37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:114–122

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے احسان کیا موسیٰ اور ہارون پر

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو اس بڑی گھبراہٹ سے

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ان کی ہم نے مدد کی تو رہے وہی غالب

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے دی ان کو کتاب واضح

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور سجھائی ان کو سیدھی راہ

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور باقی رکھا ان پر پچھلے لوگوں میں

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

تحقیق وہ دونوں ہیں ہمارے ایماندار بندوں میں۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا (کہ ان کو نبوت اور دیگر کمالات عطا فرمائے) اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو بڑے غم سے (یعنی فرعون کی جانب سے پہنچائی جانیوالی تکالیف سے) نجات دی اور ہم نے ان سب کی (فرعون کے مقابلے میں) مدد کی، سو (آخر میں) یہی لوگ غالب آگئے (کہ فرعون کو غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے) اور ہم نے (فرعون کے غرق ہونے کے بعد) ان دونوں (صاحبوں) کو (یعنی موسیٰ ؑ کو اصالتاً اور ہارون ؑ کو تبعاً) واضح کتاب دی (مراد تورات ہے کہ اس میں احکام واضح طور پر مذکور تھے) اور ہم نے ان کو سیدھے رستہ پر قائم رکھا، (جس کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ انہیں نبی معصوم بنایا، اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں (مدت ہائے دراز کے لئے) یہ بات رہنے دی کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام (چنانچہ دونوں حضرات کے ناموں کے ساتھ آج تک ؑ کہا جاتا ہے) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ ان کو ثناء اور دعا کا مستحق بنا دیتے ہیں) بیشک وہ دونوں ہمارے (کامل) ایمان دار بندوں میں سے تھے (اس لئے صلہ بھی کامل عطا ہوا) معارف و مسائل ان آیتوں میں تیسرا واقعہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ متعدد مقامات پر تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے، یہاں اس کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے اور اسے ذکر کرنے سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص اور اطاعت شعار بندوں کو کس طرح مدد فرماتے ہیں اور انہیں کیسے کیسے انعامات سے نوازتے ہیں۔ چناچہ یہاں حضرت موسیٰ و ہارون پر اپنے انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے، انعامات کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک مثبت انعامات، یعنی فائدے پہنچانا، وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ میں اسی قسم کے انعامات کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے منفی انعامات، یعنی نقصانات سے بچانا، اگلی آیات میں اسی قسم کی تفصیل ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہوجاتا ہے۔
Ayahs 37:123–124

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور تحقیق الیاس ہے رسولوں میں

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب اس نے کہا اپنی قوم کو کیا تم کو ڈر نہیں

خلاصہ تفسیر اور الیاس ؑ بھی (بنی اسرائیل کے) پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا واقعہ ذکر کیجئے) جبکہ انہوں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) سے (کہ وہ بت پرستی میں مبتلا تھی) فرمایا کہ کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تم بعل کو (جو ایک بت کا نام تھا) پوجتے ہو اور اس (کی عبادت) کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے (کیونکہ اور لوگ تو صرف بعض اشیاء کی تحلیل و ترکیب پر قدرت رکھتے ہیں اور وہ بھی عارضی، اور وہ تمام اشیاء کو عدم سے وجود میں لانے پر قدرت ذاتی رکھتا ہے، پھر کوئی دوسرا جان نہیں ڈال سکتا اور وہ جان ڈالتا ہے اور وہ) معبود برحق ہے (اور) تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب ہے، سو ان لوگوں نے (اس توحید کے دعوے میں) ان کو جھٹلایا، سو (اس جھٹلانے کی شامت میں) وہ لوگ (عذاب آخرت میں) پکڑے جاویں گے، مگر جو اللہ کے خاص بندے (یعنی ایمان والے) تھے (وہ ثواب واجر میں ہوں گے) اور ہم نے الیاس کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں (مدتہائے دراز کے لئے) یہ بات رہنے دی کہ الیاسین پر (کہ یہ بھی الیاس ؑ کا نام ہے) سلام ہو، ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ ان کو ثنا اور دعا کا مستحق بناتے ہیں) بیشک وہ ہمارے (کامل) ایمان دار بندوں میں سے تھے۔ معارف و مسائل حضرت الیاس ؑ ان آیات میں چوتھا واقعہ الیاس ؑ کا بیان کیا گیا ہے۔ آیات کی تفسیر سے قبل حضرت الیاس ؑ سے متعلق چند معلومات درج ذیل ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت الیاس ؑ کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے، ایک سورة انعام میں اور دوسرے سورة صافات کی انہی آیتوں میں۔ سورة انعام میں تو صرف انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں آپ کا اسم گرامی شمار کردیا گیا ہے اور کوئی واقعہ مذکور نہیں، البتہ یہاں نہایت اختصار کے ساتھ آپ کی دعوت و تبلیغ کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے۔ چونکہ قرآن کریم میں حضرت الیاس ؑ کے حالات تفصیل سے مذکور ہیں، اور نہ مستند احادیث میں آپ کے حالات آئے ہیں، اس لئے آپ کے بارے میں کتب تفسیر کے اندر مختلف اقوال اور متفرق روایات ملتی ہیں، جن میں سے بیشتر بنی اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہیں۔ مفسرین میں سے ایک مختصر گروہ کا کہنا یہ ہے کہ ”الیاس“ حضرت ادریس ؑ ہی کا دوسرا نام ہے، اور ان دونوں شخصیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت الیاس ؑ اور حضرت خضر ؑ میں کوئی فرق نہیں ہے (درمنثور ص 582، 682 ج 5) لیکن محققین نے ان اقوال کی تردید کی ہے۔ قرآن کریم نے بھی حضرت ادریس اور حضرت الیاس (علیہما السلام) کا اس طرح جدا جدا تذکرہ فرمایا ہے، کہ دونوں کو ایک قرار دینے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، اس لئے حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں صحیح اسی کو قرار دیا ہے کہ دونوں الگ الگ رسول ہیں۔ (الہدایہ والنہایہ، ص 933 ج 1) بعثت کا زمانہ اور مقام قرآن و حدیث سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ حضرت الیاس ؑ کب اور کہاں مبعوث ہوئے تھے ؟ لیکن تاریخی اور اسرائیلی روایات اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ آپ حضرت حزقیل ؑ کے بعد اور حضرت الیسع ؑ سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ حضرت سلیمان ؑ کے جانشینوں کی بدکاری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی تھی، ایک حصہ یہوداہ یا یہودیہ کہلاتا تھا، اور اس کا مرکز بیت المقدس تھا، اور دوسرا حصہ اسرائیل کہلاتا تھا اور اس کا پایہ تخت سامرہ (موجودہ نابلس) تھا۔ حضرت الیاس ؑ اردن کے علاقہ جلعاد میں پیدا ہوئے تھے، اس وقت اسرائیل کے ملک میں جو بادشاہ حکمران تھا اس کا نام بائبل میں اخی اب اور عربی تواریخ وتفاسیر میں اجب یا اخب مذکور ہے۔ اس کی بیوی ایزبل، بعل نامی ایک بت کی پرستار تھی، اور اسی نے اسرائیل میں بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے تمام بنو اسرائیل کو بت پرستی کے راستہ پر لگا دیا تھا۔ حضرت الیاس ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس خطے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں اور اسرائیلیوں کو بت پرستی سے روکیں (ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر ص 35، ج 32 وابن کثیر ص 91 ج 4 و تفسیر مظری ص 431 ج 8 اور بائبل کی کتاب سلاطین اول 61۔ 92 تا 33، 71: 1) قوم کے ساتھ کشمکش دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی طرح حضرت الیاس ؑ کو بھی اپنی قوم کے ساتھ شدید کشمکش سے دوچار ہونا پڑا۔ قرآن کریم چونکہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے، اس لئے اس کش مکش کا مفصل حال بیان کرنے کے بجائے صرف اتنی بات بیان فرمائی ہے جو عبرت و موعظت حاصل کرنے کے لئے ضروری تھی، یعنی یہ کہ ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور چند مخلص بندوں کے سوا کسی نے حضرت الیاس ؑ کی بات نہ مانی، اس لئے آخرت میں انہیں ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ بعض مفسرین نے یہاں اس کشمکش کے مفصل حالات بیان فرمائے ہیں، مروجہ تفاسیر میں حضرت الیاس ؑ کا سب سے مبسوط تذکرہ تفسیر مظہری میں علامہ بغوی کے حوالہ سے کیا گیا ہے، اس میں جو واقعات مذکور ہیں وہ تقریباً تمام تر بائبل سے ماخوذ ہیں، دوسری تفسیروں میں بھی ان واقعات کے بعض اجزاء حضرت وہب بن منبہ اور کعب الاحبار وغیرہ کے حوالہ سے بیان ہوئے ہیں جو اکثر اسرائیلی روایات نقل کرتے ہیں۔ ان تمام روایات کے خلاصہ کے طور پر جو قدر مشترک نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت الیاس ؑ نے اسرائیل کے بادشاہ اخی اب اور اس کی رعایا کو بعل نامی بت کی پرستش سے روک کر توحید کی طرف دعوت دی، مگر دو ایک حق پسند افراد کے سوا کسی نے آپ کی بات نہیں مانی، بلکہ آپ کو طرح طرح سے پریشان کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اخی اب اور اس کی بیوی ایزبل نے آپ کو شہید کرنے کے منصوبے بنائے۔ آپ نے ایک دور افتادہ غار میں پناہ لی، اور عرصہ دراز تک وہیں مقیم رہے، اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی، کہ اسرائیل کے لوگ قحط سالی کا شکار ہوجائیں تاکہ اس قحط سالی کو دور کرنے کے لئے آپ ان کو معجزات دکھائیں تو شاید وہ ایمان لے آئیں، چناچہ انہیں شدید قحط میں مبتلا کردیا گیا۔ اس کے بعد حضرت الیاس ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اخی اب سے ملے، اور اس سے کہا کہ یہ عذاب اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ہے، اور اگر تم اب بھی باز آجاؤ تو یہ عذاب دور ہوسکتا ہے۔ میری سچائی کے امتحان کا بھی یہ بہترین موقع ہے، تم کہتے ہو کہ اسرائیل میں تمہارے معبود بعل کے ساڑھے چار سو نبی ہیں، تم ایک دن ان سب کو میرے سامنے جمع کرلو، وہ بعل کے نام پر قربانی پیش کریں گے اور میں اللہ کے نام پر قربانی کروں گا، جس کی قربانی کو آسمانی آگ بھسم کر دے گی اس کا دین سچا ہوگا، سب نے اس تجویز کو خوشی سے مان لیا۔ چنانچہ کوہ کرمل کے مقام پر یہ اجتماع ہوا۔ بعل کے جھوٹے نبیوں نے اپنی قربانی پیش کی، اور صبح سے دوپہر تک بعل سے التجائیں کرتے رہے، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ اس کے بعد حضرت الیاس ؑ نے اپنی قربانی پیش کی، اس پر آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اس نے حضرت الیاس ؑ کی قربانی کو بھسم کردیا، یہ دیکھ کر بہت سے لوگ سجدے میں گر گئے، اور ان پر حق واضح ہوگیا لیکن بعل کے جھوٹے نبی اب بھی نہ مانے، اس لئے حضرت الیاس ؑ نے ان کو وادی قیشون میں قتل کرا دیا۔ اس واقعہ کے بعد موسلا دھار بارش بھی ہوئی، اور پورا خطہ پانی سے نہال ہوگیا، لیکن اخی اب کی بیوی ایزبل کی اب بھی آنکھ نہ کھلی، وہ حضرت الیاس ؑ پر ایمان لانے کے بجائے الٹی ان کی دشمن ہوگئی، اور اس نے آپ کو قتل کرانے کی تیاریاں شروع کردیں۔ حضرت الیاس ؑ یہ سن کر پھر سامریہ سے روپوش ہوگئے اور کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل کے دوسرے ملک یہودیہ میں تبلیغ شروع کردی، کیونکہ رفتہ رفتہ بعل پرستی کی وباء وہاں بھی پھیل چکی تھی۔ وہاں کے بادشاہ یہورام نے بھی آپ کی بات نہ سنی، یہاں تک کہ وہ حضرت الیاس ؑ کی پیشنگوئی کے متعلق تباہ و برباد ہوا چند سال بعد آپ دوبارہ اسرائیل تشریف لائے اور یہاں پھر اخی اب اور اس کے بیٹے اخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر وہ بدستور اپنی بداعمالیوں میں مبتلا رہے، یہاں تک کہ انہیں بیرونی حملوں اور مہلک بیماریوں کا شکار بنادیا گیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو واپس بلا لیا۔ کیا حضرت الیاس ؑ حیات ہیں ؟ مورخین اور مفسرین کے درمیان یہاں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا ہے کہ حضرت الیاس ؑ زندہ ہیں یا وفات پاچکے ؟ تفسیر مظہری میں علامہ بغوی کے حوالہ سے جو طویل روایت بیان کی گئی ہے اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت الیاس ؑ کو ایک آتشیں گھوڑے پر سوار کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا اور وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح زندہ ہیں (مظہری ص 141 ج 8) علامہ سیوطی نے بھی ابن عساکر اور حاکم وغیرہ کے حوالے سے کئی روایات ایسی نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ کعب الاحبار سے منقول ہے کہ چار انبیاء (علیہم السلام) اب تک زندہ ہیں، دو زمین میں، حضرت خضر اور حضرت الیاس اور دو آسمان میں حضرت عیسیٰ اور حضرت ادریس (علیہم السلام) (در منثور، ص 582، 682، ج 5) یہاں تک کہ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہما السلام) ہر سال رمضان کے مہینہ میں بیت المقدس میں جمع ہوتے ہیں، اور روزے رکھتے ہیں۔ (تفسیر قرطبی، ص 611 ج 51) لیکن حافظ ابن کثیر جیسے محقق علماء نے ان روایات کو صحیح قرار نہیں دیا، وہ ان جیسی روایتوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ”یہ ان اسرائیلی روایتوں میں سے ہے جن کی نہ تصدیق کی جاتی ہے نہ تکذیب، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی صحت بعید ہے“ نیز فرماتے ہیں۔ ”ابن عساکر نے کئی روایتیں ان لوگوں کی نقل کی ہیں جو حضرت الیاس ؑ سے ملے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی قابل اطمینان نہیں، یا تو اس لئے کہ ان کی سند ضعیف ہے یا اس لئے کہ جن اشخاص کی طرف یہ واقعات منسوب کئے گئے ہیں وہ مجہول ہیں“ (البدایة والنہایة، ص 932 ج 1) ظاہر یہی ہے کہ حضرت الیاس ؑ کے رفع آسمانی کا نظریہ اسرائیلی روایات ہی سے ماخوذ ہے، بائبل میں لکھا ہے کہ۔ ”اور وہ آگے چلتے اور باتیں کرتے جاتے تھے کہ دیکھو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے ان دونوں کو جدا کردیا اور ایلیاہ (واضح رہے کہ بائبل میں حضرت الیاس ؑ کا نام ایلیاہ مذکور ہے) بگولے میں آسمان پر چلا گیا۔“ (2 سلاطین 2: 11) اسی وجہ سے یہودیوں میں یہ عقیدہ پیدا ہوا تھا کہ حضرت الیاس ؑ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے، چناچہ جب حضرت یحییٰ ؑ مبعوث ہوئے تو انہوں نے ان پر الیاس ؑ ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔ انجیل یوحنا میں ہے ”انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے ؟ کیا تو ایلیاہ ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں“ (یوحنا۔ 1: 12) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کعب الاحبار اور وہب بن منبہ جیسے علماء نے جو اہل کتاب کے علوم کے ماہر تھے، یہی روایتیں مسلمانوں کے سامنے بیان کی ہوں گی، جن سے حضرت الیاس ؑ کی زندگی کا نظریہ بعض مسلمانوں میں پھیل گیا، ورنہ قرآن یا حدیث میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے حضرت الیاس ؑ کی زندگی یا آپ کا آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہوتا ہو، صرف ایک روایت مستدرک حاکم میں ملتی ہے، جس میں مذکور ہے کہ تبوک کے راستے میں آنحضرت محمد ﷺ کی ملاقات حضرت الیاس ؑ سے ہوئی۔ لیکن یہ روایت بتصریح محدثین موضوع ہے، حافظ ذہبی فرماتے ہیں۔ ”بلکہ یہ حدیث موضوع ہے، خدا بری کرے اس شخص کا جس نے یہ حدیث وضع کی، اس سے پہلے میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ امام حاکم کی بیخبر ی اس حد تک پہنچ سکتی ہے کہ وہ اس حدیث کو صحیح قرار دیں“ خلاصہ یہ کہ حضرت الیاس ؑ کا زندہ ہونا کسی معتبر اسلامی روایت سے ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس میں سکوت اختیار کیا جائے اور اسرائیلی روایات کے سلسلے میں آنحضرت محمد ﷺ کی تعلیم پر عمل کیا جائے کہ ”نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب“ کیونکہ قرآن کریم کی تفسیر اور عبرت و موعظت کا مقصد اس کے بغیر بھی پوری طرح حاصل ہوجاتا ہے، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم، اب آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 37:125–126

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم پکارتے ہو بعل کو اور چھوڑتے ہو بہتر بنانے والے کو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

جو اللہ ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا (کیا تم بعل کو پوجتے ہو) بعل کے لغوی معنی شوہر اور مالک وغیرہ ہیں، لیکن یہ اس بت کا نام تھا جسے حضرت الیاس ؑ کی قوم نے اپنا معبود بنایا ہوا تھا۔ بعل کی پرستش کی تاریخ بہت قدیم ہے، شام کے علاقہ میں حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ میں اس کی پرستش ہوتی تھی، اور یہ ان کا سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا۔ شام کا مشہور شہر بعلبک بھی اسی کے نام سے موسوم ہوا اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل حجاز کا مشہور بت ہبل بھی یہی بعل ہے۔ (قصص القرآن، ص 82 ج 2) وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ (اور اس کو چھوڑ بیٹھے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے) اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ اور ”احسن الخالقین“ (سب سے اچھا خالق) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ کوئی دوسرا بھی خالق ہوسکتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جن جھوٹے معبودوں کو تم نے خالق قرار دیا ہوا ہے وہ ان سب سے اونچی شان والا ہے۔ (قرطبی) اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں خالق اور صانع (بنانے والا) کے معنے میں استعمال ہوا ہے، یعنی وہ تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے، اس لئے کہ دوسرے صناع صرف اتنا ہی تو کرتے ہیں کہ مختلف اجزاء کو جوڑ کر کوئی چیز تیار کرلیتے ہیں، کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا ان کے بس سے باہر ہے، اور اللہ تعالیٰ معدوم اشیاء کو وجود بخشنے پر قدرت ذاتی رکھتا ہے۔ (بیان القرآن) غیر اللہ کی طرف تخلیق کی صفت منسوب کرنا جائز نہیں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ”خلق“ کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، جس کا مطلب ہے کسی شے کو عدم محض سے قدرت ذاتی کے بل پر وجود میں لانا۔ اس لئے یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، کسی اور کی طرف اس کی نسبت جائز نہیں، لہٰذا ہمارے زمانے میں جو رواج چل پڑا ہے کہ اہل قلم کے مضامین، شاعروں کے شعر اور مصوروں کی تصویروں کو ان کی ”تخلیقات“ کہہ دیا جاتا ہے وہ بالکل جائز نہیں، اور نہ اہل قلم کو ان مضامین کا خالق کہنا درست ہے۔ خالق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا، اس لئے ان کے رشحات قلم کو ”کاوش“ یا مضمون وغیرہ کہنا چاہئے ”تخلیق“ نہیں۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا سو وہ آنے والے ہیں پکڑے ہوئے

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (سو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا سو وہ پکڑے جائیں گے) مطلب یہ ہے کہ انہیں اللہ کے سچے رسول کو جھٹلانے کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ اس سے آخرت کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور دنیا کا انجام بد بھی۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت الیاس ؑ کی تکذیب کے نتیجے میں یہوداہ اور اسرائیل دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اس تباہی کی تفصیل تفسیر مظہری میں اور بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 22 سلاطین دوم باب اول اور تاواریخ دوم باب 12 میں موجود ہے۔
Ayahs 37:128–129

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر جو بندے ہیں اللہ کے چنے ہوئے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور باقی رکھا ہم نے اس پر پچھلے لوگوں میں

اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ ، یہاں ”مخلصین“ (لازم پر زبر ہے) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ”خالص کئے ہوئے لوگ“ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنی اطاعت اور اجر وثواب کے لئے خالص کرلیا ہو، لہٰذا اس کا ترجمہ مخلص کے بجائے برگزیدہ زیادہ مناسب ہے۔
Ayahs 37:130–132

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ سلام ہے الیاس پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

وہ ہے ہمارے ایمان دار بندوں میں۔

سَلٰمٌ عَلٰٓي اِلْ يَاسِيْنَ ”الیاسین“ بھی الیاس ؑ ہی کا ایک نام ہے، اہل عرب اکثر عجمی ناموں کے ساتھ یار اور نون بڑھا دیتے ہیں، جیسے ”سینا“ سے ”سینین“ اسی طرح یہاں بھی دو حرف بڑھا دیئے گئے ہیں۔
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور تحقیق لوط ہے رسولوں میں سے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے سارے گھر والوں کو

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ رہ گئی رہ جانے والوں میں

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہم نے دوسروں کو

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم گزرتے ہو ان پر صبح کے وقت

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی پھر کیا نہیں سمجھتے ؟

خلاصہ تفسیر اور بیشک لوط ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا قصہ قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو سب کو نجات دی بجز اس بڑھیا (یعنی ان کی بیوی) کے کہ وہ (عذاب کے اندر) رہ جانے والوں میں رہ گئی، پھر ہم نے اور سب کو (جو لوط اور ان کے اہل کے سوا تھے) ہلاک کردیا (جن کا قصہ کئی جگہ آ چکا ہے) اور (اے اہل مکہ) تم تو ان کے (دیار و مساکن پر سفر شام میں کبھی) صبح ہوتے اور (کبھی) رات میں گزار کرتے ہو (اور آثار بربادی دیکھتے ہو) تو کیا (اس کو دیکھ کر) پھر بھی نہیں سمجھتے ہو (کہ کفر کا کیا انجام ہوا، اور جو آئندہ کفر کرے گا اس کے لئے بھی یہی اندیشہ ہے)۔ معارف و مسائل ان آیات میں پانچواں واقعہ حضرت لوط ؑ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یہ واقعہ پیچھے کئی مقامات پر گزر چکا ہے، اس لئے یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں۔ یہاں اہل مکہ کو خاص طور پر یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ تم شام کے تجارتی سفر میں سدوم کے اس علاقہ سے دن رات گزرتے ہو جہاں یہ عبرتناک واقعہ پیش آیا، لیکن اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ صبح اور رات کا ذکر خاص طور سے اس لئے فرمایا گیا کہ اہل عرب عموماً انہی اوقات میں یہاں سے گزرا کرتے تھے اور قاضی ابوالسعود فرماتے ہیں کہ غالباً سدوم کا یہ علاقہ راستے کی ایسی منزل پر واقع تھا کہ یہاں سے کوچ کرنیوالے صبح کے وقت روانہ ہوتے تھے اور آنے والے شام کے وقت آتے تھے (تفسیر ابی السعود)
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور تحقیق یونس ہے رسولوں میں سے

خلاصہ تفسیر اور بیشک یونس ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (ان کا اس وقت کا قصہ یاد کیجئے) جبکہ (انہوں نے اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر بحکم الٰہی عذاب کی پیشنگوئی کی، اور خود وہاں سے چلے گئے اور جب متعین وقت پر عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو قوم کو ایمان لانے کی غرض سے یونس ؑ کی تلاش ہوئی، جب وہ نہ ملے تو سب نے متفق ہو کر حق تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کی اور اجمالی طور پر ایمان لے آئے، اور وہ عذاب ٹل گیا، یونس ؑ کو کسی ذریعہ سے یہ خبر معلوم ہوئی تو شرمندگی کی وجہ سے اپنے اجتہاد سے اللہ تعالیٰ کی صریح اجازت کے بغیر کہیں دور چلے جانے کا ارادہ کر کے اپنی جگہ سے) بھاگ کر (چلے، راہ میں دریا تھا، اس میں مسافروں سے بھری ہوئی کشتی تھی، اس) بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے (کشتی چلی تو طوفان آیا، کشتی والے کہنے لگے کہ ہم میں کوئی نیا قصور وار ہے، اس کو کشتی سے علیحدہ کرنا چاہئے، اس شخص کو متعین کرنے کے لئے سب کا اتفاق اس پر ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے) سو یونس ؑ بھی شریک قرعہ ہوئے تو (قرعہ میں) یہی ملزم ٹھہرے (یعنی انہی کا نام نکلا، پس انہوں نے اپنے کو دریا میں ڈال دیا۔ شاید کنارہ قریب ہوگا، شن اوری کر کے کنارہ پر جا پہنچنے کا ارادہ ہوگا، پس شبہ خودکشی کا لازم نہیں آتا) پھر (جب دریا میں گرے تو ہمارے حکم سے) ان کو مچھلی نے (ثابت) نگل لیا اور یہ (اس وقت) اپنے کو (اس اجتہادی غلطی پر) ملامت کر رہے تھے (یہ تو دل سے توبہ ہوئی اور زبان سے بھی توحید و تسبیح کے ساتھ استغفار کر رہے تھے، جیسا دوسری آیت میں ہے (آیت) لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین سو اگر وہ (اس وقت) تسبیح (و استغفار) کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں رہتے (مطلب یہ کہ پیٹ سے نکلنا میسر نہ ہوتا، بلکہ اس کی غذا بنا دیئے جاتے) سو (چونکہ انہوں نے تسبیح اور توبہ کی اس لئے) ہم نے (ان کو اس سے محفوظ رکھا اور مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) ان کو ایک میدان میں ڈال دیا (یعنی مچھلی کو حکم دیا کہ کنارے پر اگل دے) اور وہ اس وقت مضمحل تھے (کیونکہ مچھلی کے پیٹ میں کافی ہوا اور غذا نہ پہنچتی تھی) اور ہم نے (دھوپ سے بچانے کے لئے) ان پر ایک بیلدار درخت بھی اگا دیا تھا (اور کوئی پہاڑی بکری انہیں دودھ پلا جاتی تھی) اور ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی طرف (شہر نینوا میں موصل کے قریب) پیغمبر بنا کر بھیجا تھا، پھر وہ لوگ ایمان لے آئے تھے (آثار عذاب دیکھ کر اجمالاً اور مچھلی کے واقعہ کے بعد حضرت یونس ؑ وہاں دوبارہ تشریف لے گئے اس وقت تفصیلاً) تو (ایمان کی برکت سے) ہم نے ان کو ایک زمانہ تک (یعنی مدت عمر تک خیر و خوبی سے) عیش دیا۔ معارف و مسائل اس سورة میں آخری واقعہ حضرت یونس ؑ کا بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اور اس کی متعلقہ تفصیلات سورة یونس کے آخر میں گزر چکی ہیں (دیکھئے معارف القرآن، ص 57 5، ج 4) اور ان کا خلاصہ اوپر خلاصہ تفسیر میں بھی آ گیا ہے، اس لئے یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، البتہ خاص ان آیتوں کے بارے میں چند ضروری باتیں درج ذیل ہیں۔ وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ، بعض مفسرین اور مورخین نے اس پر بحث کی ہے کہ حضرت یونس ؑ مچھلی کے واقعہ سے پہلے ہی رسول بنا دیئے گئے تھے یا بعد میں بنائے گئے ؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ مچھلی کے واقعہ کے بعد انہیں رسول بنایا گیا، لیکن قرآن کریم کے ظاہری اسلوب اور بیشتر روایات سے یہی راجح ہے کہ آپ کو پہلے ہی منصب رسالت پر فائز کردیا گیا تھا، مچھلی کا واقعہ بعد میں پیش آیا۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر پہنچا اس بھری کشتی پر

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (جب کہ وہ بھاگے بھری ہوئی کشتی کی طرف) لفظ ابق اباق سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں کسی غلام کا اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جانا۔ یہ لفظ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس ؑ کے لئے اس وجہ سے استعمال فرمایا کہ وہ اپنے پروردگار کی طرف سے وحی کا انتظار کئے بغیر روانہ ہوگئے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہوتے ہیں اور ان کی معمولی سی لغزش بھی بڑی گرفت کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے یہ سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 37:141–142

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ ڈلوایا تو نکلا خطا وار

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر لقمہ کیا اس کو مچھلی نے اور وہ الزام کھایا ہوا تھا

فَسَاهَمَ (پس وہ شریک قرعہ اندازی ہوئے) یہ قرعہ اندازی اس وقت کی گئی جبکہ کشتی بیچ دریا کے پہنچ کر طوفان میں گھر گئی اور وزن کی زیادتی سے اس کے ڈوبنے کا اندیشہ ہوگیا، اور طے یہ پایا کہ ایک شخص کو دریا میں پھینک دیا جائے، قرعہ متعین کرنے کے لئے ڈالا گیا کہ وہ شخص کون ہے ؟ قرعہ اندازی کا حکم یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ نہ کسی کا حق ثابت کیا جاسکتا ہے نہ کسی کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً قرعہ کے ذریعہ کسی کو چور ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر دو آدمیوں میں یہ اختلاف ہو کہ فلاں جائیداد کس کی ملکیت ہے تو قرعہ کے ذریعہ اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، ہاں قرعہ اندازی اس موقع پر جائز بلکہ بہتر ہے جہاں ایک شخص کو شرعاً مکمل اختیار حاصل ہو کہ وہ چند جائز راستوں میں سے کسی بھی راستے کو اختیار کرلے۔ اب وہ اپنی مرضی سے کوئی راستہ متعین کرنے کے بجائے قرعہ ڈال کر فیصلہ کرے، مثلاً جس شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں، اسے سفر میں جاتے وقت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بیوی کو چاہے ساتھ لے جائے، اب وہ اپنی مرضی سے ایسا کرنے کے بجائے قرعہ اندازی کرلے تو بہتر ہے، تاکہ کسی کی دل شکنی نہ ہو، آنحضرت محمد ﷺ کا یہی معمول تھا۔ حضرت یونس ؑ کے واقعہ میں بھی قرعہ اندازی سے کسی کو مجرم ثابت کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ پوری کشتی کو بچانے کے لئے کسی کو بھی دریا میں ڈالا جاسکتا تھا، قرعہ کے ذریعہ اس کی تعیین کی گئی۔ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ (پس وہ مغلوب ہوگئے) ادحاض کے لغوی معنی ہیں کسی کو ناکام بنادیا، مطلب یہ ہے کہ قرعہ اندازی میں انہی کا نام نکل آیا، اور انہوں نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا، اس پر خودکشی کا شبہ نہ ہونا چاہئے، اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ کنارہ قریب ہو اور وہ تیراکی کے ذریعے وہاں تک پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
Ayahs 37:143–144

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر نہ ہوتی یہ بات کہ وہ یاد کرتا تھا پاک ذات کو

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو رہتا اسی کے پیٹ میں جس دن تک کہ مردے زندہ ہوں

فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ الخ، اس آیت سے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اگر حضرت یونس ؑ تسبیح نہ کرتے تو وہ مچھلی قیامت تک زندہ رہتی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس مچھلی کے پیٹ ہی کو حضرت یونس ؑ کی قبر بنادیا جاتا۔ تسبیح و استغفار سے مصائب دور ہوتے ہیں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصائب اور آفتوں کو دور کرنے میں تسبیح اور استغفار خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے کہ جب حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو یہ کلمہ خاص طور سے پڑھتے تھے (آیت) لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، اللہ تعالیٰ نے اسی کلمہ کی برکت سے انہیں اس آزمائش سے نجات عطا فرمائی، اور وہ مچھلی کے پیٹ سے صحیح سالم نکل آئے۔ اس لئے بزرگوں سے یہ منقول چلا آتا ہے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی مصیبت کے وقت یہ کلمہ سوا لاکھ مرتبہ پڑھتے ہیں، اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مصیبت کو دور فرما دیتا ہے۔ ابو داؤد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایاحضرت یونس ؑ نے جو دعا مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی (آیت) لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین، اسے جو مسلمان بھی کسی مقصد کے لئے پڑھے گا، اس کی دعا قبول ہوگی (تفسیر قرطبی)
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ڈالا دیا ہم نے اس کو چٹیل میدان میں اور وہ بیمار تھا

فَنَبَذْنٰهُ بالْعَرَاۗءِ وَهُوَ سَقِيْمٌ (پس ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت مضمحل تھے) العراء کے معنی ہیں کھلا میدان جس میں کوئی درخت نہ ہو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوگئے تھے، اور جسم پر بال بھی باقی نہ رہے تھے۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور اگایا ہم نے اس پر ایک درخت بیل والا

وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ (اور ہم نے ان پر ایک بیلدار درخت بھی اگا دیا تھا) یقطین ہر اس درخت کو کہتے ہیں جس کا تنہ نہ ہو۔ روایات میں ہے کہ یہ کدو کی بیل تھی۔ اس درخت کو اگانے کا منشا یہ تھا کہ حضرت یونس ؑ کو سایہ حاصل ہو۔ یہاں شجرة کا لفظ بتارہا ہے کہ یا تو اسی کدو کی بیل کو اللہ نے معجزہ کے طور پر تنہ دار بنادیا تھا، یا کوئی اور درخت تھا جس پر وہ بیل چڑھا دی تھی، تاکہ اس سے گھنا سایہ مل سکے، ورنہ بیل سے سایہ ملنا مشکل تھا۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور بھیجا اس کو لاکھ آدمیوں پر یا اس سے زیادہ

(آیت) وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ (اور ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا) یہاں یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم و خیبر ہیں، ان کو اس شک کے اظہار کی کیا ضرورت ہے کہ ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آدمی تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ عام لوگوں کی مناسبت سے کہا گیا ہے، یعنی ایک عام آدمی انہیں دیکھتا تو یہ کہتا کہ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ اوپر ہے (مظہری) اور حضرت تھانوی نے فرمایا کہ یہاں شک کا اظہار مقصود ہی نہیں ہے، انہیں ایک لاکھ بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس سے زیادہ بھی، اور وہ اس طرح کہ اگر کسر کا لحاظ نہ کیا جائے تو ان کی تعداد ایک لاکھ تھی اور اگر کسر بھی شمار کیا جائے تو ایک لاکھ سے زیادہ (بیان القرآن) یہ جملہ چونکہ مچھلی کے واقعہ کے بعد آیا ہے اس لئے اس سے بعض مفسرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت یونس ؑ کی بعثت اس واقعہ کے بعد ہوئی تھی۔ اور علامہ بغوی نے یہاں تک فرما دیا کہ اس آیت میں نینوا کی طرف بعثت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ مچھلی کے واقعہ کے بعد انہیں ایک دوسری امت کی طرف بھیجا گیا، جس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، لیکن قرآن کریم اور روایات سے ان کے اس قول کی تائید نہیں ہوتی، یہاں حضرت یونس ؑ کے واقعہ کے شروع ہی میں آپ کی رسالت کا تذکرہ صاف بتارہا ہے کہ مچھلی کا واقعہ رسول بننے کے بعد پیش آیا ہے، اس کے بعد یہاں اس جملے کو دوبارہ اس لئے لایا گیا کہ حضرت یونس ؑ کی تندرستی کے بعد انہیں دوبارہ وہیں بھیجا گیا تھا یہاں یہ واضح کردیا کہ وہ لوگ معدودے چند افراد نہیں تھے بلکہ ان کی تعداد لاکھ سے بھی اوپر تھی۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پھر وہ یقین لائے پھر ہم نے فائدہ اٹھانے دیا ان کو ایک وقت تک۔

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ (پس وہ ایمان لے آئے، سو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک عیش دیا) ”ایک زمانہ تک“ کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا نہیں ہوئے ان پر کوئی عذاب نہیں آیا۔ مرزا قادیانی کی تلبیس کا جواب یہ بات سورة یونس کی تفسیر میں بھی واضح کی جا چکی ہے اور اس آیت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حضرت یونس ؑ کی قوم پر جو عذاب ٹلایا گیا وہ اس لئے کہ آپ کی قوم بروقت ایمان لے آئی تھی۔ اس سے پنجاب کے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی اس تلبیس کا خاتمہ ہوجاتا ہے کہ جب اس نے اپنے مخالفوں کو یہ چیلنج کیا کہ اگر وہ اس طرح مخالفت کرتے رہے تو خدا کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ فلاں وقت تک عذاب الٰہی آجائے گا، لیکن مخالفین کی جدوجہد اور تیز ہوگئی پھر بھی عذاب نہ آیا، تب ناکامی کی ذلت سے بچنے کے لئے قادیانی نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چونکہ مخالفین دل میں ڈر گئے ہیں اس لئے ان پر سے عذاب ٹل گیا، جس طرح یونس ؑ کی قوم پر سے ٹل گیا تھا، لیکن قرآن کریم کی یہ آیت اس تاویل باطل کو مردود قرار دیتی ہے۔ اس لئے کہ قوم یونس ؑ تو ایمان کی وجہ سے عذاب سے بچی تھی، اس کے برعکس مرزا قادیانی کے مخالفین نہ صرف یہ کہ ایمان نہیں لائے بلکہ ان کی مخالفانہ جدوجہد اور تیز ہوگئی۔