ان سب پر یہ آیت نظریہ کے لحاظ سے حاوی ہے لیکن ساتھ اس نے یہ نظریہ بھی پیش کیا ہے کہ جو کچھ تم نے دریافت کیا ہے یہ مکمل نہیں بلکہ ابھی بہت کچھ باقی ہے اور یہ بھی کہ اس نظریہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایجادات کا ہونا لازم وضروری ہے تاہم کوئی دور انسان پر ایسا نہیں آسکتا کہ اس نے اس میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب دریافت کرلیا ہے اور اب کوئی چیز دریافت طلب نہیں ہے ۔ نہیں ! بلکہ اس نے چیلنج کیا ہے کہ انسانیت کے اختتام تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری رہے گا پھر بھی دریافت ختم نہیں ہوگی اور یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ طلب ختم نہ ہو تو دریافت ختم نہیں ہو سکتی لہذا طلب کے ختم کا نام قیامت کبری ہے اس لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ دریافت کبھی ختم نہ ہو اور اس بات کا زیر نظر آیت اعلان کر رہی ہے ۔
اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہم کو بتاتی ہیں کہ ایجاد ہونا لازم وضروری ہے اور ایجادات کا تعلق بہرحال موجد سے ہے ‘ موجد ہوں گے تو ایجادات ہوں گی اور یہ بھی کہ ایجادات کا تعلق بھی ایمانیات سے ہے گویا موجد اور مومن ہم وزن اور ہم معنی ہیں ستیاناس اس ملائیت کا جس نے ہم کو صحیح معنوں میں ایمان کے نزدیک جانے ہی سے روک دیا اور یہ کہہ دیا کہ ایجادات کفر ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایجادات اسلام کا ایک اہم جز ہیں جن کے نہ ہونے سے اسلام مکمل ہی نہیں ہوتا بلکہ ایجادات کے نہ ہونے کا نام کفر ہے ، ہم اصل مقصد کی طرف آتے ہیں کہ قرآن کریم نے فرمایا ” پاک ہے وہ ذات جس نے زمین سے جملہ اگنے والی چیزوں کے جوڑے بنائے “ اس طرح نباتات کے متعلق جو کچھ دریافت ہوا اب اس میں آگیا کیونکہ اس کے اصل عظیم کا اعلان کردیا گیا ۔ سانئس نے ہم کو بالکل تھوڑی مدت ہوئی کہ بتایا اور وضاحت کی کہ نباتات کے اندر زوجین کا سلسلہ جاری وساری ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت پہلے بیان کیا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ انسان اور حیوان ہی کو مذکر ومؤنث پیدا فرمایا ہے اور اس طرح ان کی بقا اور نشو ونما کا اہتمام کردیا ہے بلکہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے زمین سے جو چیزیں اگائی ہیں ان کو بھی جوڑا جوڑا بنایا ہے نر اور مادہ کا سلسلہ ‘ درختوں ‘ پودوں ‘ پھلوں ‘ پھلوں ‘ غلوں ‘ ترکاریوں ‘ سبزیوں ‘ اور جھاڑیوں اور گھاس پھوس غرضیکہ جو چیز بھی زمین سے اگتی ہے انہیں جوڑا جوڑا بنایا ہے اور نر و مادہ میں اس کو تقسیم کردیا ہے اور ان سب میں عمل تلقیح پایا جاتا ہے اور اس عمل کو ہوائیں سرانجام دے جاتی ہیں اور انسان کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی ایک مدت کے بعد سائنس نے یہ بات دریافت کی تو سائنس دانوں کے نام کو شہرت دے کر لوگوں نے آسمان پر چڑھا دیا حالانکہ کسی چیز کا دریافت کرنا اگر کمال ہے تو اس کو بنانا اور اس کے نظام کو بحال رکھنا اس سے ہزار گنا بڑھ کر کمال تھا سائنس دانوں کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا جس نے اس کائنات کے ذرہ ذرہ میں یہ نظام قائم کردیا تھا لیکن افسوس کہ سائنس دان تو اللہ تعالیٰ کے تصور ہی سے خالی تھے اور جو اللہ کا تصور رکھتے تھے انہوں نے بجائے اس کے کہ سائنس دانوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے تصور سے آشنا کراتے الٹے فتوی جڑنے شروع کردیئے کہ یہ لوگ کافر ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فتوی لگانے والے ان سے زیادہ کافر ثابت ہوئے جنہوں نے کائنات خداوندی میں تدبر و تفکر کو کفر قرار دے دیا ۔
جو زمین اگاتی ہے اس کے اندر عمل تلقیح ہوتا ہے اور اسی عمل تلقیح ہی کے ذریعہ ہر ایک چیز کی جنس اس زمین کے اندر موجود ہے ذرا عمل تلقیح کمزور ہوا تو اللہ نے آسمان سے زمین کی طرف اس پانی کا ” رجع “ کرا دیا جو پانی کا اصل مدعا ہے عمل تلقیح کا جس کی طرف قرآن کریم نے دو جملوں میں اشارہ کردیا کہ (آیت) ” والسماء ذات الرجع والارض ذات الصدع “۔ اور آسمان جب زمین کی طرف لوٹ پڑتا ہے یعنی بارش برساتا ہے تو زمین پھٹ جاتی ہے اور اپنی روئیدگی کو ظاہر کردیتی ہے گویا آسمان کا زمین کی طرف پلٹنا ہی عمل تلقیح کو تیز کرتا ہے پھر ادھر عمل تلقیح ہوا اور ادھر زمین کی پیدائش کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اگر آپ غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ انسان بھی تو اس زمین سے تھا پھر جب زمین میں جو کچھ اس کے لئے ضابطہ حیات مقرر کیا اس میں عمل تلقیح کو بیان کرکے انسانوں کی پیدائش کے عمل تلقیح کی وضاحت ہوجاتی تھی لیکن قرآن کریم نے اس وضاحت پر بس نہ کیا بلکہ اس کی تفصیل کے لئے ایک جملہ مزید ارشاد فرمایا : کہ (ومن انفسھم) یہ عمل تلقیح خود انسانوں کے اندر بھی موجود ہے یہ تو علم حیاتیات کی وضاحت تھی اس کے لئے اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہ تھی اسلام چونکہ ایک ضابطہ حیات انسانی ہے اس لئے اس نے یعنی شریعت نے اس انسانی عمل تلقیح کے لئے ضابطہ ہائے زندگی مقرر کردیئے جن ضابطوں کے مطابق زندگی گزارنے کا نام اسلام اور ان موجد اس کو کہیں گے جو ان ضابطوں کا پابند ہو کر اپنی ریسرچ جاری رکھے گا جو ضابطے رب کریم نے اس کائنات کے اندر مقرر کردیئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ضابطے الگ اس لئے بیان فرمائے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ مکلف ہے اس لیے کہ صاحب عقل ہے اس لئے انسان میں اور زمین کی دوسری ہرچیز خواہ وہ حیوانیات ہوں یا نباتات ہوں وہ صرف انسانی ضابطوں کے پابند نہیں جب کہ انسان ان سارے ضابطوں کا پابند ہے جن کے پابند دوسرے حیوانات اور نباتات ہیں ہاں ! اگر کوئی انسان یا انسانی گروہ یا جماعت ان انسانی ضابطوں کی پابندی نہ کرے جو انسانی ضابطے اسلام نے مقرر کیے ہیں تو وہ بلاشبہ انہی نباتات اور حیوانات کی طرح ہوگا اور یہ شرف انسان کے خلاف ہے سائنس دان اگر اسلام کا تصور نہیں رکھتا تو وہ اپنی ایجادات کے لئے اسلامی ضابطوں کی پرواہ نہیں کرتا لیکن چونکہ وہ ایک حیوان بھی ہے لہذا اس کی حیوانی ترقی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ایک سچے مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ اگر اس کو اسلام کا تصور دے سکتا ہے تو دے لیکن اس کی ایجادات کا انکار نہ کرے اس لئے کہ ایجاد تو قانون قدرت کی وضاحت کا نام ہے اور قانون قدرت کی وضاحت فی نفسہ اسلام سے باہر نہیں بلکہ عین اسلام ہے ۔ اس کی مثال آپ اس طرح سمجھیں کہ ایک روٹی جو انسان کے لیے تیار کی گئی اور اس کو خوب سے خوب تر بنانے کے لئے جو کچھ ہو سکتا تھا سب کیا گیا لیکن جس انسان کے لئے وہ تیار کی گئی وہ ایسا بدبخت نکلا کہ اس نے وہ روٹی کھانے سے ہی انکار کردیا ‘ ضد کی اور اس کو نہ کھایا اور روٹی تیار کرنے والے نے وہ روٹی کسی بھی جانور کو پھینک دی اور وہ کھا گیا تو معلوم ہوا کہ روٹی بہرحال کھانے کے لئے پکائی گئی تھی اور وہ دیر یا سویر بہرحال کھائی گئی پکانے والے اور تیار کرنے والے کو افسوس یہ ہوا کہ جس کے لئے پکائی گئی تھی اس نے نہ کھائی اس لئے پکانے والا نہ کھانے والے پر غصہ ہوا اور اس کا غصہ بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ انسان کو ایجاد کی دعوت دے رہا ہے اور قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو اس کی اس دعوت کو بیان فرما رہا ہے اور قرآن کریم ظاہر ہے کہ مسلمانوں ہی کے لیے ہے پھر مسلمانوں نے اگر اس کائنات کے ذرہ ذرہ کی دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ بحیثیت انسان ہونے کے ایک کافر نے اس کو قبول کیا اور اس نے ایجادات شروع کردیں تو اصل حق مسلمانوں کا تھا جب مسلمانوں نے اس کھانے کو نہ کھانے کی قسم اٹھائی تو کھانا بہرحال کھایا گیا اور کھایا جا رہا ہے اور کھایا جاتا رہے گا ۔
اب غور کرو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے اندر فطری طریقہ کی صلاحیت رکھی ہے اس طرح انسان کے اندر فطری طریقہ کے علاوہ غیر فطری طریقہ کی صلاحیت ودیعت کردی ہے کہ وہ اپنی عقل وفکر کے ذریعہ سے جس جس چیز میں چاہے غیر فطری طریقہ سے اس کی نسل کو بڑھائے یا قریب الجنس چیزوں کے جوڑ میل سے قدرت الہی کا تماشا دیکھے اور اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہونے کے باعث ان اشیاء میں اپنے تجربات سے علم حاصل کرتا رہے اور ادھر انسانوں کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کی اور ادھر تھیوری میں یہ اعلان بھی فرما دیا کہ ہم نے جوڑ میل ان چیزوں میں بھی رکھا ہے جس کو انسان ابھی نہیں جانتے (ومما لا یعلمون) اب انسانوں کا اور خصوصا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ جس کو ابھی تک نہیں جانتے اس کے جاننے کی کوشش میں مصروف رہیں ‘ مسلمانوں نے اس میں کوتاہی کی تو بحیثیت انسان غیر مسلموں نے اس پر تجربات شروع کردیئے اور انہوں نے جو کچھ پیش کیا اس کے علاوہ ابھی بہت کچھ ہے جس کو وہ پیش نہیں کرسکے اور انسان خواہ کتنی ہی ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے اس علم کے اختتام تک وہ نہیں پہنچ سکتا کہ اس کا اپنا خاتمہ ہوجائے گا اور ایسا ہونا ضروری اور لازم ہے اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الحجر کی آیت 22 ‘ سورة الفرقان کی آیت 54 کی تفسیر کو دیکھیں ۔
Ayah 36:37رات بھی تو اللہ کی نشانات میں سے ایک نشانی ہے جو دن کو مٹا دیتی ہے :
37۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تکوینی نشانات میں سے ایک نشانی رات بھی ہے کہ دن تھا تو ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا تھا لیکن رات آئی تو نور غائب ہوگیا اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا اگر ہمیشہ دن کا اجالا رہتا یا ہر وقت رات ہی کی تاریکی پھیلی رہتی تو یہ نظام عالم سارے کا سارا درہم برہم ہوجاتا ۔ نیرنگی فطرت کے کرشمے ختم ہوجاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عروس کائنات کو شب وروز کا تسلسل قائم کرکے کسی طرح سجا دیا اور یہ سجاوٹ پیدا ہی نہ ہوتی اگر فقط دن ہوتا یا فقط رات ہوتی اس اختلاف نے ہی تو اس مسند کرامت کو بچھایا اور حضرت انسان کو اس پر بچھا دیا اب بھی انسان اگر اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا شکر ادا نہ کرے تو اس سے بڑی احسان فراموشی اور نادانی اور کیا ہوگی ؟ لیکن آخر کتنے انسان ہیں جو اس کے اس احسان کو احسان سمجھتے ہیں ؟ (نسلخ) کی اصل س ل خ ہے نسلخ ای ننزعہ ونقصلہ سلخ دراصل کسی جانور کو ذبح کرکے اس کی کھال کو اتارنا ہے اس کی آمد کے ساتھ ہی جو دنیا کی روشنی کا لبادہ پہنایا جاتا ہے جب رات آنے لگتی ہے تو آہستہ آہستہ اس لبادہ کو اتار لیا جاتا ہے یہاں تک کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ (سلخ) کا مادہ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے ۔ (انسلخ) سورة الاعراف کی آیت 175 میں اور سورة التوبہ کی آیت 5 میں ۔
Ayah 36:38سورج کا اپنے محور پر ہر وقت رواں دواں رہنا بھی قدرت کی نشانات سے ہے :
38۔ غور کرو کہ سورج کتنا بڑا سیارہ ہے ؟ اتنا بڑا کہ تمہاری اتنی بڑی زمین کو اس نے ڈھانکا ہوا ہے گویا اس پوری زمین سے کئی گنا بڑا ہے اور پھر دیکھو کہ یہ کس طرح اپنے مستقر پر محو حرکت کردیا گیا ہے اور اس کی مجال ہی نہیں کہ وہ اپنی اس گردش میں ذرا بھر کمی بیشی کرے اس بوڑھی دنیا کو کروڑوں سال گرزگئے کہ یہ اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی ہی جا رہی ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جو مدار اس سورج کے لئے مقرر کردیا ہے جس کے تحت ہم اس کو طلوع اور غروب کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اس لئے کہ ہماری نظریں اس طرح اس کا مشاہدہ کرتی ہیں لہذا ہم اس مشاہدہ کی بنا پر طلوع و غروب کے الفاظ استعمال میں لاتے ہیں اگرچہ سورج ایک ہی جگہ پر رہ کر لٹو کی طرح حرکت کرتا چلا جا رہا ہے ذرا غور کرو تو سمجھ جاؤ گے کہ لاٹو متحرک بھی ہے اور ایک جگہ قائم بھی ہے یہی حال سورج کا ہے کہ وہ متحرک ہونے کے باوجود ایک جگہ قائم بھی ہے ، سورج کی یہ گردش اسی طرح کروڑوں سال سے جاری ہے اور ابھی نہ معلوم کتنی مدت جاری رہے گی ۔ جب سے جاری ہوئی جو رفتار اس کے لئے مقرر کردی گئی اس سے ایک سینکڈ بھی وہ کمی بیشی نہیں کر رہی اور نہ ہی اس کے کمی وبیشی کرنے کا کوئی امکان ہے کیونکہ اس ناظم اعلی نے یہ سارا نظام ان سیاروں کا آپس میں اس طرح باندھ دیا ہے کہ برابر اپنے اپنے انداز کے مطابق اپنی اپنی جگہ قائم ہیں اور کسی ایک جگہ ایک سیکنڈ کی کمی بیشی ہو تو یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے ، سورج ایک جگہ پر قائم ہے کا نظریہ اسی طرح صحیح ہے جس طرح لٹو گھومنے کے باوجود ایک جگہ قائم ہے اور تیزی سے گھومنے والی چیز جب رکتی ہے تو وہ پیچھے کو گھومتی ہے یہی سورج کی کا مغرب سے طلوع ہونا ہے جس کا ذکر صحیح احادیث میں ہے اور علامات قیامت میں سے آخری علامت ہے ۔ فرمایا یہ نظام للاوقات اس غالب آنے والے ‘ جاننے والے کا مقرر کیا ہوا ہے اس لئے جب تک یہ قائم ہے نہ تو اس میں ردوبدل ہے اور نہ ہی اس نظام میں کسی طرح کی کمی بیشی ممکن ہے ۔
Ayah 36:39چاند کا گھٹنا بڑھنا بھی اور ان سیاروں کے ساتھ گردش میں ہونا بھی نشانات الہی میں ہے :
39۔ جب سے یہ نظام قائم ہے اس وقت سے چاند کے لئے 29 یا 30 منزلیں ہر مہینے میں قائم ہیں اور اسی طرح ہر روز اس کی گردش بدلتی رہتی ہے ۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ وہ ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے اور پھر چودہ کو وہ کامل بدر ہو کر چمکنے لگتا ہے اور پھر اس کے بعد کم ہونا شروع ہوجاتا ہے حتی کہ آخر کار اپنی اسی ہلالی شکل میں چلا جاتا ہے اس کا یہ کم وبیش ہونا محض دکھائی دینے کے باعث ہے ورنہ وہ فی نفسہ کم وبیش نہیں ہوتا اس کی راتیں اس طرح مقرر کی گئی ہیں کہ کبھی ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہوتی ‘ چاند کے لحاظ سے ایک سال کو 355 دن طے ہوچکے ہیں اور سورج کے لحاظ سے 365 دن کا سال گنا جاتا ہے کبھی ممکن نہیں کہ سورج چاند کو پکڑ لے گویا چاند کا ایک اپنا مدار ہے اور سورج کا اپنا مستقر سورج کے طلوع و غروب کے اوقات اپنے ہیں اور چاند کے اپنے اور جو طریقہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان کے لئے مقرر کردیا ہے اس سے آگے یا پیچھے یا کم یا زیادہ اوپر یا نیچے ہونا اس کے اختیار کی چیز نہیں ہے ۔ غور کرو کہ جب چاند دکھائی دینے میں کم ہونے لگتا ہے تو کم ہوتے ہوتے اس قدر کم ہوجاتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کھجور کی ایک سوکھی ہوئی شاخ ہے کہ وہ سوکھ کر ٹیڑھی ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس کا اس طرح کم ہونا اور ٹیڑھا ہونا خواہ مخواہ نہیں ہے بلکہ اس میں ہماری زندگی کے اتنے فوائد پنہاں ہیں کہ اگر ان کو شمار کرنے لگیں تو شمار کرنا مشکل ہوجائے بلکہ صرف اس کے ایک فائدہ پر ہی نظر ڈالی جائے تو اس کے فوائد شمار نہیں ہو سکتے وہ یہ کہ اس کی روشنی کو اللہ تعالیٰ نے ٹھنڈا کردیا اگر اس کی روشنی بھی سورج کی طرح گرم ہوتی یا یہ چاند ہونے کی بجائے رات کا سورج ہوتا تو تم کو ساری چیزوں کے بھاؤ معلوم ہوجاتے اور راتوں کا یہ چین کبھی نصیب نہ ہوتا ۔
Ayah 36:40سورج کبھی چاند کو پکڑ نہیں سکتا اور رات کبھی دن پر سبقت نہیں لے جاسکتی :
40۔ تمام اجرام فلکی میں سورج سب سے بڑا ہے اور چاند سورج کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ، دنیا کے چھوٹے خود بخود دنیا کے بڑوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور یہ بھی کہ دنیا کے بڑے دنیا کے چھوٹوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں بلکہ اگر ذرا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں ہر بڑی چیز چھوٹی کو ہڑپ کرنے کے لئے تیار ہے ‘ ہر منہ آلہ ذبح ہے اور ہر پیٹ مذبح خانہ اس لئے یہ محاورہ ہمارے ہاں عام ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ، مچھلیاں تو خیر مچھلیاں ہی ہیں لیکن اگر ان مگرمچھوں کی زندگی پر کبھی غور کریں جن کو تم اپنی زبان میں جو آج کل عام طور پر بولی جاتی ہے ایم پی اے ‘ ایم این اے ‘ وزیر ‘ مشیر ‘ چیئرمین اور بی ڈی ممبر کے ناموں سے خطاب کرتے ہو اور ان کے اعوان وانصار پر نظر ڈالیں تو تم پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے کہ یہ کیا ہیں ؟ یہ وہی بڑی مچھلیاں ہیں جو چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں ۔ دنیا کے اس نظام پر قیاس کرکے کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ سورج جو اجرام فلکی میں بادشاہ ہے اور اس کے دوسرے سارے اعوان وانصار جن کے نام تم نے چاند ‘ مشتری ‘ زہرہ ‘ اس قبیلہ کے سارے ستارے اور اسی طرح یہ ثریا اور دب اصغر واکبر ‘ جھنڈ اور کہکشاں کے بڑے بڑے سیارگان نے کبھی اپنے چھوٹے ستاروں اور سیاروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی چھوٹے کبھی اپنے ان بڑوں کی طرف مائل ہوتے ہیں ہر ایک کا اپنا ایک مدار وفلک ہے جس میں اپنے چھوٹے یا بڑے نظام میں وہ پابندی کے ساتھ چل رہا ہے اور کسی ایک کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا نہ سورج کے اختیار میں ہے کہ وہ چاند کو اپنی طرف کھینچ لے اور نہ ہی چاند کو یہ اختیار ہے کہ وہ سورج کی طرف جھک جائے ان کی یہ ساری طبعی حالت ایک طرف شرک کا رد پیش کر رہی ہے اور دوسری طرف دنیا کی ان بڑی مچھلیوں کو سبق دے رہی ہے کہ تم کو اختیار اس لیے نہیں دیا گیا کہ تم کسی قانون وضابطہ کے پابند ہی نہ رہو بلکہ تم کو اختیار اس لیے دیا گیا ہے کہ تم پابندی کرکے رب کریم کو راضی کرلو ۔ اے مالک الملک جو اختیار تو نے ہم کو دیا ہے اس اختیار سے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہتے جو تیرے حکم کے خلاف ہو بلکہ ہم اپنے اس اختیار کو اسی طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ تیری رضا ہم کو حاصل ہوجائے ۔ بلاشبہ یہ چیز پیدا ہوجائے تو یہی اصل انسانیت ہے لیکن ہماری اس دنیا کے و ڈیرے جو کچھ کر رہے ہیں خصوصا ہمارے اس ملک پاکستان کے ‘ وہ سراسر حیوانیت ہے انسانیت کا اس میں نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا اگرچہ یہ لوگ اقتدار کی اعلی سے اعلی مسندوں پر بیٹھے ہوئے ہیں تاہم انسانیت سے وہ عاری ہیں ‘ ان کو انسانیت کے نام سے یاد کرنا بھی بلاشبہ انسان کی توہین ہے ، بلاشبہ ان ہی لوگوں کی تفہیم کے لئے قرآن کریم کی زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات قرآنی بیان کیا گیا ہے تاکہ مذہبی پیشواؤں کو باور کرائیں اور ان کو انسانیت کی حقیقت سمجھائیں لیکن انہوں نے بھی ان کو سمجھانے کی بجائے ان سے سمجھوتہ کرلیا ہے اور وہ بھی وہی کچھ ہو کر رہ گئے ہیں کہ جو کچھ ” بڑی مچھلیاں “ تھے اور قوم کے ان لوگوں کو جن کو ” چھوٹی مچھلیاں “ سے موسوم کیا جاتا ہے خوب ہڑپ کر رہے ہیں ہاں ! اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ نمبر ایک بڑی مچھلیوں کو ” جزاک اللہ “ نہیں آتا تھا اور یہ لوگ ” جزاک اللہ “ کے لاحقہ کو خوب استعمال کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں اور چھوٹوں کو خوب اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور چھوٹے بھی ان کی طرف مائل ہونے ہی کو درست خیال کرتے ہیں اور بوڑھی دنیا میں یہ عمل اتنی دیر سے جاری ہے کہ اب فریقین تقریبا عادی ہوچکے ہیں اپنے اپنے فلک کی طرف کھینچنے والے بھی اور اپنے اپنے فلک سے نکلنے والے بھی ان کو بتایا جا رہا ہے کہ کبھی ایک فلک کے اجرام پر بھی نگاہ ڈال لیا کرو کہ وہ کس طرح اپنے اپنے افلاک و مدار کے پابند ہیں حالانکہ وہ بھی اتنی ہی مدت سے چلے آ رہے ہیں جتنی مدت سے تم چلے آ رہے ہو اور تم دونوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ کہ تم صاحب اختیار ہو اور وہ صاحب اختیار نہیں ہیں اگرچہ صاحب اختیار نہیں تو وہ مکلف بھی نہیں ہیں ہاں ! یہ دنیا کے و ڈیرے ان مثالوں سے کم ہی سمجھا کرتے ہیں ان کے لیے اللہ کے ہاں ایک ” دھررگڑا “ کی اصطلاح چلتی ہے اور اسی رگڑے کے یہ قابو آتے ہیں اس کے یہ قابو آئیں گے اور اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ۔
Ayah 36:41انسانوں کے لیے نشانی ان کی اولاد سے بھری ہوئی کشتی میں بھی موجود ہے :
41۔ (فلک) کے معنی دراصل فتح ‘ جبر اور ضمہ تینوں سے آتا ہے جمع اس کی افلاک ہے اور کبھی یہ لفظ اسم جنس کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اس طرح اس کو بطور مذکر بھی بولا جاتا اور مؤنث کے طور پر بھی ۔ معنی اس کے گھیرایا دائرہ کے ہیں اس پانی کو بھی کہتے ہیں جس پر ہوا کی وجہ سے گول گول دائرے پڑجاتے ہیں اور اس طرح اس کا اطلاق پانی پر چلنے والی یا ہوا میں چلنے والی چیز پر ہے اور ظاہر ہے کہ پانی پر چلنے والی کشتیاں بھی موجود ہیں جن کو پانی کے جہاز بھی کہا جاسکتا ہے اور ہوا میں چلنے والی کشتیاں بھی ہیں جن کو ہوائی جہاز سے تعبیر کیا جاتا ہے ، زیر نظر آیت میں (الفلک المشحون) بھری ہوئی کشتی مراد ہے ۔ مفسرین نے اس سے مراد نوح (علیہ السلام) کی کشتی لی ہے کیونکہ اس میں انسانوں ہی کی اولاد میں سے وہ لوگ شامل ہوئے تھے جو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور اس ذریت انسانی سے انسانوں کی نسل آگے بڑی ہے اس لئے اس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے یہ رائے اکثریت کی ہے اور نئے اور پرانے مفسرین نے اس ایک مثال پر اتفاق کیا ہے لیکن ہم اس سے مراد اس زمین ہی کو سمجھتے ہیں کیونکہ پیچھے اجرام فلکی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ہر ایک فرد کا اپنے دائرہ کے اندر رہ کر چلنے کا ذکر تھا اور ظاہر ہے کہ جس طرح اجرام سماوی اور دوسرے سیارے چل رہے ہیں اسی نظام کے تحت زمین کا سیارہ بھی اپنے مدار یا محور کے طور پر متحرک نظر آرہا ہے اور اس میں جتنی مخلوق ہے سب کی سب انسانوں ہی کے فائدہ کے لئے ہے کسی چیز کے ہونے سے فی نفسہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ انسانوں ہی کا فائدہ ہے اس لئے اس کو انسانوں کی اولاد سے بھرا ہوا قرار دیا ہے اور یہ بھی کہ جتنی مخلوق اس زمین پر بستی ہے سب میں اشرف المخلوقات بھی انسان اور اس کی نسل ہی قرار دی گئی ہے اور انہی اجرام کے ذکر میں زمین کا ذکر بھی آیا ہے اور بلاشبہ اس نے ساری نسل انسانی کو اٹھا بھی رکھا ہے اور یہ یقینی امر ہے کہ اس زمین کی ساری نسل انسانی کا ایک وحدت میں آنا اور بولا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ دوسرے افلاک کی مخلوقات بھی عین ممکن ہے کہ اس طرح نئی تلاش میں سرگرداں ہوں اور دونوں ہی کی تلاش کے سلسلہ میں یہ بات کسی وقت بھی روشن ہو سکتی ہے کہ جب ایک دوسرے کو معلوم ہوجائے تو بجائے اس دھرتی کے رہنے والوں سے مقابلہ شروع ہوجائے اگر ایسا ہوا تو دنیا کی ساری مخلوق اور خصوصا انسانوں کو ایک قومیت میں آنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہے گا اس لحاظ سے یہ وہ پیش گوئی ہے جس کے ظاہر ہونے میں ابھی نہ معلوم کتنے سال اور لگیں گے اور شاید اس طرح اس قوم پر کوئی حادثہ فاجعہ اچانک آجائے اور لینے کے دینے پڑجائیں اور انسانوں کی ساری ترقی کا راز ہوا ہوجائے جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اس طرف رواں دواں ہیں ۔ رہی یہ بات کہ ہم بات شک سے کر رہے ہیں بلاشبہ صحیح ہے لیکن جو چیز ایمانیات میں نہیں ان میں شک کا ہونا نقصان دہ نہیں ہوتا اس شک کی باتوں کا تعلق ایمانیات سے نہیں بلکہ نظریات سے ہے اور ہم اس جگہ نظریہ کی بحث کر رہے ہیں نہ کہ ایمانیات کی اس لئے اگر کوئی شخص اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتا تو ہم اس کے ایمان کے خطرہ کی کوئی بات نہیں کرتے اور یہی بات ہر مشاہدہ میں نہ آنے والی چیز کی ہے الا یہ کہ قرآن کریم نے اس کو حتمی طور پر بیان کیا ہو ۔
Ayah 36:42ان کے لئے ہم نے اور بھی اس طرح کی سوار ہونے والی چیزیں رکھی ہیں :
42۔ (مثلہ) سے مراد مفسرین نے نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے علاوہ جو کشتیاں ہیں وہ لی ہیں اور ان کو اس کشتی کے مشابہ یا مثل قرار دیا ہے اور اس سے پہلے گزشتہ مفسرین نے اس سے اونٹ بھی مراد لیا ہے اور اس کو صحرائی کشتی کہا ہے اور آج کل چونکہ پانی کے جہاز ہیں وہ بھی اس ضمن میں آسکتے ہیں اور اگر مزید سواری کی چیزیں جو ان جہازوں سے بھاری وزن اٹھائیں اور تیز رفتاری سے چلیں مشاہدہ میں آسکتی ہیں اور یہ بھی کہ ان سے مراد دوسرے سیارگان ہوں جن پر ابھی تک انسانوں کی آبادی نہیں ہے اور اس سلسلہ میں جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ مثبت ثابت ہوں اور انسانوں کا ستاروں پر کمند ڈالنا فی نفسہ مشاہدہ میں آجائے یہ سارے امکانات ہیں اور ان امکانات سے قدرت خداوندی کا اظہار ہوتا ہے ، کاش کہ مسلمان اپنی ایمانی قوت کے بل پر اس کائنات کی ٹوہ میں آگے بڑھیں اور بعد میں چل کر آگے نکل جانے کی حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کردیں اور کچھوے اور خرگوش کی مثال کو یکطرفہ ثابت کر دکھائیں اور دنیا پر ثابت کردیں کہ ابھی ایسے کچھوے بھی موجود ہیں جو خرگوش کے ایک مدت بعد چل کر آگے نکل سکتے ہیں ، اگر ایسا کریں گے تو بلاشبہ وہ خلافت کا حق بھی ادا کریں گے اور اپنے آباء کا نام بھی روشن کریں گے اور ناخلف بن کر خلف بننے کی کوشش میں کامیابی حاصل کر کے مبارکبادی کے مستحق ٹھہریں گے کہ ” ہمت مرداں مدد خدا “ کا محاورہ جو پہلے ہی صحیح ہے اس کی صحت کو مزید تقویت ملے گی ۔
Ayah 36:43اگر ہم چاہیں تو ان کو اپنے قانون کے مطابق غرق کر کے رکھ دیں :
43۔ جلال خداوندی نے اپنا جلال دکھانے کے لیے ان ترقی پر ترقی حاصل کرنے والوں کو ساتھ ہی چیلنج بھی سنا دیا کہ ان ترقیوں کے زعم میں وہ زیادہ بےلگام نہ ہوجائیں اور جدید سے جدید معلومات پر زیادہ نازاں نہ ہوں اور ان ساری ترقیوں کے باوجود اگر ہم چاہیں تو ان کے غبارہ سے یکدم ہوا خارج کردیں اور اس طرح سے ان گھمنڈ کرنے والوں کی ایک ایسی چیخ نکلے کہ اس کے ساتھ ہی وہ بھسم ہو کر رہ جائیں اور ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو اس لئے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس زمانہ کے اندر ایک بار نہیں کئی بار ایسا عروج آیا کہ یہ عروج حاصل کرنے والے اپنے عروج پر نازاں ہونے لگے اور اس طرح جب وہ اپنے آپ سے باہر ہوگئے تو ان کو کبھی اوندھے کردیا ‘ کبھی کھائے ہوئے بھس کی طرح ہو کر رہ گئے اور کبھی بجھے ہوئے کوئلوں اور راکھ کے ڈھیر سے ان کو تشبیہہ دی گئی اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ یہی زمین ان کو نگل گئی ‘ کبھی پانی میں ان کو ڈبو دیا گیا اور کبھی ان کو میدان جنگ میں تہس نہس کردیا گیا اور پھر جس کو جو کچھ پیش آیا اس کو کسی ماں کے لال نے آگے ہاتھ بڑھا کر نہ بچایا اور ان کو ان کی ترقیوں کے ساتھ ہی ٹھکانے لگا دیا گیا اور پھر میدان دوسروں کے ہاتھ میں دے دیا کہ وہ بھی اپنی قسمت کا ستارہ بلند سے بلند تر کر کے دیکھ لیں تاکہ زمانہ والے ان کو دیکھ کر ششدر اور حیران ہوں ۔ یہ کھیل اسی طرح چلتا آیا ہے ‘ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا جب تک کہ چلانے والے کے قانون میں اس کا چلائے رکھنا منظور ہے ، سبق آموز بات یہ ہے کہ نہ تو پہلوں کو کسی فریاد رس نے بچایا اور نہ ہی ان کی کوئی فریاد رسی کرے گا ۔ چونکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ ہم فریاد رسوں کو اور فریاد رس بنانے اور سمجھنے والوں کو ڈھیل دیتے ہیں اور وہ ان کو بھی قانون کے مطابق دی جا رہی ہے ، قدرت خداوندی ہمیشہ ان کے غرور کا بت توڑتی رہی ہے ‘ توڑ رہی ہے اور توڑتی رہے گی اور آجا کر ایک ناچار انسان ہی اپنی بےبسی وناتوانی کا ذکر کرتا ہے ۔
فضائیں ان کی ‘ ہوائیں ان کی ‘ ان کے ‘ جہاز ان کے
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ :