Ayahs 36:1–42 یعنی قرآن کریم اپنی اعجازی شان، پُر حکمت تعلیمات، اور پختہ مضامین کے لحاظ سے بڑا زبردست شاہد اس بات کا ہے کہ جو نبی امی اس کو لے کر آیا یقینا وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بیشک و شبہ سیدھی راہ پر ہے۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی اندیشہ منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔
Ayah 36:53 یعنی یہ دین کا سیدھا راستہ یا قرآن حکیم اس خدا کا اتارا ہوا ہے جو زبردست بھی ہے کہ منکر کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑے، اور رحم فرمانے والا بھی کہ ماننے والوں کو نوازش و بخشش سے مالا مال کر دے۔ اسی لیے آیات قرآنیہ میں بعض آیات شان لطف و مہر کا اور بعض شان غضب و قہر کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔
Ayahs 36:6–74 یعنی بہت کٹھن کام آپ کے سپرد ہوا ہے کہ اس قوم (عرب) کو آپ قرآن کے ذریعہ سے ہوشیار و بیدار کریں۔ جس کے پاس صدیوں سے کوئی جگانے والا نہیں بھیجا تھا۔ وہ جاہل و غافل قوم جسے نہ خدا کی خبر نہ آخرت کی، نہ ماضی سے عبرت نہ مستقبل کی فکر، نہ مبداء پر نظر نہ منتہاء پر، نہ نیک و بد کی تمیز نہ بھلے برے کا شعور اس کو اتنی ممتد جہالت و غفلت کی اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی صاف سڑک پر لا کھڑا کرنا کوئی معمولی اور سہل کام نہیں ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ پوری قوت اور زور شور کے ساتھ ان کو اس غفلت و جہالت کے خوفناک نتائج اور بھیانک مستقبل سے ڈرا کر فلاح و بہبود کے اعلیٰ مدارج پر پہنچانے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ قوم اپنی اعلیٰ کامیابی سے تمام عالم کے لیے کامیابی کا دروازہ کھول دے۔ لیکن بہت افراد وہ ملیں گے جو کسی قسم کی نصیحت پر کان دھرنے والے نہیں۔ اسی لیے ان پر سے شیطان پوری طرح مسلط ہوجاتا ہے جو ان کی حماقتوں اور شرارتوں کو ان کی نگاہ میں خوشنما کر کے دکھلاتا اور اگلے پچھلے سب احوال کو خواہ کتنے ہی گندے ہوں، خوبصورت بنا کر ظاہر کرتا ہے۔ آخر یہ لوگ دوسری زندگی سے بالکل منکر ہو کر اپنی فانی خوہشات ہی کو قبلہ مقصود ٹھہرا لیتے ہیں۔ اس وقت ایک طرف سے شیطان کی بات ( لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 82ۙ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ 83) 38 ۔ ص :83-82) (مخلصین کے سوا میں سب کو بہکا کر رہوں گا) سچی ہوتی ہے اور دوسری طرف حق تعالیٰ کا قول " لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ " تجھ سے اور تیرے پیروؤں سے دوزخ کو بھر دوں گا) ثابت اور چسپاں ہوجاتا ہے۔ باقی علم الٰہی میں تو ازل سے ثابت ہے کہ فلاں قوم کے فلاں فلاں افراد اپنی بدتمیزی اور لاپروائی سے شیطان کے اغواء میں پھنس کر عذاب الٰہی کے مستحق ہوں گے ایسے لوگوں کے راہ پر آنے اور ماننے کی کیا توقع ہوسکتی ہے پس آپ کو سلسلہ انداز و اصلاح میں اگر ایسے ہمت شکن واقعات کا مقابلہ کرنا پڑے تو ملول و غمگین نہ ہوں اپنا فرض ادا کیے جائیں اور نتیجہ کو خدا کے سپرد کردیں۔ تقریر بالا کو سمجھنے کے لیے یہ آیات پیش نظر رکھیے۔ (1) (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36 وَاِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 37) 43 ۔ الزخرف :37-36) معلوم ہوا کہ شیطان ابتداء کسی پر مسلط نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اندھا بن کر نصیحت سے اعراض کرتے رہنے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آخرکار شیطان مسلط ہوجائے جیسے ہاتھ پاؤں سے مدت تک کام نہ لے تو وہ عضو بیکار کردیا جاتا ہے۔ قال تعالیٰ (فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ) 61 ۔ الصف :5) (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :110) (ب) (وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاۗءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ ) 41 ۔ فصلت :25) تسلط کے بعد شیطان یہ کام کرتا ہے جس کا نتیجہ " خلق علیہم القول " ہے (ج) (وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَآ اَتَعِدٰنِنِيْٓ اَنْ اُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ ۚ وَهُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ وَيْلَكَ اٰمِنْ ڰ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ښ فَيَقُوْلُ مَا ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 17 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ 18) 46 ۔ الاحقاف :18-17) ان آیات سے معلوم ہوا کہ لفظ " حق القول " ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو موت کے بعد کی دوسری زندگی کا یقین ہی نہیں رکھتے، نہ برائی کو برائی سمجھتے ہیں، بلکہ اغوائے شیطانی سے اپنی بدیوں کو نیکی اور گمراہی کو ہدایت تصور کرلیتے ہیں۔ کیسے ہی معقول دلائل سنائیے اور کھلے کھلے نشان دکھلائیے، سب کو جھٹلاتے رہیں اور فضول حجتیں نکالتے رہیں، بظاہر ہادیوں اور پیغمبروں کی بات کی طرف کان جھکائیں مگر ایک حرف سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔ محض ہوا و ہوس کو اپنا معبود ٹھہرا لیں نہ عقل سے کام لیں نہ آنکھوں سے، یہ ہی لوگ ہیں جن کے اعراض وعناد کے نتیجہ میں آخرکار اللہ تعالیٰ دلوں پر مہر کردیتا ہے کہ ان میں خیر کے گھسنے کی پھر ذرا گنجائش نہیں رہتی۔ جیسے کوئی شخص اپنے اوپر روشنی کے سب دروازے بند کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کو اندھیرے میں چھوڑ دیتا ہے یا ایک بیمار دوا پینے کی قسم کھالے، طبیب سے روشنی کرے اور ہر قسم کی بد پرہیزی پر تیار ہوجائے تو اللہ اس کے مرض کو مہلک بنا دیتا اور مایوسی کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے۔ فرماتے ہیں (تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ۭكَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :101) (ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَاۗءُوْھُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۭ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ ) 10 ۔ یونس :74) (وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۭ وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ 58 كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 59 فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60 ) 30 ۔ الروم :58 تا 60) (كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۨ 34ښ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ ۭ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ 35) 40 ۔ غافر :35-34) (وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ ۚ حَتّىٰٓ اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۣاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :16) ( ۭ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا) 4 ۔ النسآء :155) (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ) 83 ۔ المطففین :14) (اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ۭ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ) 45 ۔ الجاثیہ :23) (وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :179) ( ۭيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ ۭلَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ښ وَّلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ) 5 ۔ المائدہ :41)
Ayah 36:85 یہ ان ہی لوگوں کے حق میں ہے جن کا ذکر گزشتہ فائدہ میں ہوا۔ یہ طوق عادات و رسوم حب جاہ و مال اور تقلید آباء و اجداد کے تھے جنہوں نے ان کے گلے سختی سے دبا رکھے تھے اور نخوت وتکبر کی وجہ سے ان کے سر نیچے نہیں جھکتے تھے۔
Ayah 36:96 نبی کی عداوت نے ان کے اور قبول ہدایت کے درمیان دیواریں کھڑی کردی تھیں۔ جاہلانہ رسوم واطوار اور اہواء و آرائے فاسدہ کی اندھیریوں میں اس طرح بند تھے کہ اگلا پیچھا اور نشیب و فراز کچھ نظر نہ آتا تھا۔ نہ ماضی پر نظر تھی نہ مستقبل پر، باقی ان افعال کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف سے اس لیے کہ گئی کہ خالق خیر و شر کا وہی ہے اور اسباب پر مسببات کا ترتب اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے دلائل آفاقیہ میں غور کرنے کی نفی ہوئی جیسا کہ " فہم مقمحون " میں دلائل انفسیہ کی طرف ملتفت نہ ہونے کا اشارہ تھا۔ کیونکہ سر اوپر کو اٹھ رہا ہو جھک نہ سکے تو اپنے بدن پر نظر نہیں پڑ سکتی۔
Ayah 36:107 ان کو برابر ہے لیکن آپ کے حق میں برابر نہیں، بلکہ ایسی سخت معاند اور سرکش قوم کو نصیحت کرنا اور اصلاح کے درپے ہونا عظیم درجات کے حصول کا سبب ہے اور کبھی یہ اخلاق دوسروں کی ہدایت کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی طرح کی آیات سورة " بقرہ " کے اوائل میں گزر چکی ہیں۔
Ayah 36:111 یعنی ڈرانے کا فائدہ اسی کے حق میں ظاہر ہوتا ہے جو نصیحت کو مان کر اس پر چلے اور اللہ کا ڈر دل میں رکھتا ہو۔ جس کو خدا کا ڈر ہی نہیں نہ نصیحت کی کچھ پروا، وہ نبی کی تنبیہ و تذکیر سے کیا فائدہ اٹھائے گا ایسے لوگ بجائے مغفرت و عزت کے سزا اور ذلت کے مستحق ہوں گے۔ آگے اشارہ کرتے ہیں کہ فریقین کی اس عزت و ذلت کا پورا اظہار زندگی کے دوسرے دور میں ہوگا جس کے مبادی موت کے بعد سے شروع ہوجاتے ہیں۔
Ayah 36:122 یعنی موت کے بعد دوسری زندگی یقینی ہے جہاں سب اپنے کیے کا بدلہ پائیں گے اور شاید ادھر بھی اشارہ ہو کہ یہ قوم (عرب) جس کی روحانی قوتیں بالکل مردہ ہوچکی ہیں، حق تعالیٰ کو قدرت ہے کہ پھر ان میں زندگی کی روح پھونک دے کہ وہ دنیا میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے آثار عظیمہ چھوڑ جائے۔
3 یعنی نیک و بد اعمال جو آگے بھیج چکے اور بعض اعمال کے اچھے برے اثرات یا نشان جو پیچھے چھوڑے مثلا کوئی کتاب تصنیف کی یا علم سکھلایا، یا عمارت بنائی یا کوئی رسم ڈالی نیک یا بد، سب اس میں داخل ہیں بلکہ الفاظ کے عموم میں وہ نشان قدم بھی شامل ہوسکتے ہیں جو کسی عبادت کے لیے چلتے وقت زمین پر پڑجاتے ہیں چناچہ بعض احادیث صحیحہ میں تصریح ہے۔ " دیار کم تکتب اثارکم۔ "
4 یعنی جس طرح تمام اعمال و آثار و قوع کے بعد ضابطہ کے موافق لکھے جاتے ہیں، قبل از وقوع بھی ایک ایک چیز لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور وہ لکھنا بھی محض انتظامی ضوابط و مصالح کی بناء پر ہے ورنہ اللہ کے علم قدیم میں ہر چھوٹی بڑی چیز پہلے سے موجود و حاظر ہے اسی کے موافق لوح محفوظ میں نقل کی جاتی ہے۔
Ayah 36:135 یہ گاؤں اکثر کے نزدیک شہر " انطاکیہ " ہے۔ اور بائیبل کتاب اعمال کے آٹھویں اور گیارہویں باب میں ایک قصہ اسی قصہ کے مشابہ کچھ تفاوت کے ساتھ شہر انطاکیہ کا بیان ہوا ہے۔ لیکن اب کثیر نے تاریخی حیثیت سے اور سیاق قرآن کے لحاظ سے اس پر کچھ اعتراضات کیے ہیں۔ اگر وہ صحیح ہوں تو کوئی اور بستی ماننی پڑے گی واللہ اعلم۔ اس قصہ کا ذکر مومنین کے لیے بشارت اور مکذبین کے لیے عبرت ہے۔
6 ان کے ناموں کی صحیح تعیین نہیں ہوسکتی اور نہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے یا کسی پیغمبر کے واسطہ سے حکم ہوا تھا اس کے نائب ہو کر فلاں بستی کی طرف جاؤ۔ دونوں احتمال ہیں۔ گو متبادریہ ہی ہے کہ پیغمبر ہوں۔ شاید حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث ہوئے ہوں گے۔
Ayah 36:147 یعنی اول دو گئے پھر ان کی تائید کے لیے تیسرا بھیجا گیا تینوں نے مل کر کہا ہم خود نہیں آئے، اللہ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ لہذا جو کچھ ہم کہیں اسی کا پیغام سمجھو۔
Ayah 36:158 یعنی تم میں کوئی سرخاب کا پر نہیں جو اللہ تمہیں بھیجتا۔ ہم سے کس بات میں تم بڑھ کر تھے۔ بس رہنے دو خواہ مخواہ خدا کا نام نہ لو۔ اس نے کچھ نہیں اتارا۔ تینوں سازش کر کے ایک جھوٹ بنا لائے اسے خدا کی طرف نسبت کردیا۔
Ayah 36:169 یعنی اگر ہم خدا پر جھوٹ لگاتے ہیں تو وہ دیکھ رہا ہے۔ کیا وہ اپنے فعل سے برابر جھوٹوں کی تصدیق کرتا رہے گا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اب تم سمجھو یا نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم اپنے دعوے میں سچے ہیں اور کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے۔ اسی لیے فعلا ہماری تصدیق کر رہا ہے۔
Ayah 36:1710 یعنی ہم اپنا فرض ادا کرچکے، خدا کا پیام خوب کھول کر واضح، معقول اور دلنشیں طریقہ سے تم کو پہنچا دیا، اب اتمام حجت کے بعد خود سوچ لو کہ تکذیب و عداوت کا انجام کیا ہونا چاہیے۔
Ayah 36:1811 شاید تکذیب مرسلین اور کفر وعناد کی شامت سے قحط وغیرہ پڑا ہوگا۔ یا مرسلین کے سمجھانے پر آپس میں اختلاف ہوا کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، اس کو نامبارک کہا۔ یعنی تمہارے قدم کیا آئے، قحط اور نااتفاقی کی بلا ہم پر ٹوٹ پڑی۔ یہ سب تمہاری نحوست ہے۔ (العیاذ باللہ) ورنہ پہلے ہم اچھے خاصے آرام چین کی زندگی بسر کر رہے تھے بس تم اپنے وعظ و نصیحت سے ہم کو معاف رکھو۔ اگر یہ طریقہ نہ چھوڑو گے اور وعظ و نصیحت سے باز نہ آؤ گے تو ہم سخت تکلیف و عذاب پہنچا کر تم کو سنگسار کر ڈالیں گے۔
Ayah 36:1912 یعنی تمہارے کفر و تکذیب کی شامت سے عذاب آیا۔ اگر حق و صداقت کو سب مل کر قبول کرلیتے نہ یہ اختلاف مذموم پیدا ہوتا، نہ اس طرح مبتلائے آفات ہوتے۔ پس نامبارکی اور نحوست کے اسباب خود تمہارے اندر موجود ہیں۔ پھر کیا اتنی بات پر کہ تمہیں اچھی نصیحت و فہمائش کی اور بھلا برا سمجھایا، اپنی نحوست ہمارے سر ڈالنے لگے۔ اور قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم عقل و آدمیت کی حدود سے خارج ہوجاتے ہو۔ نہ عقل سے سمجھتے ہو نہ آدمیت کی بات کرتے ہو۔
Ayah 36:2013 کہتے ہیں کہ اس مرد صالح کا نام حبیب تھا۔ شہر کے پرلے کنارے عبادت میں مشغول رہتا اور کسب حلال سے کھاتا تھا۔ فطری صلاحیت نے چپ نہ بیٹھنے دیا۔ قصہ سنتے ہی مرسلین کی تائید و حمایت اور مکذبین کی نصیحت و فہمائش کے لیے دوڑتا ہوا آیا۔ مبادا اشقیاء اپنی دھمکیوں کو پورا کرنے لگیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرسلین کی آواز کا اثر شہر کے دور دراز حصوں تک پہنچ گیا تھا۔
Ayah 36:2114 یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اس کا پیغام لے کر آئے ہیں جو نصیحت کرتے ہیں اس پر خود کار بند ہیں اخلاق، اعمال اور عادات واطوار سب ٹھیک ہیں۔ پھر ایسے بےلوث بزرگوں کا اتباع کیوں نہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے جو پیغام بھیجے کیوں قبول نہ کیا جائے۔
Ayah 36:221 یہ اپنے اوپر رکھ کر دوسروں کو سنایا۔ یعنی تم کو آخر کیا ہوا کہ جس نے پیدا کیا اس کی بندگی نہ کرو۔
2 یعنی یہ مت سمجھنا کہ پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اب کچھ مطلب اس سے نہیں رہا۔ نہیں، سب کو مرے پیچھے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اس وقت کی فکر کر رکھو۔
Ayahs 36:23–243 یعنی کس قدر صریح گمراہی ہے کہ اس مہربان اور قادر مطلق پروردگار کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے جو خدا کی بھیجی ہوئی کسی تکلیف سے نہ بذات خود چھڑا سکیں نہ سفارش کر کے نجات دلا سکیں۔
Ayah 36:254 یعنی مجمع میں بےکھٹکے اعلان کرتا ہوں کہ میں خدائے واحد پر ایمان لا چکا۔ اسے سب سن رکھیں شاید مرسلین کو اس لیے سنایا ہو کہ وہ اللہ کے ہاں گواہ رہیں اور قوم کو اس لیے کہ سن کر کچھ متاثر ہوں یا کم ازکم دنیا ایک مومن کی قوت ایمان کا مشاہدہ کرنے کی طرف متوجہ ہو۔
Ayah 36:265 یعنی فوراً بہشت کا پروانہ مل گیا۔ آگے نقل کرتے ہیں کہ قوم نے اس کو نہایت بیدردی کے ساتھ شہید کر ڈالا۔ ادھر شہادت واقع ہوئی ادھر سے حکم ملا کہ فوراً بہشت میں داخل ہوجا۔ جیسا کہ ارواح شہداء کی نسبت احادیث سے ثابت ہے کہ وہ قبل از محشر جنت میں داخل ہوتی ہیں۔
Ayah 36:276 قوم نے اس کی دشمنی کی کہ مار ڈالا۔ اس کو بہشت میں پہنچ کر بھی قوم کی خیر خواہی کا خیال رہا کہ اگر میرا حال اور جو انعام و اکرام حق تعالیٰ نے مجھ پر کیا ہے معلوم کرلیں تو سب ایمان لے آئیں۔
Ayahs 36:28–297 یعنی اس کے بعد اس کی قوم کفر و ظلم اور تکذیب مرسلین کی پاداش میں ہلاک کی گئی اور اس اہلاک کے لیے کوئی مزید اہتمام کرنا نہیں پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی، نہ حق تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ قوموں کی ہلاکت کے لیے بڑی بڑی فوجیں بھیجا کریں (یوں کسی خاص موقع پر کسی خاص مصلحت کی وجہ سے فرشتوں کا لشکر بھیج دیں وہ دوسری بات ہے) وہاں تو بڑے بڑے مدعیوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک ڈانٹ کافی ہے۔ چناچہ اس قوم کا حال بھی یہ ہی ہوا کہ فرشتوں نے ایک چیخ ماری اور سب کے سب اسی دم بجھ کر رہ گئے۔
Ayahs 36:30–318 یعنی دیکھتے اور سنتے ہیں کہ دنیا میں کتنی قومیں پہلے پیغمبروں سے ٹھٹھا کر کے غارت ہوچکی ہیں جن کا نام و نشان مٹ چکا۔ کوئی ان میں سے لوٹ کر ادھر واپس نہیں آئی۔ عذاب کی چکی میں سب پس کر برابر ہوگئیں اس پر بھی عبرت نہیں ہوئی، جب کوئی نیا رسول آتا ہے وہ ہی تمسخر اور استہزاء شروع کردیتے ہیں۔ جو پہلے کفار کی عادت تھی۔ چناچہ آج خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھ کفار مکہ کا یہ ہی معاملہ ہے۔
Ayah 36:329 یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا، اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو پھر ایک دن خدا کے ہاں حاضر ہونا ہے۔ جہاں بلا استثناء مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔
Ayahs 36:33–351 یعنی شاید شبہ گزرتا کہ میرے پیچھے پھر کس طرح زندہ ہو کر حاضر کیے جائیں گے ؟ اس کو یوں سمجھا دیا کہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ پھر خدا اس کو زندہ کرتا ہے کہ ایک دم لہلہانے لگتی ہے۔ کیسے کیسے باغ و بہار، غلے اور میوے اس سے پیدا ہوتے ہیں جن کو تم استعمال میں لاتے ہو۔ اسی طرح خیال کرلو کہ مردہ ابدان میں روح حیات پھونک دی جائے گی۔ بہرحال مردہ زمین میں ان کے لیے ایک نشانی ہے جس میں غور کرنے سے بعث بعد الموت اور حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت اور اس کے انعام و احسان کے مسائل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں (تنبیہ) اوپر کی آیات میں ترہیب کا پہلو نمایاں تھا کہ عذاب الٰہی سے ڈر کر راہ ہدایت اختیار کریں۔ آیات حاضرہ میں ترغیب کی صورت اختیار فرمائی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان کر شکر گزاری کی طرف متوجہ ہوں اور یہ بھی سمجھیں کہ جو خدا مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے وہ ایمانی حیثیت سے ایک مردہ قوم کو زندہ کر دے، یہ کیا مشکل ہے۔
2 یعنی یہ پھل اور میوے قدرت الٰہی سے پیدا ہوتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں یہ طاقت نہیں کہ ایک انگور یا کھجور کا دانہ پیدا کرلیں۔ جو محنت اور تردد باغ لگانے اور اس کی پرورش کرنے میں کیا جاتا ہے اس کو بار آور کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور غور سے دیکھا جائے تو جو کام بظاہر ان کے ہاتھوں سے ہوتا ہے وہ بھی فی الحقیقت حق تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت و طاقت اور اس کی مشیت و ارادہ سے ہوتا ہے لہذا ہر حیثیت سے اس کی شکر گزاری اور احسان شناسی واجب ہوئی۔ (تنبیہ) مترجم محقق (رح) نے " وما عملتہ ایدیہم " میں " ما " کو نافیہ لیا ہے۔ کما ہو داب اکثر المتاخرین۔ لیکن سلف سے عموماً " ما " کا موصلہ ہونا منقول ہے اور اسی کی تائید ابن مسعود کی قرأت " ومما عملتہ ایدیہم " سے ہوتی ہے۔
Ayah 36:363 یعنی نباتات میں، انسانوں میں اور دوسری مخلوقات میں جن کی انہیں پوری خبر بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جوڑے بنائے ہیں خواہ تقابل کی حیثیت سے جیسے عورت مرد، نر مادہ، کھٹا میٹھا، سیاہ سفید، دن رات، اندھیرا اجالا، یا تماثل کی حیثیت سے جیسے یکساں رنگ اور مزے کے پھل اور ایک شکل و صورت کے دو جانور، بہرحال مخلوقات میں کوئی مخلوق نہیں جس کا مماثل یا مقابل نہ ہو یہ صرف خدا ہی کی ذات پاک ہے جس کا نہ کوئی مقابل ہے نہ مماثل، کیونکہ مقابلہ یا مماثلت ان چیزوں میں ہوسکتی ہے جو کسی درجہ میں فی الجملہ اشتراک رکھتی ہوں۔ خالق و مخلوق کا کسی حقیقت میں اشتراک ہی نہیں۔
Ayah 36:374 " سلخ " کہتے ہیں جانور کی کھال اتارنے کو جس سے نیچے کا گوشت ظاہر ہوجائے۔ اسی طرح سمجھ لو رات کی تاریکی پر دن کی چادر پڑی ہوئی ہے۔ جس وقت یہ نور کی چادر اوپر سے اتار لی جاتی ہے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں اس کے بعد پھر سورج اپنی مقررہ رفتار سے معین وقت پر آکر سب جگہ اجالا کرتا ہے۔ لیل و نہار کے ان تقلبات پر قیاس کر کے سمجھ لو کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ عالم کو فنا کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور بیشک وہ ہی ایک خدا لائق پرستش ہے جس کے ہاتھ میں ان عظیم الشان انقلابات کی باگ ہے۔ جن سے ہم کو مختلف قسم کے فوائد پہنچتے ہیں۔ نیز جو قادر مطلق رات کو دن سے تبدیل کرتا ہے کیا کچھ بعید ہے کہ بذریعہ آفتاب رسالت کے دنیا سے جہالت کی تاریکیوں کو دور کر دے لیکن رات دن اور چاند، سورج کے طلوع و غروب کی طرح ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔
Ayah 36:385 سورج کی چال اور راستہ مقرر ہے اسی پر چلا جاتا ہے۔ ایک انچ یا ایک منٹ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ جس کام پر لگا دیا ہے ہر وقت اس میں مشغول ہے۔ کسی دم قرار نہیں۔ رات دن کی گردش اور سال بھر کے چکر میں جس جس ٹھکانہ پر اسے پہنچنا ہے پہنچتا ہے۔ پھر وہاں سے باذن خداوندی نیا دورہ شروع کرتا ہے۔ قرب قیامت تک اسی طرح کرتا رہے گا۔ تاآنکہ ایک وقت آئے گا جب اس کو حکم ہوگا کہ جدھر سے غروب ہوا ہے ادھر سے واپس آئے یہی وقت ہے جب باب توبہ بند کردیا جائے گا۔ کما ورد فی الحدیث الصحیح۔ بات یہ ہے کہ اس کے طلوع و غریب کا یہ سب نظام اس زبردست اور باخبر ہستی کا قائم کیا ہوا ہے جس کے انتظام کو کوئی دوسرا شکست نہیں کرسکتا، اور نہ اس کی حکمت و دانائی پر کوئی حرف گیری کرسکتا ہے وہ خود جب چاہے اور جس طرح چاہے الٹ پلٹ کرے کسی کو مجال انکار نہیں ہوسکتی۔ (تنبیہ) اس آیت کی تفسیر میں ایک حدیث آئی ہے جس میں شمس کے تحت العرش سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ یہاں اس کی تشریح کا موقع نہیں۔ اس پر ہمارا مستقل مضمون " سجود الشمس " کے نام سے چھپا ہوا ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 36:396 سورج کی طرح چاند ہمیشہ ایک طرح نہیں رہتا بلکہ روزانہ گھٹتا بڑھتا۔ اس کی اٹھائیس منزلیں اللہ نے مقرر کردی ہیں۔ ان کو ایک معین نظام کے ساتھ درجہ بدرجہ طے کرتا ہے۔ پہلی آیت میں رات دن کا بیان تھا، پھر سورج کا ذکر کیا جس سے سالوں اور فصلوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ اب چاند کا تذکرہ کرتے ہیں جس کی رفتار سے قمری مہینوں کا وجود وابستہ ہے۔ چاند سورج مہینہ کے آخر میں ملتے ہیں تو چاند چھپ جاتا ہے جب آگے بڑھتا ہے تو نظر آتا ہے۔ پھر منزل بہ منزل بڑھتا چلا جاتا اور چودھویں شب کو پورا ہو کر بعد میں گھٹنا شروع ہوتا ہے آخر رفتہ رفتہ اسی پہلی حالت پر آپہنچتا اور کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح پتلا، خمدار اور بےرونق سا ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 36:407 سورج کی سلطنت دن میں ہے اور چاند کی رات میں، یہ نہیں ہوسکتا کہ چاند کی نور افشانی کے وقت سورج اس کو آدبائے۔ یعنی دن آگے بڑھ کر رات کا کچھ حصہ اڑا لے یا رات سبقت کر کے دن کے ختم ہونے سے پہلے آجائے۔ جس زمانہ اور جس ملک میں جو اندازہ رات، دن کا رکھ دیا ہے ان کی رات کی مجال نہیں کہ ایک منٹ آگے پیچھے ہو سکیں۔ ہر ایک سیارہ اپنے اپنے مدار میں پڑا چکر کھا رہا ہے اس سے ایک قدم ادھر ادھر نہیں ہٹ سکتا اور باوجود اس قدر سریع حرکت اور کھلی ہوئی فضا کے نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ مقررہ انداز سے زیادہ تیز یا سست ہوتا ہے کیا یہ اس کا واضح نشان نہیں کہ یہ سب عظیم الشان مشینیں اور ان کے تمام پرزے کسی ایک زبردست مدبر و دانا ہستی کے قبضہ اقتدر میں اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ پھر جو ہستی رات دن اور چاند سورج کا ادل بدل کرتی ہے وہ تمہارے فنا کرنے اور فنا کے بعد دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوگی ؟ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) حضرت شاہ صاحب " لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ " کی تعبیر کا نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ سورج چاند اخیر مہینہ میں ملتے ہیں تو چاند پکڑتا ہے سورج کو۔ سورج چاند کو نہیں پکڑتا۔ " اسی لیے لا القمر ینبغی لہ ان یدرک الشمس نہیں فرمایا۔ واللہ اعلم۔