Ayah 36:68(آیت) ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون، نعمر، تعمیر سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں عمر دراز دینے کے، اور ننکسہ، تنکیس سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اوندھا الٹا کردینے کے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ایک اور مظہر کا بیان فرمایا ہے کہ ہر انسان و حیوان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہے، قدرت کا عمل اس میں مسلسل جاری ہے، ایک گندے اور بےجان قطرہ سے اس کا وجود شروع ہوا، بطن مادر کے تین اندھیریوں میں اس خلاصہ کائنات اور عالم اصغر کی تخلیق ہوئی، کیسی کیسی نازک مشینیں اس کے وجود میں پیوست کی گئیں پھر روح ڈال کر زندہ کیا گیا، نو مہینے بطن مادر کے اندر اس کی تربیت اور نشوونما ہو کر ایک مکمل انسان بنا اور اس دنیا میں آیا۔ تو مکمل ہونے کے باوجود اس کی ہر چیز ضعیف و کمزور ہے۔ قدرت نے اس کے مزاج کے مناسب غذا ماں کی چھاتیوں میں پیدا کردی جس سے اس کو تاریجی توانائی ملی، اور اس وقت سے جوانی تک کتنے مراحل سے گزر کر اس کے سب قوی مضبوط ہوئے، قوت و شوکت کے دعوے ہونے لگے، ہر مقابل کو شکست دینے کے حوصلے پیدا ہوئے۔
پھر جب خالق ومالک کو منظور ہوا تو اب ان سب طاقتوں قوتوں میں کمی شروع ہوئی، کمی بھی بیشمار مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر بڑھاپے کی آخری عمر تک پہنچی۔ جہاں پہنچ کر غور کیا جائے تو پھر وہ اس منزل میں پہنچ گیا جس سے بچپن میں گزرا تھا۔ ساری عادتیں خصلتیں بدلنے لگیں، جو چیزیں سب سے زیادہ محبوب تھیں وہ مبغوض نظر آنے لگیں، جن سے راحت ملتی تھی اب وہ موجب کلفت بن گئی ہیں۔ اسی کو قرآن کریم نے تنکیس یعنی اوندھا کردینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ و نعم قال
من عاش اخلقت الایام حدتہ
وخانہ ثقتاہ السمع والبصر
”یعنی جو شخص زندہ رہے گا تو زمانہ اس کی حدت و شدت کو بوسیدہ اور پرانا کر دے گا، اور اس کے سب سے بڑے دو ثقہ دوست یعنی شنوائی اور بینائی کی طاقتیں بھی اس سے خیانت کر کے الگ ہوجائیں گی“
یعنی انسان کو دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد اپنی آنکھ سے دیکھی یا کان سے سنی ہوئی چیز پر ہوتا ہے۔ بڑھاپے کے آخر عمر میں یہ بھی قابل اعتماد نہیں، گراں گوشی کے سبب بات پوری سمجھنا مشکل، ضعف بینائی کے سبب صحیح صحیح دیکھنا مشکل۔ متنبی نے اسی مضمون کو کہا ہے
ومن صحب الدنیا طویلا تقلبت
علیٰ عینہ حتی یری صدقہا کذبا
”یعنی جو شخص دنیا میں زیادہ زندہ رہے گا دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہی پلٹ جائے گی یہاں تک کہ جس چیز کو پہلے سچ جانتا تھا وہ جھوٹ معلوم ہونے لگے گی“
انسان کے وجود میں یہ انقلابات قدرت حق تعالیٰ شانہ، کا عجیب و غریب مظہر تو ہے ہی، اس میں انسان پر ایک عظیم احسان بھی ہے، کہ خالق کائنات نے جتنی طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت فرمائی ہیں، وہ درحقیقت سرکاری مشینیں ہیں، جو اس کو دے دی گئی ہیں، اور یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ یہ تیری ملک نہیں اور دائمی بھی نہیں، بالآخر تجھ سے واپس لی جائیں گی۔ اس کا تقاضا ظاہری یہ تھا کہ جب وقت مقدر آجاتا سب طاقتیں بیک وقت واپس لے لی جاتیں مگر مولائے کریم نے ان کی واپسی کی بھی بڑی طویل قسطیں کردی ہیں اور تدریجی طور پر واپس لیا ہے تاکہ انسان متنبہ ہو کر سفر آخرت کا سامان کرلے۔ واللہ اعلم
Ayahs 36:69–70خلاصہ تفسیر
(اور یہ کفار جو نبوت کی نفی کرنے کے لئے آپ کو شاعر کہتے ہیں یہ محض باطل ہے کیونکہ) ہم نے آپ کو شاعری (یعنی خیالی مضامین مرتب کرنے کا) علم نہیں دیا اور وہ (شاعری) آپ کے شایان شان بھی نہیں وہ (یعنی آپ کو عطا کیا ہوا علم جس کو یہ لوگ شاعری کہتے ہیں وہ) تو محض نصیحت (کا مضمون) اور ایک آسمانی کتاب ہے جو احکام کی ظاہر کرنے والی ہے تاکہ (بیان احکام کے اثر سے) ایسے شخص کو (نافع ڈرانا) ڈرا دے جو (حیات قلبیہ کے اعتبار سے) زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجاوے۔ کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے (نفع کے) لئے اپنے ہاتھ کی سوختہ چیزوں میں سے مواشی پیدا کئے اور (ہمارے مالک بنانے سے) یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں اور (آگے اس نفع کی کچھ تفصیل ہے کہ) ہم نے ان مواشی کو ان کا تابع بنادیا سو (وہ ان کے کام میں لانے سے کام دیتے ہیں چناچہ) ان میں بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کے لئے اور بھی نفع ہیں (جیسے بال، کھال، ہڈی وغیرہ مختلف طریقوں سے استعمال میں آتے ہیں) اور (ان میں ان لوگوں کے) پینے کی چیزیں بھی ہیں (یعنی دودھ) سو کیا (اس پر بھی) یہ لوگ شکر نہیں کرتے (اور شکر کا سب سے مقدم اور اہم درجہ توحید پر ایمان ہے) اور انہوں نے (بجائے شکر اور توحید کے کفر اور شرک اختیار کر رکھا ہے چنانچہ) خدا کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں اس امید پر کہ ان کو (ان معبودین کی طرف سے) مدد ملے (لیکن) وہ ان کی کچھ مدد کر ہی نہیں سکتے اور (مدد تو کیا کرتے اور الٹے) وہ (معبودین) ان لوگوں کے حق میں ایک فریق (مخالف) ہوجاویں گے جو (موقف حساب میں بالا) حاضر کئے جائیں گے (اور وہاں حاضر ہو کر ان کی مخالفت کا اظہار کریں گے کماقال تعالیٰ فی سورة مریم (آیت) ویکونون علیہم ضداً وقال تعالیٰ فی سورة یونس (آیت) قال شرکاءھم ماکنتم ایانا تعبدون وغیر ذلک من الآیت)
معارف و مسائل
(آیت) وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ، چونکہ منکرین نبوت و رسالت قرآن کی تاثیرات عجیبہ اور دلوں پر اثر انداز ہونے کی کیفیت کا جو عام مشاہدہ میں تھی انکار نہیں کرسکتے تھے، اس لئے کبھی تو اس کلام الٰہی کو سحر اور آنحضرت محمد ﷺ کو ساحر کہتے تھے اور کبھی اس کلام کو شعر اور آپ کو شاعر کہہ کر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ یہ تاثرات عجیبہ کلام الہٰی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ یا تو یہ جادو کے کلمات ہیں جو دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں یا شاعرانہ کلام ہے وہ بھی عام دلوں پر اثر انداز ہوا کرتا ہے۔
حق تعالیٰ نے آیت مذکورہ میں فرمایا کہ ہم نے نبی کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور ان کی شان کے مناسب تھی، آپ کو شاعر کہنا باطل اور غلط ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرب تو وہ قوم ہے جس کی فطرت میں شعر و شاعری پڑی ہوئی ہے، عورتیں بچے بےساختہ شعر کہتے ہیں، وہ شعر کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، انہوں نے قرآن کو شعر اور رسول اللہ ﷺ کو شاعر کس اعتبار سے کہا ؟ کیونکہ نہ تو قرآن وزن شعری کا پابند ہے نہ کہیں ردیف قافیہ کا، اس کو تو جاہل شعر و شاعری سے ناواقف بھی شعر نہیں کہہ سکتا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شعر دراصل خیالی خود ساختہ مضامین کو کہا جاتا ہے خواہ نظم میں ہوں یا نثر میں۔ ان کا مقصد قرآن کو شعر اور آنحضرت محمد ﷺ کو شاعر کہنے سے یہ تھا کہ آپ جو کلام لائے ہیں وہ محض خیالی افسانے ہیں یا پھر شعر کے معنی معروف کے اعتبار سے شاعر کہا تو اس مناسبت سے کہ جس طرح نظم اور شعر خاص اثر رکھتا ہے اس کا اثر بھی ایسا ہی ہے۔
امام جصاص نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کبھی کوئی شعر پڑھتے تھے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، البتہ ایک شعر ابن طرفہ کا آپ نے پڑھا تھا
ستبدی لک الایام ماکنت جاھلاً
ویاتیک بالاخبار من لم تزود
اس کو آپ نے وزن شعری کو توڑ کر من لم تزود بالاخبار پڑھا۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ شعر اس طرح نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ میں شاعر نہیں اور نہ میرے لئے شعر و شاعری مناسب ہے۔
یہی روایت ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کی ہے اور ترمذی، نسائی، امام احمد نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خود کوئی شعر تصنیف کرنا تو کیا آپ دوسروں کے اشعار بھی پڑھنے کو اپنے لئے مناسب نہ سمجھتے تھے۔ اور بعض روایات میں جو خود حضور ﷺ سے وزن شعری کے مطابق کچھ کلمات منقول ہیں وہ بقصد شعر نہیں، اتفاقی ہیں اور ایسے اتفاقی کوئی ایک دو شعر موزوں ہوجانے سے کوئی آدمی شاعر نہیں کہلاتا۔ مگر آنحضرت محمد ﷺ کے اس فطری حال سے جو بڑی حکمتوں پر مبنی تھا یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقاً شعر گوئی مذموم ہے جیسا کہ شعر و شاعری کے احکام کی تفصیل سورة شعراء کے آخری رکوع میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 36:71(آیت) اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعاماً فہم لہا مالکون۔
اس آیت میں چوپائے جانوروں کی تخلیق میں انسانی منافع اور ان میں قدرت کی عجیب و غریب صنعت کاری کا ذکر فرمانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک اور احسان عظیم کو بتلایا گیا ہے کہ یہ چوپائے جانور جن کی تخلیق میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں، خالص دست قدرت کے بنائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کیا کہ انسان کو ان چوپاؤں سے نفع اٹھانے کا موقع ملا اور اجازت دے دی بلکہ اس کو ان کا مالک بنادیا کہ وہ ان میں ہر طرح کے مالکانہ تصرفات کرسکتے ہیں، خود نفع اٹھائیں یا ان کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے فائدہ اٹھائیں۔
ملکیت اشیاء کی اصل علت عطاء حق ہے، نہ سرمایہ محنت
آج کل نئے نئے معاشی ازموں اور نظریات میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ تخلیق اشیاء اور ان کی ملکیت میں سرمایہ اور دولت اصل ہے، یا محنت ؟ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے قائل دولت وسرمایہ کو اصل قرار دیتے ہیں اور سوشلزم اور کمیونزم والے محنت کو اصل علت تخلیق و ملکیت کی قرار دیتے ہیں۔ قرآن مجید کے اس فیصلے نے بتلا دیا کہ تخلیق اشیاء اور ان کی ملکیت میں دونوں کا کوئی دخل نہیں، تخلیق کسی چیز کی انسان کے قبضہ میں نہیں، وہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہے۔ اور عقل کا تقاضا ہے کہ جو کسی چیز کو پیدا کرے وہی اس کا مالک بھی ہو۔ اس طرح اصل اور حقیقی ملکیت اشیائے عالم میں حق تعالیٰ کی ہے، انسان کی ملکیت کسی بھی چیز میں صرف اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے ہو سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی اثبات ملکیت اور انتقال ملکیت کا قانون اپنے پیغمبروں کے ذریعہ نازل فرما دیا ہے۔ اس قانون کے خلاف کوئی کسی چیز کا مالک نہیں ہو سکتا۔
Ayahs 36:72–74(آیت) وذللناھا لہم، اس میں ایک اور احسان و انعام کی طرف اشارہ فرمایا کہ اکثر جانور اونٹ، گھوڑا، ہاتھی، بیل وغیرہ اگر دیکھو تو طاقت میں انسان سے بہت زیادہ ہیں، انسان ان کے مقابلہ میں کمزور ہے۔ اس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ ان جانوروں پر قابو نہ پاسکتا، مگر حق تعالیٰ نے جیسا ان جانوروں کی تخلیق کا انعام انسان کو بخشا اس طرح یہ بھی فطرت بنادی کہ ان مست جانوروں کو انسان کے سامنے مسخر اور تابع بنادیا۔ ایک لڑکا ایک قوی گھوڑے کے منہ میں لگام ڈال دیتا ہے اور پھر اس کی پشت پر سوار ہو کر جہاں چاہے لئے پھرتا ہے۔ یہ بات بھی انسان کو کوئی اپنا کمال نہیں، صرف حق تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے۔
Ayah 36:75(آیت) وھم لہم جند محضرون۔ اس آیت کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جند سے مراد فریق مخالف لیا جائے، اور مطلب آیت کا یہ ہو کہ جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں معبود بنا رکھا ہے، یہی قیامت کے روز ان کے مخالف ہو کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور حضرت حسن و قتادہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے کہ ان لوگوں نے بتوں کو خدا تو اس لئے بنایا تھا کہ یہ ان کی مدد کریں گے اور ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے خدام اور ان کے سپاہی بنے ہوئے ہیں ان کی حفاظت کرتے ہیں کوئی ان کے خلاف کام کرے تو یہ ان کی طرف سے لڑتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 36:76خلاصہ تفسیر
(جب یہ لوگ ایسے واضح اور کھلے ہوئے امور میں بھی خلاف ہی کرتے ہیں) تو ان لوگوں کی باتیں (انکار توحید و رسالت سے متعلق) آپ کے لئے آزردگی کا باعث نہ ہونا چاہئے (کیونکہ آزردگی ہوتی ہے امید سے، اور امید ہوتی ہے مخاطب کے عقل و انصاف سے اور ان لوگوں میں نہ عقل ہے نہ انصاف تو ان سے کسی چیز کی امید ہی نہیں ہو سکتی، پھر غم کیوں ہو۔ آگے دوسرے طریقہ سے آنحضرت محمد ﷺ کی تسلی ہے) بیشک ہم سب جانتے ہیں جو کچھ یہ دل میں رکھتے ہیں اور جو کچھ (زبان سے) ظاہر کرتے ہیں (اس لئے وقت مقرر پر ان کو ان کے عمل کی سزا ملے گی) کیا (اس) آدمی کو (جو قیامت کا انکار کرتا ہے) یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو (ایک حقیر) نطفہ سے پیدا کیا (جس کا تقاضا یہ تھا کہ اپنی ابتدائی حالت کو یاد کر کے اپنی حقارت اور خالق کی عظمت کو دیکھ کر خود شرماتا کہ گستاخی کی جرأت نہ کرتا دوسرے خود اپنے حالات سے اس پر استدلال کرتا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے) سو (اس نے ایسا نہ کیا بلکہ اقتضائے مذکور کے خلاف) وہ علانیہ اعتراض کرنے لگا اور (وہ اعتراض یہ کہ) اس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا (عجیب اس لئے کہ اس سے انکار قدرت لازم آتا ہے) اور اپنی اصل کو بھول گیا (کہ ہم نے اس کو نطفہ حقیر سے ایک کامل انسان بنایا) کہتا ہے کہ ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کر دے گا۔ آپ جواب دے دیجئے کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ ان کو پیدا کیا ہے (کہ پہلی تخلیق کے وقت ان ہڈیوں کا زندگی سے کوئی تعلق ہی نہ تھا اور اب تو ایک مرتبہ ان میں حیات پیدا ہو کر ایک قسم کا تعلق حیات سے ہوچکا ہے اب ان میں حیات پیدا کرنا کیا مشکل ہے) اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے (یعنی ابتداً کسی چیز کو پیدا کردینا یا پیدا شدہ کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کردینا) وہ ایسا (قادر مطلق) ہے کہ (بعض) ہرے درخت سے تمہارے لئے آگ پیدا کردیتا ہے، پھر تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو (جیسا کہ عرب میں ایک درخت تھا، مرخ دوسرا عفار، ان دونوں درختوں سے چقماق کا کام لیتے تھے، دونوں کے ملانے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی، تو جس قادر نے ہرے درخت کے پانی میں آگ پیدا فرما دی تو دوسرے جمادات میں حیات پیدا کردینا اس کے لئے کیا مشکل ہے) اور جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے ہیں کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے آدمیوں کو (دوبارہ) پیدا کر دے، ضرور قادر ہے اور وہ بڑا پیدا کرنے والا خوب جاننے والا ہے (اور اس کی قدرت ایسی ہے کہ) جب وہ کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کا معمول تو یہ ہے کہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتی ہے تو (ان سب مقدمات سے ثابت ہوگیا کہ) اس کی پاک ذات ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے اور (یہ بات سب شبہات سے سالم رہ گئی کہ) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے (یعنی قیامت کے روز)۔
Ayah 36:77معارف و مسائل
(آیت) اولم یرالانسان انا خلقنہ من نطفة۔ سورة یٰسین کی یہ آخری پانچ آیتیں ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں جو بعض روایات میں ابی بن خلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بعض میں عاص بن وائل کی طرف۔ اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ دونوں سے ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔ پہلی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں اور دوسری روایت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ عاص بن وائل نے بطحاء مکہ سے ایک بوسیدہ ہڈی اٹھائی اور اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ریزہ ریزہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا اللہ اس ہڈی کو زندہ کرے گا، جس کا حال یہ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا۔ (ابن کثیر)
خصم مبین، یعنی یہ نطفہ حقیر سے پیدا کیا ہوا انسان کیسا کھل کر مقابلہ پر آنے لگا کہ اللہ کی قدرت کا انکار کر رہا ہے۔
Ayahs 36:78–79(آیت) ضرب لنا مثلاً یہاں ضرب مثل سے مراد اس کا یہ واقعہ ہے کہ بوسیدہ ہڈی کو ہاتھ سے ریزہ ریزہ کرتے ہوئے اس کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھا۔ اس کے بعد فرمایا
(آیت) ونسی خلقہ، یعنی اس مثال کے بیان کرنے کے وقت وہ خود اپنی پیدائش کو بھول گیا کہ ایک حقیر اور ناپاک قطرہ بےجان میں جان ڈال کر اس کو پیدا کیا ہے۔ اگر وہ اپنی اس اصل کو نہ بھولتا تو ایسی مثالیں پیش کر کے قدرت آلٰہیہ کے انکار کی جرأت نہ کرتا۔
Ayahs 36:80–81(آیت) جعل لکم من الشجر الاخضر ناراً ، عرب میں دو درخت معروف تھے۔ ایک مرخ دوسرا عفار۔ عرب لوگ ان دونوں درختوں کی دو شاخیں مثل مسواک کے کاٹ لیتے تھے جو بالکل ہری تازہ پانی سے بھری ہوتی تھیں، ایک کو دوسری پر رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ ہرے درخت سے آگ پیدا کرنے میں اس طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) اور اگر درختوں کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو ہر درخت بھی اس کا مصداق ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت میں بظاہر یہی مراد ہے (آیت) افرءیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نحن المنشؤن، یعنی کیا تم اس آگ کو نہیں دیکھتے جس کو تم سلگا کر اپنے کام میں لیتے ہو کیا اس آگ سے شعلہ بننے والے درخت کو تم نے پیدا کیا یا ہم نے ؟
لیکن آیت مذکورہ میں چونکہ شجر کے ساتھ اخضر کی صفت بھی ذکر کردی گئی ہے اس لئے یہاں ظاہر یہی ہے کہ وہ خاص درخت مراد ہیں جن سے ہرے بھرے ہونے کے باوجود آگ پیدا ہوتی ہے۔
Ayahs 36:82–83انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون، مراد اس آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہیں تو انسانی مصنوعات کی طرح ان کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ پہلے مواد جمع فرمائیں پھر اس کے لئے کاریگر بلائیں، پھر ایک مدت تک کام کر کے وہ چیز تیار ہو بلکہ وہ جب اور جس وقت جس چیز کو پیدا فرمانا چاہیں ان کو صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے کہ ”پیدا ہو جا“ تو جس چیز کو یہ حکم ملتا ہے وہ فوراً اس کے حکم کے مطابق وجود میں آجاتی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کی تخلیق دفعی اور فوری ہی ہو۔ بلکہ حکمت خالق کے تابع جس چیز کا فوری طور پر پیدا ہوجانا مصلحت ہے وہ فوری طور پر بلا تدریج و مہلت پیدا ہوجاتی ہے اور جس چیز کا پیدا ہونا کسی حکمت و مصلحت کی بنا پر بتدریج مناسب سمجھا گیا وہ اسی تدریج کے ساتھ وجود میں آجاتی ہے، خواہ اس کی صورت یہ ہو کہ اس کو پہلے ہی حکم میں خاص تدریج کے ساتھ پیدا ہونا بتلایا گیا ہو یا ہر مرحلہ پر اس کو جداگانہ حکم کن کا خطاب ہوتا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
قد تمت سورة یٰسین بحمد اللہ وعونہ لثمانی وعشرین من شہر صفر 1392 ھ یوم الخمیس وبتمامہ تم الحمد للہ الحزب الخامس من الاحزاب السبعة القرانیة فالحمد للہ اولاً واخراً و ظاہرا و باطناً۔