36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 36:1–5

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے اس پکے قرآن کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

تو تحقیق ہے بھیجے ہوؤں میں سے

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

اوپر سیدھی راہ کے

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

اتارا زبردست رحم والے نے

خلاصہ تفسیر یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو اسی سے یہ بیخبر ہیں (کیونکہ گو عرب میں بعض مضامین شرائع رسل سابقہ کے منقول بھی تھے، جیسا اس آیت میں ہے (آیت) ام جاءھم ما لم یات اباءھم الاولین) یعنی کیا قرآن ان کے پاس کوئی ایسی چیز لایا ہے جو ان کے آباء کے پاس نہیں آئی تھی، یعنی دعوت توحید کوئی نئی چیز نہیں، یہ ہمیشہ ان کے آباء و اجداد میں بھی جاری رہی ہے، مگر پھر بھی نبی کے آنے سے جس قدر تنبہ ہوتا ہے محض اس کے احکام واخبار نقل ہو کر پہنچنے سے جبکہ وہ ناتمام اور متغیر بھی ہوگئے ہوں ویسا تنبہ نہیں ہوتا۔ اور اولاً ڈرانا آپ کا قریش کو تھا، اس لئے اس جگہ انہی کا ذکر فرمایا، پھر عام لوگوں کو بھی آپ نے دعوت فرمائی، کیونکہ بعثت آپ کی عام ہے اور باوجود آپ کی صحت رسالت و صدق قرآن کے یہ لوگ جو نہیں مانتے آپ اس کا غم نہ کیجئے، کیونکہ) ان میں اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہوچکی ہے (وہ بات یہ ہے کہ یہ ہدایت کے راستہ پر نہ آئیں گے) سو یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاویں گے (یہ حال ان کے اکثر کا تھا اور بعض کی قسمت میں ایمان بھی تھا وہ ایمان بھی لے آئے اور ان لوگوں کی مثال ایمان سے دوری میں ایسی ہوگئی کہ گویا) ہم نے ان کی گردنوں میں (بھاری بھاری) طوق ڈال دیئے ہیں پھر وہ تھوڑیوں تک (اڑ گئے) ہیں جس سے ان کے سر اوپر کو الل گئے (یعنی اٹھے رہ گئے، نیچے کو نہیں ہو سکتے، خواہ اس وجہ سے کہ طوق میں جو موقع تحت ذقن رہنے کا ہے وہاں کوئی میخ وغیرہ ایسی ہو جو ذقن میں جا کر اڑ جاوے، اور یا طوق کا چکلا ایسا ہو کہ اس کی کگر ذقن میں اڑ جاوے۔ بہرحال دونوں طور پر وہ راہ دیکھنے سے محروم رہے) اور نیز ان کی مثال بعد عن الایمان میں ایسی ہوگئی کہ گویا) ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اور ایک آڑ ان کے پیچھے کردی جس سے ہم نے (ہر طرف سے) ان کو (پردوں میں) گھیر دیا سو وہ (اس احاطہ حجابات کی وجہ سے کسی چیز کو) نہیں دیکھ سکتے، اور (دونوں تمثیلوں سے حاصل یہ ہے کہ) ان کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں، یہ (کسی حالت میں بھی) ایمان نہیں لائیں گے (اس لئے آپ ان سے مایوس ہو کر راحت حاصل کرلیجئے) بس آپ تو (ایسا ڈرانا جس پر نفع مرتب ہو) صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور خدا سے بےدیکھے ڈرے (کہ ڈر ہی سے طلب حق ہوتی ہے اور طلب سے وصول، اور یہ ڈرتے ہی نہیں) سو (جو ایسا شخص ہو) آپ اس کو (گناہوں کی) مغفرت اور (اطاعت پر) عمدہ عوض کی خوش خبری سنا دیجئے (اور اسی سے اس پر بھی دلالت ہوگئی کہ جو ضلالت اور اعراض کا مرتکب ہو وہ مغفرت اور اجر سے محروم اور مستحق عذاب ہے، اور گو دنیا میں اس جزاء و سزا کا ظہور لازم نہیں، لیکن) بیشک ہم (ایک روز) مردوں کو زندہ کریں گے (اس وقت ان سب کا ظہور ہوجائے گا) اور (جن اعمال پر جزا و سزا ہوگی) ہم (ان کو برابر) لکھے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑے جاتے ہیں (ماقدموا) سے مراد جو کام اپنے ہاتھ سے کیا اور آثارہم سے مراد وہ اثر جو اس کام کے سبب پیدا ہوا اور بعد موت بھی باقی رہا، مثلاً کسی نے کوئی نیک کام کیا اور وہ سبب ہوگیا دوسروں کی بھی ہدایت کا یا کسی نے کوئی برا کام کیا اور وہ سبب ہوگیا دوسروں کی بھی گمراہی کا۔ غرض یہ سب لکھے جا رہے ہیں اور وہاں ان سب پر جزا وسزا مرتب ہوجاوے گی) اور (ہمارا علم تو ایسا وسیع ہے کہ ہم اس کتابت کے بھی محتاج نہیں جو بعد الوقوع ہوئی ہے کیونکہ) ہم نے (تو) ہر چیز کو (جو کچھ قیامت تک ہوگا وقوع سے پہلے ہی) ایک واضح کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ضبط کردیا تھا (محض بعض حکمتوں سے اعمال کی کتابت ہوتی ہے۔ پس جب قبل وقوع ہم کو سب چیزوں کا علم ہے تو بعد وقوع تو کیوں نہ ہوتا، اس لئے کسی عمل سے مکرنے یا پوشیدہ رکھنے کی گنجائش نہیں، ضرور سزا ہوگی اور لوح محفوظ کو واضح با عتبار تفصیل اشیاء کے کہا گیا ہے۔ معارف و مسائل فضائل سورة یٰسین حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یسین قلب القرآن، یعنی سورة یٰسین قرآن کا دل ہے اور اس حدیث کے بعض الفاظ میں ہے کہ جو شخص سورة یٰسین کو خالص اللہ اور آخرت کے لئے پڑھتا ہے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے اس کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو (رواہ احمد وا بوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم وغیرہم، کذافی الروح والمظہری) امام غزالی نے فرمایا کہ سورة یٰسین کو قلب قرآن فرمانے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ اس سورة میں قیامت اور حشر و نشر کے مضامین خاص تفصیل اور بلاغت کے ساتھ آئے ہیں اور اصول ایمان میں سے عقیدہ آخرت وہ چیز ہے جس پر انسان کے اعمال کی صحت موقوف ہے۔ خوف آخرت ہی انسان کو عمل صالح کے لئے مستعد کرتا ہے اور وہی اس کو ناجائز خواہشات اور حرام سے روکتا ہے۔ تو جس طرح بدن کی صحت قلب کی صحت پر موقوف ہے اسی طرح ایمان کی صحت فکر آخرت پر موقوف ہے (روح) اور اس سورة کا نام جیسا سورة یٰسین معروف ہے اسی طرح ایک حدیث میں اس کا نام عظیمہ بھی آیا ہے (اخرجہ ابو نصر اسجزی عن عائشہ) اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سورة کا نام تورات میں معمہ آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا و آخرت کی خیرات و برکات عام کرنے والی۔ اور اس کے پڑھنے والے کا نام شریف آیا ہے اور فرمایا کہ قیامت کے روز اس کی شفاعت قبیلہ ربیعہ کے لوگوں سے زیادہ کے لئے قبول ہوگی۔ (رواہ سعید بن منصور والبیہقی عن حسان بن عطیہ) اور بعض روایات میں اس کا نام مدافعہ بھی آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والے سے بلاؤں کو دفع کرنے والی اور بعض میں اس کا نام قاضیہ بھی مذکور ہے، یعنی حاجات کو پورا کرنے والی۔ (روح المعانی) اور حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ جس مرنے والے کے پاس سورة یٰسین پڑھی جائے تو اس کی موت کے وقت آسانی ہوجاتی ہے۔ (رواہ الدیلمی وابن حبان، مظہری) اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ جو شخص سورة یٰسین کو اپنی حاجت کے آگے کر دے تو اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے۔ (اخرجہ المحاملی فی امالیہ، مظہری) اور یحییٰ بن کثیر نے فرمایا کہ جو شخص صبح کو سورة یٰسین پڑھ لے وہ شام تک خوشی اور آرام سے رہے گا اور جو شام کو پڑھ لے تو صبح تک خوشی میں رہے گا۔ اور فرمایا کہ مجھے یہ بات ایسے شخص نے بتلائی ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ (اخرجہ ابن الفریس، مظہری) یٰس، اس لفظ کے متعلق مشہور قول تو وہی ہے جس کو اوپر خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے۔ کہ حروف مقطعات میں سے ہے، جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے عام بندوں کو نہیں دیا۔ اور ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ امام مالک نے فرمایا کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت یہی ہے کہ اسماء آلٰہیہ میں سے ہے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”اے انسان“ اور مراد انسان سے نبی کریم ﷺ ہیں۔ اور حضرت ابن جبیر کے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ لفظ یٰسین نبی کریم ﷺ کا نام ہے۔ روح المعانی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نام ان دو عظیم الشان حرفوں سے رکھنا، یعنی یا اور سین اس میں بڑے راز ہیں۔ یٰسین کسی کا نام رکھنا کیسا ہے امام مالک نے اس کو اس لئے پسند نہیں کیا کہ ان کے نزدیک یہ اسماء آلٰہیہ میں سے ہے، اور اس کے صحیح معنی معلوم نہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ کوئی ایسے معنی ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، جیسے خالق، رازق وغیرہ البتہ اس لفظ کو یاسین کے رسم الخط سے لکھا جائے تو یہ کسی انسان کا نام رکھنا جائز ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں آیا ہے (آیت) سلام علیٰ آل یاسین (ابن عربی) آیت مذکورہ کی معروف قرآت لیاسین ہے مگر بعض قرأتوں میں آل یاسین بھی آیا ہے۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تو ڈرائے ایک قوم کو کہ ڈر نہیں سنا ان کے باپ دادوں نے سو ان کو خبر نہیں

(آیت) لتنذر قوماً ما انذر اباؤہم، مراد اس سے عرب ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ ان کے آباء و اجداد میں کوئی نذیر یعنی پیغمبر عرصہ دراز سے نہیں آیا۔ اور آباء و اجداد سے مراد قریبی آباء و اجداد ہیں، ان کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھ حضرت اسماعیل ؑ کے بعد کتنی صدیوں سے عرب میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ اگرچہ دعوت و تبلیغ اور انذار وتبشیر کا سلسلہ برابر جاری رہا جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت میں بھی ہے جو خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے اور آیت (آیت) ان من امة الا خلا فیہا نذیر کا بھی یہی مقتضی ہے کہ رحمت خداوندی نے کسی قوم و ملت کو دعوت و انذار سے کسی زمانے اور کسی خطہ میں محروم نہیں رکھا۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کی تعلیمات ان کے نائبوں کے ذریعہ پہنچنا وہ اثر نہیں رکھتا جو خود نبی یا پیغمبر کی دعوت وتعلیم کا ہوتا ہے۔ اس لئے آیت مذکورہ میں عربوں کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ ان میں کوئی نذیر نہیں آیا۔ اسی کا یہ اثر تھا کہ عرب میں عام طور پر پڑھنے پڑھانے اور تعلیم کا کوئی مستحکم نظام نہیں تھا، اسی وجہ سے ان کا لقب امین ہوا۔
Ayahs 36:7–11

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ثابت ہوچکی ہے بات ان میں بہتوں پر سو وہ نہ مانیں گے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ڈالے ہیں ان کی گردنوں میں طوق سو وہ ہیں تھوڑیوں تک پھر ان کے سر الل رہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور بنائی ہم نے ان کے آگے دیوار اور پیچھے دیوار پھر اوپر سے ڈھانک دیا سو ان کو کچھ نہیں سوجھتا

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے یقین نہیں کریں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تو تو ڈر سنائے اس کو جو چلے سمجھائے پر اور ڈرے رحمن سے بن دیکھے سو اس کو خوشخبری دے معافی کی اور عزت کے ثواب کی

(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے سامان ہوتے رہتے ہیں، یعنی ان میں سے بیشتر لوگوں پر تو ان کے سوء اختیار کی بنا پر یہ قول حق جاری ہوچکا ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے۔ آگے ان کے حال کی ایک تمثیل بیان فرمائی ہے، کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ جس کی گردن میں ایسے طوق ڈال دیئے گئے ہوں گے کہ اس کا چہرہ اور آنکھیں اوپر اٹھ جائیں، نیچے راستہ کی طرف دیکھ ہی نہ سکے۔ تو ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو کسی کھڈ میں گرنے سے نہیں بچا سکتا۔ دوسری مثال یہ دی کہ جیسے کسی شخص کے چاروں طرف دیوار حائل کردی گئی ہو وہ اس چار دیواری میں محصور ہو کر باہر کی چیزوں سے بیخبر ہوجاتا ہے، ان کافروں کے گرد بھی ان کی جہالت اور اس پر عناد وہٹ دھرمی نے محاصرہ کرلیا ہے کہ باہر کی حق باتیں ان تک گویا پہنچتی ہی نہیں۔ امام رازی نے فرمایا کہ نظر سے مانع دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مانع تو ایسا ہوتا ہے کہ خود اپنے وجود کو بھی نہ دیکھ سکے، دوسرا یہ کہ اپنے گرد و پیش کو نہ دیکھ سکے۔ ان کفار کے لئے حق بینی سے دونوں قسم کے مانع موجود تھے، اس لئے پہلی مثال پہلے مانع کی ہے کہ جس کی گردن نیچے کو جھک نہ سکے وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ سکتا اور دوسری مثال دوسرے مانع کی ہے کہ گردو پیش کو نہیں دیکھ سکتا۔ (روح) جمہور مفسرین نے آیت مذکورہ کو ان کے کفر وعناد کی تمثیل ہی قرار دیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس کو بعض روایات کی بنا پر ایک واقعہ کا بیان قرار دیا ہے، کہ ابوجہل اور بعض دوسرے لوگ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے یا ایذاء پہنچانے کا پختہ عزم کر کے آپ کی طرف بڑھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، عاجز ہو کر واپس آگئے۔ اسی طرح کے متعدد واقعات کتب تفسیر ابن کثیر، روح المعانی، قرطبی، مظہری وغیرہ میں منقول ہیں، مگر وہ بیشتر روایات ضعیفہ ہیں اس پر مدار آیت کی تفسیر کا نہیں رکھا جاسکتا۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے اور ہر چیز گن لی ہم نے ایک کھلی اصل میں۔

(آیت) ونکتب ما قدموا و آثارہم، ”یعنی ہم لکھیں گے ان اعمال کو جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں“ عمل کرنے کو آگے بھیجنے سے تعبیر کر کے یہ بتلا دیا کہ جو اعمال اچھے یا برے اس دنیا میں کئے ہیں وہ یہیں ختم نہیں ہوگئے، بلکہ وہ تمہارا سامان بن کر آگے پہنچ گئے ہیں جن سے اگلی زندگی میں سابقہ پڑنا ہے، اچھے اعمال ہیں تو جنت کی باغ و بہار بنیں گے، برے ہیں تو جہنم کے انگارے۔ اور ان اعمال کو لکھنے سے اصل مقصود ان کو محفوظ رکھنا ہے، لکھنا بھی اس کا ایک ذریعہ ہے کہ خطاء و نسیان اور زیارت و نقصان کا احتمال نہ رہے۔ اعمال کی طرح اعمال کے اثرات بھی لکھے جاتے ہیں وآثارہم، یعنی جس طرح ان کے کئے ہوئے اعمال لکھے جاتے ہیں اسی طرح ان کے آثار بھی لکھے جاتے ہیں۔ آثار سے مراد اعمال کے وہ ثمرات و نتائج ہیں جو بعد میں ظاہر ہوتے اور باقی رہتے ہیں، مثلاً کسی نے لوگوں کو دین کی تعلیم دی، دینی احکام بتلائے یا اس کے لئے کوئی کتاب تصنیف کی جس سے لوگوں نے دین کا نفع اٹھایا یا کوئی وقف کردیا، جس سے لوگوں کو اس کے بعد نفع پہنچا، یا اور کوئی ایسا کام کیا جس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا، تو جہاں تک اس کے اس عمل خیر کے آثار پہنچیں گے اور جب تک پہنچتے رہیں گے وہ سب اس کے اعمال نامہ میں لکھے جاتے رہیں گے۔ اسی طرح برے اعمال جن کے برے ثمرات وآثار دنیا میں باقی رہے، مثلاً ظالمانہ قوانین جاری کردیئے، ایسے ادارے قائم کردیئے جو انسانوں کے اعمال و اخلاق کو خراب کردیتے ہیں، یا لوگوں کو کسی غلط اور برے راستہ پر ڈال دیا۔ تو جہاں تک اور جب تک اس کے عمل کے برے نتائج اور مفاسد وجود میں آتے رہیں گے، اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے رہیں گے، جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ”جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا بھی ثواب ملے گا اور جنتی آدمی اس طریقہ پر عمل کریں گے ان کا بھی ثواب اس کو ملے گا بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی آوے۔ اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا بھی گناہ ہوگا اور جتنے آدمی جب تک اس برے طریقہ پر عمل کرتے رہیں گے ان کا گناہ بھی اس کو ہوتا رہے گا بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کمی آوے“ آثار کے ایک معنی نشان قدم کے بھی آتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ انسان جب نماز کے لئے مسجد کی طرف چلتا ہے تو اس کے ہر قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے۔ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں آثار سے مراد یہی نشان قدم ہیں، جس طرح نماز کا ثواب بھی لکھا جاتا ہے اسی طرح نماز کے لئے جانے میں جتنے قدم پڑتے ہیں ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ ابن کثیر نے ان روایات کو اس جگہ جمع کردیا ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ مدینہ طیبہ میں جن لوگوں کے مکانات مسجد نبوی سے دور تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب مکان بنالیں، آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا کہ جہاں رہتے ہو وہیں رہو، دور سے چل کر آؤ گے تو یہ وقت بھی ضائع نہ سمجھو، جتنے قدم زیادہ ہوں گے اتنا ہی تمہارا ثواب بڑھے گا۔ اس پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ سورة مکی ہے، اور جو واقعہ ان احادیث میں مذکور ہے وہ مدینہ طیبہ کا ہے۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ آیت تو اپنے عام معنی میں ہے کہ اعمال کے اثرات بھی لکھے جاتے ہیں اور یہ آیت مکہ ہی میں نازل ہوئی ہو، پھر مدینہ طیبہ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو آپ نے بطو راستدلال کے اس آیت کا ذکر فرمایا۔ اور نشان قدم کو بھی ان آثار باقیہ میں شمار فرمایا ہے جن کے لکھے جانے کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے۔ اس طرح ان دونوں تفسیروں کا ظاہری تضاد بھی رفع ہوجاتا ہے (کما صرح بہ ابن کثیر واختارہ)
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور بیان کر ان کے واسطے ایک مثال اس گاؤں کے لوگوں کی جب کہ آئے اس میں بھیجے ہوئے جب بھیجے ہم نے ان کی طرف دو تو ان کو جھٹلایا

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (کفار) کے سامنے (اس غرض سے کہ رسالت کی تائید اور ان کو انکار توحید و رسالت پر تہدید ہو) ایک قصہ یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے یعنی جبکہ ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے اول دونوں کو جھوٹا بتلایا پھر تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی (یعنی تائید کے لئے پھر تیسرے کو وہاں جانے کا حکم دیا) سو ان تینوں نے (ان بستی والوں سے) کہا کہ ہم تمہارے پاس (خدا کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں (تا کہ تم کو ہدایت کریں کہ توحید اختیار کرو بت پرستی چھوڑو کیونکہ وہ لوگ بت پرست تھے، کما یدل علیہ قولہ تعالیٰ (آیت) ومالی لا اعبد الذی فطرنی وقولہ اتخذ من دونہ الہة الخ) ان لوگوں نے (یعنی بستی والوں نے) کہا کہ تم تو ہماری طرح (محض) معمولی آدمی ہو (تم کو رسول ہونے کا امتیاز حاصل نہیں) اور (تمہاری کیا تخصیص ہے، مسئلہ رسالت ہی خود بےاصل ہے اور) خدائے رحمٰن نے (تو) کوئی چیز (کتاب و احکام کی قسم سے کبھی) نازل (ہی) نہیں کی، تم نرا جھوٹ بولتے ہو ان رسولوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار علیم ہے کہ بیشک ہم تمہارے پاس (بطور رسول کے) بھیجے گئے ہیں اور (اس قسم سے یہ مقصود نہیں کہ اسی سے اثبات رسالت کرتے ہیں بلکہ بعد اقامت دلائل کے بھی جب انہوں نے نہ مانا تب آخری جواب کے طور پر مجبور ہو کر قسم کھائی جیسا آگے خود ان کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے) کہ ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر (حکم کا) پہنچا دینا تھا (چونکہ واضح ہونا اس پر موقوف ہے کہ دلائل واضحہ سے دعوے کو ثابت کردیا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ اول دلائل قائم کرچکے تھے، آخر میں قسم کھائی۔ غرض یہ کہ ہم اپنا کام کرچکے تم نہ مانو تو ہم مجبور ہیں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں (یا تو اس لئے کہا کہ ان پر قحط پڑا تھا (کما فی العالم) اور یا اس لئے کہا کہ جب کوئی نئی بات سنی جاتی ہے، گو لوگ اس کو قبول نہ کریں مگر اس کا چرچا ضرور ہوتا ہے، اور اکثر عام لوگوں میں اس کی وجہ سے گفتگو اور اس گفتگو میں اختلاف اور کبھی نزاع ونااتفاقی کی نوبت پہنچ ہی جاتی ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگوں میں ایک فتنہ جھگڑا ڈال دیا جس سے مضرتیں پہنچ رہی ہیں، یہ نحوست ہے۔ اور اس نحوست کے سبب تم ہو) اور اگر تم (اس دعوت اور دعوے) سے باز نہ آئے تو (یاد رکھو) ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کر دینگے اور (سنگساری سے پہلے بھی) تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی (یعنی اور طرح طرح سے ستاویں گے) نہیں مانو گے تو اخیر میں سنگسار کردیں گے) ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے (یعنی جس کو تم مضرت و مصیبت کہتے ہو اس کا سبب تو حق کا قبول نہ کرنا ہے، اگر حق قبول کرنے پر متفق ہوجاتے نہ یہ جھگڑے اور فتنے ہوتے، نہ قح کے عذاب میں مبتلا ہوتے۔ رہا پہلا اتفاق بت پرستی پر تو ایسا اتفاق جو باطل پر ہو خود فساد و وبال ہے جس کو چھوڑنا لازم ہے اور اس زمانے میں قحط نہ ہونا وہ بطور استدراج کے اللہ کی طرف سے ڈھیل دی ہوئی تھی یا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت تک ان لوگوں پر حق واضح نہیں ہوا تھا۔ اور اللہ کا قانون ہے کہ حق کو واضح کرنے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ (آیت) حتی یبین لہم ما یتقون، اور یہ ڈھیل یا حق کا نہ ہونا بھی تمہاری ہی غفلت، جہالت اور شامت اعمال تھی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں اس نحوست کا سبب خود تمہارا فعل تھا) کیا تم اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاوے (جو بنیاد سعادت ہے یہ تو واقع میں نحوست نہیں) بلکہ تم (خود) حد (عقل و شرع) سے نکل جانے والے لوگ ہو (پس مخالفت شرع سے تم پر یہ نحوست آئی اور مخالفت عقل سے تم نے اس کا سبب غلط سمجھا) اور (اس گفتگو کی خبر جو شائع ہوئی تو) ایک شخص (جو مسلمان تھا) اس شہر کے کسی دور مقام سے (جو یہاں سے دور تھا یہ خبر سن کر اپنی قوم کی خیر خواہی کے لئے کہ ان رسولوں کا وجود قوم کی فلاح تھا، یا رسولوں کی خیر خواہی کے لئے کہ کہیں یہ لوگ ان کو قتل نہ کردیں) دوڑتا ہوا (یہاں) آیا (اور ان لوگوں سے) کہنے لگا کہ اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو (ضرور) ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، اور وہ خود راہ راست پر بھی ہیں (یعنی خود غرضی جو مانع اتباع ہے وہ بھی نہیں اور راہ راست پر ہونا جو مقتضی اتباع ہے وہ موجود ہے پھر اتباع کیوں نہ کیا جاوے) اور میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھ کو پیدا کیا (جو کہ منجملہ دلائل استحقاق عبادت کے ہے) اور (اپنے اوپر رکھ کر اس لئے کہا کہ مخاطب کو اشتعال نہ ہو جو کہ مانع تدبر ہوجاتا ہے اور اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے میں کون سا عذر ہے) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے (اس لئے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے رسولوں کا اتباع کرو۔ یہاں تک تو معبود حق کے استحقاق عبادت کا بیان کیا، آگے معبودات باطلہ کے عدم استحقاق عبادت کا مضمون ہے یعنی) کیا میں خدا کو چھوڑ کر اور ایسے ایسے معبود قرار دے لوں (جن کی کیفیت بےبسی کی یہ ہے) کہ اگر خدائے رحمن مجھ کو تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان معبودوں کی سفارش میرے کام آوے گی اور نہ وہ مجھ کو (خود اپنی قدرو زور کے ذریعہ اس تکلیف سے) چھڑا سکیں (یعنی نہ وہ خود قادر ہیں نہ قادر تک واسطہ سفارش بن سکتے ہیں، کیونکہ اول تو جمادات میں شفاعت کی اہلییت ہی نہیں، دوسرے شفاعت وہی کرسکتے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو اور) اگر میں ایسا کروں تو صریح گمراہی میں جا پڑا (یہ بھی اپنے اوپر رکھ کر ان لوگوں کو سنانا ہے) میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا سو تم (بھی) میری بات سن لو (اور ایمان لے آؤ، مگر ان لوگوں پر کچھ اثر نہ ہوا بلکہ اس کو پتھروں سے یا آگ میں ڈال کر یا گلا گھونٹ کر (کما فی الدر المنشور) شہید کر ڈالا، شہید ہوتے ہی اس کو خدا کی طرف سے) ارشاد ہوا کہ جا جنت میں داخل ہوجا (اس وقت بھی اس کو اپنی قوم کی فکر ہوئی) کہنے لگا کہ کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ میرے پروردگار نے (ایمان اور اتباع رسل کی برکت سے) مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو عزت داروں میں شامل کردیا (تو اس حال کو معلوم کر کے وہ بھی ایمان لے آتے اور اسی طرح وہ بھی مغفور اور مکرم ہوجاتے) اور (جب ان بستی والوں نے رسل اور متبع رسل کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور انتقام لینے کے لئے) ہم نے اس (شخص شہید) کی قوم پر اس (کی شہادت) کے بعد کوئی لشکر (فرشتوں کا) آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت تھی، (کیونکہ ان کا ہلاک کرنا اس پر موقوف نہ تھا کہ اس کے لئے کوئی بڑی جمعیت لائی جاتی (کذا فسرہ، ابن مسعود فیما نقل ابن کثیر عن ابن اسحاق حیث قال ما کا ثرنا ہم بالجموع فان الامر کان ایسر علینا من ذلک بلکہ) وہ سزا ایک آواز سخت تھی (جو جبرئیل ؑ نے کردی، کذا فی المعالم یا اور کسی فرشتہ نے کردی ہو۔ یا صیحہ سے مطلق عذاب مراد ہو جس کی تعیین نہیں کی گئی، جیسا کہ سورة مومنون کی آیت فاخذثہم الصیحة کی تفسیر میں گزر چکا ہے) اور وہ سب اسی دم (اس سے) بجھ کر (یعنی مر کر) رہ گئے (آگے قصہ کا انجام بتلانے کے لئے مکذبین کی مذمت فرماتے ہیں کہ) افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں (اسی تکذیب و استہزاء کے سبب) غارت کرچکے کہ وہ (پھر) ان کی طرف (دنیا میں) لوٹ کر نہیں آتے، (اگر اس میں غور کرتے تو تکذیب و استہزا سے باز آجاتے اور یہ سزا تو مکذبین کو دنیا میں دی گئی) اور (پھر آخرت میں) ان سب میں کوئی ایسا نہیں جو مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر نہ کیا جاوے (وہاں پھر سزا ہوگی اور وہ سزا دائمی ہوگی)۔ معارف و مسائل (آیت) واضرب لہم مثلاً اصحب القریة، ضرب مثل کسی معاملے کو ثابت کرنے کے لئے اسی جیسے واقعہ کی مثال بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ اوپر جن منکرین نبوت و رسالت کفار کا ذکر آیا ہے، اس کو متنبہ کرنے کے لئے قرآن کریم بطور مثال کے پہلے زمانے کا ایک قصہ بیان کرتا ہے جو ایک بستی میں پیش آیا تھا۔ وہ کونسی بستی ہے جس کا ذکر اس قصہ میں آیا ہے ؟ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں بتلایا، تاریخی روایات میں محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباس اور کعب احبار، وہب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بستی انطاکیہ تھی۔ اور جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابوحیان اور ابن کثیر نے فرمایا کہ مفسرین میں اس کے خلاف کوئی قول منقول نہیں۔ معجم البلدان کی تصریح کے مطابق انطاکیہ ملک شام کا مشہور عظیم الشان شہر ہے، جو اپنی شادابی اور استحکام میں معروف ہے، اس کا قلعہ اور شہر پناہ کی دیوار ایک مثالی چیز سمجھی جاتی ہے۔ اس شہر میں نصاری کے عبادت خانے کینسا بیشمار اور بڑے شاندار سونے چاندی کے کام سے مزین ہیں، ساحلی شہر ہے، زمانہ اسلام میں اس کو فاتح شام حضرت امین الامة ابو عبیدہ بن جراح نے فتح کیا ہے۔ معجم البلدان میں یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب بخار (جس کا قصہ اس آیت میں آگے آ رہا ہے) اس کی قبر بھی انطاکیہ میں معروف ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ ان کی تصریح سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ یہی شہر انطاکیہ ہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ انتظاکیہ ان چار مشہور شہروں میں سے ہے جو دین عیسوی اور نصرانیت کے مرکز سمجھے گئے ہیں، یعنی قدس، رومیہ، اسکندریہ اور انطاکیہ۔ اور فرمایا کہ انطاکیہ سب سے پہلا شہر ہے، جس نے دین مسیح ؑ کو قبول کیا۔ اسی بنا پر ابن کثیر کو اس میں تردد ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں ہے وہ مشہور شہر انطاکیہ ہو، کیونکہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق یہ قریہ منکرین رسالت و نبوت کی بستی تھی، اور تاریخی روایات کے مطابق وہ بت پرست مشرکین تھے تو انطاکیہ جو دین مسیح اور نصرانیت کے قبول کرنے میں سب سے اولیت رکھتا ہے، وہ کیسے اس کا مصداق ہوسکتا ہے۔ نیز قرآن کریم کی مذکورہ آیات ہی سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس واقعہ میں اس پوری بستی پر ایسا عذاب آیا کہ ان میں کوئی زندہ نہیں بچا۔ شہر انطاکیہ کے متعلق تاریخ میں اس کا ایسا کوئی واقعہ منقول نہیں کہ کسی وقت اس کے سارے باشندے بیک وقت مر گئے ہوں۔ اس لئے ابن کثیر کی رائے میں یا تو اس آیت میں جس قریہ کا ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے یا پھر انطاکیہ نام ہی کی کوئی دوسری بستی ہے جو مشہور شہر انطاکیہ نہیں ہے۔ صاحب فتح المنان نے ابن کثیر کے ان اشکالات کے جوابات بھی دیئے ہیں، مگر سہل اور بےغبار بات وہی ہے جس کو سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے۔ کہ آیات قرآن کا مضمون سمجھنے کے لئے اس بستی کی تعیین ضروری نہیں، اور قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھا ہے، تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کی تعیین پر اتنا زور خرچ کیا جائے۔ سلف صالحین کا یہ ارشاد کہ ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے تم بھی اسے مبہم ہی رہنے دو ، اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔
Ayahs 36:14–17

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

پھر ہم نے قوت دی تیسرے سے تب کہا انہوں نے ہم تمہاری طرف آئے ہیں بھیجے ہوئے

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ بولے تم تو یہی انسان ہو جیسے ہم اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم سارے جھوٹ کہتے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

کہا ہمارا رب جانتا ہے ہم بیشک تمہاری طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارا ذمہ یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر

(آیت) اذ جاءھا المرسلون۔ اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون۔ مذکورہ بستی میں تین رسول بھیجے گئے تھے، پہلے ان کا بیان اجمالی اذجاء انا الیکم مرسلون میں فرمایا۔ اس کے بعد اس کی یہ تفصیل دی گئی کہ پہلے دو رسول بھیجے گئے تھے، بستی والوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا۔ پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کیا انا الیکم مرسلون، یعنی ہم تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس بستی میں جو رسول بھیجے گئے ان سے کیا مراد ہے اور وہ کون حضرات تھے لفظ رسول اور مرسل قرآن کریم میں عام طور پر اللہ کے نبی پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں ان کے بھیجنے کو حق تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، یہ بھی علامت اس کی ہے کہ اس سے مراد انبیاء مرسلین ہیں۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس کعب احبار اور وہب بن منبہ کی روایت یہی نقل کی ہے کہ یہ تینوں بزرگ جن کا اس قریہ میں بھیجنے کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کے نام اس روایت میں صادق، صدوق اور شلوم مذکور ہیں، اور ایک روایت میں تیسرے کا نام شمعون آیا ہے۔ (ابن کثیر) اور حضرت قتادہ سے یہ منقول ہے کہ یہاں لفظ مرسلون اپنے اصلاحی معنی میں نہیں بلکہ قاصد کے معنی میں ہے اور یہ تین بزرگ جو اس قریہ کی طرف بھیجے گئے خود پیغمبر نہیں تھے، بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریین میں سے تھے۔ انہی کے حکم سے یہ اس قریہ کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے (ابن کثیر) اور چونکہ ان کے بھیجنے والے حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے رسول تھے، ان کا بھیجنا بھی بالواسطہ اللہ تعالیٰ ہی کا بھیجنا تھا اس لئے آیت میں ان کے ارسال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مفسرین میں سے ابن کثیر نے پہلے قول کو اور قرطبی وغیرہ نے دوسرے کو اختیار کیا ہے، ظاہر قرآن سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ حضرات اللہ کے نبی اور پیغمبر تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

بولے ہم نے نامبارک دیکھا تم کو اگر تم باز نہ رہو گے تو ہم تم کو سنگسار کریں گے اور تم کو پہنچے گا ہمارے ہاتھ سے عذاب درد ناک

(آیت) قالوا انا تطیرنا بکم، تطیر کے معنی بدفالی لینے اور کسی کو منحوس سمجھنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اس شہر کے لوگوں نے اللہ کے ان فرستادوں کی بات نہ مانی اور یہ کہنے لگے کہ تم لوگ منحوس ہو۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کی نافرمانی اور رسولوں کی بات نہ ماننے کے سبب اس بستی میں قحط پڑگیا تھا، اس لئے بستی والوں نے ان کو منحوس کہا، یا اور کوئی تکلیف پہنچی ہوگی تو جیسے کفار کی عام عادت یہی ہے کہ کوئی مصیبت آئے تو اس کو ہدایت کرنے والے انبیاء و صلحاء کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں، اس کو بھی ان حضرات کی طرف منسوب کردیا جیسا کہ قوم موسیٰ ؑ کے متعلق قرآن میں ہےفاذا جاءتہم الحسنة قالوا لنا ھذہ وان تصبہم سیۃ یطیروا بموسیٰ ومن معہ، اسی طرح قوم صالح ؑ نے ان کو کہا (آیت) تطیرنا بک وبمن معک۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

کہنے لگے تمہاری نامبارکی تمہارے ساتھ ہے کیا اتنی بات پر کہ تم کو سمجھایا کوئی نہیں پر تم لوگ ہو کہ حد پر نہیں رہتے

قالوا طائرکم معکم، یعنی تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ طائر کا لفظ اصل میں بدفالی کے لئے بولا جاتا ہے، اور کبھی بدفالی کے اثر یعنی نحوست کے معنی میں بھی آتا ہے یہاں یہی مراد ہے (ابن کثیر، قرطبی)
Ayahs 36:20–24

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا بولا اے قوم چلو راہ پر بھیجے ہوؤں کی

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

چلو راہ پر ایسے شخص کی جو تم بےبدلہ نہیں چاہتے اور وہ ٹھیک راستہ پر ہیں۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھ کو کیا ہوا کہ میں بندگی نہ کروں اس کی جس نے مجھ کو بنایا اور اسی کی طرف سب پھر جاؤ گے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

بھلا میں پکڑوں اس کے سوائے اوروں کو پوجنا کہ اگر مجھ پر چاہے رحمن تکلیف تو کچھ کام نہ آئے مجھ کو ان کی سفارش اور نہ وہ مجھ کو چھڑائیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

تو تو میں بھٹکتا رہوں صریح

(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی دوسرے گوشہ سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اور کبھی لفظ سعی اہتمام کے ساتھ چلنے کے معنے میں بھی آتا ہے چاہے دوڑ کر نہ چلے، جیسے سورة جمعہ میں (آیت) فاسعوا الیٰ ذکر اللہ میں یہی معنی مراد ہیں۔ گوشہ شہر سے آنے والے شخص کا واقعہ قرآن کریم نے اس کو بھی مبہم رکھا ہے، اس شخص کا نام اور حال ذکر نہیں فرمایا۔ تاریخی روایات میں ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس اور کعب احبار اور وہب بن منبہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ اس شخص کا نام حبیب تھا، اس کے پیشہ کے متعلق مختلف اقوال ہں، ان میں مشہور یہ ہے کہ نجار تھا لکڑی کا کام کرتا تھا۔ (ابن کثیر) اور تاریخی روایات جو مفسرین نے اس جگہ نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی شروع میں بت پرست تھا، دو رسول جو پہلے اس شہر میں آئے اس کی ملاقات ان سے ہوگئی ان کی تعلیم سے اور بعض روایات کے اعتبار سے ان کا معجزہ یا کرامت دیکھ کر اس کے دل میں ایمان پیدا ہوا۔ بت پرستی سے تائب ہو کر مسلمان ہوگیا اور کسی غار وغیرہ میں جا کر عبادت میں مشغول ہوگیا جب اس کو یہ خبر ملی کہ شہر کے لوگ ان رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو جھٹلا کر ان کے درپے آزار ہوگئے اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں، تو یہ اپنی قوم کی خیر خواہی اور ان رسولوں کی ہمدردی کے ملے جلے جذبے سے جلدی کر کے اپنی قوم میں آیا اور ان کو رسولوں کا اتباع کرنے کی نصیحت کی۔ اور پھر اپنے مومن ہونے کا اعلان کردیا۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں یقین لایا تمہارے رب پر مجھ سے سن لو

(آیت) انی امنت بربکم فاسمعون یعنی میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں تم سن لو۔ اس کا مخاطب اس کی قوم بھی ہو سکتی ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کو ان کا رب کہنا اظہار حقیقت کے لئے تھا، اگرچہ وہ اس کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب رسولوں کو ہو، اور فاسمعون کہنے کا مقصد یہ ہو کہ آپ سن لیں اور اللہ کے سامنے میرے ایمان کی شہادت دیں۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

حکم ہوا چلا جا بہشت میں بولا کسی طرح میری قوم معلوم کرلیں

(آیت) قیل ادخل الجنة قال یلیت قومی یعلمون الآیة، یعنی اس شخص کو جو گوشہ شہر سے رسولوں پر ایمان لانے کی تلقین کے لئے آیا تھا اس کو کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب کسی فرشتے کے ذریعے ہوا ہے، کہ جنت میں چلے جاؤ۔ اور مراد جنت میں داخل ہونے سے یہ خوش خبری دینا ہے کہ جنت تمہارا مقام متعین ہوچکا ہے، جو اپنے وقت پر حشر ونشر کے بعد حاصل ہوگا۔ (قرطبی) اور یہ بھی بعید نہیں کہ ان کو ان کا مقام جنت اس وقت دکھلا دیا گیا ہو، اس کے علاوہ برزخ میں بھی اہل جنت کو جنت کے پھل پھول اور راحت کی چیزیں ملتی ہیں۔ اس لئے ان کا عالم برزخ میں پہنچنا ایک حیثیت سے جنت ہی میں داخل ہونا ہے۔ قرآن کریم کے اس لفظ سے کہ اس کو کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کو شہید کردیا گیا تھا، کیونکہ دخول جنت یا آثار جنت کا مشاہدہ بعد موت ہی ہوسکتا ہے۔ تاریخی روایات میں حضرت ابن عباس، مقاتل، مجاہد ائمہ تفسیر سے منقول ہے کہ یہ شخص حبیب ابن اسماعیل نجار تھا، اور یہ ان لوگوں میں ہے جو ہمارے رسول اللہ ﷺ پر آپ کی بعثت سے چھ سو سال پہلے ایمان لایا ہے۔ جیسا کہ تبع اکبر کے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کتب سابقہ میں پڑھ کر آپ کی ولادت سے بہت پہلے آپ پر ایمان لایا تھا۔ تیسرے بزرگ آدمی جو آپ پر آپ کی بعثت اور دعوے سے پہلے ایمان لائے ورقہ بن نوفل ہیں جن کا ذکر صحیح بخاری کی حدیث ابتداء وحی کے واقعات میں آیا ہے۔ یہ بھی رسول کریم ﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ کی ولادت وبعثت سے پہلے آپ پر یہ تین آدمی ایمان لے آئے تھے یہ معاملہ کسی اور رسول و نبی کے ساتھ نہیں ہوا۔ وہب بن منبہ کی روایت میں ہے کہ یہ شخص جذامی تھا، اور ان کا مکان شہر کے سب سے آخری دروازہ پر تھا۔ اپنے مفروضہ معبودوں سے دعا کرتا تھا کہ مجھے تندرست کردیں جس پر ستر سال گزر چکے تھے۔ یہ رسول شہر انطاکیہ میں اتفاقاً اسی دروازے سے داخل ہوئے تو اس شخص سے پہلے پہل ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس کو بت پرستی سے باز آنے اور ایک خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ اس نے کہا کہ آپ کے پاس آپ کے دعویٰ کی کوئی دلیل و علامت صحت بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہے۔ اس نے اپنی جذام کی بیماری بتلا کر پوچھا کہ آپ یہ بیماری دور کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم اپنے رب سے دعا کریں گے وہ تمہیں تندرست کر دے گا۔ اس نے کہا کہ کیا عجیب بات کہتے ہو، میں ستر سال سے اپنے معبودوں سے دعا مانگتا ہوں کچھ فائدہ نہیں ہوا، تمہارا رب کیسے ایک دن میں میری حالت بدل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارا رب ہر چیز پر قادر ہے، اور جن کو تم نے خدا بنا رکھا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ سن کر یہ شخص ایمان لے آیا اور ان بزرگوں نے اس کے لئے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا تندرست کردیا کہ بیماری کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔ اب تو اس کا ایمان پختہ ہوگیا، اور اس نے عہد کیا کہ دن بھر میں جو کچھ کمائے گا اس کا آدھا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا۔ جب ان رسولوں پر شہر کے لوگوں کی یلغار کی خبر پائی تو یہ دوڑ کر آیا، اور اپنی قوم کو سمجھایا اور اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ پوری قوم اس کی دشمن ہوگئی، اور سب مل کر اس پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت ابن مسعود کی روایت میں ہے کہ لاتوں اور ٹھوکروں سے سب نے مل کر اس کو شہید کردیا۔ بعض روایات میں ہے کہ اس پر پتھر برسائے، اور اس وقت بھی ان سب کی بےتحاشا مار پڑنے کے وقت وہ کہتا جاتا تھا رب اھد قومی، ”اے میرے پروردگار ! میری قوم کو ہدایت کر دے“ بعض روایتوں میں ہے کہ ان لوگوں نے تینوں رسولوں کو شہید کردیا مگر کسی صحیح روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ ان کا کیا حال رہا بظاہر وہ مقتول نہیں ہوئے۔ (قرطبی)
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ بخشا مجھ کو میرے رب نے اور کیا مجھ کو عزت والوں میں

یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین۔ یہ بزرگ چونکہ بڑی بہادری کے ساتھ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے، حق تعالیٰ نے ان کے ساتھ خاص اکرام و اعزاز کا معاملہ فرمایا اور جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ اس نے انعام و اکرام اور جنت کی نعمتوں کا مشاہدہ کیا، تو پھر اپنی قوم یاد آئی، اور تمنا کی کہ کاش میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجاتا کہ رسولوں پر ایمان لانے کی جزاء میں مجھے اعزازو اکرام اور دائمی نعمتیں کیسے ملیں، تو شاید ان کو بھی ایمان کی توفیق ہوجاتی۔ اس تمنا کا اظہار مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے۔ پیغمبرانہ دعوت و اصلاح کا طریقہ مبلغین اسلام کے لئے اہم ہدایت اس بستی کی طرف جو تین رسول بھیجے گئے، انہوں نے مشرکین و کفار سے جس طرح خطاب کیا اور ان کی سخت و تلخ باتوں اور دھمکیوں کا جس طرح جواب دیا اسی طرح ان کی دعوت سے مسلمان ہونے والے حبیب نجار نے اپنی قوم سے جس طرح خطاب کیا ان سب چیزوں کو ذرا مکرر دیکھئے، تو اس میں تبلیغ دین اور اصلاح خلق کی خدمت انجام دینے والوں کے بڑے بڑے سبق ہیں۔ ان رسولوں کی ناصحانہ تبلیغ و تلقین کے جواب میں مشرکین نے تین باتیں کہیں۔ (1) تم تو ہمیں جیسے انسان ہو ہم تمہاری بات کیوں مانیں ؟ (2) اللہ رحمن نے کسی پر کوئی پیغام اور کوئی کتاب نہیں اتاری ؟ (3) تم خالص جھوٹ بولتے ہو۔ آپ غور کیجئے کہ بےغرض ناصحانہ کلام کے جواب میں یہ اشتعال انگیز گفتگو کیا جواب چاہتی تھی، مگر ان رسولوں نے کیا جواب دیا۔ صرف یہ کہ (آیت) ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون یعنی ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں، اور (آیت) ما علینا الا البلغ المبین، یعنی ہمارا جو کام تھا وہ کرچکے کہ تمہیں اللہ کا پیغام واضح کر کے پہنچا دیا، آگے تمہیں اختیار ہے، مانو یا نہ مانو۔ دیکھئے ان کے کسی لفظ میں کیا ان کی اشتعال انگیزی کا کوئی تاثر ہے ؟ کیسا مشفقانہ جواب دیا۔ پھر ان لوگوں نے اور آگے بڑھ کر کہا کہ تم لوگ منحوس ہو، تمہاری وجہ سے ہم مصیبت میں پڑگئے۔ اس کا متعین جواب یہ تھا کہ منحوس تم خود ہو، تمہارے اعمال کی شامت تمہارے گلے میں آ رہی ہے، مگر ان رسولوں نے اس بات کو ایسے مجمل الفاظ میں ادا کیا جس میں ان کے منحوس ہونے کی تصریح نہیں فرمائی، بلکہ یہ فرمایا (آیت) طائرکم معکم یعنی تمہاری بدفالی تمہارے ساتھ ہے۔ اور پھر وہی مشفقانہ خطاب کیا، (آیت) ائن ذکرتم یعنی تم یہ تو سوچو کہ ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے، ہم نے تو صرف تمہیں خیر خواہانہ نصیحت کی ہے، بس سب سے بھاری جملہ جو بولا تو یہ کہ (آیت) بل انتم قوم مسرفون ”یعنی تم لوگ حدود سے تجاوز کرنے والے ہو“ بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہو۔ یہ تو ان رسولوں کا مکالمہ تھا، اب وہ مکالمہ دیکھئے جو ان رسولوں کی دعوت پر ایمان لانے والے نو مسلم نے کیا۔ اس نے پہلے تو اپنی قوم کو دو باتیں بتا کر رسولوں کی بات ماننے کی دعوت دی۔ اول یہ کہ ذرا یہ تو سوچو کہ یہ لوگ دور سے چل کر تمہیں نصیحت کرنے آئے ہیں، سفر کی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم سے کچھ مانگتے نہیں، یہ بات خود انسان کو غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ یہ بےغرض لوگ ہیں ان کی بات میں غور تو کرلیں۔ دوسرے یہ کہ جو بات وہ کہہ رہے ہیں وہ سرا سر عقل و انصاف اور ہدایت کی بات ہے۔ اس کے بعد قوم کو ان کی غلطی اور گمراہی پر متنبہ کرتا تھا کہ اپنے پیدا کرنے والے قادر مطلق کو چھوڑ کر تم لوگ خود تراشیدہ بتوں کو اپنا حاجت روا سمجھ بیٹھے ہو، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ نہ وہ خود تمہارا کوئی کام بنا سکتے ہیں اور نہ اللہ کے یہاں ان کا کوئی مقام اور درجہ ہے کہ اس سے سفارش کر کے تمہارا کام کرا دیں۔ مگر حبیب نجار نے یہ ساری باتیں ان کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اپنی طرف منسوب کرنے کا عنوان اختیار کیا کہ میں ایسا کروں تو بڑی گمراہی کی بات ہوگی۔ (آیت) ومالی لا اعبد الذی فطرنی الآیة۔ یہ سب اس لئے کہ مخالف کو اشتعال نہ ہو، بات میں ٹھنڈے دل سے غور کرے۔ پھر جب اس کی قوم نے اس کی شفقت و رحمت کا بھی کچھ اثر نہ لیا، اور ان کو قتل کرنے کے لئے ان پر پل پڑی تو اس وقت بھی ان کی زبان پر کوئی بد دعا کا کلمہ نہ آیا بلکہ یہی کہتے ہوئے جان دے دی کہ رب اھد قومی ”یعنی میرے پروردگار میری قوم کو ہدایت فرما دے“ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ قوم کے اس ظلم وستم سے شہید ہونے والے کو جب اللہ کی طرف سے انعام و اکرام اور جنت کی نعمتوں کا مشاہدہ ہوا تو اس وقت بھی اپنی یہی ظالم قوم یاد آئی، اور اس کی خیر خواہی و ہمدردی سے یہ تمنا کی کہ کاش میری قوم میرے حالات انعام و اکرام سے واقف ہوجاتی، تو شاید وہ بھی اپنی گمراہی سے باز آ کر ان نعمتوں کی شریک بن جاتی۔ سبحان اللہ خلق اللہ کی خیر خواہی ان کے مظالم کے باوجود کس طرح ان حضرات کی رگ وپے میں پیوست ہوتی ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے قوموں کی کایا پلٹی ہے، کفر و ضلالت سے نکال کر وہ مقام بخشا ہے کہ فرشتے بھی ان پر رشک کرتے ہیں۔ آج کل کے مبلغین اور خدمت دعوت و اصلاح کے انجام دینے والوں نے عموماً اس پیغمبرانہ اسوہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اسی لئے ان کی دعوت و تبلیغ بےاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ تقریر و خطاب میں غصہ کا اظہار، مخالف پر فقرے چست کرنا بڑا کمال سمجھا جاتا ہے، جو مخالف کو اور زیادہ ضد وعناد کی طرف دھکیل دیتا ہے، اللہم اجعلنا متبعین لسنن انبیاء ک و رفقنا لما تحب و ترضاہ۔
Ayahs 36:28–32

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور نہیں اتاری ہم نے اس کو قوم پر اس کے پیچھے کوئی فوج آسمان سے اور ہم (فوج) نہیں اتارا کرتے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس یہی تھی ایک چنگھاڑ پھر اسی دم سب بجھ گئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

کیا افسوس ہے بندوں پر کوئی رسول نہیں آیا ان کے پاس جس سے ٹھٹھا نہیں کرتے

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کتنی غارت کرچکے ہم ان سے پہلے جماعتیں کہ وہ ان کے پاس پھر کر نہیں آئیں گی

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور ان سب میں کوئی نہیں جو اکٹھے ہو کر نہ آئیں ہمارے پاس پکڑے ہوئے۔

وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔ روایات میں ہے کہ جبرئیل امین نے شہر کے دروازے کے دونوں بازو پکڑ کر ایک سخت ہیبت ناک آواز لگائی جس کے صدمہ کو کسی کی روح برداشت نہ کرسکی سب کے سب مرے رہ گئے۔ ان کے مر جانے کو قرآن نے خامدون کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ خمود آگ بجھ جانے کے معنی میں آتا ہے، جاندار کی حیات حرارت غریزی پر موقوف ہے، جب یہ حرارت ختم ہوجائے تو اسی کا نام موت ہے۔ خامدون یعنی بجھنے والے ٹھنڈے ہوجانے والے۔
Ayahs 36:33–34

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ہے ان کے واسطے زمین مردہ اس کو ہم نے زندہ کردیا اور نکالا اس میں سے اناج سو اسی میں سے کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور بنائے ہم نے اس میں باغ کجھور کے اور انگور کے اور بہا دیئے اس میں بعضے چشمے

خلاصہ تفسیر اور (قدرت کی نشانیاں اور عظیم الشان نعمتیں جو توحید کے دلائل بھی ہیں، ان میں سے) ایک نشانی ان لوگوں کے (استدلال کے) لئے مردہ زمین ہے (اور اس میں نشانی کی بات یہ ہے کہ) ہم نے اس کو (بارش سے) زندہ کیا اور ہم نے اس (زمین) سے (مختلف) غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے اس (زمین میں) کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں (باغ کی آب پاشی کے لئے) چشمے (اور نالے) جاری کئے تاکہ (مثل غلے کے) لوگ باغ کے پھلوں میں سے (بھی) کھائیں اور اس (پھل اور غلہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (گو تخم ریزی اور آبپاشی بظاہر انہی کے ہاتھوں ہوئی ہو مگر بیج سے درخت اور درخت سے پھل پیدا کرنے میں ان کا کوئی دخل نہیں) خاص خدا ہی کا کام ہے سو (ایسے دلائل دیکھ کر بھی) کیا شکر نہیں کرتے (جس کا اول زینہ اللہ کے وجود اور توحید کا اقرار ہے۔ یہ استدلال ہے یعنی) وہ پاک ذات ہے جس نے تمام مقابل قسموں کو پیدا کیا، نباتات زمین کی قسم سے بھی (خواہ مقابلہ مماثل کا ہو جیسے ایک سے غلے، ایک سے پھل، خواہ مقابلہ مضادت و مخالفت کا ہو جیسے گیہوں اور جو اور شیریں پھل اور ترش پھل) اور (خود) ان آدمیوں سے بھی (جیسے مرد اور عورت) اور ان چیزوں میں بھی جن کو (عام) لوگ نہیں جانتے (مقابلہ کے عام مفہوم کے اعتبار سے مخفی چیزوں میں بھی کوئی شے مقابل سے خالی نہیں اور اسی سے حق تعالیٰ کا بےمقابل ہونا معلوم ہوگیا۔ یہاں سے آیت ومن کل شئی خلقنا زوجین کی بھی توضیح ہوگئی) اور (آگے بعض آیات آفاقیہ سماویہ اور ان کے بعض آثار سے استدلال ہے یعنی) ایک نشانی ان لوگوں کے لئے رات کا (وقت) ہے کہ (بوجہ اصل ہونے ظلمت کے گویا اصل وقت وہی تھا اور نور آفتاب عارضی تھا، گویا اس ظلمت کو دن نے چھپا لیا تھا، جیسے بکری کے گوشت کو اس کی کھال چھپا لیتی ہے پس) ہم (اسی عارض کو زائل کر کے گویا) اس (رات) پر سے دن کو اتار لیتے ہیں سو یکایک (پھر رات نمودار ہوجاتی ہے اور) وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور (ایک نشانی) آفتاب (ہے کہ وہ) اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے (یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے اور نقطہ افقیہ کو بھی، کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے) اور یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس (خدا) کا جو زبردست (یعنی قادر ہے اور) علم والا ہے (کہ علم سے ان انتظامات میں مصلحت و حکمت جانتا ہے اور قدرت سے ان انتظامات کو نافذ کرتا ہے) اور (ایک نشانی) چاند (ہے کہ اس کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) یہاں تک کہ (اپنے آخر دورے میں پتلا ہوتا ہوتا) ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی (کہ پتلی اور خمدار ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ ضعف نور کی وجہ سے زردی میں بھی تشبیہ کا اعتبار کیا جاوے اور سورج اور چاند کی چال اور رات و دن کی آمد و رفت ایسے انداز اور انتظام سے رکھی گئی ہے کہ) نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو (اس کے ظہور نور کے وقت میں یعنی رات میں جبکہ وہ منور ہو) جا پکڑے یعنی قبل از وقت خود طلوع ہو کر اس کو اور اس کے وقت یعنی رات کو ہٹا کر دن بنا دے جیسا کہ قمر بھی اس طرح آفتاب کو اس کے ظہور نور کے وقت نہیں پکڑ سکتا کہ دن کو ہٹا کر رات کو بنا دے اور اس میں قمر کا نور ظاہر ہوجاوے) اور (اسی طرح) نہ رات دن (کے زمانہ مقررہ کے ختم ہونے) سے پہلے آسکتی ہے (جیسے دن بھی رات کے زمانہ مقررہ کے ختم ہونے سے پہلے نہیں آسکتا) اور (چاند اور سورج) دونوں ایک ایک کے دائرہ میں (حساب سے اس طرح چل رہے ہیں جیسے گویا) تیر رہے ہیں (اور حساب سے باہر نہیں ہو سکتے کہ رات دن کے حساب میں خلل واقع ہو سکے) اور (آگے آیات آفاقیہ ارضیہ میں سے ایک خاص نشانی سفر اور سواری وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یعنی) ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا، (اپنی اولاد کو اکثر لوگ تجارت کے لئے سفر میں بھیجتے تھے، پس اس تعبیر میں تین نعمتوں کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اول بھری ہوئی کشتی کو جو بوجھل ہونے کی وجہ سے پانی میں غرق ہونے والی چیز ہے سطح آب پر رواں کرنا، دوسرے ان لوگوں کو اولاد عطا فرمانا، تیسرے رزق و سامان دینا جس سے خود گھر بیٹھے رہیں اور اولاد کو کارندہ بنا کر بھیجیں) اور (سفر خشکی کے لئے) ہم نے ان کے لئے کشتی ہی جیسی ایسی چیزیں پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں (مراد اس سے اونٹ وغیرہ ہیں اور تشبیہ کشتی کے ساتھ اس خاص وصف کے اعتبار سے ہے کہ اس پر بھی سواری اور بار برداری اور قطع مسافت کی جاتی ہے اور اس تشبیہ کا حسن اس سے بڑھ گیا کہ عرب میں اونٹ کو ”سفینہ البر“ یعنی خشکی کی کشتی کہنے کا محاورہ شائع تھا۔ آگے کشتی کے ذکر کی مناسبت سے کفار کے لئے ایک وعید عذاب کی بیان فرمائی کہ) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو (جن چیزوں کو وہ پوجتے ہیں ان میں سے) ان کا کوئی فریاد رس ہو (جو غرق سے بچا لے) اور نہ یہ (بعد غرق کے موت سے) خلاصی دیئے جائیں (یعنی نہ کوئی موت سے چھڑا سکے) مگر یہ ہماری ہی مہربانی ہے اور ان کو ایک وقت معین تک (دنیاوی زندگی سے) فائدہ دینا (منظور) ہے (اس لئے مہلت دے رکھی ہے)۔ معارف و مسائل سورة یٰسین میں زیادہ تر مضامین آیات قدرت اور اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات بیان کر کے آخرت پر استدلال اور حشر ونشر کے عقیدے پر پختہ کرنے سے متعلق ہیں۔ مذکور الصدر آیات میں قدرت آلٰہیہ کی ایسی ہی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو ایک طرف اس کی قدرت کاملہ کے دلائل واضحہ ہیں، دوسری طرف انسان اور عام مخلوقات پر حق تعالیٰ کے خاص انعامات و احسانات اور ان میں عجیب و غریب حکمتوں کا اثبات ہے۔