37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:149–157

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

اب ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے یہاں بیٹیاں ہیں اور ان کے یہاں بیٹے

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے بنایا فرشتوں کو عورت اور وہ دیکھتے تھے ؟ سنتا ہے

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

وہ اپنا جھوٹ کہتے ہیں کہ اللہ کے اولاد ہوئی

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

اور وہ بیشک جھوٹے ہیں

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے پسند کیں بیٹیاں بیٹوں سے

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

کیا ہوگیا ہے تم کو کیسا انصاف کرتے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم دھیان نہیں کرتے ہو

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی سند ہے کھلی ؟

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

تو لاؤ اپنی کتاب اگر ہو تم سچے

خلاصہ تفسیر (توحید کے دلائل تو اوپر بیان ہوچکے) سو (اب اس کے بعد) ان لوگوں سے (جو ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس طرح کہ ملائکہ کو نعوذ باللہ خدا کی بیٹیاں اور جنات کے سرداروں کی بیٹیوں کو ان فرشتوں کی مائیں قرار دیتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے نسبی رشتہ ہے، اور جنات سے زوجیت کا تعلق ہے، سو ان سب سے) پوچھئے کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں (ہوں) اور تمہارے لئے بیٹے (ہوں، یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکور میں خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو، پس اس عقیدے میں ایک خرابی تو یہ ہے اور) ہاں (دوسری بات سنو کہ) کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور وہ (ان کے بننے کے وقت) دیکھ رہے تھے (یعنی ایک دوسری برائی یہ ہے کہ فرشتوں پر بلا دلیل مونث ہونے کی تہمت رکھتے ہیں) خوب سن لو کہ وہ لوگ (دلیل کچھ نہیں رکھتے بلکہ محض) سخن تراشی سے کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ صاحب اولاد ہے اور وہ یقینا (بالکل) جھوٹے ہیں (پس اس عقیدے میں تیسری برائی یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت لازم آتی ہے، ان میں سے پہلی برائی کا قبح عرف سے، دوسری کا نقل سے اور تیسری کا عقل سے ثابت ہے۔ اور چونکہ جاہلوں کے لئے عرفی برائی کا اثبات زیادہ موثر ہوتا ہے، اس لئے پہلی برائی کو دوسرے عنوان سے مکرر فرماتے ہیں کہ ہاں) کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں زیادہ پسند کیں ؟ تم کو کیا ہوگیا تم کیسا (بیہودہ) حکم لگاتے ہو ؟ (جس کو عرفاً خود بھی برا سمجھتے ہو) پھر (علاوہ عرف کے) کیا تم (عقل اور) سوچ سے کام نہیں لیتے ہو (کہ یہ عقیدہ عقل کے بھی خلاف ہے) ہاں (اگر دلیل عقلی نہیں تو) کیا تمہارے پاس (اس پر) کوئی واضح دلیل موجود ہے (اس سے مراد نقلی دلیل ہے) سو تم اگر (اس میں) سچے ہو تو اپنی وہ کتاب پیش کرو اور (عقیدہ مذکورہ میں ملائکہ کو اولاد قرار دینے کے علاوہ) ان لوگوں نے اللہ میں اور جنات میں (بھی) رشتہ داری قرار دی ہے (جس کا بطلان اور بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ بیوی جس کام کے لئے ہوتی ہے اس سے حق تعالیٰ پاک ہے، اور جب زوجیت محال ہے تو سسرالی رشتے جو اسی سے نکلتے ہیں وہ بھی محال ہوں گے) اور (جس جس کو یہ لوگ خدا کا شریک ٹھہرا رہے ہیں ان کی تو یہ کیفیت ہے کہ ان میں جو) جنات (ہیں خود ان) کا یہ عقیدہ ہے کہ (ان میں جو کافر ہیں) وہ (عذاب میں) گرفتار ہوں گے (اور عذاب میں کیوں گرفتار نہ ہوں کہ حق تعالیٰ کی نسبت بری بری باتیں بیان کرتے ہیں، حالانکہ) اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو جو یہ بیان کرتے ہیں (پس ان کافرانہ بیانات سے وہ گرفتار عذاب ہوں گے) مگر جو اللہ کے خاص (یعنی ایمان والے) بندے ہیں (وہ اس عذاب سے بچیں گے) سو تم اور تمہارے سارے معبود (سب مل کر بھی) خدا سے کسی کو پھیر نہیں سکتے (جیسی تم کوشش کیا کرتے ہو، مگر اسی کو جو کہ (علم الٰہی میں) جہنم رسید ہونے والا ہے اور (آگے ملائکہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ ان میں جو ملائکہ ہیں ان کا یہ مقولہ ہے کہ ہم تو بندہ محض ہیں، چناچہ جو خدمت ہمارے سپرد ہے اس میں) ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین درجہ ہے (کہ اسی کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے) اور ہم (خدا کے حضور میں حکم سننے کے وقت یا عبادت کے وقت ادب سے) صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم (خدا کی) پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں (غرض ہر طرح محکوم اور بندے ہیں۔ سو جب فرشتے خود اپنی بندگی کا اعتراف کر رہے ہیں تو پھر ان پر معبود ہونے کا شبہ کرنا بڑی بےوقوفی ہے، پس جنات اور ملائکہ کے حق میں خدائی کا اعتقاد یا حسن وجوہ باطل ہوگیا)۔ معارف و مسائل انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات نصیحت و عبرت کے لئے بیان کئے گئے تھے، اب پھر توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا اصل مضمون بیان کیا جا رہا ہے، اور یہاں شرک کی ایک خاص قسم کا بیان ہے۔ کفار عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اور جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ بقول علامہ واحدی یہ عقیدہ قریش کے علاوہ جہینہ، بنو سلمہ، بنو خزاعہ اور بنو ملیح کے یہاں بھی رائج تھا۔ (تفسیر کبیر، ص 211 ج 7) (آیت) فَاسْتَفْتِهِمْ (الی قولہ تعالیٰ) اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ، ان آیتوں میں کفار عرب کے اسی عقیدے کی تردید کے لئے دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو تمہارا یہ عقیدہ خود تمہارے عرف اور رسم و رواج کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ تم بیٹیوں کو باعث تنگ سمجھتے ہو، اب جو چیز تمہارے اپنے لئے ننگ وعار ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے کیسے ثابت ہو سکتی ہے ؟ پھر تم نے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا ہے، اس کی تمہارے پاس دلیل کیا ہے ؟ کسی دعوے کو ثابت کرنے کے لئے تین قسم کے دلائل ہو سکتے ہیں۔ ایک مشاہدہ، دوسرے نقلی دلیل، یعنی کسی ایسی ذات کا قول جس کی سچائی مسلم ہو، اور تیسرے عقلی دلیل جہاں تک مشاہدہ کا تعلق ہے ظاہر ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کو فرشتوں کی تخلیق کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں جس سے فرشتوں کا مونث ہونا معلوم ہو سکتا، لہٰذا مشاہدہ کی کوئی دلیل تو تمہارے پاس ہے نہیں (آیت) (اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمْ شٰهِدُوْنَ کا یہی مطلب ہے) اب رہی نقلی دلیل سو وہ بھی تمہارے پاس نہیں، اس لئے کہ قول ان لوگوں کا معتبر ہوتا ہے جن کی سچائی مسلم ہو، اس کے برخلاف جو لوگ اس عقیدے کے قائل ہیں وہ جھوٹے لوگ ہیں، ان کی بات کوئی حجت نہیں ہو سکتی (آیت) (اَلَآ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَ الخ کا یہی مطلب ہے) رہی عقلی دلیل، سو وہ بھی تمہاری تائید نہیں کرتی، اس لئے کہ خود تمہارے خیال کے مطابق بیٹیاں بیٹوں کے مقابلے میں کم رتبہ رکھتی ہیں، اب جو ذات تمام کائنات سے افضل ہے وہ اپنے لئے کم رتبہ والی چیز کو کیسے پسند کرسکتی ہے ؟ (آیت) (اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَي الْبَنِيْنَ کا یہی مطلب ہے) اب صرف ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب آئی ہو اور اس میں بذریعہ وحی تمہیں اس عقیدے کی تعلیم دی گئی ہو، سو اگر ایسا ہے تو دکھاؤ وہ وحی اور وہ کتاب کہاں ہے ؟ (اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ، فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ کا یہی مفہوم ہے) ہٹ دھرمی کرنے والوں کے لئے الزامی جواب زیادہ مناسب ہے ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہیں ان کو الزامی جواب دینا زیادہ مناسب ہے۔ الزامی جواب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دعوے کو خود انہی کے کسی دوسرے نظریہ کے ذریعہ باطل کیا جائے اس میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسرا نظریہ ہمیں بھی تسلیم ہے، بلکہ بسا اوقات وہ دوسرا نظریہ بھی غلط ہوتا ہے، لیکن مخالف کو سمجھانے کے لئے اس سے کام لے لیا جاتا ہے۔ یہاں باری تعالیٰ نے ان کے عقیدہ کی تردید کے لئے خود انہی کے اس نظریہ کو استعمال فرمایا ہے کہ بیٹیوں کا وجود باعث ننگ وعار ہے، ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بیٹیوں کا وجود باعث ننگ ہے، نہ یہ مطلب ہے کہ اگر وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں کے بجائے خدا کے بیٹے کہتے تو یہ درست ہوتا) بلکہ یہ ایک الزامی جواب ہے۔ جس کا مقصد خود انہی کے مزعومات سے ان کے عقیدے کی تردید کرنا ہے، ورنہ اس قسم کے عقائد کا حقیقی جواب وہی ہے جو قرآن کریم ہی میں کئی جگہ مذکور ہے، کہ اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے، اور اسے کسی اولاد کی ضرورت نہ ہے اور نہ اس کی رفعت شان کے یہ مناسب ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
Ayahs 37:158–166

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور ٹھہرایا ہے انہوں نے خدا میں اور جنوں میں ناتا اور جنوں کو تو معلوم ہے کہ تحقیق وہ پکڑے ہوئے آئیں گے

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بتاتے ہیں

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر جو بندے ہیں اللہ کے چنے ہوئے

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

کسی کو اس کے ہاتھ سے بہکا کر انہیں لے سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اسی کو جو پہنچنے والا ہے دوزخ میں

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور ہم میں جو ہے اس کا ایک ٹھکانا ہے مقرر

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم ہی ہیں صف باندھنے والے

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور ہم ہی ہیں پاکی بیان کرنے والے۔

وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق کا ذکر ہے اور زوجیت کا تعلق نسبی نہیں ہوتا۔ اس لئے ایک دوسری تفسیر یہاں زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے جو حضرت ابن عباس، حسن بصری اور ضحاک سے منقول ہے، اور وہ یہ کہ بعض اہل عرب کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ معاذ اللہ ابلیس اللہ تعالیٰ کا بھائی ہے، اللہ تعالیٰ خالق خیر ہے اور وہ خالق شر، یہاں اسی باطل عقیدے کی تردید کی گئی ہے (ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر و قرطبی و تفسیر کبیر) (آیت) وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (اور جنات کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ گرفتار ہوں گے) ”وہ“ سے مراد ایسے مشرکین بھی ہو سکتے ہیں جو جنات اور شیاطین کو خدا کا ہمسر قرار دیتے تھے اور خود جنات بھی۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جن شیاطین اور جنات کو تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ خود اچھی طرح جانتے ہیں کہ آخرت میں ان کا برا حشر ہونے والا ہے، مثلاً ابلیس، کہ وہ اپنے انجام بد سے خوب واقف ہے، اب جو خود یہ یقین رکھتا ہو کہ مجھے مبتلائے عذاب ہونا ہے اسے خدا کا ہمسر قرار دینا کتنی بڑی حماقت ہے۔
Ayahs 37:167–170

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ تو کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

اگر ہمارے پاس کچھ احوال ہوتا پہلے لوگوں کا

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم ہوتے بندے اللہ کے چنے ہوئے

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

سو اس سے منکر ہوگئے اب آگے جان لیں گے

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ (یعنی کفار عرب آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے) کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت (کی کتاب) پہلے لوگوں (کی کتابوں) کے طور پر آتی (یعنی جیسے یہود و نصاریٰ کے پاس رسول اور کتابیں آئیں، اگر ہمارے لئے ایسا ہوتا) تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے (یعنی اس کتاب کی تصدیق اور اس پر عمل کرتے، ان کی طرح تکذیب اور مخالفت نہ کرتے) پھر (جب) وہ نصیحت کی کتاب رسول کے ذریعہ سے ان کو پہنچی تو) یہ لوگ اس کا انکار کرنے لگے (اور اپنا وہ عہد توڑ دیا) سو (خیر) اب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہوا جاتا ہے (چنانچہ مرتے ہی کفر کا انجام سامنے آ گیا، اور بعض سزائیں موت سے پہلے بھی مل گئیں) اور (آگے حضور کو تسلی ہے کہ گو اس وقت ان مخالفین کو کسی قدر شوکت حاصل ہے لیکن یہ چند روزہ ہے، کیونکہ) ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبروں کے لئے ہمارا یہ قول پہلے ہی سے (یعنی لوح محفوظ ہی میں) مقرر ہوچکا ہے کہ بیشک وہی غالب کئے جاویں گے اور (ہمارا تو عام قاعدہ ہے کہ) ہمارا لشکر غالب رہتا ہے (جو رسولوں کے متبعین کو بھی شامل ہے، سو جب یہ بات ہے کہ آپ غالب آنے والے ہیں ہی) تو آپ (تسلی رکھئے اور) تھوڑے زمانہ تک (صبر کیجئے اور) ان (کی مخالفت اور ایذا رسانی) کا خیال نہ کیجئے اور (ذرا) ان کو دیکھتے رہئے (یعنی ان کی حالت کا قدرے انتظار کیجئے) سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے (اس کا بھی وہی مطلب ہے جو فسوف یعلمون کا تھا کہ ان کو مرنے کے بعد بھی اور مرنے سے پہلے بھی اللہ کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دھمکی پر وہ کہہ سکتے تھے اور اکثر وہ کہا بھی کرتے تھے کہ ایسا کب ہوگا ؟ تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ) کیا ہمارے عذاب کا تقاضا کر رہے ہیں، سو وہ (عذاب) جب ان کے رو در رو آنا نازل ہوگا، سو وہ دن ان لوگوں کا جن کو (پہلے سے) ڈرایا جا چکا تھا بہت ہی برا ہوگا (کہ وہ عذاب ٹل نہ سکے گا) اور (جب یہ بات ہے کہ ان لوگوں پر عذاب واقع ہونے والا ہے تو) آپ (تسلی رکھئے اور) تھوڑے زمانہ تک (صبر کیجئے اور) ان کی (مخالفت اور ایذا رسانی کا) خیال نہ کیجئے اور (ذرا ان کی حالت کو) دیکھتے رہیے (یعنی منتظر رہیئے) سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے (یعنی آپ کو تو ہمارے کہنے سے یقین ہے ہی، آنکھوں سے دیکھ کر انہیں بھی یقین آجائے گا)۔ معارف و مسائل اسلام کے بنیادی عقائد کو دلائل و شواہد سے ثابت کرنے کے بعد ان آیتوں میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل تمنا کیا کرتے تھے کہ اللہ کا کوئی پیغمبر آئے تو یہ اس کی پیروی کریں، لیکن جب آپ تشریف لے آئے تو انہوں نے ضد اور عناد کا وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کی ایذا رسانیوں سے رنجیدہ نہ ہوں، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ آپ غالب اور فتح یاب ہوں گے اور یہ مغلوب اور نشانہ عذاب۔ آخرت میں تو اس کا مکمل مظاہرہ ہوگا ہی، دنیا میں بھی اللہ نے دکھا دیا کہ غزوہ بدر سے لے کر فتح مکہ تک ہر جہاد میں اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ظفر مند کیا، اور آپ کے مخالفین دلیل و خوار ہوئے۔
Ayahs 37:171–176

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور پہلے ہوچکا ہمارا حکم اپنے بندوں کے حق میں جو کہ رسول ہیں

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

بیشک انہی کو مدد دی جاتی ہے

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر جو ہے بیشک وہی غالب ہے

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

سو تو ان سے پھر آ ایک وقت تک

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور ان کو دیکھتا رہ کہ وہ آگے دیکھ لیں گے

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا ہماری آفت کو جلد مانگتے ہیں

اللہ والوں کے غلبہ کا مطلب (آیت) وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا (الیٰ قولہ) وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہ بات پہلے سے طے کر رکھی ہے کہ ہمارے خاص بندے یعنی پیغمبر ہی غالب ہوتے ہیں۔ اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم پیغمبروں میں اکثریت تو ایسے ہی حضرات کی ہے جن کی قومیں انہیں جھٹلا کر عذاب میں مبتلا ہوئیں اور ان حضرات کو عذاب سے محفوظ رکھا گیا صرف چند انبیاء (علیہم السلام) ایسے ہیں جنہیں دنیا میں آخر وقت تک بظاہر مادی طور پر غلبہ نہ مل سکا، لیکن دلیل وحجت کے میدان میں ہمیشہ وہی سربلند رہے، اور نظریاتی فتح ہمیشہ انہی کو حاصل ہوئی، ہاں اس سربلندی کے مادی آثار کسی خاص حکمت مثلاً آزمائش وغیرہ کی وجہ سے آخرت تک موخر کردیئے گئے۔ لہٰذا بقول حضرت تھانوی ؒ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ذلیل رہزن کسی بڑے حاکم افسر کے ساتھ سفر کی حالت میں لوٹ مار کرنے لگے، مگر وہ حاکم اپنی خداداد عالی دماغی کی وجہ سے ہرگز اس ذلیل رہزن کی خوشامد نہیں کرے گا، حتیٰ کہ جب وہ حاکم اپنے دارالحکومت میں پہنچے گا اس رہزن کو گرفتار کر کے سزا دے گا۔ لہٰذا اس عارضی غلبہ کی وجہ سے نہ اس رہزن کو حاکم کہہ سکتے ہیں، اور نہ اس افسر کو محکوم، بلکہ اصلی حالت کے اعتبار سے وہ رہزن اس غلبہ میں بھی محکوم ہے، اور وہ افسر اس مغلوبیت میں بھی حاکم ہے۔ اسی بات کو حضرت ابن عباس نے ایک مختصر اور سلیس عنوان سے تعبیر فرمایا ہے، ان لم ینصروا فی الدنیا ینصر وفی الاخرة (بیان القرآن تفسیر سورة مائدہ) لیکن یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ غلبہ، خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں کسی قوم کو محض خصوصیات نسلی یا دین کے ساتھ محض نام کے تعلق سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو ”اللہ کے لشکر“ کا ایک فرد بنا لے۔ جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ ہر شعبہ زندگی میں اللہ کی اطاعت کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہو۔ یہاں جندنا (ہمارا لشکر) کا لفظ بتارہا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے اسے اپنی ساری زندگی نفس اور شیطان کی طاقتوں سے جنگ کرنے میں خرچ کرنے کا معاہدہ کرنا ہوگا اور اس کا غلبہ خواہ مادی ہو یا اخلاقی، دنیا میں ہو یا آخرت میں، اسی شرط پر موقوف ہے۔
Ayahs 37:177–179

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

سو جب اترے گی ان کے میدان میں تو بری صبح ہوگی ڈرائے ہوؤں کی

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور پھر آ ان سے ایک وقت تک

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتا رہ اب آگے دیکھ لیں گے۔

(آیت) فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاۗءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ (پس جب وہ عذاب ان کے صحن میں آنا نازل ہوگا تو جن لوگوں کو پہلے ڈرایا جا چکا تھا ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی) ساحة کے لفظی معنی صحن کے ہیں اور نزل بساحتہ (اس کے صحن میں اترا) عربی محاورہ ہے، جس کا مفہوم کسی آفت کا سامنے آجانا ہے اور صبح کے وقت کی تخصیص یہ ہے کہ اہل عرب میں دشمن کا حملہ عموماً اس وقت ہوا کرتا تھا۔ آنحضرت محمد ﷺ کا معمول بھی یہی تھا کہ اگر کسی دشمن کے خطے میں رات کے وقت پہنچتے تو حملے کے لئے صبح کے وقت تک انتظار فرماتے تھے (مظہری) روایات میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قلعہ خیبر پر صبح کے وقت حملہ کیا تو ارشاد فرمایا ”اللہ اکبر، خربت خیبر، انا اذ انزلنا بساحة قوم نساء صباح المنذرین (اللہ اکبر ! خیبر ویران ہوگیا، بلاشبہ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو جن لوگوں کو پہلے ڈرایا جا چکا تھا ان کی وہ صبح بہت بری ہوتی ہے)۔
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

پاک ذات ہے تیرے رب کی وہ پروردگار عزت والا پاک ہے ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور اسلام ہے رسولوں پر

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور سب خوبی ہے اللہ تعالیٰ کو جو رب ہے سارے جہان کا۔

خلاصہ تفسیر آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (کافر) بیان کرتے ہیں (پس خدا کو ان باتوں سے پاک ہی قرار دو) اور (پیغمبروں کو واجب الاتباع سمجھو، کیونکہ ہم ان کی شان میں یہ کہتے ہیں کہ) سلام ہو پیغمبروں پر اور (خدا کو شرک وغیرہ سے پاک سمجھنے کے ساتھ ساتھ تمام کمالات کا جامع بھی سمجھو، کیونکہ) تمام تر خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار (اور مالک) ہے۔ معارف و مسائل ان آیتوں پر سورة صافات کو ختم کیا گیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس حسین خاتمے کی تشریح کے لئے دفتر چاہئیں۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تین مختصر آیتوں میں سورت کے جملہ مضامین کو سمیٹ دیا ہے۔ سورت کی ابتداء توحید کے بیان سے ہوئی تھی، جس کا حاصل یہ تھا کہ مشرکین جو جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، باری تعالیٰ ان سب سے پاک ہے۔ چناچہ پہلی آیت میں اسی طویل مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد سورت میں انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات بیان کئے گئے تھے، چناچہ دوسری آیت میں ان کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد کھول کھول کر کفار کے عقائد اور شبہات و اعتراضات کی عقلی ونقلی تردید کر کے یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ غلبہ بالآخر اہل حق کو حاصل ہوگا، ان باتوں کو جو شخص بھی عقل و بصیرت کی نگاہ سے پڑھے گا وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء پر مجبور ہوگا، چناچہ اسی حمد وثناء پر سورت کو ختم کیا گیا ہے۔ نیز ان آیتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید اور رسالت کا صراحةً اور آخرت کا ضمناً ذکر بھی آ گیا ہے جن کا اثبات سورت کا اصل مقصد تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دے دی گئی ہے کہ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مضمون، ہر خطبے اور ہر مجلس کا اختتام باری تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور اس کی حمد وثناء پر کرے۔ چناچہ علامہ قرطبی نے یہاں اپنی سند سے حضرت ابو سعید خدری ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”میں نے آنحضرت ﷺ سے کئی بار سنا کہ آپ نماز ختم ہونے کے بعد یہ آیات تلاوت فرماتے تھے(آیت) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ الخ (قرطبی) نیز متعدد تفاسیر میں امام بغوی کے حوالہ سے حضرت علی کا یہ قول منقول ہے کہ”جو شخص یہ چاہتا ہو کہ قیامت کے دن اسے بھرپور پیمانے سے اجر ملے، اسے چاہئے کہ وہ اپنی ہر مجلس کے آخر میں یہ پڑھا کرے سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ الیٰ آخر السورة، یہی قول ابن ابی حاتم نے حضرت شعبی کی روایت سے مرفوعاً بھی نقل کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بحمد اللہ تعالیٰ آج بتاریخ 17 محرم الحرام 1392 ھ شب یکشنبہ بوقت عشاء، سورة صافات کی تفسیر مکمل ہوئی۔