Ayah 36:35پہلی آیت میں زمین کی ایک مثال پیش فرمائی ہے جو ہر وقت ہر انسان کے سامنے ہے کہ خشک زمین پر آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین میں ایک قسم کی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کے آثار اس میں پیدا ہونے والی نباتات اور اشجار اور ان کے ثمرات سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور ان درختوں کے بڑھانے اور باقی رکھنے کے لئے زیر زمین اور سطح زمین پر چشموں کا جاری کرنا ذکر فرمایالیاکلوا من ثمرہ، یعنی ہواؤں بادلوں اور زمین کی ساری قوتوں کو کام میں لگانے کا منشاء یہ ہے کہ لوگ ان کے پھل کھائیں۔ یہ سب چیزیں تو آنکھوں سے مشاہدہ کی ہیں، جو ہر انسان دیکھنا جانتا ہے آگے انسان کو اس چیز پر متنبہ کیا گیا جس کے لئے یہ سارا کارخانہ قائم کیا گیا۔ فرمایا
نباتات کی پیداوار میں انسان کے عمل کا دخل نہیں
وما عملتہ ایدیہم، جمہور مفسرین نے اس میں حرف ما کو نفی کے لئے قرار دے کر یہ ترجمہ کیا ہے کہ نہیں بنایا ان پھلوں کو ان لوگوں کے ہاتھوں نے۔ اس جملے نے غافل انسان کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ ذرا اپنے کام اور محنت میں غور کر کہ تیرا کام اس باغ و بہار میں اس کے سوا کیا ہے کہ تو نے زمین میں بیج ڈال دیا۔ اس پر پانی ڈال دیا، زمین کو نرم کردیا کہ نازک کونپل نکلنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو، مگر اس بیج میں سے درخت اگانا، درخت پر پتے اور شاخیں نکالنا پھر اس پر طرح طرح کے پھل پیدا کرنا ان سب چیزوں میں تیرا کیا دخل ہے۔
یہ تو خالص قادر مطلق حکیم ودانا ہی کا فعل ہوسکتا ہے۔ اس لئے تیرا فرض ہے کہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے وقت اس کے خالق ومالک کو فراموش نہ کرے۔ اسی کی نظیر سورة واقعہ کی آیت ہے(آیت) افرءیتم ما تحرثون ءانتم تزرعونہ ام نحن الزارعون، یعنی دیکھو تو جو چیز تم بوتے ہو اس کو نشو و نما دے کر درخت تم نے بنایا ہے یا ہم نے ؟ خلاصہ یہ ہوا کہ اگرچہ ان پھلوں کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل نہیں، مگر ہم نے اپنے فضل سے ان کو پیدا بھی کیا اور انسان کو ان کا مالک بھی بنادیا اور اس کو اس کے کھانے اور فائدہ اٹھانے کا سلیقہ بھی سکھا دیا۔
انسانی غذا اور حیوانات کی غذا میں خاص فرق
اور ابن جریر وغیرہ بعض مفسرین نے وما عملتہ میں لفظ ما کو نفی کے لئے نہیں بلکہ اسم موصول بمعنے الذی قرار دے کر یہ ترجمہ کیا ہے کہ یہ سب چیزیں اس لئے پیدا کی ہیں کہ لوگ ان کے پھل کھاویں، اور ان چیزوں کو بھی کھاویں جو ان نباتات اور پھلوں سے خود انسان اپنے ہاتھوں کے کسب و عمل سے تیار کرتا ہے، مثلاً پھلوں سے طرح طرح کے حلوے، اچار، چٹنی تیار کرنا اور بعض پھلوں سے تیل وغیرہ نکالنا جو انسانی کسب و عمل کا نتیجہ ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ یہ پھل جو قدرت نے بنائے ہیں بغیر کسی کسب و عمل اور انسانی تصرف کے بھی کھانے کے قابل بنائے گئے ہیں، اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ سلیقہ بھی دیا ہے کہ ایک ایک پھل سے طرح طرح کی خوش ذائقہ اور مفید چیزیں تیار کرلے۔
اس صورت میں پھلوں کا پیدا کرنا اور انسان کو اس کا سلیقہ دینا کہ ایک پھل کو دوسری چیزوں سے مرکب کر کے طرح طرح کی اشیاء خوردنی خوش ذائقہ اور مفید تیار کرلے، یہ دوسری نعمت ہے۔ ابن کثیر نے ابن جریر کی اس تفسیر کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ اس تفسیر کی تائید حضرت عبداللہ ابن مسعود کی قرات سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ ان کی قرات میں لفظ ما کے بجائے مما آیا ہے یعنی (آیت) مما عملتہ ایدیہم۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ دنیا کے تمام حیوانات بھی نباتات اور پھل کھاتے ہیں، کچھ جانور گوشت کھاتے ہیں کچھ مٹی کھاتے ہیں، لیکن ان سب جانوروں کی خوراک مفردات ہی سے ہے۔ گھاس کھانے والا خالص گھاس، گوشت کھانے والا خالص گوشت کھاتا ہے، ان چیزوں کو دوسری چیزوں سے مرکب کر کے طرح طرح کے کھانے تیار کرنا، نمک، مرچ، شکر، ترشی وغیرہ سے مرکب ہو کر ایک کھانے کی دس قسمیں بن جاتی ہیں۔ یہ مرکب خوراک صرف انسان ہی کی ہے اسی کو مختلف چیزوں سے ایک مرکب غذا تیار کرنے کا سلیقہ دیا گیا ہے۔ یہ گوشت کے ساتھ نمک، مرچ، مصالحے اور پھلوں کے ساتھ شکر وغیرہ کا امتزاج انسان کی صنعت کاری ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کو سکھا دی ہے۔ قدرت کی ان عظیم الشان نعمتوں اور ان میں قدرت کی صنعت کاری کی بےمثال آیتوں کو ذکر فرمانے کے بعد آخر میں فرمایاافلا یشکرون، کیا یہ عاقل لوگ ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد شکر گزار نہیں ہوتے ؟ آگے اس زمینی پیداوار اور آب وہوا کے ذکر کے بعد انسان اور حیوانات کو بھی شامل کر کے قدرت مطلقہ کی ایک اور نشانی سے آگاہ کیا جاتا ہے،
Ayah 36:36(آیت) سبحن الذین خلق الازواج کلہا مما تنبت الارض ومن انفسہم ومما لا یعلمون، اس میں لفظ ازواج زوج کی جمع ہے، جو جوڑے کے معنی میں آتا ہے۔ جوڑے میں دو متقابل چیزیں ہوتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کا زوج کہا جاتا ہے، جیسے مرد و عورت ہیں مرد کو عورت کا اور عورت کو مرد کا زوج کہا جاتا ہے اسی طرح حیوانات کے نر و مادہ باہم زوج ہیں، نباتات کے بہت سے درختوں میں بھی نر اور مادہ کا ادراک کیا گیا ہے، کھجور اور پپیتہ کے درختوں میں تو معروف و مشہور ہے ہی، اوروں میں بھی ہو تو کچھ بعید نہیں۔ جیسا کہ سائنس کی جدید تحقیقات میں تمام پھلدار اور پھولدار درختوں میں نر و مادہ ہوتے ہیں، ان میں توالد و تناسل ہونا بتلایا گیا ہے۔ اسی طرح اگر یہی مخفی سلسلہ جمادات اور دوسری مخلوقات میں بھی ہو تو کیا بعید ہے جس کی طرف (آیت) ومما لا یعلمون میں اشارہ پایا جاتا ہے۔ اور عام طور پر حضرات مفسرین نے ازواج کو بمعنے انواع و اقسام لکھا ہے، کیونکہ جس طرح نر و مادہ کو باہم زوجین کہا جاتا ہے اسی طرح دو متقابل چیزوں کو بھی زوجین کہتے ہیں جیسے سردی، گرمی، خشکی، تری، رنج، خوشی، بیماری تندرستی، پھر ان میں سے ہر ایک کے اندر اعلیٰ ، ادنیٰ ، متوسط کے اعتبار سے بہت سے درجات اور انواع و اقسام بن جاتی ہیں، اسی طرح انسانوں اور جانوروں میں رنگ و ہئیت اور زبان اور طرز معیشت کے اعتبار سے بہت سی انواع و اقسام ہیں۔ لفظ ازواج ان تمام انواع و اقسام کو شامل ہے۔ آیت مذکورہ میں پہلے تو مما تنبت الارض یعنی نباتات کی انواع و اقسام کا بیان فرمایا ہے، اس کے بعد من انفسہم یعنی خود انسانی نفوس کے انواع و اقسام کا ذکر ہے، اور اس کے بعد مما لا یعملون میں وہ ہزاروں مخلوقات شامل ہیں جن کا آج تک بھی لوگوں کو انکشاف نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ زمین کی تہہ میں اور دریاؤں اور پہاڑوں میں کتنی انواع اقسام حیوانات، نباتات اور جمادات ہیں۔
Ayah 36:37وآیة لہم الیل نسلخ منہ النہار، زمینی مخلوقات میں قدرت خداوندی کی نشانیاں بیان فرمانے کے بعد آسمانی اور آفاقی مخلوقات کا ذکر ہے۔ سلخ کے لفظی معنی کھال اتارنے کے ہیں، کسی جانور کے اوپر سے کھال یا دوسری چیزوں پر سے غلاف اتار دیا جائے تو اندر کی چیز ظاہر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اشارہ فرمایا ہے کہ اس جہان میں اصل تو ظلمت اور اندھیرا ہے، روشنی عارضی ہے جو سیارات اور ستاروں کے ذریعہ زمین پر چھا جاتی ہے۔ تقدیری نظام میں مقررہ وقت پر یہ روشنی جو دنیا کی اندھیری پر چھائی ہوئی ہوتی ہے اس کو اوپر سے ہٹا لیا جاتا ہے تو ظلمت واندھیری رہ جاتی ہے، اسی کو عرف میں رات کہا جاتا ہے۔
Ayah 36:38(آیت) والشمس تجری لمستقرلہا ذلک تقدیر العزیز العلیم، آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آفتاب چلتا رہتا ہے، اپنے مستقر کی طرف مستقر جائے قرار کو بھی کہا جاتا ہے، اور وقت قرار کو بھی یعنی مستقر زمانی بھی ہوسکتا ہے مکانی بھی۔ اور لفظ مستقر منتہائے سیر و سفر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ ہی بلا کسی وقفہ اور سکون کے دوسرا دورہ سفر شروع ہوجائے۔ (ذکرہ ابن کثیر)
بعض حضرات مفسرین نے تو اس جگہ مستقر سے مستقر زمانی مراد لیا ہے، یعنی وہ وقت جبکہ آفتاب اپنی حرکت مقررہ پوری کر کے ختم کر دے گا، اور وہ وقت قیامت کا دن ہے۔ اس تفسیر پر معنی آیت کے یہ ہیں کہ آفتاب اپنے مدار پر ایسے محکم اور مضبوط نظام کے ساتھ حرکت کر رہا ہے جس میں کبھی ایک منٹ ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ ہزارہا سال اس روش پر گزر چکے ہیں، مگر یہ سب دائمی نہیں، اس کا ایک خاص مستقر ہے، جہاں پہنچ کر یہ نظام شمسی اور حرکت بند اور ختم ہوجائے گی، اور وہ قیامت کا دن ہے۔ یہ تفسیر حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ (ابن کثیر) اور قرآن کریم کی سورة زمر کی ایک آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، کہ مستقر سے مراد مستقر زمانی یعنی روز قیامت ہے۔ آیت سورة زمر کی یہ ہے(آیت) خلق السموٰت والارض بالحق یکور الیل علیٰ النہار ویکور النہار علیٰ الیل وسخرالشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی، اس آیت میں بھی تقریباً وہی بیان ہے جو سورة یٰسین کی آیت مذکورہ کا ہے کہ اول لیل ونہار کے انقلاب کو عوامی نظر کے مطابق ایک تمثیل سے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے، اور دن کو رات پر، گویا رات اور دن کو دو غلافوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رات کا غلاف دن پر چڑھا دیا جاتا ہے تو رات ہوجاتی ہے اور دن کا غلاف رات پر چڑھا دیا جاتا ہے تو دن ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ شمس و قمر دونوں اللہ تعالیٰ کے مسخر اور تابع فرمان ہیں، ان میں سے ہر ایک ایک خاص میعاد کے لئے چل رہا ہے۔ یہاں اجل مسمی کے الفاظ ہیں جس کے معنی میعاد معین کے ہیں، اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ شمس و قمر دونوں کی حرکت دائمی نہیں، ایک میعاد معین یعنی روز قیامت پر پہنچ کر ختم اور منقطع ہوجائے گی۔ سورة یٰسین کی آیت مذکورہ میں بھی ظاہر یہی ہے کہ لفظ مستقر سے یہی میعاد معین یعنی مستقر زمانی مراد ہے۔ اس تفسیر میں نہ آیت کے مفہوم و مراد میں کوئی اشکال ہے، نہ قواعد ہیئت و ریاضی کا کوئی اعتراض۔
اور بعض حضرات مفسرین نے اس سے مراد مستقر مکانی لیا، جس کی بنا ایک حدیث پر ہے جو صحیحین بخاری و مسلم وغیرہ میں متعدد صحابہ سے متعدد اسانید کے ساتھ منقول ہے۔
حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ وہ ایک روز آنحضرت محمد ﷺ کے ساتھ غروب آفتاب کے وقت مسجد میں حاضر تھے۔ آپ نے ان کو خطاب کر کے سوال کیا کہ ابو ذر ! تم جانتے ہو کہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ آفتاب چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اس آیت میں مستقر سے یہی مراد ہےوالشمس تجری لمستقر لہا۔
حضرت ابوذر ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے والشمس تجری لمستقرلہا کی تفسیر دریافت کی تو آپ نے فرمایامستقرھا تحت العرش، بخاری نے اس روایت کو متعدد مقامات پر نقل کیا ہے اور ابن ماجہ کے علاوہ تمام کتب ستہ میں یہ روایت موجود ہے۔
اور حضرت عبداللہ بن عمر سے بھی اسی مضمون کی حدیث منقول ہے، اس میں کچھ زیادتی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ روزانہ آفتاب تحت العرش پہنچ کر سجدہ کرتا ہے اور نئے دورے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ اجازت پا کر نیا دورہ شروع کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا آئے گا جب اس کو نیا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ملے گی، بلکہ یہ حکم ہوگا کہ جس طرف سے آیا ہے اسی طرف لوٹ جا۔ یعنی مغرب کی طرف سے زمین کے نیچے جا پھر مغرب ہی کی طرف سے لوٹ کر مغرب سے طلوع ہوجا۔ جس روز ایسا ہوگا تو یہ قیامت کے بالکل قریب ہونے کی علامت ہوگی، اور اس وقت توبہ کرنے اور ایمان لانے کا دروازہ بند کردیا جائے گا، اس وقت کسی مبتلا گناہ کی گناہ سے اور مبتلائے شرک و کفر کی کفر سے توبہ قبول نہ ہوگی۔ (ابن کثیر بحوالہ عبدالرزاق)
سجود الشمس یعنی آفتاب کے زیر عرش سجدہ کرنے کی تحقیق
ان روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقر سے مراد مکانی مستقر ہے یعنی وہ جگہ جہاں آفتاب کی حرکت کا ایک دورہ پورا ہوجائے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جگہ تحت العرش ہے۔ اس صورت میں مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ہر روز آفتاب ایک خاص مستقر کی طرف چلتا ہے، پھر وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کر کے اگلے دورے کی اجازت مانگتا ہے، اجازت ملنے پر دوسرا دورہ شروع کرتا ہے۔
لیکن واقعات ومشاہدات اور ہیئت و فلکیات کے بیان کردہ اصول کی بنا پر اس میں متعدد قوی اشکالات ہیں۔
اول یہ کہ عرش رحمن کی جو کیفیت قرآن و سنت سے سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام زمینوں اور آسمانوں کے اوپر محیط ہے۔ یہ زمین اور سب آسمان مع سیارات و نجم کے سب کے سب عرش کے اندر محصور ہیں، اور عرش رحمن ان تمام کائنات سماویہ کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے، اس لحاظ سے آفتاب تو ہمیشہ ہر حال اور ہر وقت ہی زیر عرش ہے، پھر غروب کے بعد زیر عرش جانے کا کیا مطلب ہوگا ؟
دوسرے یہ کہ مشاہدہ عام ہے کہ آفتاب جب کسی ایک جگہ سے غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع ہوتا ہے، اس لئے طلوع و غروب اس کا ہر وقت ہر حال میں جاری ہے، پھر بعد الغروب تحت العرش جانے اور سجدہ کرنے کے کیا معنی ہیں ؟
تیسرے یہ کہ اس حدیث کے ظاہر سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آفتاب اپنے مستقر پر پہنچ کر وقفہ کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کر کے اگلے دورے کی اجازت لیتا ہے، حالانکہ آفتاب کی حرکت میں کسی وقت بھی انقطاع نہ ہونا کھلا ہوا مشاہدہ ہے۔ اور پھر چونکہ طلوع و غروب آفتاب کا مختلف مقامات کے اعتبار سے ہر وقت ہی ہوتا رہتا ہے، تو یہ وقفہ اور سکون بھی ہر وقت ہونا چاہئے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ آفتاب کو کسی وقت بھی حرکت نہ ہو ؟
یہ اشکالات صرف فنون ریاضی اور فلکیات کے ہی نہیں، مشاہدات اور واقعات کے ہیں جن سے صرف نظر نہیں ہو سکتا، اور فنی اعتبار سے فلک الافلاک کے تابع آفتاب کی یومیہ حرکت اور آفتاب کا چوتھے آسمان میں مرکوز ہونا جو بطلیموسی نظریہ ہے، جس کے خلاف اس سے پہلے بھی فیثا عورث نے اس نظریہ کی مخالفت کی تھی، اور آجکل کی نئی تحقیقات نے بطلیموسی نظریہ کی غلطی اور فیثا غورث کے نظریہ کی صحت کو قریب بہ یقین کردیا ہے، اور حالیہ خلائی سفروں اور چاند تک انسان کی رسائی کے واقعات نے اتنی بات تو یقینی کر ہی دی ہے کہ تمام سیارات آسمان سے نیچے کی فضا میں ہیں، آسمانوں کے اندر مرکوز نہیں۔ قرآن کریم کی آیت جو عنقریب آ رہی ہے (آیت) وکل فی فلک یسبحون، اس سے بھی اس نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے، اس نظریہ میں یہ بھی ہے کہ یہ روزانہ کا طلوع و غروب آفتاب کی حرکت سے نہیں بلکہ زمین کی حرکت سے ہے۔ اس فنی نظریہ کے اعتبار سے حدیث مذکور میں ایک اور اشکال بڑھ جاتا ہے۔
اس کا جواب سمجھنے سے پہلے یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جہاں تک آیت مذکورہ کی تصریح ہے اس پر مذکورہ شبہات واشکالات میں سے قرآن پر کوئی بھی اشکال نہیں ہوتا۔ اس کا مفہوم تو صرف اتنا ہے کہ آفتاب کو حق تعالیٰ نے ایک ایسی منظم اور مستحکم حرکت پر لگایا ہوا ہے کہ وہ اپنے مستقر کی طرف برابر ایک حالت پر چلتا رہتا ہے۔ اگر اس مستقر سے مراد تفسیر قتادہ کے مطابق مستقر زمانی لیا جائے، یعنی روز قیامت، تو معنی اس کے یہ ہیں کہ آفتاب کی یہ حرکت قیامت تک دائمی ایک حال پر چلتی رہے گی پھر اس روز ختم ہوجائے گی۔ اور اگر مستقر مکانی مراد لیں تو بھی اس کا مستقر مدار شمسی کے اس نقطہ کو کہا جاسکتا ہے جہاں سے اول تخلیق کے وقت آفتاب نے حرکت شروع کی اسی نقطہ پر پہنچ کر اس کا شبانہ روز کا ایک دورہ مکمل ہوتا ہے۔ کیونکہ یہی نقطہ اس کا انتہا سفر ہے، اس پر پہنچ کر نئے دورہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ اس عظیم الشان دائرہ کا وہ نقطہ کہاں اور کونسا ہے جہاں سے آفتاب کی حرکت ابتداء آفرینش میں شروع ہوئی، قرآن کریم اس قسم کی فضول بحثوں میں انسان کو نہیں الجھاتا جس کا تعلق اس کے کسی دینی یا دنیوی فائدے سے نہ ہو۔ یہ اسی قسم کی بحث ہے، اس لئے اس کو چھوڑ کر قرآن کریم نے اصل مقصد کی طرف توجہ دلائی۔ اور وہ مقصد حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کاملہ کے خاص مظاہر کا بیان ہے، کہ اس جہان میں سب سے بڑا اور سب سے روشن ترین کرہ آفتاب کا ہے، وہ بھی نہ خود بخود بن گیا ہے اور نہ خودبخود اس کی کوئی حرکت پیدا ہوتی ہے نہ باقی رہ سکتی ہے، اور وہ اپنی اس شبانہ روز کی حرکت میں ہر وقت حق تعالیٰ کی اجازت و مشیت کے تابع چلتا ہے۔
جتنے اشکالات اوپر لکھے گئے ہیں آیات مذکورہ کے بیان پر ان میں سے کوئی بھی شبہ اور اشکال نہیں، البتہ احادیث مذکورہ جن میں یہ آیا ہے کہ وہ غروب کے بعد زیر عرش پہنچ کر سجدہ کرتا ہے اور اگلے دورے کی اجازت مانگتا ہے یہ سب اشکالات اس سے متعلق ہیں۔ اور اس آیت کے ذیل میں یہ بحث اس لئے چھڑی کہ حدیث کے بعض الفاظ میں اس آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے جوابات محدثین و مفسرین حضرات نے مختلف دیئے ہیں، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے جو یہ سمجھا جاتا ہے کہ آفتاب کا یہ سجدہ دن رات میں صرف ایک مرتبہ بعد الغروب ہوتا ہے، جن حضرات نے حدیث کو اسی ظاہری مفہوم پر محمول کیا ہے انہوں نے غروب کے متعلق تین احتمال بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ معظم معمورہ کا غروب مراد ہو، یعنی اس مقام کا جہاں کے غروب پر اکثر دنیا کی آبادی میں غروب ہوجاتا ہے، یا خط استواء کا غروب، یا افق مدینہ کا غروب۔ اس طرح یہ اشکال نہیں رہتا کہ آفتاب کا غروب وطلوع تو ہر وقت ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں ایک خاص افق کے غروب پر کلام کیا گیا ہے، لیکن صاف و بےغبار جواب وہ معلوم ہوتا ہے جو حضرت استاذ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة اللہ علیہ نے اپنے مقالے ”سجود الشمس“ میں اختیار فرمایا ہے، اور متعدد ائمہ تفسیر کے کلام سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
اس کے سمجھنے سے پہلے پیغمبرانہ تعلیمات و تعبیرات کے متعلق یہ اصولی بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ آسمانی کتابیں اور اس کے لانے والے انبیاء (علیہم السلام) خلق خدا کو آسمان و زمین کی مخلوقات میں غور و فکر اور تدبر کی طرف مسلسل دعوت دیتے ہیں، اور ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود، توحید، علم وقدرت پر استدلال کرتے ہیں، مگر ان چیزوں میں تدبیر اسی حد تک مطلوب شرعی ہے جس حد تک اس کا تعلق انسان کی دنیوی اور معاشرتی ضرورت سے یا دینی اور اخروی ضرورت سے ہو۔ اس سے زائد نری فلسفیانہ تدقیق اور حقائق اشیاء کے کھوج لگانے کی فکر میں عام خلق اللہ کو نہیں ڈالا جاتا۔ کیونکہ اول تو حقائق اشیاء کا مکمل حقیقی علم خود حکماء و فلاسفہ کو بھی باوجود عمریں صرف کرنے کے نہیں ہوسکا، بیچارے عوام تو کس شمار میں ہیں، پھر اگر وہ حاصل بھی ہوجائے اور اس سے نہ ان کی کوئی دینی ضرورت پوری ہو اور نہ کوئی صحیح مقصد دنیوی اس سے حاصل ہو تو اس لایعنی اور فضول بحث میں دخل دینا اضاعت عمر اور اضاعت مال کے سوا کیا ہے۔
قرآن اور انبیاء کا استدلال آسمان و زمین کی مخلوقات اور ان کے تغیرات و انقلابات سے صرف اس حد تک ہوتا ہے جو ہر انسان کو مشاہدہ اور ادنیٰ غور و فکر سے حاصل ہو سکے۔ فلسفہ اور ریاضی کی فنی تدقیقات جو صرف حکماء و علماء ہی کرسکتے ہیں نہ ان پر استدلال کا مدار رکھا جاتا ہے نہ ان میں غور وخوض کی ترغیب دی جاتی ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس کے پیغام پر عمل ہر انسان کا فرض ہے۔ عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، شہری ہو یا دیہاتی، کسی پہاڑ اور جزیرہ میں رہتا ہو یا کسی متمدن شہر میں، اس لئے پیغمبرانہ تعلیمات عوام کی نظر اور ان کی عقل وفہم کے مطابق ہوتی ہیں جن میں کسی فنی مہارت کی ضرورت نہ ہو۔
نماز کے اوقات کی پہچان، سمت قبلہ کا متعین کرنا، مہینوں اور سالوں اور تاریخوں کا ادراک، ان سب چیزوں کا علم ریاضی کے حسابات کے ذریعہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، مگر شریعت اسلام نے ان میں سے کسی چیز کا مدار ریاضی کی فنی تحقیقات پر رکھنے کے بجائے عام مشاہدات پر رکھا ہے۔ مہینے اور سال اور ان کی تاریخیں قمری حساب سے رکھیں اور چاند کے ہونے نہ ہونے کا مدار صرف رویت ہلال اور مشاہد پر رکھا۔ روزے اور حج کے ایام اسی بنیاد سے متعین کئے گئے۔ چاند کے گھٹنے، بڑھنے، چھپنے اور پھر طلوع ہونے کا راز بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا، تو اس کا جواب قرآن نے یہ دیا کہ قل ھی مواقیت للناس والحج، یعنی آپ کہہ دیں کہ چاند کے یہ سب تغیرات اس مقصد کے لئے ہیں کہ تم ان سے مہینے کا شروع اور ختم اور اس کی تاریخیں معلوم کر کے حج وغیرہ کے دن متعین کرسکو۔ اس جواب نے ان کو اس پر تنبیہ فرما دی کہ تمہارا سوال لایعنی اور فضول ہے، اس کی حقیقت معلوم کرنے پر تمہارا کوئی کام دین یا دنیا کا اٹکا ہوا نہیں، اس لئے سوال اس چیز کا کرو جس کا تعلق تمہاری دینی و دنیوی ضرورت سے ہو۔
اس تمہید کے بعد اصل معاملہ پر غور کیجئے، کہ آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے چند مظاہر کا ذکر کر کے انسان کو اللہ کی توحید اور علم وقدرت کاملہ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے اس میں سب سے پہلے زمین کا ذکر کیا، جو ہر وقت ہمارے سامنے ہے (آیت) وایة لہم الارض، پھر اس پر پانی برسا کر درخت اور نباتات اگانے کا ذکر کیا، جو ہر انسان دیکھتا اور جانتا ہے، احییناھا الایة۔ اس کے بعد آسمان اور فضائے آسمانی سے متعلق چیزوں کا ذکر شروع کر کے پہلے سے لیل و نہار کے روزانہ انقلاب کا ذکر فرمایا (آیت) و ایة لہم الیل الآیة، اس کے بعد سورج اور چاند جو سیارات و انجم میں سب سے بڑے ستارے ہیں ان کا ذکر فرمایا۔ ان میں پہلے آفتاب کے متعلق فرمایا والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم، اس میں غور کیجئے کہ مقصد اس کا یہ بتلانا ہے کہ آفتاب خود بخود اپنے ارادے اور اپنی قدرت سے نہیں چل رہا بلکہ یہ ایک عزیز وعلیم یعنی قدرت والے اور جاننے والے کے مقرر کردہ نظام کے تابع چل رہا ہے۔ آنحضرت محمد ﷺ نے غروب آفتاب کے قریب حضرت ابوذرغفاری کو ایک سوال و جواب کے ذریعہ اسی حقیقت پر متنبہ ہونے کی ہدایت فرمائی، جس میں بتلایا کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد عرش کے نیچے اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور پھر اگلا دورہ شروع کرنے کی اجازت مانگتا ہے، جب اجازت مل جاتی ہے تو حسب دستور آگے چلتا ہے، اور صبح کو جانب مشرق سے طلوع ہوجاتا ہے۔ اس کا حاصل اس سے زائد نہیں کہ آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت عالم دنیا میں ایک نیا انقلاب آتا ہے، جس کا مدار آفتاب پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس انقلابی وقت کو انسانی تنبیہ کے لئے موزوں سمجھ کر یہ تلقین فرمائی کہ آفتاب کو خود مختار اپنی قدرت سے چلنے والا نہ سمجھو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیت کے تابع چل رہا ہے۔ اس کا ہر طلوع و غروب اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوتا ہے، یہ اس کی اجازت کے تابع ہے، اس کے تابع فرمان حرکت کرنے ہی کو اس کا سجدہ قرار دیا گیا۔ کیونکہ سجدہ ہر چیز کا اس کے مناسب حال پر ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن نے خود تصریح فرما دی ہے کل قد علم صلوٰتہ و تسبیحہ، یعنی ساری مخلوق اللہ کی عبادت اور تسبیح میں مشغول ہے، مگر ہر ایک کی عبادت و تسبیح کا طریقہ الگ الگ ہے، اور ہر مخلوق کو اس کی عبادت و تسبیح کا طریقہ سکھلا دیا جاتا ہے۔ جیسے انسان کو اس کی نماز و تسبیح کا طریقہ بتلا دیا گیا ہے، اس لئے آفتاب کے سجدہ کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ انسان کے سجدہ کی طرح زمین پر ماتھا ٹیکنے ہی سے ہوگا صحیح نہیں۔
اور جبکہ قرآن و سنت کی تصریحات کے مطابق عرش خداوندی تمام آسمانوں، سیاروں، زمینوں پر محیط ہے، تو یہ ظاہر ہے کہ آفتاب ہر وقت ہر جگہ زیر عرش ہی ہے۔ اور جبکہ تجربہ شاہد ہے کہ آفتاب جس وقت ایک جگہ غروب ہو رہا ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع بھی ہو رہا ہوتا ہے، اس لئے اس کا ہر لمحہ طلوع و غروب سے خالی نہیں، تو آفتاب کا زیر عرش رہنا بھی دائمی ہر حال میں ہے، اور غروب و طلوع ہونا بھی ہر حال میں ہے۔ اس لئے حاصل مضمون حدیث کا یہ ہوا کہ آفتاب اپنے پورے دورے میں زیر عرش اللہ کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے، یعنی اس کی اجازت اور فرمان کے تابع حرکت کرتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح قریب قیامت تک چلتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کی بالکل قریبی علامت ظاہر کرنے کا وقت آجائے گا، تو آفتاب کو اپنے مدار پر اگلا دورہ شروع کرنے کی بجائے پیچھے لوٹ جانے کا حکم ہوجائے گا، اور وہ پھر مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا۔ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، کسی کا ایمان و توبہ اس وقت مقبول نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ غروب آفتاب کی تخصیص اور اس کے بعد زیر عرش جانے اور وہاں سجدہ کرنے اور اگلے دورے کی اجازت مانگنے کے جو واقعات اس روایت میں بتلائے گئے ہیں وہ پیغمبرانہ موثر تعلیم کے مناسب بالکل عوامی نظر کے اعتبار سے ایک تمثیل ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ انسان کی طرح زمین پر سجدہ کرے، اور نہ سجدہ کرے کے وقت آفتاب کی حرکت میں کچھ وقفہ ہونا لازم آتا ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ وہ دن رات میں صرف ایک ہی سجدہ کسی خاص جگہ جا کر کرتا ہے، اور نہ یہ کہ وہ صرف غروب کے بعد تحت العرش ہوجاتا ہے۔ مگر اس انقلابی وقت میں جبکہ سب عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ آفتاب ہم سے غائب ہو رہا ہے اس وقت بطور تمثیل ان کو اس حقیقت سے آگاہ کردیا گیا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت آفتاب کے زیر عرش تابع فرمان چلنے رہنے سے ہو رہا ہے، آفتاب خود کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتا، تو جس طرح اس وقت اہل مدینہ اپنی جگہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ اب آفتاب سجدہ کر کے اگلے دورے کی اجازت لے گا اس طرح جہاں جہاں وہ غروب ہوتا جائے گا سب کے لئے ہی سبق حاصل کرنے کی تلقین ہوگئی اور حقیقت معاملہ یہ نکلی کہ آفتاب اپنے مدار پر حرکت کے درمیان ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ بھی کرتا ہے اور آگے چلنے کی اجازت بھی مانگتا رہتا ہے، اور اس سجدہ اور اجازت کے لئے اس کو کسی سکون اور وقفہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس تقریر پر حدیث مذکورہ میں نہ مشاہدات کی رو سے کوئی شبہ ہوتا ہے نہ قواعد ہیئت و ریاضی کے اعتبار سے اور نظام شمسی اور حرکت سیارات میں بطلیموسی تحقیق صحیح ہو یا فیثا غورث والی تحقیق جو آج کل نئی تحقیقات سے موید ہوگئی ہے، دونوں صورتوں میں حدیث مذکورہ پر کوئی شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا۔
رہا یہ سوال کہ حدیث مذکور میں جو آفتاب کا سجدہ کرنا اور اگلے دورے کی اجازت طلب کرنا مذکور ہے، یہ کام تو حیات اور علم و عقل کا ہے، آفتاب و ماہتاب بےجان بےشعور مخلوقات ہیں، ان سے یہ افعال کیسے صادر ہوئے ؟ تو اس کا جواب قرآن کی آیت وان من شئی الا یسبع بحمدہ کے تحت میں آ چکا ہے کہ ہم جن چیزوں کو بےجان اور بےعقل و بےشعور سمجھتے ہیں، وہ بھی درحقیقت روح اور جان اور عقل و شعور کا ایک خاص حصہ رکھتے ہیں، البتہ ان کی حیات اور عقل و شور انسان و حیوان کے مقابلہ میں کم اور اتنی کم ہے کہ عام احساسات اس کا ادراک نہیں کرسکتے، مگر اس کی نفی پر بھی کوئی شرعی یا عقلی دلیل موجود نہیں اور قرآن کریم نے آیت مذکورہ میں ان کا ذی حیات اور ذی عقل و شعور ہونا ثابت کردیا ہے، اور نئی تحقیقات نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
فائدہ
قرآن و حدیث کی مذکورہ تصریحات سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوئی کہ شمس و قمر دونوں متحرک ہیں۔ ایک میعاد کے لئے چل رہے ہیں اس سے نئے نظریہ کی نفی ہوتی ہے جو آفتاب کی حرکت کو تسلیم نہیں کرتا اور جدید ترین تحقیقات نے خود بھی اس کو غلط ثابت کردیا ہے۔
Ayah 36:39(آیت) والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم، عرجون، کھجور کے درخت کی خشک شاخ کو کہا جاتا ہے جو مڑ کر کمان جیسی ہوجاتی ہے۔
منازل قمر
منازل، منزل کی جمع ہے، جائے نزول کو منزل کہا جاتا ہے۔ حق تعالیٰ نے چاند اور سورج دونوں کی رفتار کے لئے خاص حدود مقرر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک کو منزل کہا جاتا ہے۔ چاند چونکہ اپنا دورہ ایک مہینہ میں پورا کرلیتا ہے اس لئے اس کی منزلیں تیس یا انتیس ہوتی ہیں، مگر چونکہ ہر مہینہ میں چاند کم از کم ایک دن غائب رہتا ہے، اس لئے عموماً اس کی منزلیں اٹھائیس کہی جاتی ہیں۔ اہل ہیئت ویرضاء نے ان منزلوں کے خاص خاص نام ان ستاروں کی مناسبت سے رکھ دیئے ہیں جو ان منازل کی محاذات میں پائے جاتے ہیں۔ جاہلیت عرب میں بھی انہی ناموں سے منزلوں کی تعیین کی جاتی تھی۔ قرآن کریم ان اصطلاحی ناموں سے بالاتر ہے، اس کی مراد صرف وہ فاصلے ہیں جن کو چاند خاص خاص دنوں میں طے کرتا ہے۔
سورة یونس میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے، جو معارف القرآن جلد چہارم کے صفحہ 505 و 506 میں بیان ہوئی ہے، اس کو دیکھ لیا جائے۔ سورة یونس کی آیت میں شمس وقمر دونوں کی منزلوں کا ذکر ہے۔ جعل الشمس ضیاء و القمر نوراً وقدرہ منزل الآیة، فرق اتنا ہے کہ چاند کی منزلیں مشاہدہ سے پہچانی جاتی ہیں اور آفتاب کی منزلیں ریاضی کے حسابات سے۔ (آیت) حتی عاد کالعرجون القدیم میں چاند کی کیفیت آخر مہینہ کی بتلائی ہے جب وہ مکمل بدر ہونے کے بعد گھٹتا گھٹتا ایک قوس کی صورت اختیار کرلیتا ہے، عربوں کے ماحول کے مناسب اس کی مثال کھجور کی خشک شاخ سے دی گئی ہے، جو ہلالی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
Ayah 36:40(آیت) وکل فی فلک یسبحون، یعنی آفتاب و ماہتاب دونوں اپنے اپنے مدار میں تیرتے رہتے ہیں۔ فلک کے لفظی معنی آسمان کے نہیں بلکہ اس دائرہ کے ہیں جس میں کوئی سیاہ حرکت کرتا ہے۔ یہ آیت سورة انبیاء میں بھی گزر چکی ہے، جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چاند کسی آسمان کے اندر مرکوز نہیں، جیسا کہ بطلیموسی نظریہ ہیئت میں ہے، بلکہ وہ آسمان کے نیچے ایک خاص مدار میں حرکت کرتا ہے، اور آج کل کی نئی تحقیقات اور چاند تک انسان کی رسائی کے واقعات نے اس کو بالکل یقینی بنادیا ہے۔
Ayah 36:41(آیت) وایة لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون، پہلے زمینی مخلوقات کا پھر آسمانی کا بیان اور ان میں اللہ تعالیٰ شانہ، کی حکمت وقدرت کے مظاہر کا بیان آ چکا ہے۔ اس آیت میں بحر اور اس سے متعلقہ اشیاء میں مظاہر قدرت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشتیوں کو خود وزنی بوجھ سے بھری ہوئی ہونے کے باوجود پانی کی سطح پر چلنے کے قابل بنادیا کہ پانی ان کو غرق کرنے کے بجائے دور ملکوں تک پہنچاتا ہے۔ اور آیت میں ارشاد یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو کشتیوں میں سوار کیا، حالانکہ سوار ہونے والے خود یہ لوگ تھے۔ ذریت کا ذکر شاید اس لئے کیا کہ انسان کا بڑا بوجھ اس کی اولاد و ذریت ہوتی ہے، خصوصاً جبکہ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ ہو۔ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ صرف یہی نہیں کہ تم خود ان کشتیوں میں سوار ہو سکو بلکہ چھوٹے بچے اور ضعیف آدمی اور ان کے سب سامان یہ کشتیاں اٹھاتی ہیں۔ اور خلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی سواری اور بار برداری کے لئے صرف کشتی ہی نہیں بلکہ کشتی کی مثل اور بھی سواری بنائی ہے۔ اس سے اہل عرب نے اپنی عادت کے مطابق اونٹ کی سواری مراد لی ہے، کیونکہ اونٹ بار برادری میں سب جانوروں سے زیادہ ہے، بڑے بڑے بوجھ کے انبار لے کر ملکوں کا سفر کرتا ہے، اسی لئے عرب اونٹ کو سفینة البر یعنی خشکی کی کشتی کہا کرتے تھے۔
Ayahs 36:42–44قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر
مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا، بلکہ مبہم چھوڑا ہے، جس میں ہر ایسی سواری داخل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہازوں نے یہ واضح کردیا کہ من مثلہ کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں، اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ موید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لئے من مثلہ ما یرکبون کو مبہم رکھا ہو تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے والی سب سواریاں اس میں شامل ہوجائیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 36:45–47خلاصہ تفسیر
اور جب ان لوگوں سے (دلائل توحید اور اس کے نہ ماننے پر عذاب کی وعید سنا کر) کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے (یعنی دنیا میں آسکتا) ہے (جیسے اوپر کی (آیت) وان نشاء نغرقہم میں بیان فرمایا کہ کشتی کا صحیح سالم منزل پر پہنچانا اللہ کی قدرت و مشیت سے ہے، وہ چاہے تو غرق کرسکتا ہے۔ غرض دنیا میں غرق کا عذاب بھی آسکتا ہے اور دوسرے عذاب بھی) اور جو تمہارے (مرے) پیچھے (یعنی آخرت میں یقینی آنے والا) ہے، (مطلب یہ ہے کہ انکار توحید کی وجہ سے جو عذاب تم پر آنے والا ہے، خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی، تم اس عذاب سے ڈرو اور ایمان لے آؤ) تاکہ تم پر رحمت کی جائے (تو وہ اس ترہیب اور عذاب سے ڈرانے کی ذرہ پرواہ نہیں کرتے) اور (اسی بات کے نہ ماننے کی کیا تخصیص ہے وہ تو ایسے سنگدل ہوگئے ہیں کہ) ان کے رب کی آیتوں میں سے کوئی آیت بھی ان کے پاس ایسی نہیں آتی جس سے یہ سرتابی نہ کرتے ہوں اور (جس طرح وعید عذاب سے وہ متاثر نہیں ہوتے اسی طرح ثواب اور جنت کی ترغیب بھی ان کو نافع نہیں ہوتی چنانچہ) جب (ان کو نعم الہیہ یاد دلا کر) ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں فقیروں مسکینوں پر) خرچ کرو تو (شرارت اور استہزاء کے طور پر) یہ کفار ان مسلمانوں سے (جنہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے کہا تھا) یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانے کو دیں جن کو اگر خدا چاہے تو (بہت کچھ) کھانے کو دے دے، تم صریح غلطی میں (پڑے) ہو۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے مظاہر قدرت و حکمت، زمین، آسمان وغیرہ میں بیان کر کے خدا شناسی اور توحید کی دعوت دی گئی تھی، اور اس کے قبول کرنے پر جنت کی دائمی نعمتوں اور راحتوں کا وعدہ تھا، اور نہ ماننے پر عذاب شدید کی وعید۔ آیات مذکورہ اور ان کے بعد آنے والی آیات میں کفار مکہ جو اس کے بلاواسطہ مخاطب تھے ان کی کج روی کا بیان ہے، کہ نہ ان پر ترغیب ثواب کا اثر ہوتا ہے، نہ ترہیب عذاب کا۔
اس سلسلے میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کے دو مکالمے ذکر کئے گئے ہیں کہ جب مسلمان ان سے یہ کہتے ہیں کہ تم اللہ کے عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے دنیا میں آسکتا ہے، اور تمہارے مرنے کے بعد آخرت میں تو آنا ہی ہے، اگر تم نے اس عذاب سے ڈر کر ایمان قبول کرلیا، تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ مگر یہ سن کر بھی اعراض کرتے ہیں۔ الفاظ قرآن میں اس جگہ ان کے اعراض کا ذکر صراحةً اس آیت میں نہیں کیا، کیونکہ اگلی آیت میں جو اعراض کا ذکر ہے اس سے خودبخود یہاں پر بھی اعراض کرنا ثابت ہوجاتا ہے۔ اور نحوی قاعدہ سے اذا قیل لہم کی شرط کی جزاء اعرضوا محذوف ہے، جس کے محذوف ہونے پر اگلی آیت کے الفاظ شاہد ہیں کہ ان کے پاس ان کے رب کی جو بھی آیت آتی ہے وہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں۔
اللہ کا رزق بعض کو بالواسطہ ملنے کی حکمت
دوسرا مکالمہ یہ ہے کہ جب مسلمان کفار کو غریبوں فقیروں کی امداد کرنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لئے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو تمہیں دیا ہے تم اس میں سے محتاجوں کو دیا کرو، تو یہ لوگ بطور استہزاء کے کہتے ہیں کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ رازق سب مخلوق کا اللہ تعالیٰ ہے اور اس نے ان کو نہیں دیا، تو ہم کیوں دیں تم جو ہمیں نصیحت کرتے ہو کہ ہم ان کو رزق دیا کریں یہ تو تمہاری گمراہی ہے کہ ہمیں رازق بنانا چاہتے ہو۔ یہ کفار بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا اقرار کرتے تھے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ولئن سالتہم من نزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض من بعد موتہا لیقولن اللہ ”یعنی اگر آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے نازل کیا، جس سے زمین میں حیات نباتی پیدا ہوئی، اور طرح طرح کے پھل پھول نکلے ؟ تو وہ اقرار کریں گے کہ یہ پانی اللہ ہی نے نازل کیا ہے“
اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی رازق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے، مگر مسلمانوں کے جواب میں بطور استہزاء کے یہ کہا کہ جب خدا تعالیٰ رازق ہے تو وہی غریبوں کو بھی دے گا ہم کیوں دیں۔ گویا ان احمقوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور غریبوں کو دینے کو اللہ کی رزاقیت کے منافی سمجھا۔ اور یہ نہ سمجھا کہ رازق مطلق کا قانون حکیمانہ یہ ہے کہ ایک انسان کو دے کر اس کو دوسروں کے لئے واسطہ بناتا ہے، اور بالواسطہ دوسروں کو دیتا ہے، اگرچہ وہ اس پر بھی یقینا قادر ہے کہ سب کو خود ہی بلاواسطہ رزق پہنچا دے، جیسا کہ حیوانات میں عموماً اس طرح ہر کیڑے مکوڑے اور درندے پرندے کو بلاواسطہ رزق ملتا ہے۔ ان میں کوئی مالدار کوئی غریب نہیں، کوئی کسی کو نہیں دیتا، سب کے سب قدرتی دستر خوان سے کھاتے ہیں۔ مگر انسانوں میں نظام معیشت اور باہمی تعاون و تناصر کی روح پیدا کرنے کے لئے رزق پہنچانے میں بعض کو بعض کے لئے واسطہ بناتا ہے، تاکہ خرچ کرنے والے کو ثواب ملے اور جس کو دیا جائے وہ اس کا احسان مند ہو۔ کیونکہ انسانوں کا باہمی تعاون و تناصر جس پر سارا نظام عالم قائم ہے، یہ جبھی باقی رہ سکتا ہے جبکہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت ہو، غریب کو مالدار کے پیسے کی حاجت ہے اور مالدار کو غریب کی محنت کی ضرورت، ان میں سے کوئی کسی سے بےنیاز نہیں۔ اور غور کریں تو کسی کا کسی پر احسان بھی نہیں، ہر شخص جو کچھ کسی کو دیتا ہے وہ اپنے مطلب کے لئے دیتا ہے۔
رہا یہ سوال کہ مسلمانوں نے کفار کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم کس بنا پر دیا جبکہ ان کا ایمان ہی اللہ پر نہیں اور بتصریح فقہاء وہ احکام فرعیہ کے مخاطب بھی نہیں۔ سو اس کا جواب واضح ہے کہ مسلمانوں کا یہ کہنا کسی تشریعی حکم کی تعمیل کرانے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی اور شرافت کے مروجہ اصول کی بنا پر تھا۔
Ayah 36:48خلاصہ تفسیر
اور یہ (کافر) لوگ (پیغمبر ﷺ اور آپ کے متبعین سے بطور انکار) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (قیامت کا جو اوپر آیت میں مذکور ہے اور ویسے بھی اکثر اس کی خبر دیا کرتے ہو وہ) کب ہوگا اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (تو بتلاؤ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ جو بار بار پوچھ رہے ہیں تو گویا) یہ لوگ بس ایک آواز سخت (یعنی نفخہ اولیٰ) کے منتظر ہیں جو ان کو (یعنی مطلق کفار کو) آپکڑے گی اور وہ سب (اس وقت) باہم (عام معمول کے مطابق اپنے معاملات میں) لڑ جھگڑ رہے ہوں گے سو (اس آواز کے ساتھ معاً اس طرح فنا ہوجائیں گے) نہ تو وصیت کرنے کی فرصت ہوگی، اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے (بلکہ جو جس حال میں ہوگا مر کر رہ جائے گا) اور (پھر دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ سب یکایک قبروں سے (نکل نکل کر) اپنے رب کی طرف (یعنی جہاں حساب ہوگا) جلدی جلدی چلنے لگیں گے (اور وہاں کی ہول وہیبت دیکھ کر) کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہم کو ہماری قبروں سے کس نے اٹھا دیا (کہ یہاں کی نسبت سے تو وہاں ہی راحت میں تھے، فرشتے جواب دیں گے کہ) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبر سچ کہتے تھے (مگر تم نے نہ مانا تھا، آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) وہ (نفخہ ثانیہ صور کا) بس ایک زور کی آواز ہوگی (جیسے نفخہ اولیٰ بھی صحیحہ واحدہ تھا، کما قال تعالیٰ ما ینظرون الا صیحة واحدة، اسی طرح یہ بھی ایک آواز ہوگی) جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے (پہلے موقف کی طرف چلنا مذکور تھا اور یہاں پہنچ جانا اور یہ چلنا اور پہنچنا جبراً و قہراً ہوگا۔ قرآن کریم کے الفاظ محضرون اور (آیت) جاءت کل نفس معہا سائق۔ سے معلوم ہوتا ہے) پھر اس دن کسی شخص پر ذرا ظلم نہ ہوگا اور تم کو بس انہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم (دنیا میں کفر وغیرہ) کیا کرتے تھے (یہ تو اہل جہنم کا حال ہوا اور) اہل جنت (کا حال یہ ہے کہ وہ) بیشک اس روز اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (اور) ان کے لئے وہاں (ہر طرح کے) میوے ہوں گے اور جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا (اور) ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا (یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے السلام علیکم یا اھل الجنة، رواہ ابن ماجہ) اور (آگے پھر تتمہ ہے قصہ اصحاب جہنم کا کہ ان کو موقف میں حکم ہوگا کہ) اے (کفر کے ارتکاب کرنیوالے) مجرمو آج (اہل ایمان سے) الگ ہوجاؤ (کیونکہ ان کو جنت میں بھیجنا ہے اور تم کو دوزخ میں اور اس وقت ان سے ملامت کے طور پر یہ فرمایا جائے گا) کہ اے اولاد آدم (اور اسی طرح جنات سے بھی خطاب ہوگا، دل علیہ قولہ تعالیٰ یمعشر الجن والانس الخ) کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور یہ کہ میری (ہی) عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے (مراد عبادت سے اطاعت مطلقہ ہے وہذا کقولہ تعالیٰ (آیت) لا تتبعوا خطوات الشیطن ولا یفتننکم الشیطن) اور (نیز تم کو شیطان کی نسبت یہ بات بھی معلوم کرائی تھی کہ) وہ تم میں (یعنی تمہاری بنی نوع میں) ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا (ہے جن کی گمراہی کا وبال بھی پچھلی کافر قوموں کے واقعات عذاب کے سلسلے میں بتلا دیا گیا تھا) سو کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے تھے (کہ اگر ہم اس کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوجاویں گے تو ہم بھی اس طرح مستحق عذاب ہوں گے تو (اب) یہ جہنم ہے جس کا تم سے (کفر کی تقدیر پر) وعدہ کیا جایا کرتا تھا۔ آج اپنے کفر کے بدلے اس میں داخل ہو۔ آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے (جس سے یہ جھوٹے عذر پیش نہ کرسکیں، جیسا شروع شروع میں کہیں گے (آیت) واللہ ربنا ماکنا مشرکین) اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے جو کچھ یہ لوگ کیا کرتے تھے، (یہ عذاب تو آخرت میں ہوگا) اور اگر ہم چاہتے تو (دنیا ہی میں ان کے کفر کی سزا میں) ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیتے (خواہ آنکھ کی بینائی کو یا خود آنکھ کے عضو ہی کو) پھر یہ راستے کی طرف (چلنے کے لئے) دوڑتے پھرتے سو ان کو کہاں نظر آتا (جیسا قوم لوط پر ایسا ہی عذاب آیا تھا، کما قال تعالیٰ فطمسنا) اور (اس سے بڑھ کر) اگر ہم چاہتے تو (ان کی سزائے کفر میں) ان کی صورتیں بدل ڈالتے (جیسا پہلے بعضے لوگ بندر اور خنزیر ہوگئے) اس حالت سے کہ یہ جہاں ہیں وہیں رہ جاتے (یعنی مسخ کے ساتھ یہ بھی ہوتا کہ ان کو جانور بنا دیتے اور جانور بھی اپاہج جو اپنی جگہ سے نہ ہل سکیں) جس سے یہ لوگ نہ آگے کو چل سکتے ہیں اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے ہیں اور (اس کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے کہ آنکھوں کا طمس اور صورتوں کا مسخ کیسے ہوجاتا ؟ دیکھو اس کی ایک نظیر پر ہماری قدرت شاہد ہے کہ) ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں (یعنی بہت بوڑھا کردیتے ہیں) تو اس کو طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں (طبعی حالت سے مراد عقل و شعور اور سننے دیکھنے وغیرہ کی قوتیں اور قوت ہاضمہ، نامیہ وغیرہ اور رنگ و روغن و حسن جمال ہیں، اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالات اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف، اچھے سے برے کی طرف، پس طمس و مسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف) سو کیا (اس حالت کو دیکھ کر بھی) وہ لوگ نہیں سمجھتے (کہ جب ایک تغیر پر قدرت ہے تو دوسری پر بھی ہے، بلکہ قدرت کی نسبت تو جمیع ممکنات کے ساتھ مساوی ہے گو ان میں تناظر و تماثل بھی نہ ہو سو ان لوگوں کو اس پر نظر کر کے ڈرنا اور کفر کو ترک کردینا چاہئے)
Ayah 36:49معارف و مسائل
(آیت) ما ینظرون الاصیحة واحدة، یہ ان کفار کا ہے جواب ہے جو استہزاء و انکار کے طور پر مسلمانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ تم جس قیامت کے آنے کے قائل ہو وہ کب کس سال اور کس تاریخ میں آئے گی۔ (آیت) یقولون متیٰ ھذا الوعد، ان لوگوں کا یہ سوال درحقیقت کسی تحقیق واقعہ کے لئے نہیں بلکہ تمسخر و استہزاء کے تھا اور بالفرض تحقیق کے لئے بھی ہوتا تو رب العالمین کی حکمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قیامت کے سال اور تاریخ کا پورا یقینی علم کسی کو نہ دیں، یہاں تک کہ اپنے انبیاء و رسل کو بھی نہیں دیا۔ ان احمقوں کا یہ سوال بالفرض تحقیق طلبی ہی کے لئے ہو تو بھی لغو و مہمل تھا۔ اس لئے اس کے جواب میں قیامت کی تاریخ بتانے کے بجائے ان لوگوں کو اس پر تنبیہ فرمائی کہ جو چیز یقینی طور پر آنے والی ہے عقلمند کا کام یہ ہے کہ اس کی تیاری میں لگے، نہ یہ کہ اس کے وقت اور تاریخ کی تحقیق میں وقت ضائع کرے۔ مقتضیٰ عقل کا یہ تھا کہ قیامت کی خبر سن کر ایمان لاتے اور وہ کام کرتے جس سے اس عالم میں فلاح حاصل ہو، مگر یہ لوگ اپنی غفلت میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں گویا اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب قیامت آئے تو کچھ سوچیں۔ اس لئے فرمایا کہ یہ قیامت کے منتظر ہیں۔ اور قیامت کا حال یہ ہوگا کہ وہ ایک ہی زور کی آواز صور کی ہوگی جو سب کو اچانک اس طرح پکڑے گی کہ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں اور باہمی معاملات کے جھگڑوں میں لگے ہوئے ہوں گے سب کے سب اسی حال میں مردے رہ جائیں گے۔
حدیث میں ہے کہ دو آدمی ایک کپڑے کی خریدو فروخت میں لگے ہوئے ہوں گے، کپڑا پھیلایا ہوا ہوگا کہ اچانک قیامت آجائے گی، اور وہ کپڑا طے نہ کر پائیں گے، کوئی آدمی اپنے حوض کو مٹی سے لیپ کر درست کر رہا ہوگا، کہ اسی حال میں مرا رہ جائے گا (رواہ ابونعیم عن ابی ہریرة قرطبی)
Ayah 36:50(آیت) فلا یستطیعون توصیة ولا الیٰ اھلہم یرجعون، یعنی اس وقت جو لوگ مجتمع ہوں گے وہ آپس میں کسی کو کسی کام کی وصیت کرنے کی مہلت نہیں پائیں گے اور جو گھروں سے باہر ہوں گے وہ اپنے گھروں میں واپس آنے کی بھی مہلت نہیں پائیں گے، اسی جگہ مرے کے مرے رہ جائیں گے۔ یہ بیان قیامت کے نفخہ اولیٰ کا ہے، جس سے سارا عالم زمین و آسمان تباہ ہوجائیں گے۔
اس کے بعد فرمایا
Ayah 36:51(آیت) ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الیٰ ربھم ینسلون، اجداث حدیث کی جمع ہے، بمعنے قبر اور ینسلون نسلان سے مشتق ہے جس کے معنی تیز چلنے کے ہیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں یخرجون من الاجداث سراعاً ، آیا ہے کہ یہ لوگ اپنی قبروں سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے۔ اور ایک آیت میں جو ارشاد ہے (آیت) فاذاھم قیام ینظرون، یعنی حشر کے وقت لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر کھڑے دیکھتے رہیں گے، یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ابتداً حیرت سے کھڑے ہو کر دیکھنے کا واقعہ ہو اور بعد میں تیزی سے محشر کی طرف دوڑنا، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اور جیسا کہ آیات قرآن سے ثابت ہے کہ فرشتے ان سب کو پکار کر میدان حشر میں لائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی حاضری محشر اپنی خوشی سے نہیں بلکہ جبری طور پر ہوگی اور فرشتوں کے پکارنے کی وجہ سے دوڑتے ہوئے محشر میں آجائیں گے۔
Ayahs 36:52–54(آیت) قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، کفار اگرچہ قبروں میں بھی عذاب قبر میں مبتلا تھے، وہاں کچھ آرام نہ تھا، مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ پہلا عذاب کالعدم معلوم ہوگا اس لئے پکاریں گے کہ ہمیں کس نے قبروں سے نکال لیا، وہیں رہتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر فرشتے یا عام مومنین جواب دیں گے۔
(آیت) ھذا ما وعدالرحمن وصدق المرسلون، یعنی یہ وہی قیامت ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور اس کے رسولوں نے اس کی سچی خبر تم کو سنائی تھی، تم نے توجہ نہ دی۔ اس مقام پر اللہ کی صفات میں سے لفظ رحمن اختیار کرنے میں اشارہ ہے کہ اس نے تو اپنی رحمت سے تمہارے لئے اس عذاب سے بچنے کے بہت سامان کئے تھے اور قبل از وقت اس کا وعدہ اور اپنی کتابوں اور انبیاء کے ذریعہ اس کی خبر تک پہنچانا بھی صفت رحمت ہی کا اقتضا تھا۔
Ayah 36:55(آیت) ان اصحب الجنة الیوم فی شغل فاکھون، اصحاب جہنم کی پریشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد قیامت میں اصحاب جنت کا حال ذکر فرمایا کہ وہ اپنی تفریحات میں مشغول ہوں گے۔ فاکہوں فاکہ کی جمع ہے، خوش دل خوش حال کو کہا جاتا ہے، اور اس سے پہلے فی شغل کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اصحاب جہنم کو پیش آنے والی پریشانیوں سے بالکل بےغم ہوں گے۔ (کماقالہ بعض المفسرین)
اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ یہ لفظ فی شغل اس خیال کے دفع کرنے کے لئے بڑھایا ہو کہ جنت میں جبکہ نہ کوئی عبادت ہوگی نہ کوئی فرض و واجب اور نہ کسب معاش کا کوئی کام، تو کیا اس بیکاری میں آدمی کا جی نہ گھبرائے گا ؟ اس لئے فرمایا کہ ان کو اپنی تفریحات ہی کا بڑا شغل ہوگا، جی گھبرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 36:56(آیت) ھم وازواجھہم، ازواج میں جنت کی حوریں بھی داخل ہیں اور دنیا کی بیبیاں بھی۔
Ayahs 36:57–58(آیت) ولھم ما یدعون، یدعون دعوت سے مشتق ہے، جس کے معنی بلانے کے ہیں۔ یعنی اہل جنت جس چیز کو بلا دیں گے وہ ان کو مل جائے گی۔ قرآن کریم نے اس جگہ یسئلون کا لفظ نہیں فرمایا، کیونکہ کسی چیز کا سوال کر کے حاصل کرنا بھی ایک محنت مشقت ہے، جس سے جنت پاک ہے بلکہ وہاں ضرورت کی چیز حاضر و موجود ہوگی۔
Ayah 36:59(آیت) وامتاز وا الیوم ایھا المجرمون، میدان حشر میں اول جب لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو سب گڈ مڈ منتشر ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا کانھم جواد منتشر، یعنی وہ منتشر ٹڈیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ مگر بعد میں ان کے گروہ گروہ اپنے اعمال کے اعتبار سے الگ کردیئے جائیں گے، کفار ایک جگہ مومن دوسری جگہ، فجار فساق الگ، صلحاء اور مقبول بندے الگ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے (آیت) واذ النفوس زوجت یعنی جبکہ نفوس جوڑ جوڑ کردیئے جائیں گے۔ آیت مذکورہ میں بھی اسی امتیاز کا بیان ہے۔
Ayahs 36:60–64(آیت) الم اعھد الکم بینی آدم ان لا تعبدوالشیطن، یعنی تمام بنی آدم کو (بلکہ جناب کو بھی) مخاطب کر کے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو یہ ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار عموماً شیطان کی تو عبادت نہ کرتے بتوں کو یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر عبادت شیطان کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام ہر حال میں اس کا کہنا مانے اسی کا نام عبادت ہے چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی، اس لئے ان کو عابد شیطان کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آ کر ہر وہ کام کرنے لگے جس سے مال بڑھے یا بیوی راضی ہو اگرچہ خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہو ایسے شخص کو حدیث میں عبدالدرہم اور عبدالزوجہ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
بعض صوفیائے کرام کے کلمات میں جو اپنے نفس کے لئے بت پرستی کے الفاظ آئے ہیں، اس سے مراد نفس کی خواہشات کا اتباع کرنا ہے، کفر و شرک مراد نہیں۔ جیسا کہ بعض نے فرمایا
سودہ گشت از سجدہ راہ بتاں پیشانیم
چند برخود تہمت دین مسلمانی نہم
Ayahs 36:65–67الیوم نختم علیٰ افواھہم، محشر میں حساب کتاب کے لئے پیشی میں اول تو ہر شخص کو آزادی ہوگی جو چاہے عذر پیش کرے، مگر مشرکین وہاں قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔
اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم تو اس سے بری ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے کہ بول نہ سکیں اور ان کے مقابلہ میں خود انہی کے ہاتھ پاؤں اور اعضاء کو سرکاری گواہ بنا کر ان کو بولنے کی صلاحیت دے دیں گے وہ ان کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔ آیت مذکورہ میں تو ہاتھ پاؤں کا بولنا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں انسان کے کان، آنکھ اور کھال کا بولنا مذکور ہے، شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم، اور ایک جگہ جو تشھد علیہم السنتھم آیا ہے، یعنی خود ان کی زبانیں گواہی دیں گی۔ یہ اس کے منافی نہیں کہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی، کیونکہ مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کچھ نہ بول سکیں گے، ان کی زبان کی مرضی کے خلاف چلے گی، اور شہادت دے گی۔
رہا یہ اشکال کہ ان اعضاء میں گویائی کیسے پیدا ہوگی تو اس کا جواب خود قرآن نے دے دیا ہے انطقنا اللہ الذی انطق کل شئی، یعنی یہ اعضاء کہیں گے جس اللہ نے ہر گویائی والے کو گویا کیا ہے، اس نے ہمیں بھی گویائی دے دی۔