37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف باندھنے والوں کی قطار ہو کر

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان فرشتوں کی جو (عبادت میں یا حق تعالیٰ کا حکم سننے کے وقت) صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں (جیسا اسی سورت میں آگے آئے گا وانا لنحن الصافون) پھر (قسم ہے) ان فرشتوں کی جو (شہاب ثاقب کے ذریعہ آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی) بندش کرنے والے ہیں (جیسا کہ اسی سورت میں عنقریب آ رہا ہے) پھر (قسم ہے) ان فرشتوں کی جو ذکر (الٰہی تسبیح و تقدیس) کی تلاوت کرنے والے ہیں (جیسا کہ اسی سورت میں آئے گا، وانا لنحن المسبحون، غرض ان سب کی قسم کھا کر کہتے ہیں) کہ تمہارا معبود (برحق) ایک ہے (اور اس توحید کی دلیل یہ ہے کہ وہ) پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے (یعنی ان کا مالک اور متصرف) اور پروردگار ہے (سب ستاروں کے) طلوع کرنے کے مواقع کا (اور) ہم ہی نے رونق دی ہے اس طرف والے آسمان کو ایک عجیب آرائش یعنی ستاروں کے ساتھ اور (انہی ستاروں کے ساتھ اس آسمان کی یعنی اس کی خبروں کی) حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے (جس کا طریقہ آگے بیان کیا گیا ہے۔ اور اسی حفاظت کے انتظام کی وجہ سے) وہ شیاطین عالم بالا (یعنی ملائکہ) کی (باتوں کی) طرف کان بھی نہیں لگا سکتے (یعنی اکثر تو مار کھانے کے ڈر سے دور ہی دور رہتے ہیں) اور (اگر کبھی اتفاقاً اس کی کوشش کرتے بھی ہیں تو) وہ ہر طرف سے (یعنی جس طرف بھی جو شیطان جائے) مار کر دھکے دے دیئے جاتے ہیں (یہ عذاب اور ذلت تو انہیں فی الحال ملتی ہے) اور (پھر آخرت میں) ان کے لئے (جہنم کا) دائمی عذاب ہوگا (غرض کوئی آسمانی خبر سننے سے پہلے ہی انہیں مار بھگایا جاتا ہے، وہ سننے کا ارادہ لے کر آتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں) مگر جو شیطان کچھ خبر لے ہی بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ لیتا ہے (کہ اس کو جلا کر پھونک دیتا ہے، لہٰذا جو کچھ سنا ہے اسے دوسروں تک پہنچانے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ تمام تر انتظامات وتصرفات توحید خداوندی پر دلالت کرتے ہیں) معارف و مسائل سورت کے مضامین یہ سورت مکی ہے، اور دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا بنیادی موضوع بھی ایمانیات ہیں اور اس میں توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کو مختلف طریقوں سے مدلل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مشرکین کے عقائد کی تردید بھی ہے، اور آخرت میں جنت دوزخ کے حالات کی منظر کشی بھی۔ جو عقائد تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت میں شامل رہے ان کو مدلل کرنے اور کفار کے شبہات و اعتراض کو دور کرنے کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ ماضی میں جن لوگوں نے ان عقائد کو تسلیم کیا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ کیا رہا ؟ اور جنہوں نے کفر و شرک کی راہ اختیار کی ان کا کیا انجام ہوا ؟ چناچہ اس ضمن میں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، اور ان کے صاحبزادگان، حضرت موسیٰ و ہارون حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس (علیہم السلام) کے واقعات کہیں اجمالاً اور کہیں تفصیل سے ذکر کئے گئے ہیں۔ مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، آخر میں اس عقیدے کی مفصل تردید کی گئی ہے۔ اور سورت کے مجموعی طرز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت میں شرکت کی اس خاص قسم (یعنی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے) کی تردید بطور خاص پیش نظر رہی ہے۔ اسی لئے سورت کو فرشتوں کی قسم کھا کر اور ان کے اوصاف بندگی کو ذکر کر کے شروع کیا گیا ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔ پہلا مضمون توحید سورت کو عقیدہ توحید کے بیان سے شروع کیا گیا ہے۔ اور پہلی چار آیتوں کا اصل مقصد یہ بیان کرتا ہے کہ (آیت) ان الہکم لواحد (بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہے) لیکن اس بات کو بیان کرنے سے پہلے تین قسمیں کھائی گئی ہیں۔ ان قسموں کا ٹھیٹھ لفظی ترجمہ یہ ہے ”قسم صف باندھ کر کھڑے ہونے والوں کی، پھر قسم بندش کرنیوالوں کی، پھر قسم ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی“ یہ ”صف باندھ کر کھڑے ہونیوالے“ ، ”بندش کرنیوالے“ اور ”ذکر کی تلاوت کرنیوالے“ کون ہیں ؟ قرآن کریم کے الفاظ میں اس کی صراحت نہیں ہے، اس لئے اس کی تفسیر میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ان سے مراد اللہ کے راستے میں جہاد کرنیوالے وہ غازی ہیں جو صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں تاکہ باطل کی قوتوں پر ”بندش“ لگائیں اور صف آرا ہوتے وقت ”ذکر“ و تسبیح اور تلاوت قرآن میں بھی مشغول رہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ ان سے مراد وہ نمازی ہیں جو مسجد میں صف باندھ کر شیطانی افکار و اعمال پر ”بندش“ عائد کرتے ہیں، اور اپنا پورا دھیان ”ذکر و تلاوت“ پر مرکوز کردیتے ہیں۔ (تفسیر کبیر و قرطبی) اور اس کے علاوہ بھی بعض تفسیریں بیان کی گئی ہیں، جو الفاظ قرآن کے ساتھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتیں۔ لیکن جمہور مفسرین کے یہاں جس تفسیر کو سب سے زیادہ قبول عام حاصل ہوا۔ وہ یہ ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں، اور یہاں ان کی تین صفات بیان کی گئی ہیں پہلی صفت الصفٰت صفا ہے۔ یہ لفظ ”صف“ سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہیں ”کسی جمعیت کو ایک خط پر استوار کرنا“ (قرطبی) لہٰذا اس کے معنی ہوئے ”صف باندھ کر کھڑے ہونے والے“ فرشتوں کی صف بندی کا ذکر اسی سورت میں آگے چل کر بھی آیا ہے۔ فرشتے خود اپنے بارے میں کہتے ہیں و انا لنحن الصافون ”(یعنی بلاشبہ ہم سب صف باندھے کھڑے رہتے ہیں“) یہ صف بندی کب ہوتی ہے ؟ اس کے جواب میں بعض حضرات مفسرین مثلاً حضرت ابن عباس، حسن بصری اور قتادہ نے یہ فرمایا کہ فرشتے ہمیشہ فضا میں صف باندھے اللہ کے حکم کے لئے گوش بر آواز رہتے ہیں، اور جب کوئی حکم ملتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ (مظہری) اور بعض حضرات نے اسے عبادت کے وقت کے ساتھ مخصوص کیا ہے، یعنی جب فرشتے عبادت اور ذکر و تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں تو صف باندھ لیتے ہیں۔ (تفسیر کبیر) نظم و ضبط دین میں مطلوب ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر کام میں نظم و ضبط اور ترتیب وسلیقہ کا لحاظ رکھنا دین میں مطلوب اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو یا اس کے احکام کی تعمیل، یہ دونوں مقصد اس طرح بھی حاصل ہو سکتے تھے کہ فرشتے صف باندھنے کے بجائے ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں جمع ہوجایا کریں، لیکن اس بدنظمی کے بجائے انہیں صف بندی کی توفیق دی گئی، اور اس آیت میں ان کے اچھے اوصاف میں سب سے پہلے اسی وصف کو ذکر کر کے بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا بہت پسند ہے۔ نماز میں صفوف کی درستی اور اس کی اہمیت چنانچہ انسانوں کو بھی عبادت کے دوران اس صف بندی کی ترغیب و تاکید کی گئی ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم سے فرمایا”تم (نماز میں) اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور کرتے ہیں ؟“ صحابہ نے پوچھا”فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صف بندی کرتے ہیں ؟“ آپ نے جواب دیا”وہ صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں پیوست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں (یعنی بیچ میں خالی جگہ نہیں چھوڑتے)“ (تفسیر مظہری) نماز میں صفوں کو پورا کرنے اور سیدھا رکھنے کی تاکید میں اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ ان سے ایک پورا رسالہ بن سکتا ہے۔ حضرت ابو مسعود بدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نماز میں ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرمایا کرتے تھے”سیدھے رہو، آگے پیچھے مت ہو، تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔“ (جمع الفوائد بحوالہ مسلم و نسائی ص 29 ج 1)
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر

فرشتوں کی دوسری صفت فالزجرأت زجراً بیان کی گئی ہے۔ یہ لفظ ”زجر“ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں روکنا، ڈانٹنا، پھٹکارنا۔ حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ ”بندش کرنیوالے“ سے کیا ہے، جو لفظ کے ہر ممکن مفہوم کو جامع ہے۔ فرشتے کس چیز پر بندش عائد کرتے ہیں ؟ قرآن کریم کے سیاق کے پیش نظر زیادہ تر مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہاں ”بندش عائد کرنے سے“ مراد فرشتوں کا وہ عمل ہے جس کے ذریعہ وہ شیاطین کو عالم بالا تک پہنچنے سے روکتے ہیں، اور جس کا تفصیلی ذکر خود قرآن کریم میں آگے آ رہا ہے۔
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر پڑہنے والوں کی یاد کر کر

تیسری صفت فالتلیت ذکراً ہے۔ یعنی یہ فرشتے ”ذکر“ کی تلاوت کرنیوالے ہیں ”ذکر“ کا مفہوم ”نصیحت کی بات“ بھی ہے اور ”یاد خدا“ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے ذریعہ جو نصیحت کی باتیں نازل کی ہیں یہ ان کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ اور یہ تلاوت حصول برکت اور عبادت کے طور پر بھی ہو سکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وحی لانے والے فرشتے مراد ہوں کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ان کتب نصیحت کی تلاوت کر کے انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اور دوسری صورت میں جبکہ ”ذکر“ سے مراد یاد خدا لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر دم ان کلمات کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں، جو اللہ کی تسبیح و تقدیس پر دلالت کرتے ہیں۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بیشک حاکم تم سب کا ایک ہے

یہاں قرآن کریم نے فرشتوں کی یہ تین صفات ذکر کر کے بندگی کے تمام اوصاف کو جمع کردیا ہے۔ یعنی عبادت کے لئے صف بستہ رہنا، طاغوتی طاقتوں کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا، اور اللہ کے احکام و مواعظ کو خود پڑھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔ اور ظاہر ہے۔ بندگی کا کوئی عمل ان تین شعبوں سے خالی نہیں ہو سکتا، لہٰذا چاروں کا مفہوم یہ ہوگیا کہ ”جو فرشتے تمام اوصاف بندگی کے حامل ہیں ان کی قسم، تمہارا معبود برحق ایک ہی ہے۔“ فرشتوں کی قسم کیوں کھائی گئی ؟ اس سورت میں خاص طور پر فرشتوں کی قسم کھانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔ اس سورت کا مرکزی موضوع شرک کی اس خاص قسم کی تردید ہے جس کے تحت اہل مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ چناچہ سورت کی ابتداء ہی میں فرشتوں کی قسم کھا کر ان کے وہ اوصاف بیان کردیئے گئے جن سے ان کی مکمل بندگی کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کے ان اوصاف بندگی پر غور کرو گے تو وہ خود تمہارے سامنے اس بات کی گواہی دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا رشتہ باپ بیٹی کا نہیں، بلکہ بندہ و آقا کا ہے۔ حق تعالیٰ کا قسم کھانا اور اس کے متعلق احکام اور سوال و جواب قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے ایمان و عقائد کے بہت سے اصولی مسائل کی تاکید کے لئے مختلف طرح کی قسم کھائی ہے، کبھی اپنی ذات کی، کبھی اپنی مخلوقات میں سے خاص خاص اشیاء کی۔ اس کے متعلق بہت سے سوالات ہوتے ہیں۔ اسی لئے قرآن شریف کی تفسیر میں یہ ایک مستقل اصولی مسئلہ بن گیا ہے۔ حافظ ابن قیم نے اس پر ایک مستقل کتاب ”التبیان فی اقسام القرآن“ لکھی ہے۔ علامہ سیوطی نے اپنی اصول تفسیر کی کتاب ”اتقان“ میں مباحث کی سرسٹھویں نوع اس کو قرار دے کر مفصل کلام کیا ہے۔ یہاں کچھ ضروری اجزاء لکھے جاتے ہیں۔ پہلا سوال اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اغنی الاغنیاء ہیں، ان کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کو یقین دلانے کیلئے قسم کھائیں ؟ اتقان میں ابوالقاسم تشیری سے اس سوال کے جواب میں یہ مذکور ہے کہ حق تعالیٰ کو تو کوئی ضرورت قسم کھانے کی نہ تھی، مگر اس کو جو شفقت و رحمت اپنی مخلوق پر ہے وہ اس کی داعی ہوئی کہ کسی طرح یہ لوگ حق کو قبول کریں اور عذاب سے بچ جائیں۔ ایک اعرابی نے جب (آیت) وفی السماء و رزقکم وما تو عدون، فورب السماء والارض انہ لحق، سنی تو کہنے لگا کہ اللہ جیسی عظیم الشان ہستی کو کس نے ناراض کیا ہے کہ اس کو قسم کھانے پر مجبور کردیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ شفقت علی الخلق اس کی داعی ہے کہ جس طرح دنیا کے جھگڑے چکانے اور اختلافات مٹانے کا معروف طریقہ یہ ہے کہ دعوے پر شہادت پیش کی جائے شہادت نہ ہو تو قسم کھائی جائے، اسی طرح حق تعالیٰ نے انسان کے اس مانوس طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہیں تو شہادت کے الفاظ سے مضمون کی تاکید فرمائی جیسے شہد اللہ انہ لا الہ الا ھو۔ الآیة، اور کہیں قسم کے الفاظ سے جیسے ای وربی انہ لحق وغیرہ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ قسم اپنے سے بہت بڑے کی کھائی جاتی ہے، حق تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی قسم کھائی جو ہر حیثیت سے کمتر ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ سے بڑی کوئی ذات نہ ہو نہ ہو سکتی ہے، تو یہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی قسم عام مخلوق کی قسم کی طرح نہیں ہو سکتی۔ اس لئے حق سبحانہ وتعالیٰ نے کہیں اپنی ذات پاک کی قسم کھائی ہے جیسے (ای و ربی) اور اس طرح ذات حق کی قسمیں قرآن میں سات جگہ آئی ہیں۔ اور کہیں اپنے افعال وصفات کی اور قرآن کی قسم کھائی ہے جیسے و السماء وما بنھا والارض وما طحہا و نفس و ما سواہا وغیرہ، اور بیشتر قسمیں اپنے مفعول و مخلوق کی استعمال ہوئی ہیں، جو معرفت کا ذریعہ ہونے کی حیثیت سے اسی کی ذات کی طرف راجع ہوجاتی ہیں۔ (کذا ذکرہ ابن قیم) مخلوقات میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، کہیں تو اس سے اس چیز کو عظمت و فضیلت کا بیان کرنا مقصود ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کی عمر کی قسم آئی ہے (آیت) لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمھون، ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق اور کوئی چیز دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے زیادہ معزز اور مکرم نہیں پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں کسی نبی و رسول کی ذات کی قسم نہیں آئی، صرف رسول اللہ ﷺ کی عمر کی قسم آیت مذکورہ میں آئی ہے۔ اسی طرح (والطور و کتاب مسطور) کی قسم بھی طور اور کتاب کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے آئی ہے۔ اور بعض اوقات کسی مخلوق کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ وہ کثیر المنافع ہے، جیسے (آیت) والتین والزیتون۔ اور بعض جگہ کسی مخلوق کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر اور معرفت صانع عالم کا اہم ذریعہ ہے۔ اور عموماً جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اس کو اس مضمون کے ثبوت میں کچھ دخل ضرور ہوتا ہے، جس مضمون کے لئے قسم کھائی ہے، جو ہر جگہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ شریعت کا مشہور حکم عام انسانوں کے لئے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا جائز نہیں، حق تعالیٰ کی طرف سے خود مخلوقات کی قسم کھانا کیا اس کی دلیل نہیں کہ دوسروں کے لئے بھی غیر اللہ کی قسم جائز ہے ؟ اس کے جواب میں حضرت حسن بصری نے فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے وہ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے قسم کھالے، مگر کسی دوسرے کے لئے اللہ کے سوا کسی کی قسم کھانا جائز نہیں“ مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ جل شانہ، پر قیاس کرنا غلط اور باطل ہے، جب شریعت الٰہیہ میں عام انسانوں کے لئے غیر اللہ کی قسم ممنوع کردی گئی تو اللہ تعالیٰ کے اپنے ذاتی فعل سے اس کے خلاف استدلال کرنا باطل ہے۔ اس کے بعد آیات مذکورہ کی تفسیر پر غور فرمائیے۔ پہلی چار آیتوں میں فرشتوں کی قسم کھا کر یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک ہے۔ اگرچہ قسم کے دوران فرشتوں کی صفات بھی وہ ذکر کی گئی ہیں جن پر تھوڑا سا بھی غور کرلیا جائے تو وہ عقیدہ توحید ہی کی دلیل معلوم ہوتی ہیں، لیکن آگے کی چھ آیات میں توحید کی دلیل مستقلاً بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہے
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اور رب مشرقوں کا

(آیت) رب السموٰت والارض و ما بینھما و رب المشارق (وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جتنی مخلوقات ہیں ان کا اور پروردگار ہے مشرقوں کا) تو جو ذات اتنی عظیم مخلوقات کی خالق و پروردگار ہو، عبادت کی مستحق بھی وہی ہے، اور یہ ساری کائنات اس کے وجود اور وحدانیت کی دلیل ہے یہاں المشارق، مشرق کی جمع ہے، اور چونکہ سورج سال کے ہر دن میں ایک نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے، اس لئے اس کی مشرقیں بہت ساری ہیں، اسی بنا پر یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے رونق دی ورلے آسمان کو ایک رونق جو تارے ہیں

(آیت) انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب، اس میں السماء الدنیا سے مراد نزدیک ترین آسمان ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس نزدیک والے آسمان کو ستاروں کے ذریعے زینت بخشی ہے، اب یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ ستارے ٹھیک آسمان کے اندر ہوں، بلکہ اگر اس سے جدا ہوں تب بھی زمین سے دیکھا جائے تو وہ آسمان پر ہی معلوم ہوتے ہیں، اور ان کی وجہ سے آسمان جگمگاتا نظر آتا ہے۔ بتلانا صرف اس قدر ہے کہ یہ تاروں بھرا آسمان اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بخود وجود میں نہیں آ گیا بلکہ اسے پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے، اور جو ذات اتنی عظیم الشان چیزوں کو وجود میں لا سکتی ہے اسے کسی شریک اور ساجھی کی کیا ضرورت ہے ؟ نیز جب یہ بات مشرکین کے نزدیک بھی طے شدہ ہے کہ ان تمام فلکی اجسام کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ خالق ومالک تو وہ ہو اور عبادت کسی اور کی کی جائے ؟ رہا یہ مسئلہ کہ ستارے قرآن کی رو سے آسمان میں جڑے ہوئے ہیں یا اس سے الگ ہیں ؟ نیز قرآن کریم کا علم ہیئت کے ساتھ کیا ربط ہے ؟ اس موضوع پر مفصل بحث سورة حجر میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 37:7–10

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور بچاؤ بنایا ہر شیطان سرکش سے

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

سن نہیں سکتے اوپر کی مجلس تک اور پھینکے جاتے ہیں ان پر ہر طرف سے

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

بھگانے کو اور ان پر مار ہے ہمیشہ کو

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر جو کوئی اچک لایا جھپ سے پھر پیچھے لگا اس کے انگارا چمکتا۔

(آیت) وحفظا من کل شیطن مارد (الی قولہ تعالیٰ) فاتبعہ شھاب ثاقب، ان آیات میں زینت و آرائش کے علاوہ ستاروں کا ایک فائدہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ شریر قسم کے شیاطین کو عالم بالا کی باتیں سننے سے روکا جاتا ہے۔ وہ غیبی خبروں کی سن گن لینے کے لئے آسمان کے قریب جاتے ہیں، لیکن انہیں فرشتوں کی باتیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ کوئی شیطان اگر کوئی آدھی تہائی بات سن بھاگتا ہے تو اسے ایک دہکتے ہوئے شعلہ کے ذریعے مار لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ دنیا میں پہنچ کر اپنے معتقد کاہنوں اور نجومیوں کو کچھ بتا نہ سکے، اسی دہکتے ہوئے شعلے کو ”شہاب ثاقب“ کہا گیا ہے۔ ”شہاب ثاقب“ کی کچھ تفصیل سورة حجر میں گزر چکی ہے، یہاں اتنی تنبیہ ضروری ہے کہ قدیم یونانی فلاسفہ اس بات کے قائل تھے کہ ”شہاب ثاقب“ دراصل کوئی زمینی مادہ ہوتا ہے جو بخارات کے ساتھ اوپر چلا جاتا ہے، اور کرہ نار کے قریب پہنچ کر جل اٹھتا ہے، لیکن قرآن کریم کے ظاہری الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے ”شہاب ثاقب“ کوئی زمینی مادہ نہیں، بلکہ عالم بالا ہی میں پیدا ہونے والی کوئی چیز ہے۔ قدیم مفسرین اس موقع پر یہ کہتے آئے ہیں کہ یونانی فلاسفہ کا یہ خیال کہ ”شہاب ثاقب“ کوئی زمینی مادہ ہے محض قیاس اور تخمینہ پر مبنی ہے، اس لئے اس سے قرآن پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا، اس کے علاوہ اگر کوئی زمینی مادہ اوپر جا کر مشتعل ہوجاتا ہو تو قرآن کریم سے اس کی بھی کوئی منافات نہیں۔ لیکن آج کی جدید سائنسی تحقیقات نے یہ سوال ہی ختم کردیا ہے۔ موجودہ سائنسدانوں کا خیال یہ ہے کہ ”شہاب ثاقب“ ان گنت ستاروں ہی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں، اور عموماً بڑی بڑی اینٹوں کے برابر، اور یہ انت گنت ٹکڑے فضا میں رہتے ہیں۔ انہی کا ایک مجموعہ ”اسدیہ“ کہلاتا ہے جو سورج کے گرد ھلیلہ کی شکل میں گردش کرتا رہتا ہے، اور اس کا ایک دورہ 33 سال میں پورا ہوتا ہے۔ ان ٹکڑوں میں روشنی ان کی تیز رفتاری اور خلائی اجرام کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ٹکڑے 10 اگست اور 27 نومبر کی راتوں میں زیادہ گرتے ہیں، اور 02 اپریل، 28 نومبر، 18 اکتوبر، اور 6، 9، 13 دسمبر کی راتوں میں کم ہوجاتے ہیں۔ (از تفسیر الجواہر للطنطاوی، ص 5، ج 8) جدید سائنس کی یہ تحقیق قرآنی اسلوب بیان کے زیادہ مطابق ہے، البتہ جو لوگ ”شہاب ثاقب“ کے ذریعہ شیطانوں کے مارے جانے کو بعید از قیاس سمجھتے ہیں ان کے بارے میں طنطاوی مرحوم نے الجواہر میں بڑی اچھی بات لکھی ہے ”ہمارے آباء و اجداد اور حکماء کو بھی یہ بات گراں محسوس ہوتی تھی کہ قرآن کریم ان کے زمانہ کے علم فلکیات کے خلاف کوئی بات کہے، لیکن مفسرین اس بات پر راضی نہیں ہوئے کہ ان کے فلسفیانہ نظریات کو قبول کر کے قرآن کو چھوڑ دیں، اس کے بجائے انہوں نے ان فلسفیانہ نظریات کو چھوڑا اور قرآن کے ساتھ رہے۔ کچھ عرصہ کے بعد خود بخود ثابت ہوگیا کہ قدیم یونانی فلاسفہ کا خیال بالکل باطل اور غلط تھا، اب بتائیے کہ اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ یہ ستارے شیطانوں کو جلاتے، مارتے اور تکلیف پہنچاتے ہیں تو اس میں کونسی رکاوٹ ہے ؟ ہم قرآن کریم کے اس بیان کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل کے انتظار میں ہیں، (جب سائنس بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلے گی) (جواہر، ص 4، ج 8) مقصد اصلی یہاں آسمانوں، ستاروں اور شہاب ثاقب کا تذکرہ کرنے سے ایک مقصد تو توحید کا اثبات ہے کہ جس ذات نے یکہ و تنہا اتنے زبردست آفاقی انتظامات کئے ہوئے ہیں، وہی لائق عبادت بھی ہے۔ دوسرے اسی دلیل میں ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کردی گئی ہے جو شیطانوں کو دیوتا یا معبود قرار دیتے ہیں اور جتا دیا گیا ہے کہ یہ تو ایک مردود و مقہور مخلوق ہیں، ان کو خدائی سے کیا واسطہ ؟ اس کے علاوہ اسی مضمون میں ان لوگوں کی بھی بھرپور تردید موجود ہے جو قرآن کریم کا آنحضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو کاہنوں کی کہانت سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اشارہ کردیا گیا کہ قرآن کریم تو کاہنوں کی تردید کرتا ہے، لے دے کر ان کی معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ شیاطین ہیں، اور قرآن یہ کہتا ہے کہ شیاطین کی عالم بالا تک رسائی ممکن نہیں، وہ غیب کی سچی خبریں نہیں لا سکتے۔ جب کہانت کے بارے میں قرآن کریم کا بیان کیا ہوا عقیدہ یہ ہے تو وہ خود کہانت کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس طرح یہ آیتیں توحید اور رسالت دونوں مضامین کی طرف اشاروں پر مشتمل ہیں، اور آگے انہی آسمانی مخلوقات کے ذریعہ آخرت کے عقیدے کو ثابت کیا گیا ہے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب پوچھ ان کے کیا یہ بنانے مشکل ہیں یا جتنی خلقت کہ ہم نے بنائی ؟ ہم نے ہی ان کو بنایا ہے ایک چپکتے گارے سے

خلاصہ تفسیر (جب دلائل توحید سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان عظیم الشان مخلوقات میں ایسے ایسے عظیم تصرفات پر قادر ہیں اور یہ ساری عظیم مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں) تو آپ ان (آخرت کا انکار کرنے والوں) سے پوچھئے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی یہ چیزیں (جن کا ابھی ذکر ہوا ؟ حقیقت یہی ہے کہ یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں، کیونکہ) ہم نے ان لوگوں کو (تو آدم کی تخلیق کے وقت اسی معمولی، چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے، (جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ سختی اور انسان جو اس سے بنا ہے وہ بھی زیادہ قوی اور سخت نہیں ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم ایسی قوی اور سخت مخلوقات کو عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہیں تو انسان جیسی ضعیف مخلوق کو ایک بار موت دے کر دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قدرت نہ ہوگی ؟ مگر ایسی واضح دلیل کے باوجود یہ لوگ آخرت کے امکان کے قائل نہیں ہوئے) بلکہ (اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ) آپ تو (ان کے انکار سے) تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ (انکار سے بڑھ کر آخرت کے عقیدے سے) تمسخر کرتے ہیں اور جب ان کو (دلائل عقلیہ سے) سمجھایا جاتا ہے تو یہ سمجھتے نہیں اور جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں (جو آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو دکھایا جاتا ہے جس سے عقیدہ آخرت ثابت کیا جائے) تو (خود) اس کی ہنسی اڑاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ (کیونکہ اگر یہ معجزہ ہو تو اس سے آپ کی نبوت ثابت ہوجائے گی اور آپ کو نبی ماننے کے بعد آپ کا بیان کردہ عقیدہ آخرت بھی ماننا پڑے گا، حالانکہ ہم آخرت کا عقیدہ نہیں مان سکتے، کیونکہ) بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے، تو کیا ہم (پھر) زندہ کئے جائیں گے، اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ ہوں گے) آپ کہہ دیجئے کہ ہاں (ضرور زندہ ہوں گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے۔ معارف و مسائل عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے بعد ان آٹھ آیتوں میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے، اور اسی سے متعلق مشرکین کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلی آیت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان پر عقلی دلیل پیش کی گئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کے جن عظیم اجسام کا ذکر پچھلی آیتوں میں کیا گیا ہے، انسان تو ان کے مقابلہ میں بہت کمزور مخلوق ہے جب تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے، چاند، ستارے، سورج اور شہاب ثاقب جیسی مخلوقات اپنی قدرت سے پیدا فرمائی ہیں، تو اس کے لئے انسان جیسی کمزور مخلوق کو موت دے کر دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے ؟ جس طرح تمہیں ابتداء میں چپکتی ہوئی مٹی سے بنا کر تم میں روح پھونک دی تھی، اسی طرح جب تم مر کر دوبارہ خاک ہوجاؤ گے اس وقت پھر اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی عطا کر دے گا۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ”ہم نے انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا“ اس سے مطلب یا تو یہ ہے کہ ان کے جد امجد حضرت آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ہر انسان ہو۔ اس لئے اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر انسان کی اصل پانی ملی ہوئی مٹی ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ انسان نطفہ سے پیدا ہوتا ہے، نطفہ خون سے بنتا ہے، خون غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا خواہ کسی شکل میں ہو اس کی اصل نباتات ہیں اور نباتات مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں۔ بہر صورت پہلی آیت عقیدہ آخرت کی عقلی دلیل پر مشتمل ہے، اور اسے خود انہی سے یہ سوال کر کے شروع کیا گیا ہے کہ تم زیادہ سخت مخلوق ہو یا جن مخلوقات کا ذکر ہم نے کیا ہے، وہ زیادہ سخت ہیں ؟ جواب ظاہر تھا کہ وہی مخلوقات زیادہ سخت ہیں، اس لئے اس کی تصریح کرنے کی بجائے اس کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کردیا گیا ہے کہ ”ہم نے تو انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے“ اس کے بعد کی پانچ آیتوں میں اس ردعمل کا بیان کیا گیا ہے جو آخرت کے دلائل سن کر مشرکین ظاہر کرتے ہیں۔ مشرکین کے سامنے عقیدہ آخرت کے جو دلائل بیان کئے جاتے تھے وہ دو قسم کے تھے۔ ایک تو عقلی دلائل، جیسے پہلی آیت میں بیان کیا گیا، دوسرے نقلی دلائل یعنی ان کو معجزے دکھا کر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا، اس کے پاس آسمانی خبریں آتی ہیں، جب آپ یہ خبر دے رہے ہیں کہ قیامت آئے گی، حشر ونشر و گا، انسانوں سے حساب و کتاب لیا جائے گا تو یہ خبر یقینا سچی ہے، اسے مان لینا چاہئے جہاں تک عقلی دلائل پر مشرکین کے ردعمل کا تعلق ہے، اس کے بارے میں ارشاد ہے
Ayahs 37:12–13

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ تو کرتا ہے تعجب اور وہ کرتے ہیں ٹھٹھے

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو سمجھیئے نہیں سوچتے

(آیت) بل عجبت ویسخرون، و اذا ذکروا لا یذکرون، یعنی آپ کو تو ان لوگوں پر یہ تعجب ہوتا ہے کہ کیسے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مان رہے، لیکن یہ الٹا آپ کے دلائل و عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں، اور انہیں کتنا ہی سمجھا لو سمجھ کر نہیں دیتے، رہے نقلی دلائل، سو اس کے بارے میں ان کا ردعمل یہ ہے کہ
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب دیکھیں کچھ نشانی ہنسی میں ڈال دیتے ہیں

(آیت) واذاراوا آیة یستسخرون، الخ، یعنی جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جو آپ کی نبوت اور بالآخر عقیدہ آخرت پر دلالت کرتا ہے، تو یہ اسے بھی ٹھٹھوں میں اڑا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ اور اس سارے تمسخر و استہزاء کی ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے اور وہ یہ کہ(آیت) ءاذا متنا وکنا تراباً وعظاماً انا لمبعوثون او آباؤنا الاولون، یعنی یہ بات ہمارے تصور میں نہیں آتی کہ ہم یا ہمارے آباء و اجداد خاک ہوجانے اور ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کردیئے جائیں گے ؟ اس لئے ہم نہ کوئی عقلی دلیل مانتے ہیں اور نہ کسی معجزے وغیرہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ باری تعالیٰ نے اس کے جواب میں صرف ایک جملہ آخر میں ارشاد فرمایا(آیت) قل نعم وانتم داخرون، ”یعنی آپ کہہ دیجئے کہ ہاں تم ضرور دوبارہ زندہ ہوگے اور ذلیل و خوار ہو کر زندہ ہو گے“ دیکھنے میں تو یہ ایک حاکمانہ جواب ہے، جیسا ہٹ دھرمی کرنے والوں کو دیا جاتا ہے، لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ ایک پوری دلیل بھی ہے، جس کی تشریح امام رازی نے تفسیر کبیر میں کی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ اوپر دوبارہ زندہ ہونے کی عقلی دلیل سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسانوں کا مر کر پھر زندہ ہونا کوئی ناممکن بات نہیں، اور یہ قاعدہ ہے کہ جو بات عقلاً ممکن ہو اس کا واقعتا وجود میں آجانا کسی سچے خبر دینے والے کی خبر سے ثابت ہوسکتا ہے۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے تو اس کے بعد کسی سچے نبی کا صرف اتنا کہہ دینا کہ ”ہاں تم ضرور دوبارہ زندہ ہو گے“ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ واقعہ ضرور پیش آ کر رہے گا۔
Ayahs 37:15–18

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کچھ نہیں یہ تو کھلا جادو ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مر گئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں تو کیا ہم کو پھر اٹھائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

کیا اور ہمارے اگلے باپ دادوں کو بھی ؟

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

تو کہہ کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے۔

آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ثبوت (آیت) واذاراو ایة الخ میں ”آیة“ کے لغوی معنی نشانی کے ہیں، اور اس سے یہاں مراد معجزہ ہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ معجزات عطا فرمائے تھے، اور اس سے ان ملحدین کی تردید ہوجاتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے معجزات کو حسی اسباب کے تابع قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے دست مبارک پر قرآن کریم کے سوا کوئی معجزہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا ہےواذا راو آیة یستسخرون (جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں) بعض منکرین معجزات کہتے ہیں کہ یہاں ”آیة“ سے مراد معجزہ نہیں بلکہ عقلی دلائل ہیں۔ لیکن یہ بات اس لئے غلط ہے کہ اگلی آیت میں ہے (آیت) وقالوا ان ھذا الا سحر مبین، ”یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے“۔ ظاہر ہے کہ کسی دلیل کو کھلا جادو قرار دینے کا کوئی تک نہیں ہے، یہ بات وہ معجزہ دیکھ کر ہی کہہ سکتے ہیں۔ بعض منکرین معجزات یہ بھی کہتے ہیں کہ ”آیة“ سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں کہ یہ لوگ انہیں جادو قرار دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا لفظ ”راوا“ (دیکھتے ہیں) اس کی صاف تردید کر رہا ہے۔ آیات قرآنی کو دیکھا نہیں، سنا جاتا تھا۔ چناچہ قرآن کریم میں جہاں کہیں آیات قرآنی کا ذکر ہے وہاں اس کے ساتھ سننے کے الفاظ آئے ہیں دیکھنے کے نہیں، اور قرآن کریم میں جگہ جگہ ”آیة“ کا لفظ معجزہ کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ ؑ سے فرعون کا مطالبہ نقل کرتے ہوئے ارشاد ہے ”ان کنت جئت بایة فات بھا ان کنت من الصادقین“ ”اگر تم کوئی معجزہ لے کر آئے ہو تو لاؤ، اگر سچے ہو“ اسی کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ نے لاٹھی کو سانپ بنانے کا معجزہ دکھلایا تھا۔ رہیں قرآن کریم کی وہ آیات جن میں مذکور ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے معجزہ دکھانے کے مطالبہ کو نہیں مانا۔ سو درحقیقت وہاں بار بار معجزات دکھائے جا چکے تھے لیکن وہ ہر روز اپنی مرضی کا ایک نیا معجزہ طلب کرتے تھے، اس کے جواب میں معجزہ دکھانے سے انکار کیا گیا۔ اس لئے کہ اللہ کا نبی اللہ کے حکم سے معجزات دکھاتا ہے، اگر کوئی پھر بھی اس کی بات نہ مانے تو ہر روز ایک نیا معجزہ ظاہر کرنا نبی کے وقار کے بھی خلاف ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا دستور یہ رہا ہے کہ جب کسی قوم کو اس کا مطلوبہ معجزہ عطا کردیا گیا اور اس کے بعد بھی وہ ایمان نہیں لائی، تو عذاب عام کے ذریعہ اس کو ہلاک کیا گیا امت محمدیہ کو چونکہ باقی رکھنا اور عذاب عام سے بچانا پیش نظر تھا اس لئے اسے مطلوبہ معجزہ نہیں دکھایا گیا۔
Ayahs 37:19–21

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

سو وہ اٹھانا تو یہی ہے ایک جھڑ کی پھر اسی وقت یہ لگیں گے دیکھنے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے اے خرابی ہماری یہ آگیا دن جزا کا

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ ہے دن فیصلہ کا جس کو تم جھٹلاتے تھے

خلاصہ تفسیر پس قیامت تو بس ایک للکار ہوگی (یعنی دوسرا صور) سو (اس سے) سب یکایک (زندہ ہو کر) دیکھنے بھالنے لگیں گے اور (حسرت سے) کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا (معلوم ہوتا) ہے (ارشاد ہوگا کہ ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (آگے قیامت ہی کے بعض واقعات کی تفصیل ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا) جمع کرلو ظالموں کو (یعنی جو کفر و شرک کے بانی اور مقتدا تھے) اور ان کے ہم مشربوں کو (یعنی جو ان کے ساتھ تابع تھے) اور ان معبودوں کو جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے (یعنی شیاطین اور بت) پھر ان سب کو دوزخ کا رستہ بتلاؤ (یعنی ادھر لے جاؤ) اور (پھر یہ حکم ہوگا کہ اچھا) ان کو (ذرا ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھا جائے گا (چنانچہ ان سے یہ سوال ہوگا) کہ اب تم کو کیا ہوا کہ (عذاب کا حکم سن کر) ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (یعنی کافروں کے بڑے بڑے رہنما انسان ہو یا شیاطین اپنے تابعین کی مدد نہیں کرتے، جس طرح دنیا میں ان کو بہکایا کرتے تھے ؟ مگر سوال کے بعد بھی وہ مدد نہ کرسکیں گے) بلکہ وہ سب کے سب اس روز سرافگندہ (کھڑے) ہوں گے۔ معارف و مسائل آخرت کے امکان و ثبوت کے بعد باری تعالیٰ نے ان آیتوں میں حشر و نشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے ہیں، اور دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کافروں اور مسلمانوں کو جو حالات پیش آئیں گے ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ سب سے پہلی آیت میں مردوں کے زندہ ہونے کا طریق کار بیان فرمایا ہے کہ فانما ھی زجرة واحدة (یعنی قیامت تو بس ایک للکار ہوگی، زجرة کا لفظ زجر کا اسم مرہ ہے اور اس کے عربی زبان میں کئی معنی آتے ہیں۔ ان میں ایک معنی ہیں ”مویشیوں کو چلنے پر آمادہ کرنے کے لئے ایسی آوازیں نکالنا جنہیں سن کر وہ اٹھ کھڑے ہوں“ یہاں اس سے مراد وہ دوسرا صور ہے جو حضرت اسرافیل ؑ مردوں کو زندہ کرنے کے لئے پھونکیں گے، اور اسے ”زجرة“ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح مویشیوں کو اٹھا کر چلانے کے لئے کچھ آوازیں نکالی جاتی ہیں اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے کے لئے یہ صور پھونکا جائے گا۔ (تفسیر قرطبی) اگرچہ باری تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ صور پھونکے بغیر مردوں کو زندہ کر دے، لیکن یہ صور حشر ونشر کے منظر کو پرہیبت بنانے کے لئے پھونکا جائے گا (تفسیر کبیر) اس صور پھونکنے کا اثر کافروں پر یہ ہوگا کہ (آیت) فاذا ھم ینظرون (پس اچانک وہ دیکھنے بھالنے لگیں گے) یعنی جس طرح دنیا میں وہ دیکھنے پر قادر تھے اسی طرح وہاں بھی دیکھ سکیں گے، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ حیرانی کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں گے۔ (قرطبی)
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جمع کرو گنہگاروں کو اور ان کے جوڑوں کو اور جو کچھ پوجتے تھے

احشر والذین ظلموا و ازواجھہم (یعنی ان ظالموں کو جنہوں نے شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم مشربوں کو جمع کرلو) یہاں ہم مشربوں کے لئے ازواج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں ”جوڑ“ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین نے اس کے معنی بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس سے مشرکین کی وہ بیویاں مراد ہیں جو خود بھی مشرک تھیں۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ”ازواج“ سے مراد ہم مشرب ہی ہے، اور اس کی تائید حضرت عمر کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے۔ امام بیہقی اور عبدالرزاق وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا ہے، کہ یہاں ازواجہم سے مراد ہیں ان جیسے دوسرے لوگ، چناچہ سود خور سود خوروں کے ساتھ، زنا کار دوسرے زانیوں کے ساتھ، اور شراب پینے والے دوسرے شراب پینے والوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ (روح المعانی و مظہری) اس کے علاوہ و ما کانوا یعبدون کے الفاظ سے بتادیا گیا کہ مشرکین کے ساتھ ان کے وہ باطل معبود یعنی بت اور شیاطین بھی جمع کئے جائیں گے، جنہیں یہ لوگ دنیا میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے، تاکہ اس وقت ان باطل معبودوں کی بےبسی کا اچھی طرح نظارہ کرایا جائے۔
Ayahs 37:23–26

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

اللہ کے سوائے پھر چلاؤ ان کو دوزخ کی راہ پر

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور کھڑا رکھو ان کو ان سے پوچھنا ہے

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

کیا ہوا تم کو ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

کوئی نہیں وہ آج اپنے آپ کو پکڑواتے ہیں۔

اس کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ (آیت) فاھدوھم الی صراط الجحیم، یعنی ان لوگوں کو جہنم کا راستہ دکھلاؤ، اور جب فرشتے ان لوگوں کو لے چلیں گے تو پل صراط کے قریب پہنچنے کے بعد حکم ہوگا کہ وقفوھم انھم مسؤلون، ان کو ٹھہراؤ، ان سے سوال ہوگا۔ چناچہ اس مقام پر ان سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں وہ سوالات کئے جائیں گے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔
Ayah 37:27

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور منہ کیا بعضوں نے بعضوں کی طرف لگے پوچھنے

خلاصہ تفسیر (بجائے اس کے کہ مشرکین ایک دوسرے کی مدد کرسکیں ان میں اس وقت الٹا جھگڑا ہوگا) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جواب سوال (یعنی اختلاف) کرنے لگیں گے (چنانچہ) تابعین (اپنے سرداروں سے) کہیں گے کہ (ہم کو تم نے گمراہ کیا، کیونکہ) ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی (یعنی تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے) تبوعین یہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان نہیں لائے تھے، اور (ہم پر ناحق الزام لگاتے ہو، کیونکہ) ہمارا تم پر کوئی زور تو تھا ہی نہیں، بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے سو (جب کفر کے مرتکب ہم بھی تھے اور تم بھی، تو معلوم ہوا کہ) ہم سب پر ہی ہمارے رب کی یہ (ازلی) بات محقق ہوچکی تھی کہ ہم سب کو (عذاب کا) مزہ چکھنا ہے، تو (اس کا سامان یہ ہوگیا کہ) ہم نے تم کو بہکایا (جس سے تم ہمارے جبر واکراہ کے بغیر خود اپنے اختیار سے گمراہ ہوئے اور ادھر) ہم خود بھی (اپنے اختیار سے) گمراہ تھے (پس دونوں کی گمراہی کے اسباب جمع ہوگئے، جس میں تمہارا اپنا اختیار بھی اپنی گمراہی کا بڑا سبب ہے، پھر اپنے آپ کو بری کیسے کرنا چاہتے ہو ؟ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب دونوں فریق کا کفر میں مشترک ہونا ثابت ہے، تو وہ سب کے سب اس روز عذاب میں (بھی) شریک رہیں گے (اور) ہم ایسے مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں (آگے ان کے کفر و جرم کا بیان ہے کہ) وہ لوگ ایسے تھے کہ (توحید کے بھی منکر تھے اور رسالت کے بھی چنانچہ) جب ان سے (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو (اس کے ماننے سے) تکبر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ (کے کہنے) کی وجہ سے چھوڑ دیں گے ؟ (پس اس میں توحید اور رسالت دونوں کا انکار ہوگیا حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ پیغمبر نہ شاعر ہیں نہ مجنون) بلکہ (پیغمبر ہیں کہ) ایک سچا دین لے کر آئے ہیں اور (اصول توحید وغیرہ میں) دوسرے پیغمبروں کی تصدیق (اور موافقت) کرتے ہیں (یعنی ایسے اصول بتلاتے ہیں جس میں سب رسول متفق ہیں۔ پس وہ اصول بیشمار دلائل کی روشنی میں حق ہیں، خیال بندی نہیں، اور حق بات کا کہنا جنون نہیں۔ دوسری امتوں نے بھی اپنے انبیاء کے ساتھ اسی قسم کا برتاؤ کیا۔ یہاں چونکہ براہ راست کفار عرب مخاطب ہیں، اس لئے صرف اسی امت کے کافروں کا ذکر کیا گیا ہے، آگے اس بات کا بیان ہے کہ انہیں مشافہتہ اس مشترک عذاب کی وعید سنائی جائے گی کہ) تم سب (تابع اور متبوع) کو دردناک عذاب چکھنا پڑے گا اور (اس حکم میں تم پر کوئی ظلم نہیں ہوا، کیونکہ) تم کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کچھ تم (کفر وغیرہ) کیا کرتے تھے، ہاں مگر جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں (اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جنہوں نے حق کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مقبول اور مخصوص فرما لیا ایسے لوگ عذاب سے محفوظ رہیں گے)۔
Ayahs 37:28–32

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

بولے تم ہی تھے کہ آتے تھے ہم پر داہنی طرف سے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ بولے کوئی نہیں پر تم ہی نہ تھے یقین والے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا پر تم ہی تھے لوگ حد سے نکل چلنے والے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ثابت ہوگئی ہم پر بات ہمارے رب کی بیشک ہم کو مزہ چکھنا ہے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تم کو گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ تھے

معارف و مسائل میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں۔ (1) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ”یمین“ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ”ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی“ یعنی تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے اور یہی تفسیر زیادہ صاف اور بےغبار ہے۔ اس کے علاوہ یمین کے معنی قسم کے بھی آتے ہیں اس لئے بعض حضرات نے اس کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ”تم ہمارے پاس قسمیں لے کر آیا کرتے تھے“ یعنی قسم کھا کھا کر یہ باور کراتے تھے کہ ہمارا مذہب درست ہے، اور رسول کی تعلیم (معاذ اللہ) باطل ہے۔ الفاظ قرآنی کے لحاظ سے یہ دو نوں تفسیریں بےتکلف ممکن ہیں۔
Ayahs 37:33–40

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

سو وہ سب اس دن تکلیف میں شریک ہیں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم ایسا ہی کرتے ہیں گنہگاروں کے حق میں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

وہ تھے کہ ان سے جب کوئی کہتا کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے تو غرور کرتے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے معبودوں کو کہنے سے ایک شاعر دیوانے کے ؟ کوئی نہیں

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

وہ لیکر آیا ہے سچا دین اور سچ مانتا ہے سب رسولوں کو

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم کو چکھنا ہے عذاب درد ناک

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور وہی بدلہ پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے۔

(2) (آیت) فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ناجائز کام کی دعوت دے اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تو اسے دعوت گناہ کا عذاب تو بیشک ہوگا، لیکن جس شخص نے اس کو دعوت کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا وہ بھی اپنے عمل سے بری نہیں ہو سکتا۔ وہ آخرت میں یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں پاسکتا کہ مجھے تو فلاں شخص نے گمراہ کیا تھا، ہاں اگر اس نے گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہ کیا ہو بلکہ جبر واکراہ کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے کرلیا ہو تو انشاء اللہ اس کی معافی کی امید ہے۔